718.6K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Junoon Episode 7

Tera Junoon by Laiba Khan

وہ اسکا ہاتھ پکرے سیدھا کمرے میں لا کر چھوڑتا ہے

اسکی کلائی سرخ ہو چکی تھی

پاؤں میں بھی شدید ٹیسیں اٹھ رہی تھیں

وہ پیشانی مسلتا یہاں سے وہاں ٹہلتا خود پر ضبط بٹھانے کی کوشش کر رہا تھا

ض

ابھی اس نے صرف ایک لفظ ادا کیا تھا

جب وہ اپنی سرخ انکھوں سے اسے بس ایک نظر دیکھتا ہے

مجھے جانے دیں پلیز مما کے ساتھ

وہ ہمت جمع کر کے اخر بولتی ہے

یہ جانے بغیر وہ بھوکے شیر سے بھر بیٹھی تھی

روح آئی سوئیر خاموشی سے بیٹھ جاؤ اب آواز نہ آئے مجھے

پاس پرا گلدان جھناکے سے توڑ کر وہ طیش میں چلاتا ہے

وہ سہم کر دو قدم پیچھے لیتی ہے

اسے اس شخص کی سمجھ ہی نہیُ اتی تھی

وہ روتی بغیر اسے دیکھے باہر نکل جاتی ہے

وہ دروازے کی آواز پر بلینک نظروں سے کھلے دروازے کو تکتا ہے

جیب میں ہاتھ ڈال کر وہ سگریٹ کی ڈبی نکالتا سٹڈی میں بند ہو جاتا ہے

————

اس کی امی جا چکی تھیں

اس سے ملُکر گئی تھیں اور خود سمجھا کر بھی

روح آرام سے رہنا کوئی مسئلہ ہو مجھے بتانا لازمی میں یہاں چھور کر نہیُ جانا چاہتی تھی مگر تمہاری دادو نے بہت امید دلائی ہے اس کے بارے میں امید کرتی ہوں وہ ہر امید پر پورا اترے گا

وہ سائرہ کے کمرے میں بیٹھی اپنی امی کی باتیں یاد کر رہی تھی

چاہتے ہوئے بھی وہ جا نئی پائی تھی

اسکی لال انکھیں بار بار اسکے زہن میں آ رہی تھی

“ڈونٹ یو روح مجھے کوئی شکریہ نہیُ چاہیے بس نظروں کے سامنے چاہیے ہو اور اپنی دسترس میں”

وہ جیسے انکھیں بند کرتی ہے

اسکی آواز اسکی کانوں میں گونجتی ہے

وہ فورا سے اپنی انکھیں کھول کر اس پاس نگاہ دوراتی ئے مگر وہ یہان نہیُ تھا مگر اسکا احساس اسے جکڑے ہوئی تھا

کیا اسے برا لگا ہوگا میرا یوں نیچے انا

وہ خود سے سوال کر رہی تھی

————-

شام ہو چکی تھی

وہ تب سے ہی سموکنگ کر رہا تھا

ناُجانے اب تک وہ کتنی پی چکا تھا

سٹڈی میں چاروں طرف دھواں پھیل چکا تھا

لب میں سگریٹ دبائے وہ اپنے فون میں روح کی تصویر دیکھ رہا تھا

آج ہی اس نے جاتے وقت روح کی پک لی تھی

اور ایک دو کیمرے سے بھی اسکے پورے پورشنُ میں کیمرہ تھے

آہ

تبھی زور دار چیخ کی آواز اسے سنائی دیتی ہے

وہ بلکل بھی دیہان نہ دیتا اگر وہ اسکی زندگی کی آواز نہ ہوتی

وہ فون اور سگریٹ وہیں پھینک کر ننگے پیر نیچے بھاگتا ہے

—————

روح کے پاوں سے خون بہ رہا تھا

وہ سوچ سوچ کر تھک گئی تھی اس لئے اوپر کی طرف جانے لگتی ہے

جب درمیان کی سیرھی میں اسکا پاؤں مڑتا ہے وہ وہیں سے گر جاتی ہے

آخری بار اسے یہی یاد تھا زور سے اسکے سر پر کچھ لگتا ہے اور وہ چیخ کر وہیں ہوش و خرد سے بیگانہ ہو جاتی ہے

روح

ضرار کے پیروں سے زمین نکلی تھی اسے اس حالت میں دیکھ

پاؤں اور سر سے خون پانی کی طرح بہ رہا تھا

وہ وہیں سے چلا کر برے برے قدم لیتا اسکا پاس بیٹھ آتا ہے

ہے روح روح یار اوپن یور آئی

وہ دیوانوں کی طرح اسے پکار رہا تھا

باقی سب بھی شور کی آواز پر باہر آجاتے ہیں

یا میرے اللہ کیا ہوا ئے میری بچی کو

دادو دوپٹہ روح کے سر پر رکھتی ہیں

ضرار بھائی میں کار نکال رہا ہوں اسے لائیں

اسکا کزن کہ کر باہر نکل جاتا ہے

وہ کچھ سنتا تو

اس کی انکھوں کے سامنے بس اسکا وہ بہتا خون تھا

نانو مجھے روح۔ چ چھوڑ ر رہی ہے

ضرار کے لبوں سے ٹوٹ کر لفظ ادا ہوتے ہیں

اسکی آواز اتنی کم تھی جو بامشکل نانو سن پاتی ئیں

نہیُ میری جان ابھی ٹھیک ہو جائیگی چلو۔ اٹھاؤ اسے ہسپتال لے کر جانا ہے

وہ اسے پچکارتی ہوئی بولتی ہیں

تبھی وہ ہوش میں آتا اسے بازوں میں بھرتا باہر کی طرف برھ جاتا ئے

————-

ہسپتال میں گہری خاموشی تھی

کچھ کچھ لمحوں کے بعد وہان کسی آہٹ کی آواز سنائی دیتی تھی

وہ اوپریشن تھیئٹر میں تھی

انہیں ہسپتال آئے گھنٹہ گزر چکا تھا

ڈاکٹر نے اب تک کوئی جواب نہیُ دیا تھے

تبھی ڈاکٹر ماسک اتارتا انکے پاس آتا ہے

ڈاکٹر مائے وائف

وہ بےتابی سے دریافت کرتا ہے

شی از فائن ضرار صاحب ابھی انہیں روم میں شفٹ کر دیا جائیگا

ڈاکٹر نرمی سے جواب سے کہ کر آگے برھ جاتا ئے

یا اللہ تیرا شکر ہے

دادو جو ابھی نماز پرھ کر آئی تھی ڈاکٹر کی بات سن کر ہاتھ اٹھا کر شکر ادا کرتی ہیں

وہ وہیں بیٹھ جاتا ہے

————-

صبح کی روشنی اسکے چہرے پر پڑتی ہے وہ کسمسا کر انکھیں کھولتی ہے

رات کو کچھ دیر کے لئے اسے ہوش آیا تھا

جب دادو مل کر گئیں تھی

اب جا کر اسے دوبارہ ہوش آیا تھا

دادو کو ضرار نے گھر بھیج دیا تھا

اس وقت وہ اکیلا باہر موجود تھا

اس نے ایک بار بھی نہیُ دیکھا تھا روح کو

اٹھ گئی اپ

نرس اندر اتی اسے جاگتا دیکھ پوچھتی ہے

وہ پلکیں جھپک کر جواب دیتی باہر نظر دوراتی ہے

میرے س ساتھ

وہ ہلکی سی آواز میں پوچھتی ہے

جی باہر بیٹھے ہیں میں بھیجتی ہوں

وہ انجیکشن دیکھتی اسے جواب دیتی ئے

یہ اپ کیا کر رہی ہو

وہ انجیکشن جیسے اسے لگانی لگتی ہے وہ کھسک کر پوچھتی ہے

اپ کو انجیکشن لگانا ہے پلیز

وہ نرمی سے کہتی ہے

نو نو میں نہیُ ضر ضر

وہ انجیکشن سے بچپن سے خوف کھاتی تھی وہیں سے چلا کر اسے پکارتی ئے

وہ جو ابھی نماز پرھ کر آیا تھا اسکی آواز سن فورا اندر بھاگتا ہے

کیا ہوا ہے

وہ روح کے پاس آتا سرخ انکھون سے کولڈ اندازا مین سامنے کھرئ نرس سے پوچھتا ہے

سر یہ انجیکشن نئی لگا رہی

اس کے کہنے ہر وہ خفت سے سرخ پرتی انکھیں بند کر لیتی ہے

تو نہ لگائیں اپ

وہ سختی سے کہتا اسکا ہاتھ پکر کر دباتا ہے

بٹ یہ ضروری ہے سر

وہ دوبارہ کہتی ہے

روح پلیز لگوا لو

وہ نہایت نرمی سے اسے کہتا ہے

وہ انکھیں کھولُکر اسے دیکھتی انکھیں پٹپٹاتئ ہے

ضرار اسکا بازو پکر کر نرس کے پاس کرتا ہے

ضر نہیُ پلیز ضر

اسکی زبان سے ضر سن اسے ایک انجانی خوشی ہوتی ہے

میں تمہاری صحت پر ہر گز رسک نہیُ لونگا

وہ جیسے رونے کی تیاری پکرتی ہے وہ اسے گھور کر کہتا ہے

نرس انکی باتوں کے درمیان لگا کر جا بھی چکی تھی

جائیں یہاں سے

درد تو اسے نہیُ ہوا تھا مگر ناراضگی بات نہ ماننے ہر جتلانئ تھی

میرا چھوٹا بچہ یہ ضروری تھا

وہ پاس کرسی پر بیٹھتا اسکا ہاتھ تھام کر کہتا ہے

میں بات نہیُ کر رہی

وہ قدرے اونچی آواز میں سناتی ہے

دادو جو ابھی آئیں تو اسکی یہ بات سن ہنس کر اسکے قریب اتی ہیں

کیسی ہے میری بچی

اسکے سر پر پیار کرتی وہ پوچھتی ہیں

ٹھیک

وہ مسکرا کر جواب دیتی ہے

ضرار کل سے یہیں ہو جاؤ گھر ہو آؤ

وہ سامان سائیڈ پر رکھتی اسے کہتی ئے

اس نے ایک لمحہ سکھ کا سانس نئی لیا تھا

مجھے گھر لے کر جاؤ

وہ انکی باتوں کے درمیان کہتی ہے

ہر گز نہیُ جب تک پوری طرح ٹھیک نہیُ ہوگی تب تک نہیُ

دادو صاف جواب دے کر فروٹ نکال کر کاٹنے لگتی ہیں

————

کیا ضرار کی شادی ہو گئی

سائرہ جو اپنی کزن سے بات کر رہی تھی

ضرار کی شادی کا جیسے اس نے بتایا تھا وہ چیخ کر پوچھتی ہے

ہاں بھئی کیا کان کے پردے پھاروگی اور فون رکھو میں روح کے پاس جاؤن پتا نہیُ میری پارٹنر کیسی ہے

سایرہ جلدی جلدی کہتی فون کھٹک سے بند کرتی باہر نکلتی ہے

دوسری طرف وہ لرکی فون زور سے دیوار پر مارتی ہے

وہ بچ بھی گئی تو مجھ سے نئی بچے گئ

نفرت سے وہ ضرار کی فوٹو جو سامنے دیوار پر لگی تھی اس ہر ہاتھ پھرتی کسی دیوانی کی طرح کہتی ہے

—————

آج وہ گھر جا رہی تھی

تھوری دیت پہلے ہی اسے ڈسچارج ملا تھا

سر پر چادر کرتی وہ نقاب کر کے باہر نکلتی ہے

ضرار نے اسکا ہاتھ تھام رکھا تھا

ساتھ میں سائرہ بھی تھی

دادو تھوری دیر پہلے ہی گئی تھیں

وہ نرمی سے اسے کار میں بٹھاتا ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتا ہے

سائرہ بھی سامان رکھ کر بیٹھ چکی تھی

روح سیٹ سے ٹیک لگا کر انکھیں موند لیتی ہے

تبھی سگنل پر کار رکتی ہے

گجرے والا ضرار کی سائیڈ پر نوک کرتا ہے

وہ پہلے تو آگنور کرتا ہے مگر روح کی کلائی دیکھ وہ ونڈو اوپن کر کے سارے گجرے لے کر اسے پیمینٹ کرتا سارے گجرے روح کی گود میں رکھ دیتا ہے

واؤ وہ اپنی گود میں گجرے دیکھ مسکرا کر اسے دیکھتی خوش ہو کر کہتی ہے

تبھی سائرہ ایک میسج روح کو کرتی ہے

نوٹیفکیشن ملنے پر روح میسج کھول کر دیکھتی ہے

جہاں سائرہ کا میسج تھا

اُف کباب میں ہڈی والی فیلینگ آ رہی

ساتھ میں ہنسنے والے ایموجی تھی

وہ ہنس کر سائرہ کو دیکھ نفی میں سر ہلاتی ہے