718.6K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Junoon Episode 14

Tera Junoon by Laiba Khan

شاپ کے سائے گہرے ہو رہے تھے

آج وہ لوگ اپنی واپسی کر چکے تھے

صبح کے بیٹھے وہ اب جا کر پہنچے تھے

سب تھکے ہارے سے گھر میں داخل ہوتے ہیں

سامنے ہی دادو ان کا انتظار کر رہی تھیں

باری باری سب ان سے مل کر اپنے کمروں میں گھس جاتے ہیں

ضرار بھی روح کو لیتا اوپر برھ جاتا ہے

کیونکہ وہ نیند میں جھول رہی تھی

انکھیں اس کی بار بار بند ہو رہی تھیں

آدھا سفر تو اس نے سو کر ہی گزارا تھا ضرار کے کندھے پر

نشاء بھی ان سے مل کر کمرے میں گھس جاتی ہے

———————

ضرار مرر کے سامنے کھرا اپنے بال سیٹ کر رہا تھا

تبھی روح بھی تیار ہو کر باہر نکلتی ہے

لانگ فراق پہنے سر پر حجاب کیے وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی

ضرار اس پر ایک محبت بھری نگاہ ڈالتا ہے

اس پر لال رنگ بہت جچتا تھا

چلیں

روح دوپٹہ کاندھے پر صحیح کرتی اسکے پاس آکر پوچھتی ہے

روح

وہ اسکا نام سامنے مرر میں اسکا عکس دیکھتے پکارتا ہے

نہیُ نہ ضر ہم نیچے جائینگے

وہ بھی خدی تھی اسکا بازو پکرے نیچے لا کر چھورتئ ہے

—————-

سب لوگ ڈائننگ پر موجود تھے

آج سب دیر سے اٹھے تھے

ضرار آفس جا چکا تھا

روح سامنے ہی صوفہ پر بیٹھی تھی

دادو میں جوب کرنا چاہتی ہوں

نشاء جو ابھی آئی تھی

بغیر کسی لگی لپٹی کے سیدھا کہتی ہیں

دادو جو ان کے ساتھ ہی اکربیٹھی تھیں

اسکی بات پر شوکڈ ہوتی اسے دیکھتی ہیں

کیوں بیٹا کیا کسی چیز کی کمی ہے

نہیُ دادو بس مجھے اپنا وقت گزارنا ہے پلیز انکار مت کرنا

وہ آس سموئے لہجہ مین کہتی ہے

ٹھیک ہے میری جان جو بہتر لگے بس میں تو تم سب کی خوشی چاہتی ہوں

وہ اسے اداس نہیُ کرنا چاہتی تھیں اس لئے اجازت دے دیتی ہیں

شکریہ دادو

وہ ہونٹوں پر زبردستی کی مسکراہٹ سجاتی ہے

کسی نے اسکی یہ مسکراہٹ نوٹ کی ہو یا نہیُ روح جو چائے اٹھا رہی تھی اس نے ضرور نوٹ کی تھی

اس کا بجھا بجھا چہرہ اس نے وہاں بھی نوٹ کیا تھا

———

سائرہ

روح سائرہ کے کمرے میں داخل ہو کر اسے پکارتی ہے

ہاں بس آئی

وہ ڈریسنگ روم سے آواز دیتی ہے

ہاں کیا ہوا

اسکے ہاتھوں میں کچھ کپرے تھے

وہ کاؤچ پر رکھ کر اسے پوچھتی ہے

یار مجھے بات کرنی تھی

روح اسکے ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ بیڈُ پر بٹھا لیتی ہے

ہممم پوچھو

یار سائرہ مجھے نشاء ویسی نہیُ لگتی جیسی دکھتی ئے

اس کی مسکراہٹ سب فیک لگتا ایسا لگتا ہے

جیسے وہ برا بننے کا ناٹک کر رہی ہو

سائرہ کو نہیُ لگا تھا وہ اتنی جلدی پہچان لے گئ

ہاں کیونکہ وہ ناٹک ہی کر رہی تھی دادو نے اسے کہا تھا

وہ اسے ساری بات بتاتی چلی جاتی ہے

اور وہ حیران سی سارا قصہ سن رہی تھی

اس نے اسکی والدہ کا رویہ وغیرہ سب بتا دیا تھا

مینز نشاء کو ہم سب کی ضرورت ہے

اسکے بارے میں جان کر وہ خود بھی اداس ہوئی تھی

—————

مجھے ضرار مرزا کی کمزوری چاہئے کچھ بھی کر کے

اسکی ہمت کیسے ہوئ یہ ڈیل کینسل کرنے کی

ایک پچاس سالہ آدمی نہایت غصہ سے پھنکار رہا تھا

بوس سننے میں آیا ہے جلد ہی وہ کوئی بہت بری پارٹی دینے والا ہے میں وہاں ہی جاؤنگا بھیس بدل کر کسی طرح اور کچھ نہ کچھ لازمی معلوم کر لونگا

ہممم نکلو

وہ شخص اسے بھیج کر اپنے کمرے میں موجود ہر چیز توڑ دیتا ہے

ضرار مرزا تم مجھ سے نہیُ بچ سکتے

اسکے لہجہ میں نفرت ہی نفرت تھی

——————

ضرار کیا مصروف ہو کچھ وقت ہوگا بات کر سکتے

ضرار جو ابھی گھر میں داخل ہوا تھا

دادو کی آواز پر پلٹ کر انکے پاس آتا ہے

آف کورس دادو

وہ پہلی بار مسکرا کر جواب دیتا ان کے ساتھ بیٹھ جاتا ہے

——————-

میں جانتا ہوں وہ سب ڈرامہ تھا دادو

اسکا لہجہ اکتایا ہوا تھا جیسے وہ کسی اور کے بارے میں بات نہیُ کرنا چاہتا تھا

میری جان مین چاہتی ہوں تم اسے اپنی کمپنی میں جوب دو

دادو میں کروا دونگا

وہ گھڑی پر نگاہ ڈال کر کہتا ئے

ٹھیک ہے میری جان

وہ آگے ہو کر اسکا ماتھا چوم لیتی ہیں

میں نہیُ چاہتی تھی وہ جوب کرے مگر جانتی ہوں وہ خود سے جنگ لڑ رہی ہے

وہ سر ہلا دیتا ہے وہ ان سب سے واقف تھا

—————

اپ لیٹ ہو

ضرار جیسے کمرے میں داخل ہوتا ہے ایک پلو اور اسکی ناراضگی بھری آواز اسکے سماعتوں سے ٹکراتی ئے

وہ دل کھول کر مسکرا دیتا ہے

ایم سوری

فون کیز وغیرہ ٹیبل پہ رکھتا وہ اسکے قریب آکر کہتا ہے

نوٹ ایکسیپٹڈ

وہ لفظوں کو کھینچ کر کہتی ایک اور پلو مارتی ہے

روح یار

وہ پلو اسکی داڑھی پر لگا تھا جو خراب ہو گئی تھی

وہ آرام سے وہ پلو واپس رکھ دیتا ہے

نہیُ اپ نے ٹائم دیا تھا

اپ پورے 6منٹ لیٹ ہو

وہ ہاتھ سے بریکسلٹ اتار دیتی ہے

یار روح بابا سوری آئندہ جلدی آؤنگا آئی پرومس

وہ اسکے سامنے ہی بلکل پاس گھٹنون پر بیٹھ جاتا ہے

جس سے اسکی دونوں ٹانگیں ضر کی قید میں آ جاتی ہیں

ضر کی جان

وہ روح کے ہاتھ تھام کر گھمبیر آواز میں پکارتا ہے

ضر مجھے بھوک لگی تھی

وہ ایک نظروں سے بچنے کے لئے جو منہ میں آتا ئے بول دیتی ہے

تو پھر اٹھو

وہ فورا سے کھرا ہو جاتا ہے

—————-

یہ ایڈریس ہے یہاں چلی جانا

ضرار جو بریک فسٹ کر کے جا رہا تھا

نشاء کی طرف کارڈ پھینکتا ہے

مگر

وہ ابھی کچھ بولتی وہ جا بھی چکا تھا

دادو مجھے کسی کی سفارش نہیُ چاہئے

وہ جانتی تھی دادو نے ہی اسے کہا ہوگا

میری جان ایک بات میں نے مانی ایک تم مان لو

مگر دادو

وہ ابھی کچھ کہتی وہ اسکی بات کاٹ دیتی ہیں

پھرُمیں اجازت واپس لے لوں

انکی بات پر وہ سر ہلا کر کارڈ اٹھا لیتی ہے

——————

ضر مجھے کالج جانا ہے اتنی چھٹیاں ہو گئیں

ضرار جو ابھی آفس مین آیا تھا

اسے روح کی کال اتی ہے جو آنسر کر کے وہ اپنے کیبن میں داخل ہوتا ہے

آف کورس روح کل سے

وہ نہایت نرمی سے جواب دیتا ہے

اپ کوُکوئی اعتراض نہیُ

اسکی حیران آواز اسے سنائی دیتی ہے

وہ مسکرا کر بیٹھ جاتا ہے

بلکل نہیُ بلکہ میں کیسے اتنا گم ہوگیا اپنی روح میں کہ یہ یاد نہیُ رہا اپنی چریا کو کالج بھی بھیجنا ہے

اسکی لہجہ میں دنیا جہاں کی محبت آباد تھی

اپ ہمیشہ پٹری سے اتر جاتے ہو

وہ کہ کر کھٹک سے فون بند کر دیتی ہے

وہ پیچھے قہقہ لگا دیتا ہے

——————-

نشاء بلیک گاؤنُ اس پر حجاب لیے نقاب کرتی باہر اتی ہے

وہ جانے کے لئے تیار تھی

دادو میں جا رہی ہوں

وہ منہ بسور کر انکے گلے ملتی ہوئی کہتی نکل جاتی ہے

وہ پیچھے ہنس کر اسکے لئے دعا کرتی ہیں

—————-

وہ ایک بری سی بلڈنگ کے سامنے کھرئ تھی

وہ قدم قدم برھاتی اندر داخل ہوتی ئے

نشاح سیدھا رسیپشنسٹ تک اتی ہے

جہاں تیس کی لک بھگ کی عمر کی عورت موجود تھی

اپ کو ضرار سر نے بھیجا ہے

وہ نشاء کے بولنے سے پہلے ہی بول دیتی ہے

جی

وہ ہلکی سی آواز میں جواب دیتی ہے

آئیے اپ کا سر نے بتایا تھا اور کہا تھا اپ جیسے آئیں اپ کو ان کے آفس لے جاؤں

انہوں نے اپ کو اپنی پرسنل اسسٹنٹ رکھا ہے

وہ اسے بتاتی ہوئی ایک جگہ آکر رکتی ہے

سامنے ہی ایک کیبن تھا

یہ سر کا کیبن ہے اپ جا سکتی ہیں

وہ کہ کر واپس چلی جاتی ہے

وہ ہاتھ مسل کر نوک کرتی ہے

مردہ سی آواز جس کی پیدا ہوتی ہے

مگر پھر بھی دوسری طرط شاید کسی کو انتظار تھا اس لئے فورا کم ان کی آواز اسے اتی ہے

——————-

وہ انگلیاں مسلتی ہوئی پہلے خود کو کمفرٹیبل کرتی پھر اندر داخل ہوتی ہے

بیٹھ جائیں مس نشاء

اس نے سر اٹھا کر نہیُ دیکھا تھا مگر آواز پر سر اٹھاتی ہے

مگر اس چیئر کا رخ دیوار کی طرف تھا جس سے اس شخص کی اسے صرف آواز ہی آئی تھی

———

نشاء گھر آچُکی تھی کل سے اسے اپنی جاب شروع کرنی تھی

و حیران ہوئی تھی وہ وہی شخص وہی تھا جس نے اس دن ضرار کی ٹیم کو جوائن کیا تھا

————-

روح کیا کر رہی ہو

روح جو ناجانے کب سے ضرار آیا تھا تب سے کاموں مین مگھن تھی

ضرار میں کام کر رہی کل مجھے کالج جانا ہے نہ اس لئے بٹ میری بلا نہیُ ہیں یہاں نہ کچھ میں کیا کروں

وہ پریشانی سے اسے جواب دیتی ہے

اوکے زرا وہ بیگز اٹھانا

ابھی جو ملازم بیگز رکھ کر گیا تھا ضرار اسکی طرف اشارہ کرتا ہے

وہ آگے برھ کر ان بیگز کو اٹھاتی ہے

اسے خوشی تب ہوتی ہے جب ان بیگز میں وہ اپنی یونفارم شوز اور بیگ کے ساتھ کتابیں دیکھتی ہے

ضر یو آر دا بیسٹ

وہ خوشی سے اسکے سینے سے لگ جاتی ہے

وہ قہقہ لگا دیتا ہے اسکی معصوم حرکت پر کیونکہ وہ فورا اس سے دور ہوئی تھی

سرخ ہوتی

———————-

اندھیرے کمرے مین شہرام سیگریٹ پر سیگریٹ پھونک رہا تھا

سامنے ہی اسک فون بج بج کر بند ہو چکا تا

مگر وہ تو انکھیں بند کیے کہیں اور ہی موجود تھا

وہ بلکل ہلکی آواز میں پکارتا ہے جو شاید ہی وہ خود بھی سن پایا ہوگا

مائن

—————-

نشاء کل کی تیاری کر رہی تھی جب اسے کال اتی ہے

وہ بغیر دیکھے اکثر کال اٹھا لیتی گھی

آج بھی وہی کرتی ہے

دوبارہ کال ایسے ہی رسیو کر کے فون کان سے لگاتی ہے

ہیلو

وہ کبرڈ سے اپنا سوٹ نکالتی ہوئی بولتی ہے

مائن

دوسری طرف نہایت گھمیر آواز میں آواز اتی ہے

تم تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے کال کرنے کی

وہ غصہ سے فون دیکھ کر اسے کہتی ہے

پتہ نہیُ کون شخص تھا جو بار بار اسے مائن پکارتا تھا

مائن آئی بیڈُ یو

واٹ دا ہیل

وہ اسکی اس قدر اداس سے لہجہ پر دو منٹ خاموش ہو کر کہتی ہے

دل نا جانے نئی چاہا تھا جھرکنے کا مگر وہ کسی غیر مرر سے بات بھی نہیُ کرتی تھی

اس لئی فون رکھ دیتی ئے

کون ہوگا یہ شخص

وہ بیڈُ پر لیٹی ہوئی بھی یہی سوچ رہی تھی