Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sayah Kaar (Episode 15,16)

Sayah Kaar by Uzma Mujahid

میرا عہد وفا تیری آزادی اس قول سے بڑھ کر کوئی بات نہیں

تیرے نام کی اُجلی وردی سے بڑھ کے کوئی جامہ وار نہیں۔۔۔

“آج لگ رہا ہے صرف میجر کو ہی نہیں مجھے بھی بددعا تھی ماں نے جو یہاں آگیا۔”

احمد کی بڑ بڑاہٹ پہ دو کیڈٹس کی دھیمی ہنسی کی آواز آئی تھی۔روحان اور واسق نے ان بیچاروں کو دیکھا شاید وہ انجان تھے کہ روحان اور احمد کی بات پہ ہنسنے کے بعد کیا انجام ہوتا ہے۔

سر کے بل جسم کو رکوع کی حالت میں موڑے دونوں پاؤں پتھروں پہ رکھے اور ہاتھوں کو بیک سے چپکائے انکی حالت قابل رحم تھی۔پانچ منٹ میں ہی انکو پتا چل چکا تھا کہ یہ اتنا آسان نہیں تھا۔

تاہم احمد کی زبان اس موقع پہ بھی گوہر فشانی کر رہی تھی ۔

“اے یو سٹینڈ اپ ۔”

دو کرلاتی نگاہوں نے ان دونوں کو کھڑے ہونے کو کہا وہ جو مسکرانے پہ اچھی ڈانٹ کھانے والے تھے۔

“کیوں ہنس رہے ہیں آپ یہ پی۔ایم۔اے ہے آپکا گھر نہیں ۔یہاں آپکو ساری زندگی گزارنی ہے اگر آج آپ مسکرا رہے ہیں ایسا نہ ہو کہ ساری زندگی آپکو روناپڑے اسکے بعد۔

بیک ٹو یور آن پوزیشن۔”

انہیں جھاڑ پلاتے پھر سے انکی پوزیشن میں جانے کا حکم دیا گیا یہاں پر سوری کی گنجائش بلکل نہیں تھی۔

“ماڑا اچھے لوگوں نے بولا بھی تھا جسکی ہڈیاں مضبوط ہیں وہی ادھر آئے غلطی ہوگئی۔”

جسکی ابھی تازہ چھترول ہوئی تھی اب غصہ خود پہ نکال رہا تھا۔

“او بھائی ایس۔ایس۔جی نام ہی اسی چیز کا دشمن کے حلق سے نوالہ کھینچ لینے والے ہی آسکتے یہاں اتنی سی پنشمنٹ پہ آہ بکا بنتی نہیں۔”

واسق کی بات پہ اے۔ایچ سمیت ان تینوں کو جھٹکا لگا تھا جو اس پنشمنٹ کو کسی کھاتے میں نہیں رکھ رہا تھا۔

“تف ہے تم پہ بجائے اسے حوصلہ دینے کے تم بھی پی۔ٹی والا کام کررہے۔”

اے ایچ کا نروٹھا انداز اس نے بخوبی ملاحظہ کیا تھا۔

“او بھائی یاد نہیں جس دن اس سنٹر کے گیٹ سے انٹر ہوئے تھے اور آرڈر آیا سامان سائیڈ پہ رکھو اور فرنٹ رولنگ شروع کردو تب اس سب کیلئے تیار ہوجانا چاہئیے تھا کہ یہ فوج ہے ممکنہ ساس کا گھر نہیں جہاں آپکو پروٹوکول دیا جاتا۔”

آواز کی کہیں اور سے آئی تھی ان چاروں نے ہی اپنی گردنیں سیدھی کرنی چاہیں مگر جھکے سر اٹھنے سے انکاری تھے۔

“کافی اچھا شغل میلہ لگایا تم لوگوں نے مووو فارورڈ ٹو نیکسٹ۔”

رہائی کا سندیسہ دیا گیا تھا۔ لیکن فوج کے سندیسے کبھی خیر کے نہیں ہوتے تھے نا ہی صلہ رحمی کے کیونکہ وہاں پہ موجود سنئیر کمانڈوز یہ وقت گزار کے آئے تھے ان سب کو لگتا تھا کہ یہ صرف بدلہ لیا جارہا ہے۔

“اتھے تے لتراں دی بارش ہونے لگی آ۔”

احمد چونکہ پنجابی تھا اکثر جب وہ کنفیوژ ہوتا اپنی زبان بولنے لگتا تھا۔

“بوائز اس مار سے بچنے کا سیکرٹ بتاؤں تم لوگوں کو اگر تم لوگ چاہتے کہ مار کم پڑے تو چپ کرکے دردوں کو پی لینا ہے اگر جو تم لوگ چیخے یہ ٹریننگ نما تشدد بڑھ جائے گا۔”

واسق نے انتہائی رازدرانہ سیکرٹ شئیر کیا کیونکہ اکثر وہ اپنے سنئیرز کے ساتھ وقت گزارتا نظر آتا تھا اسیلئے اسکے پاس ہر چیز کی زیاد انفو ہوتی تھی۔

یہ بھی انکی ٹریننگ کا حصّہ تھا کہ اکثر کو بوری میں بند کیے چھترول کی جارہی تھی جبکہ کچھ لڑکوں کی پشت پہ سیمنٹ کی بوری پشت پہ باندھے چھترول ہورہی تھی۔

ٹریننگ کے اس حصے کا مقصد خاص اگر کوئی بھی کیڈٹ یا کمانڈو دشمن فوج کے ہتھ چڑھ جائے تو اس میں اتنی پاور ہوکے انکی قید میں ہونے والے ظلم کو برداشت کرسکے مگر اپنے وطن کے راز شئیر نہ کرے۔

واسق اور اے۔ایچ نے کافی ہمت کا مظاہرہ کیا تھا اس مار کو برداشت کرنے میں جبکہ روحان بہت جلد ہی نڈھال سا پڑا تھا جس پہ اسے رہائی کا مژگان سنایا گیا تھا۔

احمد نے بے ہوش ہونے کی فلاپ ایکٹنگ مگر پھر بھی کام۔کرگئی تھی۔

“کیا بکواس ہے یار یہ سنٹر ہے کوئی یا ٹارچر سیل۔”

نیم گرم ریت سے اپنے جسم کو سہلاتے روحان بڑ بڑا رہا تھا۔

“مشورہ کسکا تھا اسکا ہی گربیان پکڑ کے پھینکواسے کتنا ڈھیٹ بندہ ہے اتنی مار کے باوجود مجال ہے جو لبوں سے اف کی ہو ۔ڈھیٹ ہڈی اگر یہ سب ہونا تھا پہلے بتا دیتا میں اسکی دوستی پہ لعنت بھیجے وہی سادہ فوجی رہ لیتا۔”

اے۔ایچ کا غصہ بھی پیک پہ تھا وہ دونوں روم میٹ تھے مگر آج وہ اس سے بائیکاٹ کیے بیٹھا تھا جسکی وجہ سے روم میں جانے کے بجائے انہی کے ہمراہ بیٹھا دکھ سکھ بانٹ رہے تھے ۔یہ انکی دو ماہ میں پہلی کٹائی تھی جس پہ وہ چیخ رہے تھے۔

“آج کا دن ہی برا تھا کونسی وہ منحوس گھڑی تھی جب اس قاتل حسینہ کا دیدار ہوا تھا۔”

روحان کے دماغ پہ ابھی تک ضیاء کی بیٹی چھائی ہوئی تھی۔

کتنے مزے سے انکے سنئیرز نے نئے آنے والے ریگروٹ کی درگت بنتے دیکھی تھی۔

اگلے دن انہیں بقایا کی ٹریننگ کیلئے کے۔پی۔کے ایک آرمی سنٹر چراٹھ جانا تھا جہاں ان سے زندگی کے مشکل ترین دور سے نبٹنے کیلئے ایک اچھا جنگجو بننے کیلئے تیار کرنا تھا۔

༻━━━━━⊱༻

سوچو تو سلوٹوں سے بھری ہے تمام روح

دیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لباس میں۔۔۔۔

وہ کب سے بیٹھی اس انوشے نامی لڑکی کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔اس لڑکی جسکا نام امل تھا اسے کچھ بھی نہیں بتانا چاہتی تھی کیونکہ اگر وہ اسے جیل کے بارے بتاتی تو یقیناً پہلا سوال ہوتا وہ آئی۔ایس۔آئی کی جیل میں کیا کررہی تھی۔دکھتے سر کو اپنے نرم انگلیوں سے چھوتے وہ چھت کو گھورے جارہی تھی اسکا پروجیکٹ ادھورا تھا جبکہ اسے کل ڈی۔جی کے سامنے بھی پیش ہونا تھا اسے لے کے۔

سوچوں کی دھار انوشے سے ہوتی عائشہ کی طرف بڑھی تھی۔نجانے وہ کہاں تھی ؟اسے ایک بار عائشہ سے ملنا چاہئیے تھا اگر ہیری زندہ تھا تو یقیناً عائشہ بھی زندہ ہوگی؟ تیج اس سارے ڈرامے سے واقف تھا پھر بھی اس نے بتانا گوارہ نہیں کیا۔

دروازے پہ ہلکی دستک ہوئی اس نے چونکتے ہوئے آنے والے کو دیکھا۔ایک دم جھٹکا کھائے وہ اٹھی تھی۔

“تم تم یہاں یو لائر گرل ۔”سامنے موجود انوشے اسے طیش دلا گئی تھی تبھی جارحانہ انداز لیے اسکی طرف بڑھی ۔مگر انوشے نے دونوں ہاتھ اوپر کو اٹھاتے اسکو اپنی جانب متوجہ کیا۔

“دیکھیں معروش میں آپکو سب کچھ بتاتی ہوں ۔جھوٹ بولنا میری مجبوری تھی ۔جب آپ یہاں تک آہی چکی ہیں تو کچھ حقیقتیں ہیں جو میں آپکے بتانے آئی ہوں پلیز کول ڈاؤن۔”

انوشے کو معروش کے خلاف اے۔ایچ کی بات سچ دکھائی دے رہی تھیں ۔یقیناً وہ اسے اچھے سے جانتا تھا۔

“میں اس بات سے آگاہ ہوں کی موسٹ وانٹڈ گرل لٹل کریپٹو کوئین آپ ہیں۔”

انوشے نے کسی کرمینل کی طرح سرجھکائے معروش کے نہیں جیسے اپنے کسی گناہ کا اقرار کیا ہو۔

“مختیار انکل کا ماننا ہے کہ جو لڑکی نیگٹو وے میں اتنی بڑئ تباہی لا سکتی اگرا سے پراپر چینل کے ساتھ پوزیٹو ڈائریکشن دے دی جائے تو یقیناً اسکی صلاحتیں ہمارے لیے کارآمد ثابت ہونگی جس میں پہلا مشن تھا آپکو جانچنا اس لیے ایک ٹرائل کے طور پہ مجھے آپکے ساتھ رکھا گیا ۔میرا ان سب سے کوئی تعلق نہیں مگر اپنے ہیسبنڈ کی وجہ سے شامل ہونا پڑا انکی معیت میں۔”

انوشے سرجھکائے ناخن کے کیوٹکس سے کھیل رہی تھی جبکہ معروش کو بہت غصہ آرہا تھا ایسی بھی کیا بے اعتباری تھی۔

“آپ سے ایک بات پوچھوں؟” معروش نے لہجے کو نرم رکھنے کی زحمت بھی نہیں کی تھی۔

“جی پوچھیں میں جھوٹ بلکل نہیں بولتی یہ تو صرف ایک پلان تھا واسق بھا۔۔۔”

وہ جلدی جلدی صفائی دینے لگی جب معروش کے ہاتھ اٹھا کے رکنے پہ اسکی چلتی زبان کو بریک لگے۔

“یہ اے۔ایچ کون ہے؟” معروش کو اکثر اسکی آنکھوں میں جانا پہچانا لمس نظر آتا تھا تبھی سوال پوچھا تھا ۔

“اے آپ اے۔ایچ کو نہیں جانتیں یہاں ایسا کوئی بھی نہیں جو انکو نہ جانتا ہو وہ اسپیشل ٹاسک فورس میں کیپٹن کےساتھ ساتھ ایک بہترین اسپائے بھی ہیں ۔”

انوشے نے عقلمندانہ جواب دیا تھا مگر معروش کو مطمئن کرنے والا نہیں۔

“مس انوشے اے۔ایچ کوئی انسانی نام ہوسکتا یا جنرق ؟تو کیا آپ یہ ڈرائیوڈ نیم ہٹا کے مجھے انکا پورا سائنٹفیک نیم بتائیں گی افکورس انکا ہیومن سپشی سے تعلق ہے تو لوجکلی یہ شارٹ نیم اپنے پیچھے ایک ہسٹری تو رکھتا ہوگا نا؟ یا نہیں انکے پیدا ہوتے ہی اے۔ایچ نام۔رکھ دیا گیا؟”

انوشے کی جان اسکے تیکھے تیوروں میں اٹکی تھی۔

“جج جی انکا نام ہے نا اتنا لمبا سا نیم ہے تو تبھی انکے دوستوں کی دیکھا دیکھی انکا نام یہی پڑ گیا؟”

انوشے نے ہلکلائی آواز میں جواب دیا جیسے معروش نے آنکھوں میں ہی گن فٹ کی ہوئی ہو۔

“سو؟” معتوش کا پھر سے مختصر سوال ابھرا۔

“ارتضٰی میر حیدر نام ہے انکا تو ان شارٹ سب انہیں اے۔ایچ کہتے ہیں ۔دراصل۔۔۔۔”

معروش کو تو دو سو والٹ کا جھٹکا لگا تھا پہلے انوشے اب تیج را ایجنٹ ہونے کے دونوں دعویدار اسے بیوقوف بنا گئے آخر کیوں ؟ وہ غائب دماغی سے انوشے کو دیکھنے لگی جو نجانے کیا کچھ بول رہی تھی ۔

“ویلکم ٹو دا ورلڈ آف تیج،ویلکم ٹو دا ورلڈ آف ارتضٰی میر حیدر۔” آس پاس آوازوں کی بازگشت تھی۔

وہ شخص کیسے کیسے اسکی زندگی میں بار بار آکے ہلچل۔مچائے ہوئے نہیں تھا ۔کبھی تیج کبھی میرو تو کبھی ارتضٰی بن کے اور اب ایک نیا روپ دھارے اے۔یچ ۔

آخر وہ اسکیلئے ہی چیلنجنگ ثابت کیوں ہورہا تھا۔

“ایم۔سوری معروش میں آپکو ۔۔”

اٹس اوکے ہم بعد میں بات کریں آئی نیڈ سم ریسٹ۔

انوشے کی۔بات درمیان میں کاٹتے اس نے بے مروتی کی حد دکھائی تھی۔

وہ تو اول روز سے دشمن تھا پھر اب کیا گیم کھیل رہا تھا وہ اسکے ساتھ۔بہت سوال تھے جنکا جواب صرف ارتضٰی میر دے سکتا تھا یا شاید تیج میر۔

آج پہلی بار اسکا دل چاہا تھا کہ وہ اس سے ملے۔۔۔

موبائل اٹھائے کال ملائی تھی۔

“آئی وانٹ ٹو میٹ ہم۔” صرف ایک ڈیمانڈ کی گئی تھی اگلا بندہ شاید سمجھ گیا تھا کہ وہ کیا چاہتی تھی اور کس سے ملنا چاہتی تھی تبھی اوکے کہہ کے کال بند کر دی گئی تھی۔

༻━━━━━⊱༻

“آپکو رات آرڈر ملا تھا آپ پھر لیٹ آئے ہیں آج میں آپکو بتاؤنگا فوجی آرڈر میں کیسے لیٹ آتے ہیں۔یونیفارم سازوسامان رات کو تیار کرکے سوتے ہیں دوڑے چلیے اگلے پانچ منٹ میں سکاڈ ڈریس ساتھ انڈرگراؤنڈ کھڑے ہونگے ۔ڈوڑے چل۔”

آج پھر سے شامت آئی تھی ۔ واسق اور اے۔ایچ روم میٹ تھے کل کی تگڑی ٹریننگ کے بعد وہ ہوش وحواس سے بیگانہ سوئے تھے۔جلدی میں تیاری کرتے وہ ڈریس چینج کرنا بھول چکے تھے کیونکہ سپیشل کمانڈ پریڈ تھی جو انہیں یاد ہی نہیں تھی ۔

اگلے پانچ منٹ میں وہ سب اپنے سنئیر کی انسٹرکشنز فالو کیے انکے سامنے کھڑے تھے۔

“نوجوان دوڑے چل۔” کرخت آواز گراؤنڈ میں گونجی تو تمام کیڈیٹس “ون ،ٹو” لگ اپ ڈاؤن کرتے گراؤآنڈ میں گھومنے لگے تھے جہاں فاسٹ کی آوازیں انہیں مزید تیزی سے موو کروا رہی تھیں۔

جیسے ہی وہ فکس پوائنٹ پہ رکے ہاتھوں میں اسٹک لیے سنئیر نے ایک تنقیدی نگاہ سب پہ ڈالی۔

“احمد یونفارم سلوٹ نکالیں آپ یہاں سے۔” احمد کے سامنے آتے اس نے بیلٹ میں تھوڑا سا کرسٹ ظاہر کرتی اسکی یونیفارم کو نکالنے کو کہا تھا ۔اس نے گھبراہٹ میں ہلتے سلوٹ نکالنی چاہی تھی۔

“ڈونٹ موو آئی سیڈ حرکت نہیں کرنی بغیر ہلے بیلٹ سہی کریں سلوٹ نکالیں۔” احمد آج صیح پی۔ٹی کے ہاتھ چڑھا تھا اپبی گھبراہٹ پہ قابو پانے کی کوشش کی مگر ناکام ٹہرا جب دوبارہ شاؤٹ ہوا۔

“ٹراؤزر صییح کریں آپ اپنا بیلٹ نیچے کریں۔” اب کے احمد نے خود پہ قابو پائے مشکل سے اپنی یونیفارم کو سیدھا کیا۔

اب وہ کسی اور کی باری لگا رہا تھا ۔

“دو ماہ ہوگئے ہیں آپ کو ابھی تک بیلٹ ٹائٹ کرنا نہیں آیا پھر لگائیں ابھی تک بیلٹ باندہ لینی چاہئیے تھی آپکو نواب صاحب جلدی کریں آپ۔”

تبھی ایک ریگروٹ فارمل مارچ کرتے سنئیر کے سامنے آیا تھا۔

“کمپنی آسان باش لائینں سیدھی کریں اپنی۔”

آواز کے ساتھ ہی سیلوٹ کیا گیا تھا اور گراؤنڈ میں زمین پہ بوٹوں کی لرزش نے تر تراہٹ پیدا کی۔

ایک کیڈٹ نے آگے آتے تلاوت شروع کی تھی ۔جہاں باقاعدہ دن کا آغاز ہورہا تھا۔

“کمپنی ہوشیار۔” تلاوت کے اختتام پہ پھر سے سنئیر کیڈٹ کی آواز پہ بوٹوں کی تھر تھراہٹ ہوئی اور ساتھ میں ترانہ پڑھا جانے لگا تھا جسکے بعد سب اپنے ناشتے کو روانہ ہوگئے سوائے ان کیڈیٹس کے جنکا ناشتہ سزا کے طور پہ بند کیا جانا تھا۔

جنٹلمین کیڈٹ آپکو کُرلنگ ٹرینچ کرنی ہوگی وہ بھی ریگروٹ کی فل سکاڈ کے سامنے۔”

یہ سنئیر کیڈٹ کی زنجیلی آواز تھی ۔اے۔ایچ کا ہاتھ بے ساختہ اپنے پیٹ پہ پڑا ۔جسم کا ہر عضو پہلے ہی چٹخا ہوا تھا اب جو اگر کچھ سالم تھا وہ اسے بھی خراب کرنے پہ تلے تھے۔اس نے معصوم نگاہ روحان اور احمد پہ ڈالی ۔اسکی نگاہ اپنی جانب بڑھتے دیکھو انہوں نے دن میں ہی تارے گننے شروع کردیے تھے ۔ہنسی انکی کنٹرول میں نہیں تھی اور یہ کام کرکے وہ واسق اور اے ایچ کے ساتھ کی سزا نہیں سہل کرسکتے تھے۔

واسق اور اے۔ایچ نے انکی اس طوطی چشمی کو دیکھا۔

اگر وہ چاہتے تو انہیں اٹھا سکتے تھے مگر خیر تھی۔

پھر سے وہ قربان گاہ پہنچے تھے جہاں ایک خاردار تار (ٹرینچ) جو کہ نوکیلے کانٹوں سے لیس تھی بمشکل زمین سے چند انچ اونچی تھی جہاں سے انہیں پیٹ کے بل رینگ کے گزرنا تھا ۔یہ پوری سزا انہیں پیٹ کے بل رینگتے ہوئے پوری کرنی تھی۔پیٹ کو زمین سے ہٹانے کی صورت میں اوپر لگی ٹرینچ انکے جسم میں پیوست ہوسکتی تھی مگر یہاں پہ کوئی راہ فرار نہیں تھی۔

“کیڈیٹس سٹارٹ جو جتنی جلدی یہ کام مکمل کرے گا اسکیلئے اگلے کئی دن سزا سے بریت ہوگی۔ سٹارٹ کرولنگ اینڈ کراس ایچ ادر۔”

سکاڈ ٹرینی کی آواز پہ ان دونوں کی آنکھوں میں چمک اتری تھی ۔مطلب صاف تھا کہ وہ تو کچھ دن آزاد رہ سکتے تھے مگر غداروں کو سزا ضرور دلوا سکتے تھے۔

“چلیں بہنوئی صاحب پوری کرتے ہیں یہ سزا خاموشی سے دردوں کو پینا ہے انکے سامنے کوئی شور نہیں باقی کا خمیازہ یہ بھگتیں گے۔”

واسق ان دونوں کو تیز گھوری سے نوازتے دوسرے کیڈیٹس جو انکی طرح سزا میں شامل تھےا نکی طرف بڑھ گیا۔

کہنیوں کے بل پیٹ پہ رینگتے انہیں تقریباً پندرہ ٹرینچ کراس کرنے تھے ہر ایک دوسرے کو ہرانے کے چکر میں تھا۔ جن کا مقصد ،قومیت وطن ایک ہی تھا مگر سب میں اس وقت ایک دوسرے کو ہرانے کا جذبہ تھا۔

آخری ٹرینچ کی طرف بڑھتے واسق نے اے۔ایچ کو دیکھا جو اس کے برابر ہی تھا مگر تھوڑا پیچھے اس نے مسکراتے ہوئے خود کو زمین پہ ہلکا سا گرا لیا جبکہ اے۔ایچ آگے ہی بڑھ رہا تھا اور پھر اس نے تیزی سے کراس کرتے اپنے پیچھے آتے واسق کو وکٹری دکھائی وہ صرف مسکرا کے اسے وش کرگیا۔کیونکہ اکثر ہی ان تینوں کو پنشمنٹ ملتی تھی ان تینوں کی نسبت واسق کافی سلجھا ہوا تھا اور آن ٹائم اپنے ٹاسک مکمل کرتا۔

“لوزرز یو آر ناٹ آ لیڈی وارئیر ۔”

چیختی ہوئی آواز میں وہ سکاڈ پھر سے پیچھے رہنے والے لڑکوں کی درگت بنارہا تھا۔ آرمی ڈسیپلن رول تھا کہ یہاں پہ کیڈیٹس پہ ڈنڈا نہیں آزمایا جاتا تھا بلکہ سزا پہ دی جانے والی سزا ہی انہیں سبق سکھانے کو کافی ہوتی تھی جہاں اگلی بار وہ ڈسیپلن مینٹین کرنے کی پوری کوشش کرتے تھے۔

انکے تربیتی ٹریننگ کی سہ ماہی شروع ہونے لگی تھی جب ایک دن پھر سے احکامات ملے تھے کہ انہیں پیرا شوٹ سلائیڈنگ کرنی ہے ۔احمد کے ہاتھ پاؤں پھولے تھے۔

“میں بھری جوانی میں شہید نہیں ہونا چاہتا ۔آسمان سے گرا کبھی کوئی بچا ہے کیا۔”

اسکی دہائی پہ وہاں بیٹھے سب ریگروٹ ہنس پڑے تھے۔

“تاریخ گواہ ہے کوئی فوجی ٹریننگ کے دوران مرا بھی نہیں ہے اسپیشلی آسمان سے گرنے والا ہمیشہ چیراٹھ میں پھنستا ہے۔” واسق نے تنکا چباتے اے۔ایچ کے ساتھ تالی بجائی تھی۔

“ریگروٹ کمانڈوز حاضر ۔”

پھر سے جنگ کا دفل بجا تھا۔

“جنٹلمین آج کا آپ لوگوں کا ٹاسک ہے ہے کتے کے منہ سے ہڈی چھیننا ۔لفٹین سٹارٹ فرام یو۔”

روحان کی سانس بند ہوئی سامنے موجود خطرناک شکل کے کتے کو دیکھ کر۔

دشمنی کرکے دیکھ لو ہم سے۔۔

ہر حوالے سے خاندانی ہیں۔۔۔۔

༻━━━━━⊱༻

“کیا گیم کھیل رہا ہے تو انکے ساتھ۔”

روحان نے اسکے ہاتھ سے لیز کا پیکٹ چھینتے کہا ۔سامنے ہی وہ” ریان رونالڈز “

کی “بینک ہیسٹ ” دیکھنے میں محو تھا جب روحان نے لیز کے ساتھ ریموٹ بھی چھینا تھا۔

“وہ لڑکی یہ کام پندرہ برس کی عمر میں کرتی ہے جو یہ اب ہمیں سکھا رہے ۔” ارتضٰی نے سگریٹ جلاتے ٹی۔وی کی طرف اشارہ کیا جہاں بینک رابری کا خفیہ پلان بن رہا تھا۔

“وہ لڑکی تمہاری بھی کچھ لگتی ہے یقیناً اس سب کے پیچھے اسکی کوئی خاص مجبوری رہی ہوگی اور جب ماں باپ بچؤں کا ہاتھ چھوڑ دیں تو اس عمر میں اکثر وہ بہک ہی جاتے ہیں ۔وہ۔تو پندرہ سال کی عمر میں بہکی مگر تمہارے سامنے مثال ہے کہ ایک لڑکا سترہ سال کی عمر میں بھیا میچور ثابت کرتے گھر سے بھاگا تھا۔”

روحان کا خفیف اشارہ سمجھتے اس نے سر جھٹکا۔

“اگر اس دنیا میں اگر ارتضٰی میر کی انسلٹ کا حق ہے تو وہ۔صرف واسق صدیقی کو ہے روحان صاحب برائے مہربانی آپ اس چیز سے مستعفی ہوجائیں۔”

اندر آتے واسق نے بھی لقمہ دیا اور اسکے پیچھے آتی انوشے بھی مجرموں کی طرح سر جھکائے آبیٹھی تھی۔

روحان نے واسق کو جواب دینے کے بجائے اپنی بیوی محترمہ کو دیکھا جو ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے چٹختے یقیناً کچھ انہونا کارنامہ سر انجام دے کے آئی تھی۔

“کیا ہوا کچھ گڑ بڑ کرکے آئی ہو۔” روحان نے ہمیشہ کی طرح بنا کسی لحاظ کے اپنے دوستوں کے سامنے اسکی کلاس لینی ضروری سمجھی تھی جسکی آنکھوں سے اسکی بات سنتے موٹے موٹے آنسو گرنے لگے تھے ۔

” کچھ خاص نہیں مسسز انوشے روحان معروش کا ہٹلر روپ دیکھ کے مسٹر اے۔ایچ کے بارے تفصیلی انٹروڈکشن کروا آئی ہیں جسکا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہیڈ کواٹر سے مسٹر اے۔ایچ کو ملنے کے احکامات آئے ہیں۔”

واسق نے روحان کے موڈ کے پیش نظر اسکی حماقت کو خود ہی ہلکے پھلکے انداز میں بیان کیا جبکہ صیح معنوں میں ان دونوں کو جھٹکا لگا تھا دونوں کی ہی “کیا!”

نے انوشے اور واسق کو کانوں پہ ہاتھ رکھنے پہ مجبور کیا تھا جبکہ ان دونوں کی کاٹ دار نگاہوں سے انوشے سہمی جارہی تھی۔

“زندگی میں میڈم انوشے آپ نے کوئی کام سیدھا کیا ہے؟”

روحان کا جلالی روپ واپس آرہا تھا جو صرف اسکیلئے ہی مخصوص تھا وجہ انوشے کا وہ جرم تھا جو اسکیلئے کبھی قابل معافی نہ تھا ۔

“سب سے بڑا غلط کام تو تم سے شادی کرکے کیا ہے اس بچاری نے ہر وقت اسکا خون خشک کیے رہتے جاؤ انوشے ایک گرما گرم چائے لے کے آؤ ان دونوں کے غلط کاموں کا انجام یہ خود بھگتیں گے آئی۔ایم۔ود۔یو ۔”

واسق نے اسے تسلی دیتے وہاں سے کھڑا کیا تھا۔

وہ سب جانتے تھے کہ انوشے کا کیا قصور تھا تبھی نا روحان کو کچھ کہہ سکتے تھے نا اسے ۔

یوں الزام تراشیوں سے بہتر تھا

ہم کتنے برے ہیں ہم سے ہی پوچھ لیتے۔۔۔

ایک آنسو اسکی پلکوں پہ اٹکا تھا یہ شخص اپنی نفرت ظاہر کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا۔

༻━━━━━⊱༻

اس نے آنکھیں کھولی تھیں ۔کیونکہ وائر کٹی تھی مگر کہیں سے کوئی آواز نہیں آئی تھی اس سہمے معصوم نے بے یقینی سے اپنے سامنے اس نقاب پوش شخص کو دیکھا۔

“یہ کک کیسے ہوگیا روٹ از ییلو تت تو یہ ؟” وہ ابھی تک یقین نہیں کرپارہا تھا کہ وہ زندہ ہے۔

“ہمیشہ دشمن کی سوچ سے دو قدم آگے کی سوچنا ہمارا کام ہے ایک راجر کا کام دشمن کو صیح روٹ کا پتا دے کے بھٹکانا ۔” وہ دیکھ سکتا تھا کہ حوصلے سے بھرپور شخص مسکرا رہا تھا ۔

“آپ کون ہو؟” اس نے اس ہیرو کا نام جاننا چاہا جو اس سمیت ہزاروں لوگوں کو بچانےکا سبب بنا تھا۔

“راجر،کمانڈو ،مارخود،ریگروٹ جس نام سے پکار لو۔”

اس نے اسکی گال پہ چٹکی کاٹی تھی۔اسکا کام مکمل ہوگیا تھا اسکا مشن سکیسفل رہا تھا تبھی اس بچے کو وہ چھوڑ کے جانے لگا تھا۔

“آئی۔ایس۔آئی آپ آئی۔ایس۔آئی ہو نا۔”

جتنا اسکی سمجھ میں سوال آیا اس نے کردیا جبکہ اسکے چلتے قدم رکے تھے۔

“ہاں میں آئی۔ایس۔آئی ہوں۔” اس نے اپنے چہرے کا ماسک ہٹائے اس بھرپور مسکراہٹ سے نوازا ۔

آئی ایس آئی یہ پاکستان کا سب سے بڑا اور خفیہ ادارہ ہے۔ اس ادارے کا مکمل نام انٹر سروسز انٹیلیجنس ہے۔

اس ادارے کی بنیاد 1 جنوری 1948 کو رکھی گئی تھی۔ اس ادارے کا ہیڈ کوارٹر بھی اسلام آباد میں ہے۔ اس ادارے کے اہلکاروں کو خصوصی طور پر آرمی٬ ائیر فورس اور بحری افواج میں سے منتخب کیا جاتا ہے۔ اس ادارے کا ڈی جی ایک تھری اسٹار پاک آرمی فوجی ہوتا ہے۔ یہ ڈی جی وزیراعظم پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے۔

اس خفیہ ادارے کے ایجنٹ پاکستان سمیت پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ ادارہ بین الاقوامی تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ اندرونی انٹیلیجنس اور بیرونی انٹیلیجنس دونوں کا کام سرانجام دیتی ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بہترین انٹیلیجنس اداروں میں سے ایک ہے۔

اسوقت اس بچے کی طرف ہاتھ بڑھاتے شخص کا نام میجر مختیار تھا جو کہ انٹیلجنس ایجنٹ کے طور پہ اس بچے کے سامنے ٹہرا تھا۔ایک مکمل اعزازی کمانڈ سنبھالے ملک دشمن لوگوں کا وار خطا کرتا ہوا شخص یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ قوم کا ایک عظیم معمار بنانے والا ہے ۔وہ بچہ جسے محظ دونوں طرف سے استعمال کیا گیا تھا انکی زندگی کا گڈلک چارم بننے والا تھا۔

تیرے انداز سے بھی ڈرتے ہیں دشمن ۔۔

تیری للکار سے پھر کیا حال ہوتا ہوگا۔۔۔

Episode 16

“حنا اور ہیری کہاں ہیں؟”

سوال بہت سادہ تھا مگر اس سوال کی توقع اسے کم از کم معروش سے نہیں تھی۔

وہ جو سوچ کے آیا تھا کہ وہ کسی جنگلی بلی کی طرح اس پہ وار کرے گی ۔اسکے جھوٹوں کے پلندوں پہ احتجاج کرے گی حیران سا اسے دیکھ رہا تھا۔

“سوال اتنا مشکل تو نہیں جو سوچنے کا وقت لیا جائے مسٹر اے۔ایچ۔”

صاف طنز چھلکاتا لہجہ ۔

“اے۔ایچ صرف میرے دوستوں کی طرف سے دیا گیا نام ہے اور کچھ نہیں ۔”

نجانے کیوں وہ صفائی پیش کرنے لگا تھا۔

“میں نے کوئی وضاحت نہیں مانگی۔حنا جانتی تھی نا تمہارے بارے آخر کون کون سے روپ لے کے آؤ گے تم کیا سمجھو میں اسے نفرت کی انتہا؟ یا انتقام کا کوئی سرا۔

آخر کون ہو تم؟ کتنے روپ ہیں تمہارے؟تیج ،ارتضٰی یا میرو ؟”

لہجے سے ٹپکتی یاسیت ارتضٰی کو شرمندہ کرگئی تھی۔

“آئی۔ایم۔سوری میں ایسا کچھ نہیں چاہتا تھا مگر یہ سب بس وقت کی آزمائش سمجھ لو جیسے وہ ہمیں لے چلا سب کچھ ویسا ہوتا گیا۔”

ارتضٰی نے ایک بار پھر کمزور سی وضاحت دی۔

“کون سا وقت کونسی آزمائش ارتضیٰ میر آزمائش اچانک آفت کی طرح ہوتی پلینگ کے ساتھ نہیں ۔مجھے لندن سے یہاں لے کے آنے کا تمہارا پلین تھا ۔یہاں آکے جان بوجھ کے تم نے ڈبل گیمز کھیلی تم جانتے تھے معروش حیات کبھی تمہاری بات ماننے کا نہیں سوچے گی۔ کبھی تمہاری من مرضی کا کچھ نہیں کرے گی تم نے مجھے ایک “پپٹ “کی طرح اپنے اشاروں پہ نچایا تم نے وہ سب کروایا جو تم چاہتے تھے۔”

وہ دھاڑتی ہوئی اسکے گربیان کو پکڑ گئی۔

” تم مجھے اکیلے کو اس سب کا زمدار نہیں ٹہرا سکتی معروش میں نے تمہیں کبھی نہیں کہا یہ سب کرو تم اپنی مرضی سے مختیار سر تک پہنچی یہاں تک آنے کا ڈسیشن تمہارا تھا۔”

ارتضٰی نے بھی مزید یہ چوہے بلی کا کھیل کھیلنے کے بجائے حقیقت اسکے سامنے رکھی تھی۔

“واقعی یہاں تک میں خود آئی مگر کیسے؟ تم نے مجھے چڑایا اکسایا مر جانے دیتے مجھے گمنام سلاخوں کے پیچھے ۔”

وہ اذیت پسند ہورہی تھی۔

یہ اذیت کم نہ تھی کہ وہ اسکے ہاتھوں استعمال ہوتی آئی ہے اسکی ضد میں وہ اپنا ضیاع کرتی آئی۔

“اتنا وویلا نہیں بنتا مس معروش حیات آج بھی آپ چاہئیں تو جا سکتی ہیں مگر اتنا یاد رکھیں ۔ایک آنریبل پروفشین میں آکے جتنی سکیور اور قابل محترم آپ رہ سکتی ہیں ایسا کریپٹو کوئین کی حثیت سے یہ سوسائٹی آپکے ساتھ کیا کرے گی آپ سوچ بھی نہیں سکتیں۔”

اسکے سامنے تلخ حقیقت کا پرچار کیا تھا۔

وہ رخ پھیرتے گومگو حالت میں ٹہری تھی ۔

“میں تو تمہاری دشمن ہوں نا پھر کیوں کررہے ہو یہ سب۔”

ایک الجھن تھی سو لبوں پہ در آئی۔

” بیوی بھی تو ہو نا بیشک کاغذی صیح۔”

آج اسکے ٹوکنے سے پہلے ارتضٰی نے اسے اسکا مقام یاد دلایا۔

“آئی کانٹ سروائیو ہیئر ۔”

اسکی بات کو اگنور کیے اپنا مدعا بیان کیا۔

“اوکے اپنا سامان پیک کرلیں یہاں آپکو کوئی بھی نہیں روکے گا ۔حیات ولا کے دروازے آپکیلئے کھلے ہیں اور ساتھ یہاں کے بھی اگر زندگی میں کبھی لگے کہ آپ اس وطن کیلئے کچھ کرسکتی ہیں تو مارخوروں کا یہ گڑھ آپکو ویلکم کرے گا۔”

ارتضٰی نے مزید کسی بحث کے اپنا فیصلہ سنایا تھا جبکہ اسکے سوالات تو ادھر ہی رہ گئے مگر وہ جانتا تھا کہ حیات ولا کے اندر پہنچتے اسے اسکے سوالوں کے جواب ملنے والے تھے۔

༻━━━━━⊱༻

“وے جٹاں دی عزت رکھیں احمدے ۔”

احمد کی باری تھی جب روحان نے پیچھے سے ہانک لگائی۔

“ہاں تم نے تو جیسے ہماری عزت رکھ لی تھی چپ کر کے بیٹھو تم لوگ۔”

واسق کو اسوقت اے۔ایچ اور روحان پہ فل تپ چڑھی ہوئی تھی وجہ وہ دونوں کوشش کے باوجود کتے کی منہ سے ہڈی نہیں چھین پائے تھے ۔

اب تینوں کی امیدیں احمد کی طرف تھیں۔

اس نے بغور رال ٹپکاتے اس فوجی ٹرینڈ کتے کو دیکھا۔

” ویرے میریا اناں کمانڈو دے چکرا نے سینوں مروا چھڈیاں اسی اپنڑی نسل پُلے تھاڈی برداری اچ شامل آں تھوڑی عزت رکھیں ۔میں کج وی نی کینا نا توں مینوں کج کہیئ اے ہڈی مینوں پھڑا دے تیری مہربانی۔”

(میرے بھائی کمانڈر بننے کے اس چکر نے ہمیں مروا دیا ہے ۔ہم اپنی نسل بھولے تمہاری برادری میں ہی شامل ہوگئے ہیں تھوڑی عزت رکھ لینا ۔میں تمہیں کچھ نہیں کہونگا اور نہ تم مجھے کچھ کہنا یہ ہڈی مجھے پکڑا دو تمہاری مہربانی۔)

احمد نے ایک نگاہ اپنے اطراف میں موجود کتے سے بھی زیادہ ۔خطرناک گھوریوں سے نوازتے اپنے دوستوں کو دیکھا۔

“ویکھ میری عزت تیرے ہتھ اے۔”

وہ کتے کے گرد گھومتا کسی کشتی بازی کے پہلوان کا منظر پیش کرتا مسلسل کتے سے باتیں کرنے میں مشغول تھا اور وہ بھی حیران سا اسے دیکھنے میں ۔جبھی احمد نے ایک چست لگاتے بنا تاخیر اسے کے منہ سے ہڈی چھینی اپنے اوپر لہراتے احمد نے اسکی اٹینشن ڈائیورٹ کی تھی۔

تالیوں کی گونج پہ واسق نے وکٹری کا نشان بنائے اسے موٹیوٹ کیا تھا۔ اے۔ایچ اور روحان بھی خوش تھے۔

اسکے بعد ایک دو اور ایکٹویٹز کروائی گئی تھیں۔چونکہ وہ چاروں پہلے ہی بلیک بلٹ ہولڈر رہ چکے تھے اسیلئے کمانڈو ٹریننگ کا وہ حصہ جہاں ان سے کہنیوں اور مکوں سے اینٹں تڑوانے کا کام لیا جارہا تھا وہ آسانی سے کرچکے تھے۔

“ویسے روحان تم نے بڑا زور لگایا تھا اینٹیں توڑتے ہوئے امجینری میں کسکو رکھا تھا ۔”

اے ۔ایچ نے آنکھ دباتے واسق کی طرف اشارہ کیا کیونکہ ان دونوں کی آجکل واسق سے بہت لگ رہی تھی ۔جبکہ احمد کبھی انکی سائیڈ تو کبھی واسق کی سائیڈ لیتا۔

“یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے دوست نما دشمنوں کو سوچتے توڑ ڈالی اینٹیں اگر ان اینٹوں کی جگہ انکی ہڈیاں ہوں تو مزہ آجائے۔”

روحان نے بھی دانت پیسے تھے جس پہ اے۔ایچ اور احمد کا بے ساختہ قہقہ ساتھ میں واسق کا کنفیوژ ہونا ۔وہ ان دونوں کے منہ نہیں لگنا چاہ رہا تھا۔

“ریگروٹ تیاری پکڑ لیں آپ لوگوں کو کچھ دن کیلئے آپکے دیے گئے راشن میں سرائیوو کرنا ہوگا اور کوئی بھی اپنا سامان دوسرے کوشئیر نہیں کرے گا ورنہ دوسری صورت میں آپکو ایکسٹرا سامان نہیں دیا جائے گا۔”

صوبیدار خالد کے حکم پہ ان چاروں کے منہ لٹکے تھے۔

“یار یہ کیا سین بجائے یہ لوگ ہمیں انسان دوست ،ہمدرد اور محبت کرنے والے بھائی چارہ قائم کرنے کے بجائے آپس میں ہی لڑوائے جارہے۔”

اے۔ایچ کو یہ احکامات بلکل پسند نہیں آرہے تھے۔جو بھی تھا دوستوں کے ساتھ شئیر کرکے کھانے میں ہی مزہ تھا جبکہ وہ جب سے آئے تھے مسلسل ایسے چیلنجز آرہے تھے جن میں ان سب کو ایک دوسرے کے اینٹی کا کام کرنا تھا۔

“تو کیا پروٹوکول چاہ رہے ہو تم ان سے؟”

واسق نے ابرو اچکائے۔

“یار توں پکا ایسا فوجی ہے جنکو عوام کھڑوس کہتے سوری ہم تیری طرح بے رحم نہیں ہوسکتے۔”

روحان کا دوٹوک جواب سنتے واسق مبہم سا مسکرایا کیونکہ اسے پتا تھا کہ بہت جلد روحان اپنے الفاظ سے پیچھے ہٹے گا۔

“جنٹلمینز یہ آپکا کوبرا سروائیول مشن ہے ایک مہینے کا جہاں آپ نے اپنے آپکو سیف رکھنا ۔وہاں آپکو آپکی ٹریننگ کے ساتھ آپکی کوتاہیؤں پہ بھی جانچا جائے گا ۔ایک لمٹڈ فوڈ سٹاک آپ لوگوں کے ہمراہ ہوگاجس میں آپکو گزارہ کرنا ہوگا۔ہوسکتا ہے آپکی ٹریننگ کا یہ دورانیہ بڑھ جائے ایسی صورت میں آپ کو بہت کچھ کرنا پڑے گا ۔بہت کچھ اسکے مطلب آپ آگے چل کے سمجھ لیں گے ۔”

تقریباً بیس سے پچیس کمانڈوز پہ مشتمل ٹرینی دستہ اپنے سازوسامان کے ساتھ تیار ٹہرا تھا جب آخری بار انسٹرکشنز دی گئی تھیں۔

“مجھے ایسے کیوں لگتا یہ ہمیں ایسے گھما رہے جیسے قربانی کے بکرے کو ہریالی دکھا کے ذبح کردیا جاتا ہے۔”

روحان نے پیشن گوئی کیونکہ تقریباً پچھلے دو گھنٹوں سے انہیں کبھی پہاڑوں اور جنگلوں سے گزارا جارہا تھا۔اب تو انہیں یہ لوکیشن ازبر ہونے لگی تھی جب اناؤنسمنٹ ہوئی۔

اور ساتھ میں ہی ہیلی کاپٹر سے انہیں نیچے کی طرف دھکیل دیا گیا۔وہ سب بکھرے موتیوں کی طرف فضا میں گررہے تھے ۔اابتدائی گراؤنڈ ٹریننگ میں انہیں پیرا سلائیڈنگ سکھائی گئی تھی مگر اتنی اونچی اوڑان احمد کے۔ہاتھ پاؤں پھولے روحان کے ہاتھ کانپ رہے تھے تبھی اسکا پیرا شوٹ کھل نہیں پایا تھا۔

اے۔ایچ اور واسق بخوبی اپنا کام کرتے ہواؤں میں تحلیل تھے ۔کافی حد تک اپنے خوف پہ قابو پاچکے تھے جبکہ روحان کو اپنی موت بلکل قریب نظر آرہی تھی۔مگر ان سب کے سیفٹی برئیرز ہیلی کاپٹر کے ساتھ اٹیچ تھے ۔

اچانک ہی اس نے خود کو اوپر اٹھتا محسوس کیا کیونکہ اسکا پیرا شوٹ بھی کھل چکا تھا۔

وہ سب اپنی پہلی اڑان بھر رہے تھے ۔بہت سے جذبوں سے سرشار اپنے آگے آنے والی ہرمشکل سے تیار ہوتے۔

تقریباً ایک گھنٹہ فضا میں رہنے کے بعد انہوں نے ایک جنگل کے قریب ہی اپنا قیام کیا تھا ۔ان میں سے کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ سب کہاں ہیں اور کتنے ناپسندیدہ کام انہیں کرنے ہیں۔چیراٹ کے یہ پہاڑ انکیلئے عظیم داستانیں رقم کرنے والے تھے۔

༻━━━━━⊱༻

کیپٹن مختیار اسے چھوڑے جانے لگا جب اس نے پھر پکار لیا ۔

“انکل پلیز مجھے میرے گھر چھوڑ دیں۔”

مختیار کو اس لڑکے سے ایک انجانی سی اپنائیت کی مہک آرہی تھی اپنے مشن سے ہٹ کے وہ اس لڑکے کی مدد کرنے میں لگا تھا۔

مگر بدقستمی نے شاید اس لڑکے کا ہاتھ تھاما ہوا تھا تبھی گھر پہنچنے پہ ایک اور دل دہلانے والی خبر اسکی منتظر تھی ۔

بچوں کے گھر سے غائب ہونے پہ وہ دونوں میاں بیوی اپنے اختلافات بھلائے انکی تلاش میں نکلے تھے مگر کراچی کی ٹریفک کے اژدھام نے انہیں نگل لیا تھا۔ اسے اپنے ماں باپ کو کھونے کا اتنا دکھ نہیں تھا جتنا اس بات کا کہ اسکا بھائی گھر نہیں پہنچا تھا وہ جسکیلئے اس نے زندگی کی بازی لگانی چاہی تھی وہیں دنیا کی اس بھیڑ میں کہیں گم ہوگیا تھا۔

اور پھر کیپٹن مختیار جو کہ شادی کے پندرہ سال بعد بھی اولاد جسی نعمت سے محروم تھےانہوں نے اسے اپنا بیٹا بنالیا ۔وہ ہر حقیقت سے آگاہ تھا پھر بھی اس نے کیپٹن مختیار کو اپنی محبتوں سے اپنا اسیر بنالیا تھا ۔اور کچھ عرصہ بعد ہی انہیں ایم۔آئی کا ڈی جی مقرر کردیا گیا اور ساتھ میں کئی اعزازات تھے جو اس بچے کے آنے سے انکے نام لگے تھے ۔ اس نے بھی دشمن کو دشمن ہی سمجھا تھا اور اپنے بھائی کا بدلہ بھی لینا تھا تبھی وہ مختیار صاحب کے نقشے قدم پہ چل نکلا تھا ۔جب اسے اپنے ایک کورس کیلئے لندن جانا پڑا تھا۔ایک دن مختیار سر کو کال آئی تھی۔

” ڈیڈ آپ یقین نہیں کریں گے کہ میں نے یہاں کسے دیکھا ہے؟”

ایکسائٹمنٹ سے بھرپور آواز پہ مختیار صاحب بھی چونکے۔

“یقیناً برخودار کو کوئی لڑکی پسند آگئی ہوگی۔”

ڈی۔جی مختیار نے ازراہ مذاق اسکی بات اُڑائی مگراسکا سنجیدہ انداز دیکھ وہ بھی تھوڑا سریس ہوئے۔

“میں نے یہاں تیج کو دیکھا ہے۔”

مختیار صاحب کیلئے یہ خبر کسی شاک سے کم نہیں تھی کیونکہ انکی کسٹڈی میں موجود شخص جو کہ انتہائی زخمی حالت میں تھا جو کسی بھی وقت اپنی آخری سانس لے سکتا تھا ۔انکا بیٹا لندن میں اسکی موجودگی کا کہہ رہا تھا۔

وہ آئی۔ایس۔آئی کا مطلوبہ شخص تھا اور ایک مشن میں اسے زخمی حالت میں گرفتار کرچکے تھے وہ انکیلئے بلکل بے فیض تھا بھلا یہ کہاں ممکن تھا۔

“یقین نہیں آیا نا مگر یہ حقیقت ہے ۔”

خوشی اسکی آواز سے چھلک رہی تھی۔اور لندن میں یہ وہی وقت تھا جب ہیری اور عائشہ سے خوفزدہ معروش نے اپنا فلیٹ چھوڑا تھا اور عائشہ کی کال سنتے اسکے فلیٹ کی طرف آتے ارتضٰی میر حیدر کا ایک جان لیوا ایکسڈینٹ ہوا ۔

اور تبھی مختیار صاحب کے لے پالک بیٹے نے اسے دیکھا تھا یقیناً وہ تیج نہیں تھا مگر وہ تیج کا روپ دھار سکتا تھا کیونکہ غیر فطری طور پہ اسکے نقوش را ایجنٹ تیج سے بہت مشہابت رکھتے تھے ۔

༻━━━━━⊱༻

روحان کمرے میں داخل ہوا سامبے ہی انوشے بیڈ کے پائنتی پہ بیٹھی ماحول سے انجان تھی جو اسکے آنے کو نوٹس ہی نہیں کرسکی۔

“کس بات کا ماتم منایا جارہا ہے ؟”

دوستوں کے درمیان ہنس مکھ رہنے والا روحان اسکے سامنے آتے ہی کسی مانسٹر سے کم نہ ہوتا تھا۔

“ہنم کچھ نہیں میں یہ سوچ رہی تھی کے۔۔”

“اوہ تو انوشے ضیاء الرحٰمن سوچتی بھی ہیں وری سٹرینج کے انکے پاس دماغ ہے ؟”

روحان نے اس کی بات اچکتے اپنے انداز میں مکمل کی تھی۔ جبکہ وہ بنا کچھ مزید بولے خفت زدہ ہوتی باہر جانے کو کھڑی ہوئی تھی ۔روحان نے اسکےارادے جانچتے درمیان میں جا لیا تھا۔

“کن کن پچھتاوں کا سوگ مناؤ گی انوشے بیبی تمہارے یہ

روگ تو ساری زندگی کے ہیں محبوب سے جدائی کا غم تمہارے چہرے پہ عیاں نظر آتا ہے۔”

روحان کی بات پہ وہ تڑتے ہوے مڑی تھی۔

“نہیں ہیں مجھے کوئی غم ،کوئی دکھ میں تو اس شخص کو بھول جانا چاہتی ہوں مگر تم مجھے بھولنے دو گے تب نا۔ ہر روز اپنے زخموں پہ مرہم رکھتی ہر روز تم انہیں کرید ڈالتے ہو پس پڑنے لگی ہے ان زخموں پہ خدا کا واسطہ ہے کیپٹن روحان میرے حال پہ رحم کھا لو۔”

بےبسی کی انتہاؤں کو چھوتی لڑکی کرب سے کراہی تھی۔

“اتنی آسانی سے معافی کسے ملتی ہے انوشے مجھے دیکھو جو روز اپنی بیوی کو ایک نامحرم شخص کے غم میں ڈوبا دیکھتا ہوں اپنے ساتھ ساتھ مجھے بھی تم سلگاتی ہوں اتنی آسانی سے تمہیں معاف کردوں تمہیں اپنے گناہوں کا حساب دوگی۔”

انتہائی سفاکیت سے کہتے اس نے انوشے کا بازو پکڑے اسے کمر سے جوڑا تھا درد کی شدت سے وہ چلا اٹھی تھی۔

“تم کون ہوتے ہو میری سزا جزا کا فیصلہ کرنے والے میرا معاملہ میرے اللّٰہ کے سپرد ہے تم کون ٹہرے خدائی فوجدار ہاں۔”

وہ اس سے بھی زیادہ اونچی آواز میں چلائی تھی۔

“ہاں میں ہوں تمہاری سزا جزا کا فیصلہ کرنے والا میں ہوں کیونکہ تمہاری وجہ سے میں نے اپنی قیمتی چیز کھوئی ہے ایک معصوم صرف تمہاری وجہ سے میں اس سے الگ ہوا ہوں ۔”

اگر اذیت میں مبتلا انوشے تھی تو اضطراب میں وہ بھی تھا ۔ اسے اپنے غم انوشے سے زیادہ لگتے تھے۔صرف اسی کی وجہ سے وہ اپنی محبت سے الگ ہوا تھا صرف اسکے ایک غلط قدم نے ان دونوں کو بکھیر گیا تھا ۔اسکا جرم ناقابل معافی تھا کم از کم روحان کے نزدیک تو جبکہ وہ نازک کلیوں جیسی لڑکی کھلنے سے پہلے ہی دن بدن مرجھا رہی تھی۔

اک گناہ میرا ما پے ویکھے، تے دیوے دیس نکالا

لکھ گناہ میرا الله ویکھے، تے او پردے پاون والا

عدل کریں تے تھر تھر کمن، اچیاں شاناں والے

فضل کریں تے بخشے جاون ، میں جے وی منہ کالے

چنگی صورت تے عاشق ھونا، کادی اے دانائی

عاشق بن تو اس سوہنے دا، جس اے شکل بنائی

༻━━━━━⊱༻

“ماڑا سنا اے کہ جو ادھر آیا ایک بار چیراٹ کینٹ کا بیرج ضرور جاتا ہے۔”

منصور جو ان کا کیمپ میٹ تھا آج ایک نیا آئیڈیا لایا تھا جسے سنتے احمد ،روحان اور ایچ جے کا سر نفی میں ہلا تھا مگر واسق کی آنکھوں میں چمکتی شرارت انہیں چونکا گئی تھی۔

“نہیں بلکل نہیں ابھی مجھے شادی کرنی میری ماں نے میرے بچوں کو گود میں کھلانا ہے ۔”

روحان نے پیچھے کو کھکستے کہا کبھی واسق اسے لے کے چل ہی نہ پڑے۔

“احمد میرا جگر گوشہ ممکن ہی نہیں کبھی میری سنگت سے انکار کرے ۔”

وہ جو پہلے اسے سہمی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا چاہ کے بھی اسکی مان بھری آواز پہ انکار نہیں کرسکا تھا ۔

ان تینوں کو آگے بڑھتے دیکھ روحان اور اے ایچ نے کافی روکنے کی کوشش کی مگر وہ واسق صدیقی تھا بلند ارادوں کا مالک ۔

سنٹر سے نکلتے سامنے ہی پیتل کے بنے مارخور کے مجسموں کو دیکھ کے واسق کو ہنسی آئی۔

اندر موجود اے۔ایچ اور روحان میں ایک بھی خصوصیت ایسی نہ تھی۔ جو وہ کمانڈو کہائے جاسکیں۔

باہر نکلتے ایک الگ دنیا تھی ہر طرف ایس ۔ایس۔جی کے مخصوص نشان کے ساتھ دیواروں پہ بحری،بری اور پاک فضائیہ کو آرٹسٹکلی ریپرزینٹ کیا گیا تھا جو یقیناً آنے جانے والوں کو بھی اپنی جانب ضرور متوجہ کرتا۔

اس سے پیچھ جائیں تو چیراٹ چوک پہ نصب دعا کے انداز میں اٹھائے ہاتھ اور ساتھ ماربل پہ کنندہ سورتیں یقیناً وہاں موجود مہم جوئیوں کو امن کا پیغام دے رہے تھے اور ساتھ میٹھا سکوائر وال تھی جہاں پہ پاکستانی ثقافت کے رنگ چھلک رہے تھے۔

ایک گھنٹے بعد وہ ساؤتھ ایشیاء کے سب سے بڑے اور لمبے ایس۔ایس۔جی زپ لائن سکائی برج جوکہ چیراٹ میں ہی واقع ہے اسکے سامنے ٹہرے تھے۔

اسلام سے تقریباً دو سے تین گھنٹے کی مسافت پہ واقع

خیبر پختون خواہ کا علاقہ چیراٹ اپنی تین خصوصیات کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے ۔جہاں دنیا بھر کے ٹورسٹ آتے ہیں جن میں پہلی اہم وجہ یہ بھی ہے کہ چیراٹ میں دنیا کی بہترین ٹاسک فورس پاکستانی کمانڈوز کا ٹریننگ سنٹر ہے جہاں پہ صف اوّل کے کمانڈوز تیار کیے جاتے ہیں۔ اسے لینڈ آف کمانڈوز بھی کہتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ بھی کہ یہاں ایشیا کی طویل ترین ژپ لائن موجود ہے جبکہ یہاں کا موسم جولائی میں بھی فروری کا منظر پیش کررہا ہوتا۔

“You are never too old for an adavnture”

احمد نے باآواز بلند ہی پارک میں داخل ہوتے عادت سے مجبور پہلا سلوگن پڑھا۔

انٹرس پہ ہی کیپشنز موجود تھیں جو آنے جانے والوں کی موٹیوشین کیلئے لگائی گئی تھیں۔

“Lets try and fly”

ساتھ ہی دوسرے درخت پہ ایک اور سلوگن تھا ۔کیونکہ یہ سارا ایریا آرمی کے ہی انڈر آرہا تھا تبھی نفاست کا خیال رکھا گیا تھا۔ کیمپ سے آتے کی ساری کثافت دور ہوچکی تھی۔

دو پہاڑوں کو ملاتی یہ ژپ لائن یقیناً ایڈونچریس تھی ۔یہ انکی کمانڈو ٹریننگ کا حصہ ہی تھی مگر وہ اتاؤلے بنے وقت سے پہلے یہ آن موجود تھے ۔

Joy,

Excitement,

Dare,

Advanture,

thirill

اپنی رائیڈ لینے کیلئے آگے بڑھتے اب کے واسق نے باآواز بلند یہ پڑھا جو کہ اوپر جاتی سیڑھیوں پہ کندہ کیا گیا تھا۔

“اے میرے توں لکھوا لو تسی لوگ سانوں فوجی گھٹ تے لونڈے باز زیادہ سمجھ رے نے۔”

(میرے سے یہ لکھوا لو کہ لوگ ہمیں فوجی کم اورلوفر زیادہ سمجھ رہے ہیں۔”

احمد نے اپنی جانب گھورتے لوگوں کو دیکھ کے واسق کے کان میں سرگوشی کی تھی۔احمد یونٹ میں فیصل آبادی جگت باز مشہور تھا جہاں اسکے پنجابی چٹکلے سب کو ہنسنے پہ مجبور کردیتے۔یہاں بھی زبان پہ کھجلی ہوئی۔

“ہمیشہ غلط ہی سمجھنا ہماری لکس پہ فدا ہورہے ہیں یہ لوگ۔”

اگرچہ واسق کو بھی کچھ عجیب لگا تھا یہ سب مگر پھر بھی اس نے اگنور کیے اپنا کنفیڈنٹ بحال رکھا تھا ۔

سامنے ہی انکو کچھ ڈاکومینٹس دیے گئے جو کہ مکمل پرفارمہ تھا احمد نے ہاتھ میں لیتے ہی پڑھنا شروع کیا۔

” یار یہ تو موت نامے پہ سائن مانگ رہے؟” کچھ ہلکا پھلکا ہوتے مذاق اڑایا مگر دوسرے ہی لمحے چونکا تھا وہ واقعی ڈیتھ سائن تھا جن پہ لکھا تھا کہ انکے جینے مرنے کے ذمدار وہ نہیں ہونگے اور ساتھ میں کسی حادثے کی صورت میں ۔احمد کو اپنا کمانڈنگ سیشن کیلئے سائن یاد آئے وہ تھوڑا سا کھسکتے پیچھے ہوا واسق اور منصور نے حیرت سے اسے دیکھا کچھ دیر بعد اونچائی لمبائی ناپنے کے بعد منصور بھی پیچھے ہٹ چکا تھا۔

واسق کو انکی حالت دیکھ غصہ آرہا تھا اسے اپنے ٹرینی کی بات یاد آئی۔

“یو آر ناٹ آ لیڈی ورئیر۔”

مگر ضبط کیے اس نے آگے بڑھتے اپناکارڈ دکھایا اور رائیڈ لی تھی ۔احمد اور منصور اسے للچائی نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔خوبصورت مناظر اسے مسحور کیے جارہے تھے ۔

“او پروا ساڈی عمر نکاح نامے تے سائن دی اے نا کہ ایتھے اپنڑی ہڈی پسلیی تڑوانڑ الی۔” احمد نے کچھ آگے ہوتے بڑی کھائیوں کو دیکھا تھا۔حالانکہ سیفٹی کا مکمل انتظام تھا پہاڑوں کی چٹانوں پہ جنم لینے والے یہ مارخور تھوڑے بزدل ثابت ہورہے تھے ۔

اپنی رائیڈ مکمل کیے جیسے ہی وہ اوپر کی چڑھان چڑھنے لگا تھا جو تقریباً دو سو سیڑھیوں پہ مشتمل تھی جہاں سے انہیں دوبارہ اپنے سنٹر جانا تھا مگر منصور اور احمد کو لینا ضروری تھا۔

۔اسکی نظر وائلن بجاتی ایک لڑکی اور بار سال کے لگ بھگ عمر کے بچے پہ پڑی تھی جو اس لڑکی کو دونوں ہاتھوں سے پکڑے اٹھانے میں مصروف تھا جبکہ وہ اسے اگنور کیے اپنے وائلن کو جوڑنے میں مصروف تھی۔

“مے آئی ہیلپ یو میم۔”

تھوڑا جھجکتے وہ اس لڑکی کی جانب بڑھا وہ جو بامشکل اپنے وائلن کو جوڑنے میں مشغول تھی گھمبیر آواز پہ اسکے ہاتھوں سے وہ وائلن گرتے پھر ٹکڑوں میں تقسیم ہوچکا تھا۔

واسق نے ایک نظر اس وائلن کو دیکھا جو دیکھنے میں بہت مضبوط نظر آرہا تھا مگر ٹوٹ کیسے گیا ؟

“اوہ سوری میری وجہ سے شاید میں اسے جوڑنے کی کوشش کرتا ہوں؟”

واسق تھوڑا شرمندہ ہوتے سیڑھیوں پہ پہ بیٹھا۔

“جناب ، تاسو ځئ ، زموږ پلار به له دې ځایه راشي که هغه زموږ خور وګوري چې له داسې بهرني سره خبرې کوي ، نو هغه به دواړه ووژني۔ “

(صاحب تم جاؤ یہاں سے ہمارا ابو آجائے گا اگر اس نے ہماری بہن کو ایسے کسی انجان سے بات کرتے دیکھا وہ ہم دونوں کو مار دے گا۔)

اس بچے کے نقوش جو کہیں سے بھی اس لڑکی سے میل نہیں کھا رہے تھے چونکا گئے ۔یہاں کے مقامی لوگوں سے اکثر ان کا واسطہ رہتا تھا۔چونکی اکثریت پٹھان تھی سوائے چند ایک کے تو اتنا چھوٹا سا فرق نبھی اس سے چھپا نہیں رہا تھا۔

“ویسام ، له دې ځایه وځه.”

(وسام چلو یہاں سے۔)

اس لڑکے نے پھر سے اسکے ہاتھ کو کھینچا ۔وہ ایک دکھ بھری نگاہ اپنے وائلن پہ ڈالے کھڑی ہوئی تھی جب دوسرے ہی پل ایک تیز ہوا جھونکا اسکی ہلکی گرفت میں دیے چہرے پہ ڈالے پردے کو ہٹایا تھا۔

میں اِس مکان کو اب چھوڑنے ہی والا تھا

کہ کھڑکیوں سے کہیں زندگی کو دیکھ لیا

مجھے پتا ہی نہ تھا حُسن کس کو کہتے ہیں

مگر وہ کیا ہے کہ ، اِک دن کسی کو دیکھ لیا ۔۔۔

واسق بنا پلکے جھپکیں اس حسین مورت کو دیکھ رہا تھا جو واقعی اپنے نام کی طرح اسکے دل پہ اپنی پہلی چھاپ چھوڑ گئی ۔ کتابی چہرے پہ مزین غلافی آنکھیں اٹھتی جھکتی پلکیں پہ ایک خوف سا سماں تھا ۔ ٹھوڑی کے خم پہ سبز رنگ کے تین نقطے اسکے سنہرے چہرے کو جلا بخش رہے تھے۔

اسکی آنکھوں کو غور سے دیکھو ۔۔

مندروں میں چراغ جلتے ہیں۔

وہ مدہوش سا ٹہرا تھا جب کسی کا کندھا اس سے ٹکرایا۔

“آہ سوری بھائی ہم زرا جلدی میں تھے۔”

دو تین شریر لڑکوں کا ٹولہ تھا واسق جیسے تخلیاتی دنیا سے واپس لؤٹ کے آیا تھا ایک نظر وہاں ڈالی جہاں ابھی وہ مجسم حسن موجود تھی اسکی حیا آلود آنکھیں واسق کو بار بار اپنی جانب کھینچ رہی تھیں۔ جبکہ وہ کب کی وہاں سے چلی گئی تھی کس سمت گئی تھی اسکا اندازہ لگانا ذرا مشکل تھا۔ وہ جو دنیا کو تسخیر کرنے کا جزبہ لیے یہاں آیا تھا پہلی بار ہی کسی کے آکٹوپس کا شکار ہوچکا تھا۔

“ایگل نیسٹ۔” واسق اور اسکے دوستوں کیلئے بہت سی نئی کہانیاں جنم دینے والا تھا ۔اس نے نیچے کو جھکتے اس ٹوٹے وائلن کو اٹھایا اور قیمتی متاع کی طرح سنبھالے آگے بڑھ گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *