Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sayah Kaar (Episode 27)Part 1,2

Sayah Kaar by Uzma Mujahid

جب سے بندھا ہے گرد میرے حصار محبت کا۔۔۔

شام و سحر، خوشبوئے عشق سے مہکنے لگے۔۔۔

دھیمی چال چلتے وہ اسکے قریب آرکا تھا۔وسام نے سہمی سی نگاہ اس پہ ڈالی۔

“کیا ہے یہ سب؟” ایک نظر اسکے اردگرد پھولوں کی پتیوں پہ ڈالے غصے میں اس سے دریافت کیا۔

“وہ حمزہ میرا مطلب آپکی مام۔۔”وسام کو سمجھ نہیں آئی اسے کیسے ہینڈل کرے جانتی تھی کہ غصہ ہوگا اس پہ اعتبار جو نہیں کیا تھا۔

“میرے دوست ہی ہمیشہ تمہارے لیے اہم رہے ہیں انکی باتیں اور۔۔”واسق ابھی اسکی خبر لینے کا پورا پورا سوچے بیٹھا تھا مگر یہ کیا باہر کی برسات ابھی شروع بھی نہیں ہوئی تھی اور اندر جل تھل شروع ہوچکا تھا۔

“کیا مسئلہ ہے غصہ کیوں ٹھنڈا کرنا چاہتی ہو میرا؟” واسق کیلئے اسکے آنسو ہمیشہ پسپا کردینے والا ہتھیار ثابت ہوئے تھے اور اب بھی سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھا تھا۔

وسام نے پہلے آنکھیں پھاڑے اسکی بات سنی اور دوسرے ہی پل کمرے میں مدھر ہنسی کی گونج پیدا ہوئی تھی۔واسق حیران سا اس کے شبنمی ہونٹوں پہ پھیلی ہنسی دیکھ رہا تھا۔

“بہت بری ہو وسو یار ایسا بھی کوئی کرتا اور یوں قسطوں میں قتل کرنے کے بجائے ایک ہی بار ماردو نا۔”

واسق نے ہاتھ بڑھائے اسے اپنے قریب کیا جہاں اتنے مہینوں بعد اپنے پاس دیکھتے رہا نہیں جارہا تھا۔

اسکا سینہ میسر آتے ہی وسام نے بھی کب سے جمع شدہ غبار آج ہی دھونے کا سوچا جبکہ واسق نے بھی اسے اپنے ساتھ لگائے دل کا بوجھ ہلکا کرنے دیا ۔یقیناً وقت نے ان دونوں کو بہت کٹھن اور دشواریوں سے گزارا تھا جہاں پہ ان دونوں نے ہی اپنے خون کے رشتے کھوئے تھے۔

“ایک بار اعتبار کرلیتی تو شاید آج شموئیل ہمارے پاس ہوتا۔”واسق کے لبوں سے شکوہ پھسلا تھا اور بعد میں جس پہ اسے شدید پچھتاوا ہوا۔

وہ اسے پیچھے دھکا دیتے چلائی تھی۔

“میں نے بھی تو آپ دونوں کی زندگی چاہی تھی فرشتے نے کہا تھا وہ آپ دونوں کو نقصان پہنچائے گی پھر میں کیوں زبان کھولتی ،مجھے نہیں پتا تھا کہ وہ کیا کرنے والی ہے۔” اسکا شدید ریکشن دیکھتے واسق کو شرمندگی نے آن گھیرا۔

“آئی۔ایم۔سوری یار میرا وہ مطلب نہیں تھا۔” اس نے وسام کو سنبھالتے اپنے مضبوط بازو کا حصار باندھا ۔

نقصان ان دونوں کا ہوا تھا وسام نے بھی تو بچپن سے ماں بن کے پالا تھا ۔

“آپ کیا سمجھتے مجھے ان اندھیروں میں جانے کا شوق تھا۔” وسام نے سرخ آنکھیں اس پہ گاڑیں جس نے فوراً نفی میں سرہلایا تھا۔

“پھر کیوں بولا ایسا؟” نروٹھے پن سے کہتے اسکا حصار توڑنا چاہا۔

“غلطی ہوگئی یار معاف کرو آپ حق بجانب ہیں آپ ہمیں سزا دیں ،سالوں کا ہجر عطا کریں آپ پھر بھی حق بجانب ۔” واسق نے کہاں بعض آنا تھا۔وسام نے اسکی بات کی گہرائی کو سمجھتے تاسف سے اسے دیکھا۔

“ہم غلطی کے مرتکب ہوئے صاحب آپ کے دل میں جو آئے ہمیں سزا دیں ہم اف نہیں کریں گے۔” نظریں جھکائے اپنا جرم تسلیم کر ہی لیا۔

“جو سزا سنائیں؟” واسق نے اعتبار چاہا مبادہ وہ اپنی کہی سے مکر ہی نہ جائے۔وسام نے زوروشور سے اثبات میں گردن ہلائی واسق کی آنکھوں میں شرارتی ستارے چمکے ایک جھٹکے سے اسے اپنی طرف کھنچتے اپنے اوپر گرایا۔اسکی حرکت سے وسام کو پتا چل رہا تھا کہ اس نے حامی بھرتے خود کو آزمائش میں ہی ڈالا ہے مگر اسوقت جو ان دونوں کا رشتہ تھا اسکے تقاضے پورے کرنے میں پہلے ہی وہ مجرم بنی تھی مگر اب کے کوئی آزمائش نہیں۔

“مجھے شموئیل چاہئے ہمارا شموئیل جو ہمیشہ ہمارے پاس رہے گا ،بہت جلد تاکہ اسکی مما پھر سے ہم سے دغا نہ کریں۔” واسق کی سرگوشی نے اسے سرتاپیر سرخ کردیا۔جبکہ اس نے وسام کے رخسار پہ بنے چاند پہ اپنے لب رکھتے اس زخم کو بھی مسیحائی بخشی تھی۔وسام کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے جبکہ واسق اس پاگل لڑکی کو کبھی بتا ہی نہیں سکتا تھا کہ وہ اسکی پہلی نظر کا پیار تھی وہ ہزار بار عیب دار ہوجاتی وہ تب بھی اسے کھلے دل سے اپناتا۔

حمزہ نے اسے وسام کے تمام خدشات سے آگاہ کیا تھا جس کی وجہ سے وہ واسق سے رابطہ نہیں کرنا چاہتی جس میں صفحہ اوّل اسکا داغدار چہرہ تھا ۔مگر وہ لڑکی اس بات سے انجان تھی جب بات روحوں کے عشق تک جاپہنچے تو ظاہری خوبصورتی معنی نہیں رکھتی مگر بہت کم لوگ ہی اس معراج تک پہنچتے۔

༻━━━━━⊱༻

میرے من میں دیپ جلا سائیں

کبھی رات اندھیری بھی ٹوٹے

کبھی صبح صادق بھی پھوٹے

کبھی چمکے تیری ضیا سائیں

میرے من میں دیپ جلا سائیں

ہو رنج بہاراں جیسا بھی

ہو بادو باراں جیسا بھی

ہو جتنی تیز ہوا سائیں

میرے من میں دیپ جلا سائیں

کبھی جھوٹ نہ بول سکو مولا

کبھی کفر نہ تول سکومولا

میں کروں ہمیش وفا سائیں

میرے من میں دیپ جلا سائیں

جبار قہر خدا سائیں

رحمٰن رحیم سدا سائیں

میرے بےپروا خفا سائیں

میرے من میں دیپ جلا سائیں

سب پردے آپ ہٹا سائیں

سب ظلمت آپ مٹا سائیں

سب راستے آپ دیکھا سائیں

میرے من میں دیپ جلا سائیں

میری تجھ سے یہی دعا سائیں

مسلسل ٹہلتے وہ گیٹ پہ نظریں جمائے ہوئی تھی مگر وہ تھا کے آکے نہیں دے رہا تھا۔زندگی کے سودوزیاں کے کڑے حسابوں کو جمع تفریق کیے بھی لاحاصل رہا سب کچھ۔اپنی ذات کی پہچان تک بھول جاتی اگر جو اس شخص کی عنایتیں نہ ہوتیں ۔آنکھوں کے سامنے سے غلط فہمیوں کے پردے چھٹے تو سب اجلا اجلا سا ہوگیا مگر ندامت تھی کہ حد سوا۔

بارہ بجے کے قریب وہ گھر میں داخل ہوا ۔گاڑی سے نکلتے اسکی نگاہ پلر سے ٹیک لگائے سوتی معروش پہ پڑی جو اردگرد سے بیگانہ بیٹھی تھی اور وہ بھی بنا شال۔ارتضٰی کو اسکی لاپرواہی پہ غصہ آیا تھا ۔اسکے سر پہ پہنچتے ہی اسکی خبر لینے کا سوچا مگر وہ ایسے بھی اتنی پیاری لگ رہی تھی ارتضٰی کو سیدھی دل میں اترتی محسوس ہورہی تھی۔وہ بے خود سا اسے دیکھ رہا تھا اگرچہ ناراضگی تھی مگر دل اپنے اختیار میں کہاں تھا ۔

سردی کی شدت محسوس کرتے ہلکے سے اسکا کندھا ہلایا مگر وہ مکمل بے خبر تھی ارتضٰی نے کچھ لمحے اسے محسوس کرتے گزارے پھر بنا اسکے ریکشن کا سوچے اسے بازو میں اٹھائے اندر کی طرف بڑھا۔

طیبہ بیگم جو شاید پانی لینے کچن کی طرف آئی تھیں ارتضٰی کو اسے بازو میں اٹھائے دیکھ گم صم سی ٹہری تھیں ۔ارتضٰی انہیں اگنور کرتے معروش کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

بیڈ پہ لٹائے پیچھے ہوا مگر اسکے ریشمی بال ارتضٰی کی شرٹ میں الجھے اور کھچاؤ محسوس کرتے اسکی آنکھ بھی کھلی ۔ارتضٰی کو اپنے اتنے قریب دیکھ سانسوں میں ارتعاش پیدا ہوا تھا جبکہ اسکی کچی نیند سے مخمور آنکھیں ارتضٰی کو اپنا امتحان لیتی محسوس ہورہی تھیں۔

“باہر سو گئی تھیں ٹھنڈ میں آپ اور یہ بال۔۔” ارتضٰی نے اپنے دماغ پہ حاوی ہوتے احساسات کو جھٹکتے اسکی قربت کاعذر پیش کیا۔

“سوری میں نکالتی ہوں۔” درد کی شدت کو اگنور کرتے اس نے لمبے بالوں کی لٹیں چھڑائیں مگر کوشش کے باوجود وہ مزید الجھ رہے تھے۔

“میں کاٹ دوں؟” ارتضٰی کی آنکھوں میں اب بیزاری کا تاثر تھا معروش کا دل ہولایا اتنی مشکل سے تو اس نے بال لمبے کیے تھے جب طیبہ بیگم حنا کو ارتضٰی کی پسند بتارہی تھیں اور انجانے میں ہی اس نے اپنے بالوں کی طرف توجہ دینا شروع کردی جو کبھی شولڈر کٹ سے آگے نہیں بڑھے تھے وہ کمر تک آرہے تھے اور وہ ظالم پہلا وار ہی ان پہ کررہا تھا۔

معروش کی آنکھوں میں ٹمٹاتے جگنو دیکھ ارتضٰی شرمندہ ہوا شاید اسے اپنے بال پسند تھے۔

اور پھر مزید پندرہ منٹ مزید الجھنے کے بعد دو تین بٹن توڑتے اسکے بالوں کو آزاد کرواچکا تھا۔

“انتہائی فضول تجربہ ہے۔” ارتضٰی نے منہ بناتے کمنٹ پاس کیا اور اپنے کمرے کا رخ کیا۔

“مجھے تم سے بات کرنی ہے ارتضٰی۔” مبادہ آج بھی اسکی بات ادھوری نہ رہ جائے اسیلئے جلدی سے ارتضٰی کی راہ میں حائل ہوئی۔

“جی” دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے وہ ہمہ تن گوش تھا۔

معروش کو سمجھ نہیں آئی بات کہاں سے شروع کرے جبکہ وہ بڑی فراغت سے اسکے ایک ایک نقوش کو غور سے دیکھ رہا تھا۔

دل دکھانا کتنا آسان ہوتا ،جبکہ اسکے ازالے میں ایک لفظ “معافی” کہنا بہت مشکل ،اپنے لفظوں سے چھلنی کرتے دوسروں کی عزت نفس کو مجروح کرتے اکثر لوگ “سوری” کہہ کے سمجھتے کہ وہ اپنے تمام گناہوں سے بری ہوجائیں گے مگر یہ محظ انکا وہم ہوتا لفظوں کے تیر روح کو زیادہ گھائل کرتے بانسبت ان تیروں کے جو جسم کو زخمی کریں۔وہ گومگو کیفیت میں ٹہری تھی ازالہ ناممکن تھا مگر روکنے کا جواز بھی تو پیش کرنا تھا ۔

“آئی۔ایم سوری انجانے میں جو کچھ ہوا وہ سب مس انڈرسٹینڈنگ تھی۔”معروش حیات نے “انا کے پرچم” کو سرینڈر کیا ۔ارتضٰی نے بغور اٹھتی جھکتی پلکوِں پہ ندامت کے عکس کو ملاحظہ کیا جہاں شرمندگی کے آثار واضع تھے۔

“ہنمم اور کچھ؟”انتہائی خشونت سے کہتے سوالیہ نظریں اس پہ ٹکائیں ۔اسکے اتنے کھردرے لہجے پہ معروش کی آنکھوِں میں رم جھم شروع ہوئی تھی ۔موسم نے انگڑائی لی تھی باہر دور کہیں بادلوں میں بجلی چمکی تو بادلوں کی بھی گھن گرج شروع ہوئی۔

“جاؤں میں؟” اجازت طلب نظروں سے معروش کو دیکھا ۔اس نے گردن ہلاتے خفیف سا اثباتی اشارہ کیا اور رخ موڑ لیا ۔

اب یہ حالت ہے کہ کہانی میں مجھ کو

میرا کردار دھوکا دے رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جہاں اسکے دل معمالے میں دل بے ایمان ہوا تھا وہیں آنکھیں دغا دے رہی تھیں سارے چھپائے جزبات عیاں کرنے پہ بضد تھیں۔

“بس اتنی سی ہمت وہ معروش حیات جو دنیا کو زیر کرسکتی ہے اتنی جلدی ہار مان گئی۔” ارتضٰی کی سرسراتی ہوئی سرگوشی اسکے پاس سے ابھری تو اسکی سانس ساکن ہوئی ۔وہ تو سمجھ رہی تھی کے وہ جاچکا ہوگا۔اپنی پشت پہ اسکے ہاتھوں کی نرماہٹ محسوس جس نے انتہائی نفاست سے اسکے بالوں کو اسکی گردن سے ہٹائے ایک ہی کندھے پہ منتقل کیا۔شاید پھر سے اسکے بالوں سے الجھنے کا خدشہ تھا ۔

“میں” معروش نے جھٹکا کھاتے خود کو سنبھالے اپنی صفائی میں کچھ بولنا چاہا تھا مگر ارتضٰی کی آنکھوں میں ابھرتے جزبات کے طوفان نے اسے نظریں جھکانے پہ مجبور کردیا۔

“جی آپ کیا معروش حیات۔”تمام فاصلہ مٹائے وہ اسکے قریب ہوتے گویا اسکی جان نکالنے کے درپے تھا ۔

“سوری کی تو ہے۔” ایک دم اسے رئیلائز ہوا تھا کہ وہ ارتضٰی کے سامنے اتنی آسانی سے سرینڈر کرگئی ہے نجانے وہ اب اسکے بارے میں کیا سوچ رہا ہوگا۔

“قبول نہ کروں تو۔”ہونٹوں کو چباتے معروش کے سامنے سوال رکھتے اسے مزید مشکل سے دوچار کیا ۔

“آپکی مرضی۔”معروش کو ایک دم غصہ آنے لگا تھا اور کیسے سوری کرتی اب ایسا بھی کیا تھا جو بار بار اسے جتا رہا۔

“بیویاں روٹھے شوہروں کو کیسے مناتیں ہیں اس پہ ریسرچ ہی کرلینی تھی اتنا ٹس انداز کون اپناتا ۔”بھرپور شرارتی انداز سے کہتے اسکی جانب جھکا۔

“اوکے آئیندہ یوٹیوب کے ٹوٹکوں سے مستفید ہونگی۔”ارتضٰی کی باتوں پہ اسکی تیوری پہ بل چڑھے ۔ارتضٰی کا قہقہ بے ساختہ تھا۔

“اٹس اوکے اب اگر کم عقل بیوی ملی ہی ہے تو اسی “سوری” پہ گزارہ کرلیتے۔”ارتضٰی کا ہلکا پھلکا انداز معروش کو خوش کن احساسات میں گھیر رہا تھا۔

باندھ لیں ہاتھ پہ سینے پہ سجا لیں تم کو

جی میں آتا ہے کہ تعویذ بنا لیں تم کو

پھر تمہیں روز سنواریں تمہیں بڑھتا دیکھیں

کیوں نہ آنگن میں چنبیلی سا لگا لیں تم کو

جیسے بالوں میں کوئی پھول چنا کرتا ہے

گھر کے گلدان میں پھولوں سا سجا لیں تم کو

کیا عجب خواہشیں اٹھتی ہیں ہمارے دل میں

کر کے منا سا ہواؤں میں اچھالیں تم کو

اس قدر ٹوٹ کے تم پہ ہمیں پیار آتا ہے

اپنی بانہوں میں بھریں مار ہی ڈالیں تم کو

کبھی خوابوں کی طرح آنکھ کے پردے میں رہو

کبھی خواہش کی طرح دل میں بلا لیں تم کو

ہے تمہارے لیے کچھ ایسی عقیدت دل میں

اپنے ہاتھوں میں دعاؤں سا اٹھا لیں تم کو

جان دینے کی اجازت بھی نہیں دیتے ہو

ورنہ مر جائیں ابھی مر کے منا لیں تم کو

جس طرح رات کے سینے میں ہے مہتاب کا نور

اپنے تاریک مکانوں میں سجا لیں تم کو

اب تو بس ایک ہی خواہش ہے کسی موڑ پر تم

ہم کو بکھرے ہوئے مل جاؤ سنبھالیں تم کو ….

ارتضٰی کی انوکھی فرمائش سنتے اسکی پلکیں بھاری ہوئیں۔

“اجازت ہے نا اپنے لفظوں کو عملی جامہ پہنانے کی۔” اسکی طرف ہاتھ بڑھاتے اقرار مانگا تھا۔

معروش کو سردگرم سایے جیسا یہ شخص آج اپنے نئے انداز میں انتہائی دلکش لگ رہا تھا ۔معروش نے جھجکتے ہوئے اسکے بڑھے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھتے اس رشتے کی تکمیل میں خودسپردگی کا احساس دلاتے ارتضٰی کے اعتماد سے بڑھے ہاتھ کو معتبر کردیا تھا۔

آسمان بھی دو مختلف دنیا کے ان واسیوں کے ملنے پہ خوشی میں چمک رہا تھا جہاں بادلوں کی گھن گرج میں چمکتی بجلی انکی خوشیوں پہ شادیانے بجا رہی تھی۔

“کہا تھا نا معروش کی روشنی چرا لونگا۔” ارتضٰی کی سرگوشی نے اسے سچا ثابت کیا تھا۔جبکہ جبکہ اس کے “ع” کو واقعی عشق کی مقبولیت مل چکی تھی۔

“چور ہوئے نا پھر۔”معروش نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا۔

“دل کا ” مختصر جواب معروش کے چہرے پہ سایۂ لہرایا تھا مگر اب مزید کسی بدگمانی کا شکار ہونے نہیں دینا چاہتی تھی خود۔

༻━━━━━⊱༻

‏اس درد کی تحویل میں رہتے ہوئے ہم کو

چُپ چاپ بکھرنا ہے، تماشا نہیں کرنا..۔۔۔۔

انوشے کمرے میں داخل ہوئی تو جسم میں ایک جھرجھری سی دوڑی ،اتنی سردی میں بھی وہ کرٹنز ہٹائے ونڈو کے سامنے بیٹھا تھا جہاں سے آتی سرد ہوائیں اسکے ماتھے پہ بکھرے بالوں سے چھیڑ خانی کررہی تھیں۔ انوشے کو اسکے پاگل پن پہ شدید غصہ آیا تھا تبھی آگے بڑھتے ٹھک سے ونڈو کے شیشے برابر کرتے کرٹنز برابر کردیے۔وہ بھی گہری سوچ سے بیدار ہوا تھا انوشے پہ نگاہ پڑتے ماتھے پہ ان گنت بلوں میں اضافہ ہوا۔

“کیوں آئی ہو یہاں ۔”تیکھے چتونوں سے گھورتے نظریں اسکے سراپے میں الجھیں جو اسکن کلر کی سلک نائٹ گاؤن میں ملبوس تھی ۔آنکھوں کا زاویہ بدلتے نظریں پھر سے ونڈو کی سمت کیں۔

“اسیلئے کہ مما جانی تمہیں ناشتے پہ بلارہی ہیں۔”پیار سے اسکے ماتھے کے بالوں کو سہلایا اور وہیل چئیر کا رخ باہر کی جانب موڑدیا۔

“مجھے ناشتہ نہیں کرنا اور تم یہ جھوٹی ہمدردی دکھا کے کیا ثابت کرنا چاہتی بہت ماہان ہو تم ،نا تمہیں روحان کی زندگی سے پہلے کبھی کچھ ملا نا آئیندہ ملنے والا ہے بہتر ہے تم اپنی زندگی کا فیصلہ کرو تمہارے سامنے ایک روشن مستقبل اور یہاں اندھیروں کے سوا کچھ نہیں۔”

روز کی طرح آج بھی اسے جھڑکتے اپنے قریب آنے سے بعض رکھا مگر وہ نجانے کیسی لڑکی تھی جو پہلے بھی سہتی رہی اور اب بھی سہہ رہی تھی بنا ماتھے پہ کوئی بل لائے۔

“زبردستی کی بیوی کو زبردستی تو تم اپنی زندگی سے نکالنے سے رہے زندگی ایک بار دھوکا دیتی بار بار نہیں۔” اسکے کہے “زبردستی کی بیوی” والے الفاظ روحان کے منہ پہ مارتے وہ اسکی چئیر دھکیلے باہر کی طرف بڑھی روحان کو اپنی بےبسی پہ رونا آیا ،وہ لڑکی روز اس پہ اپنی ذات کو مسلط کررہی تھی۔

اسکے گرد شال کو لپیٹے لان میں لے آئی جہاں پہ حسیبہ بیگم نے ناشتے کا انتظام کیا ہوا تھا۔

“گڈ مارننگ مام۔”روحان نے چہرے پہ زبردستی مسکراہٹ لانے کی کوشش کرتے حسیبہ بیگم کو مارننگ گریٹنگز دیں۔جنہوں نے اپنی نشست سے اٹھتے اسکا ماتھا چوما۔

“بیوٹی فل والی گڈمارننگ میری جان بچہ۔” حسیبہ بیگم نے اس پہ پیار لٹایا جنہوں نے کبھی اس پہ ظاہر نہیں کیا تھا کہ وہ انکا لاپالک بیٹا ہے۔

“اونہوں یہاں ایک سوتیلی تو میں ہوں۔”انوشے نے منہ بسورتے ناشتے کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

“ایک تو تم میرے بچے سے ہمیشہ سے جیلس ہو۔”حسیبہ نے توس اٹھائے اس پہ بلوبینڈ لگاتے روحان کی طرف بڑھایا۔

“اٹس اوکے مام میں لے لونگا ہاتھوں سے معذور تھوڑی ہوں۔” روحان کے تلخ رویے پہ حسیبہ کے ساتھ انوشے کے ہاتھ بھی ساکت ہوئے۔

“اللّٰہ نا کرے میرا بیٹا کبھی معذور ہو، اتنے بہادر سپاہی ہوکے اتنی مایوسی کی باتیں اگر تم ہمت ہار دوگے تو کیسے چلے گا بیٹا جبکہ ڈاکٹرز بھی پرامید ہیں کچھ تھراپیز ہونگی اسکے بعد تم مکمل چل سکو گے۔” حسیبہ کا دل کرلایا تھا تبھی ایموشنل ہوتے اسے تسلی دینے لگیں۔

“تھک گیا ہوں مام۔”روحان کی آنکھو سے ایک آنسو چھلکتے کالر میں گم ہوا۔اتنے دنوں کا چھایا جمود ٹوٹا تھا۔اپنی معذوری کو لے کے اسکا حددرجہ پوزیسو ہونا ہر کسی کو دکھی کررہا تھا اور پھر خودساختہ تنہائی کی چادر اوڑھے گوشۂ نشین رہنا جیسے زندگی جینے کی امنگ ہی نہ بچی ہو۔

انوشے نے کئی بار اسے فزیکل ایکسرسائز کروانی چاہی ڈاکٹرز کے مطابق اگر وہ خود اپنے میں رکوری کی کوشش نہیں کرے گا تو اسکا کیس پچیدہ ہوسکتا ۔

اسے انوشے کا اپنے لیے فکرمند ہونا ہمدردی لگنے لگا تھا اور انوشے کو اپنی محبت کی بار بار تذلیل ہمت ختم کردیتی ایسے میں حسیبہ کی ہمیشہ کیلئے پاکستان آمد سے انوشے کو ڈھارس بندھی تھی۔وہیں اس نے کوئی بھی ہیلپر لینے سے انکار کردیا تھا مگر حسیبہ کے زبردستی کرنے پہ ایک لڑکا ہمیشہ اسکے ہمراہ رہتا جہاں یونٹ میں اسے دفتری امور سنبھلنے تھے وہیں اپنی طرف اٹھتی ترحم آمیز نگاہیں اسے مزید چڑچڑا بنارہی تھیں۔

رات کے پہر اسکی آنکھ کھولی تو انوشے کو اپنے قریب لیٹے دیکھ عجیب سے احساسات کا شکار ہوا تھا احمد سے تمام تر حقیقت جان لینے کے بعد دل پہ ایک بوجھ سا پڑا تھا۔ہاتھ بڑھائے اسکے چہرے پہ آئے بالوں کو ہٹایا ۔اس نے نیند میں کسمساتے اپنے چہرے پہ آیا ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا جہاں انوشے کے رخساروں پہ روحان کاہاتھ انوشے کے مرمریں ہاتھوں میں دبا تھا اور وہ پرسکون سی پھر نیند کی آغوش میں چلی گئی۔

“اتنی محبت اور توجہ کے قابل نہیں ہوں انوشے ،میں خودغرض نہیں بن سکتا تمام عمر ہی تمہاری زندگی کو کسی سراب کی نظر نہیں کرسکتا۔”دھیمے سروں میں سرگوشی کرتے اس نے دوسرا ہاتھ بڑھائے انتہائی نرمی سے اپنا ہاتھ چھڑایا ۔نیند میں ہی اسکے چہرے کے زاویے بگڑے تھے مگر پھر ریلکس ہوگئی۔روحان نے ایک نگاہ کمفرٹر میں اپنی ٹانگ پہ کی جہاں پہ راڈ کی مدد سے اسکا فریکچر کوور کیا گیا تھا ۔

“شاید مجھے ہی کوئی راہ نکالنی پڑے گی۔” خود کو مضبوط کرتے ایک فیصلہ لیتے مطمئن ہوتے آنکھیں موندیں مگر اتنا آسان کہاں تھا۔خود کو مطمئن ہونے کا ناکام پاٹ پڑھایا۔ تمام رات بےچینی سے پہلو بدلتے اگلے دن انوشے کے سر بم بلاسٹ کیا تھا ۔اتنا ظالم تو وہ تب بھی نہیں ہوا جب وہ اسے مجرم گردانتا تھا ۔

“تم پاگل ہوچکے ،تم۔ہوتے کون یہ فیصلہ کرنے والے روحان ،میں تمہاری جزباتیات کی بھینٹ نہیں چڑھونگی۔”اسے نے روتے ہوئے روحان کا ہاتھ تھاما۔

“یہی بہتر ہے تمہارے لیے اور احمد بہت اچھا ہے تمہیں انڈرسٹینڈ کرتا اور اسے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔” برفیلے لہجے میں کہتے اس نے اپنے فیصلے کے ٹھوس نکات ظاہر کیے۔

“شرم نہیں آتی تمہیں جو اپنی بیوی کو کسی اور کے ہاتھ سونپنے کی بات کررہا ۔” حسیبہ بھی اب میدان میں اتری تھیں۔

“ٹھیک ہے مام اٹس اوکے انہیں میرے ساتھ نہیں رہنا تو نا رہیں میں چھوڑ دیتی ہوں یہ گھر۔”انوشے بھی ایک فیصلے پہ پہنچی تھی ۔روحان کا دل ایک دم خالی ہوا ۔یہی تو چاہتا تھا وہ پھر اسکے فیصلے کا جب احترام کیا جارہا تھا تو دل کیوں ڈھ سا گیا۔ اور پھر اپنا سامان سمیٹے حسیبہ کے روکنے کے باوجود وہ گھر سے نکل آئی مگر وہ ضیاء صاحب کی طرف بھی نہیں گئی تھی ۔

رخصت ہوتے وقت اس نے روحان کو صرف ایک جملہ کہا تھا۔”گیو ٹائم ٹو یور سیلف”۔

Part 2

“کتنے بہروپیے ہو تم ارتضٰی میر حیدر کتنے دوغلے شخص ہو۔” معروش نے اسکی طرف کشن اچھالا جو ارتضٰی کی قدم بوسی کرنے لگا۔

“یار بات تو سن لو میری۔”ارتضٰی نے حفاظتی اقدام کے طور پہ وہیں کشن اب اپنے سامنے کیا تھا جو پہلے اسے سلامی دینے آیا تھا۔

“نہیں سننا مجھے کچھ۔” دوسرا کشن بھی اسکی جانب اچھالا۔

“دیکھو معروش اب یہ کچھ زیادہ ہورہا ،تمہیں پتا نا تمہارا شوہر ملٹی ٹیلنٹڈ بندہ ہے ۔” ارتضٰی نے کالر بناتے افیشنسی جھاڑنی چاہی۔

“ہاں بہت بریلینٹ جسے ما سوائے نام بدلنے کے کچھ نہیں آتا دوغلا،ڈؤئیل فیس مجھے تو شک ہے تم ابھی بھی میرے ساتھ کوئی گیم نہ کھیل رہے ہو۔”

معروش نے لڑاکا عورتوں کی طرح ایک ہاتھ کمر پہ رکھتے دوسرے ہاتھ سے نچا نچا کے بات کی تو ارتضٰی کی ہنسی چھوٹ گئی۔

“لائیک سریسلی یار تم ایسا سوچتی ہو ہاں بھائی سوچ ہی سکتی۔”ارتضٰی نے اسے میٹھے طنز سے نوازتے صوفے پہ ڈھیر ہوا۔

“یار تمہارا بندہ آئی۔ایس۔آئی کمانڈو پلس بیسٹ سنائیپر اور ایک بہترین ہیسبنڈ بھی ہے۔مگر کیا ہے نا کہ یہ جو ہم گمنام سپاہی کہلائے جاتے ہیں، ہمارے نام سے صرف ہمارے گھر والے جانتے جبکہ یہ دنیا ہمیں ان ناموں سے جانتی جو ہم خود بتاتے ہیں ۔ تمہیں تیج اور حمزہ سے مسئلہ ہے جبکہ پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست ہم تو اکثر بےنام ہی مرجانے والے لوگ ہیں۔” انتہائی مذاق میں کہتے آخر کی بات پہ سنجیدہ شکل بنائی جبکہ معروش کا دل دہل سا گیا تھا۔

“رہنا تم نے سدا بدتمیز کے بدتمیز میرو ہی ،چاہے اٹھارہ نام بدل لو۔” معروش کو اسکے جزباتی تقریر نے کافی ایمپریس کردیا تھا۔

“کیا یار بیوی وسام بھابھی کو دیکھا قسمے صاحب صاحب آپ آپ کرکے جب اس کمینے واسق کی عزت کرتیں کیا لگتی ہیں۔یار ایک ہماری والی ہیں ،بس چوبیس گھنٹے جنگلی بلی کی طرح پنجے مارنے کو تیار رہتیں۔”

ارتضٰی نے چہرے پہ مصنوعی مسکنیت طاری کی۔

“کیا تم اعتبار نہیں کرسکتے مجھ پہ؟” معروش نے انتہائی پرامید نگاہوں سے کہا جسکے بدلے میں ارتضٰی کا زوروشور سے نفی میں سرہلا۔

“پہلے تم بتاؤ گی یہ مختیار سر کے ساتھ کیا کھچڑی بن رہی واٹ از” پائی نیٹ ورک کریپٹو کرنسی؟”

ارتضٰی کو جو تھوڑی بہت سن گن ملی تھی اسی پہ کام چلا لیا جبکہ اسکی آنکھیں تو ورطہ حیرت میں ڈوبی تھیں۔

“یہ بات تو صرف مختیار سر اور میرے درمیان تھی تم تک کیسے؟” وہ ششدر سی ہوتے بولی۔

“صیح مطلب کے میرا شک صیح تھا ۔”ارتضٰی کے چہرے پہ ایک سایہ سا لہرایا تھا یقیناً ابھی بھی کمی تھی جو وہ اسکا اعتبار نہیں جیت سکا تھا۔

“کچھ خاص نہیں ہے بس “ون کوائن” کی طرح کا ایک اسکیم لگ رہا ہے جسے آج کل سوشل میڈیا سائٹس کے علاوہ بھی اور کافی ساٹئٹس پروموٹ کررہیں جبکہ سب سے بڑا جھانسا یہ ہے کہ یہ بٹ کوائن سے بڑی کرنسی ثابت ہوگی۔۔۔”

“کریپٹو کوئین کے ون کوائن کی طرح” ارتضٰی نے اسکی بات اچکتے سراسر مذاق اڑایا جو معروش کو صیحح معنوں میں برا لگا تھا۔

“کیا تم جھگڑلو بیویوں کی طرح طعنے دینا بند کرسکتے ہو۔” دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے ارتضٰی سے رخ موڑا ۔اسے اسکی اس ادا پہ بے ساختہ پیار آیا تھا مگر اظہار کرنا طبیعت میں کہاں تھا ۔

“اوہ تو آپکو سمجھ آگئی کہ بیویاں طعنے تعشنے دیتیں۔”

زیرلب مسکراتے وہ بھی اسے سامنے جاکھڑا ہوا تھا۔

“بات نہیں کرنی مجھے۔” انتہائی روکھا پن دکھایا گیا تھا۔

“پر مجھے کرنی ہے اور یہ جاننا ہے کہ تم کیا کرنے والی ہو؟” ارتضٰی نے اب کے سنجیدہ انداز اپنایا۔

“کچھ خاص نہیں کچھ عرصہ پہلے جہاں سوشل میڈیا پہ “لبرا “کرنسی کا ذکر ہوا تھا ایسے ہی اب پائی کرنسی کا جنون زور پکڑ رہا ہے ۔” اس نے کندھے اچکاتے دو منٹ میں اتنے اہم پروجیکٹ کو دو لفظوں میں بیان کیا۔

“تو مسئلہ کیا ہے جب پاکستانی گورنمنٹ کریپٹو کرنسی کو الاؤ کررہی ہے تو پھر۔” ارتضٰی کو اس کیس کی وجہ سمجھ نہیں آئی۔ چونکہ اب پاکستان میں باقاعدہ طور پہ سوات اور شانگلہ میں کریپٹو مائننگ پلانٹ لگانے کا فیصلہ کیا گیا تھا تو ایسے میں اب کوئی جواز باقی نہیں رہ گیا تھا کہ کوئی بھی ڈیفنس ادارہ اس پہ کوئی کاروائی کرے۔یقیناً یہ لوگوں کا ذاتی فعل تھا وہ اسے حلال یا حرام (جوا) سمجھ کے اپنے ساتھ لیے چلتے یا پھر مسترد کردیتے۔

“یہی تو سب سے بڑا مسئلہ آرہا سائبر کرائم اور انٹیلی جنس اداروں کیلئے کیونکہ ورچؤل کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ایک بٹ کوائن کی قیمت پہلی بار تینتیس ہزارڈالر سے بڑھ گئی ہے۔ایک بٹ کوائن کی قیمت پاکستانی روپے میں چون لاکھ روپے سے زائد ہوچکا ایسے میں اب پاکستان میں اسیکم اور فراڈ کرنے والے لوگ ایکٹو ہورہے۔ جو بہت جلد اپنی کوئی بٹ کوائن سے بڑی کرنسی کا دعوٰی کرتے یقیناً معصوم لوگوں کے جان ومال کے ساتھ کھیلیں گے اور ایسے میں کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔”

معروش نے انتہائی متانت سے کہتے اسے مدعے پہ لایا۔

“ہنمم تو مطلب پائی کرنسی اس اسکیم کی ایک کڑی ہے؟” ارتضٰی نے اپنی سمجھ کے مطابق جواب دیا جسے معروش نے اثبات میں سرہلائے تصدیق کی۔

“پھر اب؟” ارتضٰی کے چہرے پہ بھی تفکر کے سائے چھائے تھے۔

“سوشل میڈیا وار ،مختیار سر ایک ایسا سیل ترتیب دینا چاہتے ہیں جس سے عوام کو جوے کی اس لت سے بچانے کی حتی المکان کوشش کی جائے گی کوئی بھی ایسی ڈیلنگز جو کوئی بڑی ٹریجڈی کا سبب بن سکتی اسکیلئے الرٹ جاری ہوگا۔ایک آگاہی جو انہیں دنیا سے دور دین کے قریب کردے کیونکہ دیگر کرنسیوں کی طرح اس کی قدر کا تعین بھی اسی طریقے سے ہوتا ہے کہ لوگ اسے کتنا استعمال کرتے ہیں۔ا س وقت دنیا میں کم سے کم “ایک کروڑ اٹھارہ لاکھ” سے زائد بٹ کوائن موجود ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر کم سے کم” نوے بٹ کوائن” بن رہےہیں۔ بٹ کوائن کی تعداد ہر دس منٹ بعد تبدیل ہوتی ہے۔دنیا میں بٹ کوائن کے حوالے سے امریکہ پہلے، نائیجیریا دوسرے، چین تیسرے، کینیڈا چوتھے، برطانیہ پانچویں اور بھارت چھٹی بڑی مارکیٹ ہے۔ اور اب سراسر امکان یہی کیا جارہا کہ شاید کہ پاکستان وہ واحد اسلامی ملک بن جائے جہاں پہ اس کے کاروبار کی مانگ بڑھے ،یقیناً ہمارے ملک کی عوام مریکلز پہ یقین رکھنے والی عوام ہے ارتضٰی “دے وانٹ ٹو گین اپرچونیٹی، بٹ دے ڈڈنٹ کریٹ اپرچونیٹی ” صرف من وسلوٰی کے انتظار میں بغیر ہاتھ پیر چلائے اس جوے کو کھیلنے کو تیار ہیں ۔کوئی ریزن ،کوئی مقصد کچھ نہیں بس پیسہ چاہئے ایک سونے کی اینٹ چاہئے جسے صیح وقت پہ استعمال کریں گے چاہے اسکے بدلے متاع حیات لٹ جائے۔ “

تمام گفتگو کا خلاصہ کرتے اسکے چہرے پہ کرب کے آثار چھائے تھے کہیں نا کہیں وہ بھی ان سب جیسی تھی جس نے بجائے محنت کے شارٹ کٹ اپنایا ،پہلے خود دھوکا کھایا اور پھر سادہ لوح لوگوں سے اس چیز کا بدلہ لیا۔

༻━━━━━⊱༻

چھوڑ کےجانا ہے تو جا

پر مات ادھوری ثابت کر…؟؟

مجھ سے جھگڑا کر اور مجھ کو

غیرضروری ثابت کر…..

بات بجا کہ ہوتے ہیں

دوچار مسائل سب کے ہی…!

جانتا ہوں مجبوری کو لیکن

مجبوری ثابت کر….

بحث نہیں بنتی دونوں کی

پھر بھی اے بہتان پرست…!

جتنی باتیں گھڑ رکھی ہیں

ایک تو پوری ثابت کر….

“باجی کھانا لاؤں آپکیلئے۔” سرونٹ کواٹر میں موجود کرم دین نے اس سے پوچھا جس نے کھانے سے انکار کردیا تھا ۔دو دن سے وہ یہاں تھی مگر مجال ہو جو ایک لقمہ لیا ہو ۔کرم دین کی بیوی بھی اپنی معصوم سی مالکن کی پریشان صورت دیکھتے گھبرا رہی تھی۔

“صاحب نے کھانا کھایا تھا ۔آپ انکا خیال تو رکھ رہے ہیں نا کاکا اور میڈیسن؟” اس نے ایک ہی سانس میں ان گنت سوال کرڈالے۔

“جی باجی بڑی میم صاحب انکا خیال رکھ رہی ہیں مگر پھر بھی انکو دیکھ کے لگتا وہ آپکو یاد کرتے ہیں اور روز انکے کمرے سے سگریٹوں کا ڈھیر ملتا۔” کرم دین اپنے مالکوں کا وفادار تھا جو انکے چہروں کو پڑھنے کے ہنر سے بھی آگاہ تھا۔

“آپ اسکے پاس جاؤ کاکا وہ اناپرست شخص اپنی ضد میں بہت بڑا نقصان اٹھا لے گا کبھی۔” اس نے بے چینی سے کہتے پہلو بدلہ۔

“وہ جی واسق صاحب کے گھر پارٹی ہے تو ابھی بڑی میم صاحب نے صاحب کی تیاری کیلئے بلایا ہے میں جاہی رہا تھا۔” کرم دین تفصیلی جواب دیتے وہاں سے روانہ ہوگیا۔

“واسق کی پارٹی۔”اس نے زیرلب دہرایا وہیں اسکے دماغ نے تانے بانے بننے شروع کردیے تھے۔حسیبہ کو کال کرتے اپنے منصوبے سے آگاہ کیا اور واسق کو شرم دلائی جس نے اسے یاد نہیں کیا مگراسکی بات سنتے خود بھی شرمندہ ہوگئی بھلا انکو الہام ہونے تھے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کا مکمل بائیکاٹ کیے ہوئے ہیں اور ان کو الگ الگ انیوٹیشن دینے تھے ۔

“روحان بیٹا واسق کب سے کال کررہا سب لوگ پہنچ چکے ہیں پارٹی میں ہم لوگوں کے علاوہ میں کرم دین کو بھیجتی ہوں وہ آپکی تیاری میں ہلیپ کردے گا۔گیٹ ریڈی ناؤ۔”حسیبہ بیگم نے کمرے میں داخل ہوتے اسکا شغل بخوبی ملاحظہ کیا مگر اگنور کیے الماری سے اسکا ڈریس نکالنے لگی تھیں۔

“چھوڑیں مام موڈ نہیں ہورہا میں بعد میں کال کرکے معذرت کرلونگا۔”انتہائی کوفت سے کہتے اس نے ایش ٹرے میں سگریٹ مسلا تھا۔

“بری بات ہے بیٹا ان لوگوں نے اتنے پیار سے بلایا ہے تھوڑا باہر نکلیں گے تو اچھا لگے گا آپکو۔”اسکے بالوں میں دھیرے سے ہاتھ چلاتے باہر چلی گئیں۔

جبکہ اسکے پاس لایعنی سوچوں کا طوفان برپا تھا۔

“تو انوشے بیگم تم واقعی کم ہمت نکلی بڑی آسانی سے راہیں الگ کرلیں۔” آنکھوں کے گوشوں سے ایک آنسو بکھرا تھا۔

“آخر کب تک کوئی اپنے سر کسی پاہیج کا بوجھ اٹھا سکتا تھا۔” پھر سے خودکلامی کی کرم دین دروازہ بجاتے اندر داخل ہوا ۔

“صاحب بیگم صاحب نے کہا ہے آپکو تیاری میں مدد دوں۔” کرم دین ہمیشہ اسکے چڑچڑےپن سے خائف رہتا تھا اسیلئے آتے ساتھ ہی اپنی یہاں موجودگی کی وضاحت دی۔

کچھ دیر بعد وہ واسق کے گھر پہنچے تھے جہاں اسکا پہلا سامنا ارتضٰی سے ہوا تھا ۔حسیبہ کے ہمراہ اسے آتے دیکھ وہ چونکا تھا مگر بنا کچھ جتائے اس سے سلام دعا کرنے لگا۔روحان کو سب مکمل لگ رہے تھے ماسوائے اسکے جو جسمانی طور پہ مکمل ادھورا تھا۔واسق کے پہلو میں ٹہری وسام ایک گڑیا لگ رہی تھی جس نے نیوی بلو کلر کی میکسی زیب تن کی ہوئی تھی جو واسق کے اوور کوٹ کے کنٹراسٹ میں تھی۔

ارتضٰی کی فرمائش پہ پہلی بار سیڑھی زیب تن کرنے والی معروش حیات کانشئس سی ٹہری تھی ۔گرین کلر میں اسے دیکھتے ہی ارتضٰی نے فقرہ جڑا تھا کہ یہ رنگ صرف بنا ہی اسکیلئے ہے ۔جبکہ ابھی ابھی وہ اسکے پہلو میں اسکے برجستہ فقروں سے نڈھال ہورہی تھی۔

تبھی تمام حاضرین کی آنکھوں کا مرکز آنے والے دو نئے چہرے بنے تھے احمد اور انوشے کو ایک ساتھ دیکھتے واسق نے جتاتی نگاہ روحان پہ ڈالی جو یک ٹک وائٹ لاہوری کرتے اور پاجامے میں ملبوس انوشے کو دیکھ رہا تھا۔

معروش کے گلے لگتے سر سری سی نگاہ ارتضٰی کے پہلو میں موجود روحان پہ ڈالنا گوارہ نہیں کی۔جبکہ احمد سب سے بغلگیر ہوتے اسکے ساتھ ٹکا تھا ۔روحان نے بے چینی سے پہلو بدلہ مگر نگاہ گھوم پھر کے اپنے مرکز یعنی انوشے پہ آٹہرتی حسیبہ بھی اس سے ملتے خوش تھیں۔

روحان نے چئیر گھسیٹتے ان سب سے دوری اختیار کرتے دوسرے کونے کا انتخاب کیا جو باقی لان کی نسبت کم آباد تھا۔اور تھوڑا بہت اندھیرا بھی تھا۔انوشے نے ایک بے چین نگاہ محفل پہ دوڑائی مگر وہ نہیں تھا۔

‏تمام شہر سے میں جنگ جیت سکتا ہوں

مگر میں تم سے بچھڑتے ہی ہار جاؤں گا۔۔۔

“تم نے روحان کو دیکھا؟” وہ ارتضٰی کے سر ہوئی تو اس نے بھی طائرانہ نگاہ محفل پہ ڈالی۔یہی تو تھا میں دیکھتا ہوں اسے۔ارتضٰی نے انوشے کو تسلی دیتے قدم آگے بڑھائے گھر کے اندرونی حصے کی طرف بڑھتے روحان کی نگاہ تنہا گوشے میں بیٹھے روحان پہ پڑی۔

“یوں سب سے کٹ کے بیٹھنے کا مطلب۔”ارتضٰی کی۔مشتعل آواز پہ اس نے آنے والے کو دیکھا۔

“نہیں برداشت ہورہا اسکا یوں احمد کے پہلوؤں میں۔۔”روحان کے گلے میں آنسو کا گولہ سا اٹکا۔

“تمہارا ہی فیصلہ ہے نبھاؤ اسے۔” ارتضٰی کو احمد اور انوشے کی زبانی اسکی تمام باتوں سے آگاہی تھی۔

“میں یہ بھی نہیں چاہتا وہ مجھ پہ ترس کھا کے یا ہمدردی کرتے ساتھ رہے مجھے اسکا کئیرنگ انداز ،مجھے اپنے مزید اپاہج ہونے کا احساس دلاتا ہے مجھے نہیں چاہئیے ہمدردی اسکی۔”

سدا کا اناپرست آج بکھرا تھا۔

“گڈ کیا اعلٰی سوچ پائی ہے تم نے کیپٹن روحان ،یو نو واٹ مجھ سے غلطی ہوگئی جو تمہیں سیکنڈ چانس دیا حقیقت تو یہ ہے کہ تم ڈیزرو ہی نہیں کرتے نا انوشے ضیاء کو اور نا ہی میری محبت کو ہاؤ فول آئی ایم جو ایک دیوار سے سر پھوڑ رہی ۔

مجھے لگ رہا تھا سب حقیقت جان لینے کے بعد تم اپنا ظرف بڑا کرلو گے۔ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرلو گے،وہ ایک سال جو میں نے کسی کرب کی طرح گزارا ہے اسکا ازالہ کروگے۔مگر تم نے کیا ،کیا تمہیں محبت بھی ہمدردی لگتی تمہاری خود ترسی اور کمپلیکس کا کوئی علاج نہیں۔سو سوری یار میں معافی مانگتی ہوں اپنی ذات سے جس نے تم جیسے بے حس انسان کیلئے خود کو ٹارچر کیا۔”

روحان اور ارتضٰی بھونچکے رہ گئے جبکہ اسکی بلند ہوتی آواز پہ سب متوجہ ہوئے ۔وہ گل وگلزار بنی محفل ایک دم سے سناٹے میں رہ گئی تھی۔

“میری ایک مجبوری ہے کیپٹن روحان ،میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی۔ بہت بار چاہا،تمارے رویے سے پل پل اذیت دیتی تمہاری باتوں سے کہ چھوڑ دوں تمہیں مگر کیسے؟تم میرے نامحرم تو نہ تھے جو تمہیں چھوڑ کے موو آن ہوجاتی۔میں نے اس رشتے کو نبھانا چاہا ہے کیونکہ میں نے اس رشتے کو محسوس کیا ہے۔وہ انوشے ضیاء جو لبرزم کی انتہاؤں پہ تھی دونکاح کے بولوں نے اسے رشتے نبھانا سکھائے ہیں ۔ایک بار ،دو بار بلکہ کئی بار کوشش کی تمہیں پاپا کو سب کچھ بتا دوں مگر مجھے کوئی سننا نہیں چاہتا تھا ۔”

انوشے نے بے دردی سے ہاتھوں کی پشت سے اپنے امڈ آنے والے آنسو صاف کیے۔اور بات کا سلسہ وہی سے جوڑا جہاں سے رکا تھا۔

“ایک وہ شخص جس نے پاؤں پاؤں چلنا سکھایا انہوں نے اپنی تربیت پہ اعتبار نہیں تھا۔ایک وہ شخص جس نے محبت کے بلند وبانگ دعوے کیے مگر اعتبار کرنا بھول گیا۔ محبت تو اعتبار کا نام ہے نا، چاہے وہ بابا کریں یا تم کیپٹن روحان پھر کیوں اپنی انوشے کو تم لوگوں نے پل پل بے اعتباری کی مار دی؟”

انوشے کی ہچکی بندھی تھی ہر کوئی اپنی جگہ شرمندہ سا ٹہرا تھا ۔

واسق صدیقی جسے اول روز سے حقیقت پتا تھی صرف اپنی وسام ،اپنی محبت کیلئے اس نے انوشے کے لبوں پہ قفل لگائے۔

احمد جٹ جس نے دوستی کی پاسداری اور اپنے دوست کو مزید دکھوں سے بچانے کیلئے راہ فرار اختیار کرتے انوشے کی زندگی کو زندان بنایا ۔

کرنل ضیاء جنکے سامنے وہ ہر بار ایک صدا لے کے آتی”بابا میں باغی نہیں تھی بابا آپکو سچائی پتا چلے گی آپ برداشت نہیں کرپائیں گے”اور بدلے میں کبھی انہوں نے اس سچائی کی جانچ پڑتال نہیں کی ۔

اور روحان جس نے اس سے بے انتہا محبت کرتے بھی اس پہ خوشیوں کے در بند رکھے۔محبت ایسی تو نہیں ہوتی محبت تو ہمیشہ یہی چاہتی کہ آپکا محبوب آپکو سب سے مقدم رکھے،آپکے شانہ بشانہ کھڑا ہو آپ پہ آنے والی ہرمصیبت کو اپنے سر لے مگر وہ دونوِں اشخاص انوشے ضیاء کے معمالے حددرجہ لاپرواہ ثابت ہوئے اور اپنا انموں ہیرا گنوا بیٹھے ۔

روحان کی خود ساختہ سوچوں نے اسکی آنے والی خوشیوں کے در بند کردیے تھے۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *