718.6K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Junoon Episode 19

Tera Junoon by Laiba Khan

نشاء اسی وقت ہی نکل گئی تھی

اس کے گھر کے گیٹ کے ساتھ ہی سر جھکائے ڈرائیور کھرا تھا اور ساتھ ہی ایک اور آدمی

شاید جس کے بارے میں اس نے بتایا تھا

اس نے کندھوں پر شال لے رکھی تھی

اور سر ہر حجاب جس سے چہرے ہر نقاب موجود تھا

وہ دھیرے دھیرے چلتی کار میں بیٹھ جاتی ہے

اس کے بیٹھتے ہی وہ آدمی بھی کار کی فرنٹ سیٹ ہر بیٹھ جاتا ہے

وہ ہچکچا رہی تھی تبھی اسکے فون ہر خان کولنگ جگمگاتا ہے

وہ ایک سکوں کا سانس لیتی کال رسیو کرتی کان سے لگاتی ہے

تمہاری حفاظت میں خان کبھی غافل نئی ہو سکتا مائن

وہ اسکے بغیر کہے سمجھ گیا تھا

خان

وہ ہلکی آواز میں اسکا نام پکارتی ہے

دوسری طرف اسکے لب مسکراہٹ میں ڈھل جاتے ہیں

اپ وہاں سے مجھ پر ظلم کر رہی ہیں مسز خان

وہ شوخ لہجہ اپناتا ہے

می میں نے کی کیا ک کیا

نا چاہتے بھی اسے بات کرتے اس کی زبان لرکھرا سی جاتی تھی

افف اپ ایک ظالم بیوی ہیں خان کی جان

وہ ٹھنڈی سانس خارج کرتا ہے

خان

وہ خفگی سے اسے پکارتی ہے

مت لو اتنی محبت سے میرا نام ورنہ میں اپنی گارنٹی نہیُ دونگا

وہ پھر بھی اسے تنگ کرنے سے باز نہیُ آتا

میں بات نہیُ کرونگی

وہ دو پل حیران ہوتا ہے تو شاید وہ جان چکی تھی وہ شخص آدھا گھنٹہ بھی اب اسکی آواز سنے بغیر نہیُ رہ سکتا

اوہ اس لئے تو کہا میری جان بہت ظالم ہے خیر معصوم بھی بہت ہے

اس کہ لہجہ میں چھپی محبت پر اسکا سر جھک جاتا ہے

ہاہاہہاہا میرا خرگوش شرما رہا ہے

وہ حیران ہو کر سر اٹھاتی ہے

نہیُ دیکھ رہا تمہارا خان تمھیں بس یہ میری دھڑکنوں کی نگاہیں ٹک گئی ہیں اپنی مائن پر

اس کے گال سرخ ہو چکے تھی وہ جانتی تھی

میں ر رکھ ر رہی ہوں

وہ با مشکل اٹک کر لفظ ململ کرتی فون رکھ دیتی ہے

اس نے اسے رلیکس کر دیا تھا

————

ضررر

ضرار جو پچھلے پندرہ منٹ سے فون پر بھی کچھ کر رہا تھا اور ساتھ ڈرائیو بھی

وہ منہ بنا کر اسے پکارتی ہے

کیا ہوا

وہ ایک نظر اسکے پھولے ہوئے منہ پر ڈالتا ہے

ضرررر

وہ پھر ویسے بلاتی ہے

جی

وہ دوبارہ ایک نظر اسے دیکھتا ہے

ضرررر

وہ تیسری بار ویسے ہی اسے ہکارتی ہے

وہ مدھم سا مسکرا دیتا ہے

شاید وہ اسے تنگ کر رہی تھی

ضرررر

وہ اب دانتوں تلے لب دباتی ہے

جیی

وہ فون رکھ کر اسکا ہاتھ تھام لیتا ہے

وہ بلکل رلیکس ہو کر کار ڈرائیو کر رہا تھا

سیٹ سے ٹیک لگائے کہنی ونڈو پر ٹکائے وہ بہت پرسکون سا ڈرائیو کرتا تھا

ضرررررررر

وہ اب چیختی ہے اسکے کان کے پاس

وہ ایک گھوری سے اسے نواز کر اسکے ہاتھ کی پشت پر داڑھی رگرتا ہے

ائییی ضرررر نہیُ چبھ ری ہے

وہ اپنے ہاتھ کو چھروانے کی کوشش کرتی ہے

وہ کچھ لمحوں بعد چھور دیتا ہے

—————-

مزید آدھے گھنٹہ کی ڈرائیو کے بعد جا کر وہ ایک جگہ کار روکتا ہے

اس پاس خاموشی کا راج تھا

ضر ہم یہاں کیوں آئے ئیں

ہر جگہ اندھیرا دیکھ کر وہ اسکا کندھا ہلاتی پوچھتی ہے

یہاں ہم ایک دوسرے کے ساتھ وقت کو جینے آئے ہیں

وہ باہر نکل کر

اسکی طرف آتا کار کا دروازہ کھلول کر اسکے پاس جھک کر انکھوں میں دیکھ کر بولتا ہے

ضر ہم رہیں گے کہاں کیونکہ اسکی جہاں تک نظر جا رہی تھی کہیں بھی کوئی گھر تک موجود نہیُ تھا

ہم آؤ نہ

مگر ضر سامنے جھاریاں ہیں میں نئی آرہی

وہ اسکے ساتھ نکل کر جب سامنے دیکھتی ہے تو ایک ڈر کی لہر اسے چھو کر گزرتی ہے

مجھ پر یقین ہے نہ روح

وہ اسکے سامنے آ جاتا ہے

وہاں سوائے چاند کی روشنی کے اور کوئی روشنی نہ تھی

ضر اپ یہ کیوں پوچھ رہے ہیں اگر اس وقت دنیا میں کوئی ہے جس پر میں یقین کر سکتی ہوں تو وہ صرف اور صرف اپ ہو

اسکے ہاتھ پکارنے پر روح بھی اسکے ہاتھ ہر گرفت سخت کر دیتی ہے

تو چلو ضر کی جان

لمحوں میں اسکے جواب نے اسکے چہرے پر خوشی بکھیر دی تھی

نہیُ میں نی اتنا جھاریاں ہیں نہ بابا اپ پر یقین ہے ان جھاریاں پر نہیُ شیر نکل آیا تو

وہ کسی بچہ کی طرح اسے سوال کرتی ہے

اوہ یہ مسئلہ تو ہے

وہ اسے دیکھ کر اسی کی طرح کہ کر اسے سمجھنے کا موقع دیے بنا اسے گود میں اٹھا لیتا ہے

ضررررر نہیُ

وہ اسکے کان کے پاس چیختی ہے

پھر خود کی حرکت پر کھلکھلا کر ہنس دیتی ہے

وہ اسے ہنستے دیکھ آگے برھ جاتا ہے

جھاریاں سے گزرتے وہ اسکے سینے میں منہ دے دیتی ہے

وہ کچھ قدم چل کر رک جاتا ہے

روح

اسکے پکارنے ہر وہ اسکی سینے میں ہی منہ چھپائے سر ہلاتی ہے

آرے روح دیکھو تو

وہ سامنے دیکھتا ہوا اسے کہتا ہے

نہیُ ضر مجھے نہیُ دیکھنا

وہ اور گرفت مضبوط کر دیتی ہے

روح چہرہ نکالو باہر

اب وہ تھورا سختی سے کہتا ہے

وہ کسی بلی کی طرح تھورا تھورا چہرہ نکالتی سامنے دیکھتی ہے

اسکی انکھیں کھل جاتی پوری طرح

سامنے ہی شیشہ کا پورا گھر تھا

اس پاس بہت سی روشنیاں بکھری ہوئی تھیں

اس چاندنی رات میں وہ گھر اپنی خوبصورتی لئے کھرا تھا

واؤ ضر

وہ خوشی سے اچھل کر اسکی گود سے اترتی آگے برھتی ہے

ضر یہ کتنا پیارا ہے ضر یہ کس کا ہے مجھے اندر جانا ہے ضر

اسے وہیں کھرا دیکھ وہ واپس اتی اسے ہلاتی ہے

یہ میری لٹل برڈ کا ہے

اسے کتنا سکون ملتا تھا اسکی مسکراہٹ سے وہ جانتی ہی نئی تھی

وہ شخص اسے اپنی کمزوری بنا چکا تھا

کیاااا سچچچ میں ضر واؤؤؤؤؤ مجھے اندر لے جائیں

وہ اسکا بازو پکر کر کھینچتی ہے

وہ مسکرا کر اسکا ہاتھ تھامے اندر کی طرف برھ جاتا ہے

——____

کار پندرہ منٹ کی ڈرائیو کے بعد جا کر رکتی ہے

کار رکتی ہی شہرام کا آدمی اسکے لئے دروازہ کھولتا پیچھے ہو کر سر جھکا لیتا ئے

وہ باہر نکل کر سامنے دیکھتی ئے

سامنے ہی ایک مینشن تھا

نہایت خوبصورت

بس اسے ایک بات عجیب لگی تھی اس نے شہرام کو بلیک زیادہ پہنتے دیکھا تھا

اور اسکا گھر بھی

وہ سارہ سیاہ رنگ میں ڈوبا ہوا تھا

میم اپ اندر چلی جائیں بوس موجود ہونگے

وہی آدمی اسے رکا دیکھ کہتا ہے

وہ ہوش میں اتی آگے برھ جاتی ہے

ایک وسیع لان سے گزرتے وہ سامنے والا ڈور نوک کرنے لگتی ہے جب وہ فورا کھل جاتا ہے

سامنے ہی شہرام بلیک ٹراؤزر اور شرٹ پہنے کھرا تھا بال پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے انکھیں سرخ سی تھیں

وہ اس حالت میں بھی نہایت وجیح لگ رہا تھا

مائن

وہ ہاتھ آگے برھاتا ہے

وہ ہچکچاتے اپنا چھوٹا سا ہاتھ اسکی چوری ہتھیلی پر رکھ دیتی ہے

وہ اسکا ہاتھ تھام کر اندر لاتا دروازہ بند کرتا آگے بڑھتا ہے

خ خان

اسکے رکنے ہر وہ اسے ہلکی سی مردہ آواز میں ہکارتی ہے

پہلے یہ بتاؤ اتنا ڈرتی کیوں ہو

کاؤچ کے ہیڈ پر بیٹھتا ہوا اسکے دونون ہاتھوں کو تھام کر قریب کرتا سوال پوچھتا ئے

می میں ن نہیُ ت تو

اب اسنے ہر لفظ توڑ کر ادا کیا تھا

وہ اسکی حرکت ہر نفی میں سر ہلا دیتا ہے

تھورا روعب لاؤ مائن اپنی آواز میں روعب سے پکارو میرا نام خان

وہ روعب دار لہجہ میں اپنا نام پکارتا ہے

میُنیں کی کیسے۔ خ خان

اب تک ایک بار بھی اس نے ایک ہی بار میں کان نئی پکارا تھا

اپنی اس زبان سے

وہ اپنی شہادت والی انگلی کو پشت سے اسکے ہونٹ چھو کر بتاتا ہے

اسکی سانس سینے م اٹک جاتی ئے

خا خان اپ نے کیون بلایا تھا

وہ بات گھما دیتی ہے

وہ اپنے خرگوش کی اس حرکت پر ہنس دیتا ہے

مجھے نہ بھوک لگ رہی تھی اور اکیلے ڈنر کرنے کا دل نہیُ تھا تو اجاؤ تم کمپنی دو مجھے

وہ اسکو تھامے کچن کی طرف برھ جاتا ہے

وہ گھر اندر سے بھی نہایت شاندار تھا

ہر چیز اسکی بہترین پسند کا منہ بولتا ثبوت تھی

تو کیا اپ نے کھانا بنانے کے لئے بلایا

وہ منہ بسورتی ئے

ہر گز نہیُ مائن تمھیں کھانا کھلانے کے لئے تمھیں تو کھانے سے رہا

وہ اسکے ہاتھ ہر بوسہ دے دیتا ہے

کیا مطلب کھاناکون بنائے گا پھر

وہ اس پاس کوئی شیف ڈھونڈتی یے مگر وہاں کوئی موجود نہیُ تھا

مائن اس وقت گھر میں اپ اور میرے علاوہ کوئی موجود نئی

اوہہ وہ ہونٹ کو گول شیپ دیتی ہوئی کہتی

ہے

تو کھاناکون بنائیگا

وہ بے تکا سوال کرتی ہے

اپ کا خان

وہ اسے بازوؤں میں اٹھا کر شیلف پر بٹھا دیتا ہے

کیا اپ کو کھانا بنانا بھی آتا ہے

وہ بچوں کی طرح خوش ہوتی سوال کرتی ہے

وہ سر ہلا کر جواب دیتا فریزر سے چکن نکالتا شیلف ہر رکھتا ہے

نشاء اپنا پرس پاس شیلف ہر رکھتی نقاب صحیح سے ہٹاتی ہے

سو سٹابری پسند ئے میری خرگوش کو

خان واپس اسکے پاس آتا محبت سے پوچھتا ہے

وہ ہاں میں سر ہلا دیتی ہے

وہ پیچھے مڑ کر فریج سے سٹابری کا باؤل اٹھا کر اسکے پاس آتا ہے

—————-

واؤو ضر

اندر قدم رکھتے ہی وہ اس پاس گھوم گھوم کر دیکھتی ہوئی خوشی سے اچھلتی ہے

روح طبیعت نئی ٹھیک نہ اچھل کود مت کرو

وہ اسے اچھلتی دیکھ ٹوکتا ئے

مگر ضر یہاں سب کتنا خواب سا ہے نہ

یہ پردے یہ دیواریں یہ سب

اندر کا ماحول باہر سے بھی زیادہ حسین تھا

جانتا ہوں مگر یہ سب ہم صبح دیکھیں گے ابھی بیڈُ روم میں جا کر سونے کی تیاری پکڑو

وہ اسے گود میں اٹھا کر اوپر برھ جاتا ہے

نہیُ نہیُ ضرررع نہیُ نہ مجھے دیکھنا ہے

روح سونے کا ٹائم ہے

وہ بیڈُ روم کا دروازہ کھول کر اسے چینجنگ روم میں بٹھاتا اسے ڈریس دے کر باہر نکل جاتا ہے

وہ منہ بنا کر واپس اتی ہے چینج کر کے

آتے ہی بیڈُ پر لیٹ کر بغیر کمفرٹر کے سو جاتی ہے

وہ بھی چینج کر کے پاس ہی بیٹھا تھا

وہ کمفرٹر اٹھا کر اس پر دیتا ہے

وہ منہ بسور کر ناراضگی جتلاتی ہوئی ہٹا دیتی ہے

وہ اسے دیکھ کر ایک نظر دوبارہ اس پر کمفرٹر دیتا ہے

وہ پھر ہٹا دیتی ہے

وہ پھر سے دے کر اسکے بازو ہر ہاتھ رکھتا ہے

وہ اسکا ہاتھجھٹک کر پھینک دیتی ئے کمفرٹر اسکے پاس

وہ نفی میں سر ہلا کر اسکو بازو سے تھام کر رخ اپنی جانب کرتا اپنا لیپ ٹوپ سائیڈ پر رکھتا اسے سینے میں بھیج لیتا ئے

وہ پورا زور لگا کر آزاد ہونے کی کوشش کرتی ئے مگر بے سود

وہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلا رہا تھا

وہ کچھ ہی دیر میں سو جاتی ہے

وہ کنفرٹر اس پر ڈال

کر اسکے سر ہر بوسہ دیتا خود بھی سو جاتا ہے