Sayah Kaar by Uzma Mujahid NovelR50609 Sayah Kaar (Last Episode)Part 1,2
Rate this Novel
Sayah Kaar (Last Episode)Part 1,2
Sayah Kaar by Uzma Mujahid
معروش کے چلے جانے کے بعد سے وہ حددرجہ پریشان سا تھا ۔تنہائی اور اکیلے گھر میں دوڑتے سناٹے اسے کاٹ کھانے کو دوڑ رہے تھے۔طیبہ بیگم بھی کچھ دنوں سے آؤٹ آف سٹی تھیں اگرچہ ان دونوں کے درمیان کبھی کبھی ہلکی پھلکی بات چیت ہوجاتی تھی پر ابھی بھی ایک عجیب سا تناؤ برقرار تھا۔
طیبہ بیگم کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جن پہ ہونے والے حادثات کا اثر محض چند گھنٹوں تک رہتا ہے۔نجانے کس مٹی سی بنی تھیں وہ ارتضٰی کے احساس محرومی کے درد کو بانٹنے کے بجائے دوبارہ اپنی روش پہ چل نکلی تھیں۔
دل کا درد بڑھا تو غم غلطاں کرنے کو دوست یاد آئے۔
“مطلب کے ایسا بھی ہوتا ہے اور اسی دنیا میں ہی ہوتا ہے رائٹ؟”سر سے کیپ اتارتے احمد نے خود کو ریلکس کیا ورنہ ارتضٰی کا کارنامہ سنتے وہ کتنی دیر تک کچھ بول ہی نہیں سکا تھا۔
“آرڈر تھے دوسری صورت میں معروش اور مجھے انتہائی برے حالات سے گزرنا پڑتا اس کا کیس ابھی بھی اوپن ہے جبکہ مجھے اسکا ساتھ دینے کے جرم میں بھی معطل کیا جاسکتا تھا۔” میز پہ دونوں ہاتھ رکھتے اس نے سرگوشی کی ۔
احمد بخوبی اسکی ذہنی کشمکش کو محسوس کرسکتا تھا ۔
“اور یہ آرڈر آئے کہاں سے جبکہ آپ جناب لندن سے سب حساب کتاب مکمل کرکے آئے تھے اور یہ بات بھی چند افسران تک ہی تھی ایسا کونسا دو دن میں وبال آگیا جو یہ سب کرنا پڑ گیا۔” احمد بھی گہرے صدمے میں تھا جس کیس کو وہ دونوں سولو کررہے تھے یقیناً اسکی کامیابی احمد کے کرئیر کیلئے بہت سی نئی راہیں کھولتی ۔
“میں نہیں جانتا یہ سب کیسے اچانک ہوگیا پر میں اتنا ضرور جانتا ہوں وہ غدار نہیں ہوسکتی۔جتنا جنون اپنے کام کو لے کے میں نے اس میں دیکھا ہے اور شاید ہی کوئی تم لوگوں کے پروجیکٹ کو مکمل کرسکے۔وہ اس کیس کو نزدیک سے سمجھ رہی تھی کہیں ایسا تو نہیں کہ افسران بالا میں سے کسی کو اس چیز سے مسئلہ درپیش ہو؟”ارتضٰی بھی جانتا تھا کہ نقصان کتنا عظیم تھا اور جب پانی سر سے گزر چکا تھا اب اسکے پاس بھی کوئی راستہ نہیں تھا۔
“یار مائی سے وعدہ کیا تھا اس مشن کے بعد ایک اور سٹار کے اضافے کا لیکن آپ جناب نے سہی والی بینڈ بجا دی میری۔ خیر تمہاری مرضی جب چاہو اپنا لو جب چاہے چھوڑ دو ،دل کا تو کوئی رشتہ تھا نہیں تمہارا اس سے سر مختیار کی مرضی پہ رشتہ بنایا اور ختم بھی کردیا گڈ ہوگیا یار پراؤڈ مین ،مطلب کے میرے پاس تمہاری تعریف میں الفاظ کم پڑ رہے ہیں۔” احمد کو نجانے کس بات کا دکھ ستا رہا تھا اپنے مشن کی ناکامی کا،معروش اور ارتضٰی کے رشتے میں اچانک در آنے والے نئے موڑ کا ۔
” اب تو وہ نہیں ہے پھر منہ کیوں بنائے پھر رہے ہو۔”
آخر کو اسے ارتضٰی کی اتری شکل پہ ترس آگیا تھا اور اپنی کمان کے باقی تیر سنبھالتے اس کی طرف متوجہ ہوا ۔
“بہت غلط بول رہے ہو یار ایسا کچھ نہیں ہے میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ کسی طرح بھی کسی مسئلے میں پھنسے جبکہ سارا قصہ میری سمجھ سے باہر ہے ابھی۔”
ارتضٰی واقعی اسوقت اپنے حواسوں سے بے پہرہ تھا۔ ہلکی سی ناک کرتے واسق اندر داخل ہوا۔حیرت انگیز طور پہ احمد اور ارتضٰی کی موجودگی کے باوجود بھی کمرے میں گھمبیر خاموشی تھی۔
“یقیناً برسات اس لیے نہیں رک رہی کہ دھرتی کے عظیم مسخرے آج خاموش ہیں۔اور وہ روتے ہوئے زمین کو اپنے اشکوں سے بھررہی ہے غم ذوق میں۔” دو منٹ تک انکے بولنے کا انتظار کیا ۔ اسکے آنے پہ کوئی گرمجوشی جب نہیں دکھائی گئی تو بے ڈھنگے انداز میں مسخرہ پن دکھایا جس نے دونوں پہ ہی اثر نہیں کیا تھا۔ارتضٰی کی شکل کڑوے کریلے جیسی بنی تھی۔
“بھونڈا مذاق۔”احمد کا انداز بھی ارتضٰی سے کم نہ تھا۔
واسق کے اردگرد الارمنگ بزر بجے۔
“ماحول کچھ ناساز لگ رہا ہے کوئی بتانا پسند کرے گا کہ کیا ہورہا ہے یہاں۔” ارتضٰی کے سامنے پڑی چائے جو کہ اب ٹھنڈی ہوتے اپنا ذائقہ بدل چکی تھی اسے آرام سے ایک ہی گھونٹ میں پیتے واسق نے بھی کرسی سنبھالی۔
“تم دونوں کی پاگلوں جیسی حرکتیں دیکھ کے میں غیر معینہ مدت کیلئے شادی کا ارادہ ملتوی کرتا ہوں ۔حد ہے یار بیوی چائے نہیں دیتی تو مجھے کہہ دیتے منگوا لیتا میں۔” چونکہ احمد کا آفس تھا اس لیے بھرپور رعب جھاڑتے اس نے ارتضٰی کا غصہ واسق پہ اتارتے پھر سے چائے آرڈر کی۔
“کیا ہے نابھائی لوگ !سرکاری خزانے کو ایسے ضائع نہیں کرتے ہم۔اور بیوی کا تو کیا سناؤں ایک ہفتہ ہوا شکل دیکھنا نصیب نہیں ہوئی۔ہائے رے یہ نصیب دشمناں سی۔او آفس۔”
واسق نے شکل پہ مسکنیت طاری کرتے بیوی سے جدائی کی داستان سنائی ساتھ ہی اسکی دیالو طبیعت پہ وہ دونوں عش عش کر اٹھے۔
“خیر وفاقی کابینہ کا اجلاس کس خوشی میں بلایا گیا ہے،اور صبح صبح ہی کچھ لوگوں کے منہ پہ بارہ بج رہے ہیں۔”واسق کی توپوں کا رخ باقاعدہ ارتضٰی کی طرف ہوا۔
“سنگل ہوگئے ہیں بھائی صاحب پھر سے۔”احمد نے ناک سے ان دیکھی مکھی اڑاتے طنز کیا مگر لبوں پہ بھی تبسم بکھرا تھا۔ارتضٰی نے گھورنے پہ اکتفا کیا تھا واسق نے ڈرامائی انداز میں دل پہ ہاتھ رکھا۔
” ارے اتنی خوشنصیبی واہ میرے یار۔”واسق نے ایکسائٹڈ ہوتے اسے گلے لگایا ساتھ میں ارتضٰی کا جھانپڑ بھی کھایا۔کمرے میں ایک دم قہقے ابھرے تھے اور ماحول میں چھائی کثافت کچھ کم پڑی۔
“چلو اب شروع ہوجاؤ رام ِلیلاَ سنانے۔” احمد نے اپنی مخصوص نشست سے اٹھتے انکے پہلو میں رکھی کرسی کھسکائی اور قریب بیٹھا۔ارتضٰی نے لب بھینچے تو واسق نے بھی سنبجیدگی اختیار کی۔
“مسئلہ کہاں اٹکا؟” واسق نے پوری بات سنتے کہا۔
“جب مختیار سر نے معروش سے رستے الگ کرنے کو کہا اس گارنٹی سے کے وہ کچھ دن اسے پرکھنا چاہتے ہیں میری پرچھائی سے الگ۔” ارتضٰی نے لفظ بہ لفظ دہرایا۔
“اور وہ معروش کو کیوں پرکھنا چاہتے ہیں؟جبکہ پوری کمانڈ کو پتا وہ اب تک یونٹ کو بہت سپورٹ کرتی آئی ہے اسپیشلی آپریشن سوات میں دشمن کا دھیان بٹانے کیلئے اسکا گرافک آئیڈیا کمال کا تھا جہاں دشمن کمزور پڑے اور ہم فتح یاب ہوئے۔” واسق کا انداز انتہائی پرسوچ تھا۔
“میں کچھ نہیں جانتا انکے واضع الفاظ تھے اگر میں انکی بات نہیں مان رہا اس صورت میں وہ سی بی آئی سمیت تمام غیرملکی ایجنسیوں کو معروش تک رسائی دے دیں گے۔مجھے ہارنا پڑا اسکی سلامتی کیلئے۔”ارتضٰی کا انداز شکست پائی لیے ہوئے تھا ۔
احمد اسکی قربانی پہ رنجیدہ نظر آیا تھا۔واسق کے تاثرات کچھ الگ رو میں جارہے تھے جو ناقابل فہم تھے۔
“اور تم سے بھابھی کی آخری بات کیا ہوئی۔”اب واسق نے احمد کی طرف اپنا رخ کیا کیونکہ آخری آپریشن میں وہ اسکے ہمراہ تھا۔
“بات “آبشار ” اور “پتھروں “سے آگے جا ہی نہیں سکی ۔گھر جاکے وہ مکمل ان دو چیزوں پہ اپنا اسائمنٹ بنانے والی تھیں جو کہ سر مختیار کو پیش کرنی تھی ۔ وہ کیس سولو کرچکی تھی۔ پھر یہ ریزائن اور آگے کیونکر سب ہوا؟”احمد نے پرجوش انداز میں بتاتے آخر میں اپنی رفتار دھیمی کی کیونکہ اس بات پہ تو اسکا وعدہ تھا کہ ان لوگوں کے سامنے کیس کا کریڈٹ اسے لینا ہے۔
“ویسے سنا ہے جو کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں،بنا تحقیق ہتھیار ڈال دینا زیب نہیں دیتا تھا کیپٹن ارتضٰی میر حیدر۔”واسق نے ایک ایک لفظ چبا کے بولا تھا۔
اسکے انداز پہ احمد اور ارتضٰی چوکنا ہوئے۔یہ حقیقت تھی کہ ارتضٰی معروش کیلئے لڑا ہی نہیں اور بنا معمالے کو سمجھے اس نے سرینڈر کردیا تھا۔
واسق کے چہرے پہ تناؤ نظر آنے لگا جیسے ارتضٰی کی بزدل طبیعت نے اسے کوئی خاص ایمپرس نہیں کیا ہو۔
“جورڈ” شاید اس نام سے اچھے سے آگاہ ہونگے آپ مسٹر ارتضٰی؟” ان دنوں کی رام کتھا سنتے واسق کے اگلے الفاظ نے ارتضٰی کے پیر زمین میں جکڑے جبکہ احمد ناسمجھ سا اسے دیکھنے لگا۔
“یس وہی مسٹر جورڈن جسے آپ نے معروش حیات کی جاسوسی کیلئے لگایا تھا۔” واسق کی اگلی بات نے ارتضٰی کو حواسوں میں لوٹنے پہ مجبور کیا ۔
“ہاں مگر اسکا یہاں کیا ذکر۔” ارتضٰی کا دل کچھ انہونی سے دھڑکنے لگا تھا ۔اب تک اسے معروش کی سیکیورٹی کا کوئی خدشہ نہیں تھا کیونکہ ڈی جی ایم آئی مختیار صاحب نے اسے اس بات کی مکمل یقین دہانی کروائی تھی کہ معروش کے نکلتے ہی وہ اسے اپنی سیکیورٹی میں لے لیں گے مگر واسق کے منہ سے جورڈ کا نام سنتے اسکے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔کہیں معروش جورڈ کے ہاتھ نہ لگ جائے؟اور اس سے آگے کا تو وہ سوچ نہیں سکتا تھا۔لندن کے مشہور سٹریٹ کرمینل سے کون ناواقف تھا بھلا۔
“اسی کا تو سارا ذکر ہے میری جان بلکہ یوں کہیں کہ تمہاری ہی وجہ سے معروش کو روپوش ہونا پڑ رہا ہے تو غلط نہیں ہوگا بلکہ کیا کیا عظیم داستانیں منسلک ہیں آپ سے مسٹر تیج ۔ارے بھائی یہاں لوگوں کو ایک بڑی مشکل سے ملتی اور صاحب دو دو بغل میں چھپا کے چل رہےہیں۔”انتہائی سنجیدگی سے کہتے واسق نے احمد کی طرف اشارہ کیا جسکی آنکھیں ارتضٰی سے جڑی دو،دو کے نام پہ کھلی تھیں۔
“نہیں مطلب ہمارا ارتضٰی؟میرا مطلب جورڈ تو آدمی ہوگا نا پھر؟” احمد نے ناسمجھی سے سر کھجایا تو ارتضٰی نے پیپر ویٹ اٹھاتے اسکی طرف اچھالا جو اس نے پھرتی سے کیچ کرلیا تھا۔جبکہ واسق کا ڈرامہ کری ایٹ کرتا سین ابھی جاری تھا جہاں ارتضٰی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا تھا وہیں واسق مزید سسپنس پھیلا رہا تھا ۔
“بک بھی دے یار بچے کی جان لے گا کیا۔”احمد کو اسکی شکل پہ ترس آرہا تھا جو واقعی بہت کنفیوژ اور معصوم سا لگ رہا تھا ۔
“معمالہ یہ ہے کہ آپکی سیکنڈ وائف۔۔۔احمد واہ واہ بول”واسق نے پھر سے بات ادھوری چھوڑے احمد کے تاثرات دیکھے جو “سیکنڈ وائف” پہ دیدے پھاڑے ارتضٰی کو دیکھ رہا تھا اور سر نفی میں ہل رہا تھا۔معروش جیسی پرفیکٹ لڑکی کے ہوتے بھلا کون کمبخت سیکنڈ وائف کا سوچ سکتا یہ احمد کی سوچیں تھیں جو بےلگام دوڑ رہی تھیں۔
“وہ میری سیکنڈ وائف نہیں ہے اٹ واز جسٹ آ پیپر میرج ۔”ارتضٰی نے کھوکھلے انداز میں اپنی گواہی پیش کی جو کہ یقیناً سچ تھی مگر اسکے زمرے میں یہ گناہ تھا کہ اس نے یہ بات اپنے دوستوں سے چھپائی تھی ۔ احمد اسکے اس اقرار پہ بھی غم زدہ بیٹھا تھا۔
“کیوں مسکینوں والی شکل بنا رہا ہے ۔ابھی اور کارنامے سن نا اپنے ہونہار گولڈ میڈلسٹ کیپٹن ارتضٰی میر حیدر کے۔”واسق کا یہ تیر ارتضٰی کے دل پہ لگا تھا۔
“اٹس اوور یار پلیز اب کچھ بتاؤ گے تم کیوں بلاوجہ کی سنسنی پھیلا رہے ہو۔ میری سانس بند ہونے کو ہے۔”ارتضٰی کے انداز سے چھلکتی بےچارگی اس بات کی تصدیق تھی کہ اب وہ واقعی ڈسٹرب ہورہا تھا۔
“مسٹر ہیری کو کس نے پاکستان کا راستہ دکھایا تھا۔” واسق نے اسے ایک اور بیوقوفی یاد دلائی تو وہ دونوں ہاتھوں میں سر گرائے خود کو بے بس محسوس کرنے لگا تھا۔دل میں ہزاروں خدشے سر اٹھانے لگے یقناً وہ معروش کسی بڑی مصیبت سے دوچار کرچکا تھا اور اگر ایسا تھا تو وہ خود کو کبھی معاف نہیں کرنے والا۔
“کیا کرتا معروش کو ڈرانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا میرے پاس ورنہ وہ کبھی میری بات نہ مانتی۔” ارتضٰی اپنی ناکامی کا اعتراف کیا۔
“ڈر کیا خوب کھیلا تم نے اس لڑکی کے ڈر کے ساتھ ، حتٰی کہ ڈائیورسڈ ہوکے بھی حنا سے متعلق جھوٹ بول دیا تاکہ وہ اس ڈر کے پنڈولم میں جھولتی رہے۔”واسق کے چہرے پہ اب تناؤ ابھرا تھا اور ارتضٰی کو صیحح معنوں میں اپنی بیوقوفیوں کا احساس ہونے لگا تھا۔
“تین دشمن جو سراسر تمہاری کوتاہیوں کی وجہ سے اسکی جان کے دشمن بنے۔ سن کے کیسا لگ رہا ہے اب؟”
واسق نے آخری تیر کمان سے نکالا تو باقی کی گتھیاں اپنے آپ سلجھیں۔ صاف ظاہر تھا حنا نے اپنے انتقام میں ہیری اور جورڈ کو شامل کیا تھا جو کہ عرصے سے اپنی گولڈن سپیرو کی تلاش میں تھا۔ایسے میں جہاں آئی۔ایس۔آئی کو اپنے قیمتی آبگینوں کے استعمال کا صیح طریقہ معلوم تھا وہیں انہیں دشمنوں سے بچانے کا ہنر بھی تھا ۔
جہاں پہ معروش کی حفاظت کیلئے اسے ارتضٰی سے کچھ عرصے دور رہنا تھا کیونکہ اسکی سب سے بڑی دشمن طیبہ بیگم بھی اسی گھر میں موجود تھیں جو حنا کے ہاتھ کا ایک مہرہ بن رہی تھیں۔
کتنے لمحے وہ بےیقین سا بیٹھا تھا مگر یہ سچ تھا کہ ان دونوں کو ہی انجان رکھتے انکا بھلا سوچا گیا تھا محض اسیلئے کہ انہیں ہر طرح سے اپنے وطن کا وفادار دیکھا گیا تھا۔جہاں ارتضٰی نے کبھی تیج تو کبھی حمزہ جیسے کئی اور روپ دھارے اپنی جان ہتھیلی پہ رکھے اس عظیم سر زمین کیلئے خدمات دی تھیں تو وہیں معروش جیسی تخلیقی صلاحیتوں کی مالک لڑکی کئی ایک آپریشنز میں اپنی فورسسز کے شانہ بشانہ تھی۔ ایسے میں اس ملک کا اتنا فرض تو تھا کہ انکی جان کی حفاظت کرتے۔اگرچہ ان دونوں کا رشتہ سراسر انکا نجی معمالہ تھا پر جس پیشے سے وہ منسلک تھے وہاں ذاتیات سے زیادہ ترجیحات کو سامنے رکھا جاتا اور اس ادارے کیلئے پہلی ترجیحی انکی زندگی تھی۔
ارتضٰی کی آنکھیں بھیگیں نجانے کونسا احساس تھا جو اسے اپنے رب کے حضور سرجھکانے پہ مجبور کرگیا تھا۔
وہ بزدل نہیں تھا مگر محبت ہارنے کا دکھ بھی سہل نہ کرپاتا اسیلئے اپنی محبت کو تیاگ دیا۔
محبت کا ایک اصول اعتبار بھی تھا جس فقدان ان دونوں نے خوب دکھایا تھا جسکے نتیجے میں دونوں ہی آپسی معمالات کو سلجھانے کے مزید الجھا بیٹھے تھے ۔
༻━━━━━⊱༻
مخصوص ہارن کے ساتھ پورچ میں گاڑی رکنے کی آواز آئی تھی۔وہ جو ونڈو سے سر لگائے آنے والے کو دیکھ رہی تھی آنسوؤں کی برسات باہر کی برسات سے زیادہ زور پکڑے ہوئے تھی۔
واسق نے حیرت زدہ نگاہ دروازے پہ ڈالی ۔ہمیشہ ایسا ہوتا تھا کہ وہ گاڑی کی آواز سنتے اسکے شاندار استقبال کو حاضر ہوجاتی مگر آج ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔وہ تھوڑا پریشان سا تیز قدم اٹھائے کمرے کی طرف بڑھاجہاں سامنے کے منظر نے اسکی تیوری پہ بل چڑھا دیے تھے ۔وہ پرسکون سی کمبل میں دبکی سامنے ٹی۔وی پہ نظریں جمائے بیٹھی تھی۔
“مجال ہے جو کسی کو اتنا سلیقہ آجائے کہ شوہر اتنے دنوں بعد گھر آیا ہے اٹھ کے ایک گلاس پانی پوچھ لیں۔پر نہیں جی ہمیں تو اپنے آپ سے فرصت نہیں ۔”اپنے اندر اٹھتے شدید وبال پہ قابو رکھتے خاکی وردی سے بیلٹ نکالے بیڈ کی طرف اچھالی ساتھ میں چمچماتی کیپ بھی۔
وسام نے اپنے سامنے گرتی ان چیزوں کو دیکھا وہ جو ضبط کا دامن تھامے بیٹھی تھی ایک دم کمزور پڑی اور پھر سے جل تھل شروع ہوا۔وہ حیرت زدہ سا اسکا ریکش دیکھ رہا تھا۔
“مجھے آپکے ساتھ نہیں رہنا۔”واسق نے اسکی طرف قدم بڑھائے جو اسکی شعلہ بیانی سے راستے میں رک گئے۔
“او واؤ گڈ ڈسیژن۔”غیر سنجیدگی سے کہتے اس سے بعد میں نبٹنے کا سوچتے وارڈروب کی طرف گیا جہاں سے اپنے لیے سادہ سا ڈریس نکالے واشروم کی طرف بڑھ گیا۔
وسام کے تو سر پہ لگی تھی۔اسے نوری کے الفاظ یاد آنے لگے تھے۔
“بیبی آپکے چہرے پہ تو نشان پڑ گیا ہے نا تبھی صاحب کا من آپ سے اٹھ گیاہے اور اگر مرد کا گھر والی سے من اٹھ جائےتو اسکا مطلب اسے کوئی باہر ولی مل گئی ہے اور اسیلئے وہ ہفتوں ہفتوں گھر سے باہر دور رہنے لگے ہیں۔”وسام کو نوری کی باتیں سچ ہوتی نظر آرہی تھیں ۔کتنی آسانی سے اس نے وسام کو نظرانداز کردیا تھا ۔ایک لمحے میں فیصلہ کرتی وہ اپنا موبائل اٹھائے سٹوروم کی طرف بھاگی۔اور انوشے کا نمبر ملایا جو روتے ہوئے وسام کی باتوں کو بغور سن رہی تھی ۔
“نہیں گڑیا ایسا کچھ نہیں ہونا میں بات کرتی ہوں واسق بھائی سے ۔”اسے محسوس ہورہا تھا کہ وہ شدید غلط فہمی کا شکار ہورہی ہے جسکے نتائج بلکل اچھے نہیں ہونے تھے۔واسق کی محبت اور دیوانگی کا تو ہر کوئی گواہ تھا بھلا وسام سے بڑھ کے کوئی بیوقوف ہوگا۔
“اوکے ڈونٹ وری میں ویسے ہی یہاں سے کافی قریب ہوں کوئی بیوقوفی نہیں کرنی میں ابھی پہنچ رہی ہوں۔”انوشے نہیں چاہتی تھی کہ وہ جزبات میں آکے پہلے جیسی کوئی غلطی دہرائے اسیلئے ان دونوں سے روبرو ملنے کا فیصلہ کیا تھا ۔
واسق فریش ہوتے باہر آیا تو خالی کمرے نے اسکا استقبال کیا ۔وہ اسے آوازیں دیتا باہر آیا پر اسکا کوئی وجود نہ تھا۔اتنے میں ڈور بیل رنگ ہوئی تھی۔
انوشے کو اپنے سامنے دیکھتے خوشگوار حیرت ہوئی۔
“ارے آج تو بڑے بڑے لوگ آئے ہیں یہاں۔”شرارت سے کہتے اسے اندر آنے کا اشارہ کیا ۔
“شکایت درج کروائی گئی ہے آپکی اس لیے کاروائی کیلئے آنا پڑا ۔”شرارتی انداز میں کہتے اس نے واسق کی حیران نگاہوں کا جواب دیا۔
“شکایت؟کس نے درج کروا دی۔”اسکے ہمراہ گھر کے اندر بڑھتے آواز حیرت زدہ تھی۔
“مسسز وسام نے کہ انکے شوہر نامدار نے ایک گھر والی اور ساتھ باہر والی رکھی ہوئی ہے جسکی وجہ سے انہیں اٹینشن دینے کے بجائے ٹینشن دی جارہی ہےاور ہم یہ کرائم ہونے نہیں دیں گے۔”بھرپور شرارتی انداز میں کہتے وہ سٹورروم کی طرف قدم بڑھا چکی تھی ۔واسق بے یقنی سے اسے دیکھنے لگا۔تو کیا یہ سب وسام نے اس سے کہا تھا؟ایسا کیا ہوا تھا جو وہ اس سے اس حد تک بدگمان ہورہی تھی۔
کچھ دیر بعد وہ سرخ ناک ،سرخ آنکھیں لیے منہ بسورتے انوشے کے ہمراہ اسکے سامنے تھی۔
“جی تو ہماری لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ آپکے ساتھ نہیں رہنا چاہتیں۔”انوشے نے بے فکری سے کندھے اچکاتے واسق کے سر پہ بم پھوڑا ۔
“دماغ خراب ہوچکا ہے آپ دونوں کا اور تم۔۔”ایک شاک کی کیفیت میں انوشے کو تیکھے چتونوں سے گھورا اور ایک نظر انوشے کے پیچھے چھپتی وسام پہ ڈالی۔
“تم تو ادھر آؤ ذرا کیا ڈرامہ ہے یہ ایک ہفتہ میں گھر سے باہر کیا رہا تمہارے تو تیور ہی بدل چکے ہیں۔”اگلے لمحے اس نے وسام کو کھینچتے اپنے حصار میں لیا ۔واسق کی یہ زبردستی اسے مزید رولانے لگی۔
“ایسے نہیں زبردستی کرسکتے آپ واسق بھائی “انوشے بھی اسکی مدد کیلئے میدان میں اتری۔
“یہ میرے ساتھ جارہی ہے جب آپکا دل باہر کی لڑکیوں سے بھر جائے تب واپس لے آئیے گا اپنی بیوی کو۔”انوشے نے نرمی سے اسے واسق کی گرفت سے آزاد کرایا اور یہ جا وہ جا ۔جاتے وقت اپنے ہونٹوں پہ انگلی رکھتے مبہم اشارہ کیا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا تھا ۔کچھ دیر بعد وہ دونوں اسکی نظروں سے دور جاچکی تھیں۔
༻━━━━━⊱༻
“معروش” وہ جو کئی سوچوں میں غلطاں بیٹھی تھی مدھم سرگوشی پہ چونک اٹھی تھی۔وہ تمام تر مردانہ وجاہت سیمت سامنے موجود تھا ۔
وہ جانتی تھی کہ اسے یہاں تک کا راستہ کس نے دکھایا ہے ۔ ایک نظر آنے والے پہ ڈالتے نگاہ پھیر لی۔اشکوں کی لڑی نغمہ بے ساز وصدا بنی تھی۔جو ارتضٰی کو تڑپانے کو کافی تھا۔
“روش پلیز۔”اس نے آنسوؤں صاف کرنے کو ہاتھ اسکے چہرے کی طرف بڑھایا پر اس نے رخ بدلتے مکمل بے اعتنائی برتی۔
“کیوں آئے ہیں یہاں؟ابھی کچھ کہنا، سننا باقی رہ گیا ہے آپکا۔”وہ کہیں سے بھی نوعمر ناپختہ ذہن کی معروش حیات نہیں لگ رہی تھی۔ارتضٰی جانتا تھا اپنے جرم کی نوعیت لہذا ،اسے ایک بار معروش سے اس تنازعہ پہ بات کرلینی چاہیئے تھی مگر جذباتیات نے اسے ہمیشہ شرمندہ کیا تھا۔
“ایک بار میری بات سن لو پلیز ،آئی سوئیر میں سب کچھ ٹھیک کرلونگا۔”شاید وہ خود ہی نہیں جانتا تھا کہ کیا بات کررہا ہے۔سب ٹھیک تھا غلط تو اسی نے ہی کیا تھا۔
“اگر چاہتے تو اس چار دیواری کے گرد اعتماد کی بلند دیوار تعمیر کرکے ایک مضبعوط قلعے میں محفوظ کرسکتے تھے تم مجھے ارتضٰی حیدر پر تم تو بزدل نکلے۔اور میں شرمندہ ہوں کہ میں ایک بزدل مرد کے سہارے پوری زندگی بسر کرنے چلی تھی۔”
وہ لفظوں سے گھائل کرنے کے ہر فن سے آگاہ تھی۔
“کیا مجھے ایک موقع بھی نہیں ملے گا تلافی کا؟”نجانے وہ کیا جتانا چاہ رہا تھا مگر جو معروش کی سمجھ میں آیا وہ اسے اپنی انا پہ کاری ضرب محسوس ہوا تھا۔
“وہ میرے بابا کا گھر تھا کیپٹن ارتضٰی میر حیدر کس حق سے برستی بارش میں مجھے وہاں سے نکال دیا آپ نے اور یہاں۔۔۔۔”
“ایسا کرنا ضروری تھا مختیار سر۔۔”اس نے معروش کی بات کاٹتے کمزور لہجے میں دلائل دینا چاہے۔
“تو مختیار سر ؟ارتضٰی کیا ایک بار بھی ریزیسٹ کیا تم نے؟ایک بار بھی وجہ جاننی چاہی مجھ سے ایک بار تو پوچھ لیتے بٹ آئی ایم سوری آپ نے کہا تھا کہ ہم اس رشتے کو یہی ختم کردیتے ہیں دین جسٹ گو اینڈ موو آن بیسٹ آف لک فار آہیڈ لائف۔”
انتہائی بےرحمی سے کہتے اس نے وہاں سے واک آؤٹ کرتے خود کو کمرے میں مقید کرلیا ۔
“گو اوے ارتضٰی میر۔۔آئی۔ہیٹ یو ارتضٰی حیدر ،نفرت ہے مجھے آپ جیسے کمزور مردوں سے جو خود سے جڑے رشتوں کی حفاظت کرنا نہیں جانتے۔” اسکی آواز میں درد نمایاں تھا وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی جو ارتضٰی نے اسکے ساتھ کیا تھا۔
کتنی دیر وہ اسے آوازیں دیتا رہا مگر اسکے کان پہ تو جوں تک نہ رینگی تھی اور وہ لاچار سا واپس مڑ گیا۔
مختیار سر کے ذریعے اسے ہیری،جورڈ ،حنا اور طیبہ بیگم کے ہر اس روپ کا پتا چلا جو اسکیلئے انتہائی اذیت دینے والا تھا اور سب سے بڑھ کے ارتضٰی کا عدم اعتماد۔اسکی خواہشیں بھی عام سی تھیں۔گھربسانے کا خواب اس نے بھی دیکھا تھا مگر ابھی اسکی راہ میں حائل کانٹے اتنی آسانی سے کہاں نکلنے والے تھے۔ایک طرف ارتضٰی کا بے انتہا پیار اسے رلا دیتا تو دوسری طرف چند لوگوں کے کہنے پہ اسے یوں اپنی زندگی سے بےدخل کرنے کا فیصلہ اور اگر وہ واقعی سب ختم کردیتا تو؟اس سے آگے وہ کچھ سوچنا نہیں چاہتی تھی۔۔
نگاہیں پیھرنے والے سے نظریں اٹھ ہی جاتی ہیں
کبھی بیگانگی وجہ شناسائی بھی ہوتی ہے۔۔۔۔
༻━━━━━⊱༻
ایک اضطراب تھا جو کسی کل چین نہیں لینے دے رہا تھا۔ایک ہفتے اپنی ڈیوٹی انجام دینے کے بعد آج گھر پہنچا تو عجب ہی منظر اور اس پہ کرم نوازی یہ کہ وہ جابھی چکی تھی۔صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو اس نے وسام کو کال کی جو بار بار کٹ کردی جاتی۔
“میں بہت برا پیش آنے والا ہوں وسام پک اپ دا کال۔” غصے سے بھرا ایک مسیج چھوڑا مگر اسکے کان پہ جوں تک نہ رینگی تھی۔
اس سے خائف ہوتے انوشے کا نمبر ملایا جو پہلی بار ہی اٹھا لیا گیا تھا۔
“کہاں ہویار اور یہ محترمہ کیا چاہتی ہیں ۔”اپنے غصے پہ قابو رکھنے کی کوشش کی مگر ہوہی نہیں پارہا تھا ۔
“میں آپکو مسیج کردیتی ہوں۔”شاید وہ وسام کے ساتھ تھی تبھی بات کرنے سے احتراز برتا تھا ۔
کچھ دیر بعد ایک تفصیلی نوٹ سامنے تھا جسے پڑھتے واسق کا دل چاہ رہا تھا کہ سامنے دیوار میں سر دے مارے ۔وسام سے بیوقوف لڑکی شاید ہی کوئی ہو۔سوات آپریشن کے دوران جب وہ اسے ملی تھی واسق کو لگتا تھا شاید وہ بدل گئی ہے اسکا میچورٹی لیول بڑھ چکا ہے لیکن آج اس نے ثابت کردیا تھا وہ آج بھی چیراٹ کی وادیوں میں گھومتی بھولی بھالی وسام ابرق تھی جسکا باپ جتنا شاطر تھا اسکی بیٹی اتنی ہی بزدل اور ڈرپوک تھی۔
اسے سوچتے چہرے پہ الوہی جزبوں کی چمک تھی جو بھی تھا وہ اس لڑکی کے عشق میں پاگل پن تک مبتلا تھا ۔اتنے ماہ وسال اسکا ہجر سہا تھا پر اب نہیں اپنی زیست کے اس انمول موتی کو اس نے ہمیشہ خود میں پروئے رکھنے کا عہد کرتے انوشے کے گھر کا رخ کیا ۔
کچھ باتوں کا بروقت کلئیر ہوجانا ان دونوں کے مفاد میں بہتر تھا وہ معروش اور ارتضٰی کی طرح اپنی زندگی کو غلط فہمیوں کی نظر نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
کچھ دیر بعد وہ روحان اور انوشے کے گھر کے گیٹ پہ ٹہرا تھا جہاں چوکیدار نے اسے پہچانتے ہی گیٹ وا کیا۔
اس وقت اسے سامنے دیکھتے وسام کے تو ہوش اڑے تھے اس نے مدد گار نگاہوں سے انوشے کی جانب دیکھا جس نے صاف ہاتھ دکھاتے وہاں سے غائب ہونا مناسب سمجھا تھا ۔
“جی تو مسسز وسام ،کیا خدشات ہیں آپکو اپنے شوہر نامدار سے کچھ بتانا ضروری سمجھیں گی آپ؟”چہرے پہ مصنوعی غصہ سجائے اس سے مخاطب تھا کیونکہ وسام کیلئے اکثر یہ ڈوز ضروری ہوجاتی تھی کیونکہ وہ کانوں کی کچی ثابت ہوئی تھی جبکہ اس نوری کا بھی وہ بندوبست کر کے آیا تھا۔
“کوئی خدشات نہیں مجھے پتا ہے آپ۔۔”آنسو نےبات پوری ہی نہیں ہونے دی۔
“یہی تو مسئلہ ہے کہ آپ کو کچھ نہیں پتا مسسز کبھی جان لیتیں تو مغرور ہوتیں کہ دنیا میں کوئی کسی سےاتنا پیار کرتا ہے جتنا کہ آپکا یہ حقیر شوہر آپ سے۔”واسق نے چہرے پہ بیچارگی سجائے اسے یقین دلانا چاہا مگر پھر بھی اسکا سر نفی میں ہلا تھا جسکا مطلب تھا کہ اسے اسکی بات پہ یقین نہیں۔
“اور وہ باہر والی۔۔”وسام نے جملہ ادھورا چھوڑا مگر وہ اسکی پوری بات سمجھ چکا تھا دل چاہا کہ ایک زور دار رکھ دے مگر دل کے ہاتھوں مجبور تھا تبھی اسکا ہاتھ مضبوطی سے تھاما۔
“کوئی بار والی نہیں ہے ،میری کل متاع حیات آپ ہی ہیں۔”لبوں پہ جاندار مسکراہٹ سجائے اس نے پرحدت لب اسکی ہتھلیوں پہ رکھے تو وسام کی ہتھلیاں پسینے میں بھیگنے لگیں۔
“مگر مجھے آپکے ساتھ نہیں جانا ،مجھے ناراض رہنا ہے آپ سے جیسے بیویاں اکثر لڑائی کے بعد میکے چلی جاتیں ایسے بس یہ میرا میکہ ہے آپ جائیں یہاں سے۔” انتہائی بےمروتی دکھاتے اس نے اپنا ہاتھ واسق کی گرفت سے آزاد کروایا تو شاکڈ سا بیٹھا تھا اسکی انوکھی فرمائش پہ۔
“یار بیوی بات سنو !وہ جو ہمارا گھر ہے وہیں آپکا میکہ اور سسرال بھی ہے تو ذرا مہربانی پلیز۔”واسق کے ہاتھوں کے طوطے اڑ چکے تھے مگر اسکی نا ہاں میں ہی نہ بدلی تھی۔ اور وہ مظلوم شوہر بنے مزید ایک ہفتے کیلئے تنہا رہنے پہ مجبور ہوا تھا۔
انوشے کی زبانی یہ بھی معلوم پڑا تھا کہ یہ واسق کیلئے گھربدر رہنے کی سزا بھی ہے تاکہ آئیندہ وہ جہاں جائے اسے اپنے ساتھ رکھے پر اپنی معصوم بیوی کو یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ جن حالات اور حلیے میں وہ گھومتا ہے اگر وہ اسے دیکھ لے تو شوہر ماننے سے ہی انکار کردے گی۔
༻━━━━━⊱༻
“پائی نیٹ ورک کا کوئی کوڈ اوپن سورس نہیں۔ آپ چاہے ٹیکنالوجی کو جتنا جانتے ہوں، آپ نہیں جان سکتے کہ یہ بزنس کس بنیاد پر کھڑا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ کوئی بزنس ہو ہی نہیں رہا۔ عام صارفین کےلیے اس کا کیا مطلب ہے کہ پائی نیٹ ورک کا کوئی بلاک چین یا کرپٹو نظام نہیں ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کمپنی ایک ایسی کرنسی کی بات کررہی ہے جو موجود ہی نہیں ہے۔ ایسا پہلے بھی “ون کوائن” نامی کمپنی کرچکی ہے۔”
اسوقت ایف۔آئی۔اے ،سائبر کرائم سمیت پاکستان کی تمام انٹیلی جنسیوں کے ادارے وہاں موجود تھے جہاں پہ کیپٹن احمد اپنی تحقیق اور اس پہ ہونے والی کاروائی کا خلاصہ کررہے تھے۔
ون کوائن پہ معروش نے بے چینی سے پہلو بدلہ یہ اسکی زندگی کا وہ قرطاس تھا جس پہ سیاہی بکھری تھی اور وہ اسے چاہ کے بھی بدل نہیں سکتی تھی۔
ہمارے کچھ اقدام ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں اٹھاتے وقت اس بات کا ذرا برابر احساس نہیں ہوتا کہ یہ ہمارے مستقبل میں ہمارے لیے کتنے مسائل لے کے آسکتے۔
اگرچہ حال میں رہنے والے لوگ ہمیشہ اپنے ماضی کو اچھا کہتے ہیں مگر اسکے پاس ایسا کچھ نہ تھا کہ وہ سر اٹھا کے کہہ سکتی کہ میرا ماضی بہترین تھا۔ اسیلئے اس نے اپنے ماضی کو اپنا سبق بنا لیا تھا۔ ماضی کا جوگ لینا معروش حیات کے بس کی بات نہ تھی اور نہ ہی اس نے اپنے اس سیاہ کار پہلو کو آنے والی زندگی کا حصہ بننے دینا تھا۔
آبشاروں کی سرزمین سوات پہ جہاں پہ ڈیجٹل کرنسی بنانے اور ہندساتی تحریر کا ردوبدل ہورہا تھا وہاں آئی۔ایس۔آئی کی انفارمیشن پہ جب پولیس کی جانب سے ریٹ کاروائی گئی تو کئی ایک مقامی لوگوں سمیت کئ غیرملکی باشندے بھی پکڑے گئے تھے۔
“مائیننگ فارم میں ڈیجیٹل مشینیں اور ان میں ڈیجیٹل کرنسی کے پینسٹھ یونٹس نصب تھے اور ہر یونٹ کے بارہ چینل تھے ۔اس فارم سے سات سو اسی، چینلز کام کر رہے تھے جن کے لیے درکار بجلی مقامی سطح پر نصب ٹربائن سے حاصل کی جا رہی تھی۔”
احمد کی آواز اسے ماضی کے دھندلکوں سے حال کی روشنی میں کھینچ لائی تھی۔
ایک تو غیر قانونی اور غیر ملکی سازش کو بے نقاب کیا گیا تھا وہیں پہ بجلی کے وولٹیج کا بڑی مقدار میں چوری ہونا ثابت ہورہا تھا جس میں پاکستان کے ایکٹ تحت منی لانڈرنگ سیمت ملکی اثاثوں کو نقصان پہنچانے کے کئی ایک دفعات ان ملّزمان پہ دائر کردیے گئے تھے۔
وہاں پہ موجود ہر شخص ان کی اس کامیابی کو سراہ رہا تھا۔کامیابی کا سہرا احمد کے سر سجا تھا مگر معروش کے چہرے پہ ایک طمنایت بھری مسکراہٹ تھی ۔شاید اس چیز کا احساس کے کئی لوگ اپنے حق حلال کی کمائی کو غلط راہ میں لٹانے سے بچا لیے گئے تھے۔
کچھ گناہوں کا کوئی کفارہ نہیں ہوتا مگر “لٹل کریپٹو کوئین “نے ایک گناہ کے کئی کفارے ادا کرلیے تھے اور شاید زندگی کی آخری سانس تک اسے یہ کفارے ادا کرنے تھے جن پہ اسے ذرا بھی پیشمانی نہ تھی ۔ایک فخر تھا دنیا کی نمبر ون انٹیلجنس ادارے کا حصہ بننے کا تو پیشمانی کیسی۔
احمد اور معروش اپنے اتنے اہم کیس کو سولوو کرنے پہ بے انتہا خوش تھے ۔اسے ڈیلی نیوذ میں اکثر “مس لٹل کریپٹو کوئین” کے متعلق کوئی نا کوئی آرٹیکل پڑھنے کو مل جاتا تھا جہاں اکثر اسکی دماغی صلاحیتوں کو پذیرائی کرتے اس بات کا بھی نشانہ بنایا جاتا کہ وہ ایک بزدل عورت تھی جو دنیا کی نظروں سے چھپ گئی۔
اکثراوقات اسکے مرنے کی بھی خبر شائع کی جاتی تھیں۔”مس لٹل کریپٹو کوئین”ایک ایسا معمہ ثابت ہورہی تھیں جسے کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ کہاں گئی اور جو جانتے تھے انکیلئے وہ بہت قیمتی تھی اور اس راز کو انٹیلجنس اداروں کے کئی ایک رازوں سمیت دفن کرلیا گیا تھا۔
༻━━━━━⊱༻
“انوشے آپی” وسام کی روہانسی آواز پہ اس نے پیچھے مڑ کے دیکھا جو کنفیوژ سی اپنے ساتھ چلتے براؤن کسٹیوم ٹیڈی بیئیر سے الجھن میں مبتلا تھی جو مسلسل ہی چپ چپ اور سنجیدہ سی وسام کو چھیڑنے میں بلکہ انٹرٹین کرنے کی کوشش میں تھا جو ان کا کام تھا۔
“کیا ہوگیا وسو اتنا ڈپریس کیوں ہورہی اتنا کیوٹ سا تو ہے۔” انوشے نے اسکے فیس پہ ناک کیا جو شاید اس ٹیڈی بیئر کو پسند نہیں آیا تھا تبھی اس نے اپنے دراز ہاتھوں سے “نو” کا اشارہ کیا ۔
انوشے کو اپنے لیے اتنے پیارے ٹیڈی کا روڈ ہونا پسند نہیں آیا تھا۔ وہ اسکے بدلتے تیوروں کو اگنور کیے اب وسام کے بالوں پہ ہاتھ پھیرنے لگا تھا۔اس سے پہلے کے وسام کے آنسو نکلتے انوشے نے اسے اپنی طرف کھینچا اب تو اسے بھی وہ ٹیڈی بیئر خطرناک لگ رہا تھا جو بھی تھا کسٹیوم پہنے تھا تو آدمی۔
“کیا تھا یہ آپی۔” وسام نے اپنی آنکھوں میں آنسو بھرے سوال کیا وہ جو خود اس ٹیڈی کے عجیب وغریب برتاؤ سے پریشان تھی خود پہ قابو پایا۔
“ارے کچھ نہیں وسو جان یہ تو بس کسٹمرز کے ساتھ آئے بچوں کو انٹرٹین کرنے کیلئے ہوتےہیں تاکہ ان کے ماں باپ کا دھیان شاپنگ پہ اور بچوں کا مستی پہ لگے۔”انتہائی بشاشت سے کہتے اس نے وسام کو مطمئن کرنا چاہا تھا۔
“مگر وہ مجھے بار بار اپنا فون نمبر کیوں پکڑوا رہا تھا۔”ایک اور سوال جس پہ انوشے حیرت زدہ رہ گئی یقیناً یہ ناقابل برداشت عمل تھا۔
“تم مجھے پہلے نہیں بتا سکتی تھی اگر ایسا کچھ تھا بھی تو میں ابھی اس واہیات شخص کی کمپلین کرتی ہوں۔” انوشے کا پارہ ہائی ہوا اور اسکا ہاتھ تھامے کاؤنٹر کی طرف بڑھی ٹھیک اسی وقت وسام کا موبائل بج اٹھا جہاں واسق کا نام جگمگا رہا تھا ۔وسام نے بنا وقت ضائع کیے کال اٹینڈ کرلی اور چہکوں پہکوں رونا شروع کردیا۔
انوشے کا دل چاہ رہا تھا اس بیوقوف لڑکی کا سر پھوڑ دے یا اپنا سر دیوار میں مار لے ۔وہ روتے ہوئے اسے ابھی کی ہوئی واردات بتا رہی تھی جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے انوشے کو موبائل پکڑانے کا کہا جہاں سے ان دونوں کو فوراً مال سے نکلنے کے آرڈر جاری کیے گئے تھے ۔
“حد یار بیوقوفی کی اتنا رونا کس بات کا ڈال دیا میں کررہی تھی نا ہینڈل اب نجانے واسق بھائی اسکا کیا حال کریں۔”انوشے کے چہرے پہ پریشانی کے آثار تھے وہ چاہ رہی تھی کہ ہلکی پھلکی وارننگ دلائے گی مگر اب تو وہ سخت ہاتھوں میں جانے والا تھا یقیناً۔
سیکنڈ فلور پہ ٹہرے اس ٹیڈی بئیر نے مال کے آؤٹ ڈور سے نکلتی انوشے اور وسام کو ہی اپنی نظروں میں رکھا ہوا تھا جہاں وہ دونوں کسی بات پہ الجھتی باہر کی طرف بڑھ رہی تھیں وہی کوئی ایسا بھی تھا جسکی مسلسل نظر اس ٹیڈی بئیر پہ تھی ۔
نائٹ کلب میں بیٹھا وہ شخص مسلسل اپنے ہاتھ میں تھامی کی چین گھما رہا تھا جبکہ اضطرابی حالت میں وہ اپنی ایک ٹانگ ہلاتے ہونٹ چبائے جارہا تھا۔نظریں سامنے نصب اسکرین کے بدلتے مناظر کا محاسبہ کررہیں تھیں دور کہیں ڈور بیل کی آواز بھی اسے اپنی جانب متوجہ نہیں کرپارہی تھی۔ اچانک ہی ایک منظر پہ اسکی نگاہ ٹکی اور ساتھ میں جسم کی حرکت بھی ۔وہ کوئی جوکر تھا بظاہر تو ایسا کچھ بھی نہ تھا جو اس جوکر کو مشکوک کرتا مگر اپنے منصوبے کی اتنی بڑی ناکامی آر۔جے کو ہضم نہیں ہورہی تھی ۔انکی تنظیم کا لگایا گیا بم بلاسٹ ہوچکا تھا مگر کہاں اس وقت کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا ۔
موبائل ہاتھ میں لیے اس نے کچھ نمبر پش کیے اور اس جوکر کو ٹریس کرنے کا کہا تھا۔ جبکہ اسکے ساتھی پاگل پن کی حدوں کو چھو رہے تھے ایسے میں بنا کسی انجام کی پرواہ کیے انہوں نے شاپنگ مال کے ہر حصے کو یرغمال بنا لیا تھا۔تمام افراد کو سینٹر میں اکٹھا کیا گیا تھا۔وہیں جی ۔ایج۔کیو راولپنڈی میں اسوقت ایک ایمرجنسی کا سماں تھا۔
“کیا کررہی تھیں آپکی ایجنسیاں ،اتنا بڑا پلان جسے کریک کرنے کا آپکے پاس کوئی منصوبہ نہیں۔” ڈی۔جی آئی۔ایس ۔آئی کی اسوقت کلاس لگ رہی تھی جہاں تک انکے علم میں بات تھی شاپنگ سنٹر میں بم ڈفیوژ کردیاگیا تھا اور انکے پاس کوئی سائیڈ پلان بھی نہ تھا۔
“کیسے کریں گے اتنے بڑے پلان کو کریک ڈی۔جی صاحب آخر کچھ تو سوچا ہوگا آپ لوگوں نے؟” آرمی چیف کی طرف سے بار بار کی انکوائری اسوقت ایک تہلکہ مچا ہوا تھا جبکہ پاکستان کا میڈیا پاکستان کی ہی اسپیشل فورسز کو ٹارگٹ کرنے میں مصروف تھا۔
سیاسی لوگ اپنی سیاست چمکانے کو حکومت وقت کی پالسیوں کو ناقص ٹہرا رہے تھے تو وہیں کچھ زبانیں “را” کی بولی بول رہی تھیں جہاں مسلسل آرمڈ فورسز کو ٹارگٹ کیا جارہا تھا۔
اب اس ٹاسک کی ذمداری ایس ۔ایس جی کمانڈوز کو دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
“سر مال میں موجود ایک شخص نے وہاں پہ موجود خفیہ راستوں کا میپ بھیجا ہے اور ساتھ ہی ان افراد کی تعداد جنہوں نے ان لوگوں کو یرغمال بنایا ہے۔” معروش نے ایک ویڈیو سامنے لائی جو اس آپریشن میں کامیابی کا پہلا پڑاؤ ثابت ہوسکتی تھی۔
“اس بات کی کیا گارنٹی ہے مسسز معروش کہ یہ کوئی ٹریپ نہیں ہے۔” ارتضٰی کو کچھ کھٹکا سا لگا تھا کہ آخر یہ ویڈیو اور میپ معروش کو ہی کیوں بھیجا گیا۔
“سر ویڈیو بھیجنے والے کا یہ بھی کہنا ہے اس نے کمانڈ ونگ میں موجود قابل بھروسہ لوگوں کو ویڈیو شئیر کی ہے۔” انتہائی شائستگی سے کہتے ارتضٰی کو لٹ ڈاؤن کیا گیا تھا۔
وہ اپنا سا منہ لے کے رہ گیا اسوقت جب وہ لوگ موبائل بھی نہیں اٹھا سکتے تھے ۔ کیسے جان سکتے تھے کہ وہ اس مخبری کی گڈ لسٹ میں تھے بھی کہ نہیں۔
“کیپٹن روحان آپ مال کے انٹرئیر بلڈنگ میں سنائپر گن لے کے اپنی پوزیشن سنبھالیں گے۔”آپریشن کمانڈ کو سنبھالتے ہی احکامات اور لائحہ عمل تیار کیا جانے لگا تھا۔
“ہوسکتا ہے کہ کوئی ٹیررسٹ اندر سے کسی آدمی کو گن پوائنٹ پہ لے کے وہاں سے نکلنے کی کوشش کرے اس صورت میں موقع ہی نہیں دینا ہے ڈو اینڈ ڈائی کا۔”روحان نے بغور سنتے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
یہ سحَر جو کبھی فردا ہے کبھی ہے امروز
نہیں معلوم کہ ہوتی ہے کہاں سے پیدا۔۔۔
وہ سحَر جس سے لَرزتا ہے شبستانِ وجود
ہوتی ہے بندۂ مومن کی اذاں سے پیدا۔۔
چھ کمانڈوز پہ مشتمل یہ دستہ اپنے مشن کی تکمیل کو تیار تھا جہاں انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے اتارا جانا تھا۔
وہیں مال میں موجود دہشتگردوں نے اپنی شرائط حکومت تک پہنچانی شروع کردی تھیں جن میں انہیں سیفلی وہاں سے نکلنے اور اپنے کچھ ساتھیوں کی رہائی مانگی گئی تھی۔وہیں مال کے باہر موجود اینٹی ٹیررسٹ فورس کو دیکھتے انہیں یہ اب مزاحکہ خیز لگ رہا تھا۔
یہ طوفان ابرق کی سزائے موت اور کچھ دہشتگردوں کے خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھ لگنے سے برپا ہوا تھا۔
مال کی چھت پہ چھ کمانڈوز کا دستہ اترا جن میں کچھ اسنائپرز کو فرنٹ بلڈنگ سے ٹارگٹ ریڈی کرنا تھا۔ہیڈ کواٹر میں موجود لوگ فلائنگ آپریشن اور جیکٹ میں لگے کیمروں کی مدد سے اندر کا منظر دیکھ رہے تھے وہیں مال کے تمام سی۔سی۔ٹی۔وی کیمروں کو ہیک کرتے ان میں ہونے والی سرگرمیوں کی نشاندہی بھی کمانڈ کی جارہی تھی۔
وسام اور انوشے گھر پہنچے تو میڈیا پہ ایک طوفان برپا تھا ۔وہ اسی مال کا منظر تھا جہاں سے چنت منٹ پہلے وہ نکلی تھیں اور ایک پھر اسے یرغمال بنا لیا تھا۔انوشے نے ایک بے چین نگاہ ٹی وی پہ ڈالتے معروش کو کنٹکیٹ کیا مگر اسے کوئی رسپونس نہیں مل پارہا تھا۔
دوسری طرف ہیڈ کواٹر سے مسلسل ملتی انسٹرکشنز کو فالو کرتے چار کمانڈو بڑے ہال میں انٹر ہوئے جہاں پہ لوگوں کی بڑی تعداد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔
“انکل پانی۔”وہ چھ سال کی بچی تھی جس نے براؤن ٹیڈی بئیر کا ہاتھ ہلاتے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔
“اے لڑکی چپ چاپ بیٹھی رہو ورنہ ابھی گولیوں سے چھلنی کردونگا۔”
ایک کرخت صورت لیے شخص نے اس بچی کو گھورا ۔وہ تعداد میں چھ لوگ تھے مگر انکے پاس اسلحہ کافی مقدار میں موجود تھا۔
“میں پانی لادیتا ہوں۔”ٹیڈی بئیر نے اپنے ماسک اتارا تھا۔ان میں ایک شخص کو نجانے کیوں اسکی شکل جانی پہچانی لگی تھی۔
وہیں ایک مدھم سی لیزر لائٹ کا عکس ٹیڈی بئیر سے ہوتا اس شخص پہ ٹہرا تھا جو اسکی طرف بڑھ رہا تھا۔ایک کراہ کی صورت میں وہ شخص زمین پہ گرتے تڑپنے لگا تھا۔
اپنے ساتھی کی یہ پراسرار خونی موت اسکے ساتھیوں میں کھلبلی مچا گئی تھی۔وہ ایک ایک شخص کو ایکسرے کرتی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے مگر معمالہ سمجھ سے باہر تھا۔
“پلیز مجھے اس بچی کیلئے پانی لانے دیں اگر آپ چاہیں تو میرے ساتھ چل لیں۔”وہ ٹیڈی بئیر ایک دوسرے شخص کے پاس آیا تھا جسکے ماتھے پہ ٹھنڈے پسینے آرہے تھے سامنے ہی اسکا ایک ساتھی بےجان پڑا تھا شاید وہ بھی کچھ دیر فرار چاہ رہا تھا تبھی اس ٹیڈی کے ہمراہ واٹر کولر والے حصے کی طرف بڑھا تھا۔
چلتے ہوئے ٹیڈی بئیر نے سائڈ پہ پڑے ڈمی کو ٹھوکر ماری جو زمین پہ گرا۔
“یہ کیا کیا ہے تم نے احمق۔”اس ماسک والے شخص نے ٹیڈی کو گھورا۔
“ائی ۔ایم سوری سر ..”کہتے دوسرے لمحے اس نے جھکتے ہوئے اپنے شوز سے تیزدھار آلہ نکالتے بنا اسے کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع دیے اسکی گردن میں گھونپ دیا۔اسکی آنکھیں باہر کو ابل رہی تھیں۔
جلدی سے اسے واشروم کی طرف دھکیلتے ٹیڈی بئیر کا لباس اسے پہنائے اور خود اسکا گیٹ اپ اختیار کرتے وہ اسی ہال کی طرف بڑھ رہا تھا جب اپنی کمر میں کوئی چبھتی چیز معلوم پڑی۔
“اوہ شٹ مین۔”اسکی آواز میں درد کی شدت تھی۔کمانڈو یونفارم میں ملبوس ارتضٰی نے حیران نظروں سے اسے دیکھا۔
وہ کچھ ہی دیر میں حواس کھوتے زمین پہ گرا تھا۔ارتضٰی نے آگے بڑھتے اسکا ماسک ہٹایا جہاں واسق کا پرسکون چہرہ دیکھتے وہ پریشان ہو اٹھا ۔
ٹیڈی بئیر کے لباس میں موجود واسق نے ایک دہشتگرد کو جہنم وصل کرتے دوسروں کا رخ کیا تھا مگر ارتضٰی کی غلط انٹری اور بے ہوشی کا انجکشن گھونپنے پہ وہ ہوش وخرد سے بیگانہ زمین پہ پڑا تھا۔
کچھ دیر میں کمانڈوز نے مکمل طور پہ اس مال کو خالی کرواتے وہاں سے لوگوں کو سیفلی نکال لیا تھا۔
༻━━━━━⊱༻
اک چاند تنہا کھڑا رہا،
میرے آسمان سے ذرا پرے
میرے ساتھ ساتھ سفر میں تھا،
میری منزلوں سے ذرا پرے
تیری جستجو کے حصار سے،
تیرے خواب تیرے خیال سے
میں وہ شخص ہوں جو کھڑا رہا،
تیری چاہتوں سے ذرا پرے..
کبھی دل کی بات کہی نہ تھی،
جو کہی تو وہ بھی دبی دبی
میرے لفظ پورے تو تھے مگر،
تیری سماعتوں سے ذرا پرے..
تو چلا گیا میرے ہمسفر،
ذرا دیکھ مڑ کے تو اک نظر
میری کشتیاں ہیں جلی ہوئی،
تیرے ساحلوں سے ذرا پرے……
آج پھر وہ ڈوبتے سورج کے منظر کے کینوس پہ نظریں جمائے کھڑی تھی۔روحان کی تین کامیاب سرجری کے بعد آج وہ وطن واپس لوٹ رہا تھا۔اگرچہ وہ ابھی اپنے سہارے چل نہیں سکتا تھا مگر اسٹک کی مدد سے کافی حدتک اپنا وزن سہار سکتا تھا۔ڈاکٹر حسیبہ مسلسل اس سے رابطے میں تھیں۔روحان کو اس بات سے بے خبر رکھا گیا تھا کہ اسکی غیر موجودگی میں بھی وہ یہاں رہ رہی تھی۔کئی بار کرنل ضیاء اسے لینے آئے مگر اس نے اپنی محبت کی سرخروئی کو مقدم رکھا۔
اور پھر وہ لوٹ آیا ۔
پہلے سے زیادہ صحت مند لگ رہا تھا ۔کرنل ضیاء اور ان تینوں نے اسے اپنے گھیرے میں لیا ہوا تھا۔روحان کی نظر اس پہ پڑچکی تھی ۔کتنے دن بعد وہ اسے دیکھ رہا تھا۔جسکا چہرہ کملائے ہوئے گلاب سا لگ رہا تھا۔
“خوش ہیں نا اب آپ ؟”وسام نے شرارتی انداز میں کہتے اسکے تاثرات جانچنے چاہے مگر دوسری طرف بلکل سپاٹ اور جزبات سے عاری چہرہ لیے وہ ان سب کیلئے چائے بنانے لگی تھی۔
“تمہاری صحت دیکھ کے اندازہ ہورہا ہے کہ تم نے وہاں کتنے پرسکون زندگی بھرے لمحات گزارے ہیں اور ایک ہم ہیں جو ہر روز ہی ایک نئے امتحان سے گزرتے تھے۔”
ارتضٰی نے بیچارگی سے کہتے چہرے کے کئی زاویے بدلے تھے۔
“کیا مطلب میرے پیچھے ایسا کیا ہوا؟”روحان متجسس ہوا۔ارتضٰی کا چہرہ تاریک ہوا تو کم غم واسق کے بھی نہ تھے جسکی بیوی ایک ہفتے سے یہاں ڈیرے جمائے بیٹھی تھی۔
“اپنی زندگی تو بڑے سکون میں گزری ہے انہی سے پوچھ لو کوئی قیس بنا ہے تو کوئی مجنوں۔”احمد نے شانے اچکاتے اپنی پرسکون زندگی کا راز بتایا تو ان دونوں کو اپنی انسلٹ فیل ہوئی تبھی آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ ہوا اور ساتھ میں بےسرے راگ الاپنے کی تیاتی پکڑی گئی تھی۔
” ایک تھا لڑکا ایس ایس جی کا، ایک تھی لڑکی فرنٹیئر کارپس کی ،عسکری رجمنٹ میں ملے روز ملنے لگے پھر شرارت ہوئی اور۔۔”
“اور کہانی ختم ہوگئی” ارتضٰی جو احمد کی واٹ لگانے کو کہانی کا آغاز کررہا تھا ۔احمد نے آنکھیں دکھاتے بات ختم کردی۔جبکہ روحان نے بغور ان دونوں کو دیکھا ۔
بڑوں کے جانے کے بعد ایک الگ محفل سجی تھی انوشے اور وسام کچن میں گھسی تھیں جبکہ و تینوں اسے پیچھے ہونے والے حادثات اور واقعات کی داستان سنانے میں مصروف تھے۔
جس میں تازہ تازہ ایڈیشن احمد کی داستان محبت جو عسکری کیمپ میں شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوگئی تھی اسکا تڑکا ضرور ارتضٰی اور واسق کے ہاتھ لگا تھا۔
واسق اور ارتضٰی کے اپنے روگ جوگ تھے۔
“اوہ پھر معروش بھابھی سے مکمل بائیکاٹ ہے تمہارا؟”روحان نے ترحم آمیز نگاہوں سے ارتضٰی کو دیکھا جسکی حالت واقعی کافی قابل رحم ہوچکی تھی ناکام مجنوں جیسی۔
“وہ کہتی ہے جس شخص نے اپنے محرم رشتے کو پروٹیکٹ نہیں کیا وہ اس سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا چاہتی۔”سر جھکائے اسکے الفاظ دہرائے تھے۔
“کچھ کم ستم ہم پہ بھی نہیں ۔میں تو شکر کررہا تم آگئے اب میری بیوی بھی گھر کیلئے رخت سفر باندھے گی۔”واسق کے انگ انگ سے خوشی ٹپک رہی تھی۔سب سے زیادہ تو واسق کی داستان قابل گرفت تھی ۔
“جی نہیں میں کہیں نہیں جارہی روحان لالہ کیا آپکے پاس میرے لیے ایک کمرے کی بھی گنجائش نہیں ہوگی۔”آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو بھرے اس نے جس انداز میں روحان سے بولا وہاں بیٹھے ہر شخص کا دل پسیج گیا تھا۔
“ٹھیک ہے آپ نہیں رکھنا چاہتے میں حمزہ بھائی(ارتضٰی) کے ساتھ چلی جاؤنگی۔اب کے رخ روشن ارتضٰی کی جانب تھا ۔واسق کا دل چاہ رہا تھا ابھی اس پٹاخہ کو اٹھا کے لے جائے ۔
“بلکل چلیئے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انکی ایک عدد بیوی جو ہے وہ گھر سے مفرور ہیں اور یہ صاحب بھی اکثروبیشتر ڈیوٹی پہ پائے جاتے جبکہ انکے گھر ایک بہت بڑے بھوت کا سائہ منڈلاتا رہتا ہے ایسے میں آپ سوچ لیں بھابھی جی۔”احمد کا انداز بہت پراسرار تھا اور ہمدردی جتاتا بھی۔
ارتضٰی نے معروش کیلئے”مفرور”بولنے پہ اسے آنکھیں دکھائیں۔
“مجھے لگتا یہاں کچھ اہم ڈسکشن چل رہی ہےغلط وقت پہ آگئی میں شاید۔”آواز تھی کہ بلاسٹ سوائے وسام کے سب ہی چونکے تھے ۔وسام حیران پریشان سی آنے والی کو دیکھ رہی تھی جسکی تیز نگاہیں احمد پہ ٹکی تھیں۔
“اوہ آج لگتا شام کے بعد سورج صاحب اپنا رخ روشن نہیں دکھائیں گے آخر کو مسسز ارتضٰی یہاں ہم سب میں موجود ہیں۔”انوشے کی آواز نے ماحول کی سنجیدگی کو قدرے کم کیا۔
“فار کائنڈ یور انفارمیشن سورج صاحب شام کے بعد ہمیشہ مفرور ہی رہتے ہیں۔”معروش نے انوشے کی بات کا حاضر دماغی سے جواب دیا وہاں بیٹھا ہر شخص عش عش کر اٹھا تھا۔
“واہ واہ !کیا سینس آف ہیومر پایا ہے میری پارٹنر نے پراؤڈ ٹو یو گرل۔”صاف لگ رہا تھا کہ احمد اپنی گل فشانیوں کا ازالہ کررہا تھا جویقینی طور پہ معروش کے کانوں تک سرائیت کرچکی تھیں۔
“کیسے ہیں کیپٹن روحان،ویلکم بیک ۔”انہیں مکمل اگنور کرتے انتہائی پروفیشنل انداز میں کہتے اسے نے اپنے ساتھ لایا ووکے روحان کی طرف بڑھایا ۔چہرے پہ بھی مصنوعی مسکراہٹ کی چھاپ نمایاں تھی۔
“تھینکس بھابھی جی۔”روحان نے خندہ پیشانی سے جواب دیتے اسے بیٹھنے کی آفر کی۔انوشے بھی انکی باتوں میں حصہ لیتی میزبانی کے فرائض سرانجام دے رہی تھی۔
“کیا گھور رہا ہے بچی کی جان لے گا کیا۔”واسق نے معروش کو تاڑتے ارتضٰی کے کان میں سرگوشی جس نے ماہان ڈھیٹ ہونے کا ثبوت دیتے ایک گھوری سے اسے نوازتے پھر سے نگاہ کا مرکز معروش حیات کو بنایا تھا۔
جانے ان گزرے دنوں میں وہ زیادہ خوبصورت ہوگئی تھی یا اسے ہی تازہ تازہ عشق کا بخار چڑھ رہا تھا ۔
وہ ان کمفرٹیبل سی پہلو بدل کے رہ گئی ۔اتنے سارے لوگوں میں ارتضٰی کی بےباک نگاہیں اسے بھی کنفیوژ کررہی تھیں۔جلد ہی انوشے اور روحان کو الواعی کملات کہتے وہاں سے رخصت ہوچکی تھی۔ارتضٰی نے سوالیہ نظروں سے واسق کو دیکھا جس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسکی ہمت بندھائی ۔اس سے پہلے کہ وہ گیٹ کی طرف بڑھتی ارتضٰی نے اسے جا لیا۔
“میں چھوڑ دوں؟”ابھی وہ لان تک پہنچی تھی کہ ارتضٰی کی آواز نے اسے رکنے پہ مجبور کردیا۔
“چھوڑنے کی تو آپکو بہت بری عادت ہے ارتضٰی میر حیدر لیکن آپکا شکریہ میں اپنی منزل تک پہنچ جاؤں گی۔”سوال گندم جواب چنا کے مصداق پہ عمل پیرا ہوتے اس نے گیٹ کی طرف قدم بڑھائے جب وہ اسکی راہ میں حائل ہوا۔
“سوری یار پلیز واپس آجاؤ تمہارے بغیر زندگی ایک دم بنجر سی ہوگئی ہے۔” قدم بڑھائے درمیانی فاصلہ کم کیا مگر معروش نے پیچھے ہوتے دوبارہ سے خلیج حائل کی۔
“بنجر مزاج انسانوں کو کوئی محبت راس نہیں آتی ارتضٰی حیدر وہ کیکر کے ایسے درخت ہوتے ہیں جسکی جتنی آبیاری کرلو ان سے سوائے کانٹوں کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا اور کبھی بہاررت میں اپنی چھاپ دکھا بھی دیں تو کوئی ان سے الجھنا نہیں چاہے گا کیونکہ ایک پھول کیلئے وہ ان کانٹوں سے نہیں الجھ سکتے۔”
دل ٹوٹنے کا درد کیا تھا معروش حیات کا ایک لفظ لفظ بیان کررہا تھا۔اگر اس نے طیبہ بیگم کو کیکر کا درخت بولا تھا تو اس میں کوئی ممانعت بھی نہ تھی۔ارتضٰی ایک ایسا پھول تھا جسکی حفاظت پہلے دن سے ہی اس کانٹوں بھرے درخت نے کی تھی مگر اس میں اپنے مفاد بھی تو شامل تھے۔
“سوری ٹویو کیپٹن حیدر ،کنٹریکٹ از اوور آپ چاہیں تو کسی کو بھی اپنی لائف میں ویلکم کرسکتے ہیں تاکہ میرے خلاف سازشوں کا جال بننا بند ہو اور میں بھی زندگی سے اپنی خوشیاں کشید کرسکوں۔”مبہم انداز میں ہربات واضع تھی ۔
ارتضٰی پہ تو غشی طاری ہونے لگی تھی ۔وہیں برسات کی ہلکی پھوار نے ان دونوں کے چہروں پہ نمی چھوڑی۔
“میں اسے ڈائیورس دے چکا ہوں ،اسکا ہونا نا ہونا میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔”اب کے بڑھتے قدموں کو روکنے کیلئے اس نے معروش کے بازو پہ اپنی گرفت مضبوط کی۔
“دیکھیں!”اس نے انگلی اٹھائے اسے وارن کرنا چاہا مگر ارتضٰی کی آنکھوں میں جزبوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر نظر آیا تواس نے نظریں چراتے رخ موڑ لیا۔
“دیکھیں تو آپ مسسز معروش ارتضٰی میر ،ان آنکھوں میں جہاں ہجر کا کرب نمایاں ہے،ان سکوت زدہ آنکھوں کے پیچھے چھپے طوفان کو کیا زبان دوں۔اگر یہ سننا مقصود ہے کہ مجھے معروش حیات سے محبت ہے اور اپنی ہرنادانی پہ میں پیشمان ہوں تو ہاں میں اپنے ہرجرم کا اقرار کرتا ہوں۔”وہ جو ہمیشہ پرسکون ٹھنڈے جھرنےجیسا لگتا تھا ایک دم اس میں ہلچل پیدا ہوئی تھی ۔گھٹنوں کے بل زمین پہ بیٹھتے اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیا ۔وہ شکستہ خوردہ انداز لیے اسکے سامنے بیٹھا تھا۔
وہ اس بے مہر شخص کیلئے رونا نہیں چاہتی تھی مگر ہر طوفان سے بچانے والا شخص اسے خود اتنا بے مول کرگیا تھا جو کہ اسکی عزت نفس کو مجروح کرنے کو کافی تھا۔ انکے مابین کا رشتہ ایک اٹل حقیقت تھا جو اپنی حثیت منوانے پہ باضد تھا۔
وسام کی معروفت باہر کے منظر کی خبر اندر موجود لوگوں تک پہنچ چکی تھی۔
گھٹنوں پہ بیٹھا وہ شخص اپنے اطراف جمع ہوتے لوگوں سے انجان نہ تھا مگر نجانے اسے ایسا کیوں لگ رہا تھا کہ جو کچھ تھے وہ یہی پل تھے اسکے بعد شاید اسے معروش حیات سے روبرو ہونے کا موقع نہ ملے۔
“میں نے ہر طرح سے اپنی زندگی کو سوچا ہے اپنا پاسٹ تمہارے بغیر نامکمل سا پایا ہے،اپنا آج سوچتا ہوں تو سانس لینے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی مجھے ۔میں جانتا ہوّں کہ تمہارا ساتھ کسی زہر کی مانند ہے جو میرے جسم کو بےجان کردے گا مگر میں یہ زہر پینے کو مجبور ہوں کیونکہ کہیں نا کہیں یہ زہر میرے لیے زندگی کی رمق بھی پیدا کرسکتا ہے۔” سب جانتے تھے کہ وہ معروش کو کیوں “زہر”سے تشبہہ دے رہا تھا ۔اسے معروش حیات کیلئے طیبہ بیگم سے رشتہ توڑنا پڑ رہا تھا۔مگر وہ خوشی سے یہ زہر پینے کوتیار تھا ۔جس عورت نے اپنی ممتا کو دولت کے پیمانے میں تولہ تھا اسکیلئے جنت کا مکین بھی اس سے بےدخل ہونے کوتیار ہوگیا تھا۔
اسکی آنکھوں سے آنسورواں تھے مگر وہ اپنی ہتھلیوں کو اسکے اشکوں سے بھگیتا دیکھ رہی تھی ۔جس نے اس جیسی گناہ گار کیلئے اپنی جنت ٹھکرا دی تھی۔نجانے وہ شخص عشق کی کونسی معراج پہ بیٹھا تھا۔
وہاں موجود ہر شخص اپنے آنسوؤں چھپانے کو ایک دوسرے سے چہرہ چھپا رہاتھا۔
واسق کو یاد آرہا تھا کہ کیسے اسکی خودغرض ماں نے اپنی بےجا خواہشوں کیلئے اپنے دو معصوم لخت جگر کو زمانے کی سرد ہواؤں کے سپرد کردیا تھا۔اور وہ بھی محروم جنت ٹہرا ۔
احمد شکر گزار تھا اپنے رب کی ذات کا کہ وہ ایک ایسی مڈل کلاس دنیا کا واسی تھا جہاں کی مائیں اپنا کھانا پینا تک اپنی اولاد کی خاطر بھول جاتی تھیں ۔جہاں اولاد کو فرشتوں جیسا مان دیا جاتا تھا مگر ارتضٰی کیلئے اسکی ماں کا یہ رویہ کسی دوست سے پوشیدہ نہ تھا جب بات ہیڈکواٹر تک جاپہنچی تھی شرمندگی ہی شرمندگی تھی۔
بھلا اس سے بڑھ کے بھی کوئی قیامت ہوگی۔
روحان کے سامنے ایک ایسی دیوی کی مورت کا عکس ابھرا جس نے اسے فرش سے عرش تک
لابٹھایا تھا ۔
انوشے کو یاد پڑرہا تھا کہ کیسے اسکی ماں نے بے گناہ ہوتے ہوئے بھی ساری زندگی گناہ گار ہونے کی سزا کاٹی اور بچپن میں ہی ضیاء صاحب نے انہیں اپنی اولاد سے الگ کردیا مگر اس نے کبھی اپنے فرض اور عقائد سے منہ نہیں موڑا ۔ضیاء صاحب کی اتنی بےاعتنائی کے باوجود بھی انہوں نے قبلہ نہیں بدلہ اسے خود پہ رشک ہورہا تھا کہ وہ ایک ایسی عظیم ماں کی بیٹی تھی جنہوں نے اپنی اولاد کے ساتھ دوسروں کیلئے بھی جینے کی وجہ ڈھونڈی تھی۔
ان سب میں اکثر لوگ بروکن فیملی کا حصّہ تھے۔معروش حیات نے ایک گہری سانس بھرتے اپنے اندر موسم کی نمی کو خوش آمدید کہا ۔اسکی آنکھوں میں بھی رمشہ کی ذات کا سائیہ تھے جس نے اپنے نفس کی خاطر اس سے منہ موڑ لیا تھا۔وہ دونوں ہی ماں جیسی عظیم ہستی کے ہاتھ گھائل ہوئے تھے جہاں ایک نے نوعمری سے ہی خود پہ “چور” کا ٹیگ لگوا لیا تھا جبکہ دوسرے نے کبھی بگڑ تو کبھی سنور کے اپنی زندگی نفرت اور محبت کی منجدھار کے سپرد کیے رکھی۔
معروش نے اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیتے ان پہ ہلکا سا دباؤ دیا تو وہ جیسے کسی خواب سے جاگا تھا۔آنکھیں صاف کرتے وہ کھڑا ہوا اور بے ساختہ معروش کی طرف دیکھا جہاں ایک نرم سی مسکراہٹ اسکا استقبال کررہی تھی۔
“ہپ ہپ ہرے۔”سیٹی کی آواز کے ساتھ ہی ان تینوں کی آوازوں کا شور تھا ۔ارتضٰی کا خود پہ اختیار چھوٹا تھا جسے نے معروش حیات کو اپنے حصار میں لیتے ماتھے پہ اعتماد بھرا بوسہ دیا۔وہ اتنے لوگوں میں کی گئی اسکی بےساختہ حرکت پہ بلش کرکے رہ گئی۔ارتضٰی کا حصار اسے اس بات کی یقین دلا رہا تھا جیسے کسی نے اسے تپتے صحرا سے ٹھنڈے درخت کی چھاؤں میں لاکھڑا کیا ہو۔
༻━━━━━⊱༻
وہ صبح اسٹک کے سہارے لان میں واک کررہا تھا جب کرم دین اسکیلئے سوپ لیے چلا آیا۔
“کرم دین انوشے کہاں ہے؟”سب کے لوٹ جانے کے بعد کتنی دیر اس نے انتظار کیا تھا کہ وہ شاید کمرے میں آئے پر آج بھی انا کے قلعے مضبوط تھے۔
“جی کچن میں یہ سوپ انہی نے بنا کے بھیجا ہے۔”اگرچہ یہ بات صغیہ راز رکھنے کو بولا گیا تھا پر جب اس نے کرم دین سے پوچھ ہی لیا تھا تو اسے بتانے میں کوئی قباحت نہ تھی شاید ملازم بھی مالکوں کے درمیان حائل فاصلے کم کرنا چاہ رہے تھے۔
“ہمم لے جاؤ اسے مجھے نہیں پینا ایک کپ چائے بنا لاؤ۔”
وہ جو صاحب کے چہرے پہ خوشی کی رمق دیکھنا چاہ رہا تھا اتنے سرد رویے پہ کرم دین نے تاسف سے سر ہلاتے اندر کا رخ کیا۔
“کیا ہوا لالہ ؟سوپ نہیں پیا اس نے؟”
انوشے نا جوں کا توں باؤل دیکھا تو کچھ ٹوٹا تھا۔
“جی صاحب کہہ رہے ابھی انکا موڈ نہیں ہے اسیلئے چائے مانگ رہے ہیں ۔”کرم دین نے اسکا دل رکھنے کو جھوٹ کا سہارا لیا۔انوشے نے چائے کیلئے پانی رکھا تو کرم دین نے اسے منع کردیا نجانے کیوں لگ رہا تھا کہ روحان اسکے ہاتھ کا کچھ کھانا نہیں چاہ رہا۔
“وہ باجی آپکو صاحب بلا رہے۔”ہانتی کانپتی زرینہ (کرم۔دین کی بیوی) نے اسے روحان کا پیغام دیا وہ جانا تو نہیں چاہتی تھی مگر دل کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہمیشہ کی طرح عزت نفس کو کچلتے اسکے ایک حکم پہ لبیک کہا گیا تھا۔
روحان کو یقین نہ تھا کہ وہ ایسے چلی آئے گی ۔وہ جو اسے ٹٹکی باندھے دیکھنے میں مصروف تھا قریب آنے پہ چونکا۔
“جی بلایا تھا آپ نے کیپٹن روحان”اجنبیت کے تمام اگلے پیچھے ریکارڈ توڑتے وہ اس سے مخاطب ہوئی۔
“ہمم شکریہ ادا کرنا تھا میری غیر موجودگی میں اچھے سے میرے گھر کی دیکھ بھال کرنے کا۔”روحان نے احسان مند ہونے کا دکھاوا کرنا چاہا ۔چونکہ بات کرنے کو کچھ بھی نہ تھا اسیلئے عذر تراشا ۔
“یہ میرا بھی گھر ہے۔”انتہائی روکھے انداز میں کہتے اس نے سامنے لگے ناریل کے درخت پہ فوکس کیا۔
“اور گھر والا؟”انداز سنجیدہ تھا مگر بات نہیں۔انوشے نے حیرت زدہ ہوتے اسکا انداز دیکھا مگر مکمل اگنور کیا۔
“مبارکباد نہیں دو گی اپنے قدموں پہ چل کے واپس آنے پہ۔”اسٹک کے سہارے چلتے اسکے سامنے آرکا تھا ۔
“مبارک ہو”سادہ سا لہجہ نا کچھ جتایا نا سنایا۔
“جاؤں میں اب؟”اسکے حکم کی منتظر انوشے روحان کو تکلیف دے رہی تھی وہ جو ہمیشہ اسے تکیلف دیتا آیا تھا نظرانداز کرنے میں اسکا کوئی ثانی نہ تھا۔لیکن اب خود پہ بیتی تو انوشے پہ غصہ آنے لگا ۔کیا وہ بچی تھی جسے روحان کے نادم انداز محسوس نہیں ہورہے تھے۔
“نہیں مجھے ایکسرسائز کرنی ہے آئی کانٹ ڈو ود آؤٹ سپورٹ۔”کھردرے انداز میں اپنا مدعا پیش کیا ۔انوشے نے گہری نگاہوں سے اسے گھورا جیسے روحان کی ذہنی حالت پہ شبہ گزر رہا ہو۔بھلا وہ اور انوشے کا سہارا چاہیئے ایسا اسکی انا نے گوارہ کیسے کرلیا۔
مگر بغیر کوئی بحث وتمہید وہ اسکا بازو بن گئی ۔
ہر صبح اسے بغیر اسٹک چلنے میں مدد دیتی ۔آہستہ آہستہ وہ بچوں کی طرح اپنے دونوں پاؤں زمین پہ جمائے کھڑا ہونے لگا تھا۔ان دونوں کے درمیان زبانی کلامی گفتگو کم رہتی مگر آہستہ آہستہ وہ اسکے کھانے پینے سے لے کر پہننے تک کی سلیکشن کا حصّہ بننے لگی تھی ۔اب بھی ان دونوں کے درمیان صدیوں کے فاصلے حائل نظر آتے تھے۔
روحان نے آفس جانا شروع کردیا تھا جہاں تمام اسٹاف نے اسکا بہترین استقبال کیا تھا وہیں کرنل ضیاء اور اسکے بیچ کے اختلافات بھی کم ہونے لگے بظاہر سب اچھا تھا مگر ان دونوں کے درمیان ایک خلا سا تھا جسے وہ دونوں ہی پر کرنے کی کوشش نہیں کرپارہے تھے۔
Part 2
یہ تیسرے ڈبے کا آخری ٹیشو تھا جو اسکی آنکھوں سے موتی چننے کا شرف حاصل کررہا تھا ۔واسق نے ایک کرلاتی نگاہ اس پہ دوڑائی۔
“اب اگر تم نے یہ سوں سوں بند نہ کی تو میں گاڑی سامنے کھمبے میں دے مارونگا۔”
“مجھے نہیں جانا آپکے ساتھ ،آپ مجھ سے پہلے جیسا پیار نہیں کرتے۔بابا نے اگر میرے چہرہ پہ یہ بنادیا تو اس میں میرا کیا قصور ہے جو آپ۔مجھ سے نفرت کرتے۔” وسام نے بلکتے ہوئے آنسوؤں میں اپنی بات پوری کی ۔واسق کو لگ رہا تھا کہ وہ اب اس سے زیادہ مزید سہل نہیں کرسکے گا ۔
گاڑی کو سائیڈ پہ روکتے مکمل طور پہ اسکی طرف متوجہ ہوا۔
“اور آپکو ایسا کب لگا کہ میں آپ سے پہلے جیسا پیار نہیں کرتا؟” بھرپور طنز کرتے اس نے وسام کا جائزہ لیا جس نے ایک ہفتے میں خود کو ہلکان کرلیا تھا فضول کی سوچوں میں رہتے۔
“وہ نوری۔۔”
“شٹ اپ یار اس نوری کا تو میں گلہ دبادوں فتنی لڑکی اور تمہیں مججھ سے زیادہ اس کام والی پہ یقین ہے ۔۔”انتہائی طیش میں آتے اس نے اسٹئرینگ پہ مکا دے مارا تھا۔
وسام نے سہم کے اسے دیکھا اور کھڑکی کے قریب سرک گئی۔واسق نے اسکے ڈرے سہمے انداز کو دیکھا تو ملامت نے آن گھیرا بھلا اس سے زیادہ کون وسام کے بچکانڈ حرکتوں سے آگاہ تھا ۔
“سوری یار میں ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا ۔”نرمی سے کہتے اسکی جانب ہاتھ بڑھایا۔
“مجھے سب سے زیادہ تکلیف دہ امر لگتا ہے جب آپ مجھ پہ ٹرسٹ نہیں کرتیں ،وسام کیا پہلے آپکے اس رویے نے ہمیں کم نقصان سے دوچار کیا ہے جو اب آپ جینے کی وجہ بھی ختم کرنے پہ تلی ہیں۔”واسق کا انداز انتہائی بکھرا ہوا تھا۔وسام کو پیشمانی ہونے لگی تھی۔اس سے بڑھ کے کوئی بدھو نہ تھا جو ہر ایک کی باتوں میں آجاتی تھی۔
“اور میں نفرت کرونگا آپ سے؟اس چہرے سے کتنا بدگمان ہیں آپ مجھ سے۔”واسق نے شرمندہ کرنے کا آخری پتا پھینکا اور گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا تھا۔
باقی کا سفر خاموشی سے کٹ گیا تھا اور گھر آکے بھی اس نے کوئی بات نہیں کی۔
“میں کیا کروں انہیں کیسے مناؤں۔”وہ بوکھلائی بوکھلائی سی گھر میں گھوم رہی تھی کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا اور بغیر خانسماں کی مدد کے وہ شوہر کے معدے سے دل تک جانے کا سفر طے نہی کرسکتی تھی۔
یوٹیوب سرکار اور گوگل بابا نے بھی اسکی مدد کرنے کو انکار کردیا تھا۔شاید ہی اسے دنیا کا کوئی اس وقت مشکل لگ رہا ہو روٹھے محبوب کو منانے سے زیادہ۔
وہ کمرے میں داخل ہوا تو کمرہ سرخ اور سفید غباروں سے بھرا تھا ۔جبکہ وہ بیڈ پہ بیٹھی مزید غبارے پھولانے کا کام کررہی تھی۔
“یہ کیا ہورہا ہے؟” واسق کو اوقعی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہاں کیا ہورہا۔وہ جو اپنے کام میں مگن تھی اسکی آواز پہ ہڑبڑائی ساتھ ہی غبارے سے اسکی توجہ ہٹی تھی اور وہ اڑتا ہوا واسق کے قدموں میں جاگرا تِھا۔
“آ آپ کیوں آگئے؟” وسام کے جواب پہ اسے شک گزرا کہ کہیں وہ اپنا ذہنی توازن کھو تو نہیں بیٹھی۔
“ظاہری بات ہے یہ میرا گھر ہے اور کہاں جانا تھا میں نے سمیٹو یہ کچرا جو پھیلا رکھا۔”بیزاری سے کہتے بیڈ پہ بکھرے بلیونز اور اس جیسی چیزوں کو ہٹاتے اپنی جگہ بنائی۔
وسام کی آنکھوں سے برسات شروع ہوئی تو واسق نے سرتھام لیا۔یقیناً اسی سے ہی کوئی غلطی ہوئی ہوگی جو برسات شروع ہوئی تھی ورنہ تو وسام صاحبہ کبھی کچھ کرتی نہ تھیں۔
“آپ مجھ سے ناراض تھے تو میں نے آپکیلئے یہ غبارے بنائے۔”وسام نے ہچکیوں میں اپنی کہانی سنائی۔واسق کی آنکھیں تحیر سے کھلیں۔
“اگر کوئی ناراض ہوتا تو آپکے ہاں غبارے پھولا کے اسے منایا جاتا ہے؟”واسق کو واقعی اسکی لوجک سمجھ سے بالاتر لگی تھی۔
“نہیں وہ ایک ڈرامے میں ہیرؤن یوں غبارے پھولا کے اور کیک کاٹ کے ہیرو کو مناتی۔”وسام نے اسکی عقل کو کوستے بہترین مدعا پیش کیا ۔واسق چکرا کہ رہ گیا تھا۔
“اسکا مطلب ہے کہ کیک بھی ہے؟لیکن کہاں ؟” واسق نے انتہائی اشتیاق سے پوچھا ۔وسام کے چہرے پہ واضع طور پہ کنفیوژن طاری تھی۔
“وہ ہے تو مگر۔۔”اس نے بستر سے اٹھتے ذرا فاصلہ بنایا۔
“اوہ واؤ آپ نے ہی بنایا ہوگا یقیناً؟” واسق کا انداز اب بھرپور ایکسائٹمنٹ لیے ہوئے تھا ۔
“جی” نظریں جھکائے جیسے کسیجرم کا اعتراف کیا۔ اور کچھ دیر بعد کیک کے نام پہ چاکلیٹ کا ایک ملیدہ سا اسکے سامنے تھا۔کیونکہ یہ کارستانی یوٹیوب سرکار کی مد میں ہوئی تھی۔
“آر یو شیور کے اس کو کھانے کے بعد میں اپنی پیاری بیوی کو پھر سے دیکھ سکونگا؟” واسق کا انداز بھرپور شرارت لیے ہوئے تھا۔وسام کا روہنسا چہرہ دیکھتے اس نے وسام کو اپنے قریب بٹھایا۔
“لو سر پہ کفن باندھے ہم چلے۔”واسق نے ایک چمچ سے تھوڑا بائیٹ لیا۔وسام نے اسکے منہ کے زاویوں سے ٹیسٹ کا اندازہ کرنا چاہا۔شاید وہ نمک اور چینی کے ذائقے سے آگاہ نہیں تھایا پھر اسکے ٹیسیٹ بڈز کا مسئلہ تھا۔مگر واسق نے انتہائی خندہ پیشانی سے مردمجاہد بنے دوسرا چمچ لیا تھا کہ ہاتھ راستے میں روک دیا گیا ۔
“آپ مجھے انسلٹ کرنے کیلئے ایسا کررہے ورنہ میں جانتی کیک اچھا نہیں بنا۔”انتہائی معصومیت سے اسکی جان فشانی والے کارنامے کو انسلٹ کا نام دے دیا گیا تھا وہیں اس ملیدے کو پھر سے کیک کا نام دیا جانا واسق کو کیک کی انسلٹ ضرور لگی تھی۔
“ارے صاحب آپ زہر بھی پلا دیں تو ہمیں منظور ہوگا اف نہیں کریں گے ہم۔”واسق کا انداز اسے سراسر اپنا مذاق اڑاتا ہوا لگا تھا۔
“مجھے آپ سے بات ہی نہیں کرنی۔”وسام اسکےرویے سے دلبرداشتہ ہوئی تھی۔ احتجاجی واک آؤٹ کرنا چاہا تو واسق راستے میں حائل ہوا ۔
“اچھا آپ مجھے اپنا پلان بتائیں ہم دونوں غبارے پھولا کے ایک دوسرے کو مناتے ہیں۔”واسق نے سرینڈر کرتے پیشکش کی تھی۔
“واقعی؟”وسام کے لہجے سے خوشی نمایاں تھی۔
“بلکل ۔”اسے تھامے وہ دوبارہ سے بچے ہوئے غباروں کے بیچ لایا تھا۔کچھ دیر بعد تک وہ اسکا موڈ ٹھیک کرچکا تھا وہیں کمرہ انکی شوخیوں اور کہلکلاہٹوں سے جگمگا رہا تھا۔
༻━━━━━⊱༻
اسے نیند میں اپنے اوپر جھکتا ہوا ایک ہیولا سا محسوس ہوا تھا وہ جاگی سوئی کیفیت میں تھی تبھی ہلکی سی چیخ مارتے بیدار ہوئی ۔وہ جو اسکے سر پہ عقیدت بھرا بوسہ دیتے ابھی ہٹا ہی تھا کہ اسکی چیخ پر بری طرح چونکا۔
“کیا ہوا معروش؟”نافہم نگاہوں سے اسے دیکھا تو وہ بھی ہوش کی نگری میں واپس آئی۔۔
“کچھ نہیں شاید ڈر گئی تھی۔”اداسی سے کہتے اس نے پھر سے کمفرٹر میں سرنگوڑا۔
وہ جانتا تھا کہ اسکا کس بات پہ موڈ آف ہے مگر وہ اسکی خواہش پوری نہیں کرسکتا ۔
ان دونوں کے درمیان حائل دوریاں تھیں کہ ختم ہونے میں نہیں آرہی تھیں۔
“اگر اٹھ ہی گئی ہیں تو کھانا گرم کردیتیں۔”
بات کرنے کی کوئی سبیل تو نکالنی تھی کھانا ہی سہی۔
“آئی۔ایم سوری میری طبیعت ٹھیک نہیں خود کرلو۔”
روکھا سا جواب دیا گیا تھا۔ارتضٰی کتنی دیر اسے بے بسی سے دیکھتا رہا ایک حتمی نتیجے پہ پہنچتے اس نے معروش کے چہرے سے کمفرٹر ہٹایا۔
“کیا یہ آپکا آخری فیصلہ ہے؟” پھر بھی اس نے ایک بار پوچھنا ضروری سمجھا تھا۔
“جی یہی سمجھ لیں۔” روشنی سے بچنے کو آنکھوں پہ بازو رکھتے نروٹھا انداز واضع تھا۔
“اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ یہ انکا کوئی نیا ڈرامہ نہیں ہے؟”ارتضٰی کا انداز ہتھیار ڈالنے والا تھا۔معروش کے واپس آتے ہی طیبہ بیگم لوٹ آئیں تھیں اور ارتضٰی کو ممتا کی جھولی کا واسطہ دیے معافیاں مانگنے لگیں ۔پر وہ کئی بار اپنی ماں پہ اعتبارکیے اپنا نقصان کرواچکا تھا اور اب کے جو ذات تھی وہ روح بن کے اسکی سانسوں میں بسنے لگی تھی ۔وہ کوئی رسک نہیں لے سکتا تھا۔
طیبہ بیگم مایوس سی لوٹ گئیں اور معروش کے دل کو بے چینیوں کے سپرد کرگئیں اور یہی سے ان دونوں کی تکرار شروع ہوئی تھی۔
معروش چاہتی تھی کہ وہ طیبہ بیگم کی خطاؤں کومعاف کردے مگر وہ اپنے میں اتنی ہمت نہیں رکھ پا رہا تھا ۔ایسے میں ان دونوں کی بات چیت مکمل بند تھی اور آخرکار اس نے معروش کی ضد کے آگے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
“میں نے انکی آنکھوں میں ندامت کے آنسوؤں دیکھے ہیں وہ کوئی ڈرامہ نہیں کررہیں۔” وہ طیبہ بیگم کی وکیل بنی انکی حمایت میں میدان میں اتری تھی۔
“بھول رہی ہیں کہ آپ نے انہیں کیکر کا درخت بولا تھا جو زمین کو اپنے کانٹوں سے اشک بار رکھتا۔”ارتضٰی کا لہجہ کچھ جتا رہا تھا۔
“وہ تو میں نے غصے میں بولا تھا اور آپ نے جو زہر بولا اسکا کیا؟”وہ جو ہمیشہ تخاطب کلام میں “تم ،تم” کرتی تھی آج پھر سے آپ جناب پہ آچکی تھی۔ارتضٰی نے نوٹ کرتے بھرپور مسکراہٹ سے نوازا تو وہ کنفیوژ ہوتے انگلیاں چٹخنے لگی۔
ارتضٰی نے انتہائی نرمی سے اسکی انگلیوں کو اپنی پوروں سے سہلایا۔
“کھانا ملے گا؟یا صورت یار سے پیٹ بھرنا پڑے گا۔”انتہائی معصومیت سے کہتے اس نے معروش کے شانے پہ اپنا سرٹکایا۔
“اگر صورت یار سے پیٹ بھر جائے تو اچھا ہے کیونکہ آج میں نے کچھ نہیں بنایا۔”انتہائی صفاچٹ جواب ۔ارتضٰی کو مایوسی نے آن گھیرا اور خود کو کوسا۔کتنا شاندار ڈنر وہ اسکے ہاتھ کا کھانا کھانے کیلئے چھوڑ کے آیا تھا۔
“کیا یہ ظلم نہیں۔”ارتضٰی کی قابل رحم حالت دیکھتے کمرہ اسکی نقرائی ہنسی سے گونج اٹھا تھا ۔
ارتضٰی نے بے خود ہوتے اسے مکمل حصار میں لیا تو معروش کے اردگرد خطرے کی گھنٹیاں بج اٹھی تھیں۔
“مم میں نے تو مزاق کیا تھا میں کھانا۔۔۔”
اس نے صاف دامن بچانا چاہا مگر ارتضٰی کی گرفت اپنے گرد سخت ہوتی محسوس ہوئی۔
محبت کے سنہرے ساحلوں پہ
تم میرا آخری جزیرہ ہو ۔۔۔
اسکی نقرائی قہقوں کے جواب میں کی گئی میٹھی سرگوشی اسے سرشار کرنے لگی تھی۔اس نے ارتضٰی کا ہررنگ دیکھا وہ شخص نفرت میں بھی باکمال تھا تو محبت کے انوکھے رنگ تو سیکھے ہی اسکی سنگت میں تھے۔ سنہرے دنوں کے خواب سجاتے اس نے ارتضٰی کی ہمراہی میں اپنی نئی زندگی کو خوش آمدید کہا۔یقیناً اب کے ملن ہمیشہ کا تھا۔
༻━━━━━⊱༻
“تم جانتی ہو ٹینس کورٹ کا وہ دن جب میں نے تمہیں پرپوز کیا ،وہ میرے لیے لائف چینجر ثابت ہوا تھا۔”معمول کے مطابق آج بھی وہ اسے بنا سہارے چلنے میں مدد دینے والی تھی جب اسکی بات سنتے انوشے کے ہاتھ کانپے تھے۔کیا وہ واقف نہ تھی روحان کی محبت کی سوغاتوں سے۔
وہ اپنی دھن میں مست کسی اور دنیا میں پہنچا ہواتھا۔
اور جب مما(ڈاکٹر حسیبہ) سے تمہارے اور انکے رشتے کا پتا چلا تو سمجھو عقیدتیں اور بڑھ گئیں،اظہار ،پیار اور۔۔”
“اعتبار وہ شاید کرنا بھول گئے تھے آپ۔۔”وہ جو ہمیشہ اسکے کٹھور رویوں کی عادی تھی اسکا مٹھاس بھرا لہجہ شاید راس نہیں آیا تھا تبھی لقمہ دیتے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“میں نے جانے کو تو نہیں بولا۔”روحان کے ہاتھ میں اسکا ہاتھ دبا تھا اسے لوٹنا پڑا تھا مگر یہ کیا اپنے کانوں پہ اسکی سانسوں کی مہک محسوس کرتے وہ بت بنی جو بنا کسی سہارے اسکے قریب چلا آیا تھا۔
“آپ۔”انوشے کی گگھی بندھی تھی۔
“شش! تمہیں بولنے کا حق میں نے ابھی بھی نہیں دیا۔”وہیں کچھ جتلاتا کٹھور لہجہ ۔انوشے کو اپنی خوش گمانی پہ شرمندگی ہوئی بھلا کیسے وہ اس شخص سے نوازشات کی توقع کرسکتی۔
“بلکل ٹھیک سوچ رہی ہو تم ،لیکن اگر کوئی شرمندہ ہو اور اسے منانے کا ڈھنگ بھی نہ آئے تو کیا کرے۔”ایک جھٹکے اسے خود سے قریب کرتے اس نے اپنی پریشانی بتائی۔
“کیوں الزام دیتے زبان نہیں لڑکھڑاتی ۔”انوشے نے خود کو اسکی گرفت سے آزاد کروانا چاہا تھا جب روحان نے جھکتے اسے اپنے بازو میں اٹھاتے اسے حواس باختہ کیا۔
“کیا کررہے ہو تم ایسے اپنی بنا سہارے اپنی ٹانگ پہ وزن نہیں ڈال سکتے۔”اسے روحان کی فکر ستانے لگی تھی۔
“تو مانتی ہو کہ موٹی ہو۔”روحان نے زبان چڑاتے اندر کی طرف رخ کیا کیونکہ برسات ابھی بھی اپنے عروج پہ تھی۔
“جی نہیں کوئی موٹی نہیں ہوں میں اتاریں مجھے “وہ بنا پانی کے مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی مگر روحان نے بغیر اسکی کسی بات پہ کان دھرے اسے ڈرائینگ روم میں لابٹھایا۔
“کیا یہ کہنا ضروری ہے کہ میں اپنے ہرعمل کیلئے شرمندہ ہوں؟”اسکے چہرے کو اپنی نظروں کے حصار میں لیتے اس نے ترش لہجے میں کہا تو انوشے کو اسکی ڈھٹائی پہ حیرت ہوئی۔
“نظر تو نہیں آرہا۔”بےرخی سے کہتے اس نے نظریں کھڑکی سے باہر نظر آتے منظر پہ جمائیں جہاں بارش کے صفاف شفاف قطرے پودوں سے ساری دھول مٹی اڑا کے لے گئےتھے۔وہیں اسکے من میں بھی ہلکی ہلکی کن من سی ہورہی تھی۔
“نظر تو تو تمہیں میری محبت بھی نہیں آتی۔”روحان نے مایوسی سے کہتے اسکی نظروں کا پیچھا کیا۔
“ضروری تو نہیں ہے کہ محبت کو لفظوں میں بیان کیا جائے روحان صاحب بعض دفعہ آپکے رویے آپکے افعال بھی بتادیتے ہیں۔”آج اسے موقع ملا تھا تو کیوں نا اتنے مہنیوں کا غبار نکالتی۔
“سیز فائر کی خلاف ورزی کررہی ہیں آپ محترمہ۔”وہ متبسم ہوتے اسکی جانب متوجہ تھا۔
“میں جانتا ہوں کہ میں اپنے ماضی کو بدل نہیں سکتا،مگر میں اپنے والے کل کو خوبصورت بنانے کی کوشش ضرور کرسکتا ہوں اگر آپ چھوٹی سی درخواست قبول کرلیں۔”روحان نے پرامید نظروں سے اسے دیکھتے کہا ۔وہ اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگی تھی۔
وہ معافی کا طلبگار تھا مگر اسکی سیلف ایگو کا بچاؤ بھی شاید ضروری تھا ۔انوشے کے اندر شدید خواہش بیدار ہوئی کہ وہ اس سے اپنے رویے کی معذرت کرے لیکن اسے اس شخص کا بھرم بھی گوارہ تھا۔
“مجھے بارش میں بھیگنا ہے۔۔”اسکی تمام سنجیدہ باتوں کا ایسا جواب روحان کو بےکل کرگیا تھا۔وہ وہاں سے اٹھنے لگا تھا جب انوشے نے اسکا ہاتھ پکڑا تھا۔اس نے حیران نگاہ انوشے پہ ڈالی۔
نہ مجھ سے اور کوئی بات مانی جائے گی
خدا کی ذات بڑی ذات مانی جائے گی
سو تُو نے دکھتی ہوئی رگ پہ ہاتھ رکھا ناں
تجھے پتہ تھا تری بات مانی جائے گی
میں کیا کروں یہ مرےعشق کی حمیّت ہے
تمہاری بے رخی سوغات مانی جائے گی
رہیں گے سارے ہی لمحات محترم تیرے
نہ میرے دن نہ مری رات مانی جائے گی
ایک سر میں چند اشعار پڑھتے اس نے روحان کا بھرم رکھتے اسے اسکی ذات کے غرور سے نکالا۔
وہ ایسی ہی تھی ہمیشہ سے روحان جانتا تھا کہ اس نے اپنا شکوہ بیان کیا تھا مگر روحان کو ہر چیز سے اول رکھا تھا۔
روحان نے اسکے ہاتھ پہ عقیدت سے لب رکھے وہ لڑکی محبت کی دیوی تھی جس نے اسکا ہر ظلم خندہ پیشانی سے سہہ لیا تھا صرف محبت کی خاطر۔اسے اپنے آپ پہ فخر ہونے لگا تھا کہ انوشے جیسی لڑکی اسکی محرم تھی جسے اپنے غرور اور جھوٹی انا کی قید میں رہتے اس نے کئی بار ہرٹ کیا تھا۔
“مجھے بارش میں بھیگنا ہے تمہارے ساتھ۔”پھر سے خواہش لبوں پہ مچلی تھی۔روحان نے سرتسلیم خم کرتے اسکی خواہش پہ لبیک کہا تھا اور اسکا ہاتھ تھامے باہر لایا جہاں بارش نے صرف پتوں سے ہی نہیں بلکہ انکے دلوں سے بھی کدروتوں کا میل دھول ڈالا تھا۔
༻━━━━━⊱༻
“اسپیشل سروسز گروپ کے جاں باز کئی ہنروں کے ماہر ہوتے ہیں۔ “گہرے الفاظ کے چناؤ کے ساتھ موجود ہوسٹ اپنی باتوں کی سچائی سے ان سب کا لہو گرما رہا تھا۔
“یہ وہ سرفروش ہوتے ہیں جنھیں کسی بھی مشن پر، کسی بھی وقت،اعتماد کے ساتھ بھیجا جاسکتا ہے۔ بہترین تربیت یافتہ افراد اور انتہائی نوعیت کے نظم وضبط کے پابند، جسمانی اورذہنی طور پر اعلیٰ ترین صلاحیتوں کے حامل ، یہ ہمیشہ جنگ کے پیچیدہ اور خصوصی مرحلوں سے نبرد آزما ہوتے ہیں۔” ایک نظر مسکراتے ہوئے وہاں پہ موجود فرنٹ لائن سولجرز کے چہروں پہ ڈالی جو ایک شاندار مسکراہٹ لیے گویا ایس۔ایس۔جی کا حصہ ہونے پہ شادمان سے بیٹھے تھے۔
“ایس ایس جی کا نشانِ افتخار صرف انھی کے سینوں پر آویزاں کیا جاتا ہے جو صرف “بہترین” ہوں ۔” جیسے ہی ہوسٹ نے اپنے الفاظ کا اختتام کیا ہال تالیوں کی گونج سے بج اٹھا تھا اور ساتھ ہی کچھ میڈلز لائے گئے جو کسی بہترین جانباز کو دیے جانے تھے۔ وہاں موجود لوگوں کی دھڑکنوں کو تیز کرتی ایک نظم پڑھ کے سنائی جارہی تھی جس کا ایک ایک حرف انکے دل میں اپنا گھر کررہا تِھا۔
’’سینے میں دل موجود بھی ہے،
ہیں گولیاں بھی بارود بھی ہے،
اس جان کی حد سے پار گئے،
جو وار کیے تھے کار گئے،
جو تیرے نام پہ لہرائے،
پرچم کی گواہی ہے،
ہم تیرے سپاہی ہیں،،،
ارتضٰی نے مٹھی بند کیے کھولی جبکہ ہاتھ اپنے ساتھ موجود واسق کی طرف بڑھایا جسنے اسکی انگلیوں کو انتہائی شدت سے اپنے دائے ہاتھ کی انگلیوں میں پھنسایا اور ساتھ ارتضٰی والی حرکت کرتے اپنا بایاں ہاتھ روحان کی طرف بڑھایا ۔اس نے ناسمجھ نظروں سے ان دونوں کی دیکھا جنہوں نے اپنا دایاں جڑا ہاتھ اسکے سامنے کیا۔انکا اشارہ سمجھتے روحان کا چہرہ روشن ہوا تھا ۔مضبوطی سے واسق کا ہاتھ تھامتے دوسراہاتھ احمد کی طرف بڑھایا تھا جس نے اسی شدت سے روحان کا ہاتھا ہوا تھا۔
ہیں توپیں، ٹینک، جہاز بھی سب،
پر دل ہے سب سے زیادہ بڑا،
ہر حال میں اب یہ نبھائیں گے،
دے کر آئے ہیں وعدہ بڑا،
کہ چھوڑ اپنا گھر بار گئے،
جب وقت آیا ہر بار گئے،
جو تیرے نام پہ لہرائے،
پرچم کی گواہی ہے۔
ہم تیرے سپاہی ہیں۔۔۔
کرنل ضیاء کی آنکھوں سے کنکر کی ماند ایک آنسو نکلا تھا ۔انکے ساتھ بیٹھی انوشے نے اپنا ہاتھا انکے کندھوں پہ جمائے جیسے انہیں حوصلہ دلایا تِھا ۔انہیں اس ملک کی خاطر کیے گئے انکے فیصلوں کو قابل فخر گردانا چاہا اگر وہ چاہتے تو اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے اپنی بیٹی کی زندگی کو آسان کرسکتے تھے مگر انہیں کسی غدار کا باپ نہیں کہلوانا تھا۔ جس ملک کی خاطر ساری جوانی تیاگ دی تھی اب اپنے آخری اعزاز میں کوئی گرہن برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ اس ملک کی خاطر انہوں نے یہ مشکل وقت بھی گزار لیا تھا۔جسکا اجر دنیا اور آخرت دونوں میں بہترین تھا۔
ہیں آنکھیں بھی اور خواب بھی ہیں،
ہے چال ڈھال انداز بھی ہے،
نہ بھٹکیں نہ گھبرائیں ہم،
سب سے اونچی پرواز بھی ہے،
دشمن کے چین قرار گئے،
جو وار کیے تھے کار گئے،
جو تیرے نام پہ لہرائے،
پرچم کی گواہی ہے،
ہم تیرے سپاہی ہیں۔۔۔
خواتین کے حصے میں موجود سویلین لباس پہنے معروش حیات کی آنکھیں بھیگی تھیں اسے لگ رہا تھا جیسے بہت سے گناہوں کا کفارہ ادا ہوگیا تھا محض اس ملک کے رکھوالوں کے ساتھ نبھانے کو اس نے اپنی بے جا خواہشوں پہ لگام رکھنا سیکھ لیا تھا ۔اپنے اندر جلتی نفرتوں اور انتقام کے جزبوں کو پروان تو چڑھایا مگر صرف ان لوگوں سے جو اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا چاہتے تھے۔اسے خود پہ فخر ہورہا تھا اور دل سربسجود اس خدا کی ذات کے سامنے جس نے اسکی ہستی کو زمین بوس ہونے سے پہلے ہی تھام لیا تھا۔
༻━━━━━⊱༻
“آئی سوئیر میکال ہم بابا کو ابھی کال کررہے ہیں۔” میکال حیدر سے تین سال چھوٹی عبادت حیدر نے دھمکی دیتے باقاعدہ ہاتھ میں پکڑے موبائل کی نمائش کی۔وہ جو اسکی حرکتوں سے ڈسٹرب ہورہا تھا ایک دم سے اسکے ہاتھ سے موبائل جھپٹا۔
“آپکو پتا بھی ہے کہ یہاں ہوکیا رہا ہے صبح مما جان کو بابا نے پیسے نہیں دیے اسیلئے میں نے انکا اکاؤنٹ ہیک کرلیا۔”اپنے فتحیاب کارنامے کی خوشی اسکے انگ انگ سے عیاں تھی۔معروش حیات کے ہاتھوں سے شاپنگ بیگ گرے تھے وہیں ارتضٰی میر حیدر بھی یک ٹک اپنے بارہ سالہ بیٹے کو دیکھ رہا تھا۔وہ یقین نہیں کرنا چاہتا تھا کہ میکال نے ایسا کچھ بولا ہے جو اس نے سنا”اکاؤنٹ ہیک”۔
“میکال کیا مزاق ہے یہ؟”معروش نے حتی المکان اپنے لہجے کو دھیما رکھنا چاہا تھا جو اس سے ہو نہیں پایا۔
عبادت نے ماں کا جلالی روپ دیکھا تو ارتضٰی کے ٹانگوں سے چپکنے لگی۔
“معروش”ارتضٰی نے تنبہیہ کرتے آنکھوں سے اشارہ کیا ۔ وہ روہانسی شکل بنائے کمرے سے نکل گئی۔
“میں نے کچھ غلط نہیں کیا بابا ،آپ مما کو شاپنگ کے پیسے۔۔تو ۔میں۔۔”بات کرتے میکال حیدر کی نظر دروازے پہ بکھرے کئی شاپنگ بیگز پہ گئی ۔ اسکی زبان لڑکھڑا گئ۔یقیناً بابا مما کو شاپنگ کروا کے لائے تھے۔وہ جو باپ سے زیادہ ماں کے قریب تھا اور انکا دکھ برداشت نہیں ہوا تو باپ کے ہی اکاؤنٹ کو ہیک کرلیا تھا بری طرح شرمندہ ہوا۔
ارتضٰی نے اسکی نظروں کا پیچھا کرتے تاسف سے اسے دیکھا اور بنا کچھ بولے معروش کی طرف بڑھ گیا جو بکھری سی بستر پہ بیٹھی تھی۔
“اٹس اوکے یار بچہ ہی تو ہے پیار سے سمجھا لیں گے۔”ارتضٰی کو اسکا اتنا شدید ردعمل ہرٹ کررہا تھا۔
“وہ بچہ نہیں ہے ارتضٰی کیوں نہیں سمجھ رہے تم،آج اس نے باپ کا اکاؤنٹ ہیک کیا ہےکل کو بینک ربری بھی کرے گا۔”ایسا بولتے معروش کی آواز بھرائی تھی۔
ارتضٰی جانتا تھا کہ وہ اتنا شدید ریکٹ کیوں کررہی تھی شاید میکال کی اس حرکت نے اسکے دل میں وہم پیدا کردیا تھا کہ وہ بھی کہیں معروش کے نقش قدم پہ نہ چل نکلے۔
“کم آن یار ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ آپکو تو پراؤڈ فیل کرنا چاہیئے جو کام اسکی ماں نے پندرہ برس کی عمر میں کیا وہ اس نے محض بارہ سال کی عمر میں کرلیا۔”
ارتضٰی نے اسے چھیڑتے اپنے حصار میں لیا تو وہ مزید دکھی ہوگئی۔ ماں بنتے ساتھ ہی ایک ڈر تھا کہیں اسکا سیاہ کار ماضی اسکے بچوں کی زندگی کا حصہ نہ بن جائے۔
وہ جو ماں باپ سے سوری بولنے آیا تھا اپنی ممی کا کارنامہ سنتے ایکسائٹڈ ہوا تھا۔
“بچے گھر سے ہی سیکھتے ہیں ارتضٰی ،آپ جانتے نہیں میرے” مس لٹل کریپٹو کوئین “بننے کے پیچھے کی ایک اہم وجہ یہ بھی تھی کہ ممی نے کبھی مجھے میرے غلط کاموں سے روکا نہیں اور میرا پہلا ٹریپ بھی میری ماں اور سوتیلا باپ تھے۔”نم آنکھیں لیے اس نے ارتضٰی سے اپنا گلٹ شئیر کیا جبکہ میکال کو فخر ہونے لگا تھا کہ وہ ایک دی گریٹ مما کا بیٹا ہے ۔جو پندرہ سال کی عمر میں بینک ہیک کرتی ہیں اور کل ہی تو اس نے ڈھیر سارے پیسے کمانے کے طریقوں میں “ورلڈ سکیم مس لٹل کریپٹو کوئین” کے بارے میں آرٹیکل پڑھا تھا جو راتوں رات کیسے ڈھیر سارے پیسے کما چکی تھیں۔
وہیں ارتضٰی کی تسلیاں بھی اسے ماضی کے آسیب سے نہیں نکال پا رہی تھیں کیونکہ کہیں نا کہیں آج بھی اسکے ماضی کی پرچھائیاں اسکے ہمقدم تھیں۔
یقیناً یہ خبر عبادت کیلئے بھی ایکسائٹڈ ثابت ہوگی۔میکال نے بھاگتے ہوئے سوچا تھا۔دہلیز پہ رکتے ارتضٰی کے دل میں ایک نئی سوچ نے انگڑائی لی کہیں میکال جیسا ذہین بچہ اپنی ماں کے سیاہ کار ماضی سے واقف تو نہیں ہوگیا ۔
ایک سوچ کے آتے اس نے قدم اسکے کمرے کی طرف بڑھائے جہاں وہ عبادت سے بڑے فخر سے کہہ رہا تھا “پاکستان کا لٹل پروفیسر زیدان حامد اور لٹل ہیکر میکال حیدر بنے گا کیونکہ میری مما ہی میری انسپائریشن ہے وہ “مس لٹل کریپٹو کوئین “ہیں اور انہوں نے ففٹین یئیرز کی ایج میں بینک ہیک کیا تھا۔”اور نو سالہ عبادت کو تو اسکے لفظوں سے بھی آگاہی نہیں تھی۔
ھم خطاکار، سیاہ کار، گنہگار مگر،
کس کو بخشے تیری رحمت، جو گنہگار نہ ہو۔۔۔۔
ختم۔شد
