Tera Junoon by Laiba Khan NovelR50433 Tera Junoon Episode 2
Rate this Novel
Tera Junoon Episode 2
Tera Junoon by Laiba Khan
آج بارات کا دن تھا
نکاح کل ہی ہو چکا تھا
دلہن ریڈ کلر کے لہنگے مین بہت پیاری لگ رہی تھی
سب کزنز نے ایک ہی کلر کا رنگ پینا تھا
ریڈ اور بلیک
بس روح کی کرتی پنک اور لہنگا بلیک تھا
سر پر بہت پیارا حجاب تھا
وہ اج نہایت حسین لگ رہی تھی
اس کی پھوپھو اور دادی اسکی نظر اتار رہی تھین
عہ معصوم سی شکل بنا کر کھری تھی
سائرہ اس کے ساتھ ہی کھری تھی
یار تم ہم سب کو پیارک ہو ایک نئی کزن ہو اور اتنی معصوم ہو اور اتنی خوبصورت اٹھواؤ لاڈ ارام سے مزے کرو
سائرہ اور اسکی دوسری کزن اتی اسکی گردن مین بازو ڈالتی ہے
ارے میرا بیٹا کتنا خوبصورت لگ رہا ضرار میری جان یہان اؤ
باقی ساری کزنز ایک ادا سے کھری ہو جاتی ہے
اس کے اتے
مگر روح ویسے ہی معصومیت سے کھری تھی
ایک ہونٹ دوسرے ہونٹ پر رکھے
ضرار نے اج بلیک سوٹ پہن اتھا جس سے وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہ اتھا
وہ ایک شاندار پرسنیلٹی ک امالک قدم قدم چلتا ان کے قریب اکے کچھ فاصلہ پر رک جاتا ہے
ایک ہاتھ جیب مین ڈالے وہ جھک کر اپنی نانو کو گلے لگاتا ہے
میری جان سلام کیا کرو
وہ اسکے سر پر پیار کر کے محبت سے سمجھاتی ہیں
عہ ایک نظر سامنے کھری چھوٹی سی معصوم لڑلی کو دیکَتا ہے
وہ ایک شخص کو دیکھنے کے بعد بھولتا نہی تھا
کل ہی تو وہ اسے ٹکرایا تھا
دادو مین جاون
وہ باہر کی طرف اپنی گلابی انگلی سے اشارہ کر کے بچون کی طرح پوچھتی ہے
جیسے بچہ مان سے لاڈ کر کے کھیلنے کی اجازت لیتا ہے
رکو میری جان تم دونون کی ایک ساتھ ہی اتار دیتی رکو
وہ مرچیاں لیتی ان دونون کی الگ الگ نظر اتار دیتی ہیں
یہ کیون کر رہی اسے کیا ہوگا
وہ مرچیون کی طدف اشارہ کر کے نا سمجھی سے پوچھتی ہے
میری جان ان سب کو چھورو بس میرے بچون کو اللہ بری نظر سے بچایے
وہ ان دون کے چہرون پر ایک ایک ہاتھ رکھتی ہین
وہ دونون مسکرا دیتے ہیں
ضرار بلکل ہلکی سی مسکراہٹ اچھالتا ہے
جس سے اس کے دون ڈمپل جلد ہی غائب ہو جاتے ہیں
اب ہم جاین دلہن کے پاس
وہ ایک طرف سر کر کے معصومیت سے پوچھتی ہے
جس پر پاس کھری سائری اس کا گال چوم لہتی ہے
وہ فورا گال پر ہاتھ رکھے بلش کرنے لگتی ہے
تم چضچھوری ہو
وہ اسے کندھے پر تھپڑ جرتی باہر بھاگ جاتی ہے
ضرات اس کی نرم اور ہلکی سی اواز پر اس کے غائب ہونے تک تکتا رہتا ہے
—–
شادی ہویے ایک ہگتہ ہو چکا تھا
تب سے جا کر اج روح کو وقت ملا تھا انے کا
وہ اج بھی سب کی اتنی منتون پر ایی تھی
وہ ابھی اندر برھ رہی تھی
جب اس کی کسی سے زوردار ٹکر ہوتی ہے
ضرار جو کسی فائل کے لیے گھر ایا تھا واپس جاتے راستے مین کویی نرم سا وجود دوبارہ ٹکرا جاتا ہے
عہ سر جھکا کر اسے دیکھتا ہے
نو سیاح گاؤن مین سر پر بلیک حجاب کیے ہویی تھی
چہرے پر نقاب تھی اور انکھین بند تھین جن سے ایک بوند بہ نکلی تھی
ایک ہاتھ ماتھے پر ٹھا
وہ ہلکی ہلکی انکھین کھول کرسامنے پلر دیکھتی ہے
ہائے اس کی قسمت دوبارہ وہ سیمنٹ کے اس پلر سے ٹکرائی تھی
اس کے نظر اٹھا کر دیکھنے سے اس کی دونون انکھون سے انسو بہ نکلتے ہیں
نا جانے کس احساس کے تحت وہ اپنی جیب سے اپنا رومال نکال کر اسکی طرف برھاتا ہے
وہ منہ بنا اکر فاصلہ قائم کرتی ہے
اپ کس چی چیز کے بنے ہو اتںے سخت ہو تھورا بچون کا خیال کرو میری ناک ٹوٹگیی اگر سر پھٹ جاتا تو
وہ لراکا عورتون کی طرح کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے پوچھتی ہے
اس کی سر پھٹنے والی بات پر وہ سامنے وال پر لگے شیشےمین خود کو دیکھتا ہے
اور دوسری نظر اییبرو اچکا کر اسے
وہ اسکے وہان دیکھنے پر نقاب نیچے کر کے چہرے پر رومال رکھتی ہے
ناک اسکی سچ مین لال تھی وہ منہ بنا کر بھاگ جاتی ہے
وہ اسکے جاتے ہی اپنے بازو اور سینہ دیکھتا ہے
وہ کس قدر نرم ملائم تھی
اس نے کویی خوشبو نہی لگایی تھی
مگر اس کی اپنی خوشبو ہی اس قدر دلفریب تَی کہ وہ اسکے جاتے دل کھول کر مسکرا دیتا ہے
جس سے اسکے دونون ڈمپل خوبصورتی سے چمک اٹھتے ہیں
—–
الو. پاگل… بد تامیز …ایک سوری نہی کہا …..ایی ….میری ناک…. اللہ میرا سر ……عجیب ہے پتا نہی اللہ میان نے کس چیز کا بنایا ہے…… اس پاگل انسان کو…… اتنی زور سے لگ گیا…….. اییی…..
وہ بربراتی اگے برھتی ہویی سایزہ کے سامنے رکتی ہے
ایک درد اور دوسرا غصہ سے ناک سرخ تھین
ارے بریک لگاؤ کیا ہوا ہے
سایزہ اسے پانی کا گلاس تھما کر پوچھتی ہے
وہ اسے سب بتا دیتی ہے
تمھین انہون نے کچھ نہی کہا
سائزہ پر تو جیسے حیرت کا پہار ٹوتا تھا
کیون مجھے کیون کہتے ….غلطی اس سیمنٹ کے بنے انکل کی تھی …..نہ کہ میری مجھے ملے نہ تو…. منہ مرور کر رکھ دون گی….
وہ ہاتھون کی مٹھی بن اکر مرورتی اسے کہتی صوفہ پر بیٹھ جاتی ہے…
یار تم نہی جانتی ان کا غصہ ان سے اس گھر مین صرف دادو ہی بات کرتی ہیں
اور کویی نہی ہر کویی ان کے غصہ کی وجہ سے بات کرنے سے ڈرتا ہے مگر ان پر ہر لڑکی پورے خاندان کا ان کی برانچ کی ہر لڑکی ان پر مرتی ہے تمھین کیا بتاؤں یار
سائزہ اس کا ساتھ بیٹھ کر اسکی انفارمیشن مین اور اضافہ کرتی ہے
افف سائزہ بس کرو
وہ ہلو اٹھا کر اسے مارتی چپ کروا کر رومال بیگ مین رکھتی اپنی دادی سے اور باقی سب سے ملتی ہے
——
وہ سب جوان کزنز ڈرایینگ روم میں بیٹھے تھے
یار مین کہتی کہین اکھٹے جاتے ہین کیوں
سایزہ روح کو دیکھ کر پلین بناتی ہے
اس کے تین کزنز شادی شدہ تھے اس سے سب لرکے برے تھے
اور وہ اسے بچہ کی طرح ہی ٹریٹ کر رہے تھے
ان سب کی نظر مین اس کے لہے عزت تھی
مگر ایک بات عجیب تَی وہ بھی تو انکا کزن تھا….
وہ کیون دور تھا ان سب سے …
وہ اکیلا تھا یہ سب اسے کیون نہی بلاتے تھے….
وہ سوچیں جھٹک کر انکی طرف متوجہ ہوتی ہے جو جگہ ڈسائیڈ کر تہے تھے
ہم جنگل چلتے لائک جیسے فلمون میں ہوتا کیون…
آگ جلا کر اردگرد بیٹھو گیم کھیلو پھر وہین رہو کیسا
روح ان سب کو دیکھ کر ائیڈیا دیتی ہے
وہ سب مسکرادیتے ہین
یعنی انہین کویی اعتراض نہی تھا
ڈن ہے پھر
سب ایک ساتھ کہتے ہیں
روح اج ہم کہین نہی جانے دے رہے اج یہین رہ لو کل اپنی چیزیں لے انا اپھر نکلین گے جلدی سے
سایزہ دو ٹوک انداز مین کہتی ہے
وہ کندھے اچکا کر گھر فون کرتی اجازت لیتی ہے
اس کے دو تین بار کہنے سے اسے اجازت مل جاتی ہے
—–
ضرار رات کے ایک بجہ گھر لوٹتا ہے
وہ جس وقت بھی اتا تھا
اسے چائے ضرور چاہیے ہوتی تھی
وہ پیشانی مسلتا اندر داخل ہوتا ہے
سامنے ہی ایک میڈ کھڑی تھی
وہ ہی روزانہ اسے چایے بنا کر دیتی تھی
مگر وہ صرف دو گھونٹ پی کر چھور دیتا تھا
اسے کسی کی بھی بنائی چایے اچھی نہی لگتی تھی
وہ سیدھا اپنے پورشن مین برھ جاتا ہے
پیچھے میڈ اسکے کیے چایے بنانے لگتی ہے
—–
روح جو فون پر بات کر رہی تھی
وہ لیٹ ہی سوتی تھی
وہ سایزہ کے ساتھ ہی روم شیئر کر رہی تھی
اسکی فرینڈ کی کال ایی تھی
وہ اسے بات کرتی گارڈن مین جا رہی تھی
جب اسے میڈ کچن مین نظر اتی ہے
اپ اس وقت کیا کر رہی
وہ میڈ کو دیکھ کر پوچھتی ہے
باجی وہ مین ضرار صاحب کے لیے چایے بنا رہی
عہ روح کو جواب دیتی پانی رکھتی ہے
اوہ مگر کیسے بنا رہی ہو وہ ایسے پیتے ہین
وہ ہمیشہ دوسرے طریقی سے اپنے لیے چایے بناتی تھی
وہ اسے دیکھ کر پوچھتی ہے
باجی پتا نہی انہین چایے روز چاییے ہوتی ہے مگر کپ سے صرف دو ہی گھونٹ لیے ہوئے ہوتے باقی پری ہوتی ہے
وہ جمائی روکتی جواب دیتی ہے
ہٹین اپ کو یہ نہی پتا انہین یہ طریقہ چائے کا نہی پسند …. اس لئے وہ نہی پیتے……. اگر وہ اس وقت آئے ہین تو ضرور انہین چائے کی ضرورت ہوگی …..اور اپ ایک ہی طریقہ سے بناتی ہیں….میں.بنا کر دے رہی اپ انہین دے دیجیے گا…
وہ چایے کا پانی ساییڈ پر رکھتی اپنے طریقے سے چائے بناتی ہے
پانچ منٹ مین وہ چایے تیار کر کے کپ مین چھان کر ٹرے مین کپ رکھتی اسے دیتی ہے
وہ اسے چایے لیتی نکل جاتی ہے
روح اپنے لیے بھی جو چایے بنایی تھی ادھا کپ وہ بھی لیتی باہر گارڈن مین اجاتی ہے
سامنے ہی چیئرز پری تھین وہ وپین جا کر بیٹھ جاتی ہے
ایک ہاتھ مین فون اور ایک مین کپ تھا
—-
میڈ ضرار کو چایے دے کر اپنے کاورٹر جا چکی تھی
ضرار فریش ہو کے اتا چایے کا پہلا گھونٹ لیتا ہے
پھر دوبارہ سے وہ گھونٹ بھرتا ہے
ایک بلکل الگ زائقیہ تھا اسکا
جیسی وہ پینا چایتا تھا
یقینا اس میڈ نے تو نپی بنایی ہوگی
وہ سکون سے لیپ ٹوپ پر کچھ دیکھ کر بالکونی مین نکل اتا ہے
باہر ٹھنًی ہوا چل رپی تھی
جو اسے چھو کر گزر رہی تھی
وہ ایک ہاتھ سامنے رکھ کر ایک ہاتھ سے گھونٹ گھونت چایے پیتا ہے جب اسکی اچانک نظر نیچے بیٹھی روح پر جاتی ہے
تبھی وہ بھی کسی کی نظرین خود پر محسوس کرتی اوپر دیکھتی ہے جہاں اس کی انکھین سامنی کھرے شخص کی انکھون سے ٹکرا جاتی ہین
وہ اسکا صبح ٹکرانا یاد کر کے اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھتی منہ بنااکر اندر چلی جاتی ہے
وہ اسکی حرکت پر مسکرائے بنا نہی رہ سکتا مگر اس کے جاتے ہی مسکراہٹ بھی غائب ہو جاتی ہے…
