718.6K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Junoon Episode 9

Tera Junoon by Laiba Khan

مجھے مووی نہیُ دیکھنی

سامنے بورنگ سی لگی مووی کو وہ دیکھ کر اسے منہ بنا کر بولتی ہے

کیا دیکھنا ہے

وہ رلیکس انداز میں بیٹھا تھا اسے اپنے نظروں کے حصار میں لے کر سوال کرتا ہے

کارٹون

وہ بلکل فرینک انداز بولتی ہے نہ کوئی شرمندگی نہ کچھ

یہ اعتماد اسی کا دیا تھا

شک کے دائرہ میں تھی وہ مگر اسکا اس قدر پختا یقین وہ اسے دل میں گھر کر گیا تھا

اوکے کون سے

وہ مووی بند کر کے پوچھتا ہے

امممم ڈوریمون وہ اندر دیکھیں میں تھک گئی یہان نہیُ بیٹھنا

ہمم آ جاؤ

وہ لیپ ٹوپ بند کر کے رکھتا کھرا ہو کر ہاتھ تھامتا اندر برھ جاتا ہے

——————

ضرار اس وقت آفس میں موجود تھا وہ صبح جلدی جاتا تھا اور روح کے اٹھنے سے پہلے واپس آجاتا تھا

وہ اسکی طرف سے ایک لمحہ بھی غافل نہیُ رہتا تھا

ایک ہفتہ ہو گیا تھا اب وہ کافی بہتر تھی

دوپہر کے دو بج گئے تھے وہ جانتا تھا وہ جاگ گئی ہوگی

وہ فجر پرھ کر سو جاتی تھی تو بارہ یا ایک اٹھتی تھی

وہ صبح آٹھ بجے آفس جا کر ایک یا دو ہی واپس آتا تھا

آج بھی وہ اسی وقت لوٹتا ہے

دروازہ کھول کر اندر بڑھتا وہ سامنے ہی اسے نماز ادا کرتے دیکھ کر وہیں سے سیدھا وضو کرنے چلا جاتا ہے

روح کمرہ میں نماز ادا کر رہی تھی

اور ضرار سٹڈی میں وہ نماز وہیں پرھتا تھا ہمیشہ

سٹڈی کی واش روم سے شلوار قمیض پہن کر سر پر سفید ٹوپی کیے وہ جائے نماز بچا کر نیت باندھتا ہے

اس کی چہرے پر بہت سکون تھا جو ہمیشہ نماز ادا کرتے وقت ہوتا تھا

———————-

ضر ایم یور لٹل برڈ نہ پلیز ضر

روح کب سے ضرار کو منا رہی تھی

ان کا باہر جانے کا پلین بنا تھا اور وہ اسے اپنے بغیر کہیں جانے ہی نہیُ دیتا تھا اس نے صاف انکار کر دیا تھا اور باہر جانے پر بھی منا کر دیا تھا

اب وہ ایک گھنٹہ سے اس روم میں خود کو قیدی تصور کرتی کب سے اسے منا رہی تھی

اب وہ لاڈیاں کرنے پر آئی تھی

مائے لٹل برڈ اسی لئے تو نہیُ جانے دے رہا ٹرائے ٹو انڈر سٹینڈ

وہ اسکا ہاتھ تھام کر بیڈُ پر بٹھاتا خود گھٹنون پہ بیٹھ کر اسکے سینڈل کے سٹرپس بند کرتا اسے دوبارہ نرمی سے جواب دیتا ہے

وہ منہ پھلا کر چہرہ موڑ لیتی ہے

روح یار یہ نہ کرو تم دوسرے شہر جانے کی بات کر رہی ہو اگر اتنا ہی ضروری ہے میرے لٹل برڈ کا جانا تو میں لے کر چلو گا مگر اکیلے کبھی بھی نہیُ بھیجو گا

وہ کھرا ہو کر آسان حل نکالتا ہے

وہ ہونک بنی اسے دیکھتی ہے

اگلے لمحےمنہ پھلا کر نیچے بھاگ جاتی ہے

وہ اسکی حرکت پر مسکرا دیتا ہے

————

آگیا ضرار کا چھوٹا بچہ

سائرہ اسے چھیر کر اپنے پاس بٹھاتی ہے

وہ پاس پرا کشن اٹھا کر اسکی دھلائی شروع کر دیتی ئے

یار کیا ہوا نئی ملی کیا پرمیشن

سائرہ کشن پکر کر اسے ٹھنڈا کرتی سوال کرتی ہے

نہیُ کہتے ساتھ جاؤنگا

منہ بنا کر وہ کیوٹ سا فیس بناتی ہے

افف کس قدر لاڈلی ہو نہ تم اس کی

نشاء اس کے چھوٹے چاچو کی بیٹی حسد کرتی کہتی ہے

وہ اسکا لہجہ نئی نوٹ کر پاتے

لاڈلی

وہ انکھیں چھوٹی کر کے سوال کرتی ئے

ہمم ایک بچہ کی طرح ٹریٹ کرتا ہے کیوں

اس کا جواب روح دیتی مگر پیچھے سے ہی اسے جواب مل جاتا ہے

کیونکہ وہ مجھ سے لاڈ کرتی ہے اینڈ یس شی از مائے لٹل بے بی

وہ جیکٹ روح کی گود میں رکھ کر اسے پہننے کا اشارہ کرتا اسے جواب دیتا ہے لہجہ سخت تھا جو کسی سے بھی بات کرتے وقت ہوتا تھا سوائے روح کے

وہ ایک خونخوار نظر روح پر ڈالتی کمرے میں بند ہو جاتی ہے

سائرہ بھی واک اؤٹ کر جاتی ئے اسے اب اؤر ڈر لگتا تھا ضرار سے

روح

وہ اسے گھور کر خود جیکٹ پہناتا ہے

میں آپکی لاڈلی ہوں

وہ معصومیت سے پوچھتی ہے

جی میری عزیزِ جان

وہ اسے گال پر تھپکی دیتا اسکا ہاتھ تھام کر اوپر برھ جاتا ہے

————

اب اپ نے پرمیشن دے دی نہ

وہ اوپر اسکا ہاتھ تھام کر اتی رک کر اسکے سامنے ہو کر پوچھتی ہے

یس بٹ تم میرے ساتھ جاؤگی اوکے اور ڈیٹ نیکسٹ ویک کی کرا دی ہے میں نے سب ایک ہی دن نکلیں گی

وہ نرم سے لہجے میں اسے سمجھاتا ہے

اسے خود بھی سمجھ نہیُ آتا تھا آخر وہ اسے بات کرتا اس قدر نرم کیوں پر جاتا تھا

ضر مجھے ماما سے ملنے جانا ہے کیا اپ لے جاؤگے

کل سے اسکا اپنی امی سے ملنے کا دل کر رہا تھا

جس کے ساتھ انسان زندگی گزارے ہر لمحہ ساتھ رہے ان کی بغیر رہنا کس قدر مشکل ہوتا ہے

اور وہ تو صرف فون پر ہی بات کر پاتی تھی

پہلے تو وہ اپنے بھائی کی وجہ سے نہیُ جاتی تھی

مگر جانتی تھی وہ اپنی ماں کو بھی ساتھ سزا دے رہی تھی

اس لیے وہ آج جانآ چاہتی تھی

وہ انکار کرنا چاہتا تھا مگر اسکا معصوم چہرہ دیکھ ہامی بھر لیتا ہے

—————-

وہ اپنی والدہ کے ساتھ بیٹھی تھی اسے آئے دو گھنٹے ہو چکے تھے

ضرار خود اسے چھور کر گیا تھا

اور کتنی بار اسے اپنا خیال رکھنا کا کہا تھا

اب بھی وہ دو بار کال کر چکا تھا

وہ اسکی فکر پر ہنس دی تھی

میری جان وہ کیسا ہے

اس کی والدہ چائے کاُکپ رکھتی ہوئی پاس بیٹھ کر پوچھتی ہیں

امی وہ بہتتتتتتت اچھے ہیں

مجھے بلکل بھی اپنا خیال رکھنے کی ضرورت نئی پرتی پتا ہے کیوں کیونکہ ضر رکھتے ہیں اپ کو پتا ہے وہ اتنے اچھے ہیں کہ الفاظ نہیُ ہیں پتا نہیُ وہ ان سب سے دور کیوں رہتے ہیں مجھے لگا تھا میری ساتھ بھی ویسے رہیں گے مگر میری ہر سوچ غلط ہو گئی وہ اس قدر میرے ساتھ نرم رویہ رکھتے ہیں جیسے تھورا ہارش ہوا تو میں ٹوٹ جاؤنگی

وہ ضرار کو سوچتی ہوئی کھوئی ہوئے سے لہجہ میں بولتی جاتی ہیں

اس کی امی اس کی اتنی تعریفوں پر ہنس دیتی ہیں

ان کی پھلی بیٹی کو محبت ہو گئی تھی

اور اس قدر چاہنے والا اگر شوہر ہو تو بیوی کو محبت نہیُ عشق ہوتا ئے

اچھا وہ امی بھائی کہاں ہے کیا کر رہا ہے

اس کا بھائی گھر موجود نہیُ تھا اس لئے وہ ان سے سوال کرتی ہے

کچھ نہیُ گھر ہی ہوتا ہے کسی کام سےگیا ہے

چائے کا گھونٹ بھر کر وہ جواب دیتی ہیں

اچھا ہم ہفتے تک سب گھومنے جا رہے

وہ خوش ہو کر بتاتی ئے

اور پتا ہےُمجھے ضر نہیُ جانے دے رہے تھے اتنی مشکل سے منایا تو کیسے کہتے ساتھ جاؤنگا

وہ کسی بچے کی طرح اپنی امی کو سب بتا رہی تھی

جیسے بچہ سکول سے آتا ہے تو ہر چیز جو جو ہوا وہ بتاتا ہے

ضر

وہ اسے کب سے ضر کہتی سن چکی تھی

اجنبھے سے سوال کرتی ہیں

ضرار

وہ ہنس کر کہتی ہے

اوہ تو ضر کیوں کہ رہی بچہ کا نام ضرار ہے تو

وہ مما بس عادت

وہ کندھے اچکا کر سادگی سے جواب دیتی کے

وہ دل سے خوش ہوئیں تھی اپنی بیٹی کو دیکھ کر کہ وہ کس قدر خوش ئے انہیں اور کیا چاہئے تھا

تبھی اس کا فون تنگ کرتا ہے

جہاں ٹیڈئ بیئر سے نمبر سیو تھا وہ جگمگا رہا تھا

جی

کال اٹھاتے ہی وہ پوچھتی ئے

میں باہر ہوں روح اجاؤ یار

وہ بے چین سے لہجہ میں کہتا ہے

اپ اندر آؤ

وہ اپنی امی کا اشارہ سمجھ کر کہتی ہے

نہیُ یار روح

وہ کار سے ٹیک لگا کر کھرا ہوتا ہے

بلیک سوٹ پہنے وہ آج ہٹ کر ہینڈسم لگ رہا تھا

اوپر سے دھوپ وہ بہت سے دل دھڑکا گیا تھا

مما کہ رہیں ضر

اسکی امی اسے یہی کہنے کا کہتی ہے جو وہ دہراتی ہے

وہ فون رکھ کر دروازہ نوک کرتا ہے

جو روح ہی کھولتی ہے

اس نے بھی اتفاق سے بلیک ہی فراق اور ساتھ بلیک ٹراؤزر اوپر بلیک حجاب کیے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی

کیسے ہو بیٹا

روح کی والدہ اسے بیٹھنے کا کہ کر روح کو کچھ لانے کا اشارہ کر کے پوچھتی ئیں

الحمد اللہ

وہ سادہ سے لہجہ میں جواب تھا ہے

بیٹا جانتی ہوں جن حالات میں شادی ہوئی ہے اور روح کس قدر خوش ہے یہ بھی دیکھ چکی ہوں

میں چاہتی ہوں ایک فنکشن کر دیا جائے جس سے سب کو اس بات کا علم ہو جائے

میں رسیپشن کا سوچ چکا ہوں ان شاء اللہ وہ اسی مہینہ ہوگا

وہ خود بھی چاہتا تھا تاکہ کوئی بھی اس کی روح سے کوئی سوال نہ کرے کل ہی اس نے نشاء کو روح سے عجیب۔ سے سوال کرتے دیکھا تھا

یہ اچھا ہے بیٹا

وہ مسکرا کر جواب دیتی ہیں

اللہ نے انکی بیٹی کا نصیب بہت اچھا لکھا تھا یہ اس شخص کو دیکھ کر وہ مان چکی تھیں

ورنہ انہیں ڈر تھا جب سے اس نکاح کا پتا لگا تھا ور اس کا ضرار کا رویہ وہ بہت ڈر گئی تھیں مگر آج انہیں بہت سکون ملا تھا اور ضرار سے بات کر کے اطمینان بھی ہوا تھا

————————

ضر پلیز کار روکیں

وہ ہاتھ ہلا کر اسے روکتی ہے ابھی انہیں نکلی پانچ منٹ ہی ہوئے تھے

کیا ہوا روح

کار روک کر وہ پریشانی سے پوچھتا ئے

وہ مجھے وہان سے چیزیں لینے ہیں

وہ سامنے سٹور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولتی ئے

کیا لینا ئے روح

وہ مڑ کر وہان دیکھ کر رخ مور کر اسے دیکھتا ہوا پوچتھا ئے

چاکلیٹس

وہ مزے سے کہتی ئے

اوکے

وہ مسکرا کر کار سٹارٹ کرتا سامنے سٹور کے روکتا ہے

وہ ایک برا سا سپر سٹور تھا

وہ کار سے نکل کر اسکی طرف آتا دروازہ کھولتا ہے

وہ باہر نکل کر اسکے ساتھ اندر برھتی ئے

——————-

وہاں ہر چیز موجود تھی

ایک جگہ ٹیڈئ بیئرز بھی پرے تھے

ضرار نے پبلک میں بھی اس کا آ ہاتھ پکرا ہوا

تھا

جیسے اسکی کھو جانے کا ڈر ہو

ضر مجھے وہ چھوٹا س ٹیڈئ چاہئے

وہ سامنے ایک بلیک کلر کے ٹیڈئ کی طرف اشارہ کر کے بولتی ئے

اجاؤ

وہ اسکے ساتھ اس طرف برھتا ہے

اور کچھ

تین چار ٹیڈئ لے کر وہ رکھتا ہوا اسکے ساتھ چلتا پوچھا ہے

یپز یہ رہیں چاکلیٹس

وہ اکٹر یہیں آیا کرتی تھی

اس لئے وہ جانتی تھی اسکی فیورٹ چاکلیٹس کہاں ہونگی

اوکے ویٹ

ضرار اسکا ہاتھ چھوڑ کر چاکلیٹس اٹھانے لگتا ہے

افف ضر اتنی ساری

ضرار کو اتنی زیادہ بھر بھر کر اٹھاتے دیکھ وہ ہونک بنی پوچھتی یے

یس مائے برڈ آئی نو تمھیں بہت پسند ہیں

ٹرالی پوری بھر چکی تھی

چاکلیٹس سے

ہاہاہہاہا

وہ اتنی ساری چاکلیٹس دیکھ پیٹ پکر کر ہنستی ہیں

اس سائیڈ پر بہت لوگ تھے

اگر ہوتے بھی تو کسی کی ہمت تھی ضرار کی روح کو دیکھنے کی

کیا ہوا چلو

وہ دوبارہ ہاتھ تھام کر آگے برھ جاتا ہے

——————

وہ ایک فلاور شاپ کے پاس سے گزر رہے تھے

ضرار اس کے پاس کار روک کر اسے وہیں بیٹھے رہنے کا کہتا اندر برھ جاتا ہے

کچھ لمحوں بعد وہ نکلتا ہے

اس کے پیچھے ایک بندہ تھا جس کے ہاتھ میں بہت سے ریڈ فلاورز کے بکے تھے

تین چار تک تو ضرار نے خود پکرے ہوئے تھے

ضرار پیچھے کا دروازہ کھول کر وہ سارے بکے رکھ کر اسے بھی رکھنے کا کہتا ڈرائیونگ سیٹ سنبھال کر ایک بکےجو بہت پیارا تھا وہ روح کو محبت سے ہاتھ پر بوسہ دے کر دیتا ہے

وہ جھنپ سی جاتی ہے

اتنے سارے کس کے کئے

وہ پیچھے چاکلیٹس کے بیگز کے ساتھ اتنے بوکےدیکھ پوچھتی ہے

سب تمہارے لئے

وہ اسکا ہاتھ تھام کر کات سٹارٹ کرتا ہوا جواب دیتا ہے

وہ محبت سے اس روعب دار شخص کو دیکھتی ئے

اس کی طرح اس کی محبت بھی بہت حسین تھی

تھینکیو

وہ اسے دیکھتی ہوئے بہت پیاری سی آواز میں کہتی ہے

مجھے تمہارے شکریہ کی ضرورت نہیُ روح اس ادھورے شخص کو صرف تمہاری ضرورت ئے اپنے حصہ کی یعنی تم

وہ دوبارہ اس کے ہاتھ پر بوسہ دے دیتا ہے

ضر ایک سوال کروں

وہ بکے سینے سے لگائے بیٹھی تھی

شائد اس لیے کہ اس نے اس قدر محبت سے دیا تھا

یس مائے کوئین

وہ مور کاٹ کر اسے ایک نظر دیکھ کر ہاتھ دبا کر اجازت دیتا ئے

اپ سب کزنز کے ساتھ ویسے کیون نہیُ رہتے

وہ کب سے یہ سوال کرنا چاہتی تھی آخر آج پوچھ ہی لیتی ہے

اچانک ہی وہ سنجیدہ ہو جاتا ہے

وہ سب الگ ہیں مجھ سے روح ڈرتے ہیں مجھ سے ناجانے کیوں

شاید ایک بار سائیرہ پر غصہ ہو گیا تھا میں اس لئے مگر اب مجھے ان سب کا دور رہنا ہی صحیح لگتا ئے وہ خود میں مگھن رہتی ئیں اور میں صرف اپنی روح میں

مگر ضر آپ اب ہر روز نیچے ہی کھانا کھاؤ گے سب کے ساتھ ہلیز

وہ جانتی نہیُ تھی وہ اسکی ہر بات کو حکم کا درجہ دیتا تھا اسے پلیز کہنے کی ضرورت ہر گز نئی تھی

اوکے مائے لیڈی

وہ اسے محبت پاش نظروں سے دیکھتا جواب دے کر کار روکتا ہے

باتوں مین مگھن وہ گھر بھی آچُکے تھے

وہ باہر نکل کر ملازم کو سب لانے کا کہتا روح کو لیے اندر برھتا ہے

نشاء انہیں اندر ایک ساتھ آتا دیکھ زہریلی نظرڈالتی ئے

کوئی پلین ہی سمجھ نہیُ آ رہا تھا

ہر وقت سائے سے بھی زیادہ قریب رہتا تھا وہ روح کے

ضرار کو روح ساتھ لئے دادو کے کمرے کی طرف برھتی ہے

———

دادو کیسی ہیں

روح دادو کے گلے کا ہار بنتی ہوئی پوچھتی ئے

ہاہہا میرا بچہ ٹھیک ہوں تم دونوں کیسے

ہو

وہ روح اور ضرار کے سر پر پیار دیتی ہیں

ہم فٹ ہیں ہاں یہ موٹے ہیں مگر میں بہت فٹ ہوں

وہ اس ہینڈسم شخص کو موٹا کہ چکی تھی

وہ اسکی بات ہر سر جھکا کر ہنسی ضبط کرتا ہے

وہ ان دونون کو یوں ساتھ دیکھ بہت خوش ہوئی تھیں

انہیں نہیُ یاد پرتا تھا آخر بار کب آیا تھا

نکاح کی بات کے لئے وہ خود لائیں تھی

خود تو وہ بچپن میں کبھی آیا تھا

اچھا دادو اپ آرام کرو ہم اوپر جاتے ئیں

وہ انکا گال چوم کر ضرار کے ساتھ چلی جاتی ئے

یا اللہ میرے بچوں کو یوں ہی ہنستا مسکراتا رکھ

وہ آسمان کی طرف سر اٹھا کر دعا کرتی ئیں

——————

بس اب جانے کا انتظار ہے روح بس ایک بار وہاں چلے جائیں کبھی لوٹ کر نہیُ اؤگی تم کبھی بھی

وہ ناپاک ارادے بناتی ہوئی خود سے بربراتی ئے