Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sayah Kaar (Episode 12)

Sayah Kaar by Uzma Mujahid

تاریک کمرے میں پھیلی زرد روشنی کمرے کو روشن کرنے میں ناکام ہورہی تھی ۔ایسے میں وہاں پہ موجود شخص کو کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا کہ کمرہ روشن ہے یا اسکی تاریکی کسی وحشت میں مبتلا کرسکتی۔

کچھ دیر بعد دروازہ کھلا اور ایک صاف ستھرے لباس میں ملبوس لڑکی اندر داخل ہوئی تھی ۔جبکہ وہاں پہلے سے موجود لڑکی نے اپنی نئی ساتھ کو دیکھا جس کا سپاٹ چہرہ کسی قسم کے تاثر سے خالی تھا۔آفیسر اسے وہاں چھوڑے واک آؤٹ کرگیا تھا۔

پہلے سے موجود لڑکی نے اتنے دن بعد حبس زدہ ماحول میں کوئی نیا بندہ دیکھا تھا اسیلئے خواہش تھی کہ وہ اس لڑکی سے بات کرے مگر دوسری کے مغرور انداز نے اسے وہیں سٹک کردیا تھا۔

“کون ہو تم اور کس جرم کی سزا میں اندر آئی ہو۔”

پہلے سے موجود لڑکی نے اپنے سامنے موجود اس لڑکی کو دیکھا تھا۔

“سیاہ دنیا کی ایک سیاہ کار ۔”

اس لڑکی نے سر جھکائے جواب دیا تھا ۔وہ اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی وہ نہیں سوچنا چاہتی تھی کہ اس نے یہاں آکے کوئی بہت بڑا کام کیا تھا مگر تیج کی ہار کا سوچتے وہ خوش تھی ۔ویسے بھی اسکا سیکرٹ اگر تیج کو پتا چلا تھا یقیناً اسکی پوری ٹیم ہوگی اور اس ٹیم میں اور کون کون لوگ ملوث ہونگے اسکے بارے کتنا جانتے ہونگے وہ نہیں جانتی تھی۔

جبکہ سامنے والی لڑکی نے اسکے عجیب وغریب انٹروڈکشن پہ کوئی تاثر نہیں دیا تھا۔

“مائی سلیف ریا،ریا دھنشور ۔”

معروش اسکا نام سنتے چونکی تھی ۔

“ہندوستانی ؟” آنکھوں میں واضع الجھن تھی پھر سے اسے ملک دشمن لوگوں گٹھ جوڑ میں لا پھینکا تھا ۔

“ہاں ہندوستانی ایک سچی دیش بھگت جو کہ ایک ایجنٹ ہے

ہندوستانی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسز ونگ (را) کی۔” اس لڑکی نے خوش اخلاقی سے کہتے معروش کی طرف ہاتھ بڑھایا جبکہ اس نے بنا کچھ بولے چہرہ موڑ لیا۔

“ہاؤ روڈ یو آر دیکھو ادھر رہنےکا تو میرے ساتھ بنا کے رکھنے کا ہاں۔” ریا کو اسکا انداز پسند نہیں آیا تبھی اپنا ہاتھ ٹھکرایا جانے کا سوچتے اسے آنکھیں دکھائیں جبکہ اس نے پھر بھی کوئی خاص رسپونس شو نہیں کیا تھا۔

شب وروز کی قید میں وہ لڑکی کئی ایک بار معروش سے فرینک ہونے کی کوشش کرتی مگر رزلٹ زیرو۔

معروش کو اکثر ایسے لگتا جیسے اس لڑکی کا مقصد ہی معروش کو ٹتولنا تھا۔

اور ایسے میں ایک دن اسے رہائی کا سندیسہ سنائے باہر بلا لیا گیا تھا۔

جبکہ معروش کے معمالے میں کسی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا جائے۔

“سر جہاں تک اس لڑکی کے کارناموں تک رسائی حاصل ہوتی اس سے یہ ثابت ہوتا اگر وہ ثابت قدم رہ کے کوئی کام سرانجام دینا چاہے تو بہت کچھ کرسکتی ۔جو اکیلے پوری دنیا کو سریبڈر کروا سکتی آپ سوچیں ہمارے لیے کتنی اہم ہوسکتی۔”

اس وقت آرمی کے کور کمانڈوز کی اہم میٹنگ تھی جنکا اہم مسئلہ معروش حیات تھی اور شاید پہلی بار ہورہا تھا کہ تمام حکام بالا اس لڑکی کی تخریقی صلاحیتوں پہ پریشان تھے اسکا بلینڈر اتنا بڑا تھا کہ بیشک وہ پاکستانی نژاد تھی مگر آئی۔ایس۔آئی سمیت پاکستان کیلئے ایک اہم مسئلہ بن سکتی تھی ۔وہ کسی طرح بھی دوسری ایجنسیوں کو اپنی انوالومنٹ پہ روک نہیں سکتے تھے اور وہ سر پھری لڑکی۔

“میرے پاس ایک کلیو ہے اسکا بلکہ حل کہوں تو زیادہ بہتر ہوگا، ہم کچھ دیر کو یہ بھی تو بھول سکتے ہیں کہ وہ مس لٹل کریپٹو کوئین ہے؟”

سامنے موجود شخص نے سوالیہ نظروں سے سب کو دیکھا آیا اسکی بات کوئی سننا چاہتا ہے کہ نہیں۔

“ہنمم کیسے؟” تھوڑا انٹرسٹ شو ہوا تو اس نے اپنی بات کنٹنئیو رکھی۔

“قدرت نے اس لڑکی میں ایکسٹرا انرجیٹک اور ڈیجٹل ورلڈ سے آگاہی رکھی ہے میرے خیال سے وہ آئی۔ایس۔آئی کیلئے ایک بہترین ڈیجٹل جاسوس بن سکتی ؟”

تائیدی نگاہ پھر سے اسٹاف پہ ڈالی جنکے چہرے بلکل سپاٹ تھے ۔

“اگر ہم اسے پاک فوج کے اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن‘ (SCO) کے حوالے کردیں تو وہ ہمارے لیے بہت فائندہ مند ثابت ہوگی۔”

سامنے موجود شخص کی باتوں میں واضع دلائل پیش کیے تھے اکثریت کی گردنیں اثبات میں ہلتے دیکھ وہ بھی مطمئن ہو بیٹھا تھا۔

جبکہ دوسری جانب موجود وہ سیاہ کار لڑکی اس بات سے انجان تھی کہ قدرت اسے کتنے عظیم مقاصد میں استعمال کرنے والی ہے شاید قسمت بھی یہی چاہ رہی تھی کہ سیاہ کاری کا یہ دھبہ اسکی قسمت سے مٹا دیا جائے۔۔۔

༻━━━━━⊱༻

“تو مس معروش حیات آپکو ہماری آفر قبول ہے یا نہیں۔”

ڈی ۔جی ایم۔آئی مختیار صاحب نے اسکے سامنے آزادی کے پروانوں کے ساتھ کچھ کڑی شرائط رکھی تھیں۔

“کیا وہ اتنی ہی نادر تھی کیا واقعی اسکا دماغ ایسا کچھ بنا سکتا تھا جو اسکے ملک کیلئے خوش آئن ہوتا ؟مگر اتنی آسانی سے وہ لوگ اس پہ ٹرسٹ کیوں کررہے تھے؟ ان سوالات کے جوابات اسکے پاس نہیں تھے مگر پھر بھی اس نے حامی بھر برحال اس تفن زدہ قید سے رہائی اچھی تھی۔

اور تقریباً ایک ہفتے کے بعد اسے آئی۔ایس۔آئی کی ڈیجٹل لیب میں لایا گیا تھا جہاں اسے ٹرائل بیسسز پہ ایک خفیہ ڈیوائس کا کام سونپا گیا تھا۔

اور کچھ دنوں کے بعد وہ اپنا پہلا پروجیکٹ لیے انکے سامنے تھی ۔

اسے پرینزنٹیشن کیلئے ایک کمرے میں لایا گیا جہاں پہ موجود افراد کو دیکھتے اسے ٹھنڈے پسینے آنے لگے مگر اسے رہائی عزیز تھی۔

“ڈیجیٹل جاسوس آڈیو ریکارڈر ایک آسان گیجٹ ہے جسے آپ کرسٹل کےواضح معیار کے ساتھ کچھ بھی ریکارڈ کرنے کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ یہ کارآمد آلہ جس سے بات چیت کو چھپ کر ریکارڈ کرسکتے ہیں اور یہ اتنا چھوٹا ہے کہیں بھی چھپا دیں اسکو ڈھونڈنا مشکل ہے ۔

اسے ایک میز ، یا قلم رکھنے والے پر رکھیں ، یا کتابوں کے ڈھیر پر اسٹیک کریں کسی کو کبھی پتہ نہیں چلے گا۔ اس کا استعمال کریں بات چیت ، کلاس بحث ، اہم ملاقاتیں ، اور یہاں تک کہ انٹرویو ریکارڈ کریں۔”

سامنے اسکرین پہ ایک چھوٹی سی چپ ڈیوائس کا لوگو بنا ہوا تھا۔

جبکہ اسکے ہاتھ میں موجود چپ واقعی سبکو حیران کررہی تھی اگر وہ اتنی ہی کارآمد چیز تھی تو یقیناً بڑے بڑے کرپٹ برجوں کو گرانے میں کام آنے والی تھی۔

“سو مس معروش حیات آپ نے یہ ڈیوائس بنائی یقیناً کوئی نام بھی سوچا ہوگا۔”

ایک سوال آیا تھا چونکہ وہاں موجود اکثریت لوگوں کے چہرے سیاہ ماسک کے پیچھے چھپے تھے اسیلئے وہ اندازہ نہیں کرسکی کہ یہ آواز کہاں سے آئی ہے۔

“ڈیجٹل سپائے ۔”

۔میرے دماغ میں تو یہی خیال آیا ہے مگر آپ لوگوں کے استعمال کی چیز ہے دین یو کین بیٹر ڈو دس۔”

اسے اب اتنے سرد ماحول سے گھٹن ہورہی تھی۔

“اینی تھنگ ایلز۔” سامنے موجود نقاب پوش نے سامعین پہ نگاہ ڈالی سب کی گردنین نفی میں ہلیں اور وہ میٹنگ اورر کیے باہر نکلے تھے۔

“گڈ ٹاسک اگر کیا ہی اچھا ہو آپ باہری دنیا میں نہ جانے کا سوچیں تو یقیناً یہ وطن اور ہم لوگ آپکی قربانیوں کو یاد رکھنے والے ہیں۔”

میجر ہمایوں کی آواز پہ اسکے قدم رکے۔اسے اب روایتی مجرموں والا پروٹوک نہیں دیا جاتا تھا اس سیل میں وہ آزادانہ گھوم رہی تھی ان سب نوازشات کی توقع وہ کبھی دنیا کی نمبر ون ایجنسی سے نہیں کرسکتی تھی مگر اسکے ساتھ ہورہا تھا۔

“تھینک یو سر مگر میں ایک نارمل انسان کی طرح جینا چاہتی ہوں۔” اسکے لہجے سے اداسی چھلک رہی تھی۔

“تو آپکا کیا مطلب ہم لوگ ابنارمل ہیں۔” میجر ہمایوں نے بے ساختہ لقمہ دیا تو اس قفس میں بھی وہ کھلکھلا کے ہنس پڑی وہی پاس سے گزرتے بلیک ماسک پہنے شخص نے تیز نگاہوں سے معروش کو دیکھا تھا۔

میجر ہمایوں سے فارمل انداز میں الوادعی کلام کہتی وہ اپنے مسکن کی طرف بڑھی تھی جب پلر کی اوٹ میں چھپا شخص اسے اپنے حلقے میں لیے پھرتی سے سائیڈ میں ہوگیا جبکہ اس اچانک آفت پہ وہ بوکھلائی ۔

“ہو دا ہیل آر یو چھوڑو مجھے۔” وہ چیختی ہوئی اس سے اپنا آپ چھڑانے لگی مگر وہاں اءسے کوئی آثار نہ تھے ۔

“آج کے بعد اس یونٹ میں کسی سے کام سے ہٹ کے بات کرتی نظر نہ آنا ۔”

سرخ انگارہ آنکھوں میں چھپی وحشت اسے دہشت زدہ کرگئی تھی۔

وہ جاتے جاتے پھر پلٹا تھا ۔

“اور ہاں اگر یہ لوگ تمہیں کوئی پروجیکٹ آفر کریں تو تم صرف مسٹر اے۔ایچ کے ساتھ کام کرنے کی خواہش ظاہر کروگی۔” ایک اور حکم صادر ہوا جبکہ وہ اس انجان شخص کی اتنی دھونس کو دیکھتے پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔

“آئی۔ایس۔آئی اسے بھلا کیوں کوئی پروجیکٹ آفر کرے گی جسکی شناخت ہی دھوکا دہی تھی؟” وہ اس سے پوچھنا چاہتی تھی مگر وہ چھلاوا وہاں سے غائب ہوچکا تھا۔

اور جلد ہی ایک منظم ماہدے کیلئے اسے آفر آئی تھی جہاں اسے سیکرٹ آپریشن کیلئے باقاعدہ ٹریننگ بھی دی جانی تھی مگر اس نے انکار کردیا۔

کسی نے بھی اسے زیادہ انسسٹ نہیں کیا وہ انکیلئے ان فیوچر بہت مفید ثابت ہونے والی تھی اسیلئے اسے پتا بھی۔ نہیں تھا کہ وہ انکے دائر اختیار میں وہاں سے آزاد ہوئی تھی۔ مگر ابھی بھی اسکا دماغ اس چیز کو جاننے میں قاصر تھا کہ اسکے ساتھ حد سے زیادہ نرمی والا معمالہ برتا جارہا ہے مگر کیوں؟ پھر سے سوچنے میں ناکام تھی۔

میرے جذبات ہیں مخفی اِک راز ہوں میں،

سرد راتوں کے اندھیروں کا سائبان ہوں میں،

مجھے پارسائی سے بڑی گھبراہٹ ہے واعظ،

کہ سیاہ کاروں کی ندامت کا نشان ہوں میں___

مختیار صاحب کی مدعیت میں اسے ایک سیف زون میں ایک اپارٹمنٹ دیا گیا تھا۔یہ ایریا اسکیلئے کتنا سیف تھا بھی یا نہیں اسے نہیں پتا تھا مگر وہ خود کو کافی ریلکس کررہی تھی ایک منتھ گزر جانے کے باوجود واپس کسی نے اس سے کنٹکٹ نہیں کیا تھا ۔اور اس نے بھی خود کو مصروف رکھنے کیلئے پھر سے بزنس سٹارٹ کرنے کا پلان کیا ۔

༻━━━━━⊱༻

دھیمے سروں میں سرکتی رات کے سناٹوں نے معروش کو بے چین کیا ہوا تھا اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے کچھ غلط سلط کھا لیا ہو۔خود کو مشکل سے سنبھالتے وہ سوئی جاگی کیفیت میں تھی جبھی کھٹکا ہوا تھا۔آج اپارٹمنٹ میں اکیلی تھی ماسی بھی چھٹی لے گئی ۔مسلسل خوف کے سائے میں تھی جبھی پھر سے کھٹکا ہوا تھا ایک انجان کیفیت کے زیر اثر وہ گم صم بیٹھی تھی ۔

مگر اس طرح خوف کھا کے بزدلوں کی طرح بیٹھ جانا بھی حل نہیں تھا اسیلئے ہمت باندھے کمرے سے باہر نکلی ۔ٹیرس سے بولنے کی آوازوں نے اسکی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی سی بھر دی تھی۔

“کک کون ہے کون ہے وہاں۔” وہ اپارٹمنٹ ہر طرح سے سیف تھا باہر اتنی ہائی الرٹ سکیورٹی مگر تنہائی کا خوف ہی اسکے رونگٹے کھڑے کر رہا تھا ۔ہمت جٹاتے ٹیرس کا دروازہ کھولا اسے لگ رہا تھا زمین آسمان کی تاریکیوں نے مل کے اس پہ حملہ کیا ہے سامنے ہی ہیری اسے استہرائیہ انداز میں دیکھ رہا تھا۔

“ہیری تت تم یہاں تت تم تو مر گئے تھے نا؟” معروش کو اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آرہا تھا۔

“اتنی آسانی سے کیسے تم دونوں مجھے مرتا چھوڑ آئیں تم کیا سمجھ رہی تھی کہ میں تمہیں ڈھونڈ نہیں پاؤنگا

کوئین۔”

سامنے موجود جیتا جاگتا بولتا وجود اسے بدحواس کرگیا ۔جلد ہی وہ خود کو سنبھالتے ٹیرس کا دروازہ بند کیے کمرے میں بھاگی تھی جبکہ ہیری نے آگے بڑھتے کوئی حرکت نہیں کی ۔سوٹڈ بوٹد ہیری بار بار اسکی آنکھوں کے سامنے گھوم رہا تھا اور پھر کلک کی آواز کے ساتھ کمرے کا لاک کھلا ۔

سامنے موجود شخص کو دیکھتے اور جھٹکا لگا اسے لگ رہا تھا بہت جلد اسکی پے درپے صدمات سے موت واقع ہوجائے گی مگر وہ معروش حیات ان پریکٹیبل اتنی جلدی ہار کیسے مان لیتی۔

“مجھے لگا میری بیوی بور ہورہی ہوگی اپنی ساتھی کے بغیر سوچا تھوڑی کمپنی دے دوں۔”

ارتضٰی کی مسکراتی آواز پہ وہ چٹخ اٹھی۔

“کیوں آئے ہو تم یہاں میں تمہارے خلاف بہت سے ثبوت آئی۔ایس۔آئی کو دے چکی ہوں جلد ہی وہ تم تک رسائی حاصل کر لیں گے بہت جلد تمہارا اصلی چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوجائے گا۔”

ابھی ہیری کی موجودگی کا خوف زائل نہیں ہوا تھا کہ تیج کی آمد مطلب وہ فوجی زون میں بھی سیف نہیں تھی۔وہ رات کی تاریکی چھٹنے کی دعا کرنے لگی تھی تاکہ وہ یہ ساری سچویشن مختیار صاحب کے سامنے رکھ سکے ۔مگر شاکس اور آفٹر شاکس اسے نڈھال کرنے لگے۔

“اوہ رئیلی !ڈونٹ ٹیل میں کہ دنیا کی کرپٹ ترین لڑکی ارتضٰی حیدر کو چیلنج کررہی ہے۔”

معروش باتوں کے ساتھ قدم بھی آگے بڑھاتے تیج کو بغور دیکھ رہی تھی جو اسکے کافی قریب آچکا تھا ۔

“ویسے تم آئی۔ایس۔آئی جوائن کیوں نہیں کرلیتی ایک مہینہ پروٹوکول کافی امپریس رہا ہوگا سنا ہے بڑے وی آیی پی اور شاطر لوگ ہیں کتنا اچھا ہو جب وریسٹ اینمی دو وریسٹ ایجنسیسز میں ہوں ۔”

ارتضٰی کا استہرائیہ انداز معروش کو بھی ابھی موجودہ سچویشن میں لانے لگا تھا ہیری اسکے دماغ سے ہٹ چکا تھا ۔ تو کیا وہ اسکی ڈی جی ایم آئی سے ملاقات کو جانتا تھا۔

“بلکل تمہاری جہاں سوچ پہنچتی وہاں ارتضٰی حیدر باذات خود حاضر ہوتاہے۔” اسکی سوچوں پہ مکمل رسائی حاصل کرتے معروش کے چہرے پہ پھونک ماری وہ تو جیسے طلسماتی دنیا سے لوٹی ہو۔

“تم یہاں کیسے مسٹر تیج میر؟” اس نے اپنی چینی جاپانی ٹائپ ناک کو ناخوشگواری سے سکوڑتے ہوئے کہا جبکہ جواب میں ارتضٰی کا بے ہنگم قہقہ پڑا تھا ۔

“اپنی بیوی سے ملنے کیلئے مجھ پہ کسی قانونی حد بندیوں کا اطلاق نہیں ہوتا اور ویسے بھی تیج تو میرا آفیشل نام ہے صرف ایک ایجنٹ کی حثیت سے کیا تم نے میر لگا کے میری پرسنیالٹی کو چارم لگا دیے ۔”

اسکے سامنے اپنی جیب سے نکاح نامہ نکال کے لہرایا اور ساتھ ہی دل کو جلانے والی مسکراہٹ چہرے پہ سجائے معروش کا ہاتھ تھاما۔جبکہ وہ غضب ناک ہوتی اس پہ جھپٹی۔

“تم یہ بلیک میلنگ نہیں کرسکتے میں اس رشتے کو نہیں مانتی تیج میر آئی سمجھ بچ کے رہنا مجھ سے معروش حیات کیا کچھ کرسکتی اچھے سے آگاہ ہو تم ۔پہلے تو میرے پاس نہ تمہاری کوئی تصویر تھی نہ اور کوئی پروف لیکن اب انٹرس کے سیکیورٹی کمروں میں یہ تمہارا دوغلا چہرہ مقید ہوچکا ہے بہت جلد تمہارا انجام سامنے آئے گا۔”

اس نے ایک ایک لفظ کو چبائے اسے دھمکایا تھا۔

“اوہ میں تو ڈر گیا او ماں۔۔ہاہاہہاہا۔”

تیج نے مصنوعی ڈرنے کے ناٹک کے ساتھ ہی قہقہ لگایا۔معروش کا دل چاہ رہا تھا کہ اسے اٹھا کے باہر پھینک دے مگر اس بلٹ مین کا شرٹ سے جھانکتا چوڑا سینہ اسے پیچھے رہینے پہ مجبور کررہا تھا ۔

“جب لوگ محبت لوٹانے کے ہنر سے ناآشنا ہوں تو معروش حیات کی طرح اپنے باقی ماندہ رشتوں کی بھی قدر نہیں جانتے خوشیاں تم سے دو قدم کے فاصلے پہ ہیں لڑکی چاہو تو ہاتھ بڑھا کے انہیں وارم ویلکم کرو اور اپنی عمر کی لڑکیوں کی طرح ایک ہیپی میرڈ لائف گزارو۔”

صاف چڑاتا انداز تھا جو صرف اسے تپانے کو ہی تھا۔

“کسی خوشفہمی میں مت رہنا مسٹر تیج کے میں اس رشتے کو آگے بڑھانے کا سوچوں گی بھی۔”

خون میں بڑھتے ہوئے فشار کے ساتھ آنکھوں سے بھی شعلے لپک رہے تھے۔

“آہا ایک حسین لڑکی کے ساتھ ایک حسیبن زندگی کا خواب بھلا کیسی خوشفہمی کڑی حقیقتیں ہیں مائی لووسٹ بیسٹ اینمی۔” وہ ارتضٰی ہی کیا جو ہار مان جائے معروش کا ٹمپر بڑھائے گویا تسکین حاصل کررہا تھا۔

اور اب کے صبر کا دامن چھوٹا تھا اس نے آگے بڑھتے تیج کو دونوں ہاتھوں سے پیچھے کی طرف دھکیلنا چاہا مگر اس نے سکونت بھرے انداز میں اسکے دونوں ہا تھ پکڑے آرام سے خود ہی اپنے سینے پہ رکھ لیے۔

معروش کیلئے اسکی یہ حرکت ناقابل یقین تھی تبھی اسکی گرفت سے اپنے ہاتھ چھڑوانے چاہے مگر وہ نازک سی لڑکی اسکا مقابلہ کہا کرسکتی تھی سوائے زبانی گولہ باری کے اسے آتا ہی کیا تھا ۔

“ہاتھوں چھوڑو میرا فضول انسان میں تمہارا منہ توڑ دونگی۔”وہ اس پہ دھاڑ رہی تھی مگر اگلے کے تاثرات سے اندازہ ہورہا تھا کہ اسے کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔

“اسیلئے تو نہیں چھوڑ رہا یہ ہاتھ یہی پہ زیادہ پیارے لگ رہے۔” نجانے اس بے ہودہ شخص کو کس بات کی خوشی چڑھی ہوئی تھی جب سے آیا تھا مسلسل ٹوتھ پیسٹ کا اشتہار بنا ہوا تھا۔معروش اسکی بتیسی دیکھ بس توڑنے کا سوچتی رہ گئ ۔

“صلح کر لو فائدے میں رہ جاؤگی یہ گیم چینجرز والی پالیسی تمہیں راس نہیں آئے گی میں تو برائے نام کرایے کا بندہ ہوں یار کونسا میرا یہ پروفیشن ہے تمہارا یہ اعتراض بھی ختم دونوں مل کے بزنس شروع کریں گے ہمارے بچے ہونگے اور پھر۔۔۔”

اس نے فضول کی ہانکتے ایک نظر معروش کے ضبط سے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا ۔جبکہ وہ تیج کے انداز پہ حیران تھی جو اتنی آسان پیلننگ کرتا اسے جیسے کیک بنانے کی ریسپی بتاتے مل کے کام کرنے کو کہہ رہا ہو۔

“مسٹر تیج آپ شاید بھول رہے ہیں ہمارے درمیان ایسا کوئی تعلق نہیں رہا کبھی جو تم اس حد تک جانے کا سوچ رہے ہو۔”ایک بار پھر سے ہاتھ چھڑانے کی ناکام کوشش کی۔

تیج نے اسکی مزاحمت کو نظر انداز ایک ہاتھ چھوڑے اسکے گرد اپنا حصار باندھا۔

“تعلق بنانے میں مشکل کہاں ہے بزنس ڈیل بنانے جاؤ تو شادی بن جاتی یے ۔”شرارت سے کہتے ایک آنکھ کا کونا دبایا تھا سارا “وزن ” بنانے پہ ڈالتے سراسر اسکا مذاق اڑایا گیا۔

“میں تمہاری فضولیات سن ہی کیوں رہی ہوں ۔” اسکی بڑھتی جسارتوں پہ معروش پزل ہورہی تھی تبھی خفت مٹانے کو رخ پھیرا اور تیج کو بھی جیسے اس پہ رحم آیا تھا اسے اپنی گرفت سے آزد کرتے اسی کے بیڈ پہ دراز ہوا تھا۔

“اب پلیز کسی تھرڈ کلاس ڈرامہ ایکٹرس کی طرح ریکٹ کرتے یہ سوال نہ کرنا کہ تم یہاں سوؤں گے ؟کیوں سوؤ گے؟ بلا بلا۔”

شوہر تھک کے سخت ڈیوٹی سے آیا ہے تو سکون کرنا چاہا گا۔ایک بھرپور انگڑائی لیتے آنکھیں موند لیں ۔معروش حیران تھی اسکی حرکتوں سے اسے یاد تھا کہ میرو کبھی بھی اتنا باتونی نہیں رہا تھا مگر وہ یقین نہیں کرنا چاہتی تھی کہ یہ وہیں دبو سا میرو ہے کیونکہ اسکے ہر انداز سے اعتماد چھلکتا تھا۔اسے پرسوچ نگاہوں سے دیکھتے کچھ کلک ہوا تھا دماغ سے وہ اگر اسے روم میں لاک کرکے مختیار صاحب کو کال کرلے تو یقیناً اس بار وہ سرخرو ہوگی۔

پہلی بار جب اس نے انہیں تیج کی موجودگی کا بتائے وہ رٹ کرنے کو کہا تھا وہ انکے پہنچنے سےپہلے ہی وہاں سے فرار ہوچکا تھا ۔وہ جو سمجھ رہی تھی ایک انڈین ایجنٹ کو پکڑوا کے وہ ان سے کوئی فیور حاصل کرے گی ناکام ہوتے جیل جا پہنچی تھی ۔ اپنی سوچوں سے باہر آتے اس نے سیل کی نگاہ میں نظر اٹھائی جو بیڈ پہ اسکے سرہانے ہی پڑا تھا ۔بڑھتے قدموں کو اسکی آواز نے بریک لگائے۔

“کوشش بھی مت کرنا معروش اس کمرے کی حدود میں جو کرو ٹھیک ہے سیل یوز کرنے کی کوشش کی مجھ سے کوئی اچھائی کی امید نہ رکھنا۔” آنکھیں بند کیے ہی وارن کرتا اپنے اوپر کمفرٹر اوڑھ گیا۔

༻━━━━━⊱༻

“اپنے اندر سے انسانوں کی ہمدردی اور صلہ رحمی کو ختم کرنے کا پہلا اصول ان پہ چل کے اپنے اندر کی نرمی کا گلہ گھونٹ دو تبھی تم ایک کامیاب انسان بن سکو گے۔پہلا اصول پہلا سبق کبھی کسی پہ ترس نہیں کرنا چاہے سامنے باپ ہی کیوں نہ ہو تمہارا مقصد عظیم ہے۔”

سترہ اٹھارہ سال کا وہ لڑکا سہمی نگاہوں سے اپنے سامنے موجود ان گنت رنگ برنگی چوزوں کو دیکھ رہا تھا جنکو روندنے کا اسے ٹارگٹ دیا گیا تھا۔

“نو آئی کانٹ ڈو دس۔” اسکی سراسیمہ آواز نے سامنے موجود افراد کو طیش دلایا تھا۔ ان میں سے ایک نے آگے بڑھتے اپنے ہاتھ میں پکڑے لہو کے راڈ سے اسکی کمر کو داغا وحشت ناک چیخوں سے ان چوزوں میں بھی کھلبلی مچی تھی جبھی اس شخص نے پھر اشارہ کیا ۔

یہ اسے تیسری بار داغا جارہا تھا اتنی اذیت کے باوجود وہ ان مرغی کے چوزوں کو مسلنے کی ہمت خود میں نہیں لاپارہا تھا مگر زخم پہ دیا گیا زخم اسے بے حال کرگیا آنکھیں بند کیے اس نے پول کی مانند جگہ پہ پاؤں رکھا چوزوں میں کھلبلی مچی تھی اور ساتھ ہی پہلا چوزہ اسکے پاؤں میں آکے مسلا گیا۔

“اب اسے دیکھو۔”ایک اور اذیت بھرا حکم اسنے لزرتی پلکوں سے نیچے کی جانب دیکھا جہاں وہ چھوٹا سا وجود آنتوں سمیت مسلا گیا تھا۔

اندھیری راتوں کے سائے میں جو شاہکار تخلیق ہو،

اہلِ حیرت___، کی نگاہ میں اسے سیاہ کہتے ہیں۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *