718.6K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Junoon Episode 17

Tera Junoon by Laiba Khan

سر جیسا اپ بتا رہے ہیں ایسی کوئی باڈی ہمیں اندر نہیُ ملی

پولیس آفیسر کب سے ضرار کو یہی بتا رہا تھا

مگر وہ خود بار بار اندر جانے کا کہتا جا رہا تھا

یو لمٹ میں رہو اپنی

ضرار اپنے ضرار مرزا والے ایٹیٹیوڈ میں آتا اسے انگلی دکھاتا وارن کرتا ہے

انکھیں اسکی جس قدر سرخ تھیں یوں لگ رہا تھا ابھی ان سے خون بہ نکلے گا

کتنی بار اسکا فون بج کر بند ہو چکا تھا

وہ فون کال رسیو کر کے کان سے لگاتا ابھی کچھ بولتا جب دوسری طرف سے اسے قہقہ سنائی دیتا ہے

چچچچچ ویری بیڈُ ضرار مرزا یہ کیا پولیس والے کی بے عزتی کر کے اپنی روح بے بی کو ڈھونڈ لو گے

شیخ

ضرار لمحوں میں اسکی آواز پہچان کر اسکا نام پکارتا ہے

ہاں شیخ ابھی تک نہیُ مری تمہاری بیوی یہ خوشخبری سن لو ضرار مرزا

مگر بری خبر بھی ساتھ کچھ ہی لمحوں میں وہ اس دنیا سے پھررر کر کے چلی جائیگی آخر چریا جو ہے تمہاری

شیخ ایک لفظ مت بولنا آگے ورنہ تجھے بھوکے کتوں کے آگے انکی غزا بنا کر ڈالنے میں ضرار مرزا کو کوئی فرق نئی پرے گا آپنے ہر آدمی کا انجام یاد ہے نہ اب اپنا سوچ روح کو تو ضرار کچھ نئی ہونے دیگا اب تیرا ٹائم شروع

ضرار کہتے ساتھ ہی فون رکھتا بھاگ کر کار میں بیٹھتا ہے

شکر

اسے بس ایک ہی سوچ زہن میں آئی تھی اور وہ کامیاب ہوئی تھی

وہ روح کو ٹریس کر سکتا تھا

اسکے بالوں کی کلپ میں لگی ٹریکٹر چپ کی زریعے

وہ کافی دور جگہ کی لوکیشن شو کر رہا تھا

ضرار فورا سے کار سٹارٹ کرتا ہے

—————-

ضرار نے گھنٹہ کا راستہ پندرہ منٹ میں طٰہ کیا تھا

وہ اس وقت اس جگہ سے کچھ قدم کے فاصلہ کی دوری پر تھا

وہ اکیلا تھا اس لئے اس نے دیہان رکھنا تھا

اسکا پی اے اسکے آدمیوں کے ساتھ آنے والا تھا اسنے نکلتے ہی اسے کہا تھا

تبھی ٹائروں کی چہچہاہٹ کی آواز اتی ہے

وہ مڑ کر پیچھے دیکھتا ہے

جہاں اس کے آدمی سارے اسکی طرف ہی آ رہے تھے

سب لوگ یہاں وہاں ہو جاؤ جہاں سے راستہ ملے اندر جاؤ اور ایک ایک کو ختم کر دو

میں سامنے وہان جگہ ہے نہ

وہ سامنے ایک طرف اشارہ کرتا ہے

وہاں سے جاؤنگا

جس کسی کو بھی روح کا پتا چلے مجھے فورا سے پہلے بتائے

وہ سرد و سپاٹ لہجہ میں کہتا ان سب کو اشارہ کرتا ہے

وہ سارے علیحدہ ہو جاتے ہیں

سر میں اپ کے ساتھ جاؤنگا

ضرار کا پی اے اسکے ساتھ آتا کہتا ہے

ضرار جانتا تھا اسے منع کرنے سے بھی کچھ نہیُ ہوگا اس لئے چپ۔ اپ وہ خاموشی سے آگے قدم برھاتا رہتا ہے

———————

ایک چھوٹے سے کمرے میں

درمیان میں ایک لکڑی کی کرسی پر روح بے پوشی کی حالت میں تھی

ہر طرف دھول ہی دھ تھی شاید وہ جگہ کافی وقت سے ویران رہیتھی

روح بامشکل سر میں اٹھتے درد کی وجہ سے انکھیں کھولتی ئے

ضر

کسی انجان جگہ خود کو پکار وہ بس اسکا نام ہی پکار سکی تھی

وہ تو کالج میں تھی

پھر اچانک یہاں

اسے کچھ بھی یاد نئی آرہا تھا

ضر

وہ رسیوں میں جکھڑی خود کو آزاد کرانے کی جدوجہد میں بھی اسکا نام بار بار پکار رہی تھی

ضر پلیز اجاؤ

ایک چھوٹی سی ونڈو سے ہلکی سی دھوپ کی روشنی آرہی تھی

اہہ

رسیوں سے اسکی کلائی پر خراشیں پر چکی تھیں

وہ بہت مضبوطی سے باندھی گئی تھیں

——————

وہاں زیادہ لوگ موجود نئی تھے

ضرار کے آدمی سب کو ٹھکانے لگا چکے تھے

شیخ ضرار کے سامنے ہی پیٹ کیے کھرا کسی سے بات کر رہا تھا

ضرار اپنی گن جیب میں رکھ کر اسکی طرف بڑھتا ہے

اتنی بھی کیا جلدی ئے ضرار مرزا

تبھی شیخ پلٹتا ہے

اب اسکے سامنے روح تھی

کرسی پر بندھی

اور اگلے لمحہ نے اسکا سینہ میں دھڑکتا دل چیرا تھا اسکی کلائی بری طرح کاٹی گئی تھی

سر میں اسے دیکھ لونگا اپ جائیں بھابھی کے ساتھ

ضرار کا پی اے اور باقی آدمی اندر آچُکے تھے

ضرار کی نظریں روح پر تھیں اسے پتا نہیُ چلا تھا

اس کی آدمی شیخ کی کیا حالت کر چکے تھے

اسکا پی اے آخر آکر اسکا کندھا ہلاتا ہے

روح

اگلے ہی لمحہ وہ چیخ کر اسکے پاس دوڑتا ہے

—————

روح بار بار ضرار کو آوازیں دے رہی تھی

جب کوئی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتا ہے

سامنے کوئی آدمی تھا

جو اب اسکے سامنے کھرا تھا

تبھی وہ جھٹکے سے اپنی جیب سے کچھ نکال کر اسکی کلائی پکرکر بے رحمی سے کاٹ دیتا ہے

ایک زور دار چیخ اسکی ہلک سے نکلتی ئے

اس شخص کو پھر بھی رحم نہیُ آتا

وہ دوسری کلائی پکرتا ہے جب اسے کسی کی موجودگی محسوس ہوتی ہے

وہ جانتا تھا شاید اسلئے مڑ جاتا ہے

روح بے پوشی کی طرف جا رہی تھی

جب وہ ضرار کا نام لیتا ئے

وہ انکھیں کھولنے کی کوشش کر رہی تھی

مگر انکھوں کےآگے اندھیرا چھاتا جا رہا تھا

اسے محسوس ہو رہا تھا اسکی نس گل رہی ہے

شاید اسنے گرم چھری سے اسکی نس کاٹی تھی

————

ہسپتال کے کوری ڈور میں وہ دیوار سے ٹیک لگائے کھرا تھا

اسکی شرٹ پر روح کے خونکی دھبے لگے ہوئے تھے

باقی گھر والوں میں سے کسی کو کچھ معلوم نہیُ تھا

وہ جس طرح یہاں پہنچا تھا یا تو وہ جانتا تھا یا اللہ

سارے راستے اسنے اسے خود میں بھیج کر رکھا تھا

بار بار سرگوشیاں کی تھی

تم میری ہو

تمھیں کوئی کچھ نہیُ ہو سکتا

یہ لفظ وہ بار بار دہرا رہا تھا

تبھی وہ انکھیں کھول کر سامنے سر جھکائے کھرے اپنے پی اےکو دیکھ بائر نکل جاتا ہے

وہ جانتا تھا وہ مسجد گیا ہوگا

————

یا اللہ میری روح بہت معصوم ہے اللہ وہ تو سچ میں ایک چریا ہے پھر اسے قید کیوں کر رہے کو

اس کی چہچہاہٹ ہی تو اس بے رحم کی زندگی کی روشنی ہے

میرے اللہ وہ میری ہے نہتو چھین نے میرے اللہ تجھے تیرے محبوب کا واستہ میری مالک

وہ چھین لی گئے تو بے جان ہو جاؤنگا لوٹا دے میرے اللہ

اسے لوٹا دے

اس کے آنسو اس کی دعاکی صورت اٹھے ہاتھوں میں گر رہے تھے

وضو کا پانی بالوں میں اور بازوں پر اب بھی موجود تھا

سر ڈاکٹر بلا رہی ہے

تبھی اسے اپنے ہی اے کی آواز اسے ہوش میں لاتی ہے

وہ دونون ہاتھ چہرے پر پھر کر کھرا ہوتا اسے نماز پرھنے کا کہتا نکل جاتا ہے

——-

پیشینٹ کی نس کو بری طرح گرم چھری سے کاٹا گیا تھا

تاکہ نس جلدی گل جائے اور ان کی موت واقع ہو جائے

انکے لفظوں پر اسکی انکھوں میں کون اتر آیا تھا

مٹھیاں زور سے بھینج لی تھیں

اپ انہیں وقت پر لے آئی صد شکر اب وہ خطرے سے باہر ہیں

ان کا خون بہت بہ چکا تھا اس لئے وہ ویک ہیں انہیں کچھ گھنٹوں میں ہوش اجئیگا

ڈاکٹر کی بات مکمل ہوتے ہی وہ باہر نکل جاتا ہے

اسے زندگی کی نوید سنائی گئی تھی

کہ وہ ٹھیک تھی

—————

احمد (پی اے ) نے ضرار کے گھر روح اور اسکے کہیں جانے کا بتا دیا تھا

ضرار کے کہنے پر

وہ نہیُ چاہتا تھا

کوئی بھی آکر اسے ڈسٹرب کرے

وہ اسکے معاملے میں حد سے برھ کر پوزیسیو تھا

یا شاید خودغرض

——-

روح کو ہوش آرہا تھا

پاس ہی نرس کھری تھی

ض ر

وہ یہ دو لفظ نقاہت کی وجہ سے بامشکل بولتی ہے

نرس اسے کچھ کہ رہی تھی مگر وہ ابھی ہوش میں پوری نہیُ آئی تھی اس لئے اسے سمجھ نہیُ اتی

————

ڈاکٹر اسکا چک اپ کر کے باہر اتی ہے

وہ ٹھیک ئیں مسٹر ضرار وہ اپ کو جب سے ہوش میں آئی ہیں پکار رہی ہیں للیز آپ جائیے اندر۔