Tera Junoon by Laiba Khan NovelR50433 Tera Junoon Episode 6
Rate this Novel
Tera Junoon Episode 6
Tera Junoon by Laiba Khan
تم میری بیٹی کو چھور کر کیسے آئے مجھے پتا ہے کیسی ہے میری بیٹی ہمت کیسے ہوئی اس پر یہ گھٹیا الزام لگاتے
روح کی والدہ سچائی جانتے ہی اپنے بیٹے کے سامنے کھرئ تھیں
کیا وہ اپنی بیٹی کے بارے میں جانتی نہیُ تھیں
وہ تو بغیر نقاب کے گھر سے نہیُ نکلتی تھی
کسی غیر لرکے سے بات کرنا پسند نئی کرتی تھی اور اس کا بھائی کیا اس قدر وہ بے یقین ہو گئی تھی
امی میں اس بارے میں کوئی بات نہیُ کرنا چاہتا اندھا نئی ہو دیکھ کر مکھی نگل جاتا ایک رات پوری باہر رہی ہے بات پھیلتی تو کتنی بے عزتی ہوتی وقت پر سب ٹھیک ہو گیا اب بیوی ہے اسکے وہ وہین رہے گی اگر اسے اپ لینے گئیں تو میں یہ گھر چھور کر چلا جا آؤنگا
وہ شدید غصہ میں ان سے کہتا باہر نکل جاتا ہے
وہ پیچھے سر پکر کر بیٹھ جاتی ہیں
کس کا ساتھ دیتی اخر وہ
———-
ضرار جو کام کر رہا تھا
ہلکی ہلکی سسکی کی آواز پر وہ روح کی جانب رخ مور کر دیکھتا ہے
کمفرٹ وہ ویسے ہی منہ تک لیے ہوئے تھی
وہ لیپ ٹوپ رکھ کر اسکے قریب جا کر کھرا ہوتا ہے
مائے لٹل برڈ
وہ نرمی سے اسکی مٹھی سے کمفرٹ چھرا کر اسکے اوپر سے ہٹاتا پکارتا ہے
ڈونٹ ٹچ می
وہ اسکے ہاتھ جھٹک دیتی ہے
وہ جانتا تھا وہ کس ازیت میں ہوگی
روح
اب وہ تھورا سختی سے اسے پکارتا ہے
پلیز لیو می آلون
وہ آنکھ کا کونا صاف کرتی ہے
روح اٹھو بات سنو
وہ اسکے دونوں بازو سے تھامتا بٹھا کر اسکے سامنے بیٹھ جاتا ہے
نہی سننا مجھے کچھ بھی مجھے اکیلاُرہنا ہے اکیلا چھور دو جیسے سب نے چھور دیا ڈونٹ ٹرسٹ میں میں اچھی لرکی نہیُ ہوں
وہ کہیں سے بھی وہ روح نہی لگ رہی تھی جس کو اس نے چہچہاتی چریا کا خطاب دیا تھا
شٹ اپ روح تم کیسی ہو یہ ہم سب جانتے ہیں یہ میں جانتا ہوں
کیا جانتے ہیں اپُ کتنا وقت ہوا ہے مجھے جانتے ہوئے کتنی بار ملے ہیں اپ
وہ اسکی بات کاٹ کر چلا اٹھتی ہے
میں جانتا ہوں میری روح کیسی ہے سو ڈونٹ یو
وہ اب اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے مین تھام کر ایک ایک لفظ اسکی آنکھوں میں دیکھ ٹھر ٹھر کر کہتا ہے
اسکے لفظوں کی سچائی اسکی انکھیں بیان کر رہی تھیں
وائے یو ٹرسٹ می
آنسو بہاتی وہ سر جھکا کر پوچھ رہی تھی
چھورو اس بات کو تم نے کچھ کھایا
وہ اسکی بالوں کی لٹ کان کے پیچھے کرتا نہایت نرم لہجہ میں پوچھتا ہے
وہ نفی میں سر ہلاتی ہے
اوکے آرام سے بیٹھو میں ابھی آتا ہوں
وہ اسکے ہاتھ کی پشت پر تھپکی دیتا باہر نکل جاتا ہے
وہ وقت دیکھ کر کھرئ ہوتی واش روم میں جا کر وضو کرتی باہر اتی ہے
جو بات بھی اس نے کرنی تھی وہ بغیر الفاظ ادا کرنی تھی جو صرف خدا سن سکتا تھا
وہ جائے نماز ڈھونڈ رہی تھی
مگر روم میں کہیں نہیُ تھی
وہ باہر نکل اتی ہے
سامنے ہی کچن مین وہ کھرا کام کر رہا تھا
وہ بات سنیں
وہُ ہچکچاتی اسے پکارتی ہے
ضرار
وہ اسکی طرف مڑ کر جواب دیتا ہے
جی
وہ نا سمجھی سے اسے دیکھتی ہے
کال می ضرار
وہ مسکرا کر جواب دیتا واپس کام کرنے لگتا ہے
وہ نماز کہاں ہے
وہُ ایک قدم اور آگے آکر پوچھتی ہے
وہ اب رخ موڑ کر بھرپور جائزہ اس کا لیتا ہے
گھٹنوں تک اتی شرٹ پاؤں تک ٹراؤزر شال جو گھٹنوں سے اوپر تک آ رہی تھی
شال کو از کے سٹائل میں لیا گیا تھا
وہ انتہا کی کوئی جھوٹ سا بچہ لگ دہی تھی
اس پر گلابی گال اور روئے روئی لال انکھیں لب کاٹتی وہ سامنے والے کے دل پر گہری ضرب لگا چکی تھی
ویٹ
وہ اسے کہ کر روم میں جاتا کچھ لمحوں بعد جائے نماز ہاتھ میں لیے واپس آتا ہے
یہ لو آؤ میری پیچھے
وہ نماز اسے دینے کی بجائے اسکا ہاتھ تھامتا کمرے میں لا کر سٹڈی کا دروازہ کھولتا اسے اندر لاتا ہے
وہ ہونق بنی سٹڈی دیکھ رہی تھی
روم کے جتنی وہ سٹڈی نہایت شاندار تھی
ایک وال پر فل بک شیلف تھا
وہ نماز بچھا کر اسکے سامنے آتا ہے
تم نماز پرھ کر باہر آ جانا اوکے
وہ اسکی گال تھپتھپا کر باہر نکل جاتا ہے
وہ کندھے اچکا کر جائے نماز پر کھرے ہوتی نیت باندھتی ہے
——
نماز پرھ کر وہ سیدھی باہر اتی ئے
وہ روم میں نہیُ تھا
وہ سامنے ہی ڈائننگ پر کھانا لگا چکا تھا
روح اجاؤ
وہ جگ ٹیبل پر رکھتا اسے پکارتا ہے
اسے یاد نہیُ پرتا تھا اس نے آج تک کبھی کسی کے لئے یہ سب کیا ہو
ہاں وہ اپنے کام خود کرنا پسند کرتا تھا
وہ چھوٹے چھوٹے قدمُ لیتی چیئر پر بیٹھ جاتی ہے
وہ بھی سربراہی کرسی پر بیٹھ جاتا ہے
وہ خاموشی سے بیٹھی تھی ہاتھ تک کسی چیز کو نہیُ لگاتی
اس کی انکھیں سوجی ہوئی تھی
یقیناً وہ رو کر آئی تھی
وہ آگے ہو کر اپنی رومال سے اسکی آنکھ کا کونا صاف کرتا رومال واپس رکھ کر اسے کھانا سرو کرتا ہے
اپ کو مجھ پر ٹرسٹ کیوں ہے
وہ چمچ پلیٹ میں چلاتی پوچھتی ہے
وہ دوبارہ وہ سوال کر رہی تھی
روح کھانا کھاؤ ہر جواب کا ایک وقت ہوتا ہے
اینڈ ٹرسٹ می تمہارا سچ سب کے سامنے آئیگا جو غلط ہیں وہ ہاتھ جوڑ کر معافی مانگے گے
اسے کھانے کی طرف متوجہ کر کے وہ خود سے عہد کر رہا تھا
اپ ناراض نہیُ ہو دادو سے
وہ پھر بھی کھانا نہیُ کھاتی
وہ جانتا تھا اس کے زہن میں بہت سے سوال تھے
اور میں ناراض کیوں ہونگا
وہ اسکے ہاتھ سے چمچ لے کر خود اسے کھلا کر سوال کرتا ہے
وہ آرام سے بچے کی طرح اس کے ہاتھ سے کھا لیتی ہے
انہوں نے آپکے ساتھ زبردستی کی نہ شادی کے لئے
وہ دوسرا نوالہ سائیڈ ہر کرتی ہے مگر اسکی گھوری ہر شریف بچہ کی طرح کھا لیتی ہے
تمہھیں لگتا ہے ضرار مرزا کے ساتھ کوئی بھی زبردستی کر سکتا
اس کے اس جواب نےہر سوال کا جواب دے دیا تھا
اپ کی کوئی وہ نہیُ تھی وہ اپ سے ناراض نہیُ ہوگی
اسکی بات پر وہ ہونٹ دابتوں تلے دبا کر مسکراہٹ روکتا ہے
وہ کون وہ اب اسے چھیڑ رہا تھا
اس کا مائینڈ بھی تو ہر اس ازیت سے ہٹانا تھا
وہہہ وہ اب وہ کو کھینچتی کر دانتوں میں لب دبا کر ایک چور نظر اسے دیکھتی ہے
جو اسے ہی دیکھ رہا تھا
مائے برڈ یہ وہ کون ہے
وہ پانی پیتا پوچھتا ہے
ہنسی بھی تو چھپانی تھی
اتنے بری ہیں پتا ہی نہیُ ہے
وہ اب منہ بنا کر کہتی ہے
مجھے کوڈ ورڈنگ سمجھ نہیُ اتی
وہ دونون ہاتھ ایک ساتھ جوڑ کر ٹیبل پہ رکھتا اسے کہتا ہے
ہنہہ وہ ہنکار بھر کر پانی پیتی اٹھ جاتیہے
وہ اسے کھینچ کر واپس کرسی پر بٹھا دیتا ہے
میری لائف مین کوئی نہیُ ہے نہ تھا کوئی مطلب کوئی بھی
وہ اسکے دونوں ہاتھ تھامُ کر اسکی آنکھوں مین دیکھ کر بہت پیار سے کہ رہا تھا
میں جاؤں
کہاں
وہ اسکے جانے والے لفظ پر گھورتا ہے
سونے
وہ اسکی گھوری ہر سیدھا جواب دیتی ہے
ہممم جاؤ
وہ ہاتھ چھور کر کھرا ہو جاتا ہے
روح
وہ کمرے میں جا رہی تھی ابھی جب وہ اسے پکارتا ہے
جی
وہ رخ موڑ کر اسے جواب دیتی ہے
کچھ نہیُ جاؤ
وہ مسکرا کر کہتا ہے
سر میں اسکے بھی ٹیس اٹھ رہی تھی
اپ چائے پیو گے
وہ اندر جانے کی بجائے اسکے پیچھے اتی پوچھتی ہے
وہ بغیر اسکے کہے سمجھ گئی تھی
وہ حیران ہوتا ہے مگر جلد خود کو کمپوز کر اسے دیکھتا ہے
نہی جا کر ریسٹ کرو وہ بامشکل چل پا رہی تھی وہ زیادہ دیر اسے کھرے رہنے نہیُ دینا چاہتا تھا
مگر مجھے بھی پینی ہے اور اپ کو بھی
پلیز
وہ اسکے دوبارہ کہنے پر چیزیں خود نکال کر شیلف پر رکھ کر اسے بھی بازؤں میں اٹھا کر شیلف پر بٹھا دیتا ہے
جس طرح بناتی ہو مجھے بتاؤ مگر اٹھنا نئی اوکے
اسکے سامنے کھرا ہو کر
وہ کہتا برتن میں پانی ڈال کر چولہ پر رکھتا ہے
پانی کم کریں
وہ اتنا سارہ پانی دیکھ کر کہتی ہے
وہ سر ہلا کر پانی کم کرتا اسے دیکھتا ہے
جہاں وہ روکتی ہے وہ رک کر چولہے پر دوبارہ برتن رکھ دیتا ہے
اب اس میں دودھ ڈالیں
وہ اپنے پاس سے دودھ اٹھا کر اسے دیتی ہے
وہ دودھ لے کر ڈالتا واپس فریج میں رکھ دیتا ہے
اب اس مین ابال آنے تک وہ رک کر پھر اسے میں پتی اور الائچی ڈال کر اسکے سامنے آکر اسکے اوپر والے کیبینٹ سے مگز نکالتا اس کے پاس رکھتا ہے
پاؤڈر ملک
وہ اس پاس دیکھ کر پوچھتی ہے
وہ ایک سائیڈ پر بنے کیبینٹ سے نکال کر اسے دیتا ہے
وہ اپنے پاس سے سپون اٹھاتی اسے چار چمچ ڈالنے کا کہتی ہے
چائے اگلے کچھ منٹ میں تیار تھی
وہ مگز میں چائے چھان کر اسے شیلف سے نرمی سے اتارتا ہے
ایک ہاتھ میں ٹری پکرے وہ اسکو دوسرے بازو سے سہارا دیتا روم میں لاتا ہے
————
روح چائے پیو اور سو جاؤ
ضرار کاؤچ پر بیٹھ کر چائے کا گھونٹ لے کر کہتا ہے
گرمُ ہے
وہ چائے کو گھورتی اسے جواب دیتی ہے
نہیُ ہے روح
وہ خود بھی تو پی رہا تھا اتنی نئی تھی
وہ اسکے کہنے پر ایک چھوٹا سا گھونٹ لے کر سیی کر کے اسے غصہ سے گھورتی ہے
اتنی گرم تھی
وہ اپنے ہونٹ پر انگلی رکھ کر کہتی ہے
وہ مسکرا کر رہ جاتا ہے
—————-
فجر کے بعد روح دوبارہ سو گئی تھی
دوپہر کے بارہ بچ گئے تھے
ضرار نے جاتے وقت ایک چٹ اسکے لئے سائیڈ پر رکھ دی تھی
وہ اب تک سو رہی تھی
مگر دروازہ لگاتار بجنے پر وہ انکھیں مسلتی اٹھ بیٹھتی ہے
بال بکھرے سے تھے شال سائیڈ پر تھی ضرار وہیں کاؤچ پر سویا تھا
اور وہ خود بیڈُ پر اس نے ایک بار رات کو کہا تھا کہ وہ کاؤچ پر سو جائیگی مگر اسکی گھوری پر وہ کمفرٹ مین گھس گئی تھی
دروازہ دوبارہ بجتا ہے
وہ شال درست کر جے سر پہ لیتی دروازہ کھولتی کے
سامنے ہی سائرہ اور باقی کزنز تھیں
کیسی ہے ہماری گریا
دادو بھی ساتھ تھیں وہ اندر داخل ہوتے پوچھتی ہیں
مین ٹھیک ہوں
سائرہ اور باقیوں کی نظروں سے کنفیوز ہوتی وہ شال سے چھپنے کی کوشش کرتی ہے
وہ معنی خیز سے اسے دیکھ رہے تھے
کیا ہے
وہ منہ پھلا کر انہیں کہتی ہے
ارے چھورو ان جھلیوں کو میری جان میری پاس آؤ
دادو اسے اپنے پاس بٹھاتی پیار کرتی ہیں
ضرار ٹھیک تھا نہ میری جان
وہ اسکے پیار سے بال سنوارتے پوچھتی ہیں
انکے سوال پر اسکی کزنز دبی دبی ہنستی ہیں
دادو
وہ منہ بسوار کر انکی طرف اشارہ کرتی ہے
وہ ان سب کو گھورتی ہیں جس پر وہ سیدھی کھرئ ہو جاتی ہیں
دادو مجھے نہیُ پتا میں جاؤں
وہ لاڈ کرتی ان سے پوچھتی ہے
ہان چلو
دادو بھی کھرے ہوتی باہر نکل جاتی ہیں
انہیں کچھ کام تھے
وہ تو اسے دیکھنے آئی تھیں
اہم اہم
اب وہ انکے ہاتھ لگ چکی تھی
تم ٹھرکیوںُحد میں رہو
وہ انہی سناتی واش رومُ میں کھٹاک سے دروازہ بند کرتی بند ہو جاتی ہے
پیچھے وہ قہقہ لگا کر ہنس کر وہیں بیٹھ جاتی ہیں
وہ پانچ منٹ بعد نکلتی ہے
تبھی دوبارہ دروازہ نوک ہوتا ہے
اپ کون
وہ کسی انجان کو سامنے دیکھ چہرے چھپا کر پوچھتی ہے
اس نے سر جھکایا ہو اتھا
بھابھی یہ ضرار سر نے بھیجا ہے وہ ادب سے سارے بیگز پاس صوفہ پر رکھتا کہ کر چلا جاتا ہے
تبھی رنگ ٹون ہوتی ہے
وہ یہاں وہاں دیکھتی ہے رنگ ٹون بیگز میں سے کسی ایک سے آرہی تھی
اس کی کزنز بھی اسکی پیچھے آجاتی ہیں
ایک بھگ میں فون تھا نیو
وہ اسے کھول کر فون رسیو کرتی ہچکچا کر کان سے لگاتی ہے
روح
گجمبیر آواز میں دوسری طرف سے اسکا نام پکارا گیا تھا
ج جی
وہ نا چاہتے بھی لرکھرا جاتی ہے
تمہاری ضرورت کی کچھ چیزیں بھیج دیں ہین باقی میں تمھین ساتھ کے جا کر لے دونگا
اوکے اور اس فون مین سب کچھ ہے تمہارا ہر نمبر ہر چیز اوکے
اسے یاد تھا اسکا فون وہیں جنگل میں رہ گیا تھا
وہ خراب ہو گیا تھا
اسنے پھر کیسے سب نکلوا لیا تھا
تھینکیو مگر
ابھی وہ کہتی وہ اسے ٹوک دیتا ہے
ڈونٹ یو روح مجھے کوئی شکریہ نہیُ چاہیے بس نظروں کے سامنے چاہیے ہو اور اپنی دسترس میں
وہ کہ کر فون بند کر دیتا ہے
عجیب سے شدت تھی اسکے لفظوں مین
اہم اہم واہ بھی ضرار بھائی برے دومینٹک نکلے
اسکی کزن سکے کندھے سے کندھا ٹچ کرتی چھیرتی ہے
نکلو تم سب بدتامیزوں
وہ منہ بسور کر چیزیں لیتی روم میں اتی اونچی آواز میں کہ کر دروازہ بند کر دیتی ہے
اندر تک اسے انکے قہقہ ہی آواز سنائی دیتی ہے
—————-
لانگ پنک فراق کے ساتھ بلیک ٹراؤزر ساتھ بلیک ہی حجاب اور برا سا بلیک دوپٹہ
کیے وہ نیچے اتی ہے
پنک کلر میں وہ کوئی ڈول لگ رہی تھی
سینڈل بھی اس ڈریس کے ساتھ موجود تھی
باقی بھی بہت سارے سوٹ تھے شارٹ فراق لانگ فراق فل سوٹس سب کچھ تھا
شوز بھی کافی سارے تھے اور ساتھ کچھ جیولری بھی موجود تھی
نیچے ہی اسکی امی دادو کے ساتھ بیٹھی تھیں
امی وہ وہیں سے چیخ کر پکارتی ان جے گلے لگ جاتی ہے
میری بچہ وہ اسے خود مجں بھنجُ کر پیار کرتی ہیں
مین اپنی بیٹی کو لینے آئی ہوں
———
بلیک سوٹ میں ملبوس وہ اپنی وجاہت لیے میٹینگ رومُ میں موجود تھا
سامنے ہی بہت سے لوگ بیٹھے تھے اور پاس ہی اسکا پی اے کھرا تھا
تبھی وہ ایک مخصوص اشارہ کرتا ہے
یقیناً کوئی ضروری بات تھی
ورنہ سب جانتے تھے وہ اپنے کام کے سلسلے میں کس قدر زمہ دار تھا
اسکی بات سنتے ہی اسکی رگیں تن جاتی ہیں
میٹینگ سنبھالو
وہ کہ کر باہر نکل جاتا ہے
بھیجنے جبرے وہ کیز فون اور باقی چیزیں لیتا اگلے ہی لمحہ وہ باہر نکل جاتا ہے
بغیر ڈرائیور کے وہ خود ڈرئیوینگ سیٹ پر بیٹھ کر فل سپیڈ کار سڑک پر ڈال دیتا ہے
—————
میں نئی جانتی آپ نے یہ فیصلہ کیسے کر لیا اکیلے اسی لیے دور رکھا تھا اپنی اولاد کو حد ہے مجھے نئی بلا سکتیں تھیں اپ میری بیٹی کو نا جانے کس سے باند دیا ہے رہائی دلوئیں اسے بھیج دیجئے گا کاغزات جا رہی ہون میں اپنی بیٹی کو لے کر
روح نے کتنی بار اپنی والدہ کو روکنے کی کوشش کی تھی مگر وہ بولتی ہی گئیں تھیں
تبھی کوئی دھار سے دروازہ کھول اندر داخل ہوتا ئےُ
اپ کون ہوتی ہیں ہمارا فیصلہ کرنے والی
وہ روح کا ہاتھ تھام کر اپنی پیچھے کھرا کرتا پوچھتا ہے
سختی سے اسکا بازو پکرے وہ نہایت طیش میںچلایا تھا
اس کی دھار پر وہ سب کانپ جاتے ہیں
دادو جان گئی تھیں اس کی دیوانگی اس کی انکھوں سے
تم ہو اسکے شوہر کون ہے یہ
وہ اسے پہچان کر پوچھتی ہیں
دادو اسکے بارے میں بتا دیتی ہیں
دیکھو میں نہیُ چاہتی کوئی ہنگامہ مجھے کچھ پتا ہوتا تو کبھی یہ نہ ہونے دیتی خیر جو ہوا آرام سے میری بیٹی کو چھور دو
وہ اپنی بیٹی کا ہاتھ تھامنے کے لئے آگے برھتی ہے وہ اسے اور دور کر دیتا ہے
میری بیوی سے دور رہیں اپ اسکی ماں ہیں اس لیے میں خاموش ہوں نکاح ہوا ہے مزاق نہیُ یہ یہیں رہے گی نہ کہ وہاں اپ کے بیٹے جیسے شخص کے ساتھ
اسکی پکر روح کے ہاتھ پر اور سخت ہوئی تھی
پہلی ہی اسکی پاؤں میں ٹیس اٹھ رہی تھی
اب ہاتھ اس قدر سختی سے پکرا ہوا تھا
وہ اسکی بات پر کیا جواب دیتی
میں اپنی بیوی کو کہیں جانے نئی دونگا بہتر ہوگا اپ آئیں اسے ملیں مگر مجھ سے دور نہیُ کر سکتیں اپ
وہ کہ کر اسکی طرف رخ کرتا اسکو اپنے ساتھ لیے اوپر کی طرف برھ جاتا ہے
میرا بیٹا دیوانہ ہے اسکا تم سے زیادہ خیال رکھے گا یقین کرو رہنے دو انہیں ساتھ
دادو اس کی والدہ کو نرمی سے بٹھا کر سمجھاتی ہیں
