Tera Junoon by Laiba Khan NovelR50433

Tera Junoon by Laiba Khan NovelR50433 Tera Junoon Episode 25 (Last Episode)

718.6K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Junoon Episode 25 (Last Episode)

Tera Junoon by Laiba Khan

وہ سکوں سے انکھیں موندے سو رہی تھی

اس کے چہرے کا سکوں وہ پچھلے دو گھنٹے سے دیکھ رہا تھا

وہ خود کی کیفیات کو نہی سمجھ پایا تھا وہ کیسے اس کے اس قدر قریب ہو گیا تھا

کیا کوئی شخص اپ کے لئے اس قدر بھی قیمتی ہو سکتا ہے وہ اس جگہ اکر سوالیہ نشان کی مانند رک جاتا تھا

اج تک اسے اس سوال کا جواب نہی ملا تھا

مگر وہ لرکی اس کے ہر الجھے سوال کا جواب تھی

روح کو دو گھنٹے ہوئے تھے سوئے ہوئے اور وہ تب سے چہرے کا رخ اسکی جانب کیے اسے نہایت محبت بھری نظروں سے تک رہا تھا

روح کو عادت ہو گئی تھی اہنے ضر کی عادت کی وہ اکثر ہی اسے راتوں کو اٹھ کر اسے تکنے لگ جاتا تھا

اسکی محبت کا اعطراف اس کے لئے سب سے حسین پل تھا زندگی کا

یہ سچ ہے کہ اپ کو جب پیار ہوتا ہے تو اس کے بعد اپ عشق کی منزلوں پر قدم لیتے ہو

مگر وہ خوش نصیب تھے وہ دونوں ساتھ تھے

انہیں اس عشق کی اگ نے نہی جھلسایا تھا

عشق جس قدر خطرناک ہے اس قدر ہی حسین ہے

——————

وہ نیند میں تھی جب اسے ہاتھوں پر کوئی گیلی اور نرم سی ہلکی چیز محسوس ہوتی ہے

وہ ہمیشہ کی طرح انکھیں چھوٹی کر کے کھولتی ہے

اس کے ہاتھوں میں پھولوں کی پتیاں تھیں

وہ مسکرا کر انہیں محبت سے دیکھتی چھوتی ہے

پورے کمرے میں ہر طرف ہھول تھی

تبھی شہرام اندر داخل ہوتا ہے

وہ مسکرا کر اسے دیکھتی ہے

یہ سب کب کیا

پاس سے پھولوں کا بکے اٹھا کر وہ نرمی سے پوچھتی ہے

جب میرا خرگوش نیند کی وادیوں میں سیر کرنے گیا ہوا تھا اکیلا

دوسرا بوکے اٹھا کر وہ بھی اسے دیتا وہ اگے جھک کر اسکی ہیشانی پر بوسہ دے دیتا ہے

رات کہاں گئے تھے خان

وہ کیسے اسکی غیر موجودگی نہ پہچانتی مگر وہ جانتی تھی وہ اسے بتا دے گا

ضرار کا ایک ایکسیڈینٹ ہوا تھا وہیں

اسکے ہاتھ کی پشت پر انگلی پھیرتا وہ صاف گوئی سے جواب دیتا ہے

کیا مگر کیسے ضرار بھائی ٹھیک ہیں اور روح

وہ پریشان ہوتی سوال کرتی ہے

وہ دونوں ٹھیک ہے مگر میں نہی رہونگا اگر یہاں ایک اور لکیر بھی واضح ہوئی

اسکی ہیشانی پر انگلی رکھ کر وہ خفگی بھرے لئجہ میں کہتا ہے

ہاہاہہا مجھے فریش ہونا ہے

وہ بوکہ اس کی گود میں رکھتی سلیپر پہنتی ہے

پہلے مجھ سے باتیں کرو

بوکے ایک سائیڈ کرتا وہ اسے گود میں بٹھا لیتا ہے

مگر مجھے نہی کرنی نہ فریش ہونا ہے

دونوں ہاتھ اسکے کندھوں ہر فکھ کے وہ لاڈیاں کرتی ہے

ابھی بتاتا ہوں نئی کرنی کی بچی

شہرام اسے گدگدی کرنے لگ جاتا ہے

ہاہاہہاہا خان ہاہاہہاہ۔ ب بس نہ

وہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتی اسکے ہاتھ ہکرنے کی کوشش کرتی ہے

اس کمرے میں انکے گونجتی قہقہ کسی خوبصورت موسیقی جیسے تھے

——————

ضرار کو دو دن بعد چھٹی مل جاتی ئے

روح اسے سیدھا گھر لے کر جانا چاہتی تھی مگر وہ اسے اپنے فارم ہاؤس لے اتا ہے

ضرار ایک بات بتائیں

وہ نماز پرھ کر اس کے پاس اکر بیٹھتی پوچھتی ئے

وہ کوئی بک ریڈ کر رہا تھا

نظریں اٹھا کر اسے دیکھتا ہے

نماز کے سٹائل میں دوپٹہ لیے وہ اسکے سامنے بیٹھی تھی لائٹ پنک کلر کا سوٹ اور پرنٹد وائٹ دوپٹہ اسکے چہرے پر نور واضح کر رہا تھا

فرماؤ میرے دل کا چین

اسکا چھوٹا سا ہاتھ تھام کر وہ دل و جان سے اپنی روح کی طرف متوجہ ہوتا ہے

اپکی کتنی بیویاں ہیں

وہ حیرت سے اسے دیکھتا ہے شاید اس نے غلط سنا ہو مگر وہ بلکل سیریس ہو کر بیٹھی تھی

روح

کیا مطلب

وہ سچ میں نہی سمجھ پایا تھا

اتنے سارے گھر ئیں صحیح بتائیں کتنی بیویاں ہے

وہ پوری کسی لراکا عورت جیسے کمر ہر ہاتھ رکھتی سوال کرتی ہے

ہاہاہہاہاہاہ یار مسئلہ یہ نہی تھا اکچلی مجھے لگا شاید میرے پچاس بچوں کو گھومنا پسند ہو اس لئے

وہ بھی اب شوخ لہجہ اپناتا ہے

کیاااا اپ کے پچ پچاس بچے ہیں

وہ انگلی پر گننے لگتی ہے مگر رک جاتی ہے

نہی میری جان ہونگے

اسکا چہرہ ہاتھوں کے ہیالہ میں بھر کے وہ اسکی پیشانی چوم کر شرارت سے بولتا ہے

بے شرم کہیں کے بیمار ہیں مگر اللہ جانے اس قدر چھچھورے اللہ توبہ اللہ توبہ

ایک پلو اسے مار کر اسے زخم کا خیال کرتی وہ کانوں کو ہاتھ لگاتی ہے

چہرہ بھی لال گلابی ہو چکا تھا

ہاہاہہاہۂاہہۂا

وہ سر جھٹک کر اسکی حرکت پر ہنس دیتا ہے

رہیں یہاں اکیلے

ایک پلو اسکی ٹانگوں ہر مارتی وہ اٹھ کھری ہوتی ہے

یار اچھا نہ دیکھو بیمار ہو گیا ہوں تو زیادہ پر نہی نکال لیے لاؤں واپس اپنی قید میں

چہرے پر مصنوعی سختی لاتا وہ اسے ڈرانے کی کوشش کرتا ہے

دھمکی کسے دے رہیں ہیں ہاں میں مسز ضرار ہوں مجھ سے پنگا اس نوٹ چنگا میں مکی مار دونگی

وہ مُکے کو مُکی کہتی فرضی کالر جھارتی ہے

وہ تو اہنی روح یہ روپ دیکھ سکون بھرا گہرا سانس لیتا ہے

یہاں اؤ

ایک بازو وا کر کے وہ ہمیشہ کی طرح نرمی سے بولتا ہے

وہ واپس بیڈ پر چرتی اسکے پاس بیٹھ جاتی ہے

میری انکھوں کی ٹھنڈک تم جانتی ہو اگلے مہینے ہم کہاں جا رہے ہیں

اسکی انکھوں کا بوسہ لے کر اسکی سوالیہ نظروں میں وہ دیکھتا ہے

عمرے پر

اسکی انکھوں میں دیکھتا وہ محبت بھرے لہجہ میں اسے بتاتا ہے

وہ دو لمحہ حیرانی سے اسے تکتی رہتی ہے

کچھ لمحوں میں خوشی کے انسو اسک انکھوں سے ادا ہوئے تھے

کیا ہ ہم س سچ میں

وہ خوشی کی وجہ سے بول ہی نہی پاتی

وہ تو ہر مسلمان کا خواب ہوتا ہے

اس کے شوہر نے اسے اس قدر خوبصورت تحفہ دیا تھا

روندو سی چریا یہ سچ ہے میں اپنی زندگی کا پہلا سفر تمہارے ساتھ وہاں کرنا چاہتا ہوں جہاں دل کا سکون موجود ہے انکھوں کی ٹھنڈے وہاں رونا چاہتا ہوں ایک بار ہھوٹ پھوٹ کر شکر ادا کرنا چاہتا ہوب اسکی دی ہر نعمت کا

وہ کسی خواب سی کیفیت میں بولتا ہے

اپ جانتے ہو اپ بیسٹ ہو سب سے مجھے سب سی بری خوشی دینے کا شکریہ مجھے بہت خوشی ہے ایک بہترین ہمسفر کے ساتھ میں وہاں جاؤنگی

——————-

ضرار

اپنے گھر کے سامنے کار کو روکتے دیکھ وہ اسے کشمکش میں پرتی پکارتی ہے

چلو اندر

باہر نکل کر اسکی سائیڈ اکر اسے اترتا وہ اندر کی جانب بڑھتے ہیں

پہلی ہی دستک پر اسکا بھائی دروازہ کھول دیتا ہے

ارے اؤ

وہ خوشی کے مارے بولتا ہھر ندامت میں سر جھکا لیتا ہے

مما

وہ اندر داخل ہو کر سیدھی اپنی والدہ کو اواز دیتی ہے

ارے میرا بچہ

وہ کمرے سے نکلتی خوشی سے اسے گلے لگاتی ہیں

کیسی ہیں امی

ان سے علحیدہ ہو کر وہ انکا ہاتھ تھام کر پوچھتی ہے

میں بلکل ٹھیک تم دونوں بتاؤ ٹھیک ہو نہ

ضرار کو صوفہ پر بیٹھنے کا شارہ کرتیں روح کو ساتھ بٹھا کر پوچھتی ہے

جی امی اپ کو پتا ہے ہم اگلے ہفتہ عمرہ پر جا رہے ہیں

نقاب نیچے کر کے وہ محبت بھری نگاہ ضرار پر ڈال کر اپنی والدہ کو بتاتی ہے

ماشاء اللہ ماشاء اللہ بہت اچھی بات ہے

روح کا وہ محبت سے ماتھا چوم کر یہی عمل ضرار کے ساتھ بھی کرتی ہیں

ضراف اب بلکل ٹھیک تھا

کیونکہ روح نے اسک خیال ہی اتنا رکھا تھا

روح

روح کا بھائی اسے پکارتا ہے

جی

اسکے جواب پر نہ کوئی شکوہ تھا نہ شکایات ہمیشہ والی مسکراۂت اسے چہرے ہر تھی

میری پیاری بہن مجھے معاف کر دو یار مجھ سے غلطی ہو گئی بلکہ گناہ

گھٹنوں کے بل بیٹھتا وہ انکھوں میں ندامت کے انسو لئے ہاتھ جوڑتا ہے

بھائی یہ ک کیا

وہ پریشانی سے اسے کھرا کرتی اپنی امی کو دیکھتی ہے

مجھے معاف کر دو میری بہن میں نہی جابتا مجھے کیا ہوگیا تھا یار مجھےمعاف کر دو پلیز

اسے گلے سے لگاتا وہ بار بار معافی مانگ رہا تھا

میں نے معاف کر دیا تھا اسی دن اور اگر کوئی شکوہ باقی تھا وہ بھی ختم

اپنے بھائی کے انسو پونچھتی وہ نرمی سے جواب دیتی ہے

ضرار مسکرا دیتا ہے

اسکی روح ایسی ہی تھی نرم سی

—————

نشاء کچن میں کھری اج بریانی بنا رہی تھی

رائتہ وغیرہ وہ تیار کر چکی تھی

یہ تو شہرام اج ایک میٹینگ کے لئے گیا تھا اس لئے وہ کچن میں گھسی تھی ورنہ وہ ایک کام نہی کرنے دینا چاہتا تھا مگر پھر بھی وہ چھپ کر اسکے لئے کچھ نہ کچھ خو کک کرتی تھی

تبھی اسے دروازہ کھلنے اور بند ہوبے کی اواز اتی ہے بریانی کو دم پر رکھتی وہ باہرنکلتی ہے

خان

ہمیشہ کی طرح وہ چہرے ہر مسکراہٹ سجائے اسے پکارتی ہے

وہ کس قدر تھکا ہوا ہوتا تھا اسکی تھکن اسکی ایک مسکراہٹ اور اواز ختم کر دیتی تھی

خان کی جان

ہمیشہ کی طرح وہ اسکا ماتھا چومتا ہے

اپ لیٹ ہو

وہ منہ پھلا لیتی ہے

یس ائی نو پلیز مائن ریڈی ہو جاؤ ہیمیں کہیں جانا ہے

مگر کہاں وہ بولتی ہے مگر وہ کمرے کی طرف لے جاتا ہے

—————-

خان

اسکی نم اواز نشاء کی سنائی دیتی ہے

وہ اسکے گھر کے سامنے تھے اس لمحہ

کتنی ہی سوچیں اسکے زہن میں ائی تھی

کتنے ہی لمحوں نے گردش کی تھی

ائی نو میری مائن کو مجھ پر یقین ہے

اسکے سامنے وہ ہتھیلی پھیلائے اعتماد سے کہتا ہے

وہ مسکراتی نظروں سے اپنے شریک حیات کو دیکھتی ہاتھ تھام لیتی ہے

—————-

دروازے کے بجنے ہر وہ ہاتھ صاف کرتی دروازہ کھولتی ہئیں

سامبے ہی نشاء اور اسکا شوہر تھا

تم یہاں کیا کر رہی ہو

وہ ہمئشہ کی طرح کوفت سے پوچھتی ہیں

نشاء انکھیں بند کر کے کھولت ہے جب اسے اپنی ہاتھ پر مضبوط گرفت شہرام کے ہاتھ کی محسوس ہوتی ہے

مجھے اپنے بابا سے ملنا ہے آنٹی

اج اس نے انہیں مما نئی کہا تھا وہ چونک جاتی ہیں

اسکے لہجہ میں انہوں جے پہلی بار اجنبیت دیکھی تھی

چاہے وہ جو بھی کہتی تھی وہ ہنیشہ دھیمے لہجہ میں جواب دیتی تھی

اج اس میں جس قدر اعتماد تھا یقینا اس کے ہمسفر کا دیا ہوا تھا

نشاء انکے جواب کا انتظار نہی کرتی شہرام کا ہاتھ تھامے اپنے والد جگ کمرے کی طرف بڑھ جاتی ہے

————-

انکھوں پر ہاتھ رکھے وہ ہلکی سی روشنی جو کمرے میں جلتے ایک بلب سے ہو رہی تھی دوسرے ہاتھ سے وہ بار بار لیمپ کو اون اوف کر رہے تھے

تبھی کوئی اندر داخل ہوتا ہے

بابا یہ اواز سننے کے لئے وہ جتنا ترسے تھے وہ فورا اٹھ بیٹھتے ہیں

میری بیٹی

اسکا چہرہ تھامتے وہ بے یقینی کی کیفیت میں تھے

وہ نم انکھوں سے انکا چہرہ دیکھتی ہے وہ کمزور نظر ا رہے تھے

شہرام سینے پر ہاتھ باندھے کھرا ہو جاتا ہے

——————-

بابا اپ میرے لئے اپنا خیال رکھیں گے نہی تو میں پکے والا ناراض ہو جاؤنگی

باپ اور بیٹی میں ہر رنجش دور ہو گئی تھی

شہرام خوش تھا وہ اسکے والد سے اسکا تعلق صحیح کروا چکا تھا جو اس نے خود سے وعدہ کیا تھا

وہ عورت وہیں تھیں بہت سے لوگ اپنی جگہ رہ جاتے ہیں یا پیچھے چھوٹ سے جاتی ہئں

ہاں تبدیلی یہ اتی ئے کہ ان کی وجہ سے جتنی زندگی میں مشکلات ہو رہی ہوتی ہیں اگر اپ ڈٹ کر سامنا کرو تو ان مشکلات سے لر سکتے ہو ان لوگوں کو اگنور کر دو تو وہ وہیں ماضی میں رہ جاے ہیں یا یئ سمجھ اجاتا ئے کہ ان لوگوں کی نلکل کوئی ویلیو ہی نہی جنہیں ہم لوگ اپنی زندگی میں اتنی ویلیو دے کر اپنی زندگے سے شکوے کر بیٹھتے ہیں

نشاء خوشی خوشی شہرام کے ساتھ نکلتی ہے

اس کے والد بھی خوش تھے اپنی بیٹی کو اتنے اچھے انسان کے ساتھ دیکھ کر

وہ سکون کا سانس لیتے ہیں

——————-

امم یہ والی بھی

اوفو

ہاں یہ والی بھی

ارے یہ بھی پلیز

روح بیڈ ہر بیٹھی تھی ضرار نگ ڈرار اوپن کی ہوئی تھی

وہاب تک کتنی ہی چوکلیٹس بیڈ پر رکھ چکا تھا

مگر وہ پھر بھی یہ یہ کیے جا رہی تھی

تمہاری تو بہت شرارتی ہو گئی ہو تم

ساری چوکلیٹس وہ چھور کر ایک اپنی پسند سے اٹھا کر کھول کے کھانے لگتی ہے

ضرار اسے اپنی قید میں لیتا گھورتا ہے

ہاہاہہا بیوی کس کی ہوں اتنی سڑو ہو میں تو معصوم ہوں نہ

وہ معصومیت سے بولتی ہے

یار بس کر دو تمھیں کھا ہی نہ جاؤں

اسکے گالوں سے چاکیلٹسصاف کرتا وہ شرارتاً کہتا ہے

اپ کو اللہ کا خوف بھی ہے ایک چھوٹی سی معصوم سے پیاری سی بچی کو کھاتے زرا رحم نہی ائی گا

اخر میں وہ ایک ہونٹ اوپری ہونٹ ہر رکھتی معصوم انکھوں سے اسے دیکھتی ئے

یار اللہ نے برا ظلم کیا ہے مجھ ہر اتنیییی کیوٹ کیوں ہو

اسے خود میں بھیجنے وہ شدت بھرے لہجہ میں بولتا

ہے

اویے کھروس شوہر چھورو میں نے چوکیلٹ کھانی ہے

اسے ایسے ہی کھرا دیکھ وہ ہاتھوں ست اسے مارتی ہے

اچھا ابھی بتاتا ہوں تمہاری چاکیلٹ

وہ کھلکھلا کر ہنس دیتی ہے

————-

خان

شہرام جو سٹڈی میں تھا مشاء کی پکار پر مڑ کے اسے دیکھتا ہے اس کے ہاتھ میں کوئی ڈش تھی

بیٹھو نہ

اسکے کہنے ہر وہ چیئر ہر بیٹھ جاتا ہے

نشاء ڈش کو اسکے سامنے رکھتی ئے اس میں کھیر تھی

یہ نشاء حور کیا جان سکتا ہوں اس کی وجہ

وہ جب بھی اسے ڈانٹتا تھا تو اسکا پورا نام لیتا تھا

خان پلیز نہ میں نے فرسٹ ٹائم ٹرائے کی ہے

وہ سر جھکا کر بولتی ہے

تو یار اداس تو نہ ہو اچھا سوری نہ یار کیوں تھکاتی ہو خود کو

اسے اپنی ٹانگوں ہر بٹھاتا وہ اسکی انکھ کا پابی صاف کرتا ہے

وہ اسکی چھوٹی سی بات ہر رو دیتی تھی

شاید وہ واقف تھی وہ ہیشہ ہی اسکے انسو اس قدر محبت سے چنے گا

اممم یہ تو بہت اچھی بنہ ئے وہ کھیر کا ایک چمچ لے کر تعریف کرتا ہے

سچییی یہ نہ میں نے اپکو تھینکیو کے لئے بنائے اپ اتنےےےےےت بیسٹ ہو نہ

دونوں بازوں کو کھول کر اتنےےےےے کرتی وہ بہت کیوٹ لگتی ہے

یار یہ میٹھی کم ہے

وہ چہرے پر سنجدگی سجاتا ہے

کیا سچ میں

وہ چمچ کا رخ اپنی طرف کرتی چکھتی یے

نہی پوری میٹھی ہے

دو لمحہ سوچ کر وہ کہتی ہے

امم ہاں یہ تو ہے لگتا اب ہوئی ہے

وہ وہی چمچ جو اسنے بچایا تھا کھا کر شرارتا کہتا ئے

یہ بہت پرانا ڈائیلوگ ہے

ناک چرھا کر وہ کہتی ہے

اوہہہ اچھا

کھیر کا پیالہ رکھ کے وہ اسکی چیلنج کرتی نظروں میں دیکھتا ہے

جی ہاں

وہ اسے سمجھنے دیے بغیر اٹھ کر بھاگنے لگتی ئے جب اسکی کلائی خان کی گرفت میں اتی ئے

ہر راستہ تمہارا مجھ سے مجھ تک ہے مسز

————

رات کو نشاء نیند میں تھی جب اچانک وہ اٹھ بیٹھتی ئے باہر شاید بارش ہو رہی تھی موسم تو صبح سے ہی ضراب تھا

وہ پورے کمرے میں نگاہ دوڑاتی ہے مگر شہرام کئیں نہی تھا

خان

وہ کھری ہو کر اسے اواز دیتی ہے

مگر اسکا جواب نہ ہا کر وہ باہر نکلتی ہے

سامنے سٹڈی کا دروازہ کھلوتی وہ اندر قدم رکھتی ئے جب سگریٹ کی بو اسکی ناک سے ٹکراتی ہے

اہ

کھانستی ہوئی وہ چہرے ہر ہاتھ رکھتی ہے

اسکی اواز بہت کم تھی

سامنے ہی وہ ایزی چیئر پر بیٹھا سگریٹ ہھونک رہا تھا

لائٹ اوف کیے وہ سامنے گلاس وال سے باہر برستی بارش کو دیکھ رہا تھا

اگے برھ کر وہ اسکے ہاتھ سے سگریٹ لیتی نیچے پھینک کر پاؤں سے مسل دیتی ہے

وہ مسل تو چکی تھی مگر وہ بھول گئی تھی اس نے تو شوز باہر اتارے تھے وہ اس قدر اسکے لئے ہریشان تھی

واٹ دا مائن

وہ اسکا پاؤن دیکھ کر گود میں بٹھاتا پاؤں اوپر کرتا ہے

کچھ نہی ہوا اپ یہاں کیوں ہو

اور اتنی ساری

سامنے بجھی سگریٹ دیکھ وہ افسوس سے کہتی ہے

نشاء حور خاموش رہو

کھرا ہو کر اسے چیئر پر بٹھاتا وہ فرسٹ ایڈ بوکس لا کر اسکے پاؤں کی ڈریسینگ کرتا ہے

کیا ہوا ہے

اسے نیچےہی بیٹھ کر اپنی گود میں سر رکھتا دیکھ وہ سوال کرتی ہے

کچھ نہی مائن ایک کیس کے بارے میں سوچ رہا تھا اب تو سکون کے لئے یوں بیٹھا ہوں

اب شہرام کے چہرے ہر دنیا جہاں کا سکوں تھا

نشاء جھک کر ایک ہاتھ اسکی پیٹ ہر رکھتی اسکے بالوں ہر سر رکھ دیتی ہے

بارش میں چلیں

خان کے بازو پر وہ انگلی چلاتی ہوئی پوچھتی ہے

اواز میں جھجھک تھی جانتی تھی اس نے اجازت نہی دینی

وہ نرمی سے سر اٹھاتا ہے

مسز شرارتی بس کر دو

ہاتھ پکر کر کھرا کرتا وہ اپنی گود میں بٹھا کر خود میں چھپا لیتا ہے

پلیز نہ

وہ ریکوئسٹ کرتی ہے مگر اسکی گھوری ہر چپ چاپ انکھیں بند کرتی ہے

وہ اپنی بیوی کی اس معصوم ادا ہر مسکرا دیتا ہے

اور جھک کر کان میں سرگوشیاں کرنے لگتا ئے

—————————

وہ دونوں رات کے پہر حرم میں موجود تھے

ضرار کے چہرے پر انتہا کا سکون تھا

روح کے چہرے ہر تشکر کے انسو

ہر کسی کی زندگی حسین تھی

اب کی زندگی اپ کے ارد گرد لوگوں پر منحصر ہوتی ہے اس لئے اپنے ارد گرد پوزیٹیو لوگوں پر دیہان دیں نہ کہ نیگیٹیو نیگیٹیو لوگ اپ کی دل آزاری کر سکتے ہیں سب کر سکتے ہیں مگر اپ کی ل ایک سوچ کہ جو ہوتا ہ بہتری کے لئے ہوتا ہے

اس پر اپ اپنی بہترین زندگی جی سکتے ہیںزندگی گزارنے کا نام نہی ہے جینے کا نام ہے

وہ اپنے ہمسفر کے ساتھ زندگی کو جی رہے تھے

بے شک ہر مشکل کے بعد اسانی ہے

اگر نشاء کے ساتھ برا ہوتا تو ہوتا نہی ہونا تھا نہی ہوا

ہمیں اس آیت پر دل ل سے یقین رکھنا چاہیے

وتعزو من تشاء وتزلُ من تشاء

عزت اور زلت دینے والی زات صرف اللہ کی ہے