Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sayah Kaar (Episode 17)

Sayah Kaar by Uzma Mujahid

آج اتنے عرصے بعد وہ حیات ولا کی دہلیز پہ قدم رکھ رہی تھی۔ ایک ناکردہ جرم کی سزا کاٹنے کے بعد اتنا عرصہ دربدر رہنے کے بعد اپنے آشیانے کی مہک کو اپنے اندر اتارتے وہ آگے بڑھی۔

“آنٹی میں نے اتنی کالز کی ہیں کوئی رسپونس نہیں آیا ارتضٰی کا۔”

مانوس سے آواز نے اسکے قدم چوکھٹ پہ روکے تھے۔

“کتنی بار کہا ہے اس لڑکے کو اگر بزنس ٹرپ پہ باہر جائے کم از کم ماں کو تو بتا دے مگر کہاں اسے کہاں پرواہ۔”

یہ طیبہ بیگم کی آواز تھی وہ لاؤنچ میں ٹہری آوازوں کا تعین کررہی تھی ۔

“بس ایک بار ارتضٰی ہاں بول دے بڑی دھوم دھام سے شادی کرونگی میں تم دونوں کی ۔ارے اپنے پوتوں کو کھلانے کی کتنی چاہ ہے مجھے۔”

طیبہ بیگم کے شرارتی انداز میں چھپی حسرتیں اس پہ حنا کی چھنپی ہوئی ہنسی کی آواز پہ معروش نے بے اختیار صوفے پہ گرتے اپنے وجود کو سنبھالا۔

حیات ولا معروش کے نام تھا مگر شاید اسکے مکینوں کو یہ بھول چکا تھا کہ یہاں کا اصل حقدار کوئی اور تھا جو دیر بدیر واپس ضرور آجانا تھا۔

وہ نہیں سوچنا چاہتی تھی کہ اسکی دوست کسی ایسے شخص سے روابط بڑھانے کا سوچے گی جو معروش کی زندگی میں طوفان لایا ہو مگر ہوسکتا ہے حنا اس سب سے انجان ہو میں اسے سب سچ بتاؤنگی۔پر وہ یہاں کیا کررہی۔

مختل ہوتے حواسوں پہ ایک دم ان گنت سوچوں کی یلغار ہوئی ۔جسم کا ہر حصے پہ ایک تھکاوٹ غالب تھی باتیں کرنے کی آوازیں معروش کے سر تک جاپہنچی تھیں۔

جب آنے والوں نے حیرت زدہ نظروں سے ایک انجان لڑکی کو اسطرح پورے طمراق سے صوفے پہ بیٹھے دیکھا تھا۔

“اے لڑکی کون ہو تم؟” طیبہ کی آواز آج بھی کرخت تھی۔

اور شاید تیرہ سال بعد اسکے نقوش کی تبدیلی وہ نوٹس میں ہی نہیں لاسکی تھیں تبھی انجان تھیں جبکہ حنا ہکا بکا اسے دیکھے جارہی تھی۔

معروش نے ایک شکوہ کناں نگاہ حنا پہ ڈالتے اپنا رخ موڑا تھا۔

“روش” اسکی بڑ بڑاہٹ اتنی واضع ضرور تھی کہ طیبہ بیگم بھی چونکیں۔ وہ زندہ تھی اس گھر کی مالک زندہ ہی تھی اگر وہ روپوش رہی تو اسکا مطلب یہ نہیں تھا کہ یہ گھر طیبہ کا ہوگیا۔اندرونی خدوخال بدل لینے سے وہ اس اٹل حقیقت کو نہیں بدل سکتی تھیں کہ حیات صاحب کے سرمایے کی وہ اکلوتی وارث تھی ہاں مگر انہوں نے ادھورے خواب ضرور دیکھے تھے۔

“کیوں مجھے دیکھ کے حیرانی کیوں ہورہی تمہیں کیا لگ رہا تھا کہ میں لوٹ کے نہیں آؤنگی دیٹ واز گڈ گیم ۔یقیناً اس رات جو کچھ ہوا ہیری اور تمہارا پلین ہی تھا ایم۔آئی رائٹ؟”

وہ بدگمانی کی آخری سیڑھی پہ کھڑی تھی حنا اپنے لیے اسکا یہ شک دیکھ تڑپ اٹھی تھی ۔

“کیسی بات کررہی ہو روش ایسا کچھ بھی نہیں ہے لیٹ می ایکسپلین یو کے اس رات کیاہوا تھا۔”

حنا نے سنبھلتے ہی اسکی جانب قدم بڑھائے۔

“مجھے کچھ نہیں جاننا اور نہ ہی ایسی کوئی خواہش ہے ۔ہیری کو میں اب تک اپنا الیوژن سمجھ رہی تھی پر وہ یہاں ہے ۔کیوں ہے ؟کس لیے ہے؟ یقیناً یہ بھی سامنے آہی جائے گا۔”

حنا کی بات کو نظرا انداز کیے اس نے تھکے تھکے قدم اپنے کمرے کی جانب بڑھائے ۔گھر میں واضع تبدیلی آچکی تھی مگر عمارت تو وہی تھی اسیلئے اپنے کمرے کی طرف بڑھی تو طیبہ جیسے ہوش میں آئیں۔

“کیوں آئی ہو تم یہاں ۔جس شخص سے تمہارا تعلق تھا اسکی زندگی میں یہاں قدم رکھنا گوارہ نہیں کیا تو اب کیسے ؟یہ میراگھر ہے دفع ہوجاؤ یہاں سے۔”

معروش نے بغور ایک نظر طیبہ پہ ڈالی وہ اسےپہلے بھی کبھی اچھی نہیں لگی تھیں مگر اب تو حد سے زیادہ بری لگ رہی تھیں۔اسیلئے بنا اسے جواب دیے آگے کی طرف بڑھ گئی جب وہ تلملاتے ہوئے اسکے راستے میں روکاوٹ بنیں۔

“ایک بار کا کہا تمہیں سنائی نہیں دے رہا یہاں تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں۔۔۔۔”

“مام” طیبہ ابھی بہت کچھ کہنا چاہ رہی تھیں مگر میرو کی آواز پہ انکی نظریں دروازے کی طرف اٹھی تھیں۔

“یہ اسی کا گھر ہے آپ کیوں بھول رہیں کہ حیات انکل نے اپنی زندگی میں ہی یہ گھر اسکے نام کردیا تھا بجائے آپ اس پہ سوال اٹھانے کہ اس سے پوچھ لیں کہ یہ یہاں ہمیں برداشت کرے گی یا نہیں۔”

ارتضٰی کا رویہ بہت عجیب لگ رہا تھا طیبہ اپنے بیٹے کی اس روش پہ غصہ دکھاتی اسے گھورنے لگی تھیں۔

“واؤ کیا میلومیٹ ڈرامہ چل رہا ہے نا مسٹر تیج آپ تھکتے نہیں یا آپ میرے اذیت کا نیا سامان کرنے آئے ہیں یہاں۔”

وہ حددرجہ تلخ ہوئی تھی اسکا بلکل موڈ نہیں تھا طیبہ کو کوئی جواب دینے کا مگر ارتضٰی کی آمد خواہ مخواہ دبی چنگاریاں اٹھا رہی تھی۔

“تم یہاں اپنی ماں کے سامنے میری ہمدردی کرنے آگئے کیوں ؟ کیا مقصد ہے تمہارا اس سب کے پیچھے جبکہ مجھے یاد پڑتا کہ مجھے اس گھر سے نکلوانے والے بھی تم ہی تھے تمہاری وجہ سے میرے باپ نے اپنی سگی اولاد کو اس گھر سے نکالا ۔یہ سب کچھ حاصل کرنا چاہتے تھے نا تم لوگ ۔آہ سیڈ معروش حیات نے واپس آکے سب کچھ چھین لیا تم سے۔”

اس نے ایک ہی سانس میں تابڑ توڑ حملے کیے تھے ذرا توقف کے بعد وہ پھر سے گولہ فشانی کو تیار تھی۔

“آپ آلریڈی میرے پہ اتنے احسانات کرچکے ہیں جنکا بدلہ میں اتار نہیں سکتی ہاں مگر آپ ماں بیٹے پہ اتنا احسان کرسکتی کہ یہاں اپنی اجارہ داری قائم ہی رکھیں آپ لوگ مگر اس گھر میں آپ لوگوں سے ہٹ کے کسی تیسرے وجود کی جگہ نہیں ہے یہاں۔”

کسی سخی شہزادی کی طرح انکی جھولی کو خزانوں سے بھرنے کا اعلان کرتی وہ اندر کی طرف بڑھ گئی تھی۔ وہاں موجود تیسرا شخص بھی اپنی اتنی کم مائیگی پہ حیران تھا۔

وہ معروش جسکی زبان ہنی ہنی کرتے نہیں تحجتی تھی کتنی آسانی سے اسے تیسرا وجود جتا گئ کچھ تھا جو اندر چھناکے سے ٹوٹا تھا شاید وہ دوستی کا مان تھا۔

معروش حیات کو اس بےضرر لڑکی سے کیا ان سکیورٹی ہوسکتی تھی ۔

طیبہ نے طنزیہ نظروں سے بیٹے کو دیکھا جو تین سال سے اسے ڈھونڈنے میں زمین آسمان ایک کیے ہوے تھا ایک پل میں ان سب کو انکی اصلیت دکھا گئ تھی۔

بے حس اور ہر احساس سے عاری وہ آج بھی بارہ سالہ معروش تھی جس نے دو منٹ میں ان ماں بیٹے کو انکی اوقات یاد دلائ۔

༻━━━━━⊱༻

ترے احساس کےسائے سے لپٹ کے اکثر

دل کے جو زخم تھے اشکوں کے بہانے نکلے۔۔۔

سامنے کینوس پہ پوٹریٹ کیے گئے ڈوبتے سورج کے منظر پہ آنکھیں ٹکائے وہ ماضی کے دھندلکوں میں ڈوبی ہوئی تھی جہاں ایک دن ایسا ہی سورج اسکی ذات کا غرور ، اسکی قسمت کا روشن ستارہ لے کے ڈوب گیا تھا۔

آنکھیں بند کیے ان منآظر سے غافل ہونا چاہا تھا مگر کانچ کے ٹکڑوں نے آنکھیں بند نہیں کرنے دیں ۔دور کہیں سے کسی کے کراہنے کی صدائیں تھیں،تھپڑ کی گونج ،چیخ وپکار اور پھر ایک آخری آواز آئی تھی گولی چلنے کی وہ کانوں پہ ہاتھ رکھے گھٹنوں میں سر دے گئی۔

وہ اپنے اس عذاب ماضی سے جان چھڑانا چاہتی تھی مگر اس سے منصوب شخص روز اسکے زخم کریدتے یہ بھول جاتا کہ اس نے بھی اتنا ہی ظلم سہا تھا جتنا اس نے ۔سب ان کے درمیان حائل اس بیچ کی خلیج سے واقف تھے مگر کوئی بھی آگے بڑھ کے اسے سہارا نہیں دینا چاہتا تھا ۔

“میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں انو میرے لیے ہماری زندگی کیلئے بس اور کچھ نہیں چاہئیے میں وعدہ کرتا ہوں اسے کھروچ تک نہیں آئے گی ۔میں اسکی حفاظت کروں گا اپنی جان سے بڑھ کے میں واپس لے آؤں گا اسے۔”

“کوئی اتنا کیسے گر سکتا ہے ۔”

“جب دلہن پارلر سے ہی غائب ہوجائے گی تو کیا عزت رہ جائے گی تمہارے باپ کی اسکے سوا کوئی چارہ نہیں میری جان۔”

“میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں میری عزت رکھ لو میری بیٹی کو اپنا لو۔” ایک اعلٰی عہدے پہ فائز شخص کی خودغرضی میں ڈوبی آواز۔

ان گنت آوازوں کا شور تھا جو کانوں پہ ہاتھ رکھنے کے باوجود نہیں رکا تھا۔

” سیانے کیندے نے یار گواچے مل جاندے پر ہینڈ فری گواچے کدی نی ملدے ۔”

“کیوں ؟آخر کیوں ؟ “

وہ زاروقطار روتے کمرے کی ہر چیز اٹھا اٹھا کے پھینکنے لگی تھی۔کتنے کانچ تھے جو اسکے دل اور ہاتھوں میں چبھے تھے۔ اسکا خود سے اختیار اٹھ چکا تھا ۔

“تم جانتی ہو کتنا اذیت طلب مرحلہ ہوتا ہے اس شخص سے نفرت کرنا جس سے آپ بے انتہا محبت کرتے ہوں مگر تم کیسے محسوس کروگی تم جیسی سیلفش لڑکی کیاجانے محبت کیا ہوتی ہے۔”

اس کے دہکتے لہجے کی آنچ پھر سے اسے نڈھال کررہی تھی۔

“مجھے تم سے کوئی گلہ نہیں انو جو چیز میری قسمت میں نہیں تھی میں نے اسکی چاہ کی تھی۔میرے رب نے عطا کرکے مجھ سے واپس لے لی ۔میری زندگی کا خلا شاید اس سیاہ رات کی سیاہی سے پر کرنے میں گزر جائے گا۔ جب میں اسے تاریک رات میں گھر سے لے کے نکلا تھا۔غلط کون تھا میں یا میرے ماں باپ کا اقدام ساری زندگی کا پچھتاوا رہے گا یہ۔پھر بھی میں نے تمہیں معاف کیا۔”

وہ چٹانوں جیسا شخص جسے کوئی بھی نہیں سمجھ سکا تھا جسکا دکھ سب سے بڑا تھا ۔ جس نے اپنا اکلوتا خونی رشتہ بھی کھو دیا تھا ۔اس کا ظرف بھی اتنا ہی بڑاتھا اور جسکی وسیع ظرفی کی اسے ضرورت تھی وہ شخص تو اول روز سے ہی قریب رہ کے میلوں کے فاصلے پہ تھا۔

“بالوں بتیاں ماہی سانوں مارو سنگلا نال پتھر بڑائیم سونا بنڑا ساں اعملاں نال ۔”

مہندی لگے ہاتھوں کی خوشبو اب بھی اسکے نتھنوں سے ٹکرا رہی تھی ۔کب اس مہندی کا رنگ خون میں بدلہ وہ وحشت زدہ سی ہوکے چلائی ۔اتنی سردی میں بھی اسکو ٹھنڈے پسینے آرہے تھے۔

“ہیپی برتھ ڈے ٹو یو مائی لوو ۔”کانوں کی قریب سرگوشی ہوئی تھی ۔اس نے ڈرتے ہوئے اپنے قریب بیٹھتے شخص کو دیکھا۔

“بہت غلط کیا ہے اپنی برتھڈے کے دن کو اپنی شادی کا دن بنا کے آج سے تمہیں اس دن پہ پچھتاوا ہوگا،اپنے پیدا ہونے پہ پچھتاوا ہوگا۔”

ہلتے لب نجانے کیا کہہ رہے تھے مگر اسکا دماغ ایک سال پیچھے کی صداؤں میں گونج رہا تھا۔

آج ایک سال ہوگیا تھا اسے اس سونے کے محل میں جہاں اسکی دوستیں اسکی قسمت پہ رشک کرتیں وہیں وہ گھٹ گھٹ کے مررہی تھی۔سونے کا چمچہ لے کے پیدا ہونے والی انو گھٹ گھٹ کے جی رہی تھی۔

وہ آزاد تھی بلکل آزاد مگر وقت اور اپنے گناہوں کی قید میں ۔ظاہری آزادی اس شخص کیلئے کوئی معنی نہیں رکھتی تھی جہاں ماضی کی سرکشی اسے قید میں کیے ہوئے تھی۔ ہلتے لب کچھ کہہ رہے تھے اس نے ہاتھ اٹھائے اس شخص کے ہلتے لبوں پہ رکھنا چاہا کہ اسکا بولنا اسے اذیت دے رہا تھا مگر وہ حواس کھوتی گئی۔

بند ہوتی آنکھوں سے اس نے ایک سائے کو اپنے اوپر جھکتے دیکھا ۔بھلا کون ہوسکتا تھا اس شخص کے علاوہ جس نے اس سے اسکے اپنے چھڑوا دیے تھے۔

༻━━━━━⊱༻

یہ چیراٹ تھا جہاں کی زندگی باہری زندگی سے یکساں الگ تھی۔ کمانڈوز کا گھر ،انکی تربیت گاہ ۔یہاں کی زندگی معماملات اور مصروفیات ایک اپنی الگ پہچان رکھے ہوئے تھیں۔مستعدی ،تیزی ،چستی ،ہوشیاری ،سخت جانی یہ چیراٹ کی زندگی کے بنیادی اصول تھے جہاں پہ اس بھٹی سے گزر کر صف شکن مجاہد،جانباز غازی اور باہمت مردان کار بنتے ہیں۔ چیراٹ میں ٹریننگ کی ابتداء ایک عجیب وغریب اصول سے ہوتی ہے جہاں ایک سست رو انسان کو بھی ہر عام کام بھی تیزی سے دوڑ کر کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔یہ حکم انکی تربیت کے آغاز سے اختتام تک نافذ ہوتا اور یہاں پہ ہر جرم کی سزا بھی انوکھی تھی۔

واسق کے دماغ سے وہ لڑکی ابھی اترنے ہی نہ پائی تھی کہ پھر سے وہ اسکے سامنے آن کھڑی ہوئی۔

چیراٹ سے سات کلو میٹر دور چھپری گاؤں تک تیس کلو پاؤنڈ کے وزنی پتھر اپنی پشت سے لٹکا کے جانا اور آنا بھی انکی ٹریننگ کا حصہّ تھا۔

بلندوبالا پہاڑی پر ریپلنگ کیلئے آج وہ موجود تھے جہاں پہ عام سفر کا تصور نہیں ہوسکتا تھا۔ یہاں پہ انہیں پہاڑوں پہ چڑھنے اور اترنے کی تربیت دی جارہی تھی۔

آرمی کی حدود میں موجود اس علاقے میں مقامی لوگوں کی بھی انٹری الاؤ نہ تھی ایسے میں ایک لڑکی اپنے جانوروں کا پیچھا کرتی وہاں پہنچی تھی ۔واسق اپنی باری کے انتظار میں ارتضٰی سے محو گفتگو تھا اسکے ساتھ موجود بچے کو دیکھ کے چونکا ۔

“ایک منٹ میں ابھی آتا ہوں ۔”

اس نے عجلت میں ارتضٰی کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے کہا اور ساتھ ہی وہ اسطرف بڑھا جہاں موجود سیکورٹی گارڈ اس لڑکی اور بچے کو ڈانٹ رہا تھا۔

“کیا ہوا لالہ ؟ سب خیریت تو ہے نا؟” اس نے ایک نظر ان پہ ڈالتے گارڈ کو دیکھا۔

“سر یہ لوگ بہت تنگ کرتا ہے ان کو پتا بھی ہے اس علاقے میں جگہ جگہ سیفٹی کیلئے سرنگیں اور بارود لگا ہے اگر کچھ ایسا ویسا ہوگیا یہ لوگ ہم پہ الزام لگانے آجاتا۔”

گارڈ نے کڑے تیوروں سے انہیں گھورتے کہااس بچے کی آنکھوں میں واسق کیلئے شناسائی کے رنگ واضع تھے جبکہ اسکی بہن مسلسل بکری کے میمنوں پہ نگاہ جمائے ہوئے تھی۔

“زموږ لیلا ودروي ، شمویل خانه”

(ہماری لیلیٰ کو روکیں ، شمل خانہ)

اس نے خوفزدہ نظروں سے کہتے اپنے بھائی کو دیکھا۔

واسق کے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ آئی زیادہ نہیں تو کچھ حد تک وہ انکی زبان سے واقفیت حاصل کرچکا تھا ۔

“صاحب ہمارا بکری کا بچہ ہمیں واپس لانے دو آئیندہ سے ہم ادھر نہیں آئے گا۔”

اس لڑکی جسکا نام وسام تھا اسکی نسبت چھوٹا بھائی اردو میں بات کرلیتا تھا شاید ان دونوں کو آپس میں بات کرتے دیکھ اس نے اپنی بات سمجھانے کو اردو بولی تھی۔

واسق اس دن بھی نہیں سمجھ پایا تھا کہ اس بچے نے اسے کیا بولا تھا۔

“لالہ آپ ان کا میمنہ لا دو ۔”

واسق نے اس بچے کے سر پہ ہاتھ رکھتے کہا گویا اسے تسلی دی تھی گارڈ نے اسکی بات سنتے فوراً حکم کی تعمیل کی تھی۔

جلد ہی وہ اپنا میمنہ لیے نیچے اترنے لگے تھے جب واسق نے اس بچے کو اپنی جانب متوجہ کیا۔

“کیا نام ہے تمہارا بچے؟” واسق کا دل چاہ رہا تھا وہ اسے کچھ دیر اپنے پاس روکے اب وہ اسے روکنا چاہ رہا تھا یا اسکی بہن کو یہ نہیں پتا تھا۔

“شموئیل اور یہ ہمارا باجی ہے وسام ۔” اس بچے نے واسق کو اردو میں جواب دیا تو اس نے نظر اٹھائے وسام کو دیکھا جو میمنہ ہاتھ میں لیے اسکی کمر پہ ہاتھ پھیر رہی تھی۔

“اس دن تم کیا کہہ رہے تھے پارک میں اور وہ وائلن کیسے ٹوٹا تھا۔” اس نے جلدی سے دوسرا سوال داغا۔

“تم ہمارا باجی کے ساتھ بیٹھ گیا تھا اگر ہمارا بابا دیکھتا تو اسے مارتا ۔”

شموئیل کا گول مول سا جواب سنتے وہ چپ ہوگیا ۔اگرچہ وہ اسکی بے تحاشا خوبصورتی سے مرعوب ہوا تھا مگر اسکیلئے کسی قسم کی مشکلات پیدا نہیں کرنا چاہتا تھا۔

“آئی۔ایم سوری مجھے پتا نہیں تھا اب تم لوگ جاؤ۔” اس نے براہ راست وسام کو مخاطب کیا تھا۔

“یہ سن نہیں سکتا صاحب اور نہ ہمارا باجی کو اردو سمجھ آتا۔”

اس چھوٹے پٹاخہ بچے نے واسق کو آنکھیں دکھائیں اور بہن کی طرف ہاتھ بڑھائے اسے لے گیا تھا ۔واسق اس داغدار چاند کو دیکھ رہا تھا جب گارڈ نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔

“سر جی اگر یہ لڑکی سن نہیں سکتی تو بول کیسے لیتی ؟اور وہ بھی اتنا واضع ۔ اگر اسے اردو نہیں آتی تو اس بچے کے آنے سے پہلے وہ میرے ساتھ فارسی میں بات نہیں کررہی تھی جہاں تک مجھے پتا وہ صاف شفاف اردو ہی بول رہی تھی۔”

گارڈ اسے ان دونوں کے بارے میں چونکانا چاہتا تھا جبکہ واسق بری طرح ہی چونکا تھا ۔اتنا سا بچہ جھوٹ کیوں بول رہا تھا اور اگر اسے واسق کی بات سمجھ آتی تھی رسپونس کیوں نہیں کرتی تھی۔ اس نے مشکوک نگاہ ان دونوں کے دور ہوتے وجود پہ ڈالی کچھ دیر پہلے کے افسوس کی جگہ سخت تاثرات نے لے لی تھی۔

“خیر ہو بھائی ایک نقاب پوش حسینہ سے کیا گفتگو ہورہی تھی۔”

ارتضٰی نے آنکھ دباتے شرارت سے اسے کہا جبکہ وہ اسکا ہاتھ جھٹکتا آگے بڑھ گیا۔اس نے حیرت سے اسکے اس عمل کو دیکھا مگر سر جھٹکے اسکے پیچھے چل پڑا جہاں وہ سیفٹی پہنے بیلٹ سے اپنی کمر کس رہا تھا ارتضٰی بھی اسکا پارٹنر تھا۔ لمبی رسی سے بندھے دونوں بیلٹ کو مضبوطی سے کبھی سختی اور کبھی ڈھیلا کرتے نیچے کی طرف جارہے تھے۔واسق کا دماغ اسوقت مکمل طور پہ بٹا تھا زندگی میں پہلی بار کسی چہرے نے اپنی جانب کھینچا تھا ۔ایک عجیب افسردگی اور اضطراب کی سی کیفیت تھی جو اسے الہامی جزبوں کی طرف کھینچ رہی تھی۔

༻━━━━━⊱༻

وہ پریشان سا اپنے سامنے موجود لڑکے کو دیکھ رہا تھا۔

“دیکھو سننے میں یہ تمہیں کچھ عجیب لگ رہا ہے مگر بدقسمتی یا ہماری خوشقسمتی کے یہ شخص تم سے بہت مشہابہ ہے جیسے کوئی بچھڑا ہوا جڑواں بھائی۔”

وہ انتہائی پروفیشنل انداز میں اس سے بات کررہا تھا۔ارتضٰی نے پھر سے اپنے سامنے موجود اس تصویر کو دیکھا جہاں پر کافی ساری مشینوں میں جکڑا وجود مکمل نہیں تو کافی حد تک اس سے ممثالت ضرور رکھتا تھا۔

” سوری یہ بہت رسکی کام ہے جبکہ میں ایک سادہ سا بے ضرر انسان ہوں جسے بزنس کی دیکھ ریکھ کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔”

اس نے بجائے لمبی تہمید کے سیدھی بات کی تھی جو سامنے والے کے چہرے پہ ایک پراسرار مسکراہٹ بکھیر گئی۔

“اگر ایک خودکش بمبار آئی۔ایس۔آئی کا ایجنٹ بن سکتا تو تم کیوں نہیں؟”

سامنے والے کا جواب اسے لاجواب کرگیا ۔

“مگر ایسے کیسے میرا مطلب نہ کوئی فوجی ٹریننگ اور نہ ہی۔۔۔ میرا مطلب کے میرا بزنس۔” ایک اور جواز پیش کیا ۔

“ہم تمہیں مستقل اپنا پابند نہیں کریں گے اور کچھ ٹولز ہیں جو کچھ دن میں ہی سیکھ سکتے تم بس انسان میں کچھ سیکھنے کی جرأت اور سب سے بڑھ کے چاہت ہونی چاہیئے۔

تو وہ ابن آدم پہاڑوں کو بھی تسخیر کرسکتا آسمانوں کی بلندیوں کو چھوسکتا ہے تو سمندر کی تہہ تک پہنچ سکتا ہے۔”

اسکا ہلکا پھلکا انداز ارتضٰی میں بھی بشاشت بھر گیا تھا۔

اور اس نے آئی۔ایس۔آئی کے کیمپ میں کچھ بنیادی ٹریننگ لیتے انہیں جوائن کرلیا تھا ۔کیونکہ آئی۔ایس۔آئی کو “را” میں اپنا بندہ پابند کرنے کی جلدی تھی تو “را” اپنے ایجنٹ کی تلاش میں سرگرم تھا۔ایسے میں ارتضٰی نے اپنی جان ہتھیلی پہ رکھے انجان لوگوں میں شمولیت اختیار کرلی تھی ۔

اسکا پہلا مشن پاکستان میں موجود مزید “را” کے ایجنٹس سے رابطہ کرکے انہیں اپنی ڈؤل اڈیننٹٹی استعمال کرتے آئی۔ایس۔آئی کی حدود میں لانا تھا۔ جو اس نے بہترین طریقے سے سرانجام دیا تھا ۔معمولی خدوخال کی سرجری کرواتے وہ مکمل تیج مہرہ کی شکل اختیار کرچکا تھا ۔

آئی۔ایس۔آئی کے بے نام پروجیکٹ انجام دیتے اسکے من کو جذبۂ حب الوطنی سے سرشار کیا تو اس نے اس نے آرمی جوائن کرلی تھی۔حیدر صاحب اس بات سے انجان تھے کہ طیبہ نے جس شخص کی خاطر انہیں چھوڑا وہ ملک حیات ہیں اور نہ ہی اس نے انہیں بتا کے کسی گلٹ کا شکار کرنا چاہا۔انہیں اسکے اس فیصلے سے کوئی اختلاف نہ تھا مگر اس نے طیبہ بیگم سے کچھ شئیر نہیں کیا اکے نزدیک وہ لندن میں بزنس اسٹیبلش کررہا تھا۔

طیبہ نے حیدر کو جس دولت کیلئے چھوڑا انہوں نے اس دولت کو اپنے گھر کی لونڈی بنا لیا۔ مگر عورت ذات سے وہ مکمل طور پہ بدظن ہوچکے تھے ۔اپنی ٹریننگ مکمل کیے وہ حیدر صاحب کے پاس آیا اور قسمت نے پھر سے اسے معروش سے ملوا دیا۔

اس نے میرو سے تیج تک کا سفر کڑے مراحل میں گزارا تھا مگر وقت اسے اپنا پابند اس وقت کرگیا جب معروش کے ارجنٹ شادی کے فیصلے پہ اس نے حیات صاحب کو کال کرکے سچویشن بتائی اور انہوں نے اس پہ کیے گئے احسانات کا بدلہ مانگ لیا جو اس نے باقاعدہ نکاح کرتے اس وعدے کے ساتھ پورا کیا کے وہ ہمیشہ اسکے سیاہ سفید کا مالک بنے گا ۔کبھی اسکا ہاتھ نہیں چھوڑے گا یہ وعدہ کرتے وہ دونوں انجان تھے کہ یہ حیات صاحب کی آخری ہی خواہش تھی جو انکے مرنے سے پہلے فلائٹ میں اڑان بھرنے سے چند منٹ پہلے کی گئی تھی۔

وقت ریت کی مانند پھسلتے معروش کو ان سب کی زندگیوں سے دور کرچکا تھا اور ساتھ ہی حیات صاحب کی موت وہ معروش کا سہارا بننا چاہتا تھا جب اس نے اسے ٹھکرا دیا ۔اپنے سکلز میں بہتری کیلئے اس نے دوستوں کے کہنے پہ کمانڈو فورس جوائن کرلی اور بوجھل دل لیے چیراٹ آگیا ۔

ایسے میں پھر سے ان لوگوں نے معروش کو اگلے تین سالوں کیلئے کھو دیا جہاں اسکی کمانڈو ٹریننگ میں جدت آرہی تھی وہی اسے ڈھونڈنے میں لگے ارتضٰی نے اسے لندن کے انہی فضاؤں میں پھر سے ڈھونڈ لیا جہاں وہ اپنا اصل بھولے کریپٹو بن گئی تھی۔

اب وقت پھر انہیں ایک چھت کے نیچے لے آیا تھا۔

༻━━━━━⊱༻

ارتضٰی اور واسق جتنا بہترین نشانہ باز انکی پوری یونٹ میں نہ تھا مگر اب کے کمانڈو کے معیار تک آنے کیلئے ان پہ مزید محنت ہورہی تھی۔ روحان اور احمد سلو لارنرز میں شامل تھے مگر پھر بھی وہ ہر ایک حصّے کو اچھے طریقے سے سرانجام دینے کی کوشش کرتے۔

روحان اور احمد پہ اکثر ہی واسق فقرے کستا کہ وہ نشمین کے ایسے گلاب تھے جنکی سستی اور کاہلی کا فوج بھی کچھ نہیں بگاڑ سکی تھی۔

“اناں دی آتش بازی ساڈے پنڈ اچ ظفری پہلوان دی شادی وچ وی نی سی قسمے اپاں اناں نوہ ہی سڈ لیان گے ۔”

احمد کی ہم کلامی کی عادت ہمیشہ باآواز بلند ہی ہوتی تھی۔روحان اور ارتضٰی نے بروقت منہ پہ ہاتھ رکھے اپنی ہنسی دبائی ورنہ اتنی سریس ٹریننگ جہاں پہ انہیں بارود پہ کمانڈ سکھائی جارہی تھی وہاں احمد کی پھلچھڑی بارود سے بھی تیز اثر دکھاتی۔

“بارود کے استعمال پہ دسترس ایک کمانڈو کا زیور ہوتی۔”

انکے ٹرینی نے بارود کا گولہ لیے ان چاروں کی طرف نگاہ ڈالی۔

“من جانبازم بی ہیو لائیک آ سولجرز بی اٹنٹیو۔”

کمال سر نے آج واقعی کمال کردیا تھا جنہوں نے سب کے سامنے انکی واٹ لگانے سے گریز کرتے صرف ہلکی تنبہی کی تھی۔

کمانڈو یونٹس کے نام بھی کافی یونیک تھے جن میں یلغار،ببرتم (ببر شیر)،البتار (رسول اللہ کی ایک تلوار ہے)

جیسے القابات سے پکارا جاتا۔جبکہ ایس۔ایس۔جی کا لوگو تلوار من جانبازم کہلایا جاتا ۔وہاں پہ ہر ریگروٹ کی زبان پہ اللّٰہ ہو کے ساتھ من جانبازم کی یلغار رہتی۔

اسوقت وہ چاروں دہکتی آگ کے گرد بیٹھے تھے جب ساتھ والے گروپ سے ابھرتی آواز پہ متوجہ ہوتے اس جانب بڑھے تھے ۔ کمانڈو سپاہی نصراللّٰہ جسکا تعلق ایل۔او۔سی سے ملحقہ کشمیر کے ایک گاؤں سے تھا اور یونٹ کو اپنی سریلی آواز سے مستفید کرتا رہتا تھا۔ اسوقت بھی اسکی آواز نے وہاں موجود لوگوں پہ سحر طاری کیا اپنی گپ شپ چھوڑے اسکے گرد آ بیٹھے جو درخت سے ٹیک لگائے اپنی دھن میں مست بیٹھا تھا۔۔

دو پینڑاں دا ویر میں تے ماں دی اکھ دا تارا سی۔۔۔

جد میں پردیسی ہویا سی تے رویا ٹبر سارا سی۔۔۔

جد اوندے پنڈ اتوں مڑیا سی۔۔۔

تاں کھڑی سی او وی موڑ تے۔۔۔

میں توں ملنڑ دی ہمت نا ہوئی ۔۔۔

میں دوروں ای ہتھ جوڑ دیتے۔۔۔

پر اج وی چیتہ پُلدا نیں آکھاں پر کے کھلوتی دا،

جے ٹیڈھ نا ہوے تے کوئی نا رو وے۔۔

اے مسئلہ سارا روٹی دا۔۔۔۔

اے پُکھ وی کیسی چیز اے ربا بندے نوں پڑنے پا دیندی۔۔

جے آجاوے کیتھے آئی تے راجے توں بھیک منگا دیندی۔۔

اے زندگی پجی فِر دی آ زندگی وچ بڑی تھوڑاں نی۔۔۔

بندہ تے مکدا مک جاندا پر مکدیا نی کدی تھوڑاں نی۔۔۔

مجبوری ایسی چیز اے ربا بندہ رول دیندی آ چوٹی دا۔۔۔

جے ٹیڈھ نا ہوے تے کوئی نا رووے اے مسئلہ سارا روٹی دا۔۔

جیسے ہی اس نے گانا بند کیا سب نے تالیاں بجاتے اسے سراہا تھا اور سیدھا ہوتے پھیکی مسکراہٹ سے انہیں دیکھنے لگا تھا۔ جہاں پہ بیٹھے کڑیل جوان بھی اگر زیادہ نہیں تو کچھ تو اسکے الفاظ پہ جزباتی ہوے تھے۔فاصلہ چاہے گھنٹوں کی مسافت کا تھا مگر اسوقت وہ سب ہی گھر سے دور بیٹھے تھے۔

“ہنڑ پائی جان تسی اے ڈیسائڈ کرلیتا کے تسی سانوں نی بھلا چنگا ویکھ سکدے پہلاِں بڑی مشکلاں نال مائی دے ہتھ دا ساگ تے نال مکئ دی روٹی نوں پولنڑ دی کوشش کردیاں نوں تسی اور رلا چھڈو۔”

احمد جو ہمیشہ سے چھوٹے دل کا مالک تھا اس نے تمام صورتحال پہ تبصرہ ضروری سمجھا تھا جس نے سب کے چہرے پہ مسکراہٹ دوڑا دی تھی۔

“لو بھئی یہاں تو دنگل شروع ہونے والا ہے او ویرے کوئی چنگا ماڑا گانا سناؤ یہاں پورا دن کرنل صاحب رولاتے اور یہاں تم دونوں ایموشنل سین کری ایٹ کررہے۔”

جہاں احمد بولے وہاں روحان پیچھے رہے یہ ممکن کب تھا کیونکہ ان دونوں کی سلیکشن اور ٹریننگ ایک ساتھ ہوئی تھی اسیلئے واسق اور ارتضٰی کی نسبت وہ دونوں زیادہ ایک دوسرے کے نزدیک رہتے تھے اور لگ پلنگ کرتے۔

تھوڑی ہی دیر میں نصراللّٰہ کی اداسی دور کرنے کو وہ سب ایک بھرپور سماں باندہ چکے تھے۔

اگلے کئی دن ایسے چھوٹے موٹے چیلجنز سے نبٹتے گزرے تھے۔زمین کو استعمال کرتے جنگی چالوں پہ عبور حاصل کرنا انکی تربیت کا اہم حصّہ تھا ۔جسکا مقصد انہیں اس چیز کی تربیت دینا تھا کہ وہ بے خبری کے عالم میں دشمن کو جا دبوچیں اور ان پہ کاری ضرب لگائیں۔ انکی اس ٹریننگ کو” فیلڈ ٹرافٹ” کا نام دیا گیا تھا ۔کمانڈو یونیفارم میں ملبوس وہ لوگ اپنے آپ کو مکمل طور پہ کبھی زمین کی تہہ جیسے رنگ میں رنگ لیتے تو کہیں سبز گھاس کی چادر اوڑھے درختوں اور ہریالی کا سہارا لیے دشمن کی چال سمجھنے کو تیار ہورہے تھے ۔

انہیں مشکل حالات سے نبٹنے کیلئے جب کھانے کو کچھ نہ ہو اور زخمی کو کسطرح ٹریٹ کریں گے سب سکھا رہے تھے جہاں اتنا کچھ نیا سیکھنے کو مل رہا تھا وہاں کئی اپنوں سے ملنے کی تڑپ بھی زندہ تھی۔کیونکہ اس ٹریننگ کا دائرہ اختیار صرف چیراٹ تک محدود نہیں تھا یہ ایک ملگ گیر ٹریننگ تھی جو انہیں مختلف مقامات پہ وقت اور حالات کے مقابل انجام دینی پڑرہی تھی۔

سروائیول رینج جب سٹارٹ ہوا تو سب کو ہی ٹھنڈے پسینے آئے تھے کیونکہ بھرے جنگل میں انہیں اپنے کھانے پینے کا خود ہی اہتمام کرنا تھا ۔

“جانبازم آج کی ٹریننگ کا خاصہ یہ ہے کہ آپ لوگوں کو مرغی ذبح کرنی ہوگی وہ بھی اپنے نوکیلے دانتوں سے پہلے جائیں گے آپ لوگ اپنے دانت صاف کریں گے۔”

بیس نوجوانوں پہ مشتمل وہ تمام لوگ الرٹ ٹہرے تھے جب سنئیر کمانڈ کے حکم پہ دوڑتے ہوئے دوبارہ سے برش کرنے بھاگے تھے۔ان کمانڈوز کوتربیت کے دوران ہی کچا گوشت کھانے کا بھی عادی بنادیا جاتا ہے جبکہ اگر ان کے پاس کوئی خنجر نہ ہوتو دانتوں سے جانوروں کو کیسے ذبح کرنا ہے اور پھر پانی نہ ملنے کی صورت میں کسی جانور کا خون کیسے پینا ہے ،ان سب مشکل اور ناگوار ترین طریقوں کا انہیں عادی بنادیا جاتا ہے۔

“یار مطلب کے حد ہی ہوگئی واسق دل کرتا تیرے ہونے والوں کو بھی گالیاں دوں۔”

ارتضٰی نے ہاتھ چلاتے جھاگ اڑتے منہ سے ہی واسق کو سنائی جبکہ اسکی آنکھوں پہ چھم سے ایک چہرہ آٹکا تھا ارتضٰی نے اسکا کھویا انداز دیکھا تو چٹکی بجاتے اپنی جانب متوجہ کیا۔

“او ہیلو جلدی من جانبازم ورنہ آج کے دن ڈسپلبن توڑنے والوں کی سزا ہے کہ وہ جنگل سے سانپ پکڑ کے لائے گا اور مجھے بھری جوان میں اسے بیوہ کرنے کا کوئی شوق نہیں دشمنی اپنی جگہ پر اب تو دشمن کا بھی برا نہیں سوچ سکتا۔”

ارتضٰی کی زبان بھی ساتھ ساتھ چل رہی تھی جب واسق نے چونکتے ہوے اسکے آخری الفاظ پہ غور کیا کیونکہ اب تک اس نے اپنی زندگی کا کوئی پہلو دوستوں سے شئیر نہیں کیا تھا۔

“کون دشمن اور بیوہ میں کچھ سمجھا نہیں ۔”

واسق مکمل طور پہ متوجہ ہوا جبکہ ارتضٰی ہڑبڑایا تھا اپنی مستی میں وہ انکے ہاتھ اپنی شامت دے چکا تھا ۔

تبھی بیل بجی ان دونوں نے جیسے تیسے منہ صاف کیے باہر کی طرف دوڑ لگائی۔

سامنے ہی سپاہی برائلر موٹی تازی مرغیاں لیے آرہے تھے احمد کو سوچ سوچ کے ٹینشن ہورہی تھی کہ وہ انکی گردن دبوچیں گے مگر مرحلہ اسکی سوچ سے بھی آگے کا تھا

“یار قسمے میں تے کدی مکھی نی ماری تے اے موٹی تازی مرغی نا پائی اے میرے وس دا روگ ای نی۔”

احمد نے معصومیت سے ان تینوں کو دیکھا۔

“مرد بن مرد میدان جنگ چھوڑ کے جانا ہے تو عورتوں کی طح چوڑیاں پہن کے بیٹھ جانا۔”

ارتضٰی نے اسے تھپکی دی اس نے روحان اور واسق کو دیکھا جنہوں نے کندھے اچکائے۔ سامنے ہی دس لوگوں کے ہاتھ مرغیاں پکڑائی گئی تھیں ۔

“سامنے دیکھیں سب لوگ اور مرغیوں کو اس پوزیشن میں پکڑیں۔”

انسٹرکٹر کی آواز پہ فرنٹ لائن پہ موجود دس لوگوں نے بلکل گردنیں اکڑا لی تھیں۔

“سب لوگ صرف بیس سیکنڈ میں منہ کے ساتھ انہیں ذبح کریں گے انکا خون پیں گے اور ایک بھی قطرہ زمین پہ نہیں گرنا چاہیئے انڈرسٹینڈ۔”

ٹرینی کی آواز پہ سبکے سر اثبات میں ہلے تھے۔ زندہ مرغیوں کے منہ اپنے منہ کے اندر لیے انکی آواز کا گلہ گھونٹے اگلے چند سیکنڈز میں انکا سر دھڑ سے الگ کرچکے تھے ۔

“گردن نیچے پھنکیں خون پیں ایک بھی قطرہ نیچے نہ گرے ۔” انسٹرکٹر کسی جلاد کی طرح انکے سامنے گھومتے حکم نامہ جاری کیے ہوے تھا اور وہ سب کسی محکوم کی طرح عمل کررہے تھے ۔

“قسمے یار زندگی میں سارے گناہ کیے ایسا کچھ نہیں کیا کبھی۔” احمد کے بعد روحان کی دہائیاں بھی شروع ہوچکی تھیں۔

مرغیوں کی جان ابھی باقی تھی جب ان سب نے انکا خون سک کرلیا تھا اور ساتھ ہی انکی چمڑی کی ادھیڑ بن کرتے ہاتھ چندلمحوں میں انکے پر ہٹا چکے تھے ۔اور پھر سب نے اپنی اپنی ہمت کے مطابق اس کچے گوشت کو کھایا تھا۔

جب انکی رو کی باری آئی تو سب سے زیادہ مسئلہ احمد کررہا تھا۔مگر سانپ پکڑنے کی سزا بہتر تھا یہ کام دوسری صورت باہر کا راستہ۔

ایس ایس جی کمانڈوز کو تربیت کے دوران جہاں ہر طرح کے مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے سردیوں میں سرد پانیوں میں چوبیس چوبیس گھنٹے تک رہنا پڑتا ہے وہاں ابلتے ہوئے پانیوں میں بھی اسکو موسم کی شدت کا سامنے کرنے کا عادی بنایا جارہا تھا ۔کسی آپریشن کے دوران جب اسے بھوک وپیاس کا سامنا کرنا پڑے تو وہ زہریلے جانوروں کودانتوں سے کاٹ کر بھی کھاجاتے اور ان کا خون بھی پی جاتے ۔

انہیں تربیت کے دوران سانپ پکڑنے کا طریقہ بھی سکھایا جاتا ہے تاکہ پہاڑوں اور جنگلوں میں جب خطرناک ترین سانپوں کا سامنا کرنا پڑے تو انہیں کسی قسم کا خوف لاحق نہ ہو ۔

پاکستانی کمانڈوز کو دوران تربیت سانپ کی کھال اتارنے سے پہلے اسکو پکڑ کر اسکی گردن کاٹنے کا طریقہ بھی سمجھا دیا جاتا ہے جبکہ گردن کے بعد اسکی دم سے چار انچ اوپر تک کا حصہ بھی کاٹنے کے بعد دفن کرنے کا حکم دیا جاتا ہے کیونکہ سانپ کی گردن اور دم میں زہر ہوتا ہے جو کٹنے کے باوجود آدھ گھنٹہ تک حرکت کرتی ہے۔اس دوران وہ کسی کو کاٹ لے تو وہ بندہ ہلاک ہوسکتا ۔

سانپ کی کھال اتار کر اسکے اندر سے بڑی آنت نکال کر سانپ کے گوشت کو کچااور پکا کر بھی کھانے کا طریقہ بتایا جاتا ۔ کمانڈوز کو جنگلوں اور پہاڑوں میں کئی کئی دن تک بھوکا پیاس رہ کر آپریشن کرنا ہوتے ہیں اس لئے انہیں سانپ پکڑ کر کھانے پڑتے ہیں جس سے انکی توانائی بحال رہتی ہے ۔ سانپ کا گوشت عام حالات میں کوئی مسلمان نہیں کھاتا لیکن میدان جنگ میں انہیں اپنے مشن کی تکمیل کرتے ہوئےملکی سرحدوں ، قومی اثاثوں اور عوام کی جان بچانی ہوتی ہے اس لئے وہ خود اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہر طرح کے حالات میں زندہ رہنے پر مجبور ہوتے ہیں اورجب کوئی معقول چیز کھانے کو نہ ملے تو وہ مارخور کی طرح سانپ بھی کھاجاتے ہیں ۔

آئی ایس آئی کا نشان مارخور ہے جو سانپوں کا شکار کرتا ہے تو ایس ایس جی کمانڈوزاسکا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دشمن جتنا بھی زہریلا اور خطرناک ہو پاک فوج کے ایس ایس جی کمانڈوز انکی گردن کو اپنے دانتوں سے کاٹ کر الگ کردیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *