Tera Junoon by Laiba Khan NovelR50433 Tera Junoon Episode 8
Rate this Novel
Tera Junoon Episode 8
Tera Junoon by Laiba Khan
ضرار روح کے لئے سوپُ بنا رہا تھا
اسے سختی سے اس نے آرام کرنے کا کہا تھا
وہ جب سے آئی تھی آرام ہی کر رہی تھی
وہ اب بہت بور ہو گئی تھی
اس لئے پاؤں میں شوز پہنتی آرام آرام سے چلتی باہر اتی ہے
اس کا پاوں بھی بہتر ہو رہا تھا
ضرار کچن میں ایپرن باندھے ماہر طریقے سے کام کر رہا تھا
روح میں نے منا کیا تھا
وہ بغیر مڑے بغیر ہاتھ روکے اسے کہتا ہے
وہ اپنی جگہ رک جاتی ہے
کہ اس نے تو کوئی آہٹ تک نہیُ کی تھی
یہاں آؤ
وہ اب کام روک کر مڑ کر ہاتھ آگے کرتا اسے بلاتا ہے
وہ ہچکچاتے اسکے قریب آکر کھرے ہو جاتی ہے
وہ بازوں میں اٹھا کر اسے شیلف پر بٹھا دیتا ہے
میں ٹھیک ہوں
وہ اس انکھیں چھوٹی کر کے جتاتی ہے
میں جانتا ہوں میری چریا
وہ اسکے گال پر چٹکی کاٹ کر کہتا ہے
وہ آفس سے بھی ہو آیا تھا کچھ دیر کے لئے
روح نے اپنے گھر بتانے سے منا کیا تھا اس کی والدہ نے پریشان ہو جانا تھا
سب اسے ویسے بھی بچوں کی طرح ٹریٹ کر رہے تھے
ضر مجھے سوپ نہیُ پینا
وہ اسے سول میں سبزیاں ڈالتے دیکھ منہ کے زاویے بگارتی ہے
تمہاری صحت کے لئے ہے روح
مگر ضر مجھے نہیُ پسند نہ کیا میں کچھ سپائسی سا نہیُ کھا سکتی
وہ اسے اب ضر ہی بلاتی تھی اس کی زبان پر یہی لفظ شاید رک سا گیا تھا
ضرار نے بھی اسے ایک بار نہیُ ٹوکا تھا بلکہ اسے تو اچھا لگتا تھا اس کا یوں اتنا ایزی نک۔ نیم لینا
تم نے کوئی سپائس نہیُ کھانا روح
ضرار باقاعدہ انکھیں دکھاتا ئے
مجھے یہ بری بری انکھیں نہیُ دکھاؤ نہیُ تو نیچے چلی جاؤنگی
وہ مزے سے اسے دھمکاتی ہے
وہ اسکی بچکانہ دھمکی پر قہقہ لگا دیتا ئے
میں گود میں اٹھا کر واپس لے آؤں گا اپنی چھوٹی سے برڈ کو
اپنی بات اسے مزاق میں اڑاتا دیکھ وہ سیریس ہوتی اتر کر باہر جانے لگتی ہے
جب وہ سرعت سے اسکی کلائی پکر کر اپنے روبرو کرتا ہے
میرا برڈ ناراض ہو کر جا رہا ہے
وہ اسکی بات پر سر اوپر نیچے کیوٹ سا فیس بنا کر ہلاتی ہے
اوہ تو واپس نہیُ آئیگا اگر نیچے گیا تو
وہ اسکے بال ٹھیک کرتا اب بھی سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا
وہ اس سوال پر بھی ویسے ہی سر ہلاتی ہے بس اس نے اب نفی میں ہلایا تھا ہلکے سے ورنہ اسے درد ہوتا
تو پاستا کون کھائیگا
وہ شیلف پر جو اس نے پہلے پاستا بنا رکھا تھا اس کی طرف اشارہ کر کے پوچھتا ہے
یممی
وہ بغیر لب ہلائے کہتی اسے چور نظر دیکھتی ہے
مجھے سائرہ بنا دیگی چھوریں میں جاؤن
اسکی نزدیکی پر اس کی ہارٹ بیٹ تیز ہو چکی تھی
اس لئے اس کے حصار سے نکلنے کی کوشش کرتی ہے
اممم ٹھیک ہے جاؤ
وہ نرمی سے پیچھے ہو کر شیلف سے ٹیک لگا کر اطمینان سے کہتا ہے
دونون بازو سینے ہر باندھے وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا
میں جا رہی
اسے بلکل رلیکس دیکھ اسے اندر سے جلن ہونے لگتی ہے
اس لیے اب کھینچ کر الفاظ ادا کرتی ہے
وہ اب ہاتھ کے اشارے سے باہر کی طرف راستہ دکھاتا ہے
میں کبھی نہیُ آؤنگی مر ک
ابھی اس کے الفاظ مکمل بھی نہیُ ہوئے تھے ضرر لمحوں میں اس کے اور اپنے بیچ فاصلہ تہ کرتا اسکے بازو دونوں پیٹ پر لگا دیتا ہے
آئیندہ ایسے لفظ اپنی زبان سے ادا کیے ایک لمحہ نہیُ لگاؤنگا اسے کاٹنے میں
اسکی گرفت روح کی کلائیوں پر سخت ترین تھی
اور اوپر سے اسکی سلگتی نگاہیں اور آواز جو بلکل کان کے پاس تھی
چھ چھوریں
وہ آزاد ہونے کی کوشش مین ہلکا ن ہوتی ہے
روح خاموشی سے اندر جاؤ
ضرار روح کو چھرور دوبارہ کام کرنے لگتا ہے
وہ انکھوں میں پانی لیے اسکی پیٹ گھورتی نیچے چلی جاتی ہے
وہ جانتا تھا اس نے ناراض ہو کر نیچے ہی جانا تھا
وہ مڑ کر باہر کی طرف دیکھتا ہے
—————
وہ دادو کے پاس بیٹھی منہ پھلائے ہوئے تھی
وہ سارے ڈائننگ پر بیٹھے تھے
سارے گھر والے رات کا کھانا روز ہی ایک ساتھ کھاتے تھے
بس کبھی بھی ضرار موجود نہیُ ہوتا تھا
دونون کہنیوں پر چہرہ ٹکائے وہ کسی غیر مرسی نقطہ کو گھور رہی تھی تبھی کوئی اس کے سامنے آہستہ کی پلیٹ رکھتا ہے
مجھے نہیُ کھانا سائرہ
وہ کسی کے بھی حیران تاثرات نوٹس نہیُ کرتی
اسے تو ضرار کا آگنور کرنا بہت برا لگا ہوا تھا
ہر کوئی ضرار کو وہان موجود دیکھ منہ کھولے کھانا روکے اسے دیکھ رہا تھا
وہ کسی پر بھی دیہان نہیُ دیتا اسے کھانا دے کر روح کے پاس ہی بیٹھ جاتا ئے
سربراہی کرسی خالی تھی
دادو سے پیار لے کر وہ روح کی انکھوں کے سامنے چٹکی بجاتا ہے
وہ ہوش کی دنیا میں آتے اس پاس دیکھتی ئے
سب واپس اپنی پلیٹوں ہر دادو کی گھوری سے جھک چکے تھے
ضرار کو ان کے یوں گھورنے ہر کوئی فرق بھی نہیُ پرا تھا
میں نہیُ کھاؤ گی
وہ پہلے ضرار کو پھر پاستا کی پلیٹ دیکھ ہلکی آواز میں اسے ناراضگی سے کہتی ئے
وہ خود اپنی ہاتھ سے اسے کھلانے لگتا ہے بغیر کسی کا خیال کیے
میں کھا رہی ہوں
وہ اسکا ہاتھ گھور کر پلیٹ پر جھکتی ہے
وہ دھیمے سے مسکرا دیتا ہے
ہائے گائز
تبھی ایک ماڈرن سی لڑکی نشاء اس کی کزن اندر اتی سب کو اپنی جانب متوجہ کرتی ئے
روح نے اسکی تصاویر دیکھیں تھیں
اس لئے پہچان گئی تھی
ارے نشاء تم
سارے کزنز کھرے ہو کر اسے باری باری ملتے ہیں
واٹ آ پلیزینٹ سرہرائز
سائرہ اس کے گلے لگتی بولتی ئے
بس دیکھ لو
وہ اسکے گال ہر پیار کر کے کہتی ہے
چہرے ہر ہیوی میک کیے وہ پیاری لگ رہی تھی
وہ ضرار کو دیکھ سائرہ کو آنکھ مارتی ہے
جیسے اس سین کے بارے میں پوچھنا چاہتی ہو
ہماری روح کا اثر ہے
سائرہ اس کے کان میں بربر اتی ہے
وہُ با مشکل اسکی بات ہر مسکرا دیتی ہے
ہائے دادو
وہ انکے گلے میں بانہیں ڈالتی ہوئی بولتی ئے
کیا ہائے شائے سلام کیا کرو
وہ ہمیشہ کی طرح اسے ٹوکتئ ہیں
اور وہ بس سر ہلا کر رہ جاتی ہے
اس سے ملو ہماری کیوٹ سی بےبی روح
سائرہ روح کا گال سہلا کر اسے کہتی ئے
اوہ ہائے تو تم ہو روح
نشاء ایک ناگوار نظر ڈال کر خود کو کمپوز کر کے میٹھی مسکان چہرے پر سجاتی ہے
السلامُ علیکم
وہ ہاتھ آگے کرتی ہوئی سلام کرتی ہے
ہمم وعلیکم
وہ ہاتھ تھام کر بس اتنا ہی کہتی ہے
ضرار جو کب سے خاموش تماشائی بنا ہوا تھا
اس نے ایک نظر تک نہیُ ڈالی تھی
اپ یہاں کیسے
نشاء بلکل فرینک انداز میں ضرار سے کہتی ہے
روح انکھیں سیکیڑتی
ضرار کے چہرے ہر ناگواری صاف واضح ہوتی ہے
روح باقی سوپ پینا اٹھو
وہ اسے ایک نظر بھی دیکھے بغیر کھرا ہو کر روح کا ہاتھ تھام کر کھرا کرتا ہوا اوپر کی طرف برھ جاتا ئے
دادو انکے پیچھے انکے دل سے ماشاء اللہ بولتی ہیں
ان میں سے کسی کو بھی اس کی فکر کرنے کی ضرورت نہیُ تھی وہ بہت اچھی طرح اس کی ہر چیز کا خیال رکھ رہا تھا
اس کی تو
وہ دانت پیستی ہے انہیں ساتھ دیکھ
یار تم جانتی تو ہو انہیں یہ تو وہ روح کے لئے آئے تھے وہ منہ پھلا کر بیٹھی رھی اس لئے
سائرہ اسے سمجھاتی ہوئی واپس بیٹھتی ہے
کیا مطلب وہ دو دن کی آئی لرکی اس قدر اہم ہوگئی ہے واہ بھئی اور کسی کہ کہنے پر تو یہ نواب نہیُ آئے اور کسی کو تو جواب تک نئی دیتے کون سے موتی لگے ہیں اس دو کوری کی لرکی کو
اس جے لہجہ میں حد تک کا غصہ تھا
How dare you
دو کوری کا کس کو کہا تم نے
ضرار جو روح کا موبائل اٹھانے آیا تھا اس کی بکواس سن کر دہھارتا ہے
وہ ڈر کر رخ مورتی ہے
سائرہ بھی اسے بہت غصہ سے گھور رہی تھی
ایم سوری ضرار
وہ بغیر شرمندگی کے پھر بھی معافی جنگ لیتی ہے
اوقات میں رہو
ضرار انگلی اٹھا کر اسے وارن کرنا اوپر چلا جاتا ہے
تمہاری ہمت کیسے ہوئ روح جے بارے میں یہ بکواس کرنے کی
وہ سارے کزن اس پر غصہ بھری نگاہ ڈالتے ہوئے پوچھتے ہیں
گائز ایسے ہی غصہ میں سوری نہ کہا تو ہے بس کرو
وہ انہیں کول کرتی اس روم میں برھ جاتی ہے
جہان وہ رہتی تھی
——————
روح دوائی لو
ضرار ٹیبلیٹ ہاتھ میں لئے اور ایک ہاتھ مین پانی کا گلاس پکرے اس کے سر پر کھرا تھا
وہ منہ بنا کر لے کر گلاس واپس کر دیتی ہے
ناراضگی اب بھی قائم تھی
اوکے مائے لٹل برڈ اب آرام کرو
وہ تکیہ ٹھیک کر کے کمفرٹ اوپر کرتا اسے صحیح سے بیٹھنے کا اشارہ کرتا ہے
نہیُ کرنا
وہ دانت پیستی جواب دیتی ہےُ
مطلب کوئی ویلیو نہیُ اسکی کہ منائے
وہ دل میں ہی سوچتی ہے
اوکے باہر چلنا ہے
وہ کمفرٹ رکھ کر پاس بیٹھ کر سوال کرتا ئے
میں خود چلی جاؤنگی
رخ موڑ کر وہ ویسے ہے منہ بنائے جواب دیتی ہے
میرے ساتھ آؤ
ضرار کھرا ہو کر اپنی ہتھیلی سامنے کرتا ئے
وہ احسان کرنے والے انداز میں ہاتھ پٹک کر اسے پکراتی ہے
ضرار اسے سیدھا باہر لاتا ہے
باہر اس نے بہت پیارا سیٹ اپ کیا تھا
نیچے دو کشنز بڑے سے سامنے ایک چھوٹی سی ٹیبل پر کھانے کی چیزیں موجود تھیں
ساتھ ہی شالز پری تھیں چونکہ سردی زیادہ تھی اس لئے چھت پوری کور تھی بس سامنے سے آسمان نظر آرہا تھا
انکے باہر آتے ہی لائٹس اوف ہو گئی تھیں
جس سے تارے صاف واضح خوبصورتی سے نظر آ رہے تھی
ضرار اسے بٹھا کر خود اس پر شال اورھاتا پاس ہی بیٹھ جاتا ہے
اس نے لیپ ٹوپ میں مووی لگا کر سامنے رکھ دی تھی
————-
اس کی ہمت کیسے ہوئی مجھ پر چلانے کی سمجھتا کیا ئے خود کو
نشاء ہر چیز اپنی بیگ سے نکال کر باہر پھینک رہی تھی
وہ اس وقت کوئی دماغی مریض لگ رہی تھی
کوئی نئی مسٹر ضرار جتنے سالوں سے تم ہر نظر ہے اتنی آسانی سے اس جیسی کے ہاتھ نہیُ لگنے دونگی
وہ دماغ میں پلینز بناتی ہوئے بیڈُ پر لیٹ جاتی ئے
