Tu Jaane Na by Arfa Ijaz NovelR50828 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode06
Rate this Novel
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode01 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode02 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode03 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode04 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode05 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode06 (Watching)Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode07 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode08 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode09 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode10 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode11 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode12 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode13 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode14 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode15 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode16 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode17 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode18 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode19 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode20 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode21 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode22 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartA) Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartB)
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode06
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode06
زین تھوڑی دیر ان سب کے ساتھ بیٹھ کے اٹھ گیا تھا اس کا رخ احواد کے کمرے کی طرف تھا زین اس کے کمرے میں داخل ہوا تو احواد نیچے کارپٹ پہ بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھی ہوئی تھی اس کا چہرہ اس کے گھٹنوں پہ تھا زین دروازہ بند کر کے اس کے ساتھ جا کر بیٹھ گیا تھا
“کیا ہوا ہماری چوہیا آج خاموش خاموش ہے” زین کے ساتھ بیٹھنے پہ بھی جب وہ کچھ نہ بولی تو اس نے خود ہی بات کا آغاز کیا تھا
“کچھ نہیں بس ویسے ہی” احواد نے اسی پوزیشن میں آہستگی سے جواب دیا تھا
“یہ کچھ نہیں کا لولی پاپ کسی اور کو تھمانا اچھی طرح جانتا ہوں تمہیں اب سیدھی طرح بتاؤ کیا ہوا ہے” زین نے اسے گھورتے ہوا کہا تھا
“وقاص نے کچھ کہا ہے؟” اس کے کچھ نہ بولا پہ زین نے اک اور سوال کیا تھا احواد نے گھٹنوں سے سر اٹھا کے اسے دیکھا تھا
“بھائی اک بات تو بتائیں” احواد نے اسے جواب دینے کی بجائے سوال پوچھا تو زین نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تھا
“ماں باپ بیٹی کو اتنا پیار کیوں دیتے ہیں اتنے لاڈ کیوں دیتے ہیں جب ان کے سب سے اہم فیصلے میں ہی ان کی رائے کو کوئی اہمیت نہیں دینی ہوتی کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ماں باپ بیٹیوں کا کوئی لاڈ نہ اٹھائیں کوئی ضد پوری نہ کریں نہ پڑھائیں لکھائیں کچھ بھی نہ کریں بس انہیں اپنی مرضی سے اپنا جیون ساتھی چننے کا حق دیں؟” اس کے سوال پہ زین کئی لمحے اسے دیکھتا رہا تھا
“دیکھو احواد ماں باپ جو فیصلہ ہمارے لیے کرتے ہیں اچھا ہی کرتے ہیں وہ اپنی اولاد کا برا تو نہیں نہ سوچ سکتے اور ضروری تو نہیں نہ کا کہ ہمارا پسند کیا جیون ساتھی اچھا نکلے کیا پتہ وہ جو نظر آتا ہو وہ ہو ہی نہ؟” زین نے نرمی سے اسے سمجھانا چاہا تھا
“مانتی ہوں زین بھائی لیکن یہ بھی تو ضروری نہیں نا کہ ہر بار ماں باپ کا فیصلہ بھی درست ہو کتنے ایسے کیسز ہیں جن میں ماں باپ نے اپنی مرضی سے ہی بچوں کی شادیاں کی ہوتی ہیں لیکن طلاق ہو جاتی ہے مانتی ہوں ماں باپ اپنی طرف سے بہت اچھا فیصلہ کرتے ہیں لیکن وہ غلط ثابت ہو جاتا یے نا تو کیا ماں باپ بچوں کی مرضی کو اہمیت نہیں دے سکتے؟” احواد کی سوالیہ نظریں اس پہ ٹکی تھیں
“کیا تم کسی اور کو پسند کرتی ہو؟” کچھ لمحے اسے دیکھنے کے بعد زین نے سوالیہ کیا تھا جسے پہ احواد سٹپٹائی تھی
“نہیں ایسی کوئی بات نہیں لیکن میں وقاص سے شادی نہیں کرنا چاہتی وہ مجھے بلکل نہیں پسند لیکن بابا سائیں میری شادی وہی کروائیں گے مجھے پتہ کیا لگتا ہے مین قربانی کا بکرا ہوں جیسے قربانی کے بکرے کا ذبح کرنے سے پہلے اسے خوب کھلایا پلایا جاتا ہے خوب گھمایا جاتا ہے اور آخر میں اسے ذبح کر دیتے ہیں ویسے ہی میرے بھی لاڈ اٹھائے جاتے ہیں ہر خواہش پوری کی جاتی ہے اور آخر میں میری زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ میری مرضی کے بغیر کر دیا جائے گا تو پھر کیا فرق ہوا مجھ میں اور اس بکرے میں؟” زین کے پاس اس کی باتوں کا کوئی جواب نہیں تھا اس لیے وہ چپ تھا
“بھائی پلیز آپ بابا سائیں سے بات کریں نا مجھے وقاص سے شادی نہیں کرنی” اسے چپ دیکھ کر احواد نے اس کی مِنت کی تھی
“احواد تمہیں پتہ ہے نا ہمارے خاندان میں باہر سے بیٹی لے آتے ہیں لیکن خاندان سے باہر بیٹی بھیجی نہیں جاتی ہمارے خاندان میں کوئی دور پار کا رشتے دار بھی نہیں جو تمہارے جوڑ کا ہو کہ وقاص کی بجائے تمہاری شادی اس سے کر دی جائے اور اگر ہوتا تب بھی بابا سائیں اپنے بھتیجے کو چھوڑ کے کسی غیر کو نہ چنتے اس لیے تم خود کو یوں ہلکان مت کرو اور جو بابا سائیں چاہتے ہیں اسے قبول کر لو” زین نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھتے کہا تھا وہ خود مجبور تھا اسے پتہ تھا اگر وہ حشمت صاحب سے کہے گا تب بھی انہوں نے اس کی بات نہیں ماننی تھی
“یہی امید تھی مجھے آپ سے لیکن جو مرضی ہو جائے میں بھی وقاص سے شادی نہیں کروں گی” احواد نے اک طنزیا مسکراہٹ اس کی طرف اچھالی تھی
“احواد کچھ بھی ایسا مت کرنا جس سے بابا سائیں یا ہمارا سر جھکے” زین نے اس تنبیہ کی تھی احواد نے کچھ کہنے کی بجائے سر دوبارہ گھٹنوں پہ رکھ لیا تھا جس کا مطلب تھا وہ کوئی بات نہیں کرنی چاہتی زین چند لمحے اسے دیکھنے کے بعد وہاں سے چلا گیا تھا
اس کے جاتے ہی احواد نے سر اٹھا کے دروازے کو گھورا تھا چند ثانیے دروازے کو گھورنے کے بعد اس کی آنکھوں میں آنسو جمع ہونے شروع ہو گئے تھے جس کے باعث دروازہ دھندلا گیا تھا اس نے واپس منہ گھٹنوں میں دیا تھا اور رونا شروع کر دیا تھا
“کاش مجھے زندگی میں کچھ نہ ملا ہوتا بس اپنا من پسند جیون ساتھی چننے کا حق مل جاتا” اس نے روتے ہوئے سوچا تھا
ہم انسان بہت ناشکرے ہوتے ہیں جو چیز پاس ہوتی ہے اس کی ہم نے کھبی قدر نہیں کی بس یہی کہتے کاش وہ مل جاتا، کاش ایسا ہو جاتا، کاش ویسا ہو جاتا ہماری جتنے مرضی خواہشات پوری ہو جائیں لیکن کوئی نا کوئی کاش رہ ہی جاتا ہے
________________________________
زعیم رات کی بجائے آج شام کو ہی گھر آ گیا تھا وہ گھر آیا تو اماں نماز پڑھ رہی تھیں اور انوشہ چارپائی پہ بیٹھی ہوئی تھی اور سامنے فون پڑا تھا انوشہ اپنی رانوں پہ دونوں کہنیاں ٹکائے اسے دیکھ رہی تھی
زعیم حیرانگی سے آگے بڑھا تو موبائل کی ٹوٹی سکرین کو دیکھ کر اسے معاملہ سمجھ آیا تھا یقیناً وہ موبائل کے ٹوٹنے پہ افسردہ ہو رہی تھی زعیم نفی میں سر ہلا کے اس کے پاس جا کر بیٹھا تو انوشہ نے نظریں اٹھا کے اسے دیکھا تھا
“میرا بچہ موبائل ٹوٹنے کی وجہ سے اداس بیٹھا ہوا ہے؟” زعیم نے پیار سے پوچھا تو انوشہ نے اثبات میں سر ہلایا تھا
“چلو خیر ہے کچھ نہیں ہوتا ہم نیا لے لیں گے” زعیم نے اس کا سر تھپتھپایا تھا
“نہیں آپ نے مجھے گفٹ کیا تھا اور میں گفٹ کی حفاظت نہیں کر سکی ٹوٹ گیا مجھ سے” انوشہ نے افسردگی سے کہا تھا
“کوئی بات نہیں میرا بچہ نیا آ جائے گا” زعیم نے اس کی اداسی کرنی چاہی تھی
زعیم نے کچھ سیونگز کر کے اسے موبائل لے کر دیا تھا جب اس نے کالج جانا سٹارٹ کیا تھا انوشہ نے خود سے نہیں مانگا تھا لیکن زعیم سمجھ سکتا تھا کہ پڑھائی سے ریلیٹیڈ اسے کچھ نہ کچھ مواد چاہیے ہو گا اس لیے اس نے اسے موبائل گفٹ کیا تھا
“یہ گفٹ تھا بھائی وہ بھی آپ کا اور آپ نے درختوں سے پیسے تھوڑی توڑنے ہیں جو میں اتنی فضول خرچی کروں” انوشہ نے منہ بسورتے کہا تھا
“اب میں اتنا کنگلا بھی نہیں کہ بیس تیس ہزار کا فون بھی نہ لے کے دے سکوں” زعیم نے اسے گھورا تھا
“نہیں بھائی میں ایسا بھی نہیں کہا بس وہ،،،،” جب کچھ بن نہ سکا تو اس نے بات ادھوری چھوڑ دی تھی
“اچھا یہ بتاؤ موبائل گرا کہاں ہے؟ جو اتنی بری حالت ہو گئی ہے اس کی” زعیم نے موبائل کو الٹ پلٹ کے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
“وہ بھائی سچ بتا دوں ناراض تو نہیں ہوں گے؟” اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تو زعیم نے نفی میں سر ہلایا تھا اس ی طرف سے اطمینان حاصل کر کے اس نے زین سے ٹکرانے والا سارا واقعہ اس کے گوش گزارا تھا جو بھی ہا بہرحال وہ زعیم سے کچھ بھی نہیں چھپا سکتی تھی
“بری بات بیٹا تم نے بدتمیزی کیوں کی؟” زعیم نے ناراضگی سے اسے دیکھا تھا
“بھائی مجھے تھوڑی پتہ تھا کہ وہ چوہدری جی کے بیٹے ہیں اور ویسے بھی میں اس لیے وہ سب کہا تھا کہی اکیلی لڑکی کو دیکھ کر ہراساں کرنے کی کوشش نہ کرے اور وہ چوہدری جی کے بیٹے کے علاوہ بھی تو کوئی ہو سکتا تھا نا” اس نے کہا تو زعیم مسکرایا تھا
“واہ میرا بچہ تو بڑا سیانا ہو گیا ہے” زعیم نے اس کا سر تھپتھپاتے کہا تو انوشہ نے فرضی کالر جھاڑے تھے
“یہ کیا بھائی کب سے آیا ہوا ہے اور تم نے اسے پانی بھی نہیں پوچھا اور لے کے بیٹھ گی اس موئے کی داستان سنانے میں تو کہتی ہوں اچھا ہی ہوا ہے جو ٹوٹ گیا ہے تُو بھی سارا دن اسی میں لگی رہتی تھی” اماں نماز پڑھ کے آئیں تو انوشہ کو ہاتھ میں موبائل لیے دیکھ کر تپی تھیں
“ارے اماں بس جا رہی تھی آہ” وہ تیزی سے اٹھی تھی لیکن سر میں اٹھتی درد کی شدید کی لہر کی وجہ سے وہ واپس بیٹھ گئی تھی
کافی دنوں سے انوشہ کے ساتھ ایسا ہو رہا تھا کہ اس کے سر میں شدید درد اٹھ رہا تھا اکثر اسے بہت کمزوری فیل ہوتی لگتا تھا ہاتھ پاؤں میں جان ہی نہ ہو اس لیے دن میں اک پینا ڈول بھی لازمی کھاتی لیکن اس نے گھر نہیں بتایا تھا کیونکہ اماں اور زعیم بہت جلدی اس کے لیے پریشان ہو جاتے تھے
“کیا ہوا طبیعت ٹھیک ہے؟” زعیم نے پریشانی سے پوچھا تھا اماں بھی اس کے قریب بیٹھ کے اس کے زرد چہرے کو پریشانی سے دیکھ رہی تھیں
“کچھ نہیں بس سر میں تھوڑا درد ہے” اس نے مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے انہیں تسلی دینی چاہی تھی
“یہ تھوڑا سا درد ہے؟ چہرہ دیکھو اپنا کیسے زرد ہو رہا ہے اس دن چکر آیا تھا آج سر درد اگر تھوڑا بہت ہو تو چہرہ اتنا زرد نہیں ہوتا جتنا تمہارا ہوا ہے کل کالج جانے کی ضرورت نہیں ہے میں تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے کے چلوں گا بہت لاپرواہ ہو تم” زعیم نے اسے ڈپٹا تھا اس کی اتنی فکرمندی پہ انوشہ اور اماں دونوں مسکرائی تھیں
پھر زعیم نے اسے خود اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلانے کے بعد اسے سر درد کی گولی دی تھی اور اس کے منع کرنے کے باوجود وہ اس کا سر دباتا رہا تھا جب تک وہ سو نہیں گئی تھی اس کے سونے کے بعد اس کی پیشانی چوم کے وہ اس کے کمرے سے نکل آیا تھا
اگر آپ سے کوئی اک رشتہ چھن جائے تو آپ اپنے باقی رشتوں کے لیے بہت پوزیسو ہو جاتے ہیں اور زعیم کی بھی کچھ یہی حالت تھی ابا کی وفات کے بعد اماں اور انوشہ کی زرا سی بھی طبعیت خراب ہو جائے تو اس کی جان پہ بن آتی تھی کیونکہ وہ کوئی اور رشتہ کھونے کا حوصلہ نہیں رکھتا تھا
___________________________
ان دونوں بھائیوں نے اکھٹے ہی شہر کے لیے نکلنا تھا اس کی تیاری کر رہے تھے دونوں سلیمان چوہدری کی پیکنگ غزل نے کر دی تھی وہ ابھی نہا کے نکلا تھا اور اب آئینے کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا اور غزل اسے دیکھنے میں مصروف تھی
“آپ جا رہے ہیں؟” غزل کے بےتکے سوال پہ سلیمان کا بالوں میں برش چلاتا ہاتھ رکا تھا اور اس نے نظر اٹھا کے غزل کو دیکھا تھا جو اپنے ہاتھوں سے کھیل رہی تھی
“اگر آپ کہتی ہیں تو نہیں جاتا” اس کے چہرے پہ نظریں جمائے سلیمان نے کہا تھا
“نہیں میں نے ایسا بھی نہیں کہا” غزل نے جھٹ سے کہا تھا
ان دو چار دنوں میں غزل زیادہ تو نہیں لیکن تھوڑی بہت سلیمان کے ساتھ بےتکلف ہو گئی تھی اب اس کے جانے کے بعد یہاں اکیلے رہنے میں اس کا دل گھبرا رہا تھا کہ شاید سلیمان کے جانے کے بعد گھر والوں کا رویہ اس کے ساتھ بدل نہ جائے
“تو پھر کیسی بات ہے؟” برش رکھ کے وہ اس کی طرف مڑا تھا
“کوئی بھی نہیں ہے” اس نے تھوڑا جھنجھلاتے ہوئے کہا تھا
“آپ کچھ بھی فضول مت سوچیں مجھے یا میرے گھر والوں کو لے کر اگر آپ میرے ساتھ جانا چاہتی ہیں تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں میں لے جاتا ہوں لیکن یہاں اماں سائیں، بابا سائیں اور احواد ہیں لیکن وہاں آپ کو اکیلا رہنا پڑے گا کیونکہ میں تو پورا دن آفس ہوتا ہوں” سلیمان کچھ کچھ اس کی الجھن سمجھ رہا تھا اس لیے اس نے نرمی سے اسے سمجھایا تھا جس پہ غزل نے سر ہلایا تھا
ریڈی ہونے کے بعد سلیمان بیگ اٹھا کے باہر آیا تھا اور اس کے پیچھے غزل بھی تھی وہ باہر آئے تو زین اور باقی گھر والے بھی کھڑے تھے شاید اسی کا انتظار کر رہے تھے
“ویسے بھائی کچھ زیادہ ہی ٹائم نہیں لگا دیا آپ نے تیار ہونے میں” زین نے شرارتی نظروں سے دونوں کو دیکھتے کہا تھا جس پہ سلیمان نے اسے گھوری سے نوازا تھا جبکہ غزل شرما گئی تھی
“بکواس مت اور جب تیری ہو گی تو دیکھنا تیرا تق واپس شہر جانے کا دل ہی نہیں کرے گا” سلیمان نے آہستگی سے اس کے پاس جھکتے کہا تھا زین کے ذہن کے پردے پہ دونوں ہاتھ منہ پہ رکھے بےیقینی سے پھیلی آنکھوں والی لڑکی کا عکس آیا تھا لیکن پھر لاحول پڑھتے اس نے سر جھٹکا تھا
“جب میری باری آئے گی تب کی تب دیکھی جائے گی” زین نے بھی آہستگی سے ہی جواب دیا تھا
“یہ کیا گھسر پھسر کر رہے ہو تم دونوں؟” حشمت صاحب کے پوچھنے پہ دونوں جھٹ سیدھے ہوئے تھے پھر سب سے ملے تھے
“احواد بابا سائیں سے کوئی الٹی سیدھی بات مت کرنا میں نیکسٹ ٹائم آؤں گا تو خود ان سے بات کروں گا” احواد سے ملتے زین نے اس کے کان میں سرگوشی کی تھی
اسے پکا یقین تھا کہ احواد ضرور حشمت صاحب کے سامنے کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑے گی اس لیے اس نے پہلے ہی اسے خبردار کیا تھا احواد نے زین کو دیکھتے بس سر ہلایا تھا لیکن اس کا زین کی بات ماننے کا کوئی ارادہ نہیں تھا
پھر سب سے ملتے وہ دونوں چلے گئے تھے اور وہ سب بھی واپس حویلی کے اندر آ گئے تھے وہ ابھی آ کر بیٹھے ہی تھے کہ زعیم وہاں آیا تھا وہ حویلی کے اندر بہت کم آتا تھا بس کوئی کام ہوا تو آ گیا یہ بات سب کو پتہ تھی اس لیے سب کی نظریں اس کی طرف اٹھی تھیں
“سائیں میری جگہ کام کوئی اور سنبھال لے گا جو جو ضروری کام تھا وہ میں نپٹا دیا ہے میری بہن کی طبعیت خراب ہے اس لیے مجھے اسے لے کر ہاسپٹل جانا ہے یہی بتانے آیا ہوں آپ کو” زعیم نے اپنے آنے کی وجہ بتائی تھی
“بابا سائیں مجھے شاپنگ کے لیے جانا ہے کافی عرصہ ہو گیا ہے نہیں گئی اور کچھ کتابیں بھی چاہیے اس لیے شہر جانا ہے” چوہدری صاحب کے کچھ بولنے سے پہلے احواد بول اٹھی تھی
اسے زعیم کو نیچا دیکھانے کا موقع چاہیے ہوتا تھا اور وہ ایسا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی تھی جس میں اسے نیچا دیکھانے کا چانس ہو اب بھی اس نے جان بوجھ کے شاپنگ کا نام لیا تھا
“پتر تم کل جانی ابھی زعیم نے اپنی بہن کے ساتھ ہسپتال جانا ہے” چوہدری حشمت نے نرمی سے کہا تھا جبکہ زعیم نے غصے اور ضبط سے مٹھیاں بھینچی تھیں
“مجھے آج جانا ہے تو آج ہی جانا ہے کیونکہ کل میں یونی جانا ہے آج بھی نہیں گئی اب میں روز چھٹیاں کرنے سے تو رہی” اس کا لہجہ ضد سے بھرپور تھا
“زعیم پتر تم احواد کو،،،، ” چوہدری صاحب نے کچھ کہنا چاہا تھا
“گستاخی معاف سائیں لیکن میں احواد بی بی کو لے کر نہیں جا سکتا آپ کسی اور ڈرائیور کو بھیج دیں ساتھ مجھے اپنی بہن کو ہاسپٹل لے کر جانا ہے” ان کی بات کاٹتے وہ دو ٹوک لہجے میں بولا تھا
“پتر سن تو لو تم دونوں کو لے جاؤ بٹیا کو ڈاکٹر کو دیکھا دینا اور احواد بھی شاپنگ کر آئے گی کیونکہ جانا تو تمہیں شہر ہی ہے” چوہدری حشمت نے نرمی سے کہا تھا
“آپ ان سے کہیں تیار ہو جائیں تب تک میں اپنی بہن کو لے آتا ہوں” زعیم کے لیے ان کی بات ٹالنا مشکل تھا اس لیے انہیں کہہ کے وہ سرخ چہرہ لیے وہاں سے چلا گیا تھا
احواد کو تھوڑا افسوس ہوا تھا کہ وہ اپنی پوری بات نہیں منوا سکی لیکن پھر بھی اپنی آدھی بات منوا کے بھی وہ اسے نیچا دیکھا چکی تھی کیونکہ انکار کرنے کے باوجود وہ اسے ساتھ لے کر جائے گا وہ بھی مسکراتی ہوئی اپنے کمرے میں بیگ اور چادر اور بیگ لینے چلی گئی تھی
_____________________________
زعیم نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہارن دیا تھا تا کہ احواد باہر آ جائے جتنا اس پہ غصہ تھا وہ خود تو کھبی بھی اسے بلانے نہیں جاتا ہارن کی آواز سن کے احواد باہر آئی تھی ڈرائیو وے پہ آتے گاڑی کا دروازہ کھول کے اندر بیٹھی تھی
وہاں پہلے ہی زعیم کے ساتھ گھبرائی ہوئی انوشہ بیٹھی تھی اس نے زعیم کو کہا تھا کہ وہ پھر کھبی چلے جائیں گے لیکن زعیم اسے زبردستی لے آیا تھا اسے پتہ تھا احواد فرنٹ سیٹ پہ بیٹھے گی نہیں اور انوشہ بیک سیٹ پہ اس کے ساتھ نہیں بیٹھے گی اس لیے اس کے انوشہ کو فرنٹ سیٹ پہ بیٹھا لیا تھا
احواد کے بیٹھتے ہی زعیم نے گاڑی سٹارٹ کرتے گیٹ سے نکالی تھی سارے رستے گاڑی میں خاموشی چھائی رہی تھی احواد اور انوشہ ونڈو سے باہر دیکھتی رہی تھیں اور زعیم کی نظریں سڑک پہ جمی تھیں
یہ پہلا سفر تھا جس میں انوشہ خاموش تھی ورنہ وہ جہاں بھی زعیم کے ساتھ جاتی تھی پورا رستہ اس کا سر دماغ چاٹتی رہتی تھی اور اب خاموشی سے بیٹھی ہوئی تھی زعیم نے مسکرا کے انوشہ کو دیکھا تھا
