Tera Junoon by Laiba Khan NovelR50433 Tera Junoon Episode 21
Rate this Novel
Tera Junoon Episode 21
Tera Junoon by Laiba Khan
کچھ وقت باہر بیٹھیں مائن
نشاء نماز پرھ کر کھری ہوتی جائے نماز رکھ کر اسکے سامنے اتی ہے
جب وہ بالوں میں ہاتھ ہھیرتا کشمکش میں مبتلا ہوا پوچھتا ئے
شائد وہ کچھ کہنا چاہتا تھا
وہ سر ہاں میں ہلا کر اسکے ساتھ نکل جاتی ہے
وہ لیوینگ ایریا کروس کرتے ہوئے باہر گارڈن میں نکل اتے ہیں
باہر چاند اپنی روشنی بکھیرے ہوئے تھا
ساتھ میں جگ مگ کرتے ستارے
خاموش سی رات میں وہ منظر دل کے بہت قریب معلوم ہو رہا تھا
وہ اگے برھ کر ٹھنڈی گھاس پر بیٹھ جاتا ہے
اس نے باہر اتے ہوئے شال لپیٹ لی تھی
خان میں اس پر نہی بیٹھ سکتی
وہ گھاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئی بولتی ئے
یہاں آؤ
وہ شال ہٹا کر اسے اپنے گود میں بٹھا لیتا ہے
وہ ہچکچاتی ہے مگر وہ شال میں اسے بھی قید کر لیتا ہے
اوپر دیکھو
شہرام اپنی ٹھوری نشاء کے سر ہر ٹکا کر بولتا ہے
نشاء کا سر اسکے کندھے ہر تھا
کتنا سکون ہے نہ
وہ اسمان پر نظریں جمائے بولتی ہے
مائن سکون کیا ہوتا ہے
وہ چونکتی ہے اس کے یوں اچانک سوال پر مگر جلد سنبھل کر اسے دیکھتی ہے
سکون اپ کے اندر موجود ہوتا ہے شاید کوئی احساس ہوتا ہے سب سے قیمتی احساس
وہ کچھ لمحہ رک کر جواب دیتی ہے
یہ احساس کہاں سے اتا ہے
ابھی وہ خود کو صحیح سے اسکے پہلے سوال سے نہی سنبھال پائی تھی
چاند کی روشنی میں شہرام کا چہرہ نہایت حسین لگ رہا تھا
خان اپ یہ سوال کیوں پوچھ رہے ہو
وہ کوئی بچی لگ رہی تھی یوں اسکی گود میں بیٹھے اور اس ہر اسکا یوں حصار میں لینا
وہ بہت مضبوط حصار معلوم ہو رہا تھا
تم جانتی ہو جب میں نے تمھیں دیکھا تھا پہلی بار
وہ سوالیہ نظروں سے اسکا چہرہ تکتی ہے
جب فٹ بال میچ کے لئے ایا تھا
وہ ہاں میں سر ہلاتی ہے
تم میں مجھے اپنا عکس نظر ایا تھا حور وہ عکس جس کو میں ختم کرنا چاہتا تھا مگر میں تنہا نہی کر سکتا تھا اس لئے تم سے خدا نے ملوا دیا
وہ اپنے ہاتھ میں اسکا ہاتھ قید کر لیتا ہے
اسکا ہاتھ کی گرمائش اسے اپنے ہاتھ میں اترتی محسوس ہوتی ئے
خان ہر کسی کا پاسٹ ہوتا ہے اچھا یا برا مگر ہوتا ہے اور ماضی اپ پر گہرا اثر چھورتا ہے مگر انسان کتنا مضبوط ئے یہ اسے خود کو سنبھالنے سے پتا چلتا ہے
