718.6K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Junoon Episode 3

Tera Junoon by Laiba Khan

وہ لوگ جانے کے لیے تیار تھے.

وہ لوگ وین بوک کروا چکے تھے جس مین وہ نکلنے والے تھے

لرکے اس مین سامان رکھ کر بیٹھے تھے

انکی بری پھپھو اور پھوپھا اور ایک چچا بھی ساتھ تھے

لرکیان تیار ہو رہی تھی

روح نے گاون لیا تھا جو تافتان سٹایل کا تھا

سر پر پیارا سا حجاب کیے وہ نقاب کر کے باہر اتی ہے

کندھے پر بیگ لٹکایے وہ کیوٹ سا بچہ لگ رہی تھی

صبح کے آٹھ بج رہے تھے

ضرار کا روم ساؤنڈ پروف تھا

اس لیے اسے کوئی اواز نہی ائی تھی

وہ بلکل تیار ہو کر مردانی چال چلتا نیچے اتا ہے

بلیک سوٹ پینے وہ انتہا کا خوبرو لگ رہ اتھا

وہ جیسے ہی نیچے اتا ہے اس وقت نیچے کا ماحول دیکھ اس کی تیوری چرھ جاتی ہے

روح نے نقاب ٹھوری تک رکھا ہوا تھا

ایک ہونٹ دوسرے پر رکھے وہ سائرہ اور باقی کزنز کا منہ بنایے معصومیت سے انتظار کر رہی تھی

ضرار کی اس پر جیسے نطر پرتی ہے وہ وہین رک جاتا ہے

پاس ہی نانو کھری تھین ان کی نظر یہ دیکھ لیتی ہے

جو ضرار نہی سمجھ پا رہا تھا وہ سمجح کر مسکرا کر اسکے پاس اتی ہین

میرا بچہ جا رہا ہے کھانا کھا لو

وہ ہمیشہ کی طرح کہتی ہین

وہ انہین گلے لگا لیتا ہے

میں آفس مین کر لونگا نانو

وہ انہین دیکھ کر جواب دیتا ہے

دادو

روح جو بیگ کے اندر کچھ ڈھونڈ رہی تھی یہان وہاں دیکھے بنا وہ اسکے بازو سے ٹکراتی ہے

اییی

وہ ناک پکر کر چیختی ہے

مین سیمینٹ کا بنا ہون رائٹ وہ اسکے لب کھلنے سے پہلے کہتا ہے

ہون جان کر ٹکراتے ہو پتا نہی کونسی دشمنی یے انہین دادو

اپ چلو ہمارے ساتھ جنگلی جانورون کے پاس چھور کر اونگی

وہ منہ کے زاویے بنا کر کہتی ناک مسلتی ہے

اس کے دادی مسکرا دیتی ہے

جس کے سامنے وہ خود زیادہ نہی بولتی تھین وہ کیسے پٹر پٹر بول رہی تھی اور وہ بھی خاموشی سے سن رہا تھا

بیٹا مین نے اج تک نہی کہا چلے جاو تھورا خود کو بھی وقت دو

نانو اداس ہو گیی تھین

وہ وقت خود کو ہی تو نہی دیتا تھا

وہ ائیبرو اچکا اکر انہین دیکھتا ہے جیسے انہون نے کوئی مزاق کیا ہو

ہان ڈریں نہی مین شیر کے پاس نہی چھورتی جلدی کرین اپ نے میک اپ تو نہی کرنانہ ان کی طرح تو جلدی سے چلین

وہ بغیر اسکے ریئکشن دیکھے اپنی ٹرین چلا دیتی ہے

سائرہ اور باقی کزنز جو ایی تھی اسے یون بات کرتا دیکھ ہونک بنی کھری ہو جاتی ہین

بیٹا چلے جاو

وہ مان سے اسکے سر پہ ہاتھ رکھ کر کہتی ہین

مین ان سب سے دور رہتا ہون نانو

وہ سنجیدگی سے کہتا ہے

ہوںں دادو ہمین دیر ہو رہی اگر انا ہو تو اجئیگا انکل جی

وہ منہ بنا کر نکل جاتی ہے

وہ اسے یون دیکھتا ہے جیسے اسکی دماغی حالت ہر اسے شعبہ ہو

باقی کزنز تو غش کھا کر گرنے ہر تھین اسے یون باتین کرتے دیکھ وہ فورا اس کے نکلتے پیچھے ہو لیتے ہین

بیٹا کتنی معصوم ہے…. کبھی نہی ملے اس سے ….مان جاو بات چلے جاو نانو کی یہ بات نہی مانو گے….

وہ کندھے پر ہاتھ رکھتی ہین..

وہ سر ہلا دیتا ہے

شکر ہے جاو چینج کرو مین انہین رکنے کا کہتی ہوں

وہ خوشی سے باہر نکلتی ہین

وہ نفی مین سر ہلا کر اوپر برھ جاتا ہے

…….

جینز اور شرٹ مین ایک ہاتھ مین سفری بیگ بلیک جینز براؤن جیکٹ کے نیچے بلیک ہی شرٹ

وہ نہایت شاندار لگ رہا تھا

بالون کو جیل سے سیٹ کیے انکھین چمک رہی تھین

یہ چمک روح کے چہرے پر مسکان دیکھ کر ائی تھی شاید

جو اسے دیکھ کر اپنے بات مان جانے پر مسکرا دیتی ہے

پہلے یہ بتاو لرکیون الٹیان تو نہی کروگی نہی تو جہان ہوئے وہین پھینک دیں گے ہم

روح اپنے کزن کی بات پر منہ پھلا کر دادو کے ساتھ کھری ہو جاتی ہے

یار میری بھی طبیعت بگرتی

اس کی کزن بھی ساتھ اتی ہے

ہم ونڈو اوپن رکھین گے

روح ان سب کو اندر کی طرف دھکیل کر کہتی ہے

ضرار اپنی کار کے طرف برھنے لگتا ہے

یہ فیملی ٹرپ ہے

روح وہین سے اونچا بولتی ہے

وہ مڑ کر اسے دیکھتا ہے

دادو اسکی حرکت پر مسکرا دیتی ہین

انہین ضرار کی ایک زندگی نظر ایی تھی بس اگے کے بارے مین انہون نے سوچنا اتھا

وہ ایک ہاتھ وین کی طرف کر کے دادو کو دیکھتی ہے

سب کزنز اسکے انداز پر دبادبا ہنس دیتے ہین

اپنی حد مین رہو لرکی

ضرار اسکے قریب اکر انکھین دکھاتا ہے

ہو میں نے کیا کہا

وہ ایموشنل ہوتی ہے

وہ انکھین دکھا کر وین مین چرھ کر بیٹھ جاتا ہے

وہ مسکرا کر دادو کو انکھ مارتی وین مین بیٹھتی ہے

—–

وہ سب اپنے راستے پر تھے

سونگز گا رہے تھے

اچھے سے انجوائے کر رہے تھے.

ضرار خاموش سا لیپ ٹوپ جو ساتھ لیا تھااس پر کم کر رہا تھا

ساتھ مین فون پر بھی انگلیان چل رہی تھی

تبھی جھٹکہ سے وین رکتی ہے اسکا سر اگےگنے لگتا ہے جب روح جو کھری تھی اسکی طرف نظر جاتی وہ اپنا بیگ کا ٹیڈی جو سوفٹ سا تھا اگے کر دیتی ہے

اسکا سر اسکے ٹیڈی سے ٹکراتا ہے

فون نیچے گرنے لگا تھا جو روح نے سنبھال لیا تھا

وہ فون اسکی طرف برھاتی ہے

جو اسے ہاتھ برھا کر لے لیتا ہے

وین دوبورہ سٹاڑٹ ہو چکی تھی

—–

وہ لوگ پہنچ چکے تھے

دوپہر ہو گئی تھی

وہ اپنے اپنے کام کر کے اب سکون سے بیٹھے تھے

ایک پیج پر روح نے میرا گھر لکھ کے پاس رکھ دیا اتھا

ظہر کا وقت تھا وہ نماز پرھ رہی تھی

ضرار ہر چیز سے بیگانہ یہان بھی اپنا کام ہی کر رہا تھا

اسے کسی چیز سے کوئی فرق نہی پرتا تھا

—-

درمیان مین لکریاں جل رہی تھین

اور وہ ارد گرد بیٹھے تھے

ضرار کی گود مین لیپ ٹوپ تھا

اکسکیوز می

ضرار روح کی اواز پر سر اٹھا کر اسے دیکھتا ہے

جو تیوری چرھایے اس کے سامنے کھری تھی

وہ ائیبرو اچکاتا ہے

ہلیز

وہ اسکے لیپ ٹوپ کی طرف اشارہ کر کے بس یہی بولتی ہے

ہتھیلی بھی وہ اگے کر چکی تھی

وہ جو ہر کزن ہر لرکے سے دور رہتی تھی

پتا نہی کیون اسکی تنہائی اسے بار بار تنگ کر رہی تھی

وہ بھی اپنے باقی کزنز کی طرح اسے دیکھنا چاہتی تھی

روح کیا کر رہی ہو عقل کہان ہے سامنے دیکھو تو کون ہے ضرار بھایی ہین جان پیاری ہے تو پلیز جگہ پر چلو

سائیرہ اسکے کان مین گھس کر اسے سناتی ہے

کیون اپ یہ ڑکھین اور ہمارے ساتھ کھیلیں

وہ واپس سے ہاتھ کو جھٹک کر اسے چتلاتی ہے لہ اسکا ہاتھ سامنے ہے

چونکتے تو سارے تب ہین جب ضرار مرزا اپنا لیپ ٹوپ اسے دے دیتا ہے

روح وہین کھری رہتی ہے

سب کے فون میرے پاس ہین وہ بھی پلیززز

اب پلیز کو زور سے کھینچا گیا تھا

وہ اس بار بھی بغیر کچھ کہے اسے فون تھما دیتا ہے

اوئے چٹکی کاٹ بلکہ پتھر اٹھا کر مار بھیی مین خواب دیکھ رہا ہون

صارم روح کا کزن اپنے دوسرے چچا زاد کزن کے کان مین گھس کر کہتا ہے

بھائی مین خود بے ہوش ہو رہا ہوں

شہروز بھی اس کے کان میں گھستا ہے

اوہہ بہت ضروری بات چل رہی ہے…..

ایسا نہ ہو جنگل کا اکیلے اکیلے چکر لگوا دون خاموش ہون اور گیم پر توجہ دین

روح ان سب کر تیوری چڑھا کر کہتی ہاتھ جھلاتی کویی بری امان لگ رہی تھی

سب اسکی حرکت پر مسکر ادیتے ہین

سوائے ضرار مرزا کے اسے یون کسی اور پر حق جتلا کر بات کرنا انہی بھایا تھا

وہ اٹھ کر جانے لگتا ہے

جب روح پیچھے مڑ کر اسے دیکھتی ہے

وہ درختون کے قریب کھرا اب سموکنگ کر رہا تھا

اپ کا مسئلہ کیا ہے کیون تھکا رہے ہو ہان سکون نہی ہے اپ کو خاموشی سے بیٹھ نہی سکتے چلین اور چل کر بیٹھین اور پھینکین اسے الرجی ہے مجھے

وہ دھویین کی وجہ سے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہتی اسے نا جانے کس حق سے ڈانٹ رہی تھی

وہ مڑ کر اسے دیکھتا سگریٹ نیچے پھینک کر جوتے سے مسل دیتا ہے

چلیںںں

وہ اب باقاعفہ گھوری سے نوازتی ہے

کونسا حق جتا رہی ہین اپ جان سکتا ہوں

دونون بازو سینے پر باندھے وہ سنجیدحی سے پوچھتا ہے

سوری اپ بَی کزن ہو نہ سوری

وہ اداسی سے کہتی مڑنے لگتی ہے

ہےے چھوٹی سی چریا چلو

وہ اب نرمی سے کہتا اسکے ساتھ جاتا ہے

اسے اسکی اداسی بھری اواز اچھی نہی لگتی تھی

وہ چریا کی طرح چہچہاتی ہی تو اس کے دل.مین گھر کر ہی تھی

یا شاید کر چکی تھی

نرمی سے تو وہ پہلی بار کسی سے مخاطب ہوا تھا