Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode11

Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode11

انوشہ کو اک ہفتہ ہاسپٹل رکھنے کے بعد چھٹی دے دی گئی تھی اور یہ اس اک ہفتے میں انوشہ نے زعیم کو ٹف ٹائم دیا ہر بات پہ ضد وہ اک جگہ ٹک کے بیٹھنے والی لڑکی نہیں تھا اور اب مسلسل بیڈ پہ لیٹے رہنے نے اسے چڑچڑی بنا دیا تھا اور زعیم کے صبر و تحمل کو اس نے اچھی طرح ٹیسٹ کیا تھا
ان کے گھر آنے کے بعد چودھری حشمت کے کہنے پہ چودھرائن دوبارہ ان کے گھر آئی تھیں عیادت کے لیے اس دفعہ ان کے ساتھ احواد بھی تھی پہلے تو احواد نے انکار کرنا چاہا تھا لیکن پھر جانے کیا سوچ کے رضامند ہو گئی تھی ان کو اپنے گھر میں دیکھ کر اماں تو پھولے نہیں سما رہی تھیں ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ان کے گھر میں جو کچھ بھی ہے ان کے سامنے رکھ دیں
ان کے گھر آتے احواد نے اک نظر پورے گھر پہ دوڑائی تھی ان کا گھر زیادہ بڑا نہیں تھا لیکن بہت چھوٹا بھی نہیں تھا گیٹ سے اندر داخل ہوتے تھوڑا آگے واش روم تھا درمیانے سے صحن کے پیچھے برآمدہ تھا جہاں گریلز لگوائی گئی تھی برآمدے میں ترتیب سے تین سے چار کمرے تھے برآمدے کے اک کونے میں کچن تھا
“گھر تو اچھا خاصہ ہے” سارے گھر پہ اک تفصیلی نظر ڈالنے کے بعد وہ دل ہی دل میں بڑبڑائی تھی
اس نے اچھے طریقے سے انوشہ کا حال احوال دریافت کیا تھا اس کو بس زعیم سے مسئلہ تھا انوشہ کے ساتھ تو اس کی کوئی دشمنی نہیں تھی جو وہ اس سے سیدھے منہ بات نہ کرتی تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد احواد بور ہو گئی تھی انوشہ بھی دوائیوں کے زیرِ اثر سو گئی تھی ورنہ اسی سے باتیں کرتے ہوئے ٹائم پاس کر لیتی
جب مزید اس سے نہ بیٹھا گیا تو کال کا بہانہ بناتی وہ وہاں سے اٹھ گئی تھی کمرے سے باہر آتے ہی اس نے سکھ کا سانس لیا تھا ابھی وہ کچھ کرنا کا سوچتی ہی کے زعیم گریل کا دروازہ کھول کے اندر داخل ہوا تھا اور سامنے کھڑی احواد کو دیکھ کر وہ اک لمحے کو ٹھٹھک کے رکا تھا کیونکہ اسے لگا تھا بس چودھرائن ہی آئی ہوئی ہیں
لیکن اگلے پل ہی اسے اگنور کرتے سامنے کمرے میں گھس گیا تھا احواد جو اسے ہی دیکھ رہی تھی اس کے اس طرح اگنور کر کے جانے پہ غصے میں تلملاتی بغیر کچھ سوچے سمجھے اس کے پیچھے کمرے میں گھسی تھی اسے اپنے کمرے میں آتے دیکھ کر زعیم نے گھور کے اسے دیکھا تھا
“یہ لڑکی سچ میں عقل سے پیدل ہے کیوں نہیں سوچ رہی اسے میرے کمرے میں دیکھ کر اماں اور چودھرائن کیا سوچیں گی” اسے گھورتے ہوئے وہ بڑبڑایا تھا
“یہ کنٹریکٹ میرج کرنے کے بعد تم نے آنکھیں زیادہ ہی ماتھے پہ نہیں رکھ لیں؟ سمجھتے کیا ہو خود کو؟” احواد نے اس کے سامنے آتے ہوئے غصے سے کہا تھا اسے گھورتی زعیم کی نظروں میں حیرت اتری تھی
“میں نے کیا کیا ہے؟” اس نے پوچھا تھا
“تم ابھی مجھے اگنور کر کے آئے ہو مجھے تم سے بات کرنی تھی لیکن تم نے مجھے دیکھ کے ایسے نظریں پھیری جیسے مجھے جانتے نہیں ہو پیسے لینے کے بعد زیادہ ہی ہواؤں میں اڑنے لگے ہو” وہ جو منہ میں آ رہا تھا بولتی جا رہی تھی اس کی باتوں کے ساتھ ساتھ زعیم کے چہرے کی رنگت بھی سرخ پڑتی جا رہی تھی
“مجھے ہواؤں میں اڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ میں اڑ رہا ہوں لیکن آپ کو جو بھی بات کرنی ہے اس کے لیے یہ جگہ اور وقت مناسب نہیں ہے” زعیم نے خود پہ ضبط کے پہرے بیٹھاتے اسے جواب دیا تھا
“مجھے تمہاری کوئی فضول وضاحت نہیں چاہیے مجھے تم بس اتنا بتا دو یہ کب تک تمہارا فیملی ڈرامہ ختم ہو گا اور تم بابا سائیں کو نکاح کا بتاؤ گے کیونکہ وہ سلیمان بھائی کے ولیمے کے ساتھ ہی میرا بھی نکاح کرنے پہ تُلے ہوئے ہیں” احواد نے نخوت سے کہا تھا
“یہ میرا مسئلہ نہیں ہے کہ آپ کے بابا سائیں کیا چاہ رہے ہیں اور آپ نے کیسے انہیں روکنا ہے جب تک میری بہن کی طبعیت بلکل ٹھیک نہیں ہو جاتی میں اس معاملے کو کھولنے کا سوچ بھی نہیں سکتا” زعیم نے دو ٹوک لہجے میں کہتے بات ختم کی تھی
“ایسے کیسے نہیں سوچ سکتے تم بھول رہے ہو ہماری ڈیل ہوئی تھی کہ میں تمہیں پیسے دوں گی بدلے میں تمہیں بھی میرا کام کرنا ہو گا” احواد نے دانت پیسے تھے
“تو میں کونسا مکرا ہوں آپ نے کنٹریکٹ میرج کا کہا میں نے مان لیا اور اب بھی پیچھے نہیں ہٹ رہا بس کچھ اور وقت مانگ رہا ہوں اور اب سب کچھ مجھ پہ ہی مت ڈالیں خود بھی کچھ کر لیں دماغ لڑائیں اور اپنے بابا سائیں کو ان کے ارادوں سے ہٹائیں” زعیم نے کہا تو احواد نے بس اسے گھورا تھا
“تم نا،،،،” احواد نے دونوں ہاتھوں کے پنجے بناتے ہاتھ اس کے چہرے کی طرف بڑھائے تھے اور ساتھ ہی کچھ کہنا چاہا تھا
“میں جو بھی ہوں اس بات کو چھوڑیں اور فلحال میرے کمرے سے نکلیں اگر چودھرائن یا اماں آ گئیں تو آپ کو تو کچھ ہو گا نہیں مگر میں شرمندگی سے زمین میں گڑھ جاؤں گا” اس کے ہاتھ پکڑ کے اپنے چہرے سے پیچھے کرتے زعیم نے اسے باہر کا رستہ دکھایا تھا
“تم! تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی؟” احواد تو اس کی باتوں پہ غصے سے پاگل ہوتے اس پہ ہی چڑھ دوڑی تھی
“آہستہ بات کریں کیوں اپنے ساتھ میری عزت کا بھی جنازہ نکلوانا ہے آپ نے بلکہ آپ ایسے نہیں مانیں گی” زعیم نے کہتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑتے اسے کمرے سے باہر نکالا تھا اور دروازہ بند کرتے چٹخنی چڑھائی تھی
“تمہیں تو میں دیکھ لوں گی” دروازے پہ لات مارتے اس نے غصے سے کہا تھا اور واپس انوشہ کے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی اور پھر اس نے جو گھر جانے کی ضد لگائی چودھرائن اٹھتے ہی بنی تھیں اور جاتے ہوئے انہیں ولیمے کی دعوت دینا نہیں بھولی تھیں
______________________________
جب سے احواد زعیم کے گھر سے آئی تھی تب سے وہ غصے سے تلملا رہی تھی اسے یہی تھا کہ اس نے زعیم کو پیسے دے کر اس پہ بہت بڑا احسان کیا ہے اب وہ جو کہے زعیم ویسا ہی کرے گا لیکن اس کا یوں کمرے سے نکال دینا اور اتنی باتیں سنانا اسے ہضم نہیں ہو رہا تھا جتنا وہ اس بارے میں سوچتی تھی اتنا ہی اس کے غصے کے گراف میں اضافہ ہوتا تھا
اسے لگا تھا وہ زعیم کے کندھے پہ بندوق رکھ کے چلا لے گی اور اسے کچھ کرنا ہی نہیں پڑے گا لیکن زعیم کے صاف انکار پہ اب اسے خود اس مسئلے کا کوئی حل نکالنا تھا ورنہ حشمت صاحب نے سلیمان کے ولیمے پہ اس کا نکاح پڑوا دینا تھا اور وہ اک تو نکاح پہ نکاح ہو جانا تھا اور دوسرا اس کے اتنا سب کچھ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہونا تھا
وہ انہی سب سوچوں میں الجھی ہوئی تھی کہ وقاص کو وہاں آتے دیکھ کر اس کے منہ کے زاویے بگڑے تھے اور اس نے وہاں سے اٹھنا چاہا تھا لیکن اک دم سے اس کے دماغ کی بتی جلی تھی اور وہ اک شیطانی مسکراہٹ چہرے پہ لیے دوبارہ بیٹھ گئی تھی
“ہائے وقاص کیسے ہو؟” اس کے قریب آتے احواد نے خوش اخلاقی کے سارے ریکارڈ توڑتے وقاص کو مخاطب کیا تھا
“میں ٹھیک ہوں لیکن مجھے تم ٹھیک نہیں لگ رہی” وقاص اس دن سے احواد کے یکسر بدلے لہجے کو لے کر ابھی تک کنفیوز تھا
“کیوں؟ بھئی میں تمہیں کیوں ٹھیک نہیں لگ رہی؟” احواد نے مصنوعی حیرت کا مظاہرہ کیا تھا
“کہاں تم مجھ سے سیدھے منہ بات نہیں کرتی تھی اور کہاں اب مسکرا مسکرا کے حال احوال پوچھے جا رہے ہیں” وقاص نے اپنے دل کی بات کو زبان پہ لایا تھا
“وہ تم نے سنا تو ہو گا مصیبت کے وقت گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے بس وہی کر رہی ہوں” احواد دل ہی دل میں بڑبڑائی تھی
“وہ بس میں سوچا کہ بابا سائیں کی بات پہ پتھر پہ لکیر ہوتی ہے شادی تو میری تم سے ہی ہونی ہے چاہے ہنسی خوشی ہو یا رو دھو کے تو کیا بہتر نہیں کہ ہنسی خوشی ہی کر لوں” احواد نے چالاکی سے اسے شیشے میں اتارنا شروع کیا تھا
“مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا” وقاص نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا تھا
“کر لو یقین میں نے سچ میں وہی کہا ہے جو تم سن رہے ہو لیکن اک چھوٹا سا مسئلہ ہے” احواد کے کہنے پہ وقاص کی سوالیہ نظریں اس کی طرف اٹھی تھیں
“کیا مسئلہ ہے؟” جب وہ کچھ نہ بولی تو اس نے پوچھا تھا
“مسئلہ یہ ہے کہ بابا سائیں چاہتے ہیں کہ سلیمان بھائی کے ولیمے پہ ہمارا نکاح ہو جائے اقر رخصتی پڑھائی مکمل ہوتے لیکن میرے بھائی کی شادی ہے اور میں اسے بھی صحیح طرح انجوائے نہ کروں بلکہ خود بھی دلہن کی طرح بن سنور کے بیٹھ جاؤں” احواد نے لہجے میں دنیا جہان کی اداسی سموئے کہا تھا
“میں نے تو بابا سائیں کو بہت کہا ہے کہ بھائی کے ولیمے کے بعد رکھ لیں نکاح لیکن وہ مان ہی نہیں رہے” اس کے کچھ بولنے سے پہلے احواد نے مزید کہا تھا
“بس اتنا سا مسئلہ ہے؟” وقاص نے ہنس کے پوچھا تھا
“یہ اتنا سا نہیں ہے بابا سائیں مان ہی رہے میری بات اور یہ میرے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے” احواد نے اداسی سے کہا تھا
“ارے تایا سائیں سے یہ بات منوانا میرے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے” وقاص نے جوش سے کہا تھا
“کیا واقعی ہی؟” احواد نے آنکھیں پٹپٹاتے حیرت کا مظاہرہ کیا تھا
“ہاں بلکل تم ٹینشن مت لو جب تم کہو گی تب ہی ہو گا نکاح” وقاص نے مسکراتے ہوئے اسے یقین دلایا تھا
“تھینک یو سو مچ وقاص تم نے میرا بہت برا مسئلہ حل کیا ہے تم بہت اچھے ہو” احواد خوشی سے کہتے اندر چلی گئی تھی اور وقاص اس کے آخری جملے میں قید ہو کر خوش فہمیوں کے اونچے مینار پہ جا بیٹھا تھا
“واہ کیا بیوقوف بنایا مزہ آ گیا” اپنے کمرے میں آتے ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتے احواد بیڈ پہ گری تھی کافی دیر ہنسنے کے بعد خود پہ کنٹرول کرتے سیدھی ہوئی تھی
“اور تمہیں تو مسٹر زعیم میں دیکھنا ناکوں چنے نا چبوائے تو میرا نام بھی احواد چودھری نہیں ہے” اپنے تصور میں زعیم کو مخاطب کرتے احواد نے اسے وارننگ دی تھی
________________________
دن تیزی سے گزر رہے تھے اور ساتھ ہی سلیمان کے ولیمے کی تیاریاں بھی زور و شور سے جاری تھیں انوشہ کی طبعیت پہلے سے کافی بہتر تھی اس لیے زعیم نے دوبارہ اپنی جگہ سنبھال لی تھی شادی کی تیاریوں کی بھی زیادہ تر ذمہ داری اسے پہ ہی تھی اور دن میں دو تین چکر گھر کے ضرور لگا کے آتا تھا
زین اور سلیمان شہر گئے تھے اور ساتھ غزل بھی زین نے شادی کی ارینجمنٹس کے لیے کسی کو ہائر کرنا تھا جبکہ غزل اور سلیمان نے برائیڈل ڈریس لینا تھا زعیم چودھری حشمت کے ساتھ ڈیرے پہ ہی تھا چودھری حشمت نے پیسے دینے تھے جو وہ غلطی سے حویلی ہی بھول آئے تھے
انہوں نے زعیم کو حویلی بھیجا تھا کہ چودھرائن سے پیسے لے کر آئے جو انہوں نے کل انہیں پکڑائے تھے زعیم حویلی آیا تو چودھرائن صحن میں پڑے تحت پہ بیٹھیں مرچوں کا اچار ڈال تھیں زعیم نے جا کر انہیں سلام کیا تھا
“سائیں کہہ رہے تھے انہوں نے جو کل آپ کو پیسے دیے تھے وہ دے دیں” سلام کے بعد زعیم نے انہیں اپنا وہاں آنے کا مقصد بتایا تھا
“میں تو اچار ڈال رہی ہوں ہاتھ بھی نمک اور ہلدی کے ساتھ بھرے ہوئے ہیں اچھا ٹھہرو میں احواد کو کہتی ہوں وہ دے دیتی ہوں احواد احواد” انہوں نے اسے کہتے احواد کو آوازیں دینا بھی شروع کی تھیں لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا
“اک تو اس لڑکی کی مجھے سمجھ نہیں آتی بیٹھی ہوئی ہو گی کانوں میں ٹوٹیاں (ہینڈ فری) لگائے جو زعیم پتر اسے خود ہی جا کے بولو تمہیں پیسے دے دے میرے کمرے میں لاکر میں پڑے ہوئے ہیں” چودھرائن نے احواد کو کوستے زعیم سے کہا تھا
“ممم___ میں جاؤں؟” اس نے بوکھلاتے ہوئے اپنی طرف اشارہ کیا تھا
“ہاں تم ہی جاؤ شرمانے کی کوئی بات نہیں تمہارا اپنا ہی گھر ہے ہمیں تم پہ پورا بھروسہ ہے چودھری صاحب تمہیں بیٹا کہتے ہیں اس حساب سے تم احواد کے بھائی ہی ہوئے نا اس لیے جھجھکنے کی ضرورت نہیں ہے جاؤ” چودھرائن نے تو پکڑ کے اسے احواد کا بھائی ہی بنا دیا تھا
“استغفراللہ جیسے بھی ہوا نکاح ہوں تو میں ان کا شوہر ہی چودھرائن تو نکاح مکرو کروانے پہ تُلی ہوئی ہیں” زعیم بڑبڑایا تھا
اور ان کے مزید کچھ کہنے سے پہلے اس نے اپنے قدم اندر کی طرف بڑھائے تھے کافی عرصے سے وہ یہاں آ جا رہا تھا اس لیے اسے احواد کے کمرے کا پتہ تھا اس کے کمرے کے آگے کھڑے ہو کے اس نے گہری سانس بھری تھی اور دستک دی تھی کافی دیر دستک دینے کے بعد بھی احواد نے دروازہ نہیں کھولا تھا
“اففف اب کیا کروں” اپنے ماتھے کو مسلتے اس نے پریشانی سے سوچا تھا دروازہ کھولنے کے علاوہ اس کے پاس اور کوئی آپشن نہیں تھا
آہستگی سے دروازہ کھولتا وہ اندر داخل ہوا تو خالی کمرہ اس کا منہ چڑا رہا تھا مایوسی سے پورے کمرے میں نظر دوڑاتے اس نے واپس مڑنا چاہا تھا اسی وقت واش روم کا دروازہ کھلا تھا اور احواد باہر آئی تھی وہ نہا کے نکلی تھی سر پہ تولیہ لپیٹا ہوا تھا جبکہ دوپٹہ ندارد تھا
احواد نے اپنے کمرے میں زعیم کو دیکھتے ہلکی سی چیخ مار دی تھی اور زعیم نے بھی تیزی سے اپنا رخ دروازے کی طرف تھا احواد اس کی پشت کو گھورتی بیڈ کی طرف بڑھی تھی اور دوپٹہ اٹھا کہ اوڑھا تھا
“یہ کیا بدتمیزی ہے؟ تم میرے کمرے میں کیا کر رہے ہو اس دن مجھے تو بڑا لیکچر دیا تھا تو کیا آج کوئی کچھ نہیں سوچے گا کیا” دوپٹہ اورھنے کے بعد اس کے پیچھے آ کر کھڑے ہوتے احواد چیخی تھی
“مجھے کوئی شوق نہیں ہے آپ کے کمرے میں آنے کا سائیں نے پیسے لینے بھیجا تھا چودھرائن اچار ڈال رہی تھیں انہوں نے کہا کہ آپ کو بولوں میں کافی دہر دروازہ کھٹکھٹایا لیکن آپ نے کوئی جواب نہیں دیا اس لیے اندر آنا پڑا” زعیم نے سنجیدگی سے اس کی غلط فہمی دور کرنی چاہی تھی
“اب زیادہ بہانے بنانے کی ضرورت نہیں ہے اچھی طرح سمجھتی ہوں میں تم جیسے لوگوں کو” احواد کا لہجہ تمسخر اڑاتا ہوا تھا
زعیم کا ضبط جواب دے گیا تھا وہی ہر بار کیوں اس کی جلی کٹی سنے اگر اس نے پیسے دیے تھے تو زعیم نے بھی انجام کی پروا نہ کرتے اس کی بات مانتے اس سے نکاح کیا تھا چاہے کنٹریکٹ میرج ہی سہی اور اب اس کے یہ طعنے اس کا صحیح معنوں میں دماغ خراب ہوا تھا
“ہاں آیا ہوں جان بوجھ کے کیا کر لیں گی آپ؟ مت بھولیں کنٹریکٹ میرج پہ ہی سہی لیکن آپ میری لیگلی وائف ہیں اگر میں آپ کے روم میں آنا چوہوں تو آپ چاہ کے بھی نہیں روک سکتیں مجھے” اس کے دونوں بازو پکڑتے زعیم نے غرا کے کہا تھا جبکہ احواد آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی زعیم نے اک جھٹکے اس کے بازو چھوڑے تھے اور گہرے گہرے سانس بھرتے خود کو ریلیکس کیا تھا
“میرا آپ سے بحث کرنے کا کوئی موڈ نہیں ہے مجھے پیسے لا کر دیں چودھرائن کے کمرے میں لاکر میں موجود ہیں مجھے پہلے ہی دیر ہو چکی ہے” اسے منہ کھولتے دیکھ کر زعیم نے سختی سے کہا تھا
اس کی بات سن کے احواد اسے گھورتی ہوئی کمرے سے نکل گئی تھی اور اس کے پیچھے زعیم بھی احواد نے پیسے لا کر اس کے ہاتھ پہ پٹخے تھے اس کی بدتمیزی پہ زعیم نے اسے اک دفعہ پھر گھورا مگر کچھ بولے بغیر پیسے لے کر وہاں سے نکل گیا تھا اور احواد بھی جلتی کڑھتی اپنے کمرے میں چلی گئی تھی
جاری ہے_______________!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *