Tu Jaane Na by Arfa Ijaz NovelR50828 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode21
Rate this Novel
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode01 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode02 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode03 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode04 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode05 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode06 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode07 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode08 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode09 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode10 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode11 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode12 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode13 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode14 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode15 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode16 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode17 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode18 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode19 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode20 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode21 (Watching)Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode22 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartA) Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartB)
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode21
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode21
سلیمان واپس جا چکا تھا اور اس کے ساتھ ہی غزل بھی کیونکہ اس کے فرینڈز اپنی بیگمات کے ساتھ اس سے اک زبردست قسم کی پارٹی لینا چاہتے تھے جس میں غزل کی بھی موجودگی ہو اس لیے وہ غزل کو بھی ساتھ لے گیا تھا
جبکہ زین گاؤں میں ہی تھا اور حشمت صاحب کے ساتھ ڈیرے بھی جاتا تھا اس نے ہر طرف گہری نظر رکھی ہوئی تھی کہ کہی کوئی اور بھی تو وقاص کے ساتھ ملوث نہیں لیکن اسے کسی کی کوئی حرکت مشکوک نہیں لگی تھی جس سے وہ ان سب سے مطمئن ہو گیا تھا
اب بس اس آدمی کو پکڑنا تھا جو کہ دو دن سے غائب تھا اور ڈیرے کہلوا کے بھیجا تھا کہ اس کی طبعیت نہیں ٹھیک چودھری حشمت نے کہا تھا کہ وہ سے گھر سے اٹھا لاتے ہیں لیکن زین نے منع کر دیا تھا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ وقاص ان کی طرف سے زرا بھی مشکوک ہو
اس لیے اس نے دو دن سکون سے اس کا انتطار کیا تھا اور تیسرے دن وہ خود ہی آ گیا تھا اس بات سے انجان کہ ڈیرے آتے ہی اسے سب سے پہلے دھر لیا جائے گا وہ تو اپنی طرف سے بلکل مطمئن تھا کہ اس کی طرف کسی کا شک جائے گا ہی نہیں
کھبی کھبی انسان خود کو کچھ زیادہ ہی طرم خان سمجھ بیٹھتا ہے وہ سمجھتا ہے جو اس نے چلاجی سے کیا ہے کوئی اس نہج پہ سوچ ہی نہیں سکتا اس لیے وہ ہر طرف سے مطمئن ہوتا ہے بلکہ اوور کنفیڈنس ہوتا ہے
اور یہی اوور کنفیڈنس اسے لے ڈوبتا ہے اور یہی اس شخص کے ساتھ ہونے والا تھا اس کے ڈیرے آتے ہی زین نے اسے کمرے میں طلب کر لیا تھا کمرے میں اس کے ساتھ چودھری حشمت بھی موجود تھے
“چودھری صاحب آپ نے بلایا؟” کمرے میں آتے اس نے ہاتھ باندھتے مودبانہ لہجے میں کہا تھا
“ہاں میں آپ سے کچھ سوال کروں گا جس کے ٹھیک ٹھیک جواب دینے ہیں آپ نے سمجھ گئے نا؟” زین نے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا اور اس کے اردگرد چکر لگانے شروع کیے تھے اور سرد لہجے میں اسے کہا تھا جس پہ اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا
اس کے اس انداز پہ اس آدمی کا ماتھا ٹھنکا تھا اور اس کے دل پکڑ دھکڑ شروع ہوئی تھی یہ انسانی فطرت ہے کہ جب آپ کے دل میں چور ہو تو کسی کی عام انداز میں کہی بات بھی آپ کو گھبراہٹ میں مبتلا کر دیتی ہے اور یہاں تو پھر اس کا لہجہ صاف صاف بتا رہا تھا کہ کیا بات ہو سکتی ہے
“ہوں تو مجھے اچھے بچوں کی طرح سیدھی طرح بتائیں اس دن بابا سائیں کی بیہوشی کے دوران کس نے لاکر کھول کے اس میں سے پیسے نکالے ہیں؟” زین نے بغیر کسی لگی لپٹی کے سیدھا مین سوال پوچھا تھا اس کا سوال سنتے ہی اس آدمی کا رنگ اڑا تھا جو زین اور چودھری حشمت نے بخوبی نوٹ کیا تھا
“چھوٹے چودھری جی ہم تو چودھری صاحب کے بیہوش ہوتے ہی انہیں حویلی لے گئے تھے تو ان کی بیہوشی میں کس نے اور کیوں پیسے نکالنے تھے؟” اس نے اپنی گھبراہٹ پہ قابو پاتے کہا تھا
“دیکھیں آپ مجھے سیدھی طرح بتا دیں آپ عمر میں مجھ سے بڑے ہیں اس لیے آپ کا لحاظ کر رہا ہوں ورنہ مجھے سچ اگلوانے کے بہت سے طریقے آتے ہیں” زین کے لہجے کے سرد پن میں مزید اضافہ ہوا جسے محسوس کرتے وہ آدمی کپکپایا تھا
“چھوٹے چودھری جی میں سچ کہہ رہا ہوں آپ چاہیں تو مجھ سے قسم،،،،،،”
“شٹ اپ یہاں سچی بات کے لیے بھی قسم نہیں اٹھانی چاہیے اور آپ یہاں جھوٹی قسم کھائیں گے” زین اس آدمی کی بات کاٹتے دھاڑا تھا
“چھوٹے چودھری جی میں سچ کہہ رہا ہوں یہاں سے کسی نے پیسے چوری نہیں کیے زعیم کے علاوہ اس کمرے میں کوئی آتا جاتا نہیں ہے اور تالا بھی اس کی انگلی سے کھلتا ہے آپ اس سے پوچھیں مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں؟” وہ ابھی بھی اپنی بات پہ قائم تھا
“ٹھیک ہے مت بولیں سچ اب میں اپنے طریقے سے بلواؤں گا عزت راس نہیں آئی آپ کو” زین نے کہا اور آگے بڑھ کے چودھری حشمت کی قمیض کی فرنٹ جیب سے پین نکالا تھا
پین نکالتے وہ اس آدمی کی طرف بڑھا تھا جو اسے خوفزدہ نظروں سے دیکھ رہا تھا چودھری حشمت بھی حیرانگی سے اسے دیکھ رہے تھے زین نے اس کے پاس پہنچتے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کی انگلیوں کے درمیان پینسل پھنسا کے پیچھے کی طرف دباؤ ڈالا تھا جس سے اس کا پورا ہاتھ پیچھے مڑ گیا تھا درد اپنے ہاتھ میں درد محسوس کرتے وہ چیخا تھا
“اب سیدھی طرح بتائیں کس نے پیسے چوری کیے ہیں اور کیوں کیے ہیں ورنہ یہ ٹارچر کرنے کا سب سے نچلہ درجہ ہے اس سے زیادہ ٹرکس بھی ہیں آپ کا منہ کھلوانے کے لیے مگر وہ آپ برداشت نہیں کر سکیں گے” زین نے پینسل پہ مزید دباؤ ڈالا تھا جس سے درد مزید بڑھا تھا