اور اسی وقت احواد نے بھی نظریں گھما کے گاڑی کے اندر کا جائزہ لیا تھا اور زعیم کو مسکراتے دیکھ کر اس کی آنکھیں بڑی ہوئی تھیں اس نے آج تک کھبی زعیم کو مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ہمیشہ ہی وہ سنجیدہ رہتا تھا اور احواد کو دیکھ کر اس کی تیوری چڑھ جاتی تھی
پھر جلد ہی اپنی حیرت پہ قابو پاتے اس نے نظریں دوبارہ ونڈو سکرین پہ جما دی تھیں تھوڑی دیر بعد گاڑی جھٹکے سے رکی تو انوشہ اور احواد نے نظریں اٹھا کے اسے دیکھا تھا اور سامنے ہاسپٹل کی بلڈنگ کو دیکھ کر احواد کا پارہ ہائی ہوا تھا
“یہاں شاپنگ کی جاتی ہے؟” احواد نے دانت پیستے ہوئے کہا تھا
“اگر آپ کو یاد ہو تو مجھے ہاسپٹل آنا تھا اور آپ زبردستی ساتھ ٹپک پڑھی ہیں اس لیے ہم جس کام کے لیے آئے تھے وہی کریں گے آپ نے گاڑی میں ویٹ کرنا ہے یا اندر جانا ہے یہ آپ کی مرضی ہے” زعیم نے کہا اور گاڑی سے اتر گیا اور ساتھ انوشہ بھی جبکہ وہ بھی دانت پیستے ہوئے باہر نکلی تھی اس کا کون سا دماغ خراب تھا جو وہ گرمی میں بیٹھتی اس لیے وہ بھی ساتھ اندر چلی گئی تھی
ان کی باری آنے میں تھوڑا ٹائم لگا تھا
انوشہ نے ڈاکٹر کو سب ڈیٹیل سے بتایا تھا جو کچھ دنوں سے اس کے ساتھ ہو رہا تھا مثلاً شدید ار درد، کمزوری، قے کا آنا، کسی کسی ٹائم لنگڑا کے چلنا ان سب کے دوران زعیم بس اسے گھورتا رہا تھا وہ اسے زبردستی لے کر آیا تھا گھر وہ بس معمولی سر درد کا کہہ رہی تھی اور اب ناجانے کیا کیا کہہ رہی تھی وہ گھر جا کر اس کی کلاس لینے کا ارادہ رکھتا تھا
اس کا مکمل چیک اپ کرنے کے بعد ڈاکٹر نے کچھ ٹیسٹ لکھ کے دیے تھے اور پھر ان کی ریپورٹس لانے کا کہا تھا پرسکریپشن لے کر وہ لیبارٹری چلا گیا تھا ٹیسٹ کروائے تو انہوں نے ریپورٹس دو گھنٹے بعد ملنے کا کہا تھا
اس لے بعد پھر زعیم احواد کو شاپنگ کے لیے لے گیا تھا اس کے شاپنگ کرنے تک ریپورٹس آ جائیں گی احواد نے انہیں شاپنگ کے دوران اچھا خاصا تپایا تھا کھبی اک دکان میں تو کھبی دوسری دکان میں زعیم اسے اکیلا چھوڑ کے بھی نہیں جا سکتا تھا آخر چوہدری صاحب نے اسے اس کے ساتھ بھیجا تھا
زعیم نے انوشہ کو بھی شاپنگ کروائی تھی جس نے بس تھوڑی سی جیولری اور اک ناول خریدا تھا اللہ اللہ کر کے اڑھائی گھنٹے بعد اس جی شاپنگ ختم ہوئی تو زعیم نے دوبارہ ہاسپٹل کی طرف گاڑی موڑی تھی
ہاسپٹل آ کر ان دونوں کو وزٹنگ ایریا مین بیٹھا کے خود رپورٹس لینے چلا گیا تھا رپورٹس لے کر وہ ڈاکٹر کے کیبن میں گیا تھا اور فائل انہیں تھمائی تھی ڈاکٹر نے فائل پڑھنے کے بعد ٹیبل پہ رکھی تھی اور زعیم کی طرف متوجہ ہوئے تھا
“آپ کی سسٹر کی بتائی گئی وجوہات کی بنا پہ میں یہ ٹیسٹ کروایا تھا اور جو میں سوچ رہا تھا وہی نکلا” ڈاکٹر کی بات پہ زعیم نے الجھ کے اسے دیکھا تھا
“کیا مطلب میں کچھ سمجھا نہیں” زعیم نے کہا تھا
“دیکھیں مسٹر زعیم آپ کی بہن کو برین ٹیومر ہے” ڈاکٹر کی اطلاع اس پہ بمب بن کے گری تھی زعیم نے پھٹی پھٹی نظروں سے ڈاکٹر کو دیکھا تھا
جاری ہے_________________!!
