718.6K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Junoon Episode 11

Tera Junoon by Laiba Khan

آج وہ لوگ مری کے لئے نکل گئے تھے

وہ سب لوگ بہت اچھا ماحول بنا کر بیٹھے تھے

بہت سی گیمز وہ لوگ کھیل چکے تھے

یار سونگز لگاؤ

یہ سائرہ کی آواز تھی

ضرار آج بھی لیپ ٹوپ پر کام کر رہا تھا

بس آج پاس ہی روح اس کے کندھے پر سر رکھے سو رہی تھی

کچھ کچھ لمحوں بعد وہ اس پر ایک نظر ڈال کر مسکرا دیتا تھا

ہممم کونسا ہو

صارم فون اٹھا کر پوچھتا ہے

کونسا ٹرینڈ پہ ہے

وہ پر سوچ نظروں سے نشاء کو دیکھتی ئے

جو آج خاموش سی اور بجھی بجھی تھی

نشاءءءءءء

سائرہ دھپ سے اسکے پاس سیٹ پر گرتی اسکے کان کے پاس چلاتی ہے

وہ ہر برا کر دل پہ ہاتھ رکھتی ہے

پاگل ڈرا دیا مجھے

ہاہاہہاہا تو کہاں مری پری ہو

وہ بھی مزے سے کہتی ہے

کیا ہے کیوں تنگ کیا

وہ اکتائی سے لہجہ میں پوچھتی ہے

یار کوئی سونگ تو بتاؤ ہم بور ہو رہے

وہ فون اسے دیتی ہے

وہ جانتی تھی اس نے ایسے نہیُ ٹلنا اس لئے فون لے کر کوئی سونگ لگا کر واپس کر دیتی ئے

ہائے کیا سونگ چنا ہے ہمیں کوئی رونا نہیُ آرہا

وہ سیڈ سونگ دیکھ کر کہتی ہے

تو خود کر لو مجھے نہیُ پتا

وہ کہ کر انکھیں بند کر لیتی ہے

تاکہ وہ اٹھ کر چلی جائے

وہ جانتی تھی وہ اداس ہے

مگر وہ بتائے گئ نہیُ وہ تو اسے فریش کرنا چاہتی تھی اس لئے اس کے پاس آئی تھی مگر اس کا موڈ سخت خراب دیکھ وہ اٹھ جاتی ہے

نشاء تبھی انکھیں کھول دیتی ہے کسی کی نظروں کی تپش خود پر محسوس کر کے

مگر کوئی بھی تو اسے نہیُ دیکھ رہا تھا

وہ کندھے اچکا کر دوبارہ انکھیں بند کر لیتی ہے

—————-

روح کسی بلی کی طرح کسمسا کر انکھیں کھولتی ہے

ضر ہم نی پہنچے

ویسے ہی اسے لگی وہ سوال کرتی ہے انکھوں میں اب بھی نیند کی خماری تھی

نہیُ میرا بچہ

وہ سر پہ بوسہ دے کر بہت پیار سے جواب دیتا دوبارہ کام کرنے لگتا ہے

ضر مجھے چیئر لفٹ پر بٹھآئینگے نہ

وہ لیپ ٹوپ کو ایک انگلی سے بند کرنے کی کوشش کرتی ہے مگر وہ دوبارہ کھول دیتا ہے

اسے بلکل بھی نہیُ پسند تھا ضرار جب اسے بات کرے تو کسی اور کو دیکھے چاہے وہ کوئی بے جان چیز ہی کیوں نہ ہو

وہ اس جنونی شخص کا جنون بننے کے ساتھ خود بھی اسکے جنون کا رنگ خود پر چرھا رہی تھی

آف کورس مائے لائف

دوبارہ ویسا ہی لہجہ تھا

اور مجھے برف کے ساتھ کھیلنے دیں گی نہ

دوبارہ وہ لیپ ٹوپ کو بند کرنے کی کوشش کرتی ہے مگر وہ پھر مسکرا کے کھول دیتا ہے

وہ اسکے شرارتوں سے ہی تو سکون میں رہتا تھا

وہ شرارتیں کرتی اسے ہمیشہ اپنے دل کے بہت قریب لگتی تھی

ہر گز نہیُ روح اتنی چھوٹی ہو بیمار پر جاؤگی

اس کے لہجہ میں فکر تھی

ضرار اسے دیکھ کر جواب دیتا ہے

ہو میں کوئی چھوٹی بچی نہیُ اچھا چھوڑیں

ضر ہم کہاں رہنے والے ہیں ہوٹل میں

اب وہ پورے حق سے لیپ ٹوپ بند کر دیتی ہے

وہ بھی مسکرا کر اسے بیگ میں رکھ دیتا ہے

جانتا تھا وہ چاہتی تھی وہ پورا اس کی طرف متوجہ ہو

دیٹس آ سرپرائز فور مائے برڈ

اسکے ہاتھ کی انگلیوں میں انگلیاں پھنسا کر جواب دیتا سیٹ پر سر ٹکا دیتا ہے

ضر

وہ دوبارہ اسے پکارتی ہے

وہ جو انکھیں موندے لیٹا تھا انکھیں کھول کر اسکے بولنے کا انتظار کرتا ہے

اپ مجھ سے تنگ نہیُ ہوتے

وہ کب سے اسے تنگ کر رہی تھی

عجیب تھا وہ اکتانے پر نہیُ آ رہا تھا

کیا

وہ جو آرام سے اسکی مزے کی باتیں سن رہا تھا

اس عجیب سے سوال پر حیران ہوتا ہے

روح یہ جنونی کبھی مطلب کبھی بھی تم سے نہیُ اکتا سکتا اسے اپنے وجود سے بیڑ ہو سکتا ہے تم سے نہیُ یہ وجود ادھورا ہے روح کے بغیر اور اپنے اس قدر ضروری حصہ سے کون اکتا سکتا ہے تنگ آ سکتا ہے یہ سوال بھی میرے اس ننھے سے زہن میں کیون آیا

اس قدر وہ جنوی ہو جائےگا اس نے سوچا بھی نہیُ تھا

مگر اس کا جواب اسے روح تک سرشار کر گیا تھا

ایسے ہی میں کب سے تنگ کرنے کی کوشش کر رہی تھی نہ

وہ بچوں کی طرح اپنی چھوٹی سی ٹھوری ہتھیلی پر رکھ کر انکھیں پٹپٹآ کر بولتی اسکے دل میں سیدھا اتر رہی تھی

اوہ میرا بچہ تنگ کر رہا تھا مگر ضر تنگ نہیُ ہوا میری جان اب ضر کی باری وہاں جا کر تنگ کروں گا اتنا کہ سنبھال نہیُ پاؤگیگی پھر دیکھتے اپ بھی تنگ اتی ک نہیُ ویسے یقین ہے بہت تنگآنے والی ہو

اس کی لو دیتی نظرین اور اوپر سے زو معنی لہجہ وہ سرخ پر جاتی ہے

اپ چھچھورے بھی ہو

کچھ سنبھل کر پوچھ بیٹھتی ہے مگر نظریں نہیُ ملائیں تھیں

اوہ یہ بھی وہیں بتاؤنگا اپنے لٹل برڈ کو

ضرار کہ کر اسے خود میں بھینج کر شال اوڑھا دیتا ہے

سردی برھ رہی تھی

اسے احتیاط سے اچھا خاصہ اسے نے ٹیڈئ بنا دیا تھا

بقول روح کے

نیچے شرٹ پھر اور شرٹ پھر اپر۔ پھر جیکٹ

اوپر سے اتنا موٹا ٹراؤزر وہ پھولا ہوا ٹیڈئ ہی لگ رہی تھی

بہت کیوٹ سا ٹیڈئ

ضر

وہ اب مسکرا دیتا ہے

اسکی چھوٹی سی چریا کو نیند نہیُ آئی تھی

یقیناً وہ اپنی ساری نیند پوری کر چکی تھی

وہ سب سے آگے والی سیٹ پر بیٹھے تھے

اس لئے وہ بھی پر سکون تھی

———

جی جانِ ضر

اسکے ہاتھ کی پشت پر انگلی پھیرتا وہ بہت محبت سے جواب دیتا ئے

آپکا سیکرٹری لرکا ہے کہ لرکی

اب ضرار اپنا قہقہ نہیُ روک پاتا

وہ مبہورت سی اسے ہنستے دیکھتی یے

افف اسکی ہنسی کس قدر خوبصورت تھی

سونگز کی وجہ سے کوئی س پر توجہ نہیُ دے پاتا

ایک بہتتتتتتتت خوبصورت

وہ آگے لفظ ادا نہیُ کرتا

کیونکہ اس کا چھوٹا سا برڈ نہایت غصہ سے گھور رہا تھا

نہیُ ہے ایک لرکا ہے میری جان جو اس دن تمھیں سامان دے کر گیا تھا

وہ اسے بس اتنا سا تنگ کر کے جواب دے دیتا ہے

تو تنگ کیوں کیا

اب بھی گھوری سے نواز نا قائم تھا

یہ جو میری چھوٹی سی ناک ہے نہ اتنی کیوٹ لگتی ہے اس لئے

وہ کہ کر باقاعدہ اسکی ناک پر پیار بھی کر دیتا ہے

—————-

سر یہ فائل اپ نے منگوائی تھی

اپنے سیکرٹری کی آواز پر وہ نیلی انکھون والا مگر نہایت مفرور شہزادہ اپنی نظریں اٹھا کر اسے دیکھتا سر سے اشارہ کرتا اسے باہر جانے کا کہتا ہے

گاڑی تیار کرواؤ

اگلے لمحہ وہ فائل چیک کر کے رکھتا فون پر کچھ نمبرز ڈائل کر کے فون کان سے لگا کر کہتا ہے

انکھیں بند کرتے نظروں کی قید میں قیدی دیکھ وہ دوبارہ انکھیں کھول دیتا ہے

———————

یہ ناک میری ہے

یہ انکھیں میری ہیں

یہ ٹھوری میری ہے

یہ چھوٹی سی انگلیاں میری ہیں

تم پوری کی پورہ ضرار مرزا کی ہو مائے لٹل برڈ

ایک ایک چیز وہ محبت سے چھو کر وہ عقیدت سے سر پر بوسہ دیتا ہوا بولتا ہے

اب اتنے ٹھرکی ہو مجھے چھورو میں جاؤن

وہ پوری پاؤں کے ناخن تک سرخ ہو چکی تھی

حد تھی اسکی نظروں اور لفظوں کی اس لئے اس سے آزاد ہونے کی کوشش میں ہلکان ہوتی ہوئی کہتی ہے

نہ میرا بچہ یہی رہو

وہ بھی ضدی لہجہ اپنا تا ہے

نو

ناک چرھا کر بولا گیا تھا

یس

وہ بھی اپنے مفرور انداز میں بولتا ہے

آئی سیڈ یس اور اپ روح کی ہی مانو گے

اب اسکا لہجہ حکم دے رہا تھا عجیب ٹور تھی اسکی

اور یہ سب اسکا ہی تو کیا گیا تھا

اوہ تو اسکا مطلب تم میری مانو گی

پر سوچ انداز میں وہ بولتا اسکے گال پر چٹکی کاٹتا ہے

نو نیور صرف ضر نور کی مانیں گے

اسکے ہاتھ پر تھپر رسید کر کے وہ بولتی ہے

اوہ یہ کہاں لکھا ہے

اسے بحث کرنے میں ناجانے کیوں اس شخص کو مزا آرہا تھا اور یہ بھی جانتا تھا ہارے گا خود کہاں وہ برداشت سکتا تھا اسکا ہارنا

دیں لکھ دوں

اسکے کوٹ سے جھلکتے فون کی طرف اشارہ کرتی ہے

یہ لو

وہ نرمی سے اسے فون دے دیتا ہے

پاسورڈ ضر

فون آگے کر کے اسے کہتی ہے

روحِ ضر

اس پر حصار تنگ کر کے کان میں سرگوشی کرتا ہے