718.6K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Junoon Episode 4

Tera Junoon by Laiba Khan

ہر طرف خاموشی تھی اور گہرا اندھیرا چھا گیا تھا

آسمان پر بادل بھی موجود تھے اب

مگر نیچے وہ اچھے سے انجوائے کر رہے تھے

ایک باول میں پرچیاں ڈالے وہ ایک پلو سب کو پاس کر رہے تھے

روح نے اپنے فون سے سونگز چلائے ہوئے تھے

سٹوپُ سٹوپ

و سائرہ کے پاس جیسے آتا ہے سونگ رک جاتا ہے

سب شاؤٹ کر جے کہتے ہیں

وہ منہ بنا کر اپنی پرچی نکالتی ہے

اپ اپنے گھر میں کس سے سب سے زیادہ ڈرتے ہو

وہ اونچا وہ سوال پرھتی ہے

اور تھوکُ نگل کر وہ اپنے کزن کو دیکھتی ہے جس نے یہ لکھا تھا

وہ سب اس کا جواب جانتے تھے

وہ ایک نظر ضرار کو دیکھ مسکین سی شکل روح کو دکھاتی ہے

نو نیور بولو ہاں کوئی ناراض نہیُ ہوگا اور ہاں کوئی جھوٹ بھی نہیُ چلے گا

وہ ہاتھ جھار کر کہتی ہے

دیکھ چھوٹی پٹاکھا کیوں پھنسا رہی ہے

سائرہ اسکے پاس آکر کان میں کھسر پھسر کرتی ہے

سائرہ نہ کرو دیر

اس کا کزن ہنسی چھپا کر کہتا ہے

میں روح کے کان میں بتاؤنگی

کندھے اچکا کر وہ کہتی ہے

کیا ہے بولو بھی ہم نے گیم کھیلنی

ضرار تو اس گیم سے پورا لا تعلق تھا مگر روح نے گھور کر اسے پلو دیا تھا

بھائی

وہ بس یہی کہتی ہے

آؤ بہن کونسا بھائی

کمر پر ہاتھ رکھ کر وہ بھنویں سکیر کر پوچھتی کے

سائرہ اسے گھور کر رہ جاتی ہے

ض ض ضرار بھائی

آخر تیسری باری پر وہ نام کے لیتی ہے

ضرار بلکل دھیان نہیُ دیتا اس کے لیے یہ بات عام تھی

ہو کیوں

روح اسے کندھا مار کر پوچھتی ہے

تم نے ایسا کچھ نہیُ کہا تھا نہ اس میں لکھا ہے گیم شروع کرو

وہ اب مصنوعی غصہ سے کہتی اپنی جگہ واپس جاتی ہے

———

اوہ لیں

روح اچھل کر خوشی سے ضرار کو باول پاس کرتی کے

کیونکہ اب سونگ اس پر رکا تھا پلو بھی اسی کے ہاتھ میں تھا

وہ سنجیدگی سے کے لیتا ہے

وہ کیوں اسکی باتیں مان رہا تھا سب پریشان تھے

برے تینوں سو چکے تھے

کیا آیا

جب وہ کھول کر بولتا نہیُ ہے تو وہ خود پوچھتی ہے

وہ خاموشی سے پرچی سامنے کر دیتا ہے

پرچی میں سونگ گانا تھا کوئی بھی

گٹار کہاں ہے

وہ اپنے کزن کو دیکھ کر پوچھتی کے

میں سونگ نہیُ گاؤں گا تم لوگ کنٹینیو کرو

لہجہ ویسا ہی سنجیدہ تھا

یہ ڈئیر ہے

وہ اداس ہو کر کہتی ہے

بھائی ہلیز

سائرہ گلا تر کر کے ہمت جمع کرتی اسے کہتی ہے

وہ انگلی سے پیشانی مسلتا ہے

تبھی اسکا کزن گٹار لے آتا ہے

ضرار غصہ سے اٹھ کر چلا جاتا ہے

روحُ مایوسی سے واپس اپنی جگہ آکر فون اٹھاتی سب کو دے کر اسکا فون سائرہ کو دے کر چلی جاتی ہے

————-

حد ہے ضرار بھائی اس کے سامنے روڈ نہ ہوتے اتنی سوئیٹ ہے وہ

سائرہ اپنی کزن سے غصہ میں بولتی ہے

ضرار جو سموکنگ کر رہا تھا مڑ کر ایک نظر اسے دور جاتے دیکھتا ہے

وہ اندر جانے کی بجائے تھورا آگے نکل جاتی ہے

سائرہ ضرار کے پاس آتی اسے فون دے کر دوسری کزن جے ساتھ اپنے کیمپ نیں بند ہو جاتی کے

وہ دونوں کزنز بھی اپنے کیمپ میں چلے جاتے ہیں

گٹار باہر ہی پڑا تھا

وہ آگے برھ کر گٹار پر دو انگیلاں پھیڑ کر روح کے کیمپ کی طرف برھ جاتا ہے

باہر کھرا ہو کر سانس خارج کرتا وہ سیگریٹ پھینک کر آواز دیتا ہے

روح

گھنبیر آواز میں وہ خوبصورتی سے اسکا نام لیتا ہے اسکا نام لیتے اسکے چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ کھل جاتی ہے

روح

وہ دوبارہ پکارتا ہے نگر اندر سے کوئی ہلچل تک نئی ہوتی

اس کے ماتھے پر سلوٹیں نمایاں ہونے لگتی ہیں

ائییییی

تبھی اسے نسوانی چیخ کی آواز آتی ہے

اس نے دو لمحہ میں پہچانا تھا وہ آواز روح کی تھی

وہ الٹے قدم پیچھے کی طرف مر کر بھاگتا ہے

روح جو واپس آنے کے لیے مڑ رہی تھی

سامنے سانپ دیکھ وہ پیچھے کی طرف بھاگ جاتی جے

وہ اس جگہ سے کافی دور نکل اتی ہے

تبھی کسی پتھر سے ٹکرا کر وہ نیچے گرتی ہے

جس سے زور دار چیخ اس کے ہلک سے ادا ہوتی ہے

———

ضرار اسے ہر طرف ڈھونڈ رہا تھا

وہ خود بھی اسکی تلاش میں کافی آگے نکل آیا تھا

تبھی اسے ایک جگہ روح کا بوٹ نظر آتا ہے

ڈیم روح

وہ زور سے اسے پکارتا ہے

لہجہُ مین نہ جانے کیسی شدت تھی

وہ روح کے قریب تھا

روح اسکے آواز سن کر کھرے ہونے کی کوشش کرتی ہے

میں ی یہاں ہوں

وہ وہیں سے لرکھرا کر تھورا اونچے آواز میں کہتی ہے

مگر کوئی نہیُ سنتا

———

ضرار کو ایک گھنٹہ ہو گیا تھا اسے ڈھونڈتے

وہ غلط ڈائریکشن میں چلا جاتا ہے

روح ڈر کی وجہ سے وہیں بے ہوش ہو جاتی ہے

——————

دو گھنٹے لگاتار اسے ڈھونڈتے وہ دوبارہ اس جگہ آتا ہے جہاں سے اسے اسکا شوز ملا تھا

————

روح کے چاچو وغیرہ سب پریشان سے گھنٹہ سے انتظار کر رہے تھے

مگر وہ اور نہیُ رک سکتے تھے

روح کی پھپھو کی طبیعت خراب ہو گئی تھی

اسے لئے وہ سب نکل جاتے ہیں

نہ ضرار کا آتا پتا تھا بہ روح کا

وہ سب پریشانی میں نکل جاتے ہیں

—————-

ضرار ابھی آگے اور قدم برساتا جب اسکے پاؤں سے کچھ ٹکراتا ہے

وہ روح کا پاؤں تھا

وہ بے سدھ پری ہوئی تھی

وہ فورا گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسکا سر گھٹنہ پر رکھتا ہے

پاؤں سے خون بہ رہا تھا

روح – گال تھپتھپا کر وہ اسے پکارا ہے

مگر بے سود وہ ویسی ہی رہتی ہے

روح ویک اپ ہے مائے لٹل برڈ

وہ دوبارہ اسکا گال سہلاتا ہے

وہ کرتا کیا نہ کرتا

کوئی بھی نہیُ تھا اوپر سے اسے چوٹ بھی لگی تھی

وہ اسے ایسے بھی نئی لے جا سکا تھا

وہ فون نکال کر سگنل دیکھتا ہے

جو نہ ہونے کے برابر تھے

وہ نرمی سے آسکا سر نیچے رکھ کر کھرا ہوتا ایک دو جگہ سگنلز دیکھتا ہے

تبھی ایک جگہ سگنلز زیادہ ہوتے ہیں

وہ فورا کال ملاتا ہے

جو چوتھی بیل پر اٹھا کی جاتی ہے

وہ اسکا پی اے تھا

لوکیشن بھیج رہا ہوں ایمبولینس لے کر پہنچو

وہ کہ کر لوکیشن سینڈ کرتا واپس روح کر پاس آتا ہے

جیب سے رومال نکال کر وہ اسکے پاؤں پر باندھتا ویٹ کرنے لگتا ہے

—————-

ادھت گھنٹہ بعد وہ روح کو لے کر نکلتے ہیں

————

وہ سارے پریشانی سے گھر میں داخل ہوتے ہیں

اب تو صبح بھی ہو گئی تھی

اور ان دونوں کا کچھ اتا پتا نئ تھا

وہ پریشان سے کھرے تھے کیا کرتے کیا نہ کرتے

کچھ سمجھ ہی تو نہیُ آرہا تھا

——-

روح کو کافی دیر بعد ہوش آتا ہے

اس جے پاؤں میں شدید درد تھا

شاید کوئی کانچ تھا جو بری طرح لگا تھا

اور باقی کا کام پتھر نے کر دکھایا تھا

وہ خود کو ہوسپٹل میں دیکھ کر چونکتی ہے

تبھی ضرار اندر داخل ہوتا ہے

شرٹ پر مٹی اور گھٹنوں کی جگہ پینٹ پر بھی مٹی لگی ہوئی تھی

انکگیں سرخ تھیں

وہ پھر بھی بے حد وجیح لگ رہا رھا

میں یہاں کیا کر رہی ہوں

وہ ہلکی آواز میں پوچھتی ہے

وہ اسے کوئی جواب نہیُ دیتا جو اسکے ساتھ نرس آئی تھی وہ اسے روح کو ویل چیئر پر بیٹھا نے کا کہتا ہے

وہ آپنے آگنور ہونے پر ایک بار ۔

دوبارہ بلکل منہ نہیُ کھولتی

———-

صبح کے گیارہ بجے وہ گھر میں داخل ہوتے ہیں

یا اللہ کیا ہوا ہے میری بچہ کو

دادو روح کو دیکھ کر پریشانی میں پوچھتی ہے

ضرار انہیں مختصر کر کے بتا دیتا ہے

تم لوگ گئے ہی کیوں تھے اکیلے جنگل میں

روح کا بھائی غصہ میں سے انہیں دیکھ کر سوال کرتا ہے

ضرار اس کی نظر اور لہجہ میں شک دیکھ کر مٹھی بھینج لیتا ہے

میں آ اکیلی گئی تھی

وہ اپنی طرف سے ہلکی سی آواز میں منمناتی ہے

بس کر دو اس شخص کے ساتھ کیوں تھی تم جواب دو مجھے

اس کا بھائی ابھی اس کی طرف برھ رہا ہوتا ہت جب دادو کی آواز سے رک جاتا ہے

کیا پاگل ہو گئے ہو کیا بکواس کر رہے ہو اس نے بتایا تو ہے اوپر سے بہن زخمی ہے تم اسے پیار سے بات کرو بلکہ یہ بکوس کر رہے ہو

وہ سخت لہجہ مین کہتی ہیں

بس کر دیں دادو پتا نہیُ کونسا چک

ابھی وہ الفاظ مکمل کرتا ضرار کا پرنے والا تھپر اسکے الفاظ وہیں روک دیتا ہے

زبان سنبھال کر

وہ ایک ایک لفظ پر زور دے کر نہایت سرد لہجہ مین بولتا ہے

مجھے تو خاموش کروا لو گے اور لوگ انکا کیا ایک رات باہر گزار کر آئے ہوحد ہے تم جیسی بہن پر

وہ ابھی ہاتھ اٹھاتا جب ضرار اسکا ہاتھ روک دیتا ہے

روح ڈر سے آنکھیں بند کر لیتی ہے

وہ کہتی بھی تو کیا کہتی جب اسکے اپنے ہی یوں کہ رہے تھے وہ انہیں اپنی زات کی صفائی کیوں دیتی

ایک لفظ نہیُ

وہ دو مکہ زور دار اسکے منہ پر جڑ دیتا ہے

تم اپنی بہن کے لئے یہ الفاظ کیسے بول سکتے ہو

باقی سب خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے

وہ جانتے تھے نہ ضرار ایسا ہے نہ ہی روح ایسے ہے

دادو بس کرین ایک رات باہر گزار کر آئی ہے

ہر گز مین اسے اپنے گھر مین نئی دیکھوں گا اتنی ہمدردی ہو رہی ہے تو کر لے اسے قبول

وہ پھر بھی بکواس بند نہیں کرتا

تبھی دادو ایک فیصلہ پر پہنچ کر ان دونوں کو اپنے روم مین کے جاتی ہیں

سائرہ اور باقی کزنز روح کو سنبھالتے ہیں

————

ضرار ایک فیصلہ کیا ہے تمہاری دادو نے شکرگزار ہونگی اگر مانو گے نکاح کر لو میری روح سے

وہُ ان دونوں کے سر پر دھماکہ کرتی ہیں

وہ انہیں دیکھ نفی مین سر ہلاتا جب انکی انکھوں مین امید دیکھتا ہے

وہ سر کو خم دیتا اٹھ جاتا ہے

دادو

روح کا بھائی انہیں پکارتا ہے مگر وہ اسے بلکل کسی غیر کی طرح کہ کر کہ اسکی بہن کا نکاح ہے باہر نکل جاتی ہے

وہ افسوس کر کہ رہ جاتا ہے

——

دادو نے با مشکل روح کو رضامند کیا تھا

ان کا نکاح ہو چکا تھا

ضرار تو نکاح ہوتے ہی اپنے روم مین بند ہو گیا تھا

روح دادو کے کمرے مین بیٹھی رو رہی تھی

کیا کسی نے بھی اس پر یقین نہیُ کیا تھا

جو نکاح کروا دیا تھا

جب کہ دادو ابھی سمجھا کر گئیں تھی۔

کہ ان مین سے کسی کو اس پر شک نہیُ بس کوئی غلط بات نہ کرے اس لئے کروایا

مگر وہ بیٹھی بس روئے جا رہی تھی

اسکا بھائی بھی گھر جا چکا تھا

——-

میری جان اٹھو

دادو روح کے پاس آتی ہیں

اسے وہ ضرار کے روم میں لے جانا چاہ رہی تھیں—-