718.6K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Junoon Episode 18

Tera Junoon by Laiba Khan

احمد

احمد جو ابھی آیا تھا اسکے پکارنے پر اسکے سامنے آتا ہے

سر اپ نے جو کام کہا تھا ہو گیا

اسکی انکھوں کا اشارہ سمجھ کر احمد جواب دیتا ہے

وہ سر کو خم دیتا گہری سانس کھینچ کر اندر برھ جاتا ہے

جہاں اسکی دشمنِ جان اسے ہی پکار رہی تھی

—————

سامنے ہی وہ مشینوں میں جکھڑی کمزور سی حالت میں لیٹی ہوئی تھی

چہرہ کی رنگت پیلی ہو چکی تھی

وہ غصہ سے اپنی مٹھیاں بھینج لیتا ہے

اس میں اور ہمت نہیُ تھی اسے یوں دیکھنے کی ایک لمحہ بھی اس لئے وہ رخ موڑ کر سامنے جا کر کھڑا ہو جاتا ہے

ض ضر

تبھی اسے اپنی زندگی کی زبان سے اپنا نام سنائی دیتا ہے

وہ شاید گنودگی میں جا چکی تھی

مگر پھر بھی اسے ہی پکار رہی تھی

وہ پلٹ کر اسکے پاس آکر دونوں طرف ایک ایک ہاتھ رکھ کر اسے اپنے حصار میں قید کرتا اسکے پاس جھکتا ہے

تمھیں بھی حساب دینا ہوگا مسز ضرار تمھیں بھی

اپنی حفاظت نہیُ کر سکی تم

ضرار کے لیے

تمھیں بھی اسکی سزا ملے گی

مگر یہ دل جس قدر موم ہوتا ہے نہ فکر مت کرنا

زیادہ یہ شخص خود کو ازیت دی گا

جو غافل پن میں مارا گیا

ابھی تو کسی اور کا وقت آیا ہے میری جان

بس پھر تمھیں ضرار یہاں سے دور لے جائیگا

وہ جھک کر اسکی پیشانی چوم لیتا ہے

انکھوں میں انتہا کی نرمی تھی

مگر جیسے ہی وہ اٹھ کر قدم پیچھے لینے لگتا ہے

انکھیں لمحہ با لمحہ سرد اور سنجیدہ ہوتی جا رہی تھیں

—————

حور چلو

شہرام جلدی میں نشاء کے پاس آتا ہے

مگر کہاں ابھی تو ٹائم رہتا ہے نہ

وہ گھری پر ٹائم دیکھتی ہوئی کہتی ہے

مائن چلو مجھے تمھیں چھور کر کہیں جانا ہے

اینڈ نو مور کوئیشنز میں باہر ویٹ کر رہا ہوں اجاؤ

وہ کہتے ہی باہر نکل جاتا ہے

عجیب سا تھا وہ

ایک لمحہ کیا

تو دوسرے لمحہ کیا

————

یہ منظر ایک برے سے حال کا دکھائی دے رہا تھا

سامنے ہی ایک شخص رسیوں میں بندھا ہوا تھا

اس پاس بہت سے اوزار پڑے تھے

سامنے ہی تین بوکس بھی موجود تھے

اس جگہ کو دیکھ کوئی عام انسان خوف میں مبتلا ہو سکتا تھا

وہاں کی روشنی ہی اس قدر خطرناک تھی

تبھی وہاں کسی چیز کی گھسیٹنے کی آواز نمودار ہوتی ہے

جیسے کسی لوہے کی چیز کو زمین پر گھسیٹا جا رہا تھا

اس آواز سے کان کے پردے پھٹتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے

وہ جگہ ایک ٹارچر سیل کی شکل ڈھال چکی تھی

وہاں موجود

چیزوں کی وجہ سے

تبھی ایک بلیک ہو ڈی پہنے لمبا چورا شخص وہ چیز گھسیٹنا بند کرتا ایک بوکس اٹھاتا ہے

وہ شخس بھی ہوش میں اچکا تھا

سامنے کا منظر دیکھ اسے اپنی روح فنا ہوتی معلوم ہوتی ہے

ضرار مر مر زا مت بھ بھولو میں کون ہوں

وہ شخص لرکھرا کر اپنی زبان سے یہ لفظ ادا کرتا ہی ہے جب ضرار اسکا ہاتھ جو کرسی پر رکھا تھا اس پر ایک کیل پیوست کر دیتا ہے

وہاں اسکی درد سی بھری چیخ گونج اٹھتی ہے

آہ آہ

وہ کراہ رہا تھا کیونکہ وہ کیل ایک ہی بار میں ضرار نے اسکی بازو میں پیوست کی تھی

ضرار کا جنون دیکھنا تھا نہ تمھیں اسکی دیوانگی

بہت برا کیا شیخ تم نے خود کے ساتھ

ضرار مرزا کبھی ایک پھول سے بھی اپنی زندگی اپنی سانس کو اپنی روح کو تکلیف دینے کا سوچ نہیُ سکتا تھا اور تمہاری

اسنے اپنی قہر برساتی نظر شیخ پر ڈالی تھی

وہ لرز کے رہ گیا تھا

تمہاری وجہ سے اسکا اتنا

وہ انکھیں میچ لیتا ہے وہ لمحہ یاد کر کے

اتنا خون بہا کتنا درد ہوا ہوگا نہ میری روح کو

وہ اس وقت کوئی دیوانہ ہی معلوم کو رہا تھا

سامنے کھڑا شہرام جیبوں میں ہاتھ ڈالے یہی سوچ کر رہ گیا تھا

خان ویئر از

ضرار اپنے چہرے کا رخ موڑ کر ڈارک لہجہ میں پوچھتا ئے لفظ ادھورا چھور کر

تبھی وہ فون پر ایک میسج کرتا اسے انکھوں سے ڈن کا اشارہ دیتا ئے

کچھ ہی لمحوں بعد وہاں ایک شیر کی دھار سنائی دیتی ہے

شیخ کی تو سنتے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ئیں

مگر وہ دونون ہر سکون ہو کر کھرے تھے

شہرام کا بھی یہی سب کا دل چاہا تھا مگر وہ رک گیا تھا

آخر اپنی مائن کی انکھون میں وہ آنسو کیسے دیکھتا جو ان سب کی حالت کر کے آتے جن کی وجہ سے اسکی انکھیں بھیگی تھیں

مگر اس نے اور بھی بہت سے انتظام کیے تھے

ضرار لمحوں میں ہی کئی کیل اس کے جسم کے حصوں میں پیوست کر چکا تھا

وہ درد سے کراہ رہا تھا چیخ رہا تھا

مگر شاید سامنے کھرے شخص کو سکون مل رہا تھا

اسکی چیخوں سے

ن نہ نہیُ ض ضرار اس اسے ل لے جاؤ

سامنے شیر کو سہلاتے ضرار کو وہ لرکھراتی زبان میں ایک آخری کوشش کرتا ہے

مگر پھر اسے لمحہ نئی ملتا سانس لینے کا بھی

وہ شیر اس پر جھپٹ چکا تھا

ضرار سائیڈ پر کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا

اور شہرام وہ اکتا گیا تھا اسکی چیخوں سے اس لئے کان میں ائیر پوٹس اڑیس دیتا ہے

——————-

روح کو شام میں اب جا کر صحیح سے ہوش آیا تھا

ن نرس ضر کہا

ابھی اسکے الفاظ مکمل بھی نہیُ ہوئے تھے

جب دروازہ کھول کر وہ بلیک شرٹ اور ٹراوزر پہنے لال انگارہ انکھیں لئے اسکے پاس آتا ہے

نرس لیو

وہ دیکھ روح کی انکھوں میں رہا تھا مگر اس کی دھار اس قدر تیز تھی نرس ڈر کے نکل جاتی ہے

دو لمحہ ہیں روح انکھیں بند کرو اور سو جاؤ ورنہ یہ دیوانہ اپنی برداشت کھو دیگا

ضرار اسکی پیشانی سے پیشانی ٹکرا ہر ایک ایک لفظ دیوانہ وار کہتا اسکا ہاتھ اٹھا کر اس پر بوسہ دیتا ہے

اس کے اس قدر جنون میں بھری آواز سن وہ اپنی انکھیں میچ لیتی ہے

وہ اسکی اس حرکت پر گہرا مسکراتا ہے

جس پر اسکے دونون ڈمپل اس کا بھرپور ساتھ دیتے ئیں

———————

مائن

نشاء مغرب کی نماز پرھ کر ابھی بیڈُ پر بیٹھی تھی

تبھی اسکا فون رنگ کرتا ہے

جہاں خان کالنگ جگمگا رہا تھا

وہ کال رسیو کر کے جیسے ہے کان سے لگتا ہے

دوسری طرف وہ پوری شدت سے پکارتا ہے

کوئی ازیت سی تھی اسکی پکار میں جو وہ محسوس کر کی چونکتی ہے

خان اپ ٹھیک ہو

وہ فورا سے ہی سوال کر جاتی ہے

دوسری طرف وہ اسکی حرکت پر مسکرا دیتا ہے

ازیت بھری مسکراہٹ کو دور کر دیا تھا اس نے

اگر خان کی حور یہاں آگئی تو وہ ٹھیک ہو جائیگا

وہ پیچھے ٹیک لگا کر بیٹھتا انکھیں بند کر کے اسکی سانسوں کی مدھم سی دھن سنتا ہوا بولا ہے

مگر خآن میں اس وقت کیسے

وہ انگلیاں مرورتی ہے

تو میں آ جاؤں

وہ ہنس دیتا ہے یہ کہ کر

نہ میں اتی

وہ لفظ ادھورا چھور دیتی ہے

باہر میرا بھروسہ کا آدمی ویٹ کر رہا تمہاری دادو سے پرمیشن لے چکا ہے آپکا دیوانہ۔بس آجاو

وہ کال کٹ کر چکا تھا

اور وہ اپنی سانسوں کو درست کرنے میں لگی ہوئی گھی

———

ضرار کے کہتے ہی وہ کچھ دیر میں ویسے بھی سو چکی تھی

وہ اسے اٹھا کر کار میں لایا تھا

اب کار اپنے سفر کی طرف رواں دواں تھی

گائے بھگائے وہ اس معصوم چہرے ہر بھی نظر ڈال رہا تھا

جو دوائیوں کے زیر اثر سو گئی تھی

اسکا حجاب بھی صرارنے خود کیا تھا

وہ اس وقت ہوسپٹل کے کپروں میں ہی موجود تھی

روح کا ایک ہاتھ ضرار کے ہاتھ میں تھا

اور زحمی ہاتھ اسکا اپنی گود میں

تبھی وہ نیند میں منہ بناتی ئے

ضرار نے اسکے ہاتھ پر بوسہ دیا تھا شاید اسکی داڑھی چبھی تھی اس لئے وہ یوں منہ بناتی ہے

ضرار اسکا یوں نیند میں منہ بنانے پر اسکا ہاتھ چھور کر اسکا گال پر چٹکی کاٹتا ہے

تبھی وہ پٹ سے انکھیں کھول لیتی ہے

اسے یہ حرکت شدید نا پسند تھی

وہ اپنے ہاتھ سے اسکے ہاتھ ہر زور سے چپیٹ رسید کرتی ہے

میرے گال ہیں

وہ اپنے گال پر ہاتھ رکھ کر بولتی ہے

وہ اسکی حرکت ہر ہنس دیتا ہے

ضر مجھے

ابھی وہ کہتی وہ کار روک دیتا ئے

اس بارے میں کوئی سوال نہیُ مسز ضرار کوئی مطلب کوئی بھی نہیُ تم ٹھیک ہو محفوظ ہو اپنے ضرار کے پاس

وہ کہ کر اسکے ہاتھ کی پشت پر لب رکھ دیتا ئے

ضر میں ڈر گئی تھی پھر اپ نے بھی اتنا ڈرایا

وہ اسکے کہنے پر کہ اتنا ڈرایا وہ سوچ کر رہ جاتا ئے

اس لرکی نے اب تک اسکا جنون اور دیوانگی دیکھی ہی کہاں ہے

نہیُ ہنسو نہیُ تو ڈمپل لے لونگی

وہ سوچتے ہوئے مسکرا رہا تھا اسے معلوم ہی نہیُ ہوا تھا

اسکی آواز ہر وہ کھل کر قہقہ لگاتا ہے

میں نے کہا نہ

ابھی اس کے الفاظ پورے بھی نہیُ ہائے تھی وہ قریب ہو جاتا ہے

تو کیا کریں گی مسز روح کیسے لیں گی کاٹی کر کے یا اپنی چھوٹی چھوٹی انگلیوں سے

وہ اسکی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسا لیتا ہے

ارے گھوری تو مت اپ کا ہی ہوں

اسکی گھوری پر وہ پیچھے ہوتا ہے

میں ناراض تھی

وہ کہ کر رخ مور کر باہر دیکھنے لگتی یے

اوہ ہاں زیادہ فری نہیُ ہو روح مجھ سے تم ناراض تھی

وہ لب کاٹتا ہنسی دباتا ہے

اسکی بات پر اسے آگ لگ جاتی ہے

مڑ کر وہ ٹشو باکس اٹھا کر زور سے اسے دے کر مارتی ہے

وہ پھر سے قہقہ لگا دیتا ہے