Tera Junoon by Laiba Khan NovelR50433 Tera Junoon Episode 24
Rate this Novel
Tera Junoon Episode 24
Tera Junoon by Laiba Khan
شہرام نے اپنا فون بند کر رکھا تھا
اور گھر کے ہر ملازم کو وہ چھٹی بھی دے چکا تھا
وہ دونوں اکھٹے شکرانے کے نفل ادا کر رہے تھے
نشاء نے وہی دوپٹہ لیا ہوا تھا
شہرام اج کالی شلوار قمیض میں ملبوس نہایت وجیح لگ رہا تھا
نشاء کے چہرے پر پانی کی کچھ شفاف بوندیں موجود تھیں
اس نے ہلکا سا میک اپ کیا تھا جو وہ وضو کے لئے اتار چکی تھی
دونوں ایک ساتھ سلام پھیرتے ہیں
نشاء شہرام کو دیکھ کر مسکرا دیتی ہے
وہ سچ میں ہمسفر کے معاملے میں خوش نصیب تھی
مگر تبھی وہ ہر بات اسکے زہن میں گردش کرنے لگ جاتی ہے
وہ کیسے بھولے گی اپنے باپ کو اپنے گھر کو
انسو زاروقطار بہنا شروع ہو جاتے ہیں
شہرام چہرہ کا رخ اسکی سسکی سن کر موڑتا ہے
اسکی داڑھی پر بھی پانی کی تھوری تھوری بوندیں موجود تھیں
وہ دائیں بائیں ہلکے سے سر ہلا کر اسے اپنے برابر بیٹھنا کا اشارہ کرتا ہے
مگر وہ اسکے ہاتھ پر پیشانی ٹکا کر رونے لگ جاتی ہے
اس کے رونے میں شدت ا چکی تھی
وہ اسے رونے دے رہا تھاشاید یہ اخری بار تھا کہ وہ ان سب کی بے رحمی اور ظلم پر رو رہی تھی
خان م میں نہی بھول سکتی وہ س سب مجھے ماما اپنے ساتھ لے جاتی کاش
وہ یہاں نہ چھورتیں کاش
خان میں بس جب سے وہ گئی یہیں کہتی ائی ہوں یہی دعا مانگتی ائی ہوں
مگر اب مجھے اپنی زندگی جینے کی وجہ اپ کی صورت ملی ہے
میں اللہ کا شکر ہر لمحہ ادا کرونگی کہ مجھے اپ مل گئے خان میں نے دعا کی تھی اللہ نے مجھے اپ جیسا ہمسفر دے دیا
وہ کبھی دعا رد نہی کرتا ہمیں صبر کرنا چاہئے
دادو ہمیشہ یہی کہتیں تھیں
جب میں چھوٹی تھی تو اداس ہو کر ان سے سب شیئر کرتی رو پڑتی تھی
مگر برے ہونے کے ساتھ اپنی ہر سسکی ہر اداسی اپنا ہر درد میں نے خود اکیلے جھیلا ہے میرا انسو ایک ایک جو بھی بہا ہے وہ تکیہ میں جزب ہوا ہے
اللہ کو میری ناُجانے کونسی نیکی پسند ائی ئے خان میں اپ کو دیکھ کر بہت پرسکون ہو کر سانس لیتی ہوں
مجھے پسند ئے اس حد میں سانس لینا جہاں اپکی سانسوں کی خوشبو ہو
شہرام کا ہاتھ وہ دونوں ہاتھوں میں مضبوطی سے پکڑے بیٹھی تھی
ہمسفر اگر وفادار اور چاہنے والا ہو تو زندگی کا ہر سفر بہت پرسکون اور خوبصورت گزرتا ہے
بہت سے انسو اسکے ہاتھ کی ہشت پر گر چکے تھے
شہرام ہاتھ بڑھا کر اسکے گال پر سے انسو پونچھ لیتا ہے
میرا وعدہ ہے اپنی شریک حیات سے اپنے سکون سے تمھیں کبھی کوئی درد نئی ملے گا میرے کسی بھی قدم سے
مجھے تو مکمل کیا ہے اپ نے اپ کا شکریہ
شہرام اسکا ہاتھ اپنی پیشانی سے لگا لیتا ہے
——-
ڈاکٹ ر ض ضر
ڈاکٹر کے باہر نکلتے وہ لپک کر ان سے ہوچھتی ہےگلا اسکا رو رو کر سوکھ چکا تھا
انسو کی وجہ سے وہ اپنی انکھیں سجا بیٹھی تھی
گولی نکال دی گئی ہے اگلے بارہ گھنٹے کریٹیکل ہیں ان کا خون بہت بہ چکا تھا اپ دعا کیجیئے
ڈاکٹر اپنے پیشہ وارانہ انداز میں کہ کر اگے بڑھ جاتا ہے
احمد بھائی
احمد جو ابھی ایا تھا اس کے پجارنے پر دھیمی اواز میں جی کہتا ہے سر اسکا ہمیشہ کی طرح جھکا ہوا تھا
وہ لوگ کہاں ہے
وہ سمجھ جاتا ہے وہ کن لوگوں کی بات کر رئی تھی
جہاں سر انہیں ہمیشہ رکھتے ہیں
وہ ویسے ہی سر جھکائے کواب دیتا ہے
اوکے
وہ کہ کر اندر ائی سی یو میں برھ جاتیئ چاہے اسے نرس کتنا ہی روکتی رہتی ہے
پلیز پانچ منٹ
وہ منٹ بھرے لہجہ میں اپنی نم انکھوں سے نرس کو دیکھ کر کہتی ہے
اوکے خیال سے
نرس اخر باہر نکل جاتی ہے
سامنے ہی وہ مشینوں میں جکھڑا پرا تھ
اسے دیکھ کر وہ سانس تک لینا بھول جاتی ہے
سانس روکے وہ یک ٹک اسے یوں بے سدھ پرے دیکھ رہی تھی
جی میرا سکون یہ بندہ بشر اپکا ہے تو سب اپکا ہے
اگے برھ کر وہ اسکا ہاتھ تھامتی ہے
کہیں دور سے اسے ضرار کا بولا جملہ یاد اتا ہے
میرئ چھوٹی سی چریا
ایک اور جملہ وہ روتے ہوئے ہنس رہی تھی یا ہمستے ہوئے رو رہی تھی
ض ضر میرا دل بھی چریا کہ جتنا ہے ضر اپ سٹرونگ ہو میں نہی پلیز میں جب تک اؤں اپ کو اپنا انتظار کرتے پاؤں ورنہ میں ناراض ہو
جاؤنگی بہت زیادہ والا
ضر اپ سُن رہے ہو نہ
افف جانِ ضر
وہ پھوٹ پھوٹ کر اسکے سینے پر سر رکھے رو دیتی ہے
ضر ائی نیڈ یو
اسکاہجہ اگر وہ سن پاتا اسک دل کٹ کر رہ جاتا
ضر سچ میں مجھے سانس بہت مشکل سے ا رہی ہے اپ کے ہوتے ہی اس کھلی فضا میں سانس لے پاتی ہوں
ضر مجھے ضرورت ہے ضر پلیز میرا ہاتھ تھام لو نہ
ضر
وہ چیخ کر اسکا نام پکارتی ہے
وہ کیوں نہی اپنی چریا کو جواب دے رہا تھا
ضر مجھے درد ہو رہا ہے
ایسا لگ رہا ہے کچھ سن ہی نہی پا رہی ضر
مجھے مرہم چاہئے اپکی خوبصورے محبت بھری اواز کا
ضر ائی نو اپ کبھی بھی ایسے نہی کر سکتے
میں بول رہی ہوں اور اپ پیارا سا جواب نہ دو کیا ایسا ہوا ہے نہی نہ
ہوگا بھی نہی
میں اپکو بتاؤن جب میں نے اپکو پہلی بار دیکھا تھا
اپ کو یاد ہوگا نہ میں اپ سےٹکرا گئی تھی
پتا ہے میں نے تب اپ کو کہا تھا افف لوہے کا بنا ہے ہاہاہہا
وہ انسو بہاتی انکھوں سے بے جان قہقہ لگا دیتی ہے
پھر ہم ملیں پھر ٹکرائے افف تب بھی میں وہی کہا
پھر ملے پھر بھی
اور وہ جب ہم سب گئے تھے تب اپ نے کہا تھا
چھوٹی سی چریا پہلی بار ضر کتنے پیار سے کہا تھا نہ
اپ نے
ضرار ایک مرد کی محبت کس قدر خوب صورت ہے میں بتا سکتی ہوں میں نے اپ کی محبت کو روح تک میں اتارا ہے
ضرار اپکی روح اپکی بات نہی مانتی میں رو رہی ہوں ایسے ہی اپکی انکھوں پر ظلم کرونگی
وہ ہھر بھی ویسے ہی رہتا ہے
وہ روتے ہوئے جھک کر اسکے ہاتھ پر بوسہ لے لیتی ہے
اپکی ایک پکار پر روحِ ضر جان وار سکتی ہے
اسکا ہاتھ نرمی سے واپس رکھتی وہ پیچھے مرنے لگتی
ہے
الٹے قدم لیتی وہ اسے نظروں کے حصار میں بسائے باہر نکل جاتی ہے
———————
آجاؤ
شہرام نشاء کا ہاتھ تھامے اسے بلکونی تک لاتا ہے
وہ انکھیں بری کیے بالکونی کی سجاوٹ دیکھ رہی تھی
سفید اور سرخ پھولوں کے کومبینیشن سے اس جگہ کو سجایا گیا تھا
بیچ میں ایک گول ٹیبل وہ بھی خوبصورتی سے سجی تھی اور امنے سامنے دو کرسیاں
شہرام اسکا ہاتھ تھام کر ایک کرسی پر بٹھا دیتا ہے
ٹیبل پر ایک پھولوں کا گلدستہ اور ایک سرخ ڈبی پری تھی
شہرام اس گلدستہ کو گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ہنستا ہوا اسکی طرف برھاتا ہے جو وہ خوش دلی سے قبول کر لیتی ہے
وہ اب شہرام کے میچنگ کلر کا لانگ فراق پئنے ہوئے تھی
may I
وہ رنگ نکال کر اپنی ہتھیلی سامنے کرتا ہے
وہ پہلے اسے شرارتی نظروں سے دیکھتی مسکرا کر ہاتھ اگے کر دیتی ہے
شہرام اسکے ہاتھ کی رنگ فنگر میں وہ ڈائمنڈ رنگ پہنا دیتا ہے
beautiful
انگھوٹی کو دیکھتے ہوئے وہ تعیریف کرتی ہے
——————-
خان کیا اپ نے مجھے افس سے بے دلل کر دیا
وہ ڈرامائی انداز میں ہاتھ جھلا جھلا کر کہتی ہے
ہاہاہہاہا میری اتنی مجال تمھیں تمہارے افس سے نکالوں میں اپنا دن کیسے گزاروں گا
اسے کھانا سرو کرتا وہ ہنس کر بولتا ہے
اسے وہ نماز کے بعد اپنی سیکریٹ ایجنسی کا بتا چکا تھا
جو اس نے یہاں اکر ہی کھولی تھی
اوہہ تو میں اپ کو نکالسکتی ہوں
نشاء معسومیت سے انکھیں ہٹپٹاتی ہوئی کہتی ہے
ایک اور جاندار قہقہ اس شام کو خوبصورت بنا دیتا ہے
———————
مگر میم پلیز سر نارض ہونگے
احمد اسے کتنی بار کہ چکا تھا
مگر وہ ضد لگائے کھڑی تھی
کیا وہ ناراض نہی ہونگے اپ نے میر بات ٹالی سو پلیز میں روڈ نہی ہونا چاہتی مجھے اپ لے کر جا رہے ہیں یا نہی ہھر اپ ہی جواب دہ ہونگے ضر کو
وہ نہایت سختی سے اسے بات کر رہی تھی
اففف اب کیا اپ کا جنون دیکھان ہے
احمد سر ہلا کر اسے ساتھ لاتا ہوا سوچتا ہے
———
بیسمینٹ میں سامنے ہی وہ الٹے لٹکے ہوئے تھے
ان کے جسم کو بری طرح زخمی کیا گیا تھا
روح نے چہرہ پر ماسک لگایا ہوا تھا
سر پتر حجاب اور بری سی شال میں خود کو ڈھانپے وہ احمد کے ہمراہ اندر داخل ہوتی ہے
وہ دو آدمی نیم بے ہوشی میں تھے
ان میں سے کون تھا
وہ نہایت سپاٹ انادز میں پوچھتی ہے
سامنے ہی پسٹل ٹیبل پر رکھ دی تھی احمد نے
کیا اپ کے پاس بلیڈ ہوگا
وہ پسٹل ایک نظر دیکھ کر سرد انداز میں سوال کرتی ہے
وہ دو لمحہ حیران ہو کر سر ہلا کر اسے لا کر دیتا ہے
احد وہ پسٹل اٹھا لیتا ہے
ان میں سے گولی کس نے چلائی تھی اور ان سب کے اور سارے کارنامہ جلدی سے بتائیں
اسے تو جھٹکوں پر جھٹکے لگ رہے تھے اس نے کس قدر معصوم سمجھا تھا
اور وہ تو پوری جلاد تھی
وہ سامنے ایک کی طرف اشاہ کرتا ہے
جس کی دونوں انکھوں کو سجا دیا گیا تھا
چہرے ہر جگہ جگہ زخموں سے خون رس رہا تھا
انہیں نیچے اتاریں
وہ انہیں لٹکا دیکھ سامنے زمین ہر اشارہ کرتی ہے
فورا ہی دو ادمی انہیں نیچے اتار کر پیچھے ہوتے ادب سے سر جھکا لیتے ہئں
کونسا ہاتھ تھا تمہارا جس سے میرے ضر پر گولی چلانے کی جرات کی تم نے
روح اسکے سامنے کھری ہوتی چہری جھکا کر کولڈ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھتی ہے
اسکی انکھوں کی سرخی دیکھ وہ شخص دو لمحہ ساکت ہو جاتا ہے
وہ کوئی چھوٹی سی لرکی تھی اور اس قدر بہادر
وہ ہھر بھی ایک لرکی کے سامنے نہی ہار سکتا تھا
وہ ایک کک مارنے لگتا ہے جب روح لمحہ میں احمد سے گن کھینچتی اسکی ٹانگ پر فائر کر دیتی ہے
اہہ اس کی چیخ ہورے بیسمینٹ میں گونجتی ہے
اس کا ہر ظلم وہ سن چکی تھی
ان جیسے گرے ہوئے لوگو زندگی پر دھبہ ہوتے ہیں
جو سوال کروں اسکا جواب دو اپنی انرجی یوں ضائع مت کرو
اسکا لہجہ جس قدر سخت تھا وہ خاموش رہتا ہے مگر ٹانگ سے بہتا خون اس میں بولنے کی ہمت بچی بھی نہی تھی
اس کے پاس پرا شخص باقاعدہ کانپ رہا تھا
ہاتھ کونسا تھا
اس کی دھاڑ پر وہ اپنا سیدھا ہاتھ سامنے کرتا ہے
——-_______
وہ واپس ا چکی تھی
ڈاکٹر نے اسکے خطرے سے باہر ہونے کی اطلاع دی تھی
تب ست وہ شکرانے کے نفل ادا کرنے گئی ہوئی تھی
احمد شہرام کو سب بتا رہا تھا
جو ابھی ایا تھا
وہ بس ایک ائیبرو اچکاتا ہے
وہ اسے روح کا سارا کارنامہ بتا چکا تھا
کیسے اس نے اسکے ہاتھ کو بلیڈ سے بری طرح زخمی کیا وہ اسکی وئین کاٹ چکی تھی
اب ڈاکٹر کو بھی اسکی مرہم پٹی کا کہ کر ائی تھی
شاید اس شخص کی سزا ابھی باقی تھی
نرس سے ہوچھ کر وہ دونوں اندر داخل ہوتے ہیں
صبح کے دس بج چکے تھے
ساری رات وہ بے ہوش رہا تھا
سن مریض تھورا ادھر ہو
شہرام بیڈ کے قریب پہنچ کر اسے مزے سے کہتا ہے
ضرار کسی کی اہٹ پر ہی انکھیں کھول چکا تھا
ایک گھوری اسے نواز کر وہ اپنا دوسرا ہاتھ جو سینے پر رکھا تھا اسے لعنت کا اشارہ کرتا ہے
کیا ہے میں برا تھک گیا ہوں یار کل رخصتی جو ہوئی ہے تیرے بھائی کی برا کام تھا پورا گھر سجایا مجھ معصوم نے یار
وہ صرف ضر کے سامنے ہی اتنا بولتا تھا
وہ معصوم شکل بنا کر اسکے سینے پر مکہ جرتا ہے
کمینہ
ضرار سینے پر ہاتھ رکھتا مصنوعی غصہ دکھاتا ہے
یار وہ ویڈیو شیڈیو تھی کوئی دکھانا
شہرام احمد کو روح کی ویڈیو دکھانے کا کہتا ہے
جو اس نے ضرار کے فون میں بنائی تھی
وہ شکی نظروں سے ان دونوں کو دیکھتا ہے
نکلو یہاں سے اور میری معصوم بیوی کو بھیجو
اسے بولنے میں تکیلف ہو رہی تھی
مگر وہ ہمیشہ ان سے یوں ہی بات کرتا تھا
ان تینوں کی بہت بنی ہوئی تھی
وہ ویڈیووووو
احمد وڈیو لفظ باقاعدہ کھینچ کر ویڈیو نکال کر اسے دیتا ہے
کیا ہے کمینوں زرا خیال نہی ہے
فون پکر کر وہ وڈیو پلے کرتا ہے
جیسے جیسے وہ دیکھ رہا تھا اسکی انکھوان میں حیرت اتی جا رہی تھی
روح کہاں ئے
وہ غصہ سے دھارتا ئے
ٹھیک ئے وہ کچھ ہوا تو نہی اسے
فون اسکی طرف پھینک کر وہ اٹھنے لگتا ہے
جب شہرام اسکو یوں کرتے دیکھ واپس لٹاتا ہے
ٹھیک ئے بھابھی یار نفل پرھ رہی تھی شاید ابھی اتی ہونگی کیا ہوگیا ئے
——————
شہرام نشاء کو سلا کر ایا تھا جب اسکے خاص ادمی نے خبر دی تھی
اس لئے وہ جلدی واپس اجاتا ہے
سامنے ہی وہ مزے سے سے سو رہی تھی
چہرے پر بچوں جیسے معصومیت تھی
وہ اگے برھ کر اسکے پاس بیٹھتا سر پر نوسہ دے کر حصار میں لیتا سو جاتا ہے
——
روح نفل ادا کر کے سیدھی ضرار کے پاس اتی ہے
انکھیں بند کیے وہ اسکی اہٹ پر بھی ویسے ہی رہتا ہ
ضر
روح اسکے پاس پہنچ کر پکارتی ہے
انکھوان سے انسو دوبارہ بہنے لگ گئے تھے
مجھے بس ایک سوال کا جواب دو کس کی اجازت سے گئی تھی تم وہاں
اپنی انکھیں کھول کر وہ وحشت لئے ان انکھوں سے اس کو دیکھتا پوچھتا ہے
وہ اسکا آنکھوں کی وحشت سے ڈر جاتی ہے
ض ضر م میں تو
سوں سوں کرتی وہ بولنے لگتی ہے
جب وہ ہاتھ پکر کر پاس بٹھا لیتا ئے
اگر کچھ ہو جاتا تو
مجھے بتایا کہ وہ کک کرنے والا تھا اسکا حصاب تو بہت اچھے سے کرونگا مگر تم ہمت کیسے ہوئی تمہاری ہاں ان پیروں سے چل کر گئی تھی نہ کاٹ دوں ان کو تم جانتی ہو زرا سا بھی تمھیں درد ہوتا نہی دیکھ سکتا کیا مر
وہ یہ لفظ ادا بھی نئی کرتا وہ اسکے ہونٹوں ہر ہاتھ رکھ کر نفی میں روتے ہوئے سر ہلاتی ہے
میں اپ کا جنون ہو نہ تو پلیز مجھ معاف کر دے ا سوری
اسکی انکھوں میں دیکھتی وہ معصومیت سے بولتی ہ
ضرار اسکی وہی ہتھیلی چوم لئتا ہے
وہی تو میرا جنون یار تمہارے معاملہ یہ دل پورا پاگل ہے جانتی ہو نہ تو پھر
وہ اب بھی وہی ٹکا تھا
وہ اسے یہ نہی کہنا چاہتا تھا اس نے دیوانگی دیکھی وڈیو میں
اپنی روح کا جنون دیکھ اسے اپنی روح میں سکون اترتا محسوس ہوا تھا
اچھا نہ سوری کہا تو ہے ڈانٹ رہے پہلے میں دو دن سے نہی سوئی
وہ کیوٹ کیوٹ فیس بناتی بولتی ہے
وہ دھیمے سے مسکرا دیتا ہے
میرا جنون تو لے جاؤں گھر
نو اپ نے یہی رہنا ہے اپ کو کچھ چاہئے بتاؤ پہلے درد تو نہی ہو رہا نہ
اسے اتنا باتیں کرتے دیکھ وہ پوچھتی ہے
روح گھر جاؤ اور اب میری بات مت ٹالنا
ضر سنیں نہ مجھے نیند نہی ائی گی سچی مچی میں وہاں سو جاؤں
وہ کمرے میں موجود صوفہ کی طرف اشارہ کرتی ہے
روح
وہ تنبیہ کرتا پکارتا ئے
ضر پلیز نہ
وہ منہ پھلا لیتی ہے
کیوں ضدی ہو
اسکے پھولے ہوئے گال دیکھتا وہ ہار مان جاتا ہے
ہوں تو ہوں
وہ نرمی سے اسکے سینے ہر سر رکھ دیتی ہے
جیسی بھی ہوں ضرار مرزا کا جنون ہوں
وہ اپنی ہی بات کہ کر شرما جاتی ہے
میرا جنون کچھ بدل نہی گیا
اسکی کمر پر ہاتھ رکھتا وہ انکھیں چھوٹی کر کے پوچھتا ہے
شاید میں بہت ڈر گئی تھی ضر اپکا خون میرے ہاتھوں اور کپروں پر اپنا رنگ چھور چکا تھا
اور وہ لمحہ میرے زہن پر ضر وہ زندگی کا سب سے برا وقت تھا میرا میں بہت روئی ہوں گرگرائی ہوں اپ کو اپن دعاؤں میں اس شدت س مانگا ئے جس شدت سے اپ نے مجھے
ضرار کا ہاتھ ہاتھون میں لیتی وہ ایک ایک لفظ اس درد کو یاد کرتے ہوئے بول رہی تھی
بسس ششش یار نہی پونچھ دکتا یہ جنونی تمہارے انسو ابھی
اسکا ہاتھ زور سے دبا کر ضرار بولتا ہے
ائی ریئلی لو یو ریئلی میرا عشق ہو اپ میرا شریک حیات میرا عشق ہے
وہ واپس اسکے سینے پر سر رکھ دیتی ئے
مگر اس بار اسکے دل کے مقام پر سر رکھے وہ اسکی شور مچاتی دھرکنوں کی دھن سنتی اپنا اظہار کرتی ہے
اسکی دھرکنیں بھی اسکی ھرکنوں کی دھن کے ساتھ اہنی دھن کو برھا چکی تھیں
میرا جنون بس کر دو ورنہ میں اپنیی پر آیا تمہاری شامت نہی
وہ مسکرا کر اٹھ کھرئ ہوتی ئے
ریسٹ کریں میرے حسین شوہر
اگے جھک کر اسکی پیشانی ہر بوسہ دیتی وہ ہیچھے ہٹتی سیدھا اس صوفہ ہر بیٹھتی ہے
یہ سچ تھا وہ جب تک اسکی سامنے نہی ہوتا تھا اسکا زہن پر سکون نہی رہتا تھا
اور اگر زہن ہی پر سکون نہ ہو تو نیند کیسے مہربان ہو
وہ اپنے سکون کو دیکھتی ہوئی انکھیں موند لیتی ہے
