Tera Junoon by Laiba Khan NovelR50433 Tera Junoon Episode 1
Rate this Novel
Tera Junoon Episode 1
Tera Junoon by Laiba Khan
ہر جگہ رونقون اور خوشیون کا سیلاب امڈ ایا تھا
ایک وسیع گارڈن میں ایک طرف لڑکیان ڈانس کر رہی تھین تو کہین کھری اپس مین باتین
سامنے ہی پیلے جورے مین دلہن بیٹھی تھی
جو مسکرا رہی تھی
پاس ہی ایک خاتون
وہ کسی کو دیکھ کر کھری ہو جاتی ہین
مجھے بہت خوشء ہویی میری جان تمہین یہان دیکھ
وہ سامنے شورٹ کم والے فراق اور. ساتھ سمپل ٹراوزر ساتھ سر پر خوبصورتی سے لیا گیا حجاب برا سا دوپٹہ جو کندھے پر کیا گیا تھا اور اس کے چہرے کی معصومیت وہ بہت خوبصورت تھی
اپ نے اتنی محبت سے مجھے میری بہن کی شادی پر بلایا مین کیسے نہ اتی
وہ اپنی پیاری سے اواز مین ہلکی اواز سے کہتی ان کو گلے لگ کر دلہن سے ملتی یے
جو اسکے گال چوم لیتی ہے
عہ فورا بلش کر جاتی ہے
دلہن مین ہون بلش یہ کر رہی
وہ اسے چھیرتی ہے
نہی تو
وہ نہ مین سر ہلاتی اور معصوم لگتی ہے
….
ایک عالیشان عمارت کے اندر کیبن مین موجود ایک شخص ایک ہاٹھ سے سیگریٹ پی رہ اتھا اور دوسرے سے فایل پر کام کر رہ اتھا
اسی پل اسلا فون رنگ کرتا ہے
جو وہ ماتھے پر بل ڈالے اٹھا لیتا ہے
دوسری طرف اسکی نانو تھی جن کو وہ بات کبھی نہی ٹالتا تھا
جی نانو ا رہا ہون
وہ احترام سے کہ کر فون رکھ کر ایک ٹھنڈی سانس خارج کرتا ہے
بلیو سوٹ مین ملبوس وہ بے حد ہینڈسم لگ رہا تھا
وہ سیگریٹ بجھا کر کھرا ہوتا چیزین اٹھا کر باہر نکل جاتا ہے
…..
نور
جس کے گھر مین اسکا بھایی اور امی موجود تھیں
اس کے والد کی وفات کے بعد وہ اپنے ددیال سے دور ہو گیی تھی
اب کسی طرح رابطے سے وہ روح اور اسکے گھر والون سے ملے تھے
روح کا بھایی اسے خود یہان لایا تھا سب کے اسرار ہر
وہ بیس سالہ لڑکی بہت معصوم تھی اور جس سے گھل مل جاتی تھی وہء جانتے تھی وہ کس قدر شرارتی بھی تھی
….
ضرار شاہ ضرار انڈسٹریز کا مالک
جس نے اپنی پچیس سالہ زندبی مین اتنی شہرت کمایی تھی
وہ اپنے پیرون پر اکیلے کھرا ہو تھا بغیر کسی سہارے کے
اس کے نہ والد تھے نہ والدہ اسکے بچہن مین ہی انکا انتقال ہو چکا تھا
وہ ایک جوینٹ فیملی مین رہتے تھے
مگر پھر بھی عہ شخص سب سے انتہا کا فاصلہ رکھتا تھا
گھر مین سوائے اسکی نانو جو اصل مین اسکی دادی تھی مگر اسکی مان انہی امی کہتی تھی جسکی وجہ سے وہ نانو پکارتا تھا
وہ انکی بے انتہا عزت کرتا تھا
وہ اپنے اپ مین رہنے والا بھی نہ تھا پھر بھی وہ ہر کسی سے دوری پر رہتا تھا
نہ اسک اکویی دوسے تھا نہ کویی ہمراز
…….
ضرار گھر اتے ہی اپنے پورشن کا رخ کرتا ہے
سامنے ہی اسکے بیڈ پر اسکا سوٹ رکھا گیا تھا
شلوار قمیض جو وہ کبھی نہی پہنتا تھا
جانتا تھا اسکی نانو نے رکھوایی ہوگی
وہ اج پیلی بار وہ اٹھا کر پین لیتا ہے
…..
روح اہنے سب کزنز سے پیلی بار مل کر بہت خوش ہو رہی تھی
اس سے بھی چھوٹی کزنز تھین مگر اسکی معصومیت سب کو بھا رہی تھی
وہنا سب اسے چھوٹی بچی کی طرح ٹریٹ کر رہے تھے
اسے ہمیچہ سے شوک تھا ان سب سے ملنے کا مگر وقت اور حالات ہی کچھ ایسے تھے
اج اسے موقع ملا تھا اس لیے خوشی خوشی سب سے مل رہی تھی
,,,,,
ضرار کرتا پاجامہ پین کر کچھ اور بھی حسین لگ رہا تھا
وہ جیسے ہی نیچے اتا ہے سب کی نظرین اس پر ٹک جاتی ہے
مگر اسکے چہرے کے سرد تاثرات اسے قریب جانے سے سب کو روک لیتے ہین
لرکیان دلون پر ہاتھ رکھے اسے دیکھ رہی تھی
مگر وہ ان سب سے بیگانہ فون مین بزی تھا
میرا بچہ مجھے بہت خوشی ہویی
اسکی نانو اسکے پاس اکر اسکے سر پہ پیار کرتی ہین
نانو
وہ انہین خود سے لگا لیتا ہے
یا اللہ یہ سب کہان دیکھ رہین
روح سب لرکیون کی طرف اشارہ کعتی ہے
جو ناجانے کہنا کھو گیی تھی
یار ضرار بھایی آیے ہین پیلی بار
اسے پتا چلا تھا اس کزن کا بھی مگر صرف عجیب الفاظون مین
کہان ہین
عہ یہان وہان دیکھتی پوچھتی ہے
عہ کھروس عہ دیکھو دادو کے ساٹھ
عہ سامنے کی طرچ ایک خوبرو نوجوان کی طرف اشارہ کرتی بتاتی ہے
وہ ایک نظر دیکھ کندھے اچکا کر اسے باتون مین لگ جاتی ہے
—-
کیا ہوا ہے تمھین
روح کو اداس بیٹھا دیکھ اسکی کزن اسے ہوچھتی ہے
تم میری دوست ہو نہ
وہ معصوم شکل بنا کر پوچھتی ہے
ہان میری جان کیا ہوا
عہ سوالیہ نظرون سے دیکھتی ہے.
پھر چلو نہ گول گپے کھانے
وہ اسکی بات پر ماتھا پیٹ لیتی ہے
لڑکی بیمار ہونا ہے کیا نہ بابا نہ
وہ دومون ہاتھ کھرے کر دیتی ہے
ٹھیک ہے تم …وہ رک کر الفاظ سوچتی ہے
تم بہت بری ہو…کہ کر وہ پھر رکتی ہے وہ اسکی اس حرکت پر مسکرایے بنا نہی رہ سکتی
تم
تم میری دوست نہی ہو
اپنی چھوٹی سے کیوٹ سی کزن کی یہ بات نہی مان سکتی
تم
ابھی عہ اور سوچ سوچ کر بولتی وہ کسی لوہے جیسی چیز سے ٹکراتی ہے
بقعل روح کے لوہے جیسی
وہ ضرار ک سینہ تھا
وہ ایک ہاٹھ میں فون پکڑ کر کان سے لگایے بات کرنے مین مگھن تھا جب اسے کویی نرم سا وجود ٹکرا جتا ہے
ایی
وہ کراہ کر رخ مورتی ہے
کیا سیمینٹ کے بمے ہو
وہ اپنا بازو سہلاتی اسے بھی جھار دیتی ہے
انکھون مین نمکین پانی جمع ہوتا ہے
جو سامنے کھرے سخص کو مسمرایز کر دیتا ہے
ہون بے وقف
وہ بربرا کر اگے برھ جاتی ہے
سوری ضرار بھایی وہ اپ کو جانتی نہی
اسکی کزن سایرہ ضرار سے مافی مناگتی ہے
وہ سر کو خم دیتا پیچھے مڑ جاتا ہے
