Tu Jaane Na by Arfa Ijaz NovelR50828 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode17
Rate this Novel
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode01 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode02 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode03 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode04 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode05 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode06 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode07 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode08 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode09 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode10 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode11 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode12 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode13 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode14 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode15 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode16 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode17 (Watching)Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode18 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode19 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode20 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode21 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode22 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartA) Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartB)
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode17
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode17
دن سست روئی سے گزر رہے تھے ہر کوئی اپنے معمولاتِ زندگی میں مصروف تھا احواد کا رویہ سب سے کے ساتھ اگر اچھا نہیں تھا تو برا بھی نہیں تھا وہ بس اپنے کام سے کام رکھتی تھی کسی سے بھی گھلنے ملنے کی ضرورت اس نے محسوس ہی نہیں کی تھی
انوشہ کے جو اپنی بھابھی کو لے کر ارمان تھے وہ سارے احواد کے رویے کی وجہ سے دھرے کے دھرے رہ گئے تھے جب وہ بات کرتی تو انوشہ بھی کر لیتی تھی احواد کے سرد رویے کی وجہ سے اس نے کھبی خود سے اسے مخاطب کرنے کی کوشش نہیں کی تھی
زعیم یہ سب دیکھ کے بھی خاموش تھا کیونکہ اس کے خیال میں یہ اک قسم سے اس کے لیے اچھا ہی تھا نہ ہی احواد گھر میں کسی کے ساتھ اٹیچ ہو گی اور نہ ہی اس کے جانے کے بعد اسے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا
وہ بھی معمول کے مطابق کا ہی اک دن تھا زعیم رات کو تھکا ہارا گھر آیا تھا کچھ دیر اماں اور انوشہ کے پاس بیٹھنے کے بعد وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھا تھا
“فائز میں تم سے کتنی دفعہ کہہ چکی ہوں جیسا تم سوچ رہے ہو ویسا میرے اور زعیم کے درمیان کچھ بھی نہیں ہے تم اچھی طرح جانتے ہو یہ شادی بس اک کنٹریکٹ کے تحت ہوئی ہے تو بار بار اک ہی بات دہرانے کا فائدہ؟” اندر سے آتی احواد کی غصیلی آواز سن کے دروازہ کھولتا اس کا ہاتھ ہینڈل پہ تھما تھا
اس نے گردن گھما کے پیچھا دیکھا تھا جہاں اماں اور انوشہ بیٹھی ہوئی تھیں اس کے دیکھنے پر ان دونوں نے بھی اسے دیکھا تو زعیم نے بس اک مسکراہٹ پاس کی تھی اور دروازہ کھول کے اندر داخل ہوا تھا
“دیکھو فائز،،،،” وہ ابھی مزید کچھ کہتی کہ زعیم کو اندر داخل ہوتے دیکھ کر اس نے کال کٹ کر دی تھی
“یہ کیا ہو رہا تھا؟” اس کے سر پہ پہنچتے زعیم نے سرد لہجے میں سوال پوچھا تھا احواد نے اچنبھے سے اسے دیکھا تھا کہ وہ کس لہجے میں بات کر رہا ہے
“کیا مطلب ہے اس بات کا؟” اپنی حیرت پہ قابو پاتے احواد نے تیوری چڑھا کے اسے دیکھا تھا
“یونیورسٹی کیا کم پڑ جاتی ہے باتوں کے لیے جو گھر کو بھی پی_سی_یو بنایا ہوا ہے؟” زعیم کا لہجہ ہنوز سرد تھا اس کی بات احواد کے تو سر پہ لگی اور تلووں پہ بجھی تھی
“مسٹر زعیم اپنی حد میں رہو” احواد غصے سے چیخی تھی
“میں اپنی حد میں ہی ہوں آپ زرا اپنی آواز نیچی رکھیں میرے گھر میں صرف آپ ہی نہیں میری ماں اور بہن بھی ہیں اور آپ کی اس بے احتیاطی کا ان پہ کیا اثر پڑ سکتا ہے یہ سوچا ہے آپ نے” اس کے دونوں بازو پکڑتے زعیم نے غرا کے کہا تھا
“تمہاری ماں اور بہن کا ٹھیکا نہیں اٹھا رکھا میں نے اور میں کروں گی فائز سے بات آج تو روم میں کی ہے آئندہ ان دونوں کے سامنے بیٹھ کے کروں گی کر لو جو کرنا ہے تم نے” احواد کا لہجہ بدتمیزی اور خودسری سے بھرپور تھا اس کی باتیں سن کے زعیم کو شدید طیش آیا تھا
“احواد اب آپ اپنی حد سے آگے بڑھ رہی ہیں” اس نے احواد کے بازوؤں پہ گرفت مزید سخت کرتے دبے دبے لہجے میں کہا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ ان دونوں کی آواز کمرے سے باہر جائے
“ہر بڑھ رہی ہوں کیا کر لو گے تم؟” احواد نے گویا اسے چیلنج کیا تھا
زعیم نے شدید غصے کے عالم میں اسے پیچھے بیڈ پہ دھکا دے کر اک گھٹنا بیڈ پہ ٹکا کر اس کے اردگرد اپنے ہاتھ جمائے تھے جبکہ احواد اس کی اس حرکت سے خوفزدہ ہوتی اسے دیکھ رہی تھی اس نے اس کا یہ روپ پہلی دفعہ دیکھا تھا
“اگر میں مجبور ہوں تو میری مجبوری کو کمزوری مت سمجھیں ورنہ نتائج کی ذمہ دار آپ خود ہوں گی” اس کی خوفزدہ آنکھوں میں اپنی سرخ آنکھیں گاڑتے ہوئے کہا تھا
“ورنہ کیا کر لو گے تم؟” اس نے خوفزدہ ہونے کے باوجود ہمیشہ کی طرح زبان چلانا فرض سمجھا تھا
“ورنہ،،،،” زعیم طنزیا ہنسی ہنسا تھا
“ورنہ مجھے کنٹریکٹ کو توڑتے ہوئے آپ کو اصل بیوی بنانے میں زیادہ ٹائم نہیں لگے گا” اس کی معنی خیز بات پہ اس کے رنگ میں سرخیاں گھلی تھی
“تم نے ایسا کچھ کرنے کا سوچا بھی تو میں تمہارا منہ توڑ دوں گی” احواد نے اس کا منہ نوچنا چاہا تھا لیکن وہ اس سے پہلے ہی اس کے ہاتھ قابو کر گیا تھا
“نہیں ڈئیر مسز جب صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو مجھے اپنا حق حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکے گا،،، آپ بھی نہیں اور تب میرے لیے اس کنٹریکٹ کی بھی کوئی حیثیت نہیں رہے گی اس لیے بہتر ہے کہ میرے سامنے فضول گوئی سے پرہیز ہی کیا کریں اور جو میں کہوں مان لیا کریں ورنہ نتائج بہت برے ہوں گے” اسے وارننگ دیتے وہ رکا نہیں تھا وہاں اک جھٹکے سے اٹھا اور باہر نکل گیا جبکہ احواد بیڈ پہ پڑی روتے ہوئے اس لمحے کو کوس رہی تھی جب اس نے اس شخص سے نکاح کیا تھا یہ تو دن با دن اپنے کچھ اور ہی رنگ دیکھا رہا تھا
_______________________
رات کو چودھری حشمت حویلی آئے تو سب سے پہلے ان کی نظر صحن میں پڑی کرسیوں پہ پڑی تھی وہ شام کو جب بھی گھر آتے احواد انہیں یہی بیٹھی ملتی تھی کھبی کوئی کتاب پڑھتی تو کھبی میوزک سنتی
لیکن کتنے دنوں سے وہ جب بھی گھر آتے تو انہیں یہ جگہ خالی ملتی تھی اس جگہ کو خالی دیکھ کر ناجانے کیوں ان کا دل خالی ہو جاتا تھا وہ آگے بڑھتے خاموشی سے جا کر اک کرسی پہ بیٹھ گئے تھے
“احواد تم نے اپنے بابا سائیں کا مان توڑ کر اچھا نہیں کیا ہے” انہوں نے ٹیبل پہ نظریں جمائے سوچا تھا
چودھرائن غزل کو کچن میں چھوڑ کے خود باہر صحن پہ لگی تار سے دھلے کپڑے اتارنے آئیں تو صحن میں بیٹھے چودھری حشمت کو دیکھتے چونکی تھیں پھر گہرا سانس بھرتی ان کی طرف بڑھی تھیں وہ اچھی طرح جانتی تھیں کہ چودھری حشمت وہاں بیٹھے کس بارے میں سوچ رہے ہوں گے
“اگر وہ اتنا ہی یاد آتی ہے تو مل کیوں نہیں آتے اس سے؟” چودھرائن کی آواز پہ چودھری حشمت چونک کے اپنے خیالوں سے باہر نکلے تھے
“میں کیوں اس نافرمان اولاد کو یاد کروں گا باہر سے تھکا ہوا آیا تھا اندر آنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی تو یہی بیٹھ گیا تھا” چودھری حشمت نے تیزی سے ان کی بات کی نفی کی تھی
“چودھری صاحب ان بہانوں سے کسی اور کو بہلائیے گا شریکِ حیات ہوں میں آپ کی پچیس چھبیس سال ہو گئے ہیں آپ کے ساتھ رہتے اتنا تو جان گئی ہوں آپ کو کہ آپ کا چہرہ دیکھ کے ہی اندازہ لگا لوں کے آپ کس بارے میں سوچ رہے ہیں” چودھرائن نے جتاتی نظروں سے انہیں دیکھا تھا
“نیک بخت دونوں نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ دونوں نے ہی مان توڑ دیا میرا” آخر کار ان کے آگے ہار مانتے چودھری حشمت نے تھکے تھکے لہجے میں کہا تھا
“ہاں نہیں کیا اچھا دونوں نے لیکن آپ نے سوچا ہے کہ آپ نے بھی تو اچھا نہیں کیا نہ” چودھرائن نے ان کی بات کی تائید کرتے ساتھ اپنی بات بھی ان کے گوش گزاری تھی جسے سن کے چودھری حشمت نے انہیں دیکھا تھا
“ٹھیک کہہ رہی ہوں میں ہم بیٹوں کو تو رعایت دے دیتے ہیں بلکہ یوں کہہ لیں کہ کھلی چھوٹ دے دیتے ہیں مثال آپ کے سامنے ہی ہے سلیمان کی وہ بھی تو اپنی پسند کی شادی کر کے آیا ہے حالات چاہے جیسے بھی تھے لیکن کی تو اس نے اپنی مرضی ہے نا؟
لیکن بیٹیوں کو ہم ایسی کوئی رعایت نہیں دیتے ہم زندگی بھر ان کے لاڈ اٹھاتے ہیں ان کی ہر خواہش پوری کرتے ہیں لیکن جہاں وہ اپنی پسند کی شادی کا کہہ دیں یا تو انہیں غیرت کے نام پہ قتل کر دیا جاتا ہے یا ان کے قدموں میں اپنی پگڑیاں رکھ دی جاتی ہیں اور اس پگڑی کی لاج رکھنے کے لیے ہر بیٹی اپنے خواب اپنی خواہشوں کو ہمیشہ کے لیے جلا دیتی ہیں اور خاندانوں کو جوڑنے کا ذریعہ بن جاتی ہیں” بولتے بولتے ناجانے کیوں ان کی آواز بھرا گئی تھی
“ہم ہمیشہ بیٹیوں کو خاندان کو جوڑے رکھنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں ان کے کیا خواب ہیں وہ کیا چاہتی ہیں ہم نے کھبی سوچا ہی نہیں آج جو لڑکیاں بھٹک جاتی ہیں گمراہ ہو جاتی ہیں ان میں قصور ان کا ہے تو کچھ ہمارا بھی ہوتا ہے جب انہیں گھر سے وہ محبت اور توجہ نہیں ملے گی جو وہ چاہتی ہیں تو اگر یہی توجہ کہی اور سے ملے گی تو وہ ضرور اس طرف کھینچے گی”
“لیکن ہم نے تو ایسا کچھ نہیں کیا بیٹوں سے بھی زیادہ محبت اور توجہ دی ہے اسے اس کی ہر ضد ہر خواہش پوری کی ہے پھر بھی اس نے ایسا کیوں کیا؟” ان کی بات کو پکڑتے چودھری حشمت نے کہا تھا
“کیونکہ اسے لگتا تھا کہ ہم نے اسے کھلی فضا میں آزادی سے سانس لینے کی اجازت نہیں دی ہمیشہ اسے قید کر کے رکھا ہے اور یہاں وہ تھوڑی غلط تھی ہم نے اسے قید نہیں کیا تھا ہم تو بس اسے اپنی طرف سے تحفظ فراہم کر رہے تھے تا کہ وہ زمانے کے ہر سرد و گرم سے محفوظ رہ سکے لیکن وہ تو باغی ہو گئی اسے وقاص سے اس لیے شادی نہیں کرنی تھی تا کہ وہ اس چار دیواری کی قید سے نکل کے اپنی مرضی سے زندگی گزار سکے لیکن شاید وہ جانتی نہیں دنیا ویسی بلکل نہیں ہے جیسی ماں باپ کے پروں کے نیچے سے نظر آتی ہے” چودھرائن نے انہیں وضاحت دی تھی جسے انہوں نے خاموشی سے سنا تھا لیکن بولے کچھ نہیں تھے
“اگر آپ اس کی بات مان لیتے تو شاید وہ ایسا قدم نہ اٹھاتی لیکن اب بھی زیادہ وقت نہیں گزرا وہ کیا محاورہ ہے ‘ایے وی ڈولے بیراں دا کج نہیں گیا’ اسی طرح ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ہم نے سب کے سامنے اسے عزت سے رخصت کیا تھا ہم بیٹوں کی بڑی سے بڑی غلطی کو معاف کر دیتے ہیں تو بیٹیوں کی کیوں نہیں؟” چودھرائن نے اپنی بات کے اختتام پہ امید بھری نظروں سے انہیں دیکھا تھا
“میں ابھی خود میں اتنا حوصلہ نہیں پاتا کہ انہیں معاف کر سکوں جب حوصلہ آیا تو کر دوں گا معاف” دو ٹوک لہجے میں کہتے چودھری حشمت وہاں سے اٹھ گئے تھے جبکہ چودھرائن اداس سی وہی بیٹھی رہی تھی
آج انہیں احواد کے ساتھ ساتھ زعیم کی بھی بہت یاد آ رہی تھی اس واقعے کے بعد زعیم کا حویلی آنا بھی بلکل بند ہو گیا تھا وہ چودھرائن کے لیے بلکل بیٹوں جیسا تھا اور اب کتنے دنوں سے وہ اس کی شکل دیکھنے کو بھی ترس گئی تھیں
انہوں نے اپنی پوری کوشش کی تھی کہ چودھری حشمت کو منا سکیں لیکن وہ اپنی ہر کوشش میں ناکام ہو رہی تھیں
____________________
اس دن کی تلخ کلامی کے بعد دونوں کی بات چیت تقریباً بند تھی پہلے بھی کوئی اتنی خاص بات نہیں کرتے تھے بس ضرورت کے تحت اک دوسرے کو مخاطب کر لیتے تھے اب تو اس سے بھی گئے تھے
ان دونوں کے درمیان اس سرد مہری کو اماں نے تو نہیں البتہ انوشہ نے ضرور نوٹ کیا تھا کہ وہ دونوں ضرور کے تحت بھی اک دوسرے سے بات نہیں کرتے تھے
کچھ زعیم کے اپنے دل کے حالات بدل رہے تھے اور وہ ایسا کچھ بلکل بھی نہیں چاہتا تھا جانتا تھا کہ وہ احواد کی زندگی میں کہی بھی نہیں ہے اور نہ ہو گا تو خوش فہمیاں پالنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن یہ بات اس کا دل کمبخت نہیں سمجھ رہا تھا جو بار بار اس نک چڑھی کی طرف ہمک رہا تھا
اور سمجھانے کے باوجود نہیں سمجھ رہا تھا بےشک دونوں کا نکاح کنٹریکٹ پہ ہی ہوا تھا لیکن تھا تو وہ نکاح ہی اک پاکیزہ رشتہ اور یہ کیسے ہو سکتا ہے اک پاکیزہ رشتے کی برکت ان دونوں پہ اثرانداز نہ ہوتی اور اپنے دل کی اس حالت سے نظریں چراتے وہ خود ہی اس سے دور رہتا تھا
“اماں آپ کو نہیں لگتا بھائی اور بھابھی کوئی نہ کوئی ان بن ہے؟” اماں جو دوپہر کے کھانے کے لیے سبزی بنا رہی تھیں انہوں نے چونک کے انوشہ کو دیکھا تھا
“ایسا کچھ نہیں ہے بس گھر فارغ رہتے رہتے تیرے دماغ میں کوئی اور خناس نہیں بھرا تو تم نے یہاں اپنے اندازے لگانے شروع کر دیے ہیں” اماں اسے گھور کے واپس سبزی کی طرف متوجہ ہو گئی تھیں
“بھئی اماں آپ مانیں یا نہ مانیں بھائی بھابھی میں کوئی نہ کوئی ناراضگی ضرور چل رہی ہے” جوش سے کہتے کہتے انوشہ کی آواز تھوڑی اونچی ہو گئی تھی
“اپنی آواز آہستہ کرو اگر تمہاری بھابھی نے سن لیا تو کیا سوچے گی” زعیم کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھتے اماں نے اسے ڈپٹا تھا آج ہفتہ ہونے کی وجہ سے چھٹی تو احواد گھر ہی تھی
“السلام علیکم” اس سے پہلے کے انوشہ کچھ کہتی زعیم کی آواز گونجی تھی
جو تھوڑی دیر پہلے ہی وہاں آیا تھا لیکن انوشہ کی بات سن کے اپنی جگہ تھما تھا اسے امید نہیں تھی کہ اس نے اس قدر گہرائی سے ان دونوں کے رشتے کا نوٹس لیا ہو گا بہرحال ان کے درمیان جو بھی اختلافات اور معاہدات تھے وہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی کے سامنے آئیں اس لیے اس پہلے کے بحث مزید لمبی ہوتی وہ خود ہی بول پڑا تھا
“وعلیکم السلام آج تم جلدی آ گئے؟” سلام کا جواب دیتے اماں نے حیرانگی سے پوچھا تھا
“ہاں بس طبیعت تھوڑی بوجھل تھی تو چودھری صاحب سے پوچھ کے آ گیا گھر” اپنی کنپٹی کو مسلتے اس نے جواب دیا تو اماں اور انوشہ دونوں کے چہروں سے پریشانی چھلکی تھی
“کیا ہوا طبعیت زیادہ تو نہیں خراب؟” اماں سبزی پرے کرتیں اٹھی تھیں
“ارے میری پیاری اماں بس سر میں درد ہے تھوڑا سوؤں گا تو بہتر ہو جاؤں گا آپ پریشان نہ ہوں” زعیم نے ان کا ہاتھ پکڑ کے چومتے انہیں تسلی دی تھی
کچھ دیر ان کے پاس بیٹھنے کے بعد وہ اٹھ کے اپنے کمرے کی طرف بڑھا تھا کمرے میں آیا تو احواد صوفے پہ بیٹھی موبائل پہ سکرولنگ کر رہی تھی زعیم جا کر بیڈ پہ بیٹھا اور شوز اتار کے رکھ کے اس نے اک نظر احواد کو دیکھا تھا جو اسے مکمل نظرانداز کرتے موبائل پہ جھکی ہوئی تھی
“مجھے بات کرنی ہے آپ سے” زعیم نے گہری سانس بھرتے اسے مخاطب کیا تھا اس کا ارادہ اس سے بات کلئیر کرنے کا تھا ابھی پتہ نہیں کتنی مدت تک اسے یہاں رہنا تھا تو وہ نہیں چاہتا تھا کہ انوشہ کے بعد اب اماں کا دھیان بھی ادھر ہو
“بولو” نظریں ہنوز موبائل پہ ٹکائے اس نے اک لفظ کہاں شانِ بےنیازی کے اس مظاہرے پہ زعیم بس اسے دیکھ کے ہی رہ گیا تھا اور کیا کر سکتا تھا
“دیکھیں ہمارے درمیان جو کچھ بھی طے ہے وہ ہم دونوں کے درمیان ہی ہے اور میں چاہتا ہوں یہ ہم دونوں کے درمیان ہی رہے میں آپ کو اتنی فیور دے رہا ہوں تو اب آپ بھی مجھے تھوڑی فیور دیں میرے گھر والوں کے سامنے میرے ساتھ اک نارمل کپل کی طرح رہا کریں جب تک آپ جاتی نہیں تب تک ہم دونوں کے لیے آسانی رہے گی ورنہ اماں اور انوشہ کو شک ہو جائے گا ہمارے درمیان کوئی گڑبڑ ہے بلکہ ہو چکا ہے شک” زعیم نے کہا تو احواد نے موبائل کی سکرین سے نظریں اٹھا کے اسے دیکھا تھا
“میں نے ٹھیکا نہیں اٹھا رکھا تمہاری ماں اور بہن کے شک کو دور کرنے کا انہیں جو سوچنا ہے سوچتی رہیں میری بلا سے” احواد کا لہجہ بدتمیزی سے بھرپور تھا ابھی تک وہ پچھلی لڑائی نہیں بھولی تھی مگر اس کی وارننگ بھول گئی تھی
“مسز احواد زعیم اپنا لہجہ درست رکھیں ورنہ اچھا نہیں ہو گا” غصے پہ قابو پاتے زعیم نے جان بوجھ کے اس کے نام کے ساتھ اپنے نام کا حوالہ دیا تھا اور حسبِ توقع وہ سن کے آگ بگولا ہو گئی تھی
“ہاؤ ڈیر یو؟ ہمت کیسی ہوئی تمہاری میرے نام کے ساتھ اپنا نام جوڑنے کی” غصے سے نتھے پھلاتے اس نے پوچھا تھا
“یہ ہمت آپ کی ہی بخشی ہوئی ہے اور میرے نام کے ساتھ تو آپ کا نام جڑ چکا ہے نہیں یقین تو گاؤں میں کسی سے بھی پوچھ لیں اب آپ ان کے لیے چودھری حشمت کی بیٹی نہیں بلکہ زعیم کی ووہٹی ہیں” اسے تپا کے زعیم نے بڑے مزے سے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائی تھی
“شٹ اپ جسٹ شٹ اپ” موبائل صوفے پہ پھینکتے اس نے غصہ ضبط کرنے کے لیے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچی تھیں
“اب آپ شٹ اپ کہہ کے حقیقت سے انکاری تو نہیں ہو سکتیں” مسکرا کے کہتے زعیم نے اسے اور تپایا تھا اس بات سے انجان کے یہ لڑائی بہت سنجیدہ نوعیت پہ چلی جائے گی
“تم اک بزدل اور جھوٹے مرد ہو بلکہ مجھے تو تمہاری مردانگی پہ ہی شک ہے جو اپنی بات سے مکر جائے وہ مرد کیسا؟” احواد نے غصے میں جو منہ میں آیا بول دیا تھا
“مس احواد چودھری اپنی حد میں رہیں آپ میں کوئی اپنی بات سے نہیں مکرا ابھی بھی اپنی بات پہ قائم ہوں لیکن تالی اک ہاتھ سے نہیں بجتی اگر میں آپ کو یہاں رکھ رہا ہوں آپ کا کام پورا ہونے تک تب تک آپ کو بھی میرے ساتھ کوآپریٹ کرنا پڑے گا اور میری ماں اور بہن کے سامنے ہمیں اک نارمل کپل کی طرح رہنا ہے” زعیم اپنے غصے کو بمشکل قابو کرتے بولا تھا ورنہ احواد نے جیسے اس کی مردانگی کو للکارا وہ اسے اچھی طرح جواب دیتا
“میں ایسا کچھ نہیں کروں گی اگر تم نے میرے ساتھ نکاح کر کے میری مدد کی ہے تو میں نے بھی تمہاری بہن کے علاج کے لیے پیسے دیے ہیں ہو گیا حساب برابر لیکن اپنی حرکتوں سے تم ثابت کر رہے ہو کہ تم اک نہایت ہی بزدل مرد ہو جس کی ہر بات اپنی ماں اور بہن کے خوف پہ آ کر ٹوٹتی ہے تم مان لو کے تم اک بزدل مرد ہو جو کچھ بھی نہیں کر سکتا” احواد انجام کی پرواہ کیے بغیر بس بولی جا رہی تھی
“نہیں محترمہ احواد صاحبہ حساب کہاں برابر ہوا ہے آپ نے پیسے دیے میں نے نکاح کیا لیکن آپ میرے گھر میں رہ رہی ہیں اس کے بدلے آپ نے کچھ نہیں دیا تو حساب کیسے برابر ہوا؟ اور آپ ہمیشہ مجھے بزدل کہتی رہی ہیں لیکن اگر کوئی کسی کی شرافت کو بزدلی سمجھے تو کم از کم اسے اک دفعہ تو ضرور بزدلی اور شرافت کے درمیان کا فرق سمجھا دینا چاہیے” غصے کی شدت سے پاگل ہوتے زعیم نے اسے بیڈ پہ دھکا دیا اور خود اس پہ جھکا تھا
احواد نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے زعیم کی اس حرکت کو دیکھا تھا اس لمحے اس کا دل ڈوب کے ابھرا تھا اور کسی انہونی کا پتہ دیا تھا اس لمحے اسے اپنے بنا سوچے سمجھے بولنے کی عادت پہ افسوس ہوا تھا
جلد ہی اس جھٹکے سے سنبھلتے احواد نے خود جو چھڑوانے کی جدوجہد شروع کر دی تھی زعیم اس پہ تسلط جمانے جبکہ احواد خود کو چھروانے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہی تھی فطری طور پہ زعیم ہی اس پہ حاوی تھا
“زعیم زعیم میں نے تمہارے لیے چائے بنائی ہے یہ پی لو سر درد سے تھوڑا آرام ملے گا” جب زعیم اسے بلکل بےبس کر چکا عین اسی وقت دروازے پہ دستک کے ساتھ اماں کی آواز بھی گونجی تھی جس نے زعیم کو وحشتوں کے صحرا سے واپس کھینچا تھا
زعیم نے اک نظر دروازے پہ ڈال کے دوسری نظر بےبس پڑی سوکھے پتے کی طرح کانپتی احواد پہ ڈالی تھی اور دوسرے لمحے اسے تنفر سے اسے پرے دھکیلتے اک جھٹکے سے اٹھا تھا
“کسی خوش فہمی میں مت رہیے گا کہ چھوڑ دیا آپ کو رات کو سارا حساب بےباک ہو گا” زعیم جاتے جاتے بھی اسے دھمکی دینا بھولا تھا جوتے پہن کے کمرے کا دروازہ کھول کے باہر نکلا اور زوردار آواز میں دروازہ بند کرتے بغیر اماں کی سنے گھر سے ہی نکل گیا تھا
جبکہ اماں حیران پریشان سی کھبی اس کے کمرے کے دروازے کو دیکھتیں تو کھبی اس رستے کو جس سے وہ گزر کے گیا تھا دیکھتیں سمجھنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ ہوا کیا ہے اور اندر کمرے میں موجود احواد مسلسل کانپتے ہوئے اس کی دھمکی یاد کرتے روئے جا رہی تھی
جاری ہے_______________!!