“میں نہیں بتا سکتا وہ میرے گھر والوں کا نقصان پہنچائے گا” بالآخر اس نے ہار مان ہی لی تھی اس کی بات سے یہ تو ثابت ہو گیا تھا کہ چوری زعیم نے نہیں کی
اس کی بات سن کے زین نے اپنی نظریں چودھری حشمت کی طرف گھمائی تھیں جو بےیقینی سے اس آدمی کو دیکھ رہے تھے اک نظر ان پہ ڈالنے کے بعد زین نے اپنی نظریں واپس اسی شخص پہ گاڑھی تھیں
“اگر آپ نہیں بتائیں گے تو میں نقصان پہنچاؤں گا” زین نے کہا تو اس نے بےبس نظروں سے اسے دیکھا تھا
“اگر آپ بتا دیتے ہیں یہ کس کا کام ہے تو میں آپ کو اور آپ کی فیملی کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا اور نہ کسی اور سے پہنچنیں دوں گا یہ گرینٹی ہے میری لیکن اگر آپ نہیں بتائیں گے تو آپ کے ساتھ ساتھ آپ کی فیملی کو بھی اتنا ٹارچر کروں گا کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے” زین نے ڈرایا اور وہ ڈر بھی گیا تھا
“چھوٹے چودھری جی یہ سب وقاص صاحب نے کرنے کا کہا تھا اور مجھے پیسے دیے تھے میں یہاں کی پل پل کی خبر انہیں دیتا تھا اس دن زعیم کا ڈیرے سے جانے کا بھی میں ہی انہیں بتایا تھا اور چودھری صاحب کو پانی میں بیہوشی کی دوا ملا کے پلائی تھی وقاص صاحب کا ارادہ رجسٹر غائب کرنے کا تھا تا کہ چودھری صاحب زعیم کو بےعزت کر کے نکال دیں اور وہ ان کی نظروں میں اچھا بن جائیں چھوٹے چودھری مجھے معاف کر دیں میں بس پیسوں کے لالچ میں آ گیا تھا” جب اپنی فیملی کی بات آئی تو اس نے فرفر سب کچھ سچ سچ بتا دیا تھا
زین تو بلکل نہیں چونکا تھا کیونکہ اسے پہلے ہی یقین تھا کہ ان سب کے پیچھے وقاص کا ہی ہاتھ ہو گا لیکن چودھری حشمت کو تو صدمہ لگا تھا وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے وقاص زعیم کو ان کی نظروں سے گرانے کے لیے اس حد تک جا سکتا ہے
“تم میری نظروں سے دور ہو جاؤ اور آئندہ مجھے اپنی شکل مت دیکھانا چند پیسوں کے لیے غداری کی ہے تم نے میرے ساتھ” چودھری حشمت اپنا ضبط کھوتے چیخے تھے
“نہیں بابا سائیں ابھی نہیں نکال سکتے ہم اسے اک دفعہ جو آدمی وقاص کے پیچھے چھوڑا ہوا ہے وہ اس کی حرکات و سکنات بتا دے پھر انہیں بھی نکال دیں گے اور اس وقاص کو بھی سبق سکھائیں گے” زین نے انہیں ان کے اس قدم سے روکا تھا
“اور آپ بھی سن لیں وقاص کو پتہ نہیں چلنا چاہیے کہ ہمیں پتہ چل چکا ہے پیسے اس نے چوری کیے ہیں ورنہ انجام بہت برا ہو گا” زین نے اسے بھی وارننگ دی تھی جو چودھری حشمت کے سامنے روتے گڑگڑاتے ہوئے معافی مانگ رہا تھا اس نے تیزی سے سر ہلایا تو زین نے اسے وہاں سے جانے کا اشارہ کیا اور خود چودھری حشمت کی طرف بڑھا جو سر ہاتھوں میں تھامے بیٹھے تھے
_____________________
احواد یونیورسٹی سے نکل کے سڑک کے اک کونے میں سر جھکائے چلی جا رہی تھی اس نے باہر رکتے زعیم کو دیکھنے کی بھی کوشش نہیں کی تھی کہ وہ یہاں ہے بھی یا نہیں اس کا دماغ فلحال کچھ اور سوچنے میں مصروف تھا اور ساتھ ہی ساتھ آنکھوں سے آنسو بھی رواں تھے
اس کے دماغ میں اس وقت وہ ساری باتیں گھوم رہی تھیں جو اس نے کھبی سب سے بہت غرور سے کہی تھیں کہ وہ حویلی کی قید سے نکل جائے گی اپنے من پسند جیون ساتھی کے ساتھ اپنی من پسند زندگی گزارے گی
لیکن یہاں تو اس زندگی کی شروعات ہونے سے پہلے ہی اس کا اختتام ہو گیا تھا اور وہ بس خالی ہاتھ رہ گئی تھی اور شاید وہ رو بھی اسی لیے رہی تھی نا کہ فائز کے چھوڑ جانے کے لیے
آج کل کے دور میں محبت عام ہو چکی ہے وقتی پسندیدگی اور اٹریکشن کو محبت کا نام دے کر ہم بہت آگے بڑھ جاتے ہیں اور جب دونوں میں سے کوئی اک چھوڑ دیتا ہے تو دوسرا کچھ دن اسے کوسنے دیتا ہے اور پھر سب کچھ بھلا کے آگے بڑھ جاتا ہے
احواد کو بھی فائز کے ساتھ اٹریکشن تھی اس کی لکس کو لے کر نہیں بلکہ اس بات کو لے کر فائز کے ساتھ شادی کر کے وہ حویلی کی چار دیواری سے نکل سکتی اپنی مرضی کی زندگی گزار سکتی ہے مگر اب جب فائز اپنی مجبوریاں بتا کے اسے چھوڑ کے جا چکا تھا تو وہ اسے بےوفا لگ رہا تھا
“ارے اداس بلبل اکیلی کہاں جا رہی ہے؟ عاشق چھوڑ گیا کیا اس کیے رو رہی ہے؟ چل کوئی نہیں اگر وہ نہیں ہے ہم تو ہیں نا اس کی کمی ہم پوری کر دیتے ہیں” احواد جو اپنی سوچوں میں مگن بس چلی جا رہی تھی اپنے پاس سے آتی آواز پہ اس نے چونک کے سر اٹھایا تو اک طرف دو لڑکے کھڑے خباثت بھری نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے
اپنی سوچوں میں مگن وہ یونیورسٹی سے بہت آگے نکل آئی تھی اور اب جہاں وہ تھی وہ بلکل سنسان روڈ تھا احواد نے بےساختہ خود کو کوسہ تھا وہ کیوں سوچوں میں اتنی ڈوب گئی تھی کہ اسے پتہ ہی نہیں چلا کے وہ کہاں آ گئی ہے یقیناً زعیم اسے لینے نہیں آیا تھا ورنہ وہ یونی سے نکلتے اسے دیکھ لیتا
احواد نے سر پہ اوڑھی چادر مزید آگے کھینچی تھی اور ان دونوں کو اگنور کرتے اس نے تیزی سے اپنے قدم آگے بڑھائے تھے اسے آگے بڑھتے دیکھ کر ان دونوں نے بھی اس کے پیچھے چلنا شروع کر دیا تھا یقیناً سنسان روڈ پہ اکیلی لڑکی کو دیکھ کر وہ شیر ہو رہے تھے
“یہ تو بتا دو کہاں جا رہی ہو ہم تمہیں چھوڑ دیتے ہیں اپنے پیروں کو اتنی زحمت کیوں دے رہی ہو؟” ان میں سے اک نے گھٹیا پن سے کہا تھا اور پھر دونوں اک دوسرے کے ہاتھ پہ ہاتھ مارتے ہنس دیے تھے
ان کی باتیں سن کے احواد کے پہلے سے بہتے آنسوؤں میں مزید اضافہ ہوا ساتھ ہی اس نے اپنی رفتار پہلے سے تیز کی تھی اور دل ہی دل میں زعیم کے آنے کی دعا کی تھی ان کو بھی سپیڈ بڑھاتے دیکھ کر احواد نے بھاگنا شروع کر دیا تھا
اسے بھاگتے دیکھ کر ان دونوں نے بھی بھاگنا شروع کر دیا تھا اور جلد ہی اسے جا لیا تھا اور اب اس کے اردگرد چکر لگاتے اسے ہوس بھری نظروں سے اوپر سے نیچے تک دیکھ رہے تھے دیکھنے کو وہ بلکل دبلے پتلے لگ رہے تھے لیکن اک کمزور لڑکی کو دیکھ کر شیر لگ رہے تھے
ہر کوئی کمزور پہ ہی تو اپنا رعب جماتا ہے جیسے چوہے کو دیکھ کر بلی شیر ہوتی ہے اور بلی کو دیکھ کر کتا اور کتے کو دیکھ کر شیر اپنے آپ کو طاقتور سمجھتا ہے بلکل ویسے ہی وہ بھی اک لڑکی کو دیکھ کر شیر ہو رہے تھے
“چھمک چھلو ایویں اپنی بھی اور ہماری بھی انرجی ضائع کی ہے پکڑی تو تم گئی ہو پھر کیا فائدہ ہوا بھاگنے کا؟” ان میں سے اک نے احواد کی چادر کا کونہ پکڑتے دانت نکوستے کہا تھا
“دیکھو مجھے جانے دو ابھی میرا شوہر آ گیا نا تو تم لوگ بچو گے نہیں” احواد نے انگلی اٹھا کے کانپتی آواز میں انہیں دھمکی دی تھی
“ارے ہم تو ڈر گئے ہاہاہاہاہا” انہوں نے ڈرنے کی ایکٹنگ کی اور ساتھ ہی قہقہہ لگایا تھا
“وہ کیا ہے نا چھمک چھلو جب تک تمہارا شوہر آئے گا ہم تو اپنا کام کر چکے ہوں گے” اس کی گھٹیا بات پہ احواد کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں میں مزید اضافہ ہوا تھا
آج بیچ روڈ میں دو گھٹیا مردوں کے درمیان کگڑے ان کی گھٹیا باتیں سنتے اسے اس چار دیواری کی اہمیت کی سمجھ آئی تھی جس سے وہ چھٹکارا پانا چاہتی تھی جو اسے قید خانہ لگتا تھا آج اسے سمجھ آیا تھا بابا سائیں ہر جگہ اس کے ساتھ زعیم کو یا دونوں بھائیوں میں سے کسی اک کو کیوں بھیجتے تھے
“چل پکڑ اسے اس پہلے کہ کوئی یہاں آئے” ان میں سے اک نے دوسرے کو کہا اور پھر دونوں اسے بازوؤں سے پکڑتے سڑک کے اطراف اُگی جھاڑیوں کی طرف گھسیٹنا شروع کیا تھسان کی اس حرکت پہ احواد زور زور سے چیخنے لگی تھی اور شدید مزاحمت شروع کر دی تھی اس دوران اس کا بیگ روڈ پہ گر گیا تھا
وہ اسے آگے گھسیٹ رہے تھے لیکن احواد اپنا پورا زور لگا کے خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی تبھی ان کے پاس آ کر اک بائیک رکی تھی ٹائرز کی چرچراہٹ پہ احواد کے ساتھ اسے گھسیٹتے ان دونوں نے بھی نظریں گھما کے بائیک کو دیکھا تھا بائیک پہ موجود زعیم کو دیکھتے اس نے تشکر بھرا سانس خارج کیا تھا
زعیم بائیک کھڑی کرتا اس سے اترا تھا اس کی آنکھیں لال ہو چکی تھیں آج اس کی ناجانے کیسے آنکھ لگ گئی تھی جس کی وجہ سے وہ لیٹ ہو گیا تھا ابھی وہ بائیک فل سپیڈ پہ چھوڑتے یونی کی طرف جا رہا تھا جب اسے کسی کے چیخنے کی آواز اسے ایسا لگا تھا جیسے آواز احواد کی ہو لیکن اس نے خود ہی اپنی بات کی تردید کی تھی
کہ وہ یہاں کیسے ہو سکتی یونی میں ہی کھڑے ہو کر اس کا انتظار کر رہی ہو گئی پھر مسلسل چیخوں کی آواز سن کے اس نے سپیڈ اور بڑھائی تھوڑی آگے جا کر ہی اس دو آدمی اک لڑکی کو جھاڑیوں کی طرف گھسیٹتے نظر آئے احواد کی چادر کو پہچانتے زعیم کی آنکھیں بےیقینی سے پھیلی تھیں اس کی چادر وہ اچھی طرح پہچانتا تھا جو اب سر سے اتر کے کندھوں پہ ڈھلکی ہوئی تھی
زعیم خود پہ ضبط کھوتا بجلی کی رفتار سے ان تک پہنچا تھا اپنے پاس بائیک رکتے ان تینوں بھی چونک کے اسے دیکھا تھا احواد کی کندھوں پہ ڈھلکہ چادر اور آنکھوں سے نکلتے آنسو دیکھ کر زعیم کے اندر اک لاوا اگا تھا
“چھوڑو اسے” زعیم نے سرد آواز میں ان آدمیوں سے کہا تھا
“کیوں چھوڑیں بھئی تیری بہن لگتی ہے کیا؟” ان میں سے اک نے بدتمیزی سے کہا تو زعیم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اک مکا پورے زور سے اس کے ناک پہ مارا تھا اس نے چیختے ہوئے احواد کا بازو چھوڑا تھا
اک بازو آزاد ہوتے احواد نے دوسرے آدمی کے بازو میں پوری قوت سے اپنے دانت گھاڑے تھے اور اس کی گرفت ہلکی ہوتے ہی اسے دھکا دے کر وہ بھاگتی ہوئی زعیم کے سینے سے جا کر لگی تھی اور اس کے پیچھے ہاتھ باندھتے زاروقطار رونا شروع کیا تھا اس کی اس حرکت پہ زعیم اک پل کو ساکت ہوا
مگر اگلے ہی پل اسے خود سے علیحدہ کرتے آہستگی سے اس کے سر پہ چادر ٹھیک کرتے اسے اک طرف کیا تھا اور ان کی طرف متوجہ ہوا تھا جن میں سے اک بھاگتا ہوا اسی کی طرف آ رہا تھا جبکہ دوسرا ابھی تک اپنا ناک لے کر بیٹھا ہوا تھا اس نے قریب آتے مکا بنا کر زعیم کو مارنا چاہا تھا
زعیم نے اس کا مکا ہوا میں ہی روکتے دوسرے ہاتھ سے اس کے بھی ناک پہ اک پنچ رسید کیا تھا اور پھر ان دونوں کو موقع دیے بغیر ان دونوں کو ٹھوکروں کی زد میں رکھ لیا تھا وہ دونوں بمشکل اس سے جان بچا کے وہاں سے بھاگے تھے
ان کے جاتے زعیم نے آنکھیں بند کر کے دو تین گہرے سانس بھرتے خود کو ریلیکس کیا تھا اور پھر اک نظر روتی احواد پہ ڈالی تھی اسے اس پہ غصہ تو انتہائی شدید آ رہا تھا لیکن وہ یہاں اسے کچھ نہیں کہہ سکتا تھا اس لیے گھر جا کر اس کی کلاس لیتا زعیم نے تھوڑا سا آگے بڑھ اس کا بیگ روڈ سے پکڑ کے اسے تھمایا اور بائیک سٹارٹ کر کے اس کے پاس لایا تھا
“بیٹھیں” اس کے پاس بائیک کھڑی کرتے اس نے سرد لہجے میں کہا تھا احواد بھی بغیر کچھ کہے خاموشی سے بیٹھ گئی تھی اور یہ خاموشی گھر آنے تک قائم رہی تھی
گھر پہنچتے احواد تو سر جھکائے کمرے میں چلی گئی تھی جبکہ زعیم اماں اور انوشہ کے ساتھ بیٹھا تھا تھوڑی دیر ان کے پاس بیٹھنے کے بعد وہ کمرے میں آیا تو احواد بغیر چینج کیے بیڈ پہ ہی بیٹھی ہوئی تھی جبکہ آنسو اب تھم چکے تھے زعیم دروازہ بند کرتے بیڈ کی طرف بڑھا تھا
“ایسی کون سے ایمرجنسی آن پڑی تھی جو آپ نے میرا انتظار بھی نہیں کیا اور خود ہی منہ اٹھا کے نکل پڑیں یونی سے؟” اس کے پاس پہنچتے زعیم نے اس کے جھکے سر پہ نظریں جمائے سرد مہری سے پوچھا تھا مگر جواب میں وہ خاموش ہی رہی تھی
“میں کچھ پوچھ رہا ہوں” اسے بازو سے پکڑ کے اک جھٹکے سے کھڑا کرتے وہ دبے دبے لہجے میں چلایا تھا مگر اب بھی جواب دینے کی بجائے اس نے رونا شروع کر دیا تھا
“احواد میں کچھ بکواس کر رہا ہوں مجھے غصہ مت دلائیں بولیں یونی سے کیوں نکلی تھیں باہر اگر مجھے پہنچنے میں تھوڑی بھی دیر ہو جاتی تو آپ جانتی ہیں کیا ہو سکتا تھا” اس کا دوسرا بازو بھی اپنی گرفت میں لیتے زعیم نے اسے جھنجھوڑا تھا
“فائز کہتا ہے وہ مجھ سے شادی نہیں کرے گا” احواد نے روتے ہوئے کہا تو زعیم کو جھٹکا لگا تھا وہ پوچھ کچھ رہا تھا اور وہ جواب کچھ دے رہی تھی
“آپ کا دماغ تو نہیں کھسک گیا میں کیا پوچھ رہا ہوں اور آپ کیا جواب دے رہے ہیں” زعیم نے اسے آنکھیں دیکھائی تھیں
“وہ کہہ رہا تھا،،،،” اس کی بات کو نظرانداز کرتے احواد نے روتے ہوئے اپنی اور فائز کی ساری گفتگو اس کے گوش گزاری تھی
زعیم گنگ سا اسے بولتے ہوئے سن رہا تھا احواد کے بازوؤں پہ بھی اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی تھے اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اللہ نے اس کی وہ دعائیں بھی قبول کر لی ہیں جو اس نے مانگی ہی نہیں تھی کتنی ہی دیر وہ اسے دیکھتا رہا تھا
“زیادہ خوش فہم مت ہو مسٹر زعیم وہ اب بھی تمہیں نہیں چنے گی” زعیم نے خود ہی اپنا مذاق اڑایا تھا اور گہرا سانس بھرتے خود کو کمپوز کیا تھا
“اگر آپ کہیں تو میں فائز سے بات کروں؟” زعیم نے دل کڑا کے کہا تھا ورنہ تو اس کی غیرت اس کے اندر سر پٹخ رہی تھی کہ خود ہی اپنی بیوی کے لیے کسی غیر مرد کو راضی کرنے کا بول رہا تھا
“یہی سزا ہے میری اپنے ماں باپ کا دل دکھایا ہے میں نے اور ماں باپ کا دل دکھا کے کون خوش رہ سکتا ہے” احواد نے تو جیسے اس کی بات سنی ہی نہیں تھی اور رونا شروع کر دیا تھا
“احواد پلیز چپ کر جائیں اگر اس سے نہیں تو میں آپ کے بابا سائیں سے بات کرتا ہوں کوئی بھی فرضی کہانی بنا کے سنا دوں گا اور مجھے یقین ہے وہ آپ سے اپنی ناراضگی بھی ختم کر دیں گے” زعیم نے کہا تو احواد نے بس روتے ہوئے نفی میں سر ہلا دیا تھا زعیم کے پاس کچھ کہنے کو بچا ہی نہیں تھا اور نہ سمجھ آ رہا تھا کیا کرے بس بےبسی سے اسے روتا ہوا دیکھ رہا تھا
___________________________
غزل اور سلیمان کو شہر آئے تین چار دن ہو چکے تھے سلیمان اپنے سارے دوستوں کو ٹریٹ بھی دے چکا تھا آج سٹرڈے تھا اور اس نے آفس سے چھٹی لی تھی تا کہ اسے شاپنگ کروا سکے اور پھر گاؤں کے لیے نکلتے
غزل کو یہاں آ کر اپنی یہاں گزری ساری زندگی یاد آ گئی تھی اک تو اس کا دل کیا تھا کہ وہ جائے اور انہیں جا کر بتائے کہ جسے انہوں نے بوجھ سمجھ کے اتار پھینکا تھا کیسے کسی نے اسے اپنی گھر کی رانی بنایا ہوا تھا مگر اس میں دوبارہ وہی طعنے اور باتیں سننے کا حوصلہ نہیں تھا
سلیمان اسے لیے مال آیا تھا پارکنگ میں گاڑی پارک کر کے خود اتر کے اس نے غزل کے لیے دروازہ خود کھولا تھا اور اسے اپنے حصار میں لیے مال کے اندر چلا گیا تھا جبکہ وہی تھوڑی دور سڑک پہ موجود دو آنکھوں نے حیرت سے یہ منظر دیکھا تھا اور پھر تب تک وہی کھڑی رہی تھی جب تک وہ دونوں باہر نہیں آ گئے تھے
مال میں جانے کے بعد وہ دونوں کافی دیر بعد مال سے باہر نکل تھے اور دونوں کے ہاتھ شاپنگ بیگز سے بھرے تھے اور دونوں کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی انہیں دیکھتی دو آنکھوں میں رشک کے ساتھ حسرت بھی سمائی تھی
شاپنگ بیگز رکھنے کے بعد گاڑی سٹارٹ کرتے اس نے روڈ پہ ڈالی تھی اور سڑک پہ کھڑی وہ عورت بھی اک رکشہ روک کے اس میں بیٹھی تھی اور رکشے والے کو ان کا پیچھا کرنے کا کہا تھا وہ گاڑی جہاں جہاں جا رہی تھی رکشہ بھی پیچھے پیچھے جا رہا تھا
تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ اک گاؤں میں پہنچے تھے اس عورت نے حیرت سے گاؤں کو دیکھا تھا اور پھر سر جھٹکا تھا تھوڑی دیر بعد گاڑی اک حویلی کے سامنے رکی تھی اور دروازہ کھلتے ہی زن سے گاڑی اندر داخل ہو گئی تھی
وہ عورت بھی رکشے سے اتری تھی اور رشک بھری نگاہوں سے اس عالیشان حویلی کو دیکھا تھا اس رکشے والے کو وہی کھڑے رہنے کا کہہ کے وہ خود آگے بڑھی تھی اور حویلی کا دروازہ کھٹکٹایا تھا چوکیدار کے پوچھنے پہ اس نے بتایا کہ وہ غزل کی ممانی ہے
چوکیدار اسے وہی کھڑا کر کے خود اندر گیا تھا اور غزل کی ممانی کی آمد کا بتایا تھا جس پہ غزل سمیت سب چونک گئے تھے اک پل کو تو غزل ڈر گئی تھی کہ وہ یہاں کیا کرنے آئی ہیں لیکن پھر چودھری حشمت نے اسے اندر بلانے کا کہا تو اس نے خود پہ قابو پایا تھا
“غزل میری بچی” غزل کو دیکھتے ہی اس کی ممانی نے اسے خود سے لپٹایا تو غزل سمیت سب ہکا بکا رہ گئے تھے کہ غزل نے تو کہا تو وہ اچھے نہیں ہیں لیکن یہاں تو وہ والہانہ پن سے اسے گلے لگا رہی تھیں
“تُو تو شادی کر کے ماموں ممانی کو بھول ہی گئی ہے اک دفعہ نہیں پیچھے مڑ کے دیکھا” ممانی نے خفگی سے کہا تو حیرت سے غزل کی آنکھیں ابل گئی تھیں
“ایکسکیوزمی مامی جی اگر آپ کو یاد ہو تو آپ نے خود ہی نکاح کے بعد اسے دھکے مار کے میرے ساتھ بھیجا تھا اور واپس نہ آنے کا کہا تھا” غزل کو چپ دیکھ کر سلیمان بولا تھا
“ہاں تو تب مجھے کہاں پتہ تھا تُو اتنا امیر ہے اس کلموہی کو نکالنے کے چکر میں تیری گاڑی پہ دھیان نہیں دیا تھا” وہ بڑبڑائی تھیں
“بس بیٹا محلے والوں کی باتوں میں آ گئے تھے ہم” ممانی نے لہجہ دکھی بنانے کی پوری کوشش کی تھی
“تو اب کیسے نکل آئی ان کی باتوں سے؟” سلیمان نے طنزیہ لہجے میں پوچھا تھا ممانی کو غصہ تو بہت آیا لیکن خود پہ کنٹرول کیا تھا
“بس وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے آج تم دونوں کو شاپنگ مال سے نکلنے دیکھا رہا نہ گیا تو پیچھا کرتے ہوئے یہاں آ گئی ماشاءاللہ ہماری بیٹی تو یہاں راج کر رہی ہے” ممانی نے اک نظر اردگرد ڈالتے خوش آمدی لہجے میں کہا تھا اور ان کی اس نظر سے سلیمان کی الجھن بھی دور ہو گئی تھی جو کب سے ان کی آمد کی وجہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا
“ہاں جی میں سوچا مامی نے تو بچپن سے بہت ظلم کے پہاڑ توڑ لیے ہیں میں تو اسے رانیوں کی طرح رکھوں” سلیمان نے انہیں غصہ دلانے کی کوشش کی تھی اور اپنی کوشش میں کامیاب بھی رہا تھا
“ایسے بھی کون سے ظلم کے پہاڑ توڑیں اب ہم نے پالا پوسا ہے تو ڈانٹنے کا تھوڑا بہت حق تو رکھتے ہیں ہم” ممانی نے بمشکل غصہ دبایا تھا وہ دونوں بول رہے تھے باقی سب باری باری ان دونوں کی شکلیں دیکھ رہے تھے
“ہاں ڈانٹنے کا حق ذلیل کرنے کا نہیں غزل نے مجھے سب کچھ بتایا ہوا ہے اس لیے زیادہ بھولا بننے کا ناٹک مت کریں” سلیمان بغیر کسی لگی لپٹی کے بولا تھا
“او لڑکے میرے منہ مت لگ اپنی جس بیوی کو طرفداری میں اتنا بول رہا ہے جانتا کیا ہے اس کے بارے میں تجھے کیا پتہ تجھ سے پہلے یہ کتنے لڑکوں کے ساتھ منہ کالا کر چکی ہے” سلیمان کو کسی طرح بھی اپنی باتوں میں آتا نہ دیکھ کر وہ اپنی اصلیت پہ آئی تھیں غزل نے بےیقینی سے اپنی ممانی کو دیکھا تھا جو سب کے سامنے اس کے کردار کو مشکوک کر رہی تھیں ان کی گھٹیا بات پہ باقی سب نے بھی غصے سے انہیں دیکھا تھا
“بس چپ کریں مجھے اپنی بیوی کا کریکٹر سرٹیفکیٹ کسی سے نہیں چاہیے آپ سے تو بلکل بھی نہیں اس لیے اپنا رستہ ناپیے یہاں سے اور دوبارہ کھبی ادھر کا رخ بھی مت کریے گا ورنہ نتائج بہت برے ہوں گے” سلیمان نے صاف اور سیدھے لفظوں میں انہیں جانے کا کہا تھا
ممانی ان دونوں کو کوستی وہاں سے چلی گئی تھیں وہ تو یہ سوچ کہ آئی تھیں کہ وہ سب کو اپنی باتوں کے جال میں پھنسا کے ان سے جان پہچان بنا لے گی اور غزل کے ذریعے پیسے بھی بٹورتی رہیں گی لیکن یہاں تو کسی نے انہیں منہ ہی نہیں لگایا تھا
ان کی آمد سے چودھری حشمت اور چودھرائن تھوڑا مطمئن ہو گئے تھے ورنہ ان کے دل میں کہی نہ کہی یہ بات تو تھی کہ سلیمان کہی جھوٹ تو نہیں بول رہا مگر آج اس کی ممانی کی آمد سے وہ شک بھی دور ہو گیا تھا ساتھ ہی انہیں ممانی کی سوچ پہ بھی دکھ ہوا تھا جو اپنے شوہر کی سگی بھانجی پہ کیچڑ اچھالنے سے باز نہیں آئی تھیں
جاری ہے____________!!
