Sayah Kaar by Uzma Mujahid NovelR50609 Sayah Kaar (Episode 14)
Rate this Novel
Sayah Kaar (Episode 14)
Sayah Kaar by Uzma Mujahid
“کیڈٹ اگر نالائق ثابت ہورہا ہو تو اسکیلئے کیا سزا مقرر کرنی چاہیئے مسسز نقوی۔”
3 گھنٹوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد بھی وہ اسے مطلوبہ پشپس دینے میں ناکام ٹہری تھی۔ پہلے ہی مرحلے پہ بری طرح تھک چکی تھی ۔
“سر ریس کورس۔”
اس مرد مار خاتون کا جواب معروش کو ٹھٹکا گیا ۔جہاں تک اسے پتا تھا ریس کورس میں گھوڑے بھاگتے تھے۔وہ ان دونوں کو گھورنے میں لگی تھی۔
جبکہ مسٹر ایچ۔اے نے خفیف اشارہ کرتے اسے گراؤنڈ کے ٹریک کی جانب اشارہ کیا جہاں پہ وائٹ اور یلیو پینٹ کے ساتھ مختلف میٹر کے حساب سے ڈیجٹس لکھے گئے تھے ان دونوں کا اشارہ سمجھتے اسکا سر بے اختیار نفی میں ہلا تھا۔
اور پھر اسکی جان بخشی کردی گئی تھی صرف آج کے دن کیلئے ۔
معروش کے جاتے ہی مسسز نقوی اسکی جانب متوجہ ہوئی تھیں۔
“اے۔ایچ آپکو نہیں لگتا یہ جو کچھ ہورہا ہے الیگل ہورہا ہے کیونکہ ایس۔ایس۔جی کیلئے فوج ہمیشہ اپنی گرلز چنتی ہے جبکہ اس لڑکی کا دور دور تک کوئی بھی واسطہ نہیں آرمی سے ورنہ اسکیلئے یہ ٹاسک اتنے مشکل نہیں ہوتا ایسے لگ رہا جیسے کسی بچی کو ہاتھ پکڑ کے چلنا سکھانا پڑے گا۔”
انتہائی نخوت سے کہتے اپنی ناگواری کا احساس کرایا۔
“جانتا ہوں مسسز نقوی ڈسپلن کے اگینسٹ نہیں ہے یہ سب ابھی ہمیں اس لڑکی پہ بہت محنت کرنی ہے ایک عام لڑکی کی حثیت سے اسکا دماغ دوسروں گرلز کی نسبت کئی گنا جلدی چیزیں پک کرتا ہے ۔اور جب ڈی جی سر کا حکم ہے تو ایسے میں ہم اختلاف کرنے والے ہوتے کون ہیں۔ ایس۔ایس۔جی کی ٹریننگ کے بعد وہ اس لڑکی کو آئی۔ایس۔آئی تک رسائی کا سوچ رہے اسیلئے اعتراض کو سائیڈ پہ رکھے آپ اس لڑکی کی ذہنی نشونما کریں۔”
نجانے کیوّں اسے مسسز نقوی کا رویہ معروش کے بارے اچھا نہیں لگ رہا تھا انہیں بھلا کیا کمپلیکس ہورہا تھا۔ اسکا پروٹوکول دیکھ کے جبکہ وہاں موجود اکثر افسران اس سب کے پیچھے کی کہانی سے آگاہ تھے تبھی اپنے مطلب کیلئے ہر کوئی ڈسپلنری آرگو سائیڈ پہ رکھے دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ کیا کرسکتی تھی۔
ساتھ ہی اسے یونٹ کا ہاسٹل مہیا کیا گیا تھا ۔ابھی اسے آئے کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ اسے پھر سے ڈی ۔جی صاحب کے آفس میں حاضر ہونے کا کہا گیا تھا۔اسوقت وہ ان سے نہیں ملنا چاہتی تھی کیونکہ وہ اسے اسکی مرضی کے بغیر انسٹرکٹر دے چکے تھے مگر انکے احسانات کا بارڈن اتنا تھا کہ ناچاہتے ہوئے بھی اسے ملنے کیلئے جانا پڑ رہا تھا ۔
“مے آئی کم ان سر۔” پرسکون آواز پہ کانفرس روم میں موجود وہ دونوں لوگ سیدھے ہو بیٹھے۔
“آجائیں مس معروش ۔”واسق کی آواز پہ اس نے کمرے میں قدم رکھا تھا۔آج پھر وہ اسکیلئے ایک نیا چیلنج لیے بیٹھے تھے ۔
انہیں ہراسمنٹ کیلئے اسکے آئڈیاز درکار تھے بنا ہتھیار کے ہی دشمن میں ہراس پھیلانا چاہ رہے تھے ایک بار پھر اسے دماغ کے گھوڑے دوڑانے تھے ۔
༻━━━━━⊱༻
اسکے ہاتھ کپکاہٹ کے شکار تھے وقت کم تھا حالانکہ عصاب پہ قابو رکھتے ہی انہیں انکے پروفیشن میں ماہر کیا گیا تھا وہ مکمل طور پہ بھول چکا تھا کہ اس نے وائرز کا کنکشن کیسے جوڑا تھا۔
“کیا ہم مر جائیں گے؟” معصومیت بھرے سوال پہ اسکی آنکھوں میں بھی نمی اتاری۔
“میں مرنا نہیں چاہتا انکل پلیز سیو می۔”
اسکی آنکھوں سے ٹپکتے آنسو سامنے والے کو تکلیف دے رہے تھے دل میں خود کو کئی بار لعن طعن کیا اسے اپنے ہدف کیلئے اس بچے کا استعمال نہیں کرنا چاہیئے تھا۔ اسے اسکے سینے پہ خودکش جیکٹ نہیں نہیں لگانی چاہیئے تھی مگر افسوس ہی افسوس تھا اس نے آنکھیں بند کیے لزرتے ہاتھوں سے ریڈ وائر کو کاٹنا چاہا جب اسکے لزرتے ہاتھوں پہ ایک ہاتھ آٹہرا تھا اسکے دل کی دھڑکنیں تیز ہوئیں ۔
“انکل یہ وائر نہیں یلیو وائر تھی آپ داڑھی والے انکل کو کہہ رہے تھے روٹ از یلیو وائر۔”
اس سچویشن میں بھی اس بچے کے حواس بحال تھے چونکہ پورا پلان سیٹ اپ کرنے کے بعد اس نے وہ جیکٹ پہناتے وقت اپنے ساتھیوں کو بھی بتایا تھا وہی اس بچے نے سنا تھا مگر وہ ان سنا کرتے مبہم سا مسکرایا تھا۔
جیکٹ پہ لگے ٹائمر کے ہندسے تیزی سے ایک دوسرے کو کراس کرتے کچھ ہی سیکنڈز کی دوری کو ظاہر کرنے لگے تھے ۔
اسکی گرپ ریڈ وائر پہ تھی اس نے ان چھوٹی چھوٹی گچھا دار جالیوں کے ساتھ اپنے اوزار گزارتے ریڈ وار کٹ کردیا۔
༻━━━━━⊱༻
“یار واسق یہ جو میجر ضیاء ہیں یہ یہاں کا میجر ایشو ہیں غائب کر انہیں یہاں سے۔”
وہ رونی سی صورت بنائے اسکے پہلو میں آٹکا تھا جبکہ اس نے مسکانے پہ ہی اکتفا کیا تھا۔
“یار یہ بندہ شروع توں انج نہی سی چنگا پلا ہوندا سی فیر انوں ماں دی بد دعا لگی تے آے آرمی اچ آگیا اپنڑے پنڈاں دا اے قسمے سلوک انج ورگا کردا جیونہے بندہ سہوریاں دے آیا اے۔ اکھاں اچ ای بارود پائی فردا موقع چک لیندے تے تڑ تڑ گولیاں وج این سکاؤٹ نوں۔”
(یار یہ بندہ اچھا خاصا تھا پھر اسے اپنی ماں کی بد دعا لگ گئی اور یہ آرمی میں آگیا ۔اپنے گاؤں کا ہے مگر قسم سے سلوک ایسا کرتا ہے جیسے انسان اپنے سسرال آیا ہو۔
آنکھوں میں بارود لے کے گھومتا جیسے ہی موقع ملے گولیاں کی چھنکار شروع سکاؤٹ پہ۔)
احمد نے بھی دہائی دیتے اپنی کمر کو سہلایا تھا جبکہ اے۔ایچ اپنی ٹانگیں سہلا رہا تھا چونکہ اپنے دو سال آرمی میں کمالات کرلینے کے بعد انہیں ایس۔ایس۔جی کمانڈو بننے کا شوق ہوا تھا ۔وہ جو سمجھ رہے تھے ابتدائی ٹریننگ کے بعد آگے انتہائی آسانی ہوگی کسی دیوانے کا خواب ثابت ہوا تھا جہاں پہ میجر ضیاء الرحمٰن نے انکی سہی واٹ لگا رکھی تھی۔
اے۔ایچ کو “لیگ سٹریچنگ ” سکھائی جارہی تھی جو یقیناً ایک ہوش ربا کام تھا آنکھوں میں آنسوؤں لیے اسے ماں ہی یاد تھی مگر جب اوکھلی میں سر دے دیا تھا اب نبھانی تھی۔
جبکہ احمد کو الٹی کلابازی کی سزا ملی تھی پہلی بار واسق میجر ضیاء کے ہاتھوں سے بچ گیا تھا۔
یہ منظر تھا کاکول اکیڈمی کا جہاں پہ ایک ہی سکاؤٹ میں شامل احمد ،روحان ،مسٹر اے۔ایچ اور واسق نے وطن کی محبت سے سرشار ہوتے کچھ آگے کرنے کا سوچا تھا انکے جزبے بلند تھے اسیلئے انکے انسٹرکٹرز نے بھی پہلی کوشش میں انہیں آگے بڑھنے کا موقع دیا تھا۔
دنیا کی بہترین ایلیٹ فورسز میں شامل پاکستان کا اسپیشل سروسز گروپ ایس ایس جی میں شمولیت کا معیار بہت کڑا تھا۔ ایس ایس جی گروپ میں شامل جوانوں کی تربیت میں بارہ گھنٹے میں 36 میل کا مارچ اور پوری رفتار سے پچاس منٹ میں پانچ میل کا ہدف طے کرنا شامل ہے، جبکہ وردی اور ہتھیاروں کے ساتھ تیس میٹر تک تیراکی اور دیگر اسے دنیا کی بہترین کمانڈو فورس بناتے ہیں۔
اس کوشش میں باقاعدہ جم جوائن کیے گئے تھے۔اس سب میں اگر انکا کیپٹن اول تھا تو وہ واسق صدیقی تھا۔
“یار کیا ہوگیا ہے کور کمانڈوز کا میجر ہے ہٹلر بننا اسکا حق ہے۔”
واسق نے پہلا لقمہ دیا تبھی دھڑام سے دروازہ کھلا تھا اور اجڑی صورت لیے روحان کمرے میں داخل ہوا۔
“لو آگئی ابابیل کی مظلوم بہو سیکنڈ لیفٹین روحان ۔”
احمد اور اے۔ایچ نے کورس میں اس پہ فقرہ اچھالا تھا وہ جو پہلے جلا آیا تھا منہ بسورتے واسق کے کندھے پہ سر ٹکایا۔
“تم کیا ریوارڈ لائے ہو ۔”
واسق کو وہ روٹھی محبوبہ جیسا لگ رہا تھا۔
“پتا نہیں وہ لوگ کہاں سے آتے جنہیں اکیس توپوں کی سلامی دی جاتی اور ہمیں بندروں کی طرح درختوں پہ الٹا لٹکنے اور کیچڑ میں ڈبکیاں لگانا نصیب میں آیا ہے۔”
وہ جو گدلے کیپڑ میں پچاس ڈبکیاں لگائے بیٹھا تھا انتہائی قابل رحم حالت میں تھا۔
تبھی وسل کی آواز دروازے پہ سنائی دی وہ سارے شاکڈ ہوئے تھے کیونکہ جو حکم نامہ سنایا جارہا تھا آرمی کی پھپھو پھپھے کٹنی سی۔او کی طرف سے تھا سبکی شکلیں اتری تھیں ۔
باہر آتے ہی پہلا واسطہ میجر ضیاء سے پڑا تھا اور ساتھ میں ایک نازک سی حسینہ بھی تھی کاکول ملٹری اکیڈمی کے اتنے سخت ماحول میں وہ کسی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا معلوم ہورہی تھی ۔
“اگر جو یہ اس ضیاء کی بیٹی ہے قسم سے اسکی قسمت پہ رونا آرہا ہے گھر میں بھی راؤنڈ ون ،سکاؤٹ پنشمنٹ چلتا ہوگا ۔”
روحان کی ساری حس مزاح اسے دیکھتے ہی ایکٹو ہوئی تھیں جبکہ ان تینوں کو اپنی ہنسی روکنا مشکل ہورہا تھا ۔
“بابا ہی از سمائلنگ ایم آئی لکنگ سو ڈرٹی اور فنی؟”
جتنی خوبصورت وہ تھی اس سے زیادہ مترنم آواز تھی مگر برا ہو اسکی آنکھوں کا جو اتنی تیزی سے انکا جائزہ لے رہی تھیں اسکی سریلی آواز زہر بن کے ان پہ برسنے لگی تھی اور ساتھ میں آئیز گڈلنگ کرتے وہ راکڈ ہوئی جبکہ واسق کمپنی شاکڈ ہوئی جیسے ان میں سانس نامی کسی چیز کا وجود نہ تھا۔
“ہو از لافینگ ؟” کڑیل آواز ان چاروں کو سر جھکانے پہ مجبور کرگئی تھی۔
“لیو اٹ بابا لیٹس موو فارورڈ۔” انکی ذات پہ احسان عظیم کیے اس نے میجر ضیاء کی اٹینشن ڈائیورٹ کرنی چاہی تھی مگر اتنا آسان نہ تھا۔
“ریڈی فار میٹ اپ ان گراؤنڈ آج رات آپ لوگ کھلے آسمان کے نیچے رات گزاریں گے ود فریش واٹر باتھنگ انجوائے بڈیذ۔”
ساری یونٹ اور سپیشلی ابابیل کورس میٹ انکی اس ایک سزا سے بہت زیادہ بھاگتے تھے کیونکہ ہر بار ہی کچھ نیا ہوتا تھا۔
“میجر ہیں ایٹیوڈ تو ہوگا نا سو انجوائے یور پارٹی نائٹ۔”
میجر ضیاء نے اپنی بیٹی کو اشارہ کرتے اپنے پیچھے آنے کو کہا جو مؤدب انداز میں انکے پیچھے جانے لگی ایک نظر روحان کے بیچارگی ٹپکاتے چہرے پہ پڑی تو پاس سے گزرتے دھیمی سی سرگوشی کی جو اسکے ساتھ کھڑے واسق تک بھی پہنچی تھی۔خفت کے مارے اسکا چہرہ سرخ ہوگیا مطلب وہ اسے ہی نوٹ کرتی رہی تھی۔
ان سب کو جس وجہ سے سزا مل رہی تھی وہ تھی ڈرل پنیشمنٹ میجر ضیاء کے مطابق انکے بوائز کو ڈرل میں زبردست ہونا چاہئے ابھی چونکہ انکی کمانڈو ٹریننگ ابتدائی مراحل میں تھی اسیلئے انکا پورا دھیان ڈسپلن پہ تھا جو اکثر ناچاہتے ہوئے بھی صرف روحان کی وجہ سے انکے نصیب میں آتی تھی۔
“کمانڈوز آپ سب کو ان پتھروں پہ سجدہ ریز ہوکے اور پاؤں کے زور پہ رکوع کی حالت میں ایک گھنٹا گزارنا ہے اور یاد رکھیں کسی بھی لڑکے کی یونفارم پہ کیچڑ کا دھبہ نظر نہیں آنا چاہئے دوسری صورت یہ ڈبل ہوجائے گی۔”
جب وہ چاروں مخصوص جگہ پہ پہنچے ایک نئی آزمائش تیار تھی۔سب کی ملامتی نظریں روحان کی طرف اٹھیں جس نے خلا میں ہی تمام محل بنانا شروع کیے انہیں مکمل اگنور کردیا تھا ۔ان کے علاوہ بھی وہاں پہ تین اور کیڈیٹس تھے جو ان کے جیسی ملتی جلتی حرکتوں کی وجہ سے وہاں پہ پہنچے تھے ۔
سامنے ہی اس گدلی جھیل میں بڑے بڑے پتھر نصب تھے ۔
“سر فوج میں کوئی بھی کام کرنے سے پہلے ایک ڈیمو دیا جاتا ہے کیا ہی اچھاہو جو آپ ہمیں ڈیمو کرکے دکھا دیں۔”
روحان کی زبان پہ پھر سے کھجلی ہوئی تھی۔ ایے۔ایچ اور واسق کادل چاہا وہ پتھر اٹھا کے اسکے سر میں دے ماریں تاکہ نا بانس رہے گا نا ہی اسکی بانسر انہیں بار بار شرمندہ کروائے گی۔
“اوکے سکاڈ ڈیمو پیش کیا جائے گا مگر لیفٹین روحان ہی یہ ڈیمو دیں گے اور یاد رکھیں کیچڑ یونیفارم پہ نہیں لگنی چاہیئ کیونکہ اس پہ لگے جھنڈے کی عظمت مجروح کرنے کو یقیناً آپ یہ سختی بہت آرام سے سہل کرلیں گے۔”
انکے سنئیر کیڈٹ نے طنز کے نشتر چلائے روحان کو آگے کیا اب سبکو سہی جھٹکا لگا جب سر ٹکانے کو بھی پتھر تھا اور پاؤں رکھنے کو بھی ایسا بھلا ممکن تھا کہ اتنی شدید گرمی میں انہیں پسینے نہ آئیں اور پہلے تو پاؤں ہی پھسلتے اب اتنا آسان نہیں رہا تھا اپنی وردینکو داغ لگنے سے بچانا۔
༻━━━━━⊱༻
اگلے دن وہ ان ٹائم گراؤنڈ میں موجود تھی۔بار بار گھڑی کو دیکھتے وہ خوش تھی کیونکہ اس کا نئے پروجیکٹ کے ساتھ پہلا ایگریمنٹ یہی تھا کہ وہ اے۔ایچ کے ساتھ کام نہیں کرے گی اور اسکے لاجواب آئیڈیاز کی بدولت اسکی بات مان لی گئی تھی۔
واسق کے ساتھ مسسز نقوی کو آتے دیکھ اس نے سکون کا سانس لیا۔
“آئی۔ہیو آ گڈ نیوز فار یو مس معروش حیات آج سے آپ ہماری بٹالین گرلز کے ساتھ پریکٹس آؤٹ کریں گی۔”
سر واسق نے دھیمی مسکراہٹ سجائے اسے اچھی خبر سنائی تھی ۔معروش کے سر سے ایک بوجھ ہٹ گیا تھا یقیناً لڑکیوں کے ساتھ ٹیم ورک اسے موٹویٹ کرتا اسکی عدم توجہ کو دیکھتے یہ فیصلہ کیا گیا تھا ۔
تھوڑی دیر بعد وہ خود کو بہت ریلکس محسوس کررہی تھی سامنے موجود لڑکیاں اسے اس چیز کا کنفیڈینٹ دے رہی تھیں کہ وہ
وہاں اکیلی نہ تھی۔
“کم آن معروش سٹارٹ اپ ۔” اسے بھاگتی لڑکیوں کی طرف اشارہ کرتے مسسز نقوی نے موٹیویٹ کیا تھا جو تھوڑا سا بھاگنے کے بعد تھک گئی تھی۔
“کچھ لوگ جو ہیں وہ سیدھے راستے پہ چل کے اپبی منزل تک رسائی حاصل کر ہی نہیں سکتے ۔جگاڑ لگاؤ نا کوئی مس لٹل کریپٹو کوئین۔”
اے ۔ایچ کی آواز نے اسکے جسم میں سنسنی سی دوڑائی۔
“ہی از اوور سنئیر انسٹرکٹر گرلز یہ کبھی بھی آپ لوگوں کی پرفامنس چیک کرنے آسکتے ہیں۔”
دوسری لیڈی نے لڑکیوں کو مخاطب کرتے کہا جبکہ معروش پہ گھڑوں پانی پھر گیا تھا۔اسے لگ رہا تھا وہ کسی پیراسائٹ کی طرح ہی اسکے اردگرد رہے گا۔
پھر سے معروش کے نام کی پکار پڑی تھی جب اس نے ہاتھ اٹھاتے ان خاتون کو منع کیا۔
“میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ایسے کیس کو کسطرح ہینڈل کیا جاتا ہے ۔”
اس نے کہتے ساتھ دس کلو کا ایک پیکڈ کرٹن لا کے معروش کے سامنے رکھا تھا۔
“آپکے پاس دو چوائس ہیں اگر آپ کچھوے کی چال چلتے اپنی منزل پہ پہنچنا چاہتی ہیں تو یہ آپکو کچھوا ثابت کرنے کیلئے آپکی بیک پہ فکس کردیا جائے گا دوسری صورت آپکو ان کیڈیٹس کا ہمقدم ہونا ہے۔”
انتہائی سرد لہجہ جہاں رعایت کی کوئی گنجائش نہ تھی۔
معروش نے غیر محسوس طریقے سے سر ہلاتے ان کیڈیٹس کی طرف قدم بڑھائے کیونکہ اتنا وزن اٹھانے کی سکت اس نازک اندام لڑکی میں نہ تھی آگے گڑھا پیچھے کھائی تھی وہ بھاگتے ہوئے دوسری لڑکی طرف بڑھی جو فلیگ اٹھائے اسکا ویٹ کررہی تھی ۔
کیپٹن کی طرف سے اشارہ ملتے ہی وہ زگ زیگ رکھے گئے روڈ برئیرز کو کراس کرتی بڑی مہارت سے معروش تک پہنچی تھی فلیگ اسکے حوالے کیا اور معروش نے آگے کی جانب قدم بڑھائے جہاں پہلی مشکل اسکیلئے آگے بہت آسانیاں لانے لگی تھی۔
“ہائے آئی۔ایم امل ملک اینڈ یو؟” ہاسٹل کے میس ہال میں بیٹھی وہ اپنی باری کا انتظار کررہی تھی جب ایک کامنی سی لڑکی جو کی بلیک ٹریکنگ سوٹ میں ملبوس تھی اسکے سامنے بیٹھتے بولی تھی۔ یہ وہی لڑکی تھی جسکے ساتھ معروش نے اپنا ٹاسک مکمل کیا تھا۔
“معروش ۔” اس نے بھی فارمل مسکراہٹ سے نوازتے اپنا ہلکا پھلکا تعارف کروایا تھا ۔ہال میں سر سری نگاہ دوڑاتی معروش کی نگاہ سامنے سے آتی لڑکیوں کے گروپ کو دیکھ ٹھٹکی وجہ گروپ نہیں بلکہ وہ لڑکی تھی جو شاید اس گروپ کی گینگ لیڈر لگ رہی تھی۔
“انوشے۔نام ہے اسکا کرنل ضیاء الرحمٰن کی بیٹی ہے اکثر اوقات یہی پائی جاتی ہے۔” امل نے سامنے مسکراتی لڑکی کا تعارف کروایا جبکہ معروش کو لگ رہا تھا کہ اسکا دم گھٹ جائے گا یہاں پہ کیا ڈبل گیم کھیلی جارہی تھی اسکے ساتھ کچھ دن پہلے جو لڑکی “را” کی ایجنٹ ہونے کی سزا کاٹ رہی تھی وہ کسی میجر کی بیٹی کیسے ہوسکتی ۔اسکا دماغ تیزی سے تانے بانے بننے لگا وہ ایک دم کھڑی ہوتی اسکی طرف بڑھی جبکہ انوشے بھی اسے اپنی جانب آتا دیکھ خوفزدہ ہوئی۔
وہ بنا تاخیر وہاں سے کھسکی تھی جب تک معروش اس تک پہنچی وہ ہاسٹل لابی میں گم ہوگئ تھی۔
“یار اس نے مجھے دیکھ لیا اب کیا ہوگا۔” انوشے کی گھٹی گھٹی آواز پہ دوسری جانب بھی تفکر کے سائے لہرائے تھے ۔
“تم سے زندگی میں کبھی کوئی سیدھا کام ہوا ہے آئی بڑی کرنل کی بیٹی۔” جواب غیر متوقع تھا جو اسکو سلگا گیا تھا وہ اچھے سے جانتی تھی کہ دوسری جانب کون تھا ۔
“بھول کیوں رہے صرف کرنل کی بیوی نہیں ہوں میں کیپٹن کی بیوی بھی ہوں ۔” اس نے بنا لگی لپٹی جواب دیا تھا۔
“جی بلکل زبردستی کی سر مونڈھے کی بیوی ۔” بنا کسی لحاظ جواب آیا تھا پھر اسکے ہاتھ سے موبائل اچک لیا گیا تھا ۔
“اگر تم لوگوں کا میاں بیوی والا ڈرامہ سٹاپ ہوجائے تو کچھ دیر میں انوشے سے رپورٹ لے سکتا ہوں۔” اے۔ایچ نے اسے گھرکتے موبائل لیا انوشے کے لبوں پہ بے اختیار مسکراہٹ کھل اٹھی تھی۔
“کیا ہ کارنامہ سر انجام دیا ہے مس معروش حیات نے اب۔”اے۔ایچ نے دانتوں کو پیستے معروش کا نام لیا تھا۔
“اس نے مجھے گرلز میس ہال میں دیکھ لیا ہے اور یقیناً اس نے اپنے ساتھ والی کیڈٹ سے میرے بارے انفو اکٹھی کی ہوگی اور ساتھ میں شاید تمہاری بھی باس ۔مجھے صرف یہی ٹینشن اگر بابا کو یہ بات پتا چل گئی تو۔”
انوشے کو اپنی فکر ہورہی تھی کیونکہ کرنل ضیاء کا غصہ سہنا اتنا آسان نہیں تھا اور جہاں اختیارات کا ناجائز استعمال ہورہا ہو ۔
“پھر کیا سسر صاحب یقینًا تم دونوں ملک دشمن عناصر کو ٹھکانے لگائیں گے اور ہم دوسری کے شادیانے۔”
جواب پھر سے اے۔ایچ کی بجائے دوسری طرف سے آیا تھا۔
“تم اسے سمجھا لو اگر اس کا یہی اٹیٹیوڈ رہا میں ابھی جاکے معروش کو سب کچھ بتا دونگی بہتر ہے کہ میرے ساتھ بنا کے رکھے یہ۔” اے ۔ایچ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اپنا مسئلہ سلجھائے یا ان دونوں کو جو انڈیا اور پاکستان بارڈر کی طرح ہر وقت لڑنے کو تیار نظر آتے تھے۔
“شوق سے بتاؤ یقیناً یہ قوم دو خوبصورت دوشیزاؤں کو بھری جوانی میں بیوہ ہوتا نہیں دیکھنا نہیں چاہتی کیونکہ مجھ سے بہتر کوئی بھی نہیں جانتا کہ وہ لڑکی کیا کرے گی اس دھوکا دہی پر۔”
