718.6K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Junoon Episode 12

Tera Junoon by Laiba Khan

میرا نام کیسے سیو کیا ہے

وہ روح لکھ کر تلاشکر چکی تھی مگر نہیُ ملا تھا ایسا کوئی بھی یا اس سے ریلیٹڈ

لٹل برڈ

وہ اسکے جواب پر ایک گھوری سے نوازنہ نہیُ بھولتی ہے

یہ لیں لکھ دیا

وہ لکھ کر اس کے سامنے فون کرتی ہے

اوہہہ ویسے اپ فون میں کیا کرتے ہو

وہ جو فون لینے لگتا ئے اسکے سوال پر ہاتھ پیچھے کر لیتا ہے

خود دیکھ لو

ضرار دوبارہ سیٹ سے سر ٹکا دیتا ہے

ضر یہاں بھی پاسورڈ ہے

وہ گیلری پر لگے پاسورڈ کو دیکھ کہتی ہے

روح

وہ نیند بھری انکھوں سے جواب دیتا ہے

تھوری ہی دیر میں وہ سو چکا تھا

اور روح مزے سے اسکا فون یوز کر رہی تھی

گیلری میں ایک ایلبم صرف روح کی پکس کی تھی

جو نجانے کب کب لی گئی تھی اور سب بہت خوبصورتی سے لی گئیں تھیں

———————

ہم یہاں کیا کر رہے ہیں

روح جو ایک گھنٹہ پہلے دوبارہ سو گئی تھی

اب جاگی تھی تو وہ ایک گھر میں موجود تھے

مگر وہان صرف ضر ہی تھا اور وہ اس کے علاوہ اور کوئی نہیُ

سرپرائز مائے برڈ

سامان جگہ پر رکھتا ہوا ضرار مسکرا کر جواب دیتا ہے

کیا مطلب وہ اب بھی نا سمجھی سے اسے تک رکھ تھی

ہم یہاں ہی رہیں گے اور وہ سب ہوٹل میں

ایک دو لفظوں پر بات ختم کرنے والا اسے کے سامنے پوری صفائیاں دیتا تھا

کیوں کیا مطلب ہم یہاں اکیلے مگر میں نے ان سب جے ساتھ انجوائے کرنا رھا ضر

اس پر تو پہاڑ ہی گر گیا تھا

وہ تو ان کے ساتھ گھومنے آئی تھی اود وہ ہی اس کے ساتھ نہیُ تھے

ہاں تو میرے ہوتے ہوئے تم کسی کو دیکھو ضرار ہر گز یہ برداشت نہیُ کرے گا

اسکی چھوٹی سی ناک ہلکی سی مرور کر بولتا ہے

وہ منہ پھلا کر واک آؤ ٹ کر جاتی ئے

اب جانتا تھا اسے منانا پڑے گا مگر اس نے لمحوں میں مان جانا تھا

———————

روح تھکان کی وجہ سے دوبارہ سو گئی تھی

رات کے بارہ بج گئے تھے

اب وہ جا کر اٹھی تھی

پاؤن میں شوز پہنتی وہ شال اپنے گرد لپیٹ کر حجاب اٹھا کر پہنتی نیچے کا رخ کرتی ہے

ضر

سیرھیاں اترتی وہ اندھیرا دیکھ ضرار کو آواز دیتی ہے

ضر

جواب نہ ملنے ہر وہ دوبارہ پکارتی ہے

ضر کہاں ہو

وہ نیچے آچُکے تھی

موبائل اس کی جیب میں تھا وہ نکال لیتی ہے

مگر وہ اوف ہو چکا تھا

شٹ

موبائل فون اوف دیکھ وہ اور پریشان ہوتی ئے

ضر

ضرررر

اب وہ باقاعدہ چلاتی ہے

روح میری جان

ضرار جو دوسرے روم میں تھا وہ نیچے ہی موجود تھا

اسکی چیخ کی آواز سن کر وہ آتا ئے

اپ کہاں تھے

ضر کے سینے سے لگتی روتے ہوئے پوچھتی ہے

روح میرا بچہ میں یہیں تھا

اس پر گرفت مضبوط کرتا ہوا جواب دیتا ہے

نہیُ میں کب سے آواز دے رہی تھی

وہ اب بھی اسی خوف میں تھی کہ وہ کہیں اس انجان جگہ اکیلی تو نہیُ

ایم سوری روح اپ کی آواز کم ہوگی مجھے سنائی نہیُ دی آ جاؤ میرے ساتھ

وہ اسی روم میں اسے ساتھ لے آتا ہے

ایک طرف پینٹنگ کا سامان ایک طرف گٹار اور ایک طرف پنچنگ بیگ لگآ ہوا تھا

سامنے ہی ایک کاؤچ پرا تھا

اس کے سامنے ایک ٹیبل کاؤچ اچھا خاصہ برا تھا

اپ کو آواز نہیُ آئی اور ادھر میری جان

ابھی اسکی بات مکمل ہوتی اسکی گھوری پر وہ لائن پر اتی اپنی زبان کو وہ لفظ کہنے سے روک دیتی ئے

میری جان ایم سوری

اسے کاؤچ پر بٹھا کر ضرار خود گھٹنوں پر بیٹھ جاتا ہے

نو مجھے اکیلا چھور کر اپ یہاں کیا کر رہے

وہ غصہ سے وہان موجود ہر چیز گھورتی یے

جیسے انہی کی ساری غلطی ہو

میری روح ناراض تھی نہ

اس کے یاد دلانے ہر وہ زور زور سے ہاں میں سر ہلا کر منہ پھلا لیتی یے

وہ اسکی حرکت پر مسکرائے بنا نہیُ رہ سکتا

——————-

نشاء بالکونی میں کھرئ تھی

ابھی اس کی آنکھ کھلی تھی

بس اسے دو گھنٹہ نیند آئی تھی

وہ انکھیں بند کر کی کھلی ہوا کو محسوس کرتی ہے

“ مما میں مری جا رہی سب جا رہے بھائی آئینگے

وہ خوشی سے آج پھر اپنی ماں کے سامنے کھرئ تھی ایک ہاتھ میں بیگ پکرا ہوا تھا

کوئی ضرورت نہیُ خود جہاں مرنا ہے مرو میرا بیٹا کہیں نئی آئیگا

سامنے موجود اس کی ماں چاہے سوتیلی ہی صحیح مگر ماں تو تھی حقارت سے اسے دیکھ کر جواب دیتی ہے یا یہ کہنا بہتر تھا زہر اگلتی ہے

امی سب جا رہے تھے تو اس لئے

وہ پھر بھی ہمت نہیُ ہارتی وہ اپنے بھائی سے بہت محبت کرتی تھی

جو اس سے دو سال چھوٹا تھا

ہاں تو جاؤ میری طرف سے جہنم میں مرو

وہ انکی بات پر آنسو پیتی رہ جاتی ہے

اس کے والد بھی تو دیہان نہیُ دیتے تھے

اور وہ بولنا بھی بند ہو چکی تھی

چلیں امی اپنا خیال رکھے گا بھائی کا بھی ابو کا بھی میںجا رہی ہوں

وہ کتنے دنوں سے وہان تھی صرف سامان لینے تو گئی تھی اور کہا بھی کیا تھا جو انہوں نے یوں بات کی تھی”

آنکھ کھولتے ہی ایک موتی بار توڑ کر گال ہر بہ نکلتا ہے

آئی مس یو ماما میں بہت اکیلی ہوں کوئی نہی ہے جس سے شیئر کروں اللہ تو سب جانتا ہے نہ یا اللہ پلئز سب ٹھیک کر دی مجھے ضرورت ہے کسی ایسے کی جو مجھ سے محبت کرے پلیز اللہ

آسمان کی طرف وہ سر کر کےدل میں ہی خداسے باتیں کر رہی تھی

وہ جانتی تھی اللہ خاموش لبوں کی دعائیں جانتا ہے

وہ پانچ وقت کی نمازی تھی اس کی امی نے اسے نماز پڑھنا سکھایا تھا

تبھی اسکے فون پر رنگ ہوتی ہے

وہ بغیر دیکھے کال رسیو کر لیتی ہے

اوپر دیکھو

دوسری طرف سے گھمبیر آواز میں بس یہی کہا گیا تھا

ہو آر یو

ماتھے پر تیوری لئے وہ پوچھتی ئے آنسو پونچھ چکی تھی

مائن اوپر دیکھو

دوسری طرف سے اسے کوئی مائن پکار دوبارہ وہی کہتا ہے

بھار میں جاؤ

کہ کر وہ فون کٹ کر دیتی ہے

مگر پھر چہرہ اوپر کرتی ہے

نجانے کس احساس کے تحت شاید دوسری طرف والا بھی جانتا تھا اس لئے دوبارہ کال نئی کرتا

مائن حور

اس کا دوسرا نام لکھا گیا تھا جگنوؤں سے

وہ نام چمک رہا تھا

نشاء حور یہ تو اسے صرف اس کی مما بلاتی تھیں

اسے لگتا تھا شائد ہی کسی کو یاد ہو اسکے نام کے ساتھ ایک اور نام بھی ہے

جو اسے بے حد پسند ہے مگر اس نام سے کوئی نہیُ پکارتا تھا

وہ اگلے لمحہ اسی نمبر پر کال کرتی ہے

جو ایک لمحہ کی دیر کیے بنا اٹھا لی جاتی ہے

میں کون ہوں کیسے جانتا ہوں یہ سب چھورو حور جسٹ ریممبر تم صرف اس خان کی ہو اونلی مائن

وہ کہ کر اسکی سانسیں جو اتھل پگھل ہو گئی تھی سن کر خود میں سکون اتارتا کال بند کر دیتا ہے

وہ دوسری طرف سکتے کی حالت میں کھرے تھی

وہ جتنی بہادر صحیح مگر کسی غیر سے اپنے بارے میں جان کر وہ پریشان ہو گئی تھی

اس نے دیہان نہیُ دیا تھا کہ وہ جو پہلے اداس تھی اب اداسی کہیں دور جا سوئی تھی

—————-

میرا بچہ آؤ

ضرار اسکا ہاتھ تھام کر شال صحیح کرتا اسکو اپنے ساتھ لیے باہر لاتا ئے

باہر ہی پیارا سا گارڈن بنا ہوا تھا

وہ اوپر آسمان دیکھتی ہوئی بچوں کی طرح خوشی چہرے پر سجائے ہوئے تھی

آج ہم یہاں سوئیں گے وہ سامنے اشارہ کرتا ہوا کہتا ئے

ضر ہم گر گئے تو اور یہ پیڑ سے کھل گیا تو

مگر وہ مضبوطی سے باندھا گیا تھا

وہ اسکی پریشانی پر اسے ایک بار بیٹھ کر دکھا دیتا ہے

اجاؤ

اسکا ہاتھ تھام کر وہ اسے اپنے ساتھ ہی بٹھاتا ہے ایک ایک کر کے بیٹھنے سے وہ گر بھی سکتے تھے

اسے لٹا کر ضرار خود بھی پاس لیٹ جاتا ہے

وہ ایک اور شال خود پر اور اس پر اچھی طرح اوڑھ چکا تھا

باہر سردی تھی وہ جانتا تھا

مگر وہ اسکے ساتھ ہر لمحہ بہت حسین کرنا چاہتا تھا

اسے تو وہ پورا ہی ڈھانپ چکا تھا خود میں چھپا کے

ضر

وہ اسکے سینے سے منہ نکال کر بلاتی ہے

میرے بچہ کو نیند نہیُ آئی

اسکی کھلی انکھیں دیکھ کر ضرار سوال کرتا ہے

نو

منہ بسور کر روح کہتی ہے

اجاؤ پھر گیم کھیلیں

وہ حیرت کا مجسمہ بنے اسے دیکھتی ہے

کہ یہ اسی نے ہی کہا تھا نہ

کونسی اسکی گال پر چٹکی کاٹتے وہ ہوش میں اتی ہوئی پوچھتی ہے

تم مجھ سے جو سوال کروگی میں اس کا جواب دونگا

تاروں کو دیکھتا ہوا وہ کہتا ہے

کھلا آسمان اور تارے وہ بہت حسین سا منظر تھا

پکا نہ

وہ ہاتھ آگے کر کے وعدہ لے رہی تھی تاکہ وہ زبان سے نا پھرے شاید وہ اب بھی اس سے ناواقف تھی وہ زبان کا کس قدر پکا تھا سب جانتے تھے

ہمم پکا

اس کا چھوٹا سا ہاتھ تھام کر وعدہ کرتا ئے

اپ کی وہ کتنی تھیں شادی سے پہلے

وہ اسکے وہ کا مطلب جانتا تھا گرل فرینڈز

ایک بھی نہیُ

اس کی انکھوں میں دیکھ کر جواب دیتا ہے

یوں ہی وہ ساری رات باتیں کرتے کرتے سو جاتے ہیں

——————

سردی کی لمبی رات میں وہ آدھی رات کے وقت آسمان پر نظریں جمائے ٹھنڈے پول کے پانی میں پاؤں ڈالے بیٹھی تھی

ضرار کچھ دیر کے لئے باہر گیا تھا

وہ شدید اس کے بغیر بور ہو رہی تھی

تبھی اسکی کار کا ہورن سنائی دیتا ہے

وہ ویسے ہی بیٹھی رہتی ہے

وہ اسے ڈھونڈتا کچھ لمحوں میں وہیں آجاتا ہے

روح یہ کیا طریقہ ہے اس وقت سردی میں باہر بیٹھنا

وہ نہایت سختی سے کہتا ہے

میں بور ہو رہی تھی

وہ سادگی سے جواب دیتی ہے

باہر نکلو

اسے ویسے بیٹھا دیکھ وہ اونچی آواز کرتا ہے

وہ اسکے کہنے پر دونوں بازو اوپر کر دیتی ہے

صاف اشارہ تھا وہ خود اسے اٹھائے اسکے پاؤں سن ہو گئے تھے

انہیں یہان آئے دو دن ہو گئے تھے ان دنوں ابھی وہ بائر نہیُ گئے تھے روح کو شدید سردی لگ رہی تھی آج کل اس لیے ضرار اسے نہیُ لے کر گیا تھا

وہ اسکے دونوں بازو پکر کر باہر نکال کے کھرا کرتا بازوں سے تھام کر اندر لاتا ہے

وہ اب باقاعدہ کانپ رہی تھی

یہ کیا حرکت تھی روح

وہ بلینکٹ میں اسے چھپاتا ڈارک لہجہ میں سوال کرتا ہے

میرا دل کر رہا تھا نہ

وہ منہ بنا کر کہتی ہے

وہ سامنے ہی بیٹھ کر اسکے دونوں پاؤں سینے پر رکھتا جیکٹ میں قید کر لیتا ہے

وہ ویسے ہی منہ بنا کر بیٹھی رہتی ہے

چھوریں جائیں جیسے پہلے گئے تھے

وہ بامشکل صرف ڈیڑھ گھنٹہ گیا تھا باہر اور وہ یوں ناراض تھی

شاید وہ اسے خود سے اتنا اسٹیچ کر چکا تھا

اس لئے

ام سوری لٹل برڈ

وہ جیکٹ کے اندر اس کے پاوں پر بوسہ دیتا معزرت خواہ لہجہ میں کہتا ہے

نو نیور

وہ پاؤں نکالنے کی کوشش کرتی ہے

روح

وہ گھنبیر آواز میں پکارتا ہے

مجھے اکیلے رہنا نہیُ پسند یو نو دیٹ

وہ پاؤں پیچھے کر کے اسکے کندھے پہ سر رکھتی اداسی سے کہتی ہے

ایم ریئلی سوری تم کبھی اکیلی نہیُ ہو گی روح میں ساتھ ہونا

وہ اسے بچوں کی طرح بہلاتا ہے

چلو صحیح سے بیٹھو

وہ جیکٹ سوکس گلوز نکالتا اسکے پاس آتا ہے

سب سے پہلے وہ اسے سوکس پہناتا ہاتھ تھام کر گلوز پہناتا جیکٹ اسے پہننے کا کہتا ہیٹر اون کرتا ہے

جانتا تھا ابھی اس نے بیمار پر جانا تھا