Tera Junoon by Laiba Khan NovelR50433 Tera Junoon Episode 10
Rate this Novel
Tera Junoon Episode 10
Tera Junoon by Laiba Khan
وہان اس وقت ساری نوجوان پارٹی جمع تھی
ضرار سربراہی کرسی پر بیٹھا تھا پاس ہے روح
اور اس کے ساتھ سائرہ
اس کے سامنے نشاء اور باقی صارم وغیرہ ایک ئے لائن میں نشاء کے ساتھ
ہلکی پھلکی گپ شپ ہو رہی تھی
ضرار فون یوز کر رہا تھا سب باتوں میں مصروف تھے
روح منہ بنا کر ہاتھ ضرار کے آگے کرتی ہے
وہ جو فون پر کوئی میل دیکھ رہا تھا
اچانک اس کا ہاتھ دیکھ کر رک کے اسے دیکھتا ہے
وہ جانتا تھا اس نے ہاتھ کیوں آگے کیا ہے
وہ چپ شاہ اس کے ہاتھ میں فون تھما دیتا ہے
اسے ناجانے کیوں ہر چیز کی اجازت تھی
اور وہ یہ بات جان چکی تھی
کچھ ہی دنوں میں
نشاء تو کلس کر رہ جاتی یے
اس کا رویہ ایسا روح کے ساتھ دیکھ کر
ویسے روح کیا تمھیں کوئیُ پسند نہیُ تھا آئی مین جن حالاتوں میں شادی ہوئی کیا کوئی تھا
ہر کوئی چونک کر نشاء کو دیکھتا ئے
ضرار اس کی بکواس ہر مٹھی بند کر لیتا ہے
رگیں تن جاتی ہیں
کیا مطلب
روح بلکل سیریس انداز میں سوال کرتی ئے
اسے نشاء سے ہمیشہ نیگیٹیو انرجی اتی تھی
آئی مین کہ کوئی
ابھی اس کی بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی
جسٹ شٹ اپ
ضرار گلاس اٹھا تر زمیں پر مارتا دھارتا ہے
سٹی آوے یو چیپسٹر مجھ سے میری روح سے ہمارے ہر تعلق سے دور رہو سو قدم کے فاصلہ پر
نشاء کے گلے میں گلٹی ابھرتی ہے
روح اچانک ہوئی کاروائی پر ڈر کر پیچھے ہوئی تھی
نشاء اس کی زبان سے میری روح سن کر غصہ بھری نگاہ روح پر ڈالنا نہیُ بھولتی
ضرار دو لمحہ میں اس کا ہاتھ تھامتا اوپر برھ جاتا ہے
وہ اس کے اتنا کہنے پر آیا تھا
ضر کیا ہوا ہے اپ کو
ضرار جو اسے کھینچتا لے جا رہا تھا
آخری سیرھی پر رک جاتا ہے
ضرار کا جنون مت دیکھنا روح یہ جنونی شخص حد پاڑ کر چکا ہے تمہاری دیوانگی میں
اس قدر جنون اس کی انکھوں میں دیکھ وہ پیچھے ہونے لگتی ہے یہ بھولُ کر کہ رہ سیرھیوں پر موجود تھے
اس کا پاؤں سلپ ہونے لگتا ہے جب وہ اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے سینے میں بھینج لیتا ہے
یار تم کیوں لاپرواہ ہو خود سے اتنی
ایک ہاتھ سر پر بال سہلا رہا تھا تو دوسرا ہاتھ کمر پر
ساری فکر کرنا اپ پر جو حلال ہو گیا ہے
منہ بسور کر وہ بولتی اسکے بازو پر تھپر جڑتی ہے
نیچے نشاء کھرئ یہ سب دیکھ مسکرا دیتی ہے
————-
دادو میں بہت خوش ہوں
نشاء دادو کی گود میں سر رکھ کر کہتی ہے
اچھا وہ کیوں
دادو اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتی ہوئی سوال کرتی ہیں
بس
وہ انہیں دیکھ کر ہنس دیتی ہے
——————-
ہاہاہہاُ یہ تو ہے
ضرار اسے اندر لا کر بٹھاتا ہوا ہنس کر کہتا ہے
اپ اتنے عجیب کیوں ہو
وہ ناک چرھا کر پوچھتی ہے
تم اتنی پیاری کیوں ہو
ضرار اس کے ساتھ لیپ ٹوپ لے کر بیٹھتا محبت سے سوال کرتا ہے انداز اس کی جیسا تھا
مجھے بات ہی نہیُ کرنی
کشن اٹھا کر مارتی وہ بیڈُ پر بیٹھ جاتی ہے
وہ ہنسی دبا کام کرنے لگتا ہے
وہ انکھیں سکیڑتی ہے
ضرررررر
چلا کر اب وہ اسے پکارتی ہے
حد تھی وہ ناراض ہو گئی تھی اور وہ ایسے ہی بیٹھا تھا
جی عزیز جان
وہ پورا اس کی طرف متوجہ ہو کر انجان بنتا ہے
میں بات ہی نہیُ کروں گی لگے رہیں میری سوتن سے
کھرے ہو کر اسکے قریب آکر جھک کے کہتی پیر پٹک کر جانے لگتی ہے
جب وہ اسکی کلائی پکڑکر پاسہی بٹھا لیتا ہے
اسکا منہ ہنوز بن ہوا تھا
کیا چاہئے
لیپ ٹوپ بند کر کے وہ پوری توجہ جب تک نہ دے وہ جواب نہیُ دینے والی تھی وہ جانتا تھا
اس لئے لیپ ٹوپ بند کر کے پیچھے ٹیبل پر رکھ کر پوچھتا ہے
مجھے بھوک لگی ہے
وہ معصوم سی شکل بناتی ہے
اوہ میرا چھوٹا بچہ ویٹ
ضرار بھی کھرا ہو جاتا ہے
وہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی ہوتی ہے
جب وہ آگے برھ کر بیڈُ کے نیچے سے ڈراتا اوپن کرتا ہے
دو بری بری ڈراتا تھیں جن میں ایک سائیڈ تو صدف چاکلیٹس کی تھی
اور دوسری سائیڈ میں چپس اور باقی اس کی پسند کی چیزیں
واؤ
وہ اچھل کر اسکے پاس اتی ہوئی خوشی سے چلاتی ہے
وہ اسکی بچوں والی حرکت پر ہنس دیتا ہے
یہ سب کب آیا
وہ نیچے سے چپس کا پیکٹ اٹھاتی ہوئی پوچھتی ہے
وہ کندھے اچکا دیتا ہے
————————
میری جان مجھے خوشی ہے تم نے میرا ساتھ دیا بس کچھ دن اور ایسے رہنا پلیز
دادو نشاء کے سر پر بوسہ دیتی ہوئی کہتی ہیں
دادو ڈونٹ ورئ جب تک روح نے مجھے تھپر نہ جڑ دیا یہ بندی ناٹک کرتی رہے گی
دادو اسکی بات پر ہنس دیتی ہیں
انہیں ہنستا دیکھ وہ خود بھی ہنس دیتی ہے
اسے دادو نے ہی تو کہا تھا یہ سب کرنے کو
تاکہ روح بھی اس سے اٹیچ ہو جائے اور اس کے لئے ہوزیسیو ہو جائے
ورنہ وہ بھائی مانتی آئی تھی بچپن سے ضرار کو
——————
ضر
ضرار مرزا جو اپنی امپورٹینٹ میٹینگ کے لئے نکل رہا تھا
اپنے جنون کی آواز سن مسکرا کر رخ موڑتا اسے دیکھتا ہے
مگر اگلے ہی پل ماتھے پر سلوٹین آتی ہیں اسکے جنون اسکی زندگی کی آنکھوں مین آنسو تھے
میری روح کیا ہوا ہے کیوں رو رہی
وہ اسکے نرمی سے پوچھنے پر دونون ہاتھ چہرے پر رکھتی سر اسکے سینے پر ٹکا دیتی ہے
ان سب کی ٹیم کمپلیٹ تھی ض ضر وہ نشاء کہتی کے ضرار کبھی میرا پارٹنر نہی نہیں۔ بنے گ گا میں نے کہا میں ابھی لا لاتی مگر اپ جا رہے وہ س سب میر میرا مزاق اڑائیں گے
وہ اسکے سینے سے سر اٹھا کر سوں سوں کرتی معصومیت سے بولتی اسکے دل میں سیدھا اتر رہی تھی
سفید رنگت درمیانی آنکھیں گہرے سرخ ہونٹ گلابی گال ائبرو پر تل اور ناک پر اسکے چہرے پر چار چاند لگاتا تل
وہ بلا کی خوبصورت اور معصوم تھی
روب دار شخصیت کا مالک ضرار شاہ
ضرار انڈسٹریز کا مالک پوری دنیا میں اسکا کام پھیلا ہوا تھا
سفید رنگت چوری جسامت کھڑی ناک عنابی لب وہ مردانہ وجاہت کا منہ بولتا ثبوت تھا
کیا میری جان سے کچھ ضروری ہو سکتا میری روح چلو میرے ساتھ
وہ فائل رکھ کر فون پر ایک میسج کرتا اسکے آنسو صاف کر کے ہاتھ تھامتا ہے
مگر فراز بھائی تو کہ رہے تھے اپ کبھی اپنی میٹینگ کسی کے کئے نہیں چھوڑتے میرے لئے کیوں
وہ گلابی ناک سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتی ہے
میری جان میری روح تم سے بڑھ کر ضرار مرزا کے لئے کچھ نئیں
وہ اپنی خوبصورت آواز مین کہُکر اسکی کانوں مین رس گھولتا ہے
مگر تم تو ان سب سے بہت دور رہتے تم میری بات مان رہے ہو
اس کے زہن مین اب بھی سب کی وہی باتیں تھی
ضرار مرزا جو کسی سے ایک لفظ بات نہین کرتا تھا
اپنے کام مین رہنے والا اس کے لئے اتنی امپورٹینٹ میٹینگ چھوڑ کر اس کے ساتھ فٹ بال کھیلنے جا رہا تھا
جی میری روح ادھر آؤ ابھی حجاب صحیح کیا تھا پھر خراب ہو رہا
وہ اسکے حجاب کی پنز اتار کے صحیح کرتا اس کے ساتھ باہر نکلتا ہے
اس کے ساتھ اسکا ہاتھ تھامے وہ سیڑھیاں اترتا لیوینگ ایریا مین رکتا ہے
۔۔۔۔۔۔
ضرار اکثر اکیلا فٹ بال کھیلتا تھا
وہ اس وقت وہیں موجود تھے
ایک طرف نشاء فراز اور صارم
دوسرے طرف ضرار اور روح تھے
ناجانے وہ اور کس کا ویٹ کر رہے تھے
تبھی کوئی دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوتا ہے
نیلی انکھیں لمبا قد چوری جسامت سفید رنگ وہ کوئی شہزادہ معلوم ہو رہا تھا
ضرار آگے برھ کر اسے گلے لگا دیتا ہے
وہ بچپن کا دوست تھا اسکا
جو دس سال کی عمر میں یہاں سے لنڈن چلا گیا تھا
ایک ہفتہ پہلے ہی اسکی واپسی ہوئی تھی
اس کے علاوہ ضرار نے آج تک کسی سے دوسری نہیُ کی تھی
سو ایم یور پارٹنر ہاں
اسکی آواز نہایت ہی نرم اور خوبصورت تھی جیسے سحر میں جکھڑ رہی ہو
نشاء نے آج شارٹ فراق ساتھ جینز پہن رکھی تھی
ایک پیارا سا حجاب اسکے سر پر بھی موجود تھا
آج اس نے میک اپ نہیُ کیا ہوا تھا
جس میں وہ کوئی پیاری سی گریا لگ رہی تھی
بس ہونٹوں پر ہلکا سا لپ لوز تھا
تبھی وہ گیم شروع کرتے ہیں
———————
گیم ختم ہو چکی تھی
نشاء سب سے پہلے گئی تھی
تاکہ ان سب کو لگے وہ ہارنے پر منہ چھپا رہی ہے
ضرار کی ٹیم جیت چکی تھی
شہرام جا چکا تھا
اس کی کوئی میٹینگ تھی
باقی سب بھی جا چکے تھے
ایک طرف سیرھیاں تھی وہان بیٹھنے کی جگہ موجود تھی
مگر آخری سیرھی پر ضرار بیٹھا تھا
اور اسکی ٹانگوں کے ساتھ روح
ایک گھٹنہ پر اسکے سر رکھے انکھیں موندی ہوئی تھیں
روح
ضرار اسکے ہاتھ کی پشت پر انگلی پھیرتا ہوا پکارتا ہے
جی
جواب دیا تھا مگر انکھیں بند تھیں
چلو اجاؤ میرے ساتھ کھیلو
وہ نہیُ جانتا تھا اس کا موڈ کیوں اوف ہے
اس لئے کہتا ہے
مجھے نہیُ کھیلنا
وہ انکھیں کھول کر کسی غیر کرتی نقطہ کو دیکھے ہوئے کہتی ہے
کیوں کیا ہوا
اسکے پوچھنے پر وہ ناک چرھا کر اسے دیکھتی ہے
اب اسے کیا بتاتی اسے نشاء سخت زہر لگ رہی تھی
جو بار بار اسکے ضر سے چپکنے کے بہانے ڈھونڈ رہی تھی
کچھ نہیُ چلیں
وہ کھرئ ہو جاتی ہے
————————-
افف دادو اپ ہوتی تو اپ کا ہنس ہنس کر برا حال ہوتا اتنی غصہ تھا میری ڈول کی انکھوں میں جیسے کچا کھا جائیگی
نشاء تو جب سے آئی تھی ہنس ہنس کر لوٹ پورٹ ہو رہی تھی
میں جانتی تھی نشاء تم ایسی نہیُ ہو آج جان گئی ان سب کے پیچھے کی وجہ
سائرہ جو اسکے اس رویہ کے پیچھے پاگلوں جی طرح سب جانے کی کوشش کر رہی تھی
آج سب سن کر کہتی ہے
نشاء پریشان سی اسے دیکھتی ہے
سائرہ میری جان یہاں آؤ
دادو اسے اپنے پاس بٹھاتی ہوئی سمجھاتی ہیں
———————
اوہ صحیح مگر پاگل تم سب کی نظروں میں گرتی جا رہی سب تمھیں غلط سمجھ رہے
سائرہ افسوس سے سر جھٹک کر بولتی ہے
ہمم آئی نو مگر یہ ہماری ڈول کے لیے ضروری ہے
وہ کندھے اچکا کر کہتی باہر نکل جاتی ہے
دادو یہ اب بھی کسی سے اپنی پریشانیاں شیئر نہیُ کرتی
سائرہ ان کے کندھے پر سر رکھتی دروازہ دیکھتی ہوئے کہتی ہے
ہاں میری جان مجھے یقین ہے پھر اسکے ماں باپ نے اسکے اوپر اسکے بھائی کو فوقیت دی ہوگی
جی دادو اکثر ہی یہی ہوتا ہے شادی کرا دیں اسکی
ہاہاہہاہاہہا تم بھی نہ
———————-
روح اور ضرار ایک ساتھ اندر آ رہے تھے
سامنے ہی نشاء کھرئ تھی
روح اسے غصہ سے گھورتی ہے
ائییی
وہ جو بے دھیانی میں چل رہی تھی اسے ٹیبل لگ جاتی ہے
روح
ضرار فورا پیچھے مرتا کر اسکے پاس آتا ہے
وہ ایک سائیڈ پر کال سننے گیا تھا
لگ گئی
وہ انکھوں میں آنسو لئے پاؤں پکر کر کہتی ہے
نشاء آگے برھنے لگتی ہے مگر رک جاتی ہے
روح دھیان کہاں تھا ہاں
ضرار پاس صوفہ پر بٹھا کر نیچے بیٹھتا اس کا پاؤن شوز سے آزاد کراتا ہوا ڈانٹ کر کہتا ہے
کہیں نہیُ
وہ نشاء کو گھوری ہوئی کہتی ئے
نشاء کو اسکی حرکت پر ہنسی آنے لگتی ہے
مگر ضبط کر جاتی ہے
رکو میں دوائی لاتا ہوں
وہ نرمی سے پاوں نیچے رکھ کر جاتا ہے
نشاء جان بوجھ کر ہی پیچھے دیکھتی ہے
کیا دیکھ رہی ہو
روح غصہ سے اسے پوچھتی ہے
کہیں نہیُ مسز روح
سکون سے وہ آکر دوسرے صوفہ پر بیٹھتی ہے
روح بس انکھیں سکیر انکھوں میں غصہ لئے دیکھتی رہ جاتی ہے
