Sayah Kaar by Uzma Mujahid NovelR50609 Sayah Kaar (Episode 03)
Rate this Novel
Sayah Kaar (Episode 03)
Sayah Kaar by Uzma Mujahid
“او ہائے ہیری تمہیں نہیں پتا کتنا مس کیا ہے میں نے تمہیں۔”
اسکو ہیری کے گلے لٹکتے دیکھ حنا نے لاحولا پڑھا اور کمرے میں گھس گئی کیونکہ جب تک اس ہیری نے یہاں موجود رہنا تھا اب اس نے باہر نہیں آنا تھا۔
“ہیری ڈیڈ چاہتے ہیں میں ایشین بوائے سے شادی کرلوں کوئی ہے تمہاری نظر میں ۔”
اس نے اپنی الجھن اسکے سامنے رکھی جبکہ وہ اچھل پڑا تھا۔
“کیا کہہ رہی ہو روش ہم ریلشن شپ میں ہیں ہاؤ اٹ از پوسبل وی ول میری۔”
اسے معروش کی کی دماغی حالت صیح نہیں لگی ابھی تو انکا ریلشن شپ شروع بھی نہیں ہوا تھا اور وہ لڑکی ابھی سے پھسل رہی تھی۔
“آہا آفکورس وی ول بٹ مجھے ڈیڈ کی وش پوری کرنی ہوگی آدر وائز وہ اپنی پوری پراپرٹی اپنے سٹپ سن کے نام کردیں گے۔”
شانے اچکاتے اس نے جیسے عام سا مسئلہ بیان کیا ہو مگر ہیری شل ہوتے دماغ سے وہاں سے احتجاجی واک آؤٹ کرگیا تھا۔
“آجاؤ باہر حاجن بیبی تمہارا جیجو چلا گیا ہے۔”
ہونٹوں کا کونہ چبائے اس نے شرارت سے حنا کو آواز لگائی تھی۔
“اتنی جلدی کیسے جان چھوڑ دی تم نے اسکی؟”
وہ حیران ہوتے اسکی گود میں پڑے چپس اٹھائے کھانے لگی تھی۔
“شادی کرنا چاہتا ہے مجھ سے ۔”
معروش نے اسکے سر بم۔پھوڑنا چاہا تھا جبکہ اسکے گلے میں کچھ اٹخا تھا۔
“تو یہ کونسی نئی بات ہوگئی مارو جان جب آپ اسے اس حد تک لائیں گی تو یہی ہوگا نا کرلو شادی تمہیں کیا مسئلہ پھر۔”
حنا سے صاف گوئی کی حد کی تھی۔
“مسئلہ ہیں ڈیڈ اور یہ مسئلہ تم حل کروگی میرے لیے دلہا برآمد کرکے۔”
اس نے حنا کے سامنے ہاتھ جھاڑتے اسکے سر زمداری ڈالی تھی۔
“واٹ آر یو گونا میڈ ر نو تم اس غلط فہمی سے نکل آؤ کے میں کسی طرح تمہاری ہیلپ کرونگی۔”
اسکے سامنے انکار میں سرہلاتے بھی وہ جانتی تھی کہ معروش کے مسئلوں کا حل اسکے علاوہ کسی کے پاس نہیں۔
سامنے نگاہ کی جہاں اسکی آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھیں۔
“نو نو نو ” اس نے سرجھٹکتے ٹکا سا جواب دیا جبکہ وہ قہقہ لگاتے ہنس پڑی تھی ۔
“اگر مجھ پہ ایک مرڈر معاف ہو تو وہ یقیناً تمہار کرونگی میں۔”
حنا نے اپنے نوکیلے ناخن اسکی جانب بڑھائے تھے
” اور میں یقیناً تمہارا.” اسکا جوابی وار شروع ہوا تو دونوں ہنستے ہوے جنگلی بلیاں بنے لڑرہی تھیں۔
اور پھر ان دونوں کی سر توڑ کوشش کے باوجود وہ لڑکا بدآمد نہ کرسکیں مگر بابا کے ایک دن آنے سے پہلے حنا نے اسے گڈ نیوز سنائی تو وہ خود کو کسی فاتح عالم کی طرح جھلانے لگی تھی۔
اور پھر حادثاتی طور پہ ارتضی کا اسکی زندگی میں آنا “اٹ از ناٹ آ بگ ڈیل” کہتے سر جھٹک دیا تھا ۔
جبکہ وہیں ائیر پورٹ پہ جہاز کریش کی خبر سنتے وہ جہاں پستیوں میں گری اسکا زوال شروع ہوگیا تھا۔
اسکے نزدیک یہ محض ایک ڈرامہ تھا کاغذی رشتہ جو بابا کے ساتھ ہی دفن ہوگیا تھا وہ پھر سے ہیری کی صحبت اور حنا کے دلاسے تسلیوں سے زندگی کی جانب لوٹ آئی مگر اب کے اسکے راستوں میں جو کانٹے بچھائے جارہے تھے اس سے نکلنا اتنا آسان کہاں تھا۔
♡♡─━━━━━⊱༻
معجزے ہیں یقین کے سارے..
ورنہ ہر داستاں ادھوری ہے..
آج وہ پھر سے اسی کلب میں موجود تھا جہاں پہ جورڈ نے اسکی گولڈن سپیرو کو لانے کا وعدہ کیا تھا مگر اسے خالی ہاتھ دیکھ پھر سے مسٹر تیج کی تیوری پہ بل پڑے تھے۔
“تم جانتے ہو تمہاری زبان پہ یقین کرتے میں یہاں آیا ہوں اور آج پھر تم اسے نہیں لائے۔”
آج وہ ویسے بھی جورڈ سے دوٹوک بات کرنے آیا تھا کیونکہ اسے اب لگ رہا تھا جورڈ اسکیلئے جسٹ ویسٹ آف ٹائم اور ویسٹ آف منی ہی تھا اب اسے اس عارضی سہارے کو چھوڑنا تھا۔
” تم نے کہا کہ وہ تمہارے سوتیلے باپ کی اولاد ہے مطلب کے تمہاری بہن ہوئی ایسے ہے نا؟”
جورڈ نے سگریٹ سلگاتے دھواں اسکے چہرے پہ چھوڑا جبکہ وہ غصہ ضبط کرتے مٹھیاں بھینچے بیٹھا رہا۔
“تو اب اس بات کا کیا فائدہ ۔”
تیج نے دانت پیستے اس سیاح فام کو دیکھا۔
“جبکہ وہ تو کہتی ہے تم اسکے باپ کی جائیداد کی خاطر اس سے زبردستی شادی کرنا چاہتے ہو۔”
جورڈ نے اسکے سر پہ گویا بلاسٹ کیا تھا۔
“تم نے اسے ڈھونڈ لیا کہاں ہے وہ؟”
تیج کے لہجے کی بےتابی نے جورڈ کو اپنا تیر سہی نشانے پہ لگتادیکھ قہقہ پہ مجبور کیا ۔
“دیکھو جورڈ ڈبل کراس کرنے کی کوشش بھی مت کرنا اگر اسے کچھ ہوا تو دیکھنا میں تمہارا کیا حال کرونگا۔”
وہ اس پہ دھاڑتے گربیان تک پہنچا تھا۔
“ریلکس باس ریلکس تم ایک شریف آدمی ہو مگر جہاں ٹہرے ہو یقیناً یہ شریف لوگوں کی جگہ نہیں ہے ۔”
اسکی نسبت جورڈ نے ٹھنڈے لہجے میں کہتے نرمی سے اپنا گربیان اسکے ہاتھ سے نکالا اسکے آدمی مسٹر تیج کو خونخوار نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
“دیکھو تیج ڈبل کراس تو تم نے ہمیں کیا ہے غلط بات بتا کے اب یہ دل ہے نا اس مظلوم لڑکی کا ساتھ دینے کو مچل رہا ہے ہاں مگر تمہارے لیے ایک ڈیل کی گنجائش نکلتی ہے۔”
مکرو چہرے پہ مسکراہٹ سجائے اس نے پھر سے دھواں چھوڑنے والی حرکت دہرائی۔
“کیا چاہیئے تمہیں پہلے ہی میں تمہیں اتنا کچھ دے چکا ہوں اسکی کسٹڈی دو مجھے۔”
وہ دھاڑتے ہوئے پھر سے اس پہ جھٹکا لیکن درمیان میں ہی اسکے آدمیوں نے پکڑ لیا تھا۔
“دیکھو تیج تم اپنی جزباتیات سے کام بگاڑ رہے ہو ایک ہاتھ سے دو ایک ہاتھ سے لو زیادہ کچھ نہیں یہی کوئی کچھ پونڈز۔”
تیج اسکی چلاکی پہ تلملا کے رہ گیا تھا ۔
“اوکے مجھے تمہاری ڈیل منظور ہے ابھی اسے میرے حوالے کرو اور لے جاؤ اپنی رقم۔”
وہ جو اسکیلئے اتنا خوار ہوا تھا ایک ہی بات پہ اٹک کے رہ گیا تھا۔
“ابھی نہیں کل باقی کی ڈیٹل تمہی مںسیج کردونگا ۔”
جورڈ نے اس پہ احسان جتانے والے انداز میں کہتے کلب میں موجود لڑکیوں کی طرف بڑھ گیا جبکہ اسکا دماغ ہی کھول رہا تھایہ سوچ سوچ کے کہ وہ اسکی قید میں ہوگی۔
سن ہوتے حواسوں کے ساتھ وہ کلب سے نکل آیا تھا موبائل رنگ ہوا تو اسکے پی ۔اے کی کال تھی “لٹل کریپٹو کوئین” کے بارے اسے مزید انفارمیشن دے رہا تھا جبکہ وہ خود کو ایک بند گلی میں محسوس کررہا تھا۔
کیونکہ “لٹل کریپٹوکوئین ” کے گرد جال۔بچھانے کو دانہ پھینک دیا گیا تھا اور اب وہ مسٹر تیج سے ملنے کو تیار تھی اسے بتایا گیا تھا کہ اب کے اسکا ہدف ایک امیر آسامی ہے جسے اس نے ہزاروں پونڈز کا غبن دینا تھا جہاں اسکا شکاری تیار تھا وہی شکار خود بھی اپنے شکار کے پاس جانے کو تیار تھا اگر وہ اپنی گینگ کو یہ بڑی ڈیل دینے میں کامیاب ہو جاتی تو یقیناً اسکی آزادی کی راہ ہموار ہونی تھی۔
تیج کا دماغ الجھ رہا تھا جورڈ اسے اس کی منزل تک رسائی کا آسان راستہ دکھا رہا تھا جبکہ دوسری طرف کرپٹو کوئین کے ساتھ ہونے والی اہم میٹنگ اسکے دماغ کو کنفیوژ کررہی تھی تو بلاأخر طے یہ پایا تھا کہ اسے بھی” لٹل کرپٹو کوئین” کی دنیا کا سیاہ کار بننا تھا بلکل اسی کی روش پہ چلتے ہوئے۔
اسکے دل میں جاگتی لٹل کرپٹو کوئین کی محبت آہستگی سی سیاہ اماوس کی رات جیسی سیاہی خود پہ طاری کرنے لگی تھی کیونکہ اب کے جس سے اسکا واسطہ پڑ رہا تھا وہ جرائم کی دنیا میں ناقابل معافی جرائم کی سیاہ کار لڑکی تھی ایک قاتل اور دھوکے باز حسینہ جو اپنے شکار کو بلیک ہڈ سے ہی ٹارگٹ کرتی اور انکی زندگی میں سیاہی بکھیرے غائب ہوجاتی ۔
♡♡─━━━━━⊱༻
سمجھے گا کون ؟ جاگتی آنکھوں کے خواب کو
ہم اپنے حادثوں کے _____ اکیلے گواہ ہیں ….!
اپنے بابا کے پلین کرش میں ہونے والی موت نے اسے بھی بری طرح توڑ کے رکھ دیا تھا لیکن لندن کی فرم اسکے بابا کا خواب تھی اسیلئے اسے سب کچھ لے کے چلنا تھا اس حادثے نے بری طرح سے اسکے دماغ کو مفلوج کیا تھا ایسے میں وہ ارتضیٰ اور اپنے نکاح کو دماغ سے نکال بیٹھی تھی۔
ایسے میں ایک دن اسے اپنے نمبر پہ ایک ایم۔ایم۔ایس ریسیوہوا تھا
کتنی دیر موبائل ہاتھ میں پکڑے وہ بے یقینی سے اپنے جلد بازی میں اٹھائے گئے اقدام کا ثمر دیکھ رہی تھی۔
“جس وجہ سے میں نے یہ قدم اٹھایا تھا وہ وجہ اب ختم ہوچکی ہے مسٹر۔۔ اسیلئے یہ کاغذی رشتہ مجھے ختم کرنا ہے ۔”
نکاح نامہ پہ سائن کرتے ہوئے ارتضی نے ہی کسی سے کہہ کے تصویر لی تھی کیونکہ وہ بھی بابا جان کو مکمل پروف دینا چاہ رہی تھی ایسی تصویر اسکے پاس بھی تھی مگر شاید اس نے بھیجتے ہوئے گویا خود کو اسکی میموری میں رئیوانڈ کروانا چاہا تھا۔
“آپکیلئے یہ رشتہ کاغذی ہوگا ورنہ میں نے تو آپکو بقائمی ہوش وحواس قبول کیا تھا۔”
فوراً ہی اس بات کا تردیدی مسیج آیا معروشی نے بے یقینی سے اس شخص کا جواب پڑھا جو ڈھٹائی لیے ہوا تھا۔
“شوق سے نبھائیں جبکہ میں نے کبھی آپکو میسر ہی نہیں آنا۔” اس نے جواب دیتے ساتھ موبائل آف کردیا اور کسی ناپسندیدہ چیز کی طرح دیوار میں دے مارا تھا ۔
“کیا ہوا مارو آل رائٹ نا؟” حنا نے اسکی حالت دیکھ گھبرا گئی تھی۔
“بلیک میل کررہا ہے وہ مجھے ہنی وہ ۔۔” وہ جو اتنی مضبوط لڑکی تھی کسی لڑی سے ٹوٹے موتی کی طرح لگ رہی تھی۔
“کون مارو کون بلیک میل کررہا ہے؟” حنا نے حیرت سے اسے دیکھا اس کا اب تک کسی سے ایسا کوئی پنگا نہیں تھا جو اس سے وہ انجان رہتی ۔
“وہی جس سے نکاح کیا تھا ۔” اس نے گویا حنا کے سر پہ بم پھوڑا تھا انکل کی ہونے والی اچانک ڈیتھ نے اسکے دماغ سے بھی یہ بات نکال دی تھی کہ وہ کوئی ایسا قدم اٹھانے کا سوچ رہی تھی۔
“کیا کہہ رہی ہو مارو نکاح کب کس سے اور اب کیوں؟”
وہ حیران تھی تبھی معروش نے اسے اس دن کا واقع کہہ سنایا تھا۔
“او مائی گاڈ مارو تم اتنا بڑا سٹیپ کیسے لے سکتی جبکہ میں نے بھی تمہیں اس سب سے بعض رکھنے کو من گھڑت کہانی سنائی تھی کوئی آدمی نہیں ڈھونڈا نہیں تھا میں نے وہ سب حیات انکل کے کہنے پہ کیا تھا تم نے مجھے بنا بتائے ۔۔۔۔۔”
حنا کی آواز لرز رہی تھی وہ سمجھ سکتی تھی کہ وہ کتنی بڑی بیوقوفی سرانجام دے چکی تھی۔
“بب بابا کو پتا تھا سب ہنی تت تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں۔” معروش کیلئے تو یہ صدمہ ہی کافی تھا کہ اسکے بابا اسکے پلاینز سے آگاہ تھے۔
“انکل کو سب بتا دیا تھا میں نے مارو کہ کس طرح تم انکا چیلنج ایکسپٹ کیے اونگے بونگےقدم اٹھانے پہ لگی ہو ہمیں ڈر تھا کہ تم ضد میں آکے کوئی غلط قدم نہ اٹھاؤ اور پھر بھی تم اپنی زندگی کی ڈور ایک انجان شخص کے ہاتھ پکڑا کے آگئی اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ وہ تمہیں ڈائیورس دے گا اور اس سب سے بڑھ کے مارو وہ کیسا انسان ہے اسکی نیچر کیا ہے کچھ بھی تو نہیں جانتی تم۔”
حنا اب بھی صدمے میں گھِری تھی جبکہ وہ بھی معاملے کی سنگینی سے اب واقف ہونے لگی تھی۔
“یہ پاکستان نہیں ہے ہنی جہاں کوئی بھی زور زبردستی مجھ پہ مسلط ہونے کی کوشش کرے میں اسے کورٹ میں لے جاؤ گی ثابت کردونگی کہ یہ صرف کنٹریکٹ میرج تھی اور کچھ نہیں۔”
حنا اسکی پچکانہ باتوں پہ مسکرا اٹھی تھی کیونکہ وہ اسے مزید کچھ کہہ کے پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔
معروش نے نمبر چینج کرتے گویا ارتضیٰ سے نجات کا پہلا حل ڈھونڈا تھا مگر وہ اس بات کو سوچ ہی نہیں رہی تھی کہ پہلے بھی تو اس نے ارتضیٰ کو اپنا نمبر نہیں دیا مگر پھر بھی وہ اس تک رسائی حاصل کرگیا پھر سے اسکیلئے کونسا مشکل اقدام تھا یہ۔
