718.6K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Junoon Episode 20

Tera Junoon by Laiba Khan

روح کی انکھ کسی کھٹ پھٹ کی اواز سے کھلتی ہے

وہ اٹھ کر ضرار کی جگہ خالی دیکھ دوپٹہ اٹھا کر سر پر لیتی باہر نکلتی ئے

وہ نیچے اترنے کے ساتھ ساتھ گھر کو بھی دیکھ رہی تھی

سامنے ہی پردے تھے

وہ سیدھا بھاگ کر وہاں جاتی وہ پردے باری باری ہٹا دیتی ہے

سورج کی روشنی گلاس وال سے ٹکراتی اندر داخل ہوتی ہے وہ اسے بھی کھول کر باہر بھاگتی ہے

باہر نہایت ہی وسیع لان تھا

چاروں طرف ہر طرح کے ہھول تھے

اسمان پر تھورے تھورے بادل بھی تھے مگر سورج ہھر بھی اپنی اب و تاب سے چمک رہا تھا

تبھی سورج کی روشنی کے سامنے بادل ا جاتا ہے

اب وہاں کی جگہ اور بھی خوبصورت لگ رہی تھی

سامنے ہی ایک جھولہ تھا روح کا فیورٹ

لیفٹ سائیڈ پر ایک میز اسکے سامنے ایک بینچ اور دو کرسیاں رکھی گئی تھیں

ضررررر

وہ وہیں سے چلاتی ہوئی اسکے پاس جاتی ہے

وہ سامنے ہی کچن سے نکل رہا تھا

اپنی زندگی کی اواز سن کر گہرا مسکراتا ہے

وہ سیدھا اسکے سامنے اتی ہے

مگر نظریں اب اوپر تھیں

وہ ہر جگہ بہت خوشی خوشی دیکھ رہی تھی

ضرار اسکی اکسائیٹمنٹ دیکھ کر پلیٹس ٹیبل پر رکھتا واپس اسکے سامنے اتا ہے

پسند ایا

وہ اسکے بالوں کی لٹ کو کان کے ہیچھے کرتا ہوا پوچھتا ہے

میں ناراض ہوں

وہ غصہ سے گھور کر کہتی اوپر بھاگ جاتی ہے

اففف جان ضر

وہ اسکی پشت کو دیکھ ٹھنڈی سانس خارج ہے

——————-

خان مجھے جانا ہے

وہ لوگ ڈنر کر چکے تھے

نشاء اسکے ساتھ لیوینگ روم میں اتی ہوئی کہتی ہے

مائن تم کہیں نہی جا رہی

وہ سامنے فلم لگاتا ہوا جواب دیتا ہے

مگر خان مجھے جانا ہے لیٹ ہو گیا سب پریشان ہونگے غلط سمجھیں

ابھی اس کے الفاظ منہ میں ہی تھے وہ کھرا ہو کر کمر سے پکر کر اپبے قریب کرتا ہے

تمھیں کیسے سمجھاؤں اب کسی کی ہمت نہی میری مائن کے بارے میں کچھ بھی غلط یا صحیح سوچنے کی اتنی شہرام خان کسی کو اجازت نہی دیتا اب خاموشی سے بیٹھ جاؤ دادو جانتی ہیں تمہاری اب خوش جاؤ بیٹھو اب کوئی سوال نہی

وہ منہ بنا کر سر ہلاتی سامنے کاؤچ ہر بیٹھ جای ہے

وہ اسکے منہ پھلانے پر مسکرا کر فلم لگا کر اسکے پاس اتا ہے

——

روح دبے دبے قدموں سے چلتی کچن میں اتی ہے

فریج کھول کر اس میں سے وہ چاکلیٹس نکال ہی رہی تھی جب اسے کوئی ہیچھے سے حصار میں کیتا ہے

وہ اپنی سانس تک لینا بھول جاتی ہے

مگر ضرار کی مہک پہچان کر مبہ بنا کر اسے ازاد ہونے کی کوشش کرتی ہے

جان ضرار اپ کیوں ناراض ہیں بتائیں تو

وہ نہایت نرم لہجہ میں سوال کرتا ہے

یہ بھی نئی پتا اب مجھ سے بات نہی کرنا

وہ اسے بازو پر مکہ جڑ کر کہتی ہے

یار تمہارے یہ چھوٹے چھوٹے ہاتھ ضرار مرزا کا کچھ نہی کر سکتے سواہے سکوں پہچانے کے

وہ اسکے دونون ہاتھوں پر بوسہ دیتا پیچھے ہٹتا ہے

اچھا چلو تم نے کچھ نئی کھایا

وہ ہاتھ پکر کر اسے باہر لاتا ہے

———____

خا ان می میں نہی دیکھنی کوئی فلم

سامبے ہورر فلم لگی ہوئی تھی

وہ دونوں ہاتھ انکھوں ہر رکھے بیٹھی تھی

ہو میرا خرگوش ڈر گیا

میں ن نہی ڈرتی

وہ پاس پرا پلو اسے مارتی ہے

تو ہاتھ ہٹاؤ اور ثابت کرو

وہ مزے سے ہیچھے ٹیک لگائے بیٹھا تھا

میں جا رہی ہوں

وہ کھری ہو کر رخ ہی موڑ لیتی ہے

جا کر دکھاؤ میری قید سے دور

اپنے ساتھ مائن تمھیں بھی ختم کر دوں گا یہ دیوانہ کہیں بھی تمہارے بغیر رہنے کا تصور نئی کر سکتا

وہ اسے خود پر گراتا شدت بھرے لہجہ میں اسکی انکھوں میں دیکھتا کہتا ہے

وہ دو لمحہ کے لئے بھی اسکی انکھوں میں اور نئی دیکھ پاتی نظریں نیچے کر دیتی ہے

یار اٹھا لیا کرو نظریں

وہ انگلی کو اسکی ٹھوری پر رکھ کر بولتا ہے

م مج مجھے ڈانٹ ا کی کیوں

نظروں سے کنفیوز ہوتی ہوئی وہ ٹوٹے ہھوٹے لفظ ادا کرتی ہے

تو دور جانے کی بات مت کرو یہ تنہا انسان اب تو مکمل ہوا ہے

وہ اب اسکا سر اپنے سینے پر رکھ دیتا ہے

خان ایک بات ہوچھوں

وہ سر اٹھا کر سوال کرتی ہے

تین پوچھ لو

شہرام ہنس کر کہتا واپس اسکا سر سینے پر رکھتا ہے

خان اپ کے گھر میں کون کون ہے

اسکے سوال پر اسکی انکھوں میں ایک کرب ایا تھا

میرا ایک بچہ جو ہے تو بہت برا مگر یار سچ میں اب تک بچہ ہی ہے

وہ سنبھل کر جواب دیتا ہے

کیاااااااا اپ کا بچہ بھی ہے

وہ چیخ کر سوال کرتی ہے

وہ سر ہاں میں ہلا کر ہنسی روکتا ہے

میں جا رہی ہوں اپ نے نہی بتایا تھا

وہ خود کو چھورانت کی کوشش میں ہلکان ہوتی ہے

یار وہ بچہ تم تو ہو جو اتنا تنگ کرتی ہو

وہ گرفت نہایت مضبوط کر دیتا ہے

میں بچہ نہی میں کب تنگ کیا تنگ خود کرتے ہو

وہ بات کر کے دانتوں تلے لب دباتی ایک چور نظر اسے دیکھ اسے سینے میں ہی منہ دے دیتی ہے

شہرام کا قہقہ وہاں گونج اٹھتا ہے

وہ جفگی کے مارے کئی مکہ اسکے سینے پر برسا دیتی ہے

————————

ضرار مجھے یہ جگہ دیکھنی ہے باہر چلیں

ضرار جو لیوینگ ایرا میں صوفہ پر بیٹھا کچھ کام کر رہا تھا لیپ ٹوپ ہر روح اسکے پاس اکر اسے بند کر کے کہتی ہے

قریب ایسی کوئی جگہ نہی لٹل برڈ جہاں اپ کو گھمایا جائے اس لئے یہیں گھومو

ضرار اسکاہاتھ تھام کر نہایت نرمی سے کہتا ہے

تو ضر میں بور ہو رہی اب میں کیا کروں

وہ اسکا ہاتھ گھٹنہ پر رکھتی اس پر ٹھوری رکھ کر پوچھتی ہے

یار تھوری دیر ریسٹ کر لو

وہ اگے جھک کر اسکی ہیشانی پربوسہ دیتا ہوا کہتا ئے

وہ منہ بسور لیتی ہے

اور کتنا ریسٹ کرتی وہ

روح پلیز

اسکے اصرار پر وہ لٹھے مار انادز میں شوز ہہنتی اوپر کی جانب برھ جاتی ہے

————

رات کے سائے گہرے ہو رہے تھے

نشاء کی انکھ کہیں دور سے اتی ازانوں کی اواز پر کھلتی ہے

وہ خود کو ایک انجانے کمرے میں پا کر چونکتی ہے

مگر حواس بیدار ہوتے وہ شوز پئنتی شال لپیٹ کر حجاب سر پر کرتی باہر نکلتی ہے

وہ شہرام کو سب جگہ ڈھونڈ چکی تھی

اب سامنے سٹڈی تھ

جس کا دروازہ بند تھا

وہ ہمت کر کے اسے کھولتی اندر بڑھتی ہے

سامنے ہی وہ جائے نماز پر بیٹھا دعا کی صورت ہاتھ اٹاھئے ہوئے تھا

شہرام کی اسکی طرف پیٹ تھی

اسلئے وہ اسکی نم انکھیں جو سرخ ہو رہی تھیں وہ نہی دیکھ پاتی

مائن

وہ وہیں سے مڑنے لگتی ہے

جب وہ جائے نماز سے کھرا ہو کر اسے ہکارتا ہے

ایم سوری خان میں ڈر گئی تھی اپنہی تھے نہ

اسے لگ رہا تھا شاید اسے برا لگا ہوگا اسکا یوں انا

تو کیا ہوا یہاں سب اپکا ہے حور جب چاہے جہاں چاہے اؤ تمھیں ہر چیز کی اجازت ہے سوائے مجھ سے دور جانے کے

وہ پہلے تو کچھ پرھ کر اسکے چہرے پہ ہھونک مارتا اسکی پیشانی چومتا ہوا بولتا

ہے

خان میں بھی نماز ہرھ لوں

اسے اس جگہ بہت سکوں محسوس ہو رہا تھا

زیادہ سکوں تو شہرام کے چہرے پر سکون دیکھ کر ایا تھا

بلکل

——-

شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے

روح دیر تک سوئی رہتی ہے

اب جا کر اسکی انکھ کسی احساس سے کھلتی ہے

وہ انکھیں مسلتی اٹھ بیٹھتی ہے

اس پاس بہت سے پھول تھے

وہ پاوں نیچے رکھنے لگتی ہے

نیچے بھی ہر طرف ہھول بکھرے ہوئے تھے

وہ خوبصورتی سی مسکرا اٹھتی ہے

سامبے ہی ٹیبل پر ایک بوکس پرا تھا جس پر ایک چٹ تھی

وہ اٹھ کر پھولوں کو پاوں میں انے سے بچاتی ہوئی وہ بوکس اٹھاتی ہے

اس پر ایک فولڈ ہوا پیپر اور ساتھ ایک گلاب تھا

وہ گلاب سائیڈ پر رکھتئ اس چٹ کو کھولتی ہے

میری چریا اگر اسے پہن کر ائی تو اس نا چیز کے لئے اعزاز ہوگا مائے لٹل برڈ

تمہارا ضر

وہ مسکرا کر بوکس کھولتی ہے

اس میں نہایت خوبصورت فراق تھی سفید رنگ کی جس پر تھورا تھورا کام ہواہوا تھا

وہ اسے اٹھائے سیدھا واش روم میں گھستی ہے

——

کچھ لمحوں بعد وہ فراق زیب تن کیے باہر نکلتی ہے

وہ گھیر دار فراق پہنت سچ میں ضرار کی پرنسس معلوم ہو رئی تھی

اب تک اس کے بال کھلے تھے

جس سے پوری کمر چھپی ہوئی تھی

اب بیڈ پر تین بوکس اور پرے تھے

وہ پہلے ریڈ کلر والا کھولتی ئے

جس میں ہیلز تھیں

وہ اٹھا کر اسے پہن لیتی ہے

اب وہ نیلے رنگ کا بوکس کھولتی ہے اس میں جولری تھی

وہ ایک ایک کر کے وہ بھی پہن لیتی ہے

اب وہ پیلے رنگ کا بوکس کھولتی ہے

اس میں بالوں میں لگانے ولا ایک سفید رنگ کا تاج تھا

افف کتنا ہیارا ہے

وہ ارام دے اسے اٹھا کر دیکھت ہوئی بولتی ہے

ساتھ میں چٹ بھی تھی

تمھیں میرے سوا کوئی نہی دیکھے گا اس لئے اپنے باہ کھولُ لینا جاں ضر یہ بندہ اپکے بالوں کا دیوانہ ہے

وہ شرما کر اسے بند کرتی مرر کے سامنے اتی یے

——————-

ضرار جو اب تک تھورا بہت کام کر رہا تھا

ہیلز کی اواز پر پیچھے مڑتا ہے

سامنے ہی اسکی چریا پرنسس بنے اسکے پاس ارہی تھی

وہ بہت حسین لگ تہی تھی اس شام سے بھی زیادہ

ضرار نے خود بھی سفید رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا

وہ بی اج غضب ڈال رہا تھا

ضرار اسکا ہاتھ تھام کر کرسی پر بٹھاتا ہے

وہ اسے زیادہ نئی چلنے دینا چائتا تھا

واؤوو

وہ اس پاس سجا سب دیکھتی ہوئی کہتی ہے

اس جگہ کو پھولوں میں قید کر دیا گیا تھا

سفید ہھول چار چاند لگا رہے تھے وہاں کی خوبصورتی میں

ضرار یہ سب

وہ لفظ بھی مکمل نہی کر پاتی وہ اسے خاموش رہنے کا شارہ کرتا گھٹنوں کے بل بیٹھتا ہے

مائۓ لٹل برڈ

وہ اپنی چوری ہتھیلی سامنے ہھیلاتا ہے

وہ لمحہ بھی ضائع کیے بنا اپنا ہاتھ اسی تھما دیتی ہے

وہ اسکے ہاتھ کی چوتھی انگلی میں ایک ڈائمنڈ رنگ ہہنا کر اسکا ہاتھ چوم لیتا ہے

جانِ ضر تھینکیو سو مچ میری اس زندگی میں اکر مجھ جینا سکھانے کے لئے

وہ اسکا وہی ہاتھ انکھوں سے لگا دیتا ہے