718.6K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Junoon Episode 16

Tera Junoon by Laiba Khan

وہ صبح تیار ہوتے ہوئے ہچکچا رہی تھی

وہ کوئی دبو سی لرکی نہیُ تھا

پر ہاں رشتہ بدل گیا تھا

کل تک جو بوس تھا آج وہ اسکے شوہر کے روپ میں آیا تھا

وہ بیگ کاندھے پر لٹکاتی باہر نکل جاتی ہے

ارے تم آفس جا رہی ہو آج ہی سے تھوری چھٹیاں لو اپنے شوہر سے

ایسی کئی باتیں اسے گھر سے نکلتے سنائی دیتی ہیں مگر وہ سرے سے ہی نظر انداز کرتی ہے

————-

شہرام بلیک سوٹ پہنے آج ہر دن سے زیادہ شاندار اور نظر لگ جانے کی حد تک ہینڈسم لگ رہا تھا

نشاء سر پر حجاب اور ساتھ شال لائی تھی

اس نے آج سفید کرتی اور پجامہ زیب تن کیا ہوا تھا

وہ جیسے اندر داخل ہوتی ہے اسے شہرام کا آفس میں جانے کا حکم ملتا ہے

وہ کرتی کیا نہ کرتی

اسکے آفس کی طرف بڑھ جاتی ہے

—————

آجاؤ مائن

وہ جیسے نوک کرنے کی لئے ہاتھ بڑھاتی ہے

اسے پہلے ہی وہ دروازہ کھول کر اسے اندر آنے کی اجازت دی دیتا ہے

وہ گھبراتے ہوئی اندر برھ جاتی ہے

اس گھبراہٹ میں بار بار وہ ماتھے پر پسینہ نہ ہونے کے باوجود صاف کیے جا رہی تھی

سٹ

وہ خود پورے حق سے ہاتھ تھام کر اسے چیئر پر بٹھاتا سامنے ہی بیٹھ جاتا ہے

وہ دونوں انتہائی قریب بیٹھے تھے

بولو کیا بولنا ہے

اسے بار بار ہچکچاتے ہوئے لب کھولتے اور بند کرتے دیکھ وہ سوال کرتا ہے

وہ

وہ پھر خاموش ہو جاتی ہے

حور

اب وہ اپنی ازلی ٹون میں اسے پکارتا ہے

اپ نے یہ نکاح کیوں کیا

آخر وہ ایک ہی سانس میں بول جاتی ہے

اپنی حور کو اپنی روح سے سے جوڑنے کے لئے

وہ نہایت سکون سے جواب دیتا ہے

اب کیوں مانے آئی مین میں یہ نہیُ جانتی تھی اور یہ سب جو ہوا آئی مین اپ سمجھ رہے ہو نہ اپ تو بوس ہو نہ پھر دادو نے اچانک آئی مین میں بہت کنفیوز ہوں خان پلیز مجھے بتائیں

وہ کھری ہو کر فر فر بولتی چلی جاتی ئے ایک لفظ ہر بھی رکے بنا مگر بار بار اسے سمجھنے کا کہ رہی تھی وہ

حور رلیکس سٹ

وہ کھرا ہوتا اسے کندھوں سے تھام کر واپس بٹھا دیتا ہے

میں جو پوچھوں مجھے اسکا جواب چاہئے

نہ جانے اس نے کوئی سحر پھونکا تھا انکھوں سے وہ ہاں میں سر ہلا دیتی ہے

کیا تم راضی نہیُ تھی

وہ کندھے اچکا دیتی ہے یعنی وہ خود بھی ناواقف تھی اپنے احساسات سے

حور کیا ہم ان سب پر بعد میں بات کریں ابھی ہم اپنے رشتے کو سمجھنے کے لئے وقت دیں

شہرام ہاتھ تھام کر ایک ایک لفظ اسکی انکھوں میں انکھیں گاڑھے بول رہا تھا

خان میں اچھی نہیُ ہوں

وہ سر جھکا کر جیسے کوئی اعتراف کر رہی تھی

حور میں ایک لفظ نہیُ سنوں گا جاؤ

وہ اب نہایت سخت لہجہ میں بولتا اپنی سیٹ پر آتا ہے

وہ آنسو پیتی نکل جاتی ہے

اسکے باہر جاتے ہی وہ لیپ ٹوپ نہایت زور دار آواز سے پٹک کر بن کرتا ہے

ہر کسی کو حساب دینا ہوگا مائن ہر کسی کو تمہاری ہر ازیت کا ہر آنسو کا یہ خان کا وعدہ ہے

—————

ضرار

روح یونیفارم کر ساتھ حجاب لیے پوری تیار ہو کر اسکے سرہانے کھری تھی

آج اسے جلدی جانا تھا

اور ضرار کے سونے کا ٹائم ابھی ختم نہیُ ہوا تھا

اسکے پکارنے پر وہ نہیُ اٹھتا

ضر

اب وہ دونوں ہاتھوں سے اسے ہلاتی ہے

ہممم

وہ زبردستی انکھیں کھولنے کی کوشش کرتا نیند کے خمار

میں ڈوبے لہجہ میں صرف یہی کہ پاتا ہے

ضر اٹھو نہ مجھے لیٹ ہو رہا ہے

وہ بار بار گھڑی پر بھی ٹائم دیکھ رہی تھی

تم بھی سو جاؤ

وہ بغیر اسے سمجھنے کا موقع دیے کمفرٹر میں اسے گھسا کر خود میں بھیج لیتا ہے

ضر نہیُ اٹھو کیا کر رہے ہو مجھے نہیُ سونا مجھے کالج جانا ہے

وہ اسکے سینے پر مکہ برسانے لگ جاتی ہے

یار ہو تم اتوووو سی پھر بھی انہیں سکون نہیُ

وہ اپنی نیند کی وجہ سے سرخ ہوتی انکھیں اسکی انکھوں میں گارھے اسے اتوو سی انگلی اور انگھوٹے میں چھوٹا سا فاصلہ بنا کر اسکے دونون ہاتھ چوم لیتا ہے

وہ سہی کہ رہا تھا سکے ہاتھوں کو سکون نہیُ تھا کبھی وہ کونسی شرارتوں میں مگھن ہوتے تو کبھی کہان

مجھ سے بات نہیُ کرو مجھے اتووو سے کیوں کہا

وہ اب کمفرٹر سے نکل اتی ہے

اوووو میرا لٹل برڈ ناراض ہوگیا

وہ اسکے پوچھنے پر زور سے ہاں میں سر ہلاتی ہے

تو مجھے منانا پرے گا

اسے اپنے حسار میں لے کر دونون ہاتھ اسکی کمر کے گرد باندھتا وہ اپنے دونون ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے

میں پیوست کر دیتا ہے

وہ پھر سے ہاں میں سر ہلاتی ہے وہ جو کرتے حد سے زیادہ معصومُ لگ رہی تھی اوپر سے دل لبھانے والا ہتھیار اسکا ہونٹ ہر ہونٹ رکھ کر معصوم سے چہرے میں اضافہ کرنا

مت کیا کرو روح

وہ اچانک ہی گھمبیر آواز میں کہ کر اسے چھورتا واش روم میں گھس جاتا ہے

———————

مسز خان

شہرام نشاء کے پاس آتا ہے

وہ جانتا تھا وہ تھورا روڈ ہو گیا تھا

وہ ایک نظر اٹھا کر اسے دیکھتی دوبارہ سر جھکا لیتی ہے

خان کی جان پلیز نہ بات سنو

وہ اسکے سامنے سے فائلز ہٹا کر وہین بیٹھ جاتا ہے

یار میں تمھیں بھی حق نہیُ دی سکتا کہ اپنے لئے بھی ایسے لفظ استعمال کرو پلیز اور اپنے رویہ کے لئے ایم سوری

اس نے زندگی میں پہلی بار شاید کسی سے یوں سوری بولا تھا

——————

اپنا خیال رکھنا اور میں ٹائم پر آؤنگا روح

ضرار اسکے کالج کے سامنے کار روک کر اسے ایک ایک نصیحت یاد کروانا نہیُ بھولتا

میں ناراض ہوں

وہ کہ کر باہر نکل جاتی ہے

تو آپکا ضر منائے گا نہ میری جان

وہ اسے اندر داخل ہوتے دیکھ کہتا ہے

——————

بھوک لگی ہے باہر چل کر کھانا کھائیں

وہ جو جو فائل اٹھا رہی تھی وہ اسے لے کر کھول کر نفی میں سر ہلاتا واپس رکھی جا رہا تھا

وہ منہ بنا ایک فائل پٹکتی اسے گھورتی ہے

وہ اسکے گھورنے پر سوال کرتا ہے

نو مجھے کام ہے

وہ کام لفظ باقاعدہ کھینچتی ہے

چلو اٹھو

وہ بغیر اسکے جواب ہر دھیان دیے اسکا ہاتھ تھامتا نکل لیتا ہے

—————

سو کیا کھاؤ گی مائن

وہ ایک نہایت خوبصورت ریسٹورینٹ پر بیٹھے تھے

اپ مجھے مائن کیوں پکارتے ہو

ہر ایک لفظ کے پیچھے راز دفن ہوتے ہیں حور اس لئے ان کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے انکا وقت آنے دو خان کا وعدہ ہے ہر چیز سے واقف ہو جاؤگی

اسکے جواب کے بعد وہ آرام سے ہلکی پھلکی باتیں کرتے کھانا کھاتے ہیں

باتیں تو شاید شہرام زبردستی کروا رہا تھا وہ خونی ہوتا تو وہ کچھ بولتی ہی نئی تھی اور اسکی آواز کو وہ اپنا مرہم بنا چکا تھا

—————-

یہاں کیا ہوا ہے واٹ دا ہیل از دس

ہر طرف کالج میں دھواں دھواں تھا

اور بہت سے لوگ بچیوں کو گود میں لئے نکل رہے تھے

ضرار ابھی روح کو لینے اسکے کالج آیا تھا مگر سامنے کا منظر اسکے روح چھیننے کی لئے کافی تھا

یہاں ایک روم میں بون بلاسٹ ہوا ہے

اسکے جواب ہر اسکا ایک قدم لرکھرا تا ہے

واٹ دا

روح

وہ اندر کی طرف برھنے لگتا ہے

جب ایک پولیس آفیسر اسے روک دیتا ہیں

وہ پہلے اسے کچھ کہنے لگتا ئے مگر دو اور بھی آفیسر اس کے پاس آجاتے ہیں

وہ وہیں سے چیختا ہے

روح

اسکی ہر پکار میں ازیت ہی ازیت تھی

ابھی تو وہ چریا آئی تھی ضر کی زندگی میں چہچہانے