Tera Junoon by Laiba Khan NovelR50433 Tera Junoon Episode 13
Rate this Novel
Tera Junoon Episode 13
Tera Junoon by Laiba Khan
روح اب تک جاگ رہی ہو اور چینج بھی نہیں کیا
ضرار کو آج آفس سے آنے میں دیر ہو گئی تھی وہ پہلے ہی اسے کال کر کے اپنا لیٹ آنے کا بتا چکا تھا
اس کی مری میں ایک برانچ تھی وہ تین ماہ بعد یہان آیا تھا کافی سارا کام اسکا پینڈنگ تھا
مگر وہ اب تک ویسے ہی بیٹھی تھی
وہ الماری سے اسکے ٹراوزر اور شرٹ اٹھا کر اسکے قریب آتا ہے
جاؤ روح چینج کرو اٹھو
وہ ایک ہاتھ مین کپڑے پکڑ کر دوسرے سے اسکو اٹھاتا ہے
وہ اسکے سینے تک آتی تھی
ضر نئیں نہ مجھے اپ کی شرٹ پہننئ ہے
وہ کپڑے خود سے دور کر کے منہ پھلا کر کہتی ہے
وہ اسکی معصومیت پر جھک کر اسکے گال چومُ کر اسے حصار میں لیتا ہے
میرا سب تمہارا ہے جو چاہئے لے لو یہ بندہ بشر آپکا ہے تو چیزوں کی کیا مجال
تو میں اپ کی شرٹ پہن لو
وہ معصومیت سے آنکھیں پٹپٹا کر پوچھتی ہے
جی میری روح میرا سکون آؤ
وہ کپڑے واپس رکھ کر اسکی مرضی کی شرٹ اسے نکال کر دیتا ہے
وہ لے کر چینجینگ روم میں گھس جاتی ہے
وہ خوبصورت مسکراہٹ ہونٹون ہر سجا کر واش روم میں گھس جاتا ہے
وہ چینج کر جے آ چکا تھا
وہ اب تک اندر تھی
میری جان باہر۔ اجاو کیا ہوا
وہ اسکے کہتے اسکی شرٹ سے الجھتی باہر نکلتی ہے
بلیک ٹراوزر اس نے اپنا پہنا تھا مگر بلیک شرٹ ضرار کی تھی
میری چھوٹی سی چڑیا یہاں آؤ
وہ اسکا ہاتھ تھام کر بیڈ پر بٹھاتا پاس بیٹھتا
اس کے بازو صحیح سے فولڈ کرتا ہے
——
ضر نماز کا ٹائم ہو گیا ہے
عشاء کا وقت دیکھتی ہوئی روح ضرار سے کہتی ہے جو اب یہاں بھی دوبارہ کام کرنے بیٹھ رہا تھا
وہ اتنا سمجھ گئی تھی وہ اس کی خوشی کے لئے یہاں آیا تھا ورنہ اسے بہت کام تھے
ضر اسکے کہنے پر گھڑی پر نگاہ ڈال کر اٹھ جاتا ہے
تم نماز پڑھو میں بھی پڑھ کر آیا
ضرار جوتے پہنتا اسے کہ کر نکل جاتا ہے
—————-
اپنے بس میں کر لیتے ہو![]()
کتنا بے بس کر دیتے ہو![]()
روح نماز پر بیٹھی دعا مانگ رہی تھی
ضرار بھی ابھی نماز ادا کر کے کمرہ میں آیا تھا
ضر ایک بات پوچھوں
نماز پر ہی وہ بیٹھے سامنے کھرے ضرار سے سوال کرتی ہے
ان دونوں کے چہرے پر نور صاف واضح تھا
بلکل
ضرار وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتا ہے
کیا یہ غلط نہیُ شوہر بیوی کو میرا بچہ یا یہ سب کہے
آج وہ کہیں سے یہ بات کرتے وہ معصوم روح نہیُ لگ رہی تھی
وہ دو لمحہ بلکل خاموش رہتا ہے اس کمرے میں صرف گھڑی کی ٹک ٹک کی آواز گونج رہی تھی
نہیُ جانتا بس محبت ہی ایسی ہے کہ عزت کرنے میں اپ کی زبان پر جو لفظ ہوتا وہ ادا ہو جاتا ہے تمہاری عزت میرا دل میری نگاہیں میری روح سب کرتے ہیں روح شاید اس لئے کیا تمھیں برا لگتا ہے
وہ نہایت سکون سے جواب دےکر سوال کرتا ہے
روح کی پیشانی پر ایک سلوٹ نمایاں ہوتی ہے
نہیُ آج زہن میں یہ بات آئی تو پوچھ لی اس لئے مجھے لگتا ہے کہ میں اپ کو کمزور لگتی اس لئے مگر ضر میں یہ سب فیس کر سکتی میرے اللہ نے مجھ پر اتنا ہی بوجھ دیا ہے جو میرے کندھے مضبوطی سے اٹھا سکتے جانتی ہوں ایک سوال بنا دی گئی تھی میری زات میری عزت مگر میں یہ آیت بھی نہیُ بھول سکتی میں نے اس سے خود کو جوڑ رکھا تھا ضر وہ آیت میرے دل کے بہت قریب ہے میرا اللہ شاید وعدہ کر رہا۔ ہے اس میں
“عزت دینے والی اور زلتدینے والی زات میرے اللہ پاک کی ہے “
میرے اپنے خون نے مجھ پر انگلی اٹھا دی تھی اتنے سال رائیگاں گئے ضر مگر میں نے ہمت نہیُ ہاری میرا اللہ ہر موڑ پر میرے ساتھ تھا
میں گری تھی تو اسی نے ہی تو کھڑا کیا تھا اپ کو ہمسفر بنا کر
ضرار دم بخود اس کو سن رہا تھا
وہ جانتا تھا وہ ایک مضبوط عصاب کی مالک ہے آج جان گیا تھا وہ سچ میں وہ نہیُ جو نظر اتی ئے وہ الگ ئے اس میں ایک اور چھپی ہوئی شخصیت ہے
جو خود کو جاننے کتنے رازوں میں قید کیے ہوئے ہے
اپ مجھے عزت دیتے ہیں جانتی ہوں مگر ضر میں اپ کی بیوی ہوں تو کیا یہ لفظ صحیح ہیں کیا یہ ٹھیک ہے میں تم کہتی ہوں اپ ٹوکتے کیوں نئی مجھے روکتے کیوں نہیُ
ضرار اب اسکا ہاتھ تھام کر ہلکی سی تھپکی دیتا ہے
جو چاہو کہو ہر چیز کی اجازت ئے جانتی ہو کیوں
وہ کچھ لمحہ اسکی سوالیہ نگاہوں میں دیکھ کر رکتا ہے
اور دوبارہ بولنا شروع کرتا ہے
اس کے لہجہ میں ہمیشہ ایک بات ہوتی تھی عزت اور محبت
اور نرمی تو سب سی برھ کر
کیونکہ میں جانتا ہوں کس قدر عزت کرتی ہو میری
مین بھی تو تم کہتا ہوں اور اپ بھی تمہارا وجود عزت کے لئے ہے
تم جانتی ہو یہ میرے لئے کوئی شرمندگی کی بات نہیُ ہوگی
بہت سے مرد جو مرد کہلانے کے لائق نہیُ وہ عورت کو اس لئے عزت نہیُ دیتے کہ وہ اپنے جیسے معاشرے میں بے عزت ہونگے
مگر جانتی ہو اصل مرد جانتا ہے
عورت کو عزت ہی تو اوّل دینی ہوتی ہے
اب اس نے روح کو بلکل خاموش کروا دیا تھا
اب وہ خود بھی تو خاموش ہوا تھا
دونون کی اب نگاہیں باتیں کر رہی تھیں
چلو اٹھو دیر ہو گئی ہی سو جاؤ
اسکا ہاتھ تھام کر کھرا کرتا وہ جائے نماز اٹھا کر تہ کر کے رکھتا بیڈُ پر بیٹھتا ہے
ضرار مجھے خوشی ہے کہ جو فیصلہ ہمارا ہوا ہمیں ایک پل کے لئے بھی اس پر کوئی شکایت نہیُ رہی میں شکر گزار ہوں مجھے اللہ نے اپ سے یعنی ضرار مرزا سے نوازا
وہ آگے برھ کر اسکا ہاتھ تھام لیتی ہے
تم جانتی ہو جنون کیا ہوتا ہے
اب وہ جانتی تھی وہ دوبارہ اپنے لفظوں میں جکھڑ نے والا تھا
مجھے خوشی ہے میرا سکون میری روح میرا وجود میرا جنون ہے جنون ایک سکون ہے جو تم ہو مجھے تم سے اپنی زندگی میں سکون نظر آتا ہے تمھیں دیکھتا ہوں تو بار بار شکر ادا کرنے کا دل کرتا ہے جو ہر نماز کے آخر مین ضرار مرزا کرتا ہے
وہ اسکا وہی ہاتھ تھام کر عقیدت سے بوسہ د دیتا ہے
اسکی انکھوں میں کس قدر سچائی تھی وہ سامنے بیٹھی دیکھ رہی تھی اس کے چہرے کا سکون اسے بہت بھلا لگا تھا
ضرار میں خوش قسمت ہون مجھے اللہ نے ایسا حسین ہمسفر دیا
وہ سینے پر سر ٹکا دیتی ہے
وہ اپنے جنون کاُحصار باندھ دیتا ہے اس پر
————-
وہ سب لوگ مزے سے ہر طرف انجوائے کر رہے تھے
نشاء بھی بامشکل ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے ہوئے تھی
پہلی اداسی اور اب اس شخص کی سوچ زہن پر بری طرح سوار تھی
السلامُ علیکم دادو
جیسے ہی اسکا فون رنگ کرتا ہے وہ مسکرا کر کال رسیو کرتی ہے وہی تو اسے کال کرتی تھیں
وعلیکم السلام کیسا ہے میرا بچہ
دادو محبت بھرے لہجہ میں دریافت کرتی ہیں
میں ٹھیک ہوں بھئی آپکے جو ضر میاں ہیں نہ اللہ معافی پتا نئی ہمارے بچہ کو کہاں لے گئے
وہ ایک بینچ پر بیٹھ جاتی ہے
ہاہاہہاُ بس کیا کر سکتے ہوں میں خوش ہوں وہ دونون خوش ہیں بس اب تمہاری زمہ داری ادا ہو جائے تو سکون سے مر سکوں
دادو
وہ فورا چلا اٹھتی ہے
میرے پاس صرف اپ ہیں جو اس دنیا میں بے لوث محبت کرتیں پلیز یہ مت کہیے گا آئندہ
اچانک ہی اسکی انکھیں نم ہوئی تھیں
نہیُ میرا بچہ رو نہیُ دادو تم سے سب سے زیادہ محبت کرتی ہے
مگر دادو بابا نہیُ کرتے ماما نہیُ کرتی
آج پہلی بار اس نے شکایت کی تھی
اس شکوے بھرے لہجہ میں کس قدر درد تھا وہ کسی نے اپنے دل پر ایک زخم کی طرح محسوس کیا تھا
میری جان کیوں نہیُ کرتے
کرتے ہیں نہ سب میرے بچہ سے محبت کرتے ہیں
وہ خود بھی بہت مشکل سے اپنی آواز نارمل رکھے ہوئے تھیں
دادو
روتے روتے اسکی ہچکی بندھ گئی تھی
میری جان یوں نہیُ روتے
وہ کیا کرتی وہ سامنے بھی تو نہیُ تھی سینے سے لگا کر درد مٹاتیں
دادو ماما کیوں گئی مجھے چھور کر
یہ کہتے ہی فون گود میں گر جاتا ہے
وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر بچوں کی طرح رونے لگ جاتی ہے
مائن
تبھی کوئی بی حد نزدیک سے گھمبیر آواز میں پکارا ہے
یہ آواز وہی تھی کال والے شخص کی اور لفظ وہ جنجھلا اٹھتی ہے
فورا سر اٹھا کر وہ سامنے نگاہ اٹھاتی ہے
سامنے ہی کوئی ماسک چہرے پر لگائے شخس کھرا تھا
لمبا قد چوری جسامت وہ کسی فلم کا ہیرو دکھ رہا تھا
اور سب سے زیادہ پر کشش اس کی انکھیں
نیلی گہری سمندر جیسی انکھیں
اسے لگا تھا وہ دو لمحہ اور دیکھے گی تو اسکی انکھوں کے سمندر میں ڈوب جائیگی
وہ اگلے کی پل ہوش میں اتی ہے
کون ہو تم
ماتھے پر تیوری چرھائے لہجہ بے حد سنجیدہ تھا
وہ شخص بغیر کچھ کہے جیب سے ایک رومال نکال کر اسکی طرف بڑھاتا ہے
جس پر S’k لکھا ہوا تھا
How the hell are you
وہ غصہ سے چلا کر اسکا رومال والا ہاتھ جھٹک دیتی ہے بری طرح
مائن
اب دوسری طرف بھی لہجہ نہایت سخت تھا
کون مائن میں کوئی مائن نہیُ ہوں پیچھا کر کیوں رہے ہو تم ہاں
مائن شٹ اپ
شائد دوسری طرف وہ خود ہر ضبط باندھ رہا تھا
Go to hell
وہ کہتی آگے برھ جاتی ہے بغیر پیچھے پلٹے وہ آگے قدم بڑھاتی رہتی ہے
——————-
ضر چلو نہ
صبح ہوتے ہی روح کی رٹ لگی ہوئی تھی
باہر جانے کے کئے
صبح سے سنو فال ہو رہی تھی
جس کی وہ بی حد شوقین تھی
روح پلیز تم بیمار پر جاؤگی
وہ اسکے سامنے ہار ہی تو جاتا تھا مگر آج اس جے بھی ضد لگائی ہوئی تھی
نئی نو ہلیز چلو
اب وہ باقاعدہ اسکا ہاتھ تھام کر کھینچنے لگتی ئے
روح پلیز سمجھنے کی کوشش کرو
وہ رک کر اسکے دونوں ہاتھ تھام لیتا ہے
ٹھیک ہے مجھ سے بات مت کرنا
وہ آ خر میں اپنا حربہ آزماتی ہے
روح دیٹس نوٹ فئیر
وہ اب سختی اپناتا ہے
اوکے بائے
وہ اوپر کی طرف منہ بنائے چہرے ہر ناراضگی کا بورڈ لگائے برھ جاتی ہے
———__
روح
ضرار روم میں داخل ہوتا پکارتا ہے
وہ بیڈُ پر بیٹھی تھی منہ موڑ لیتی ہے
مائے لٹل برڈ
جب سے روح نے وہ بات کی تھی یا تو وہ اسے روح یا لٹل برڈ ہی بلاتا تھا
یہاں کوئی لٹل برڈ نئی ہے
منہ ہنوز بنائے وہ جواب دیتی ہے
ہے نہ اس وقت کیوٹ سا فیس بنائے وہ رخ موڑ کر بیٹھی اپنے ضر سے ناراض ہے
وہ مسکراہٹ دباتا ہے
ضر مجھے جانا آئے
اب وہ اپنے رونے کا کام سر انجام دینے لگتی ہے
اوکے اوکے ریڈی ہو مگر جو جو دوں گا وہ پہنو گی یہ نہیُ کہ موٹی لگ رہی ہو میں صحت پر ہر گز کومپرومائز نہیُ کروں گا
کہ کر وہ کبرڈ سے چیزیں نکال کر اسکے پاس آتا ہے
جئنز کے ساتھ لانگ فراق تھا
ساتھ کوٹ اس پر ایک جیکٹ بھی اٹھائی گئی تھی اور مفلت کے ساتھ گرم حجاب
وہ انکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی
انکھیں اندر کرو اور جاؤ اگر جانا ہے
وہ جانتا تھا یہ مانے گی تبھی وہ لے کر بھاگے جاتی ہے چینج کرنے
———————
ضر بھائی
جہاں ضرار اور روح آئے تھے وہان وہ سب بھی موجود تھے
نشاء ضرار کو ایک شوپ پر کھرا دیکھ پکارتی ئے
روح سائرہ اور باقی سب کے ساتھ تھی اس نے ہی ضر کو بھیجا تھا
ضرار آواز پر پلٹ کر اسے ایک نظر دیکھ آگے برھنے لگتا ہے
ضر بھائی مجھے بات
ابھی اس کے لفظ ادا بھی نہیُ ہوتے وہ اسکی بات کاٹ کر بولنے لگتا ہے
کیا بات کرنی ہے تمھیں کہیں اپنے اس ڈرامہ سے رلیٹڈ تو نئی
وہ حیرت سے اسے دیکھتی ئے کیا وہ سب جانتا تھا
کیا تم لوگ ضرار مزا سے کچھ چھپا سکتی ہو تو یہ بھول ہے
وہ گھڑی ہر نگاہ ڈال کر طنزیہ بولتا ہے
ضرار بھائی ایم سوری مجھے یہی کہنا تھا
وہ انگلیاں مرورتی ہوئی معزرت خواہ لہجہ میں کہتی ہے
ہممم
وہ صرف یہی کہ کر برھ جاتا ہے
وہ اسکی پیٹ دیکھتی رہ جاتی ہے
————
روح نے ضرار کو نشاء سے بات کرتے دیکھا تھا
وہ جیسے اس کے پاس آتا ہے
وہ منہ بنا کر آگے برھ جاتی ہے
روح۔ کیا ہوا ئے
اسکا ناراض چہرہ وہ دیکھ چکا تھا
جائیں اسی سے بات کریں
اسکی بات کا مطلب وہ سمجھ جاتا ہے یعنی وہ نشاء سے جیلس ہو رہی تھی
وہ اسکی حرکت پر مسکرا دیتا ہے
پکا جاؤں
وہ تو مزاق کرتا ئے مگر وہ رونے لگ جاتی ہے
یار روح میری چریا میں مزاق کر رہا تھا
ضرار اس کے دونون کندھے تھام لیتا ہے
یہ غلط ئے
وہ دوں دوں کرتی بولتی ہے
———————
