718.6K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Junoon Episode 23

Tera Junoon by Laiba Khan

کیا مطلب دادو کیا رخصتی ایسے ہوتی ہے اپ ایسے کیوں کر رہی ہیں مجھے بتائیں آخر اج

دادو کے ہاتھ میں سرخ جورا دیکھ کر وہ بیڈ ہر گرنے والے انداز میں بیٹھتی سر پکر کر پوچھتی ہے

تمہاری وہ ماں اپنے اس گھٹیا بھائی سے تمہارے غلط رشتہ کا بتا کر شادی کرانے والی تھی اس کے ارادے شکر کرو پتا لگ گئے ورنہ

وہ اگے انسو بہاتی چپ ہو جاتی ہیں

نشاء شوک کی کیفیت میں کچھ بھی زبان سے بیان کرنے سے انکاری تھی

دادو وہ میری ماں سگی نہ صحیح مگر سوتیلی تو ہے ماں تو ماں ہوتی ہے نہ

ہچکیاں لیتی وہ ازیت سے بولتی ہے

اب جو ہو رہا ہے مان جاؤ ہر چیز کی وضاحت ضروری نہی اور تم جانتی ہو وہ تمھیں کتنا خوش رکھے گا

سوٹ بیڈ پر ایک سائیڈ رکھتی اسکا ہاتھ تھام کر کھرا کرتی ہیں

دادو میں اتنی سستی ہوں

وہ بلند اواز روتی ان کے گلے لگ جاتی ہے

نہی میری جان تم بہت قیمتی ہو اور بند کرو یہ رونا دھونا رخصتی ہے میری بیٹی کی

محبت سے اسکے انسو چن کر اسکی پیشانی پر بوسہ دیتی سوٹ اٹھا کر تھماتی ہیں

میں ریڈی ہو ہوتی ہوں

گلہ رونے سے خشک ہو چکا تھا

مگر وہ کچھ وقت اکیلے رہنا چاہتی تھی

ٹھیک ہے میری جان بہادر بنو شاباش میں باہر جا رہی تیار ہو جاؤ کسی کو ضرورت ہو بلا لینا

اسکے بال پیار سے سنوارتی وہ باہر چلی جاتی ئے

وہ اگے برھ کر دروازہ بند کرتی اسے سے ہشت لگا کر نیچے بیٹھتی چلی جاتی ہے

بابا اپ نے بھی کبھی ساتھ نہ نہی۔ دیا اور وہ ان کی ہر حد پار ہو گئی ا اپ کی بیٹی۔ کی نفرت میں مجھے خود سے نفرت ہو رہی ہے بابا خود سے نفرت کرانے ہر اپ نے مجبور کر دیا ہے سب نے

گھٹوں میں سر دیے وہ بری طرح رو رہی تھی

شکایتیں شکوے کر رہی تھی

کاش مما اپ ساتھ لے جاتی مجھے کاش

تبھی اسکا فون بجنے لگتا ہے

وہ اس ہر دیہان بھی نہی دینا چاہتی تھی

اج وہ بری طرح ٹوٹی تھی

اسے لگا تھا کوئی تو حد ہوگی انکی نفرت کی مگر وہ اسے بد کردار ثابت کرنے پر اگئی تھی

اخر ایسا کیا تھا وہ نہی چانتی تھی کیا انہیں اس کا گھر میں ہونا ناپسند تھا مگر وہ تو اکیلے اہنی ہی دنیا بسائے ہوئے تھی

تبھی کسی اہٹ پر وہ سر گھٹوں سے نکالتی ہے

جہاں سامنے اسکی نگاہیں نیلی گہری انکھوں سے ٹکراتی ہیں

وہ فورا سے اٹھ کر اسکے پاس بھاگتی سینے سے لگ جاتی ہے

خ خان سب بہتتت برے ہیں سب

اسکی شرٹ مٹھیوں میں جکھرے وہ جیسے کسی ماں سے شکایات کی جاتی ہیں ویسے ہی اسے اپنا غم و درد بیان کر رہی تھی

مائن سٹ

اسے اپنے ساتھ لگائے وہ اسے نرمی سے خود سے علحیدہ کرتا بیڈ پر بٹھا کر گھٹنوں کے بل بیٹھتا ہے

خا خان سب سب غلط ہے سب صرف غلط کرنا جانتے ہیں

اس نے اس بات پر دیہان ہی نہی دیا تھا کہ وہ اس کے لئے کھڑکی ہھلانگ کر ایا تھا

مججے دیکھو اور خاموش ہو

شہرام اسکے انسو چنتا اسکی آنکھوں میں دیکھتا ہے

نہی خان میں ہی بری ہو کوئی ایسے کر سکتا میں تو انہیں مما کہتی ہوں پھر کیاے وہ میری ماں کی جگہ ائی تھیں نہ اور کیا کیا

اب شہرام خاموشی سے اسے بولنے دے رہا تھا وہ اسکا ہر درد ختم ہی تو کرنا چاہتا تھا

مگر اسکی انکھوں میں موجود غصہ کچھ بھی سمجھانے سے انکاری تھا کہ وہ کیا کرنے کا ارادہ رکھا ہے

خان

اپنی نم و سرخ انکھوں سے اسے دیکھ کر پکارتے اسکے کندھے پر سر رکھ دیتی ہے

مائن

اسکے بال سہلاتا وہ بامشکل لہجہ نرم رکھتا ہے

امم مجھے اپنی بیوی تیار چاہئے یار یوں چریل بن کر رو کر نہ اؤ

اسکے انسو دوبارہ صاف کرتا وہ شرارتی لہجہ اپناتا ہے

آئی اونلی نیڈ یو خان سب برے ہیں

اسکی گردن میں منہ چھپاتی وہ اظہار نہ کرتے بھی کر جاتی ہے

اووو میرا روندو خرگوش بس کرو اور تیار ہو یار برات لا رہا ہوں

سوٹ اٹھا کر نشآء کو دیتا وہ محبت بھرے لہجہ میں بولتا ہے

تھینکیو

وہ نم انکھوں سے بھی مسکرا دیتی ہے

دیٹس لائک مائے مائن

اسکی مسکراہٹ دیکھ وہ ہرسکون سانس لیتا ہے

ویٹ دروازہ بند تھا اور افف خان اپ ونڈو سے ٹپکے ہو

وہ حیران تاثرات چہرہ پر سجائے منہ پر ہاتھ رکھتی ہنسی روکتی ہے

تمھیں تو ابھی بتاتا ہوں کہاں سے ٹپکا ہوں

وہ فل تیز رفتار میں بھاگ جاتی ہے

نہی پکر سکتے

واش روم کے اندر سے نشاء جھانک کر کہتی دروازہ بند کرتی ئے

انا میرے پاس ہے مس نشاء حور

خان کی مائن

وہ کھرکی تک اتا اونچی اواز میں بربراتا چلا جاتا ہے

———————

مَن

وہ نیند میں تھی جب کوئی محبت بھری اواز سے اسکا نام پکارتا ہے

اسے ساتھ میں اپنے بالوں پر بھی انگلئوں کا لمس محسوس ہو رہا تھا

مَنن

اب کوئی اسکے چہرے پر اپنی انگلیاں پھیر کر اسے جگانے کی کوشش میں نام کو برھا کر پکارتا ہے

وہ اچانک ہی نیند سے بیدار ہوتی اٹھ جاتی ہے

سامنے ہی اسکی نگاہیں ضرار سے ٹکراتی ہیں

جو مسکراتی نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا

میں اپنا نام تو بھول ہی گئی تھی

چہرے سے بال پئچھے کرتی وہ ضر کے روشن چہرے کو دیکھتی ہوئی بولتی ہے

مگر ضرار کچھ نہی بھول سکتا نور تو میری جان پر سوٹ کر گیا تھا اس لئے ورنہ ضرار مرزا کو اپ کا نام بہت پسند ہے

روحِ مَن

اس نے جس قدر محبت سے اسکا نام لیا تھا وہ پیاری سی مسکان اسکی طرف اچھالتی ہوئی اٹھ بیٹھتی ہے

وہ واپس اسے خود پر گرا لیتا ہے

———————-

یہاں بیٹھو

ضرار روح کا ہاتھ تھام کر بیڈ پر بٹھاتا سامنے کھڑا ہوتا ہے

وہ ابھی چینج کر کے ائی تھی

ضر مجھے نیچے

وہ ابھی لفظ مکمل بھی نہی کرتی ضرار اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھ دیتا ہے

سچائی جاننا چاہتی ہو نہ اور یہ وعدہ لینے کی مجھے ضرورت ہی نہی کہ کسی کو بھی اس بارے میں نہ پتا لگے واقف ہوں تم راز رکھنا بہت اچھے سے جانتی ہو

وہ دو پل خاموش نظروں سے اسے دیکھ بولنا شروع کرتا ہے وہ بھی یک ٹک ضرار کو دیکھ رہی تھی

وہ جانتی تھی وہ یقین کبھی نہی توڑ سکتا تھا اسکا

اپنا کام شروع کرنے کے ساتھ میں نے ایک سیکریٹ ایجنیسی بھی چلاتا ایا ہوں

جس کی وجہ سے تمہارے ضر کے بہت سے دشمن ہے اس دن جو ائے تھے

وہ کافی پرانے دشمن نے بھیجے تھے میرے

وہ لرکیاں بیچنے کا کام کرتے ہیں دو بچیوں کے ساتھ

وہ اگے خاموش ہو جاتا ہے

وہ درد بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی

احمد کو جب یہ معلوم ہوا تو اس نے انکا ہورا جسم تیزاب سے جلا دیا مجھے بتا کر

اھمد اور میں اکھٹے وہ کام سنبھالتے ہیں

یہ سب بتانے کی وجہ تمہارا وہ یقین ہے روح مجھے فخر ہے تم پر

کوئی سوال

ضرار سب بتا کر اسکی بری ہوئی انکھوں میں دیکھ کر ہوچھتا ہے

وہ ہاں میں سر ہلاتی ہے

کالج میں جو ہوا وہ بھی

وہ اگے لفظ ادھورے چھور دیتی ہے

ضرار ہاں میں سر ہلا دیتا ہے

کیا انسانیت ختم ہو گئی ہے ضر

وہ اچانک ہی رونا شروع کر دیتی ہے

اسکی کتنی دوستیں اس وقت زخمی تھیں

روح میں تمھیں صرف ایک چیز سے منا کرتا ہوں رونے سے کیا تم وہ بات نہی مان سکتی اور شکر کرو جان کو خطرہ نہی ہوا کسی کی احمد کو وقت پر پتا چلا تھا وہ مجھے نہی بتا ہایا تھا سو پلیز مَن

ضرار تھورا اگے ہو کر اسے خود میں بھینج لیتا ہے

—————-

ضر ہم کہاں جا رہے

یہ وہ پانچ منٹ میں تیسری بار ہوچھ چکی تھی

انکھوں پر سیاح پٹی باندھے وہ اسے اپنے ساتھ کہیں لیتا ہوا جا رہا تھا

سٹیپ ہے مَن

وہ اگے اکر اسکے دونوں ہاتھ تھام کر اتارتا ہے

ضر بس نہ اور کتنا

وہ منہ پھلا لیتی ہے

بس

ون

وہ ایک اور قدم اسے اگے کرتا ہے

ٹو ایک اور

تھری کھولو ضر کی جان انکھیں

اسے پیچھے سے اپنے کان کے بلکل قرئب اسکی اواز سرگوشیانہ سنائی دیتی ہے

ساتھ ہی وہ پٹی اتار دیتا ہے

وہ دھرے دھیرے انکھیں کھولتی ہے

ضر ی یہ سب

سامنے ہی چھوٹی چھوٹی موم بتیوں سے اسکا نام لکھا گیا تھا

مگر صرف” مَن”

تبھی وہاں سنو سٹارٹ ہوتی ہے

افف واؤ ضر ائی لو سنو واؤوو

وہ اگے برھ کر گول گول گھومتی خود پر گرتی برف کو محسوس کر رہی تھی

سامنے ہی وہ سینے ہر بازو باندھے اسے محبت سے تک رہا تھا

اسے وہ اپنی نظروں کے حصار میں ہی تو قید رکھتا تھا

تم جانتی ہو اج تک دنیا میں صرف بیویوں نے شوہروں کی محبت کی دعائیں مانگی ہیں میں اکلوتا ہوں مَن جس نے اپنے جنون کی محبت خدا سے راتوں کو اٹھ اٹھ کر باقاعدگی سے مانگی ہے

ضرار نے دونوں ہاتھ اسکے اپنے ہاتھوں کی قید میں لئے ہوئے تھے

وہ کچھ بھی کہنے سے انکاری تھی

کوئی بھی لفظ نہی تھا وہ کیا کہتی

اس کے لہفظوں کی خوبصورتی اور سچائی نے جکھڑ لیا تھا اسے سحر میں

اسان لفظوں میں ضرار کی روح بہت خوش نصیب ہے

روح ضرار کا چہرہ ہاتھوں کے پیالہ میں لے کر اسکی گہری انکھوں میں جھانکتی ہوئی کہتی ہے

اس پاکیزہ رشتہ نے اور میری دعاؤں نے مسز ضرار اپکو مجھ سے کرا دیا نہ عشق

اب وہ اسے سر سے پیر تک دیکھتا اسکی کمر پر بازو باندھتا ہے

سچ کہوں تو ہاں مجھے عشق نے چن لیا مجھے خود ہر رشک ہوتا ہے اپکا جنون دیکھ کر

وہ پاؤں اوپر کرتی دونوں بازو اسکے گلے میں ڈال لیتی ہے

اور مجھے خوشی تمھیں اپنے نظروں کے سامنے دیکھ کر

دل سے شکر نکلتا ہے جب جب تمھں اپنے پاس دیکھتا ہوں

وہ جھک کر اسکی کان کی لو چوم لیتا ہے

تو مسٹر ضرار مرزا کیا اپ کو اپنی چھوٹی سی چریا بقول اپ کے اسکا عشق قبول ہے

وہ پیچھے ہو کر دونوں بازوں کو کھول کر بولتی اخر میں اپنا سر ایک سائیڈ کر کے پوچھتی ہے

اپنی معصومیت سے اسکے دل پر وار کرتی ہے

جہاں امید ہو سامنے اسکا مان رکھا جائیگا تو مان رکھ لینا چائیے اور یہاں اسے امید نہی یقین تھا

تبھی وہ جھٹکا کھا کر گھٹنوں کے بل گرتا ہے

ضر کیا

وہ فورا اس کے پاس بھاگتی ہے مگر وہ اسے اپنے پاس کھینچتا خود میں ہوتا چھپا لیتا ہے

ایک آگ کا گولہ اس کے جسم میں پیوست ہوا تھا

مگر وہ ہھر بھی اسکی حفاظت کیے بیٹھا تا

ض ضر خون ضر اپ ک کو گولی

وہ بول رہی تھی مگر وہ بند ہوتی انکھوں سے مسکراتا ہوا اسے ہی دیکھ رہا تھا

می میرا عشق م مجھے ت تنہارا عشق دل و جان سے قبول ہے

وہ یہ لفظ اسکا چہرہ نظروں کے حصار میں لیے بولتا اسکی باہوں میں ہی انکھیں بند کر دیتا ہے

ضرار ضر

وہ اسے ہلا رہی تھی کبھی چہرہ تھپک رہی تھی

مگر اسکا جسم بے سود پڑا تھا اسکی باہوں میں چھپا

—————————

سرخ رنگ کا لانگ فراق پہنے سر پر سجا ہوا سرخ دوپٹہ لئے وہ سچ میں اج اپنے خان کی حور لگ رہی تھی

کہیں ہاتھوں میں مہندی سجائے کوئی انتظار میں تھی تو کہیں وہ اپنے شریک حیات کا خون ہاتھوں میں لگائے بیٹھی تھی

———————

کار جھٹکے سے رکتی ہے

وہ حیرانی سے اس پاس دیکھ رہی تھی

خان اسکی یون دیکھنے ہر مسکرا رہا تھا

پورا گھر بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا

راستے میں ہھول بچھے ہوئے تھے

وہ خاموش تھی شاید وجہ رخصتی تھی

اہم چلیں

اسے ایک جگہ رکا دیکھ خان اپنی چوری ہتھیلی پھیلاتا ہے

وہ مسکراتے ہوئے ہاتھ تھما دیتی ہے

پھولوں کے راستے گرزرتے وہ اندر داخل ہوتے ہیں

جہان اسکے قدم رکھتے ئی ہھولوں کی برسات شروع ہو جاتی ہے

———-

احمد بھائی میں کہ رہی ہوں مجھے ضر کے ساتھ جانا ہے

اج لگ رہا تھا ضرار کا جنون روح میں منتقل ہو گیا ہے

وہ نرم مزاج لرکی بری طرح احمد کو جھڑک رہی تھی

اس کے کپروں پر ضرار کا خون لگا ہوا تھا ضرار کا سر اب بھی اسکی گود میں تھا

——————

ہسپتال کے ٹھنڈے کوریڈور میں وہ دیوار سے پشت لگائے کسی غیر مرعی نقطہ کو تک رہی تھی

تبھی کہیں دور سے ازان کی اواز سنائی دیتی ہے

ضرار ابھی تک ائی سی یو میں تھا

روح انسو پونچھتی نماز والی سائیڈ جاتی ہے

احمد بھی نماز ادا کرنے گیا ہوا تھا۔ شاید

———————

ضر کی روح

ضر کی جان

مَن

افف میرا لٹل برڈ

میری چھوٹی سی چریا

وہ ہر محبت بھرا لفظ اسے اپنے کانوں میں گونجتا محسوس ہو رہا تھا

ابھی نماز ادا کی تھی

ہر لفظ کے ساتھ انکھوں سے انسو بہے تھے

اب بھی وہ انسو بہاتی دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے بیٹھی تھی