اپ کو پتا ہے اج مجھے اپ کو دیکھ کر کیا لگا کہ اپ کو اپنا اپ سنبھلنا بہت اچھا اتا ہے اپنے ماضی کو اپنے حال میں لا کر حال کو ماضی میں ہوئے واقعہ میں نہی دھکیلتے اپ بہت مضبوط ہوخان
وہ خان کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کر کے اسکی انکھوں میں دیکھتی ہوئی ایک ائک لفظ بول رہے تھی
ان کے چہرے نہایت قریب تھے
ٹھنڈی ہوا انہیں چھو کر گزر رہی تھی
شہرام کے بال اسکی پیشانی پر بکھر گئے گھے
میں تنہا تھا مگر اللہ کی وجہ سے میں مضبوط ہوں وہ ہمیشہ ساتھ جو ہے اس بات کی وجہ سے خان زندہ ہے مائ
خان کیا میں وہ درد جان سکتی ہوں اگر میں جان گئی تو اس سے اپ کو دور کر دوں گی ائی نو ماضی کو دور کرنا چاہئے مگر اس سے ملے سبق کو بھولنا نہی چاہئے
وہ کچھ لمحہ اس کی انکھوں میں دیکھتا رہتا ہے پھر انکھیں بند کرتا جیسے محسوس جرتے وہ بولنا شروع کرتا ہے
میرے ڈیڈ کی ڈیتھ میں جب چودہ سال کا تھا تب ہو گئی تھی
پھر میری ماما کو انکی ساری جائیداد مل گئی
میرے ڈید اکلوتے تھے دادا دادی کے
ان کے شادی جے بعد ہی دادا اور دادی سال کے گیپ سے فوت ہو گئے تھے
بابا کی ڈیتھ کے بعد میں اکیلا ہو گیا تھا بہت تنہا
مجھے لگا ماما ابھی مجھ پر دھیان نہی دیتی کیونکہ انہوں نے بھی اپنی زندگی کے ہمسفر کو کھویا ہے
مگر وقت کے ساتھ ساتھ مجھ پر انکشاف ہوا جے وہ تو بابا کی جائیداد کی وجہ سے ان کے ساتھ تھیں
وہ صرف خود پر دیہان دیتی تھیں
وہ تو بابا کو بلکل بھول گئی تھیں
انہیں ان کے جانے سے کوئی فرق نہی پڑا تھا
پھر جب میں سولہ کا ہوا تو
ایک دن ماما باہر ملک چلی گئیں مجھے چھور کر کسی کے ساتھ
میں یہاں بلکل ان ویرانیوان میں اکیلا رہ گیا تب مجھے ضرار ملا
میں اسے سب شیئر کرتا تھا
بابا کے سارے ملازم بہت وفادار تھے ان سب نے مل کر میرا خیال رکھا
ضرارنے مجھے سمبھالا تھا
پھر میں بائیس کا ہوا تھا لنڈن چلا گیا
اور اب سامنے ہوں اپنی مائن کے میں واپس ایا ہوں تو اب سوچتا ہوں کہ شاید خدا نے تم سے ملانا تھا میری ہمسفر سے
اخر میں وہ سر جھکا کر اسے محبت سے دیکھ کر بولتا ہے
اپ کو نفرت نہی ہوئی عورت سے
وہ حیران تھی اور حیران وہ اپنے سوال پر ہوئی تھی
وہ مبہم سا مسکرا دیتا ہے
کیوں ہوتی عورت اگر وفادار نہ ہو نہ اس دنیا میں کوئی رشتہ ہی نہ بچے
وہ فخر سے اسے دیکھتی ہے
میں اپنی اولاد کے ساتھ نہ رہا تو یقین ہے تم میری جان ہمیشہ ان کے ساتھ رہو گی
وہ اسکے حجاب سے نکلتی بالوں کی لٹ سے کھیلتا ہوا بولتا ہے
وہ سر پیچھے کر کے ہنس دیتی ہے
اپ کو کیسے پتا میں وفادار ہوں
وہ یہ سوال کرتے ہوئے اندر اپنے نمی اتارتی ہے
وہ لرکی جس کے پاس نہ ماں تھی نہ باپ جب کے وہ تھا پھر بھی نہی تھا
وہ نہی بھٹکی
جو جو تم نے فیس کیا تم نے خود کو اپنی لمٹ میں رکھا دوسروں کی خوشیوں میں خود برا بن گئی
وہ اس بات پر چونک کر اسے گھورتی ہے
وہ مسکرا کر ایک انکھ دباتا ئے
تم عورت ہو میری جان تم کو بنایا ہی وفاداری سے گیا ہے
وہ اسکا ہاتھ نکال کر ہونٹوں سے چھو لیتا ہے
ان دونوں کے ہاتھ گرم تھے
خان یو آر دا بیسٹ میں لکی ہوں اپ مل گئے ورنہ میں ختم ہو رہی تھی خان
وہ اسکی گردن میں منہ دیے رو دیتی ہے
تم یہ کام سر انجام نہ دو اس لئے خاموش رہا ہوں خان کی جان
وہ اسکی پیٹ سہلاتا لہجہ میں سختی لاتا ہے
خان میں نے دعا کی تھی اور مجھے اپ کا اتھ مل گیا
انکھوں سے برسات اب بھی جاری تھی
تم جانتی ہو تمہارے پیچھے ایا تھا اور وہاں انکشاف ہوا یہ انسو میں زندگی بھر نہی دیکھنا چاہتا اور یہ اداسی میں ہمیشہ کے لئے دور پھینک دینا چاہتا ہوں
وہ اسکے ماتھے پر بوسہ دے کر خود میں مضبوطی سے بھینج لیتا ہے
خان میرا بابا سے ملنے کا دل ہے میں جانتی ہوں انہیں انتظار نہی ہوگا خان مگر ایک بار
وہ امید سے اسے دیکھ رہی تھی
کیونکہ اسکی دادو نے سختی سے وہاں جانے سے منع کیا تھا
میں خود لے کر جاؤنگا اپنی مائن کو
وہ اسے بازو میں کھرا ہو کر بھرتا اندر برھ جاتا ہے
کیونکہ باہر اب سردی برھ رہی تھی
اور وہ ساری زندگی نہی تھک سکتا تھا اسے سننے میں اسے باتیں کرنے سے
———
ضر مجھے اس قدر ضروری فیل کیوں کرواتے ہو
سچ میں یہ سب بہت حسین ہے مگر اپ کی محبت اپ کے الفاط اپ کا عزت دینا اپ کی عزت روزانہ میرے دل میں برھ جاتی ہے
وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسکے سامنے اجاتی ہے
ان دونون کی نظریں ایک دوسرے سے ملی ہوئی تھیں
اب ان دونون کے لفظ نکلنے سے انکاری تھی ان کی نظریں باتیں کر رہی تھی
اظہار کر دو روح
وہ مسکرا دیتی ہے
مجھے ضروت ہے میری آنکھیں نہی پرھ سکتے جیسے ہمشہ پرھتے ہیں
نہی میری چریا اس بار بولنا لازمی ہے
واضح تھا اج اسے رعایت نہی ملنی تھی
میری ساتھ رہوگی نہ ہمیشہ روح
وہ دیوانہ اپنے ازلی جنون میں ایا تھا
ہمیشہ یہ میری خوش نصیبی ہوگی ضرار مرزا
وہ گہرا مسکرا دیتا ہےاپنے پورا نام لینے پر
تبھی ضرار لمحہ میں اسے نیچے گراتا ہے
اس لگ جاتی اگر وہ بروقت سنبھالتا نہ
ض
ابھی وہ بولتی ایک گولی سامنے دیوار میں لگتی ہے
اسکی اواز نہی تھی شاید گن پر سائیلنسر تھا
ٹھیک ہو
وہ نہایت نرمی سے اسکے چہرے ہر ہاتھ پھیر کر پوچھتا خود میں بھینج لیتا ہے
ایک ہاتھ سے اسے قید میں لیے دوسرے ہاتھ سے وہ اپنی گن نکالتا سامنے نشانہ باندھ کر فائر کرتا ہے
روح ڈر کے مارے اس میں اور مضبوطئ سے چھپ جاتی ئے
وہ اپنی گرفت اس پر سخت کر دیتا ہے
وہ اسکے سامنے فائر نہی کرنا چاہتا تھا
مگر سامنے سے لگاتار فائرینگ ہو رہی تھی
جس کا مقابلہ ضرار کے گارڈز بھی کر رہے تھے
سر اپ میم کو اندر لے جائیں ہم انہیں دیکھتی ہئیں
تبھی احمد اپنی گن سے سامنے کا نشانہ لیتا ہوا ان کے پاس پہنچ کر کہتا ہے
ضرار لمحہ میں روح کو اندر لے جاتا ہے
روح یہیں رہنا اوکے
ضرار اس بیسمینٹ میں لایا تھا
مگر ضر وہ ک کون ہیں م میں اکی لی۔ ن نئی ر رہونگی
وہ اسکا کوٹ مضبوطی سے پکر لیتی ئے
روح دیکھو یہاں تم سیف ہو اوکے میں ابھی آؤنگا
سر
تبھی اد اکر سر جھکا کر کھرا ہو جاتا ہے
مطلب وہ ان کا کام تمام کر چکے تھے
چلو روح
ضرار سنجیدگی سے اسکا ہاتھ تھام کر سیدھا کمرے میں لاتا ہے
اس کے چہرے کے تاثرات نہایت سرد تھے
جاؤ چینج کرو روح
ضرار اسکی جیولری نکالتا ہوا بولتا ہے
وہ خاموشی سے واش روم میں چلی جاتی ئے
———-
وہ ٹراؤزر اور شرٹ پہنے باہر نکلتی ئے
ضرار نے اب تک چینج نہی کیا تھا
یہاں آؤ
وہ بیڈ کے پاس کھرا ہوتا کنفرٹر اوپر کر کے اسے لیٹنے کا کہتا ہے
وہ خاموشی سے بیٹھ جاتی ہے
لیٹ جاؤ روح
ضرار کمفرٹر اس پر ڈال کر کندھوں پہ زور دیتا اسے تکیہ ہر لٹا دیتا ہے
مگر ضر
وہ کہنا چاہتی تھی اسے نیند نہی ائی
مگر اسکے سرد و سپاٹ چہرے کی وجہ سے خاموشی سے انکھیں بند کر لیتی ہے
ضرار جھک کر اسکی پیشانی شدت سے چوم لیتا ہے
وہ کچھ لمحہ تک اسکے بالوان میں انگلیاں چلاتا رہتا ئے
جب اسے لگتا ہے وہ سو چکی ہے تو اٹھ کر باہر نکل جاتا ہے
———————
احمد
ضرار بازو کہنیوں تک فولڈ کرتا ہوا اسے پکارتا ئے
سر انہیں دوسری سائیڈ کے روم میں بند کیا ئے
اسکے جواب پر وہ اہنی گن نکال کر وہیں بھر جاتا ہے
———-
وہ ایک کمرے کا دروازہ کھول کر جیسے ہی اندر داخل ہوتا ہے
سامنے ہی دو ادمی نہایت بری حالت میں زمین پر پڑے تھے
ضرار سامنے چیئر پر جا کر بیٹھ جاتا ہے
ضرار سر ہمیں معاف کر دو
وہ دونوں زخموں سے چوڑ ہوتے ہوئے بھی اس کےپیر پکڑ کیتے ہیں
——-
روح کو نیند نہی اتی
وہ اسکے جاتے ہی اسکے ہیچھے ا جاتی ہے
ضرار کو احمد کے ساتھ جاتا دیکھتے ہوئےوہ بھی ان کے ہیچھے اتی اس کمرہ تک پہنچ کر اندر جھانکتی ہے
———————
اپنی موت خود تجویر کرو
احمد
وہ پہلے انکی اکھوں میں دیکھ نہایت کولڈ لہجہ میں کہ کر اھمد کو اواز دیتا ہے
جو کچھ لمحوں میں ہاتھ میں کوئی بوٹل لے کر اتا ہے
یہ یا یہ
اس میں جو ہے پی لو اور مر جاؤ یا یہ تو ہے
وہ بوٹل کی طرف اشارہ کر کے کہتا پھر اہنی گن دکھاتا ہے
ن نہی ض ض
وہ کانپتے ہوئے بول بھی نہی پاتے
تو ٹھیک ہے
ضرار گن لوڈ کر کے ایک کی کبپٹی پر رکھتا ہے
مگر یئ تو بہت اسان موت ہے نہ
وہ گن اسکی شہ تگ تک لاتا ہوا ہوا کہتا ہے
انہیں الٹا لٹکا کر اتنا ٹارچر کرو کہ مرہم بھی دو اور سزا بھی
ضرار کھرا ہو کر احمد سے کہ کر اگے دو قدم برھا کر روح کا ہاتھ کھینچ کر اسے اپنے سینے سے لگا لیتا ہے
میری بیوی کو جاسوسی بھی اتی ہے
ضرار اسکی گال پر انگلی ہھیرتا ہوا ہوچھتا ہے
لے جاؤ اھمد
ضرار چہر موڑ کر اسے کہتا ہے
وہ لمحوں میں انہیں لے جاتا ہے
ضر چھ چھوریں
وہ ڈر سے کانپتے ہوئے اپنا ہاتھ چھروانے میں لگ جاتی ہے
اسے درد ہوتا ہے اسکے یوں ڈرنے سے
چلو روح
وہ کھینچتے ہوئے اسے کمرے میں لا کر بند کر دیتا ہے
————————
روح ایک بار میری جان میری بات سن لو پلیز
ضرار کا ہر قدم با مشکل اٹھ رہا تھا
مگر وہ اسکے پیچھے بھاگ رہا تھا
جو پئچھے کی طرف قدم لے رئی تھی
ہاں وہ دور جا رہی تھی اپنے ضر سے دور
روح ایک بار
وہ رک جاتا ہے
کیونکہ وہ رک گئی تھی
می میں ک کیا س سنوں ضرار مرزا آ آپ د دھوکہ باز ہیں اپ کا اصل روپ اس قدر در دردناک ہے میں نہی ج جانتی تھی
اس کے لفظ کسی پھندے کی طرح گلے میں اٹک رہے تھے
مگر وہ بول رہی تھی
اس کا وجود کرچی کرچی ہوا تھا
اُس کے ہاتھ جس کے ہاتھ میں وہ اپنی زندگی نشاور کر سکتی تھی
روح یار
وہ لرکھڑا جاتا ہے
وہ ایک قدم اگے برھنے لگتی ہے مگر رک جاتی ہے
وہ گھٹنوں کے بل زمین پر گرتا ہے
سر اس کے زمین کی طرف جھکا ہوا تھا
تم نے کہا تھا کبھی اپنے ضر سے دور نہی جاؤگی تم نے بھی جھوٹ بولا مگر تم ضرار مرزا سے دور نہی جا سکتی تم روح میری روح سے جڑی ہو میں تمھیں کہیں نہی جانے دونگا کہیں نہی قید کر لونگا اپنے حصار میں تمھیں صرف خود تک محدود رکھے گا یہ دیوانہ
مجھے دھوکہ باز کہ رہی ہو ایک بار پوچھتی اپبے ہر حقیقت قدموں میں لا دیتا یہ جنونی
وہ لمحہ میں اپنا ہر درد ایک جگہ رکھتے اسکو کمر سے جکھڑ کر اپنے بے حد قریب کر لئتا ہے
اس کی سانسوں کی گرم تپش اس کا چہرہ جھلسا رہی تھی
اس کے ہر لفظ میں جنون تھا
مج مجھے
اس کے لفظ بھی دم توڑ جاتے ہیں
میری روح پلیز میں سختی نہی کرنا چاہتا چلو
وہ اسے گھسیٹتا اپنے ساتھ واپس وہاں لے جاتا ہےجہاں انہوں نے اپنی زندگی کے سب سے حسین لمحہ گزارے تھے
اب وہ قیدی بننے جا رہی تھی اس کی معصوم چریا
وہ قید کر گیا تھا اس چریا کو
————————
میری روح تمھیں بھوک لگی ہوگی پلیز کچھ کھا لو
ضرار ہاتھ میں کھانے کی ٹرے پکرے اس کے سامنے بیٹھ کر کھانا سائیڈ پر رکھتا ہے
وہ رخ پھیر لیتی ہے
میری چریا پلیز یوں سزا نہی دو میں بہت اکیلا ہوں روح
اسکی اواز کس قدر کرب میں ڈوبی تھی وہ سامنے بیٹھی چھوٹی سی لڑکی کو اپنا دل کٹتا محسوس ہوتا ہے
وہ پھر بھی خاموش رہتی ہے
لٹل برڈ اپنے ضر کو یہ سزا دیگا تمہاری اواز تو میرے ہر زخم کا مرہم ہے میری جان درد میں دیکھنا چاہتی ہو اپنے ضر کو
وہ کوئی عجیب سا دیوانہ لگ رہا تھا یوں بات کرتے
روح پلیز کھا لو
وہ نوالہ اس کے چہرے کہ قریب کرتا ہے
وہ پھر بھی اپنے رخ نہی بدلتی
روح
اب شدت تھی اس کی پکار میں
وہ پاس پری فروٹ باسکٹ سے چھری اٹھا کر اپنی نبض کاٹ دیتا ہے
ضر ضر ی یہ ک ک کیا
وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ بھی مکمل نہی ادا کر پاتی اس کی کلائی سے خون لمحہ با لمحہ بڑھ رہا تھا
ضر وہ ضر
وہ فرسٹ ایڈ بوکس ڈھونڈ رہی تھی مگر نہی مل رہا تھا
وہ اسے کھینچ کر اپنی گود میں بٹھا لیتا ہے
وہ کس قدر ہر سکوں تھا شاید اس نے اپنی روح کے چہرے پر جو درد دیکھا تھا وہ اسے پر سکوں کر گیا تھا
کھانا کھاؤگی نہ
مگر اسکی نظر تو اپنے ضر کے نکلتے خون کی طرف تھی
وہ کسی ٹرانس کی کیفیت میں ہاں میں سر ہلا دیتی ہے
یہ جنونی شخص خود کو زخمی کر جائیگا روح میرا لٹل برڈ مگر تمھیں بلکل خروش نہی انے دیگا میری چریا میری جان ہو تم
دو موتی ٹوٹ کر اسکے گال بھگو دیتے ہیں
ضرار محبت سے انہیں چن لیتا ہے
ضر د در درد
وہ اسکی کلائی پر اپنا دوبٹہ رکھ دیتی ہے تاکہ خون بہنا بند ہو
ض ضر ڈ ڈاک ٹر
وہ اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کی پیالہ میں لے کر اسکی پیشانی پر بوسہ دیتا پاس ڈرار سے فرسٹ ایڈ بوکس اٹھا کر اسے دیتا ہے
اس نے اپنی نبض پر بس کٹ لگایا تھا
وہ کانپتے ہاتھوں سے اسکی پٹی کر دیتی ہے
دو دوا ئی
وہ پین کلر اس کے ہاتھ میں رکھتی پانی کا گلاس پکراتی ہے
وہ چپ چاپ دوائی لے لیتا ہے
وہ شدید خوف کا شکار تھی اس کے جنون سے
