Tera Junoon by Laiba Khan NovelR50433 Tera Junoon Episode 22
Rate this Novel
Tera Junoon Episode 22
Tera Junoon by Laiba Khan
شہرام روح کو صبح سات بجے ہی گھر چھور ایا تھا
کیونکہ اسے افس لازمی انا تھا
راستے میں کئی بار اس نے معصوم مظروں سے اہنے ظالم شوہر کو دکھا تھا مگر اسکا تو ایک دن بھی اب اسے دیکھے بغیر نئی گزرتا تھا
وہ ایک گھنٹہ لیٹ جانے والی تھی
دو گھنٹہ ارام کر کے وہ گیارہ بجے نکل جاتی ہے
اسے اب بھی شدید نیند ارہی تھی
یہاں اتی ہی اسے پتا لگتا ئے اج انہیں شہرام کے گھر میٹینگ کے لئے جانا تھا
وہ کچھ ہی فیر میں ٹیم میمبرز شہرام کی گھر کی راہ لیتے ہیں
آج ایک امپورٹینٹ میٹینگ کو ڈسکس کرنے کے بائث وہ سب شہرام کے گھر میں موجود تھے
اس کے آفس کا ماحول ہمیشہ سے کافی فرینک سا تھا
تقریباً سات لوگ اس وقت شہرام کے گھر کے باہر موجود تھے
ایک وسیع لان کے بعد سامنے ہی ایک دروازہ تھا
وہ باہر سے دکھنے میں نہایت شاندار لگ رہا تھا
نشاء بار بار انکھیں مسل رہی تھی
تبھی شہرام خود ایک ہاتھ میں چائے کا کپ پکرے دروازہ کھولتا ہے
ویلکم
کم ان
وہ ایک سائیڈ ہو کر انہیں راستہ دیتا ہے
وہ سب اندر کی طرف گارڈن میں برھ جاتے ہیں
اکثر شہرام وہیں احتمام کرتا تھا
مائن
وہ نشاء کے اندر آتے ہی اسکے سامنے آجاتا ہے
تنگ نہیُ کرو
وہ منہ بسور کے بولتی دوبارہ انکھیں مسلتی ہے
کیوں ظلم کر رہی ہو
وہ اسکے دونوں ہاتھ اسکی انکھوں سے ہٹا دیتا ہے
تم بات ہ ہی مت کرو
وہ دیوار سے ٹیک لگا دیتی ہے
شہرام بھی اگلے لمحہ اس کے سامنے کھڑا ہوتا اسے اپنے گھیرے میں قید کر لیتا ہے
کیا ہوا ہے
ایک ہاتھ سے اسکا نقاب نیچے کر کے وہ نہایت نرمی سے سوال کر رہا تھا
تمھیں پتا ہے اتنی ساری نیند آئی ہے
وہ دونوں ہاتھ کھول کر اسے بتاتی ہے
وہ اسکی یوں بچوں والی حرکت ہر مسکرا دیتا ہے
اوہ بس اتنی سی بات
وہ کہ کر بغیر اسے سمجھنے کا موقع دیے بنا اسے گود میں اٹھاتا اندر برھ جاتا ہے
کیا کر رہے ہو
وہ یوں اٹھائے جانے پر ہچکچاتی ہے
کچھ نہیُ مائن
وہ اپنے کمرے میں لا کر اسے بیڈُ پر لٹا کر کمفرٹر ڈال دیتا ہے
مگر سب باہر پوچھیں گے خان
کوئی کچھ نہیُ پوچھے گا سو جاؤ تم خان کے لئے بہت اہم ہو خان کی جان
وہ آگے ہو کر اسکی پیشانی پر بوسہ دے دیتا ہے
وہ پہلے ہی نیند میں جھول رہی تھی اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے سے کچھ ہی لمحوں میں نیند کی وادی میں اتر جاتی ہے
وہ ایک نظر اسے دیکھ مسکرا کر باہر نکل جاتا ہے
—————
ضرار اسے کھانا کھلا کر ٹرے باہر رکھ کر اندر اکر چینج کرتا اسکے پاس بیٹھ جاتا ہے
اسے شدید خوف ارہا تھا اب بھی اس سے
اس کے لہجہ کی سختی اس نے پہلی بار اس قدر دیکھی تھی
اور اس کا دیوانہ پن اسے جس قدر خوف دلا چکا تھا وہ ایک لفظ کہنے سے انکاری تھی
کیا گھر والے اس کے بارے میں جانتے تھے اس کے اس روپ سے واقف تھے
نہی گھر والے کچھ نہی جانتے میری فیملی صرف تم ہو ہر چیز سے واقف ہونے کا حق تمھیں ہیں
وہ جو اپنی سوچوں میں گم تھی اسکا جواب سن کر خوف سے اسے دیکھتی ہے
اس نے تو کچھ نہی بولا تھا
تمہاری نظریں سب بیان کرتی ہے
وہ اسے کشمکش میں مبتلا دیکھ دوباہ بولتا ہے
ض ضرار ہم گ گھر چل چلیں پل پلیز م مجھے ک کالج ک کی پڑھ ھائی ب بھی تو ک کرنی ہے
وہ کانپ رہی تھی
مگر بہانہ بنا کر کہتی ہے
اسے ڈر کیوں تھا کس بات کا تھا
وہ نئی جان پا رہا تھا
اسکے بہانہ بنانے ہر وہ سوچتا ہے
وہ تو اسے ایک سوئی نہئ چبھو سکتا تھا
کیا وہ بھول بیٹھی تھی
کیا اسے لگ رہا تھا ضرار اسے نقصان پہنچائے گا
روح خاموش ہو کر سو جاؤ میں جس قدر نرم پڑ رہا ہوں تم فائدہ اٹھا رہی ہو
دیکھو میری جان ہم جائیں گے جب دلکرے گا
رہی پڑھائی کی بات وہ ہو جائیگی اوکے ابھی اپنے چھوٹے سے زہن کو ارام دو میری چریا
وہ پہلے سختی سی بولنے لگتا ہے مگر اسکی خوف سموئے نظروں میں دیکھ پگھل کر موم ہوتا ہوا اپنی نرم گرفت میں قید کر لیتا ہے
وہ اب اسکے اندر پوری چھپی ہوئی تھی
وہ ڈر سے اب بھی کانپ رہی تھی
وہ ایک ہاتھ سے اسکے بال اور دوسرے سے پیٹ سہلا رہا تھا
اس کے یوں کرنے سے وہ کچھ دیر میں روتے ہوئے سو جاتی ہے
ایک موتی ٹوٹ کر روح کے بالوں میں جزب ہو جاتا ہے
تم بھی روح غلط سمجھ بیٹھی یار اس قدر بے اعتبار ہے تمہارا ضرار
وہ ازیت وہ اکیلا جھیل رہا تھا خود پر
وہ اسے کسی کانچ کی گریا کی طرح ہی تو سنبھالتا ایا تھا
وہ اب بھی اسے سکوں کی نیند سلا کر کانٹوں پر لوٹ رہا تھا
روح میرا جنون ہو تم جنون عشق سے بھی برھ کر خطرناک ہوتا ہےعشق حسین ہوتا ہے تو جنوں خوف
اس کے لب روح کے بالوں کو چھو رہے تھے
اب ایک ہاتھ کی انگلیاں اس کی ہاتھوں کی انگیلوں میں تھیں
روح یار تنہا مت کرو تمھیں نہی جانے دونگا کہیں ضرار مرزا جب تک زندہ ہے اس کے لئے سانس کی طرح ضروری ہو ہر قدم پر لڑکھڑا جاؤنگا میں روح مجھے ساتھ دو اپنا مجھے مکمل کر دو اپنے اعتبار سے تمہارا ہر انسو مجھے ازیت در ازیت میں مبتلا کرتا ہے
وہ اب اسکا چہرہ کندھے پر رکھتا ایک ایک انسو محبت سے چن رہا تھا
دو انسو اسکے روح کے گال پر بہ جاتی ہیں
وہ نیند میں سسکی لیتی ہے
شاید اب بھی وہ مکمل نیند کی اغوش میں نہی تھی
اب بھی انکھوں سے انسو بہ رہے تھے
وہ جتنی بار چنتا وہ بہ نکلتے
وہ شدت سے اسے خود میں بھینج لیتا ہے
یا اللہ مجھے میری روح کا یقین لوٹا دے
میرا جنون سب تباہ کر دے گا یا اللہ کیوں کیوں اس قدر جنونی ہوں اس کے لئے وہ نہی جھیل سکتی یا اللہ وہ بہت معصوم ہے میرے مالک
وہ کسی بچی کی طرحسو رہی تھی
اور وہ اسے خود میں یوں چھپائے ہوئے تھا جیسے اسکے کہیں جانے کا اب بھی خوف ہو
دھیرے دھیرے وہ یوں ہی باتیں کرتا اسکے بالوں پر پیشانی ٹکاتا نیند کی وادی میں اتر جاتا ہے
گرفت اب بھی نہایت مضبوط تھی
——————-
میرا خرگوش
وہ نیند میں تھی جب کوئی اسکے بال سہلاتا ہوا پکارتا ہے
وہ تھوری کروٹ لے کر منہ پر کمفرٹر ڈالتی چھپ جاتی ہے
خان اسکی حرکت پر مسکرا کر پیچھے ہوتا کنفرٹر کے اندر سے اس کے پاؤں نکال کر گدگدانا شروع کر دیتا ہے
ائیی
وہ چیخ مار کر اٹھتی ہے
خان
نیند سے بوجھل سرخ انکھیں
،بکھرے بال۔ دوبٹہ گردن میں قید کیے وہ اسکا امتحان لینے پر تل گئی تھی
خان کا خرگوش وہ ہنس کر اسکے سامنے بیٹھ جاتا ہے
وہ ہاتھوں سے اسے مارنا شروع کر ریتی ہے
افف جنگلی بلی کیوں بن گئی
مجھے کیوں اٹھایا اتنی اچھی نیند سے ہاں کیوں اٹھایا
اب مکہ بھی ساتھ برساتی وہ منہ بسور کر بول رہی تھی
اففف بس نہ مجھے آپکی یاد ارہی تھی
میرا زہن اپ کی اواز سننے کو بی تاب ہو گیا تھا کیا کرتا
وہ سکون سے اسکا سر سینے پہ رکھ دیتا ہے
تو کسی کو ایسے اٹھاتے ہیں
انکھیں بند کر کے وہ شکایت کرتی ہے
تو اتنی محبت سے ہہلے پکارا تو بلی کی طرح اپ چھپ گئی تو کیا کرتا اپ کا شوہر
وہ اسکےبلی کی طرح چھپنے پر ہنس دیتی ہے
خان مجھے بھوک لگی ہے میں نے اج کچھ نہی کھایا
وہ بچوں کھ طرح معصومیت سے بولتی ہے
توچلو پھر
وہ کھرا ہو کر اسکے ہاتھ تھام کر اٹھاتا ہے
اوکے میں چینج افف ائی مین فریش ہو کر ائی
اسے یاد اتا ہےوہ اپنے گھر ہی نہی تھی
اندر میرا ٹراؤزر اور شرٹ ئے اٹھاکر فریش ہو جاؤ
وہ دونوں اطراف سے اسکی بالوں کو ہیچھے کر کے کہتا ہے
اوکے میں اتی ہوں
وہ واش روم کی طرف بڑھ جاتی ہے
تبھی اسکا فون رنگ ہوتا ہے
وہ نہایت سرد نظر فون پر ڈال کر رسیو کرتا ئے
دوسری طرف سے اسے خبر ملتے ہی اسکے ماتھے ہر تیوری چرھ جاتی ہے
وہ ہاتھ کی مٹھی بنا کر خود پر ضبط باندھتا ایک دو باتیں کر کے فون رکھ دیتا ہے
تبھی وہ دروازہ کھول کر باہر نکلتی ہے
اسکے وائٹ ٹراؤزر اور بلیک شرٹ پہنے وہ بچی لگ رہی تھی
گلے میں مفلر کی طرح دپٹہ لیے وہ بالوں سے الجھی باہر اتی ہے
اسے اپنے بال باندھنے کے لئے کچھ نہی ملتا
شہرام کو شرارتی نظروں سے دیکھ کر وہ اسکی جیب سے پین نکال کر بالوں کو قید کر لیتی ہے
وہ سرکو پیچھے جھٹک کر قہقہ لگا دیتا ہے
ماشاء اللہ
اسکی اواز پر وہ اگے ہو کر اسے قید میں لیتا ہے
تو اج کھانا اپ بنا رہی ہیں
اب وہ اسے شرارتی نظروں سے دیکھ رہا تھا
جی نہی خاموشی سے اپنی بیوی کو کھانا بنا دیں نہی تو
وہ اگے چیلجنگ نظروں سے اسے دیکھتا ہے
جیسے اسکے الفاظ پورے ہونے کا انتظار کر رہا ہو
نہی تو کچھ نہی مجھے بھوک لگی ہے چوہے ڈانس کر رہے ہیں پلیز نہ
نشاء اسے کھئنچتے ہوئے باہر لے اتی ہے
————————
شہرام کٹنگ بورڈ پر چیزیں کاٹ رہا تھا
وہ وہ شیلف پر کہنی پر ٹھوری رکھے اسے دیکھنے میں مصروف تھی
تبھی وہ فرائینگ پین میں موجود چکن فورک پر لگا کر اسکی طرف بڑھاتا ہے
اٹس یمی
وہ کھا کر اسکی تعریف کرتی ہے
وہ مسکرا کر کھانا پلیٹس میں نکالتا اسکے ساتھ باہر نکلتا ہے
اپ چائے پیتے ہو شوق سے
وہ کھانا کھاتے ہوئے پوچھتی ہے
اگر اپ پلائیں تو ضرور وہ محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتے چکن فوک کی مدد سے منہ میں رکھتا ہے
اوکے بس ابھی ائی
وہ کھانا ختم کر چکی تھی اس لئے کچن میں گھس جاتی ہے
——————-
روح کی انکھ کروٹ نہ بدل سکنے سے کھلتی ہے
ضرار ا۔ بھی اسے یوں ہی گرفت میں لیے سو ہا تھا
وہ چہرہ اٹھا کر اسے دیکھتی ہے
بال اسکی پیشانی پر بکھری ہوئے تھے
چہرہ پر سختی موجود تھی
اور ایک انکھ کے قریب مٹا سا انسو کا نشان وہ ایک ہاتھ اسکے گال پر رکھتی اسکی پیشانی پر بوسہ دیتی ہے
وہ نیند میں مسکرا دیتا ہے
اپ جاگ رہے تھے نہ
اسے مسجراتا دیکھ وہ نارمل انداز میں کہتی ہے
تمھیں کھونے کا احساس اس روح کو چیڑ جو رہا ہے
وہ کرب اور کس ازیت کی انتہا میں بول رہا تھا
اسکےلفظوں کے ہیچھے کا درد وہ محسوس کر سکتی تھی
مگر میں کہیں نہی جا رہی
وہ اسکی بات پر پر سکوں سا آنکھیں بند کرتا ہے
اسک انکھوں میں موجود سرخی دیکھ وہ اپنی انگلی سے اسکی انکھیں چھوتی ہے
مجھے یقین خود سے زیادہ ہے ضر اپ پر مگر جو سب ہوا ایک بار بھی اپ نے نہی بتایا میں جب تک نہ جان لوں میں نہ اپ سے دود ہونگی نہ کوئی شک کرونگی اپکا درد میرا دل خود پر محسوس کرتا ہے میری روح کوئی جھنجھور دیتا ئے ضر مجھے اپ سے محبت ہو گئی ہے اسکی اصل وجہ اپکا جنون ہے ضر جو ہر شریکِ حیات اہنی شوہر سے چاہتی ہے میں اپ پر یقین کرونگی جو کہو گے اس پر یقین کرونگی۔ چھورتی تو میں اپ کو کبھی نہی ضر اپ کو چھور کر روح بھی مر جائیگی
وہ تھورا اوپر ہو کر اسکی گردن میں منہ چھپا لیتی ہے
جیسے ہر حقیقیت سے وہ اسک باہوں میں موجود ہو کر چھپ جائیگی
میرا جنون اٹھ جاؤ
کچھ دیر بعد اسے ضرار کی اواز اپنے کان کے نزدیک ترین سنائی دیتی ہے
تبھی ایک لمس وہ اس پر محبت کا چھورتا ہے
ضر م مجھے قضاء نماز ادا ک کرنی ہے
وہ فورا سٹپٹا کر اسکی باہوں سے نکلتی ہے
ہاہاہہاہاہہا ضرار کا لٹل برڈ ائی ریئلی لو یو
وہ اسکے ہاتھ کی پشت پر بوسہ دے کر جانے دیتا ہے
وہ لمحہ میں دورتےہوئے واش روم میں بند ہوتی ہے
——————-
مجھے ہمت چاہئے اللہ مجھے اس شخص کے سامنے جڑی رہنے کی ہمت چاہئے جس نے مجھے جوڑا ہے اللہ اس نے تب میرا ساتھ دیا جب کوئی بھی نہی تھا اپ کے سوا میں شکر گزار ہوں میرے مالک تیری تو نے اس جیسا ہمسفر مجھے دیا میں خوش نصیب ہوںاس جیسے شخص کو میں نے پایا جس کی ہر عورت خواہش کرتی ہے
ضرار باہر گیا ہوا تھا
وہ نماز پر بیٹھی دعا میں اللہ سےاپنے دل کا ہرغم بیان کر رہی تھی
اگر کہا جائے کہ وہ بھی اسکے جنون میں اپنا اپ کھو بیٹھی تھی تو غلط نہ تھا
——————
پرفیکٹ مائن
ضرار چائے کا سپ لے کر اسےنظروں کے حصار میں لے کر کہت ہے
ائی نو
وہ فخر سے کندھے اچکاتی ہے
اسکی یہ حرکت اسکے ہونٹوں پر تبسم بکھیر دیتی ہے
—————————-
آ جاؤ روح
ضرار اسے بریکفسڑ کرانے کے بعد بیسمینٹ میں لایا تھا
اسکا ہاتھ ضرار کے ہاتھ میں قید تھا
ضر مجھ مجھے نہ نہی انا یہ ہاں س سےجانے دو اوپر
وہ فورا پینک کر جاتی ہے
روح کیا ہوا رکو تو
وہ پیچھے کی طرف بھاگنے لگتی ہے وہ اسکے دونون بازو پکڑ لیتا ہے
ضر ن نہی نہ ی یہاں ن نہی چھپنا ضر یہاں نہی
اسے لگ رہا تھا یہاں کوئی انہیں رات کی طرح مارنے ائیگا اور ضرار کے شکار ہو جائیگا
روح ہوش میں اؤ
وہ اپنی گرفت اسکے بازو پر نہایت سخت کر دیتا ہے
تبھی اسکے منہ سے سسکی نکلتی ہے
اگلے ہی لمحہ وہ اسکے بازوؤن میں جھول جاتی ہے
یعنی اس نے احمد کو ان ادمیوں کو لے جاتے دیکھ لیا تھا
جن کا پورا جسم ایسڈ میں جل چکا تھا
ضرار اسے اپنی باہوںمیں اٹھاتا اوپر کی طرف بڑھ جاتا ہے
——————
ضرار اسکی سسکی یاد کر کے اسکا بازو اوپر کر کے دیکھتا ہے جہاں اسکے انگلیوں کے نشان چھپ چکے تھے
لمحہ میں اسکی آنکھیں سرخ ہوتی ہیں
گلے کی گلٹی صاف واضح اسکی غصہ میں ہونے کا ثبوت پیش کر رہی تھی
وہ بے ہوشی میں بھی کانپ رہی تھی
ایسے کسی کی لاش دیکھنا ہر عام انسان کا یہی ریئکٹ کرنا بنتا تھا
وہ فرسٹ ایڈ سے دوائی نکال کر اسکے بازوں پر لگاتا اسکی پیشانی پر بوسہ دیتا باہر نکل جاتا ہے
—______
بیسمینٹ میں موجود وہ خود کو زخمی کئے جا رہا تھا
اس وقت اسے اس چابق سے ہوتے زخم سے کوئی درد محسوس ہی نہی ہو رہا تھا
اس کا دیہاں تو اسکے بازو پر تھا جہاں ہرٹ کیا تھا اس نے اپنی روح کو انجانے میں بھی
تکلیف پہنچائی تھی کیسے کر گیا تھا وہ
وہ تو چریا تھی نہ چھوٹی سی اسکے گھر کی چھوٹی سی چریا جو ہر وقت ضر ضر کہتی چہچہاتی رہتی تھی
ان دو دنوں میں کیسے وہ خاموش ہو گئی تھی
وہ جس طرح خود کو مار رہا تھا وہ دیوانہ ہی لگ رہا تھا
کیا وہ دیوانہ نہی جانتا تھا ان انگلیوں سے اسے اتنادرد نہی ہوا ہوگا جتنا اس درد سے ہوگا
وہ تو اپنے جنون کی انکھوں میں محبت دیکھ چکا تھا
وہ کتنے ہی دیر یوں ہی خود کوزخم دیتے گزار دیتا ہے
جب اسے باہر سے قدموں کی اواز سنائی دیتی ہے
وہ چابک ایک سائیڈ پر پھینکتا شرت اٹھا کر پہنتا باہر نکل جاتا ہے
سامنے ہی سیرھیوں سے روح اتر کر ا رہی تھی
ا اپ ک کہاں تھے
وہ سیدھی اسکے سینے سے لگتی ئے
یوں اسے چھونے سے اسے درد محسوس ہوتا ہے
اسکی شرٹ تو کالے رنگ کی تھی مگر روح نے بہت مضبوطی ے اپنے ہاتھ ادکے گرد باندھے تھےجب ہی اسے اہنے ہاتھ پر نمی محسوس ہوتی ہے
وہ فورا اپنا ہاتھ اگے کر کے دیکھتی ئے
اسکے ہاتھ پر خون تھا
ض ضر ضر خ لون ضر ک کیا ہو
وہ فورا اسکی چہرے کی طرف دیکھتی ہے
جہاں وہ اسکی ہریشانی پر مسکرا رہا تھا
لگ تو اس لمحہ یہ رہا تھا زخم بھی روح کو ہوئے ہیں جیسے اسکے چہرے ہر درد رقم تھا ایس ہی محسوس ہو رہا تھا
کچھ بھی نہی تم اُٹھ گئی طبیعت ٹھیک ہی کیسا فیل ہو رہا ہے
وہ بامشکل اپنے بازو اوپر کرتا ہے
مگر پھر بھی اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالہ میں لے کر محبت سے ہر سوال نرمی سے پوچھتا ہے
ضرار اپ نے کیا کیا ہے
اچانک ہی اس کا لہجہ سخت ہوا تھا وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتی ہوئے بولتی اسکی آنکھوں میں دیکھتی ہے
وہ جھک کر اسکی انکھیں اور ماتھا چھوتا اوپر کی طرف بڑھ جاتا ہے
ضر
وہ واش روم جا رہا تھا ابھی شاید اور بھی کوئی ازیت تھی جو وہ دینا چاہتا تھا
ضر کی جان بس ابھی ایا
وہ چہرہ کا رخ با مشکل موڑتا ہے
ضر بیٹھیں
وہ نرمی سے ہاتھ اسکا تھامتی بیڈ پر بٹھاتی ہے
————-
ہر زخم پر وہ مرہم رکھ چکی تھی اب تک وہ ایک لفظ نہی بولی تھی اس کی پیٹ پر اس قدر زخم تھے اور زخُم سے رستا خون اسے اپنا دل چیرتا ہوا محسوس ہوا تھا
روح
وہ ابھی بولتا بھی نہی ہے وہ پٹک کر گلاس سائیڈ ٹیبل پر ڑکھتی باہر نکل جاتی ہے
افف میرا لٹل برڈ نارض ہو گیا
وہ پیچھے مسکرا کر کھرا ہوتا واش روم میں جا کر ہاتھ منہ دھو کر فریش سا باہر اتا ہے
سامنے ہی وہ ہاتھ میں سوپ لیے کھڑی تھی جو اس نے احمد سے کہ کر بنوایا تھا
کیونکہ وہ جانتی تھی ضرار کے ہاتھ احمد کی ہی شامت اتی اگر وہ کام کرتی
ساتھ میں پانی کا گلاس اور دوائی بھی موجود تھی
چہرے پر سختی سجائے وہ ٹیبل پر ٹرے رکھتی ہے
میری جان ایم سوری پکا پرومس اب کچھ نہی ہوگا
وہ اسے پیچھے سے حصار میں لے کر ٹھوری اسکے کندھے ہر رکھتا معصوم بنتا ہے
اسکی انکھ سے انسو چھلک کر ضرار کے ہاتھ پر گرتا ہے
یار روح رونا مت درد نہی ہے بس تھورا سا ہے
اسکے بس تھورا کہنے پر وہ شکایتی نظر ضرار پر ڈالتی اسکے گردن میں منہ چھپا کر حصار نرم سا رکھتی ہے
ضر ی یہ س سب میری وجہ س سے ک کیا نہ ضر ائی ریئلی لو یو م میں ا پ کو یوں ن نہی دیکھ سکتی
اخر وہ اب اظہار کر جاتی ہے
ضرار اپنی گرفت اس پر مضبوط تر کر دیتا ہے
ضرار کا سکون بہت شکریہ
ضرار اسکا چہرہ سامنے کر کی انکھوں کو چھوتا ہے
ض ضر پرومس ا اپ ن نہی کر کروگے ضر مج مجھے بھی د درد ہو ر رہا ہے
اسکی ناک سرخ ہو گئی تھی رو کر ہچکی بھی بندھ چکی تھی
اچھا نہ بس یہ لو ہانی پیو
وہ ٹرے سے گلاس اٹھا کر اسکے لبوں سے لگاتا ہے
وہ دو گھونٹ بھر کر واپس کر دیتی ہے
اپ نے دوائی لینی تھی یہ جھوٹا ہو گیا ویٹ میں اور لاتی
وہ جانے لگتی ہے ضرار اسکی کلائی تھام کر کاؤچ پر بیٹھتا پاس بٹھا لیتا ہے
یہ تو پھر قیمتی ہے نہ
وہ گلاس اپنے لبوں سے لگا کر گھونٹ بھرتا کہتا ہے
وہ سرخ ہوتی چہرہ چھپا لیتی ہے
یار میرا صبر تو نہ ازماؤ
وہ دل پرہاتھ رکھ کر اسے شرارتا کہتا ہے
چوٹ لگی ہے مگر چھچھورا پن نہی گیا
سوپ پیئں
اسکے گھور کرکہنے ہر وہ ہنسی ضبط کرتا اسے سوپ کی طرف اشارہ کر کے پلانے کا کہتا ہے
وہ خاموشی سے باؤل اٹھا کر اسے اہنے ہاتھوں سے پلانے لگتی ئے
ان لمحوں کے درمیاں اس نے اسکے ہاتھوں کو بہت چھیرا تھا
کبھی انگلی پھیرتا کبھی ہاتھ پکر لیتا کبھی سہلانے لگ جاتا تو کبھی اسکی رنگ سے کھیلنے بیٹھ جاتا
وہ اپنی انکھیں چھوٹی کیے کتنی بار گھور چکی تھی مگر اس پر رتی برابر فرق نہی پڑا تھا وہ تھا ڈھیٹ کا ڈھیٹ
اب خاموشی سے سو جائیں
اس پر کنفرٹر ڈال کر لیٹنے لگتی ہے جب وہ اسے اپنے سینے پر گرا کر کمفرٹر میں گھساتا انکھیں موند لیتا ہے
وہ اسکے چہرے کی طرف دیکھ مسکرا کر اسکا گال سہلاتی ئے
آپ کا ہی ہوں سو جائیں مسز
ضر انکھیں کھول کر اسے دیکھ کر مسکراتا ہوا کہتا ہے
وہ فورا انکیں میچ لیتئ ہے
روح کی اس معصوم ہرکت پر وہ دونوں انکھوں پر بوسہ دے دیتا ئے
