Sayah Kaar by Uzma Mujahid NovelR50609 Sayah Kaar (Episode 04)
Rate this Novel
Sayah Kaar (Episode 04)
Sayah Kaar by Uzma Mujahid
“تو کیسی رہی آج کی بزنس میٹنگ جہاں تک سنا ہے ملک حیات کی بیٹی کافی ملٹی ٹیلنٹڈ لڑکی ہے اور چھوٹی سی عمر میں ہی بزنس کی کافی دیکھ ریکھ کرنے والی ہے۔”
ارتضٰی جیسے ہی گھر میں داخل ہوا بابا کے سوال نے اسے گہرا سانس لینے پہ مجبور کردیا تھا۔
“اچھی رہی بابا جان ۔” یک مختصر جواب بجھا سا لہجہ مگر گوہر صاحب نے توجہ نہیں دی تھی۔
“گڈ ہوگیا بھائی اسکا مطلب کہ وہ اچھی بزنس پارٹنر ثابت ہوسکتی ہے ۔”
گوہر صاحب کی سوئی ابھی تک وہی رکی تھی جبکہ اسکے دماغ نے بھی الگ رو پکڑی اب وہ اپنے بابا کو کیا بتاتا کہ کیسے اسکے بزنس پارٹنرشپ کی ڈیل “لائف پارٹنر ” ڈیل میں کنورٹ ہوچکی تھی۔
ارتضٰی کب سے اسکی تصویروں کو سکرول ڈاؤن اپ کیے جارہا تھا قہروقضا لیے یہ گندم گوں نازک اندام غزال آنکھوں ساتھ نزاکت برساتی معصوم مثل حور سے کم نہ تھی وہ لڑکی۔
تبھی ایک تصویر پہ اسکے ہاتھ رکے ماتھے پہ بل پڑے ساتھ ہی مٹھیاں بھینچ لیں سامنے ہی وہ یقیناًاپنے بوائے فرینڈ کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے چہک رہی تھی اور ساتھ ہی اسپیشل پوز دیا گیا تھا دل میں ایک بے چینی کی لہر اٹھی تو سینہ مسلتے کھڑا ہوگیا ۔
اگرچہ اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ وہ معروش کو لے کے اس رشتے سے کوئی وابستگی رکھے گا مگر محبت کی دیوی شاید نکاح کے دو بول سنتے اسکے دل میں گھر کرنے لگی تھی۔
اسکے ساتھ ہونے والے حادثے کی خبر نے اسے بھی کافی رنجیدہ کیا تھا ایک تفکر تھا کہ وہ کیسے حیات صاحب کے بغیر سرئیواو کرے گی اپنے نکاح کی تصویر اسے فارورڈ کرتے اپنے ہونے کا احساس دلوانا چاہا مگر اسکے جواب نے ارتضٰی کو مزید ہائیپر کیا تھا۔
“مسز ارتضٰی کیوں اپنی سختی کو آواز دے رہی ہیں آپ ارتضٰی حیدر کی زندگی میں آئی تو آپ خود اپنی مرضی سے ہیں مگر جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا اب۔”
خیالوں میں اس سے مخاطب ہوتے آگاہ کیا تھا پھر اپنی سوچ پہ خود مسکرا دیا وہ جو ہر چیز میں سیلکٹو تھا تقدیر نے کیسے اسکی زندگی میں نے یقینی سی کیفیت پیدا کی تھی ۔
ہائڈ پارک میفیر، نائٹٹسججج اور نٹنگنگ ہل کی طرف سے سرحد، یہ کوئی تعجب نہیں ہے کہ ہائڈ پارک لندن کے سب سے خوبصورت پارکوں میں سے ایک ہے جہاں وہ اس وقت اپنے بابا کے ساتھ گزارے وقت کی بہترین یادوں میں ڈوبی ارد گرد سے بیگانہ تھی.
پارک کے جنوبی مشرق کونے میں گلاب گارڈ، بیئیس واٹر کے قریب اطالوی گارڈن میں موجود شخص دور سے بیٹھے ہوئے بھی اسکے چہرے پہ چھائی پرمژدگی کو دیکھ سکتا تھا اس سے پہلے کہ وہ اس سوگوار مجسم ملکہ کی جانب بڑھتا ایک مقامی لڑکا اسکے پہلو میں آٹکا تھا جسے دیکھتے اسکے ماتھے پہ ان گنت بل آئے تھے یہ وہی لڑکا تھا جسے اس نے معروش کی تقریباً ہر دوسری تصویر میں دیکھا تھا ۔
“ہیری کچھ ملا ایسا کچھ جس سے میں مسٹر اشوک کو اکسپوز کرسکوں ۔” وہ جانتی تھی کہ بہت مشکل کام تھا مسٹر اشوک کے خلاف کچھ ڈھونڈنا مگر پھر بھی وہ ہمت نہیں ہارنا چاہتی تھی۔
“سوری روش میں کچھ نہیں کرپایا تمہارے ڈیڈ کے وکیل کا کہنا ہے کہ تمہارے ڈیڈ نے اپنے لاسٹ ڈیز میں مسٹر اشوک کو اپنے سارے بزنس شئیرز بیچ دیے تھے اینڈ اس سب کے پیچھے تمہاری سٹرگل فضول ہی ہوگی۔”
وہ یک ٹک اسکے منہ سے نکلتے الفاظ کو اپنے سینے میں کسی برچھی کی طرح لگتے محسوس کررہی تھی وہ جانتی تھی کہ اسکے بابا کا جنون تھی یہ فرم مگر انکی موت کے بعد جب اس نے دوبارہ سیٹ اپ سنبھالنا چاہا پہلے دن ہی اسے ایک نوٹس تمھاتے اسکے بابا کے پارٹنر نے کمپنی سے کک آؤٹ کردیا تھا ابھی ایک حادثے سے سنبھلی نہ تھی کہ ایسی آفت اسکے پاس کوئی راستہ نہیں بچا تھا سوائے اس گھر کے۔
“ہیری میں گھر سیل کرکے وہ شئیرز واپس سے حاصل کرسکتی ہوں نا؟” اس کمپنی کو لے کے باپ بیٹی کا جنون سامنے آرہا تھا ہیری نے اسے اپنے دوست سے ملوانے کا وعدہ کیا جو اس کے شئیرز واپس کروانے میں اسکی ہیلپ کرسکتا تھا ۔خود کو حالات کے دھارے پہ چھوڑتے اس نے ہیری کے کندھے پہ سرٹکایا۔
ارتضٰی کو انکے محبت بھرے مظاہرے زہر لگ رہے تھے مگر وہ اس منہ پھٹ لڑکی سے فلحال کوئی پنگا نہیں چاہتا تھا مگر اس ہیری کی طبیعت صاف کرنے کا وہ ضرور سوچ چکا تھا کہیں اسے اپنی سوچوں پہ شرمندگی بھی ہوئی کہ وہ پہلے ہی اسے اپنے بوائے فرینڈ کا بتا چکی تھی اب بے ایمانی کی راہ پہ تو وہ چلنے لگا تھا ۔
♡♡─━━━━━⊱༻
تیج جورڈ کے دیے وقت کے مطابق مخصوص جگہ پہ پہنچ چکا تھا پندرہ منٹ کا انتظار گھنٹوں میں بدل چکا تھا مگر نہ اس نے آنا تھا نہ ہی وہ آیا وہ کھولتے دماغ سے مسلسل اس سے رابطہ کرنے کی کوشش میں تھا مگر وہ غائب ہوچکا تھا کلب، اسکے گھر اور جن جن جگہوں پہ اسکی موجودگی کا شدید امکان ہوسکتا تھا وہ ہر جگہ ہی اسے دیکھ چکا تھا مگر سب بے سود تھا اسے جورڈ کی ٹینشن تھی بھی نہیں مگر وہ اسکی گولڈن سپیرو تک رسائی چاہتا تھا اب کے سب راستے مسدود ہوچکے تھے۔
فرنگڈن میں بڑے پیمانے پر مقبول باؤنس کے پیچھے لوگ ، ان کے چنچل پنگ پونگ کے تصور کو شورڈچ پر لاتے ہیں۔ اولڈ اسٹریٹ میں زیرزمین جگہ پر قبضہ کرنے کے بعد ، یہ لوگ اپنی پہلی سائٹ کی کامیابیوں کو ایک دوسرے سماجی حب کے ساتھ نقل کر رہے تھے۔
اسوقت وہ باؤنس اولڈ سٹریٹ میں موجود کوکٹیل بار میں بیٹھا تھا جہاں اسے گولڈن سپیرو کو کھونے کا خدشہ لاحق ہوا تھا وہیں وہ “لٹل کریپٹو کوئین “سے ملنے کو پرتجسس تھا۔
اب اسکی آخری امید کریپٹو کوئین کا انتظار کیا گیا جس میں اس چیز کی کڑی شرط رکھی گئی تھی کہ لٹل کریپٹو کوئین اس سے اپنی ہاف فیس ہڈ میں ملے گی وہی مسٹر تیج نے بھی اپنی شناخت چھپانا مناسب ہی سمجھا تھا کیونکہ وہ نہیں جانتا تھا کہ لٹل کریپٹو کوئین کے ایجنڈے پیچھے کتنے لوگ شامل ہیں ۔
سیاہ لباس اور ہڈی میں ملبوس لڑکی تیج کے سامنے بیٹھی تھی وہ صرف ہونٹوں کی ہوتی جنبش سے ہی اندازہ لگا سکتا تھا کہ یہ لڑکی کتنی کے حسین ہوسکتی ہے ٹھوڑی پہ ہلکا سا سیاہ تل جو شاید عارضی طور پہ ہی بنایا گیا تھا مگر تیج کو بہت اٹریکٹو کررہا تھا۔
“کیا میں ان سے اکیلے سے بات کرسکتا ہوں”
تیج اسکے ساتھی سے مخاطب ہوا تھا اس شخص نے الجھن بھری نگاہوں سے ایک نظر لٹل کریپٹو کوئین پہ ڈالی اور دوسری اپنے کسٹمر کو انہیں یہ انسٹرکشنز دی گئی تھیں کہ وہ ہمیشہ لٹل کریپٹو کی ایکٹوٹی پہ نگاہ رکھے اسیلئے اس نے نفی میں سر ہلا دیا تھا۔
“Eddie, vas-y et asseyez-vous. Peut-être que notre client n’échoue pas facilement. N’oubliez pas pourquoi nous sommes là. En cas d’échec, nous n’obtiendrons pas le pardon du patron. “
ایڈی تم سامنے جا کے بیٹھو شاید ہمارے کسٹمر ایزی فیل نہیں کررہے ہے مت بھولو کہ ہم یہاں کس مقصد کیلئے ہیں ناکامی کی صورت میں ہم دونوں کو باس سے بخشش نہیں ملے گی۔”
وہ اس سے دوسری زبان میں مخاطب تھی اسیلئے تیج کیلئے سمجھنا مشکل تھا کہ وہ اپنے ساتھی کو کیا کہہ رہی ہے ۔
مگر اسکے بولنے کا اثر یہ ہوا تھا کہ وہ ان سے تھوڑا ہٹ کے بیٹھا تھا ۔
“جی سر آپکو میں بتانا چاہونگی وہ دن دور نہیں جب ’ون کوائن‘ دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بن جائے گی اور دنیا میں کسی بھی مقام سے لوگ مالی ادائیگیوں کے لیے اس کرنسی کو استعمال کر سکیں گے۔”
ایک پروفیشنل کی طرح وہ اسے جال میں پھنسانے کو اپنی زبان کے جوہر دکھانے لگی تھی۔
” دراصل کرپٹو کوائن ’بِٹ کوائن کا قاتل‘ ثابت ہو گا اور ’دو سال بعد کوئی بِٹ کوائن کا نام بھی نہیں لے گا اسیلئے کئی ایک لوگ ہمارے اس مشن کا حصہ بنتے ہوئے سرمائیہ کاری کررہے ہیں آپ جیسے انٹیلجنٹ بزنس مین کیلئے یقیناً یہ ایک بہترین پلیٹ فارم ثابت ہونے والا ہے۔”
چرب زبانی کی مہارت پہ عبور حاصل کیے وہ اسے قائل کرنے لگی تیج کو سمجھ آرہا تھا کہ وہ کیوں دن بادن لوگوں میں مقبولیت حاصل کررہی تھی اور ہر دفعہ نیا شکار نئے منصوبے کے ساتھ وہ اپنی زبان کی مہارت سے کمانے لگی تھی۔
درجنوں دیگر ممالک میں بھی لوگوں نے چار ارب یورو کے بٹ کوائن خریدے۔ ان ممالک میں پاکستان سے لے کر برازیل، ہانگ کانگ سے لے کر ناروے اور کینیڈا سے لے کر یمن تک کے ممالک شامل تھے، یہاں تک کے فلسطین بھی۔
وہ اسکی سوچ سے بھی آگے کی دنیا کی طرف بڑھ رہی تھی۔”میں کیسے یقین کرلوں مس کہ یہ کریپٹو کرنسی کی ہی کمپنی ہے کوئی بلاک چین۔” اس نے پرت کا پہلا پتہ پھینکا تھا۔
“لٹل کرپٹو نے چونکتے ہوئے اسے دیکھا وہ تین سال سے ہی اس فیلڈ میں تھی مگر اسکی سب باتوں کے بعد کسٹمر کی ایک بات ہوتی تھی “ہم اتنے یