Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode10

Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode10

ان تینوں کو ہاسپٹل آئے پانچ سے چھ گھنٹے ہو چکے تھے تھوڑی دیر تک انوشہ کی سرجری تھی سرجری سے پہلے پانچ چھ گھنٹے کچھ بھی نہیں کھانا ہوتا اس لیے ابھی تک سرجری شروع نہیں کی گئی تھی ہاسپٹل کے مخصوص لباس میں انوشہ منہ پھلا کے بیٹھی ہوئی تھی وہی ضد کے اسے سرجری نہیں کروانی
“بھائی دیکھیں نا وہ ڈاکٹر بھی سرجری نہیں کرنا چاہتے اس لیے تو ابھی تک آ نہیں رہے ہم گھر چلتے ہیں” اس نے اپنی بات دہرائی تھی
“انوشہ” زعیم نے بس ناراضگی سے اس کا نام پکارا تھا اس کی ناراضگی محسوس کر کے انوشہ پھر سے منہ پھلا کے بیٹھ گئی تھی
“ایکسکیوزمی آپ کو ڈاکٹر اپنے کیبن میں بلا رہے ہیں” مزید کچھ بھی کہنے سے پہلے ہی وہاں اک نرس آئی تھی اور زعیم کو ڈاکٹر کا پیغام دیا تھا
“اماں آپ اس کے پاس ہی رہیں میں تھوڑی دیر تک آتا ہوں” اماں کو کہہ کے وہ روم سے نکل گیا تھا
“آئیے مسٹر زعیم بیٹھیے” ناک کر کے وہ ڈاکٹر کے کیبن میں داخل ہوا تو ڈاکٹر نے اسے بیٹھنے کا کہا تھا
“بات دراصل یہ ہے کہ ہمیں آپ سے ان پیپرز پہ سائن چاہیے” ڈاکٹر نے اک فائل زعیم کی طرف بڑھائی تھی
“کیسے پیپرز ہیں یہ؟” زعیم نے فائل پکڑتے ہوئے پوچھا تھا
“بعض اوقات سرجری کے دوران پیشنٹ کی میموری لاس ہو جاتی ہے اس کے سو میں سے دس فیصد چانس ہوتے ہیں اس لیے رولز کے مطابق ہمیں آپ سے ان پیپرز پہ سائن چاہیے کہ اگر سرجری کے بعد پیشنٹ کی میموری لاس ہو جاتی ہے تو ہاسپٹل والے اس کے ذمے دار نہیں ہیں” ڈاکٹر زعیم کی پریشانی میں اور اضافہ کیا تھا
“دیکھیں مسٹر زعیم ضروری نہیں کہ لازمی ہی ان کی میموری لاس ہو بس کچھ چانسز ہیں اس بات کہ ہم انسان بس کوشش اور دعا کر سکتے ہیں باقی سب تو اللہ کے ہاتھ میں ہے نا وہ چاہے تو شفا دے سکتا ہے ہم کوشش کرتے ہیں اور آپ دعا کریں” اس کی پریشان شکل دیکھ کر ڈاکٹر نے اسے تسلی دی تھی زعیم نے پھیکا سا مسکراتے ہوئے پین لے کر فائل پہ سائن کرتے فائل واپس ڈاکٹر تھمائی تھی
“آپ اس طرح مایوس مت ہوں بس اللہ سے دعا کریں بےشک وہ بہت رحیم ہے” زعیم وہاں سے جانے لگا تو اس کے چہرے پہ چھائی مایوسی دیکھ کر ڈاکٹر نے اک بار پھر اسے دعا کی تلقین کی تھی
ڈاکٹر کی بات سن کے زعیم نے سر ہلایا تھا اور کیبن سے نکل گیا تھا واپس روم میں آیا تو اماں اور انوشہ دونوں کی سوالیہ نظریں اس کی طرف اٹھی تھیں گویا جاننا چاہ رہی تھیں کہ ڈاکٹر نے کیا کہا ہے
“ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اپنی پاگل بہن کو تیار رکھیں ہم بس سرجری کے لیے اسے لے کے جانے لگے ہیں” ان کی نظروں کا مطلب سمجھتے زعیم نے انوشہ کو اپنے حصار میں لیتے تھوڑی شرارت سے کہا تھا جس پہ انوشہ نے بس ناراض نظروں سے اسے دیکھا تھا
اس سے پہلے کے وہ مزید کوئی بات کرتے وہاں ڈاکٹر اور نرس آئے تھے کہ سرجری کا ٹائم ہو گیا ہے اور اسے او ٹی پی میں شفٹ گیا تھا اماں نے آیت الکرسی پڑھ کے اس پہ پھونکتے اسے اللہ کے سپرد کیا تھا او ٹی پی کا دروازہ بند ہوتے ہی اماں تسبیح لے کر بیٹھ گئی تھیں اور زعیم نے یہاں سے وہاں چکر لگانے شروع کر دیے تھے
اس سرجری میں تقریباً پانچ سے چھ گھنٹے پکے لگتے ہیں کیونکہ دماغ کی سرجری بہت ہی حساس سرجری ہوتی ہے جس میں زرا سی بھی جلد بازی یا غلطی سے پیشنٹ کی نظر، یادداشت یا زندگی کچھ بھی جا سکتا ہے اس لیے اس سرجری میں کافی ٹائم لگ جاتا ہے
یہ پانچ چھ گھنٹے زعیم اور اماں کے سولی پہ لٹکتے ہوئے گزر رہے تھے اماں کے لب مسلسل ہل رہے تھے اور مسلسل تسبیح کے دانے گر رہے تھے جبکہ زعیم کھبی کرسی پہ بیٹھ جاتا تو کھبی اٹھ کے ادھر اُدھر چکر لگانے لگ جاتا لیکن اس کی بےچینی کسی طور کم نہیں ہو رہی تھی جب ٹانگیں شدید تھک گئیں تو وہ کرسی پہ دیورا سے سر ٹکا کے بیٹھ گیا تھا
“یااللہ تُو رحمان ہے تُو رحیم ہے میرے مالک مجھ گنہگار پہ اپنا رحم کرم فرما یااللہ تٗو کھبی کسی کو اس کی برداشت سے زیادہ نہیں آزماتا رشتوں کے نام پہ میرے پاس بس میری ماں اور بہن ہیں اک سب سے قریبی رشتہ پہلے کھو چکا ہوں مزید نہیں کچھ کھو سکتا میرے مالک تُو مجھے اس آزمائش سے بچانا میرے مالک اپنا خاص رحم کرم کرنا اس مشکل کی گھڑی میں ہمیں اکیلا مت چھوڑنا میرے رب” آنکھیں بند کیے وہ اپنے رب سے ہم کلام تھا
اتنے میں او ٹی پی کا دروازہ کھلا تھا اماں اور زعیم دونوں تیزی سے اٹھ کے دروازے کی طرف آئے تھے جہاں سے ڈاکٹر نکل رہے تھے
“سرجری کامیاب رہی ہے اور اس سرجری کا کوئی سائیڈ ایفیکٹ ہوا ہے یا نہیں یہ تو جب پیشنٹ کو ہوش آئے گا تبھی پتہ چلے گا” ڈاکٹر کی بات سن کے دونوں نے اطمینان کا سانس لیا تھا
تھوڑی دیر بعد انوشہ کو روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا اسے اک نظر دیکھنے کے بعد اماں کو اس کے پاس بیٹھاتے زعیم خود ہاسپٹل سے ملحق مسجد میں چلا گیا تھا اپنے رب کا شکر ادا کرنے جس نے اس آزمائش میں نہیں ڈالا تھا
زعیم واپس آیا تو ابھی تک انوشہ کو ہوش نہیں آیا تھا زعیم کو پریشانی ہوئی تھی لیکن ڈاکٹر نے تسلی دی کے ہو جاتا ہے اتنی میجر سرجری کے بعد اکثر ہوش آنے میں ٹائم لگتا ہے تھوڑی دیر لے مزید انتظار کے بعد بالآخر اسے ہوش آ ہی گیا تھا
“اماں” اس کی ہلکی سی آواز میں اماں اور زعیم دونوں اس کے اردگرد بیٹھے تھے
“انوشہ” زعیم نے اس کا ہاتھ پکڑتے اسے پکارا تھا
“بھائی” اسے دیکھتے انوشہ نے ہلکا سا مسکرانے کی کوشش کی تھی اس کے بھائی کہنے پہ زعیم نے سکھ کا سانس لیا تھا ورنہ اسے یہی دھڑکا لگا ہوا تھا کہ کہی اس کی یادداشت نہ چلی گئی ہو
زعیم ڈاکٹر کو بلا کے لایا تھا جس نے اس کا پراپر چیک اپ کرنے کے بعد سب اوکے ہونے کا اشارہ دیا تھا کہ اس کی نظر یا یادداشت پہ کوئی اثر نہیں ہوا تھا
برین ٹیومر کی سرجری کے بعد اکثر مائیگریشن، کم سنائی دینا یا دوبارہ ٹیومر بننے جیسے مسائل درپیش ہوتے تھے اور یہ وقت کے ساتھ ساتھ ہی پتہ چلنا تھا کہ ایسا کچھ ہوتا ہے یا نہیں فلحال تو وہ بلکل ٹھیک تھی یہی زعیم کے لیے بہت بڑی خوشی تھی
__________________________
زعیم کی غیر موجودگی میں چودھری حشمت کو اس بات کا اندازہ ہوا تھا کہ وہ ان کے لیے کتنا ضروری ہو چکا ہے اس کے بغیر انہیں ہر چیز درہم برہم لگ رہی تھی وہ ہر کام اپنی نگرانی میں کرواتا تھا اور اب وہ نہیں تھا تو حشمت صاحب کو لگ رہا تھا کہ کوئی بھی اچھا کام نہیں کر رہا
“نیک بخت ایک ہی دن ہوا ہے زعیم کے بغیر اور ایسا لگ رہا ہے صدیاں گزر گئی ہیں اسے دیکھے بغیر” چودھری حشمت نے چودھرائن کو کہا تھا وہ دونوں اس وقت برآمدے میں بیٹھے ہوئے تھے
“ہاں اتنے سالوں سے ہمارے ساتھ ہے اب تو وہ ہماری زندگیوں کا ضروری حصہ ہے تو اس کی غیر موجودگی محسوس تو ہو گی ہی نا” چودھرائن نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی تھی غزل کے ساتھ اس طرف آتی احواد نے ان کی بات سن کے ناک کے نتھے پھلائے تھے
“اس کی بہن کا آپریشن ہو گیا یا نہیں؟” چودھرائن نے یاد آنے پہ پوچھا تھا
“ہاں اس کا فون آیا تھا کہ ہو گیا ہے آپریشن لیکن کچھ دن وہ رہیں گے ہسپتال ہی اس لیے میں سوچ رہا تھا کہ ہم آج جا کر عیادت کر آتے ہیں” چودھری حشمت نے پرسوچ لہجے میں کہا تو چودھرائن نے ار ہلا کے ان کی بات کی تائید کی تھی
“کیا ضرورت ہے شہر جانے کی جب یہاں آئے تو جب کر عیادت کر آئیے گا” قریب پہنچتے احواد نے بھی اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا تھا
“نہیں ایسے برا لگتا ہے ہمارے ہر کام کے لیے وہ دل و جان سے حاضر ہوتا ہے اور اب اس کی بہن کی عیادت کے لیے ہم شہر بھی نہیں جا سکتے” چودھری حشمت نے اس کی بات کی نفی کرتے ہوئے نرمی سے کہا تھا
“ہاں تو ان کاموں کی تنخواہ لیتا ہے وہ کون سا فری میں کرتا ہے” احواد کی بات سن کے چودھری حشمت اور چودھرائن نے اسے گھورا تھا
“تنخواہ وہ صرف زمینوں کی حساب کتاب کی دیکھ بھال کی لیتا ہے باقی کاموں کی نہیں اس لیے دوبارہ میں تمہارے منہ سے یہ بات نہ سنوں” چودھری حشمت نے سختی سے اسے کہا تھا
“بس تھوڑے ہی دن ہیں اس کے بعد مجھے پورا یقین ہے آپ اس کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں کریں گے” احواد نے دانت پیس کے سوچتے بس سر ہلایا تھا
ابھی وہ بیٹھے باتیں ہی کر رہے تھے کہ گیٹ پہ کسی کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا تھا اور تھوڑی ہی دیر بعد زین اور سلیمان وہاں آئے تھے انہیں دیکھ کر وہاں بیٹھے سب لوگوں کے چہروں پہ حیرت چھائی تھی کیونکہ ان دونوں نے اپنے آنے کی اطلاع نہیں دی تھی گھر وہ سب کی حیرت کو انجوائے کرتے آگے بڑھے تھے اور سب سے ملے تھے
“یوں اچانک آ گئے اور بتایا بھی نہیں آنے کا” سب دوبارہ بیٹھ گئے تو چودھری حشمت نے پوچھا تھا
“وہ کیا ہے نا کہ بھائی نے سوچا کہی میرے بابا سائیں کا میرے ولیمے کا خواب پرانا نہ ہو جائے اور وہ میرا ولیمہ کینسل نہ کر دیں میں اس سے پہلے ہی گاؤں پہنچ جاؤں اور اپنے ولیمے کی بریانی خود بھی کھاؤں اور باقی سب کو بھی کھلاؤں” زین نے شرارت سے کہا تو سب ہنس دیے تھے
“ایسی کوئی بات نہیں بابا کام اتنا نہیں تھا اور آپ نے ولیمے کا بھی کہا تھا تو بس اس لیے چھٹیاں لے کر آ گیا” سلیمان نے اسے گھورتے وضاحت کی تھی
“چلو یہ بھی اچھا کیا کل ہم زعیم کی بہن کی عیادت کو چلیں گے اور پرسوں سے تیاریاں شروع کر دیں گے اور جلد ہی ولیمہ بھی کر لیں گے” چودھری حشمت نے جھٹ سے پروگرام ترتیب دے دیا تھا
“زعیم بھا کی بہن کو کیا ہوا؟” زین نے اچھنبے سے پوچھا تھا
“برین ٹیومر تھا اس کی سرجری ہوئی ہے” حشمت صاحب کی بجائے جواب احواد نے دیا تھا زین کو حیرت ہوئی تھی اس دن جب ملا تھا تب تو وہ ٹھیک تھی لیکن پھر سر جھٹک گیا تھا اور اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ اپنے کمرے میں جا کر فریش ہو جائے اس کے ساتھ ہی سلیمان بھی اٹھ گیا تھا
“جاؤ غزل بیٹا تم بھی جاؤ دیکھو کہی سلیمان کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے” ان کے جاتے چودھرائن نے اسے بھی سلیمان کے پیچھا بھیجا تھا غزل روم میں آئی تو وہ بیڈ پہ آنکھیں بند کیے نیم دراز تھا غزل وہی کشمکش میں کھڑی ہو گئی کہ اسے مخاطب کیسے کرے
“یقین کریں میں آدم خور تو بلکل بھی نہیں ہوں جو آپ کو کھا جاؤں گا اس لیے یہ گھبرانا بند کریں” سلیمان نے اس کی موجودگی کمرے میں محسوس کر لی تھی لیکن پھر بھی آنکھیں بند کیے اس کے بولنے کا منتظر تھا لیکن جب وہ کچھ نہ بولی تو اس نے آنکھیں کھولی تو اسے انگلیاں چٹخاتے دیکھ کر اس نے ہلکا سا طنز کیا تھا
“نہیں وہ بس میں” اسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ وہ کیا کہے
“آفرین ہے بھئی آپ پہ اچھا خاصہ فرینک ہو چکی تھیں آپ جب میں گیا تھا اب پھر وہی پہ کھڑی ہیں جہاں پہ پہلے دن تھیں” اٹھ کے بیٹھتے سلیمان نے جھلا کے کہا تو غزل شرمندہ ہو گئی تھی
“ادھر آئیں آپ” اسے وہی کھڑے دیکھ کر سلیمان نے گہرا سانس بھرتے اسے اپنے پاس بلایا تھا غزل چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے بیڈ پہ اس سے تھوڑے فاصلے پہ جا کر ٹک گئی تھی
“دیکھیں غزل ہمارا ساتھ زندگی بھر کا ہے آپ میری شریک حیات ہیں اور میرا شہر سے گاؤں اور گاؤں سے شہر ایسے آنا جانا لگا رہے گا تو کیا جب بھی میں آؤں گا تو آپ ایسے کنفیوز ہو کے میرا استقبال کیا کریں گی؟” سلیمان کے پوچھنے پہ وہ مزید شرمندہ ہوئی تھی اور نفی میں گردن ہلائی تھی
“تو پھر یہ گھبرانا چھوڑ دیں اور اک اچھی بیوی کی طرح شوہر کا استقبال کیا کریں” اس کے ہاتھ پکڑتے سلیمان نے شرارت سے کہا تو وہ جھینپ گئی تھی
“اچھا ویسے مجھے مس کیا تھا؟” ہلکا سا اس کی طرف جھکتے سلیمان نے پوچھا تھا
“میں آپ کے کپڑے نکالتی ہوں آپ فریش ہو جائیں” تیزی سے اس کے ہاتھوں سے ہاتھ نکال کے غزل بولتے ہوئے اٹھ گئی تھی سلیمان نے اسے دیکھتے بس نفی میں سر ہلایا تھا کہ اس کا کچھ نہیں کو سکتا
____________________________
“بھائی مجھے نہیں پینا یہ سوپ” انوشہ نے بسورتی آواز میں کہا تھا
“انوشہ کیوں ضد کر رہی ہو پینا تو پڑے گا نا اگر نہیں پیو گی تو ٹھیک کیسے ہو گی اور اگر ٹھیک نہیں ہو گی تو گھر کیسے جاؤ گی” زعیم نے اسے گھر جانے کا لالچ دیا تھا کیونکہ جب سے اسے ہوش آیا تھا وہ بس گھر جانے کی ہی ضد لگائے بیٹھی تھی
“بھائی آپ کو پتہ ہے نا سرجری سے پہلے بھی کچھ نہیں کھایا تھا پھر سرجری اور اب جب سے ہوش آیا بس جوس پلائے جا رہے اب سوپ لے آئے بھوک لگی ہے مجھے” اس نے ناراضگی سے زعیم کو دیکھا تھا
“ہاں تو سرجری کے بعد ہیلتھی چیزیں کھاتے ہیں نا تا کہ جلدی سے ٹھیک ہو جائیں اور دوبارہ سے اپنی روٹین پہ آ سکیں” زعیم نے اسے بہلایا تھا پھر کچھ اور منتوں کے بعد اس نے پی ہی لیا تھا اماں مسکراتے ہوئے انہیں دیکھتی رہی تھیں زعیم کے ہوتے ہوئے انہیں کھبی انوشہ کے ساتھ سر کھپانے کی ضرورت نہیں پڑی تھی کیونکہ وہ خود ہی اسے ہینڈل کر لیتا تھا
زعیم اسے سوپ پلا کے ہٹا ہی تھا کہ دروازے کھول کے کوئی اندر داخل ہوا تھا تینوں کی نظریں دروازے کی طرف اٹھی تھیں اور اندر داخل ہوتے چوہدری حشمت چودھرائن اور زین کو اندر داخل ہوتے دیکھ کر تینوں کو حیرت ہوئی تھی
“سائیں آپ” زعیم جلدی سے ان کی طرف بڑھا تھا
“ہاں بھئی میں کیوں ہم نہیں آ سکتے بیٹیا کی عیادت کے لیے؟” زعیم سے بغلگیر ہوتے چودھری حشمت نے کہا تھا
“ارے نہیں میں ایسا تو کچھ نہیں کہا” زعیم تیزی سے بولا تو وہ ہنس دیے تھے اماں چودھرائن سے ملی تھیں اور پھر زین کے سر پہ ہاتھ پھیرا تھا
“کیس ہو بیٹی کہی درد وغیرہ تو نہیں ہے؟” چودھری حشمت نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھتے پوچھا تو اس نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا تھا پھر چودھرائن نے بھی اس سے حال احوال دریافت کیا تھا
“کیسی ہیں آپ؟” چودھرائن کے بعد زین نے بھی پوچھا تھا سب کی موجودگی میں زین کا اسے مخاطب کرنا انوشہ کو تھوڑا عجیب لگا تھا اس لیے کوئی جواب دینے کی بجائے اس نے بس سر ہلانے پہ ہی اکتفا کیا تھا اس کے گریز پہ زین مسکرا دیا تھا
“بھئی بیٹیا جلدی صحتیاب ہو کے گاؤں واپس آؤ سلیمان کا ولیمہ ہے اور سارے انتظامات زعیم کو ہی دیکھنے ہیں” چوہدری حشمت نے کہا تو سب مسکرا دیے تھے
“نہ کریں سائیں وہ پہلے ہی بڑی مشکلوں سے یہاں ٹکی ہوئی ہے یہ نا ہو دوبارہ ضد شروع کر لے پھر مجھ سے سنبھالنا مشکل ہو جائے گا” زعیم نے بیچارگی سے کہا تھا
“نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے” انوشہ منمنائی تھی اور ساتھ ہی زعیم کو اک گھوری سے نوازا تھا پھر کافی دیر بیٹھنے کے بعد وہ اٹھ گئے تھے کیونکہ انہیں شاپنگ کے لیے بھی جانا تھا
چودھری حشمت نے جاتے ہوئے انوشہ کو کچھ پیسے تھمائے تھے زعیم نے انکار کرنا چاہا تھا لیکن حشمت صاحب نے اسے یہ کہہ کہ ‘میں اپنی بیٹی کو دے رہا ہوں تمہیں نہیں’ چپ کرا دیا تھا پھر زعیم سے بھی مزید کچھ نہ کہا گیا تھا
جاری ہے___________!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *