Sayah Kaar by Uzma Mujahid NovelR50609 Sayah Kaar (Episode 19)
Rate this Novel
Sayah Kaar (Episode 19)
Sayah Kaar by Uzma Mujahid
” جب خلا سے سیٹلائٹ پر ہولو گرافک لہریں بھیجی جاتی ہیں تو یہ سوڈیم کی تہہ سے ٹکرا کر زمین پر ایک سکرین کا منظر پیش کرتی ہیں اور ایک ایسا نظارہ پیش کرتی ہیں جو اس قدر حقیقی ہوتا ہے کہ انسان دنگ رہ جائے گا۔ “
ارتضٰی نے بغور اسکے چہرے کے بدلتے تاثرات کو دیکھا اتنا بد دل ہوکے وہ پرینزنٹیشن دے رہی تھی کہ حد نہیں۔
اپنے چہرے پہ اسکی ٹکیں نظریں محسوس کرتے اس نے بھی گھوری سے نوازا ۔ارتضٰی کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی جسے ہونٹ مسلنے کے انداز میں اپنے ہاتھوں کی آڑ چھپایا۔
“اس ٹیکنالوجی کے ذریعے خلا سے ہولو گرافک پینٹ کی شعاعوں کو زمین کی طرف بھیج کر کسی بھی مخصوص شہر کی شکل وصورت کو مکمل طور پر بدلا جا سکے گا۔ “
اسکی حرکتیں معروش کو کنفیوژ کرنے لگی تھیں حالانکہ کانفرس روم میں موجود سب لوگ اسے ہی دیکھ رہے تھے جو آج کچھ نیا لائی تھی جو انکو سوات مشن میں کام آنے والا تھا۔
“لیکن معروش اس ٹیکنالوجی کو ہم اپنے آپریشن میں کیسے استعمال کریں گے۔”روحان کی تیوری کے بل آج ضرورت سے زیادہ نظر آرہے تھے ۔ارتضٰی نے اسے گھورا مگر معروش مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اتری تھی۔
“مئی2015ءمیں چین کے شہر یویانگ کے لوگوں نے ایک دلچسپ اور عجیب و غریب منظر کو دیکھا۔ انہوں نے دیکھا کہ شہر کے مغربی کونے پر سمندر کے اوپر بادلوں میں ایک بہت بڑا قدیم شہر آباد ہے۔ بادلوں میں بسا یہ شہر بہت وقت تک قائم رہا اور پھر غائب ہو گیا مگر اس کی بڑی بڑی قدیم طرز کی عمارتیں اور ان کا آسمان پر بادلوں میں موجود ہونا بہت سے سوالات کو پیچھے چھوڑ گیا۔
“امریکی، کینیڈین اور اسرائیلی حکومت نے باہمی تعاون سے سکائی گرافک کیلئے لیزر سیٹلائٹ تیار کئے ہیں اور انہیں پہلے چھوٹے لیول پر تجربات کے ذریعے آزمایا گیا اور پھر ہولو گرافک لیزر سیٹلائٹ تیار کئے گئے جو خلا سے مختلف زاویوں سے ہولو گرافک ٹیکنالوجی کی لہریں زمین پر بھیجتے ہیں۔یہ سیٹلائٹس زمین سے ساٹھ میل کی اونچائی پر ہوتے ہیں جو خلا کے ایک مخصوص حصے میں جہاں ان کو دکھانا مقصود ہو ایک ایسا حقیقی منظر پیش کرتے ہیں جیسے وہ حقیقت میں سامنے موجود ہوں۔۔”
اس ٹیکنالوجی کو در حقیقت سپس شو یا ہولو گرافک ٹیکنالوجی کہا جاتا ہے یا آپ اسے سکائی گرافک بھی کہتے ہیں۔ چین کے شہر پر نظر آنے والا یہ نظارا بھی اسی ہولو گرافک ٹیکنالوجی کاایک نمونہ تھا۔ جسے تجریاتی طور پر پیش کیا گیا تھا، آخر یہ سپس ہولو گرافک ٹیکنالوجی ہے کیا چیز؟ اور یہ کیسے کام کرتی ہے؟ اس سوال کا جواب جاننے سے پہلے ہمیں ایک عام ہولو گرافک ٹیکنالوجی کے بارے میں سمجھنا ہوگا کہ یہ کیا چیز ہے۔۔۔۔
“کبھی چیک کیا ہے اسکے سر میں انسانی دماغ ہی فٹ ہے نا۔”روحان نے ارتضٰی کے کان میں سرگوشی کی جو معروش کی آنکھوں سے اسکی حرکت پوشیدہ نہیں تھی۔
“تیری والی سے زیادہ فساد نہیں برپا کرسکتی۔” ارتضٰی نے جواب تیار رکھا جو کسی تیر کی طرح اسکے سینے میں لگی ۔
دانتوں کو ایک دوسرے سے سختی سے بھینچے اس نے کچھ لمحوں کی خاموشی اختیار کی ۔سب کی اپنی طرف اٹھتی نظریں اسے شرمندہ کرگئیں۔
“ہولو گرافک ٹیکنالوجی کا مظاہرہ ایک بند کمرے میں کیا جاتا ہے اور اسے تیار کرنے کیلئے سب سے پہلے اس کی 3 ڈی گرافک تیار کی جاتی ہے جسے گرین سکرین کے ذریعے ایڈٹکیا جاتا ہے اور اس کے بعد تیار شدہ ویڈیوز کو چار مختلف لیزر پروجیکٹر میں داخل کیا جاتا ہے۔ جو ایک وقت میں مل کر ایک نقطہ کی طرف اپنے اندر موجود تصویر کو داخل کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی جسم بمعہ اپنے وجود حقیقت میں سامنے موجود ہو۔”
کانفرس روم میں اب ہر شخص کی دلچسپی کا مظہر اسکی ذات اور واقعات تھے جو وہ بڑی روانی سے مختلف تصویروں کو آگے پیچھے کرتے دکھا رہی تھی۔
چونکہ یہ ایک انٹیلجنس آپریشن تھا اسیلئے اسے زیادہ وضاحتی ایکسپلینیشن کی ضرورت نہ تھی کہ یہ ٹیکنالوجی وہ آپریشن میں کسطرح استعمال کرنے والے تھے ۔ایک طرح سے” بلی کو تھیلے سے باہر لانے کیلئے” ایک سازش رچی جارہی تھی۔
اس پروجیکٹ کا نام پروجیکٹ بلیو بیم تھا جو کہ ان علاقوں میں کیا جانا تھا جہاں پہ گیا عام انسان زندہ واپس آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔خوبصورت اور قدیم تہزیب کا ورثہ رکھنے والی وادی سوات سے ملحقہ وادی پیوچار جسے “چشمہ شفا” کی وادی بھی کہا جاتا وہ مکمل طور پر ملک دشمن عناصر کے زیر استعمال آچکی تھی جسکو چھڑانے کا زمہ واسق اور اسکے ٹیم دوست لوگوں کے سر تھا۔عنقریب وہ بڑی فتح حاصل کرنے والے تھے۔
༻━━━━━⊱༻
“چھپری پبی اسٹیشن ٹو چراٹ روڈ پر واقع آخری گاؤں ہے اس کے بعد چراٹ کنٹونمنٹ بورڈ کا علاقہ شروع ہو جاتا ، یہ گاوں بختئی اور صلح خانہ کے پڑوس میں واقع ہے۔منہاج خان تقریباً دس بارہ سال سے یہاں مقیم ہے وسام کے علاوہ انکا ایک بیٹا شموئیل ہے جبکہ اسکی دوسری بیوی بھی وسام کی ہم عمر ہے پہلی بیوی کے بارے میں یہی بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے کسی آشنا کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔اسکے علاوہ گاؤں والوں کا کہنا اسکی غیر موجودگی میں بھی کچھ لڑکے انکے گھر آتے جاتے رہتے جسکی وجہ سے محلے والے انہیں کچھ اچھا نہیں سمجھتے۔”
مقامی باشندوں سے شموئیل کے نام پہ حاصل کی جانے معلومات کافی کارآمد ثابت ہوئی تھیں مگر محلے والوں کے نزدیک کی ریپوٹیشن کا سنتے واسق بے چین ہو اٹھا تھا۔
“تو کیا اسکی چوائس اتنی سستی تھی کہ بدنام زمانہ لڑکی پہ نظر جاٹہری؟” ارتضٰی نے اسکی سوچ اور حالت دیکھی تو اگلا سٹیپ خود اٹھانے کو کہا تھا چونکہ انکی ٹریننگ ختم ہونے لگی تھی اور آج کل انکا فائینل پاس آؤٹ تھا اسیلئے وہ یہاں سے جانے سے پہلے آخری بار اپنی تقدیر آزمانا چاہ رہا تھا۔
روحان کے سامنے اسکی مما کی علاقائی چیزوں کی فرمائش تھی ایسے میں وہ بھی انکے ہمراہ تھا صرف شاپنگ کی غرض سے تبھی اسکی نظر سر تاپیر ڈھکے وجود پہ پڑی ۔قابل توجہ یہ چیز نہیں تھی جو چیز اسے چونکا رہی تھی وہ تھا کلائی پہ بنا چاند کا کالا دھبہ ۔۔
“اللّٰہ نے اسے بے تحاشا خوبصورت بنایا تھا بلکل چاند کی طرح مگر پھر چاند کی طرح داغ بھی رکھ چھوڑا تھا میری بچی کے۔اگر تو کبھی زندہ ہوئی اسی داغ سے پہچان ہوگی۔”
اسکے کانوں میں ماں کی آواز گونجی ۔تو کیا کچھ کفارے ادا کرنے کا وقت آگیا تھا اور ہوسکتا ہے وہ بھی مل جائے ۔روحان کی نظر مسلسل حرکت کرتے ہاتھوں پہ تھی جو مختلف چیزیں اکھٹے کرنے میں مصروف تھے۔
“ایکسکیوزمی کیا میں آپ سے بات کرسکتا ہوں؟”
روحان کی آواز پہ اس نے اجنبی نظروں سے اسے دیکھا ایک تو یہاں یہ سمجھنا مشکل تھا کہ وہ لوگ اردو سمجھ سکتے یا نہیں۔
“میں روحان ہوں میرا مطلب ہے۔”روک تووہ اسے چکا تھا اب شش وپنج میں مبتلا تھا کہ بات کا آغاز کیسے کرے تبھی اس نے انجان نظروں سے دیکھتے خفیف سا اشارہ کیا کہ وہ اسکی بات سمجھ نہیں پا رہی ۔چونکہ واسق اپنا تجربہ بیان کرچکا تھا ایسے میں روحان تھوڑا چونکنا ہوا کیا پتا یہ لڑکی بھی وسام کی طرح اسے بیوقوف بنا رہا ہو۔
اسے مسلسل سوچوں میں گم دیکھ وہ لڑکی اپنا سامان اٹھاتے آگے بڑھ گئی جبھی روحان بھی اسکے پیچھے آیا مگر دوسرے ہی لمحے اسکے قدم ساکت ہوئے تھے۔
” ہمارے پیچھے مت آؤ روحان ورنہ وہ میرے ساتھ تمہیں بھی مار دیں گے۔” اسے تنبہی کرتی وہ گلی کے نکڑ میں غائب ہوگئی تھی۔روحان اسے دھمکی سمجھتا یا وارننگ وہ بری طرح چونکتے ہوئے وہیں سے واپس آگیا تھا ۔
جبکہ دوسری جانب ارتضٰی اور واسق لوگوں سے پوچھ تاچھ کے وسام اور شموئیل کے گھر تک پہنچ چکے تھے جبھی اندر سے آتی آوازوں نے چونکایا۔
“کون تھا وہ جس سے تم بھرے بازار میں معاشقہ چلا رہی تھی۔”خالص اردو زبان پہ وہ دونوں حیران ہوئے ۔
“راہی تھا راستہ پوچھ رہا تھا ہم جھوٹ نہیں بول رہے آپ سے۔”وہ جو کوئی بھی تھی کافی نڈر تھی تبھی آواز میں کوئی جھجک نہ تھی۔واسق کا دل ایک لمحے کو دھڑکا کہیں “وسام” توا س سب کی زد میں نہ تھی۔
“وسام ،شموئیل کدھر ہو تم اس ناپاک عورت کو تو آج میں سبق سکھاتا ہوں۔” پھر سے مرد کی دھاڑ تھی ۔ایک دم اسکا دل ہلکا پھلکا ہوا تھا کوئی اتنی آسانی سے کسی کو کسطرح اپنے دل کے اونچے مسند پہ بیٹھا سکتا تھا جتنا کہ واسق تو کیا وہ ایک دم سے اسکی خوبصورتی کا گھائل ہوا جوبھی تھا وہ لڑکی پہلے دن ہی اسکے دل میں اپنا ایک سافٹ کارنر بنا چکی تھی۔
“اب کیا کرنا چاہیئے مجھے لگتا ہے یہ وسام کی سوتیلی ماں ہوگی۔”ارتضٰی کی پرسوچ آواز پہ واسق نے ہاں میں سر ہلایا تھا۔واسق نے آگے بڑھتے دروازہ بجایا تو اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا کہ وہ کیا کرنے لگا تھا اتنا آسان تو نہ تھا دروازہ بجانا مگر دوسری طرف کا شور اتنا بلند تھا کہ انکی آواز ہی نہیں سنی گئی۔
“سن یار اتنا تو کنفرم ہوچکا وہ اسی گھر میں رہتے کافی ٹائم ہوچکا ہمیں واپس چلنا چاہئیے کل پھر واپس آ جائیں گے۔”ارتضٰی کو کچھ خاص اچھی فلینگز نہیں آرہی تھیں اس گھر کے متعلق تبھی اس نے تھوڑا سرگوشی کرتے اسکا ہاتھ پکڑا ۔واسق کی آنکھوں کی جوت ایک دم سے بجھی تھی۔
“کون ہو صاحب ؟” ساتھ والے گھر کا دروازہ کھلا تھا اور ایک خوش شکل آدمی باہر آیا۔
“جی ہمیں ابرق خان سے ملنا تھا۔” ارتضٰی نے بات سنبھالتے جلدی سے جواب دیا ۔سامنے موجود آدمی نے سر تا پیر انکا جائزہ لیا۔شکل سے کسی اچھے گھر کے لگ رہے تھے تبھی اسکا اندازہ خوشامدانہ ہوا۔
“ادھر آجاؤ یہاّں بیٹھک میں بیٹھ کے بات کرلو “کلی” ہم بھی تمہیں دے سکتے۔”اس شخص کی بات اگرچہ انہیں سمجھ نہیں آئی تھی مگر وہ دونوں ہی اسکے ساتھ اندر کو بڑھے تھے۔
“بتاؤ ابرق خان نے تم لوگوں کو کتنا پیسہ مانگا ہے۔” اس شخص کے چہرے سے ٹپکتی خباثت ان دونوں کو پزل کررہی تھی ۔وہ یہاں تک تو آگئے تھے مگر انہیں نہیں پتا تھا کہ اب آگے کیا کرنا ہے۔
“ہمیں تھوڑا طریقہ بتاؤ اس ڈیلنگ کا قیمت تمہارے انداز کی ہی ہوگی۔”واسق نے ہمت جٹاتے ہوا میں تیر چلایا۔
“قیمت ہم بعد میں بتائے گا تم کلی پسند کرلو۔” واسق اور ارتضٰی نے اس سے تھوڑا وقت لیا باہم مشورے کا اور وہ باہر جاچکا تھا۔
“کلی کیا چیز ہوسکتی ؟” ارتضٰی نے اپنی کلین شیو ٹھوڑی پہ مبہم انداز میں انگلی بجائی۔
“کچھ بھی ہوسکتا ڈرگز وغیرہ ۔”واسق نے بھی اپنا اظہار خیال کیا۔
“جو بھی ہے اتنے حساس ایریا میں ایسے کام سمجھ سے باہر ہیں اس سے پہلے کہ ہمارا کوئی فعل اسے مشکوک کرے اس سح کلی لانے کو کہو۔” ارتضٰی نے حتمی انداز اپنایا اب وہ بلکل اس بات سے انجان تھے کہ کیا ہونے والا تھا اور جو کچھ سامنے آنے والا تھا یقیناً انسانیت کی تذلیل سے کم نہ تھا۔
“آجاؤ صاحب انتظام کردیا ہے اگر تم کو دو کلی چاہئے تو بھی تم دیکھ لو۔” اسکی آنکھوں میں چکمتی لالچ ارتضٰی کا دل کیا اسکا منہ توڑ دے مگر صبر کے گھونٹ پیتے وہ دونوں اسکے ہمراہ اندر کی جانب بڑھے جہاں ایک کمرے کی کھڑکی کے سامنے ان دونوں کو لا کھڑا کیا تھا۔
کھڑکی پہ کالا پردہ ڈالا گیا تھا۔دراصل وہ اس بات سے انجان تھے کہ یہاں کے مقامی لوگ اکثر اپنی بیٹیوں کا نکاح کردیتے تھے کچھ پیسوں کے عوض کسی بھی انجان کے ہاتھ بھی اور طریقہ کار یہی تھا کہ لڑکیاں اپنے ہاتھ کالے پردے کی اوڑ سے نکالتے انہیں دکھاتیں ۔محض ہاتھ دیکھ کے ہی پسند کی جانے والی یہ رسم اکثر قبائل میں تھی اور کبھی اس چیز کا سے واسطہ نہیں رکھا گیا کہ انکی لڑکی کا مستقبل کیا بنا۔
زیادہ تر لڑکیاں دھوکا دہی کا شکار نظر آتیں جو اغوا کرکے کے آگے بیچیں جاتیں ایک طرح سے انسانی سمگلنگ ہی تھی۔ارتضٰی اور واسق کے ہاتھ پاؤں پھولے تھے وہ اس آدمی سے سوچنے کا وقت لیتے نکل آئے عموماً گراہک اسی وقت بتا دیتے تھے کہ انکو کونسا ہاتھ پسند آیا ہے اور قیمت ادا کرتے لڑکی اپنے ساتھ لے جاتے پہلی بار کچھ انوکھا ہوا تھا مگر اس آدمی نے کچھ زیادہ سوچنے کا تدد نہیں کیا تھا ۔
“تو کیا وسام بھی کسی ایسے سودے کا شکار ہوجائے گی؟” واسق کے سامنے ایک بار پھر سے چادر کی اوٹ سے جھانکتا چہرہ نظر آیا تو وہ بے چین ہواٹھا ۔ارتضٰی بھی انسانیت اور خاص کر بیٹی اور عورت کی ایسی تزلیل پہ مضحمل سا بیٹھا تھا۔
“یار ایسا تو زمائنہ جاہیلت میں ایسا ہوتا تھا کہ ایسے بہن بیٹوں کی بولیاں لگائی جاتیں۔”روحان بھی ایسا دلسوز واقعہ سنتے پریشان ہوا تھا۔جبکہ درحقیقت بنگلہ دیش کئی ایک مسلمان ممالک اس ریت کی پیروی کرتے نظر آرہے ہیں ۔مگر اپنے ملک اپنے اردگرد ہوتا یہ واقع انہیں سہما سا گیا تھا۔
“میں وسام کو خرید لاؤں گا۔” واسق کا دوٹوک جواب ان دونوں کو حیرت زدہ کرگیا۔
“بجائے اس کے کہ ہم اپنے اختیارات کا استعمال کرتے اس سب کے خلاف کوئی کاروائی کریں تم اس چیز کا بڑھاوا دے رہے ہو۔”ارتضٰی کی درشت آواز نے واسق کو بدمزہ کیا تھا اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتے یا سوچتے انہیں وہاّں سے موو کرنے کے آرڈر آگئے تھے کیونکہ انہیں اب اسپیشل سروسز کے سناۂیپرز کیلئے چن گیا تغا جنکیلئے انہیں سنائیپر ٹریننگ اسکول بھیجا جارہا تھا۔
واسق اپنا دل چیراٹ کی وادیوں میں چھوڑے جارہا تھا۔
روحان کی ادھوری تلاش اسے بے چین کیے ہوئے تھی کتنے قرض تھے جنکو ادا کرنا تھا۔ارتضٰی اپنے دوستوں کو اداس دیکھ خود بھی پریشان تھا جبکہ پہلی بار احمد کے چٹکلے بھی کسی کام نہیں آرہے تھے ۔نجانے تقدیر کے کسی موڑ پہ اسے وسام سے ملنا تھا بھی کہ نہیں۔
༻━━━━━⊱༻
“اف یو ڈونٹ مائنڈ میں آپکو ڈراپ کردوں میں گھر کی طرف ہی جارہا ہوں میں۔” وہ پارکنگ ایریا کی طرف بڑھ رہی تھی جب اسے رکنا پڑا کیونکہ ارتضٰی اسکے راستے میں حائل ہوا تھا۔
“نو تھینکس مجھے ڈراپ کروانے کی زمداری مختیار سر کے پاس ہے۔” ابھی کانفرس روم والی اسکی حرکتیں بھولی نہیں تھی جو اسکے ہمراہ چل پڑتی تِبھی جواب سے نوازے وہاں سے رخصت ہونے لگی۔
“روحان کو دی ہے زمداری مگر میرے دوستوں کے سامنے بڑی شرمندگی کا کام ہوگا اگر “میری بیوی “میرے دوست کے ساتھ جائے۔” ارتضٰی نے گویا اسکے ساتھ جانے کی اتھینٹک ریزن ڈھونڈی تھی۔
معروش نے کچھ توقف کے بعد اسکے ساتھ قدم۔بڑھائے ارتضٰی سمجھ رہا تھا کہ وہ اسکی بات سمجھ کے چل رہی مگر اسکے دماغ میں تو کچھ اور ہی چل رہا تھا۔
گھر میں داخل ہوتے ان دونوں کا سامنا لان میں موجود شام کی چائے سے لطف اندوز ہوتی حنا اور طیبہ بیگم سے ہوا ۔معروش کو اسکے ہمراہ دیکھ وہ دونوں کے بدلتے رنگ دیکھ سکتی تھی۔
“ہائے مام ہائے گارجیئس لیڈی۔” ارتضٰی نے خوشدلی سے انکی جانب قدم بڑھائے جب اسے رکنا پڑا تھا کیونکہ اسکا بازو معروش کی گرفت میں آیا تھا۔
“مجھے اس پروجیکٹ کو لے کے تم سے کچھ اہم بات کرنی ہے جو یقیناً تمہارے اور تمہارے دوستوں کیلئے ہر چیز سے زیادہ اہم ہے۔” اپنی جانب اٹھتی ارتضٰی کی سوالیہ نظروں پہ جلدی سے صفائی پیش کی۔
ارتضٰی کے لبوں سے مسکراہٹ نے جھپ دکھائی ۔وہ جانتا تھا کہ معروش کی اٹینشن میں یہ پروجیکٹ کبھی اہم نہیں وجہ اسے صرف یہاں رکنے سے ہٹانا تھا۔اور زندگی میں پہلی بار اس نے جھوٹا ہی سہی معروش کا بھرم رکھتے اسکے ہمراہ ہوا۔
وہیں طیبہ کو ایسے لگا کہ وہ انکا اکلوتا قیمتی سرمایہ۔لے اڑے گی ۔حنا نے طیبہ کے فق چہرے کو دیکھا تو تسلی کیلئے انکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ دیا۔دوستی اپنی جگہ مگر ارتضٰی سے دستبردار نہ ہونے کا فیصلہ اسے مزید ہمت دے گیا تھا۔ اب وہ دونوں ہی۔اسکے تیور دیکھ کھلی جنگ کی شروعات کا سوچ رہی تھیں اور قدرت خود بھی انہیں اس چیز کا موقع دینے لگی تھی۔
“جی تو فرمائیں غلام ہمہ تن گوش ہوتے آپکو سن رہا ہے۔”معروش کے پیچھے وہ بھی اسکے کمرے میں چلا آیا تھا اور بے تکلفی سے اسکے بیڈ پہ گرتے اسے مخاطب کیا۔
وہ کنفیوژ ہوتی ہاتھوں کی انگلیاں چٹخنے لگی تھی۔
“آبیل مجھے مار۔” کے مصداق پہ تو وہ خود ارتضٰی کو لائی تھی۔
“وہ ہم بعد میں ڈسکس کرلیں کیونکہ میں کافی تھک گئی ہوں تو۔۔۔”اسے سمجھ نہیں آئی اسے کیسے ٹالے تبھی حنا بنا اجازت کمرے میں آئی تھی ۔
“ارتضٰی آپکا پلین تھا ہمارے ساتھ لنچ کا پر تم نہیں آئے اب مام اور مجھے باہر لے کے چلیں۔” معروش ہکا بکا سی اپنی دوست کو دیکھ رہی تھی جو انتہائی بےتکلفی سے کہتے اسکے بیڈ اسکے شوہر کے برابر برجمان ہوئی تھی۔
“یہ کیا طریقہ ہے کسی کے روم میں آنے کا۔” معروش کو جب اور کچھ نہ سوجھی تو غصے سے لال پیلی ہوتی اسکے برابر آن ٹہری ارتضٰی کو بھی سچویشن کا اندازہ ہوا تھا وہ تو اسے کمرے میں نہیں آنے دیتی تھی ایسے میں حنا کا آنا یقیناً بہت برالگا تھا اسے۔
“حنا آپ جائیں میں آرہا ہوں۔”معروش کو کچھ کہنا اپنی انسلٹ کروانے کے مترادف تھا تبھی اس نے بھی حنا کو ہی کہا تھا جو اثبات میں سر ہلائے وہاں سے چلی گئی۔
“تم اپنی محبوبہ کو اپنے کمرے تک محدود رکھو اوکے گو آؤٹ فرام ہئیر۔” وہ جواسکی جانب قدم بڑھا تھا ایک دم رکا۔
“کیا چیز ہو تم معروش تمہیں کوئی رشتوں کا لحاظ ہے؟”ارتضٰی اتنی جلدی ٹمپر لوز نہیں کرتا تھا مگر اب کے اسے بھی سر پہ لگی تھی۔
“مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی ۔تمہاری مرضی پہ یہ پروجیکٹ کررہی ہوں نا میں پھر میرے سر سوار ہونے کی ضرورت نہیں۔ باہر جاؤ تمہاری گرل فرینڈ تمہارا انتظار کررہی ہوگی۔”معروش نے دونوں بازو باندھے اسے نظروّں سے دروازہ دکھایا شاید وہ بھول چکی تھی کہ ارتضٰی کو وہ یہاں خود ہی لائی تھی۔
‘مجھے ایسے کیوں لگ رہا کہ کچھ جلنے کی بو آرہی شاید کسی کا دل۔”ارتضٰی نے اسکے مقابل آتے اپنے دائیں طرف اشارہ کرتے بات کی معروش کی آنکھوں سے پھوٹتے شرارے اسے بھی محظوظ کرنے لگے تھے۔
“ارتضٰی بیٹا آجائیں اب۔”ابھی آنکھوں کے وار جاری تھے کہ طیبہ کی آواز پہ وہ باہر کی طرف بڑھ گیا۔پہلے ہی وہ اسکو کافی ژچ کرچکا تھا آج کے دن۔
༻━━━━━⊱༻
زہر دیتا ہے کوئی کوئی دوا دیتا ہے
جو بھی ملتا ہے مرا درد بڑھا دیتا ہے
کسی ہم دم کا سر شام خیال آ جانا
نیند جلتی ہوئی آنکھوں کی اڑا دیتا ہے
پیاس اتنی ہے میری روح کی گہرائی میں
اشک گرتا ہے تو دامن کو جلا دیتا ہے
کس نے ماضی کے دریچوں سے پکارا ہے مجھے
کون بھولی ہوئی راہوں سے صدا دیتا ہے
وقت ہی درد کے کانٹوں پہ سلائے دل کو
وقت ہی درد کا احساس مٹا دیتا ہے
نقشؔ رونے سے تسلی کبھی ہو جاتی تھی
اب تبسم مرے ہونٹوں کو جلا دیتا ہے
“بس کردو واسق یہ زندگی اکیلے نہیں کٹنے والی خود کو کیوں ان دیکھی راہوں کا مسافر بنا رکھا ہے جنکی منزل کا کوئی پتا نہیں ہے؟”
ارتضٰی نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا تو وہ صدیوں کی تھکن زدہ مسکراہٹ لیے مسکرا دیا تھا۔ارتضٰی نے اپنے دوست کو دیکھا جو اتنا ٹوٹنے کے بعد بھی مسکرانے کے ہنر سے آگاہ تھا۔
“بےنام راہوں کے مسافر تو ہم سب ہی ہیں مگر شاید میں اپنی زندگی کو ان پلوِں میں مقید رکھ کے سکون حاصل کرتا ہوں میرے لیے بہت مشکل ہے موو آن کرنا کم از کم اسکے معاملے میں ۔”
واسق نے انتہائی سفاکیت سے اپنی حالت کو بیان کیا جیسے وہ اپنی نہیں کسی اور کی بات کررہا ہو۔
“خیر تم سناؤ کیا چل رہا بھابھی کا کیا موڈ یار اگر وہ ہمیں تھوڑا بہت بھی اس معاملے میں گائیڈ کردیں گی یقیناً یہ مشن بہت سیکسفل ہوسکتا ۔”
اب وہ مکمل طور پہ ارتضٰی کی طرف متوجہ تھا اس نے بھی مزید اسکے زخموں کو کریدنا مناسب نہیں سمجھا اور معروش کو دی گئی وارننگز کے بارے میں بتانے لگا تھا۔
“اگر تم چاہو تو پیار سے بھی کام نکلوا سکتے ہو بس گٹس ہونے چاہیئں۔”
واسق کی شرارت سمجھتے اس نے اسے مکا جڑدیا۔
“شرم کر سنگل لوگ ایسی باتیں نہیں کرتے۔”
ارتضٰی نے اسکے ڈرائنگ روم صوفے پہ دراز ہوتے کہا۔
“آہاں تین سال سے تم جتنے ریلشن شپ میں ہو وہ بھی سب سامنے شدید سنگل کا ٹیگ لگا کے تم گھومو نا جائز ہے تم پہ۔”
واسق جانتا تھا کہ اسکے اسطرح دراز ہونے کا کیا مطلب تھا اسے ہی بیویوں والے نخرے اٹھانے تھے مطلب کے اپنے ہاتھ کی کافی اس شادی شدہ کنوارے کو دینی تھی۔
“یار یہ بہت ضرور ہوگیا تھا اگر میں اسے یہاں نہ لاتا تو مما یقینًا میری شادی کے شادیانے بجانے کو تیار تھیں اور وہ رقیب وسیاہ حنا کے ساتھ۔”
اسے ڈیٹل دیتے حنا کے نام پہ وہ خود بھی چونکا تھا جیسا وہ سوچ رہا تھا اگر ہوجاتا تو آئیڈیا برا نہیں تھا جسطرح معروش کو لے کے اس نے ارتضٰی کو ایمشونلی سہارا دیا تھا یقیناً وہ واسق کیلئے بہترین ساتھی ثابت ہوتی اور اگلے ہی لمحے اس نے بنا سوچے سمجھے واسق کے سامنے اپنی تجویز پیش کی ۔
اور بنا کسی تردد واسق اسے اپنے گھر سے دھکے دے کے نکال چکا تھا اور کافی سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔
“آج کا دور ہی نہیں کسی کا بھلا سوچنا اچھا ہی تو سوچا تھا اسکیلئے ۔”
وہ برے برے منہ بناتا وہاں سے نکل آیا تھا۔
༻━━━━━⊱༻
محفلیں لُٹ گئیں جذبات نے دم توڑ دیا
ساز خاموش ہیں نغمات نے دم توڑ دیا
ہر مسرت غمِ دیروز کا عنوان بنی
وقت کی گود میں لمحات نے دم توڑ دیا
اَن گِنت محفلیں محرومِ چراغاں ہیں ابھی
کون کہتا ہے کہ ظلمات نے دم توڑدیا
اَن گِنت محفلیں محرومِ چراغاں ہیں ابھی
کون کہتا ہے کہ ظلمات نے دَم توڑدیا
آج پھر بُجھ گئے جَل جَل کے امیدوں کے چراغ
آج پھر تاروں بھری رات نے دَم توڑدیا
جن سے افسانۂ ہستی میں تسلسل تھا کبھی
اُن محبّت کی روایات نے دم توڑدیا
جھلملاتے ہوئے اشکوں کی لڑی ٹوٹ گئی
جگمگاتی ہوئی برسات نے دم توڑ دیا
ہائے آدابِ محبّت کے تقاضے ساغر
لب ہلے اور شکایات نے دم توڑدیا
“چائےمل سکتی ہے اگر زحمت نہ ہو آپکو تو؟” آج وہ قدرے تھکا ہوا تھا اسیلئے یونیفارم اتارنے کی زحمت کیے بغیر صوفے پہ لیٹا تھا۔
اس نے ایک نظر اسکے سرخ چہرے پہ ڈالی اور آگے بڑھتے اسکی پیشانی پہ ہاتھ رکھا جہاں سخت پیشانی ٹھنڈے پسینے سے تر تھی ۔
“ہاؤ ڈیر یو میجھے اپنے ناپاک ہاتھ لگانے کی ہمت کیسے ہوئی تمہاری۔” اسکے ہاتھوں کو سختی سے جھٹکتے سیدھا ہو بیٹھا۔
“دیکھ رہی تھی کہیں ٹمپریچر وغیرہ نہ ہو۔”
انتہائی سادگی سے دیا گیا جواب تھا پھر بھی روحان بھڑکا گیا ۔
“تم ہوتی کون ہو تمہاری بلا سے میں جیوں مروں ۔”
آنکھوں سے سالم نگلنے کی کوشش کیے اس نے انوشے کو گھورا۔
“وہیں جسے ابھی آپ نے چائے بنانے کا حکم دیا۔”
انوشے کی سادگی کمال تھی وہیں روحان تیش کھاتا پاؤں پٹخے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا ۔
تھوڑی دیر بعد وہ بھی چلی آئی جہاں وہ تولیے سے سر رگڑتے بغیر شرٹ سامنے تھا ۔ کمانڈو ٹریننگ کا شاخسانہ چوڑا سینہ اسے حیا آلود کرگیا تھا وہ سرجھکائے ٹیبل پہ چائے رکھے مڑنے لگی جب روحان کی آواز پہ قدم رکے تھے۔
“اتنی ستی ساوتری بن کے کیا ثابت کرنا چاہ رہی ہو جیسے میں تمہارے بےباک ماضی سے آگاہ نہ ہو۔”
پھر سے وہیں پتھر انوشے نے اپنے بے ساختہ امڈ آنے والے آنسو کو پیتے ضبط سے جواب دیا۔
“جتنی گناہ گار میں ہوں اتنے آپ بھی ہیں ہاں مگر پارسائی کا دعویدار ہمیشہ وہی لوگ کرتے جنہیں خود پہ شک ہو۔”
صاف کھرا لہجہ اسے کہاں برداشت تھا تولیا سائیڈ پہ پھینکے درشتگی سے اسکی جانب بڑھا اس سے پہلے کے وہ اپنے حفاظتی اقدام کرتی اسے بازو سے پکڑے اپنے مقابل کیا۔
” تم سو اٹھاؤ گی میری ذات پہ جسکا زرہ زرہ گندگی سے لتھڑا ہے۔۔۔”
“انف مسٹر روحان آپ حد سے زیادہ لمٹس کراس کررہے ہیں اب۔” سختی سے اپنا بازو چھڑائے وہ روحان کو بیچ میں ہی ٹوک گئی تھی۔
“بہت سہہ لیا اور سن لیا میں نے اب ایک اور لفظ نہیں آپ کیا سمجھتے میں آپکے اس بھیک نما مصنوعی سہارے کے بغیر مرجاؤنگی بہت بڑی غلط فہمی ہے آپکی اگر میں ان لوگوں کے بغیر زندہ رہ سکتی جنہوں نے تئیس سال پال پوس کے بڑا کیا قدم قدم چلنا سکھایا تو مر میں آپکے بغیر بھی نہیں جاؤنگی۔”
اسے سناتے وہ جھپاک سے کمرے سے باہر تھی جبکہ روحان تلملا اٹھا نظر اسکی لائے چائے پہ پڑی تو اٹھاتے باہر پھینکا۔
اپنے پھینکے گئے کپ کو گھورتے گویا انوشے کے وجود آتش وآب کیا تھا ۔
ان کے درمیان موجود کشیدگی شدت اختیار کررہی تھی انوشے نے اس شخص کے سامنے جھک کے دیکھ لیا تھا وہ اپنی پروفیشنل لائف میں جتنا ویننگ تھا اور کول مانا جاتا انوشے کیلئے کسی لاوے سے کم نہ تھا ۔
