Tera Junoon by Laiba Khan NovelR50433 Tera Junoon Episode 5
Rate this Novel
Tera Junoon Episode 5
Tera Junoon by Laiba Khan
دادو نہیُ پلیز میں نہیُ جاؤنگی پلیز دادو
وہ التجائیہ نظروں سے انہیں دیکھتی بولتی ہے
ہر کوئی کہ رہا تھا کہ وہ غصہ میں ہے
ایسے میں وہ خود کو اس کے آگے لے جا کر اسکے غصہ کا شکار نہیُ ہونا چاہتی تھی
پہلے ہی سب کی بے اعتباری کی بھینٹ چڑھ کر وہ ٹوٹ گئی تھی
میری جان تمہارا شوہر ہے وہ تمھیں جانا چاہئے
دادو اسکے پاس بیٹھ کر ہاتھ تھامتی محبت سے اسکے بال سنوار کر سمجھا رہی تھیں
وہ چھوٹی سی گریا تھی انکی کیسے اسے اتنا بے مول کر گیا تھا اسکا سگا بھائی
انہیں بھی اس بات کا دکھ تھا
اسکی والدہ کا فون آیا تھا کیونکہ اسکے بھائی نے نہ جانے کیا بکواس کی تھی گھر جا کر انہوں چھوٹتے ہی فون کیا تھا
مگر دادو نے انہیں سکون سے سمجھانے کی اپنی طرف سے کوشش کی تھی بس وہ اتنا مانیں تھیں کہ وہ کل لازمی اپنی بیٹی کو لے جائینگی
بس وہ چاہتی تھیں وہ ضرار کے پاس رہے ایک بار اسے ہ ضرار کے پاس چھور آتیں وہ اسے اپنی جان سے برھ کر خیال رکھتا اسکا بلکل خود سے دور نہ جانے دیتا
نہیُ وہ بہت غصہ والے ہیں سب کہ رہے تھے
وہ معصومیت سے بچے کی طرح کہتی ہے
شاید اسکا زہن بھی اب تک یہ قبول نہیُ کر پایا تھا جو آج سب کچھ ہوا تھا
نہیُ میری جان وہ تو سب سے زیادہ محبت کرنے والا ہے ہاں بس میرے بچے کو کوئی نہیُ سمجھتا مگر تم آگئی ہو نہ اسکی زندگی میں تم سمجھوگی مجھے یقین ہے چلو میری جان ہاتھ تھامو اور آرام سے چلو میرے ساتھ
وہ اسکے زخمی پیر کو دیکھ کر اسے کہتی کھرے ہوتی ہیں
مگر دادو
وہ بولنے کے لئے لب کھولتی ہے
اگر مگر کچھ نہیُ اپنی دادو کی بات مانو
اب وہ روعب دار لہجہ اپناتی ہیں
مانی تو تھی دادو
اداسی سے وہ کہ کر کھرے ہوتی ہے
اس پاؤن پر اس نے زیادہ زور نہیُ ڈالا تھا
میری جان اور مجھے فخر ہے تم دونوں پر کے لاج رکھ لی تم دونوں نے
ہاتھ تھام کر وہ ایک ایک قدم لیتی اسے باتیں کر رہی تھی
آرام سے وہ سیرھیان چرھ کر اوپر آتے ہیں
جہاں ہر طرف اندھیرا تھا
وہ شخص تو عادی تھا
ان سب کا
دادو اسکے ساتھ آگے آ کر لائٹس اون کرتی ہے جس سے ہر طرف روشنی ہو جاتی ہے
وہ حیرت سے گول نظر گھما کر دیکھتی ہے
اوپر والا پورشنُ نہایت ہی خوبصورت تھا
مگر کلر صرف بلیک ہر چیز کا
چاہے وہ والز ہوں صوفہ ہوں کارپٹا ہو ٹیبل ہو کاؤچ ہو ہر چیز وہاں بلیک تھی اور وہ نہایت شاندار لگ رہی تھی
میرے بچہ کی پسند بہت اچھی ہے
وہ نوک کر کے اسے جو اس پاس حیرت سے تکتا دیکھ کہتی ہیں
کچھ لمحوں بعد دروازہ کھل جاتا ہے
سامنے ہی وہ بلیک ٹراؤ زر اور بلیک ٹی شرٹ میں پسینا صاف کر رہا تھا ٹاول سے یقیناً وہ ایکسرسائز کر رہا تھا
پیشانی پر سلوٹیں اور تنیں رگیں بھیجنے ہوئے جبرے وہ ایک قدم پیچھے ہو کر دادو کا ہاتھ تھام کر انہیں اندر لاتا ہے
روح بالکونی میں چلی گئی تھی اس کے دروازہ کھولنے سے پہلے وہ اسے سب سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی اس لئے وہ رک نہیُ پائی تھی
تمہاری امانت دینے آئی ہون میرے بچہ
دادو صوفہ پر بیٹھ کر ضرار کو دیکھتی جواب دیتی ہیں
وہ اجنبھے سے اپنی نظریں ان کی طرف کرتا ہے
روح کو لائی ہو ارے روح کہاں ہے میرے ساتھ آئی تھی کہاں گئی پاؤں بھی درد تھا میری بچی کا
وہ اسے جواب دینے لگتی ہے مگر روح کو نہ دیکھ وہ پریشانی سے کہتی ہیں
یہیں ہے
وہ سامنے روح کو بالکونئ میں دیکھ کر کہتا ہے
روم سے بالکونئ صاف نظر آتی تھی
دیوار پوری شیشہ کی تھی
جس سے اس پار نظر آتا تھا
اوہ چلو تم خیال رکھنا اس کا
اور ہاں
وہ جاتے جاتے مڑ کر بولن لگتی ہیں
مگر اسے باہر تکتا دیکھ معنی خیز مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے اس کے پاس برھتی اس کا کان پکرتی ہیں
تمہاری ہی ہے اپنی ان آنکھوں کی چاہت کی وجہ سے پایا ہے تم نے اسے تم جانو یا نہیُ میں جان گئی تھی اپنے بچہ کی چاہت کو
وہ حیران ہو کر انہیں دیکھتا ہے
کیاُمطلب نانو
وہ نظرین گھما دیتا ہے
کچھ نئی
وہ مسکراہٹ چھپا کر نکل جاتی ہیں
وہ فریش ہونے کے لیے واش رومُ مین گھس جاتا ہے
——-
پانچ منٹ میں وہ فریش ہو کر سیدھا بالکونی کا رخ کرتا ہے
جہان وہ جھولے پر بیٹھی گود بنائے گھٹنوں پر کہنی رکھے ہاتھوں کے پیالے میں چہرے رکھے آسمان تک رہی تھی
چہرہ انتہائی معصوم لگ رہا تھا
وہ کسی کی موجودگی بھی نہیُ پہچان سکتی شاید وہ کہیں سوچوں میں گم تھی
وہ اسکے سامنے جا کر کھرا ہوتا ہے
سینے پر بازو باندھے وہ چہرے پر سنجیدہ تاثرات سجائے اسے دیکھ رہا تھا
وہ کسی کو سامنے کھرا دیکھ چہرہ اوپر کرتی ہے
مگر سامنے موجود شخص پر نظر ہرے وہ فورا کھرئ ہوتی ہے مگر کراہ کر بیٹھ جاتی ہے
ہاتھ اسکا ضرار کے ہاتھ میں تھا
وہ فورا گھٹنوں ہر بیٹھ کر اسکا پٹی والا پاوں پکرتا ہے
وہان سے اب خون رس رہا تھا
وہ سنجیدہ نظر اسے دیکھ کھرا ہو کر دوسرا ہاتھ بھی آگے کرتا ہے
وہ آئ برو اچکا کر اسے دیکھتی ہے جیسے پوچھ رہی ہو کیا
چلو
وہ دوسرا ہاتھ خود تھام کر نرمی سے اسے ساتھ روم میں لاتا صوفہ پر بٹھاتا ہے
وہ خاموشی سے آنسو پونچھتی ہے اسے شدید ٹیس اٹھ رہی تھی زخم میں
ضرار فرسٹ ایڈ بوکس لا کر صوفہ پر رکھتا اسکی ڈریسنگ کے لئے چیزیں نکالتا ہے
آرام سے
وہ جو دوائی لگا رہا تھا پاوں پیچھے کرتی وہ نم آواز میں بولتی ہے
وہ پلکیں جھپک کر اب پھونک بھی ساتھ مارتا دوائی لگا کر ڈریسنگ کر کے کھرا ہوتا ہے
——
وہ انگلیاں مروع رہی تھی
سنیں
وہ جو فرسٹ ایڈ باکس رکھ کر مڑا تھا
اسکی نرم آواز پر اسکے سامنے آتا ہے
ایم سوری
وہ سر جھکائے کہتی کے
فور واٹ
بھنوین اچکا کر وہ اسے سر تا پیر دیکھ پوچھتا ہے
آج جو ہوا میری وجہ سے کل مما لے جائینگی مجھے اپ کو تنگ نہیُ کروں گی اگین سوری
وہ اپنی باتوں سے کہیں سے وہ معصوم لرکی جو وہ تھی وہ نہیُ لگ رہی تھی
ہہہ
وہ ٹھنڈی سانس خارج کرتا ہے
وہ میں جاؤں
قہ ایک طرف سر کر کے اسے نظریں اٹھا کر دیکھتی ہے
اسکی بار پر وہ سخت تاثرات سے اسے دیکھتا ہے
کہاں
لہجہ بے حد سنجیدہ تھا
وہ میں باہر بیٹھ جاؤں مما آئینگی ان کے ساتھ چلی جاؤنگا اپ کو تنگ نہیُ کروں گی
وہ انگلی سے باہر کی طرف اشارہ کرتی اپنا پورا منصوبہ بتاتی ہے
اور مسز روح اپ کو کس نے کہا اپ اپنی والدہ جے ساتھ جائینگی
وہ اسکی بات پر سر پیٹنے پر یا تھا
کیا مطلب
وہ پریشانی سے پوچھتی کے
مسز اپ بلکل کہیں نئی جا رہی اٹھو اور خاموشی سے سو جاؤ
وہ بیڈُ کی طرف اشارہ کرتا ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہے
میں یہاں نئی رہوں گی
وہ دو ٹوک کہتی ہے
وہ کیوں
وہ ضبط کر کے پوچھتا ہے
کیونکہ اپ
وہ کہتے کہتے رکتی ہے اور ایک چور نظر اسکے چہرے پر ڈالتی ہے
اوہ مائے سٹرونگ وائف آگے بولو
جیب میں ہاتھ ڈال کر وہ اپنے مخصوص سٹائل میں پوچھا کے
کیونکہ اپ کی مرضی سے یہ شادی نہیُ ہوئی اود میں بلکل ظلم برداشت نئی کرونگی میں بہت سٹرونگ ہو
بلکل کو وہ کھینچ کر ادا کرتی بات مکمل کرتی آخر میں اپنی بہادر ہونے کا بھی بتاتی کے
تو مرضی سے شادی نہ ہو تو کیا ہوتا ہے
وہ ایک انگلی سے اسکی ٹھوری اوپر کر کے پوچھتا کے
وہ اسے ڈراتا ہے تنگ کرتا ہے میں نے دیکھا تھا
وہ ڈرامہ یاد کرتی اسے سب ایک ایک کر جے بتای ہے
اوہ اس کے بعد
وہ اسے آگے سننا چاہتا تھا
پھر پھر کیا
وہ اب لرکھرا کر پوچھتی ہے
پھر کیا ہوتا ہے
وہ اسکی اکھوں میں دیکھتا پوچھتا ہے
مجھے نہیُ پتا مجھے جانا ہے
وہ کھرے ہو کر کہتی کے
اور تمھین میں جانے دونگا
وہ مسکرا کر پوچھتا ہت لہجہ مگر سنجیدہ تھا بے حد
ہاں کون روکے گا میں جا رہی
وہ منہ بنا کر باہر نکلنے لگتی ہے مگر وہ اسکا بازو تھام کر اسکے قریب ہو کر کھرا ہوتا جے
میں کون ہوں
وہ اپنی طرف انگلی کر کے پوچھا ہے
ہو اپ کو یہ نہیُ پتا
وہ جیسے اپنا ماتھا پیٹتی اس طرح کہتی ہے
وہُ نفی میں سر ہلا کر رہ جاتا ہے
تم کہیں نہیُ جا رہی خاموشی سے رہو کوئی تمھیں لینے نہیُ آرہا یہیں رہنا ہیں تم نے
وہ اب قدرت اونچی آواز میں کہ رہا تھا
شاید آخری بار سمجھا رہا تھا
مما
ابھی وہ بات مکمل کرتی وہ اسے دونوں بازو سے تھام لیتا ہے
سرخ آنکھوں اسکی انکھون میں گارے وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کر رہا تھا
کون ہو تم میری
لہجہ میں اب دھار تھی
اب اسکی زبان تالوں سے چپکی تھی
آپکی چھوٹی سی بیوی
وہ اسکے جھٹکا دینے پر معصومیت سے کہتی ہے
ایسے ہی تو سب اسے بنرمی سے بات کرتے تھے وہ بہت معصوم شکل بنانا جانتی تھی
وہ اسکے جواب پر سر جھٹک کر قہقہ لگاتا ہے
ہنس ایسے رہے جیسے لطیفہ سنایا ہو ہونہ
وہ دل ہی دل میں بربر اتی ہے
جا کر چینج کرو اب کوئی بحث نہیُ
وہ اسے چھور کر نرمی سے کہتا ہے
میرے پاس کچھ نہیُ ہے ڈریکولا کہیں کے
آخری جے لفظ وہ خود میں بربر آئی تھی
میرے اندر ہیں جو صحیح لگے پہن لو
اب وہ صوفہ پر بیٹھ کر لیپ ٹوپ نکالتا جواب دیتا کے
وہ غصہ سے اسے گھور کر چینججنگ روم میں گھستی پٹک کر دروازہ بند کرتی کے
بے جان چیز پر غصہ نکال کر بھی اسکا غصہ ٹھنڈا نہیُ ہو تھا
—————
وہ اسکا بلیک ٹراوزر ساتھ بلیک شرٹ پہنتی اوپر شالُ کر کے باہر نکلتی ہے
وہ اس مجں بے حد جھوٹ لگ دہی تھی
وہ اسے سر تا ہیر دیکھ دوبارہ اپنے کام جانب رخ کرتا ہے
کسی کو وہُ ہاتھ تک نہیُ لگانے دیتا تھا اپنی چیزوں کو اس کے کئے سب اپنا پیش کر چکا تھا
وہ وہیں کھرئ انگلیاں مرورنے لگتی ہے
اسکا فون بھی پاس نئی تھا ورنہ وہ امی کو فون کر جے کسی بھی طرح بلا چکی ہوتی
روح خاموشی سے سو جاؤ
وہ اب سنجیدگی سے کہتا کے
وہ چھوٹے چھوڑے قدم لیتی بیڈُ پر بیٹھ کر کمفرٹ میں گھس جاتی ہے
وہ ایک نظر اسے کمفرٹ میں گھسہ دیکھ کھرا ہو کر لائٹ اوف کرتا واپس بیٹھ کر لیپ ٹوپ اٹھا لیتا ہے
