Tera Junoon by Laiba Khan NovelR50433 Tera Junoon Episode 15
Rate this Novel
Tera Junoon Episode 15
Tera Junoon by Laiba Khan
آج جمعہ تھا اور آج شام رسیپشن تھا
ایک ہفتہ ہو گیا تھا نشاء کو وہاں کام کرتے
مگر مشکل سے ہی ایک یا دو بار بات ہوئی تھی اسکی شہرام سے
ابھی وہ کام سیکھ رہی تھی
روح نے نشاء سے بھی بہت اچھی طرح بنا لی تھی
ہاں اس ایک ہفتہ میں نشاء کو اس خان کی ایک بار بھی کال نہیُ آئی تھی
غائب دماغی سے وہ کہی بار اسے سوچ چکی تھی اور ویٹ بھی کر رہی تھی
—————-
شام ہو چکی تھی مہمان انا شروع ہو گئے تھے
فنکشن گھر کے لان میں ہی رکھا گیا تھا
پورا لان نہایت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا
ہر طرف روح کے پسندیدہ پھول لگے ہوئے تھے
روح کو تیار کرنے ضرار نے گھر ہی بیوٹیشن کو بلا لیا تھا
بلیک گاؤنُ پہنے سر پر ہم رنگ حجاب لیے خوبصورتی سے کیا گیا میک اپ اور اس پر اسکی معصومیت آج وہ غضب ڈھا رہی تھی
ضرار بھی آج ہٹ کر تیار ہوا تھا
بلیک سوٹ پہنے بالوں کو خوبصورتی سے سیٹ کیے وہ حد سے زیادہ ڈیشنگ اور ہینڈسم لگ رہا تھا
وہ دونوں ایک ساتھ کھرے نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہے تھے
ضرار ابھی آیا تھا اور روح کے ساتھ ہی کھرا تھا ان دونون نے ایک ساتھ باہر جانا تھا
—————-
چلیں میری چریا
ضرار محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتا پوچھتا ہے
آج تو چریا نہیُ بلاؤ آج میں بڑی لگ رہی ہوں
روح اترا کر کہتی ہے
آج زندگی میں پہلی بار اس نے اتنا میک اپ کیا تھا
پہلے یہ بتاؤ ہلیز میں پکا چل لو گی
اس نے تیسری بار پوچھا تھا اس وقت میں
ضر میں دو بار بتا چکی میں کمفرٹیبل ہوں
اب وہ کمفرٹیبل لفظ کھینچ کر ادا کرتی ہے
اوکے لیٹس سی
وہ ہاتھ تھام کر اسے ساتھ لیے آگے بڑھ جاتا ہے
————-
باقی سب لرکوں نے وائٹ سوٹ پہنے تھے
اور لرکیوں نے وائٹ گاؤنُ
نشاء کا وائٹ گاؤنُ حد سے زیادہ حسین تھا
وہ اس میں کوئی آسمان سے اتری پری معلوم ہو رہی تھی
اس پر حجاب اسکا اداس سا معصوم چہرہ اور نکھر رہا تھا
اس نے بھی ہائی ہیلز پہنی تھیں
چلیں نشاء
سائرہ جس نے سیم نشاء جیسا ہی گاؤنُ پہنا تھا اندر اتی ہوئی اسے کہتی ہے
وہ سر ہلا کر اسکے ساتھ ہی نکل جاتی ہے
——————-
آج کی پارٹی میں شہرام بھی انوائٹڈ تھا
وہ ہاتھوں میں نہایت خوبصورت بکے لئے سٹیج تک آتا ہے
ضرار اسکے آتے ہی کھرا ہو کر اسے ملتا ہے
وہ بات بہت کم کرتا تھا ضرار کی طرح
السلام علیکم بھابھی
وہ نہایت ادب سے وہ بکے روح کو دیتا ہوا کہتا ہے
وہ سر ہلا کر جواب دیتی ہے
شہرام آج انتہائی ہینڈسم لگ رہا تھا وائٹ سوٹ پہنے
اس پر اسکی انکھیں ان میں آج عجیب سی روشنی تھی
———————
کیا ہوا تھک گئی چھوٹی سی چریا
ابھی صرف ایک گھنٹہ ہوا تھا اور روح منہ بسور بسور کر ضرار کو گھور رہی تھی
ابھی اسکی والدہ بھی اس سے مل کر گئی
تھیں اس کا بھائی آج بھی نہیُ آیا تھا
بات مت کریں
وہ دانت پیس کر جواب دیتی ہے
ارے ہوا کیا
وہ اسکا پاس پرا ہاتھ تھام لیتا ہے
وہ سب کے سامنے اسکا یوں ہاتھ تھامنے پر بلش کر جاتی ہے
کچھ نہیُ چھورو
وہ ہاتھ چھڑوا لیتی ہے
جو ضرار کو پسند نہیُ آتا
وہ اٹھ کر سٹیج سے اتر جاتا ہے
ہو ناراض ہو گئے
وہ اسکی پیٹ کو گھورتی ہوئی کہتی ہے تبھی اس کے پاس دادو آ جاتی تھی ہیں
————
کیا دادو مگر کیوں یہ سب
نشاء پر تو حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے
ابھی دادو نے اناونسمینٹ کی تھی کہ آج ضرار اور روح کے رسیپشن کے ساتھ نشاء کا نکاح بھی ہے اور وہ بھی اس کے بوس کے ساتھ
میری جان کیا بغیر سوال کیے تم میری بات نہیُ مان سکتی
مگر دادو کیوں پلیز مجھے بتائیں ان سب کی وجہ
وہ کیسے یوں خاموش رہتی اس کی زندگی کا سوال تھا
میری جان وقت آنے پر پلیز یہ دوپٹہ اوڑھ لو ابھی نکاح خواں آتے ہی ہونگے
وہ ایک لال رنگ کا خوبصورت سا دوپٹہ اسے تھامتی ہوئی بولتی ئیں
دادو وہ میرے بوس ہیں
وہ ایک آخری کوشش کرتی ئے
آج سے شوہر بن جائیگا
وہ اس بات کو بھی خاطر میں نہیُ لاتیں
—————-
نشاء آج نشاء شہرام خان بن چکی تھی
کچھ دیر پہلے ہی اسکا نکاح ہوا تھا
وہ بلکل گم سم سی بیٹھی تھی
سب اسے مبارک دے رہے تھے پیار کر رہے تھے
اسکی سوتیلی ماں تو کب سے کڑے تیروں سے گھور رہی تھی
کونسا گل کھلایا تھا جو یوں اچانک نکاح کرنا پڑا
وہ جو اپنی خیالوں میں گم تھی اپنی ماں کے اس گھٹیا الزام پر پریشانی سے سر اٹھا کر انہیں دیکھتی ہے
میں ہر گز کسی کو اجازت نہیُ دونگا میری بیوی سے یوں بات کرنے کی
پیچھے سے نہایت سرد آواز ان دونون کو سنائی دیتی ئے
وہ جیسے رخ مورتی ہیں سامنے ہی شہرام پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے انہیں اپنی نیلی سرد نگاہوں سے انہیں گھور رہا تھا
نشاء کو ناجانے کیوں اسکا یوں اسکے لئے بولنا بہت اچھا لگا تھا
وہ اسکے ان سرد نگاہوں سے گھبرا جاتی ہیں
ٹھنڈا جیسا لہجہ تھا ویسے ہی وہ انکھیں تھی
بیوی نہی منکوحہ ہے تمہاری ابھی رخصتی نہیُ دی میں نے اور بکواس کی تو رخصتی ہونے کی بجائے طلا
ان کی بات پوری بھی نہیُ ہوئی تھی جب وہ اپنا لائٹر اٹھا کر پاس پڑی شیشہ کی میز پر مارتا ئے
وہ زوردار آواز سے کرچی کرچی ہو جاتی ہے
بلکل ایس جیسے کتنے ہی خواب اسکی بیوی کے اس عورت نے کرچی کرچی کیے تھے
اپنی اوقات میں رہیں اور نکلیں ورنہ اگلی بار اب کو جلا کر راکھ کر دونگا
اب اس نے بھی کوئی لحاظ نہیُ رکھا تھا
سامنے کھری عورت کا
وہ بڑبڑاتے ہوئی نکل جاتی ہیں
وہ سامنے بیٹھی حیرت کا مجسمہ بنی اپنی بیوی کے سامنے آتا ہے
May I
وہ بیٹھنے کے لئے اشارہ کرتا ئے
مگر وہ تو بس اسے گھوری جا رہی تھی
وہ اپنی ہنسی دباتا بیٹھ جاتا ہے
وہ اسکے پاس بیٹھتے ہی ہوش میں اتی ہے
Sir
وہ ہلکی سی آواز میں منمناتی ہے
Wifey
وہ گھمیر آواز میں اسے پکارتا ہے
میں سر نہیُ شوہر ہوں
وہ کہ کر اسکا ہاتھ تھام لیتا ئے
نہیُ وہ آئی مین کہ وہ
اسے سمجھ نہیُ آرہا تھا وہ کیا کہنا چاہ رہی تھی اور کیا کہ رہی تھی
رلیکس
شہرام اسکا ہاتھ دباتا ہوا بولتا ہے
سر
وہ دوبارہ وہی پکارتی ہے
تو وہ گھورتا ہے
آئی مین کہ میں کیا بلاؤں
وہ یہ بولتے بہت معصوم لگی تھی
خان
وہ بہت ہی خوبصورت آواز میں جواب دیتا ہے
اب ایک اور حیرانی کا پہاڑ آیا تھا اس بیچاری پر اور ٹوٹ گیا تھا
اپ وہ مری والے آئی میں s.k.
وہ پریشانی سے دریافت کرتی ہے
ہاتھ اب تک اسی کے ہاتھ میں تھا
جی میرا معصوم خرگوش
وہ ہلکی سی اسکی ناک دباتا ہے
مگر وہ سب
رلیکس حور
وہ جانتا تھا وہ سٹریس ہے اس لیے دوسرا ہاتھ تھام کر دونون ہاتھ دباتا ہے جس سے وہ خاموش ہو جاتی ہے
کل آفس آجاتا اوکے ایک بھی چھٹی نہیُ ملے گی
وہ ایک بوس والا روعب لاتا ہے لہجہ میں
وہ کہیں سے بھی وہ شہرام نہیُ لگ رہا تھا
کولڈ لہجہ والا
جو ابھی اس کی ماں سے بات کرتے وقت تھا
اسکی بات پر وہ انکھیں گھما دیتی ہے
اوکے مائن کل ملیں گے
اب وہ کھرا ہو کر ہاتھ چھور دیتا ہے
آگے ہوتا اسکے سر پہ بوسہ دے کر نکلتا چلا جاتا ہے
وہ اس لمس میں کھو سی جاتی ہے
——————-
ضر
روح کب سے اسکا روم میں ویٹ کر رہی تھی
اب وہ باقاعدہ ٹہل رہی تھی
وہ جیسے اندر داخل ہوتا ہے وہ اسکے سامنے آجاتی ہے
ضر اپ ناراض ہو
اسکے اس قدر معصومیت سے پوچھنے پر اسکی جو بچی کچی ناراضگی تھی وہ بھی اڑ جاتی ہے
نہیُ ضر کی جان
وہ اسے کاؤچ پر بٹھا دیتا ہے
اپ نے کب سے مجھ سے بات نہیُ کی
اب وہ رونے کی تیاری پکر چکی تھی
وہ اسے کیا بتاتا وہ کہاں گیا تھا
“ضرار جو سٹیج سے اترا تھا سامنے ایک شخس کو دیکھ وہ اپنے پی اے کو ایک میسج کرتا اندر بڑھ جاتا ہے
اپنے پورشن میں آکر وہ دوسرے روم کا دروازہ کھول کر بل شیلف مجں موجود ایک بٹن دباتا ہے
جس سے وہ گھوم جاتی ہے اور راستہ نکل آتا ہے
وہ اندر بڑھ جاتا ہے
کچھ ہی دیر میں اسکا پی اے اسی شخص کے ساتھ موجود تھا
“
تمہاری ہمت کیسے ہوئی ضرار کی قیمتی متاعِ جان پر نظر رکھنے کی
کچھ ہی دیر مین ضرار اس کا حشر برپا کر چکا تھا
بھول گئے تھے کس کی نظروں سے بچ رہے ہو
ضرار مرزا کی
وہ ایک اور پنچ اسکے منہ پر مارتا ہے
پھینک دو اسے
ضرار ہاتھ صاف کرتا اپنے پی اے سے کہ کر نکل جاتا ہے”
اسکا پی اے جانتا تھا اسے کیا کرنا ہے
نہیُ اپ ہو
وہ اپنی سوچ سے واپس اسکی آواز سے نکلتا ہے
نہیُ میری چریا
وہ ہاتھوں سے چوریاں نکالتا اسکے نہایت نرمی سے جواب دیتا ہے
—————-
ابھی شیخ کو ضرار کی طرف سے خط ملا تھا
جو اس کے آدمی کے خون سے لکھا گیا تھا
وہ اس وقت جلے پیر کی بلی بنا یہان سے وہاں چکر کاٹ رہا تھا
اسکا اتنا اہم آدمی مارا گیا تھا
اسے اس بات کا افسوس نہیُ تھا اسے خبر نہیُ ملی تھی اس چیز کا افسوس تھا اسے
ضرار مرزا کب تک بچو گے ایک دن تو تمہارے قسمت پھوٹے گی اور میری جاگے گی
وہ مکروہ قہقہ لگا دیتا ہے
—————-
یا اللہ یہ ایک ہی دن میں کیا ہو گیا ہے کچھ سمجھ نہیُ آرہی جانتی ہو تو نے ہے کچھ بہتر سوچا ہوگا میری لئے یا اللہ مجھے ہر حالات سے لڑنے کی ہمت دینا میدے مالک
نشاء چینج کر کی سیدھے نماز ادا کرنے بیٹھی تھی
اب دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے وہ آنسو بہا رہی تھی
——————
ضر مجھے یہ نہیُ سمجھ آ رہا
روح نماز پرھ کر بکس لے کر بیٹھی تھی
تمھیں پتا ہے روح تم انوکھی بیوی ہو جو آج کی رات اپنے شوہر سے بیٹھی میتھس کے سوال کروا رہی ہے
وہ اسکی بات پر پہلے گھورتی ہے پھر پلو اٹھا کر اسے مارتی ہے
ضرار بھی اس لڑائی میں اسکا ساتھ دینے لگتا ہے
مگر مار صرف روح رہی تھی
وہ تو اسے پھولوں سے بھی زخمی نئی کر سکتا تھا
ضر بس
وہ پلو پھینک کر اسکی گود میں سر رکھتی لیٹ جاتی ئے
تھک گئی نہ آج یہ صبح چھوڑنے جانے سے پہلے کروا دونگا
وہ بکس بند کر کے اس پر کمفرٹر ڈال دیتا ہے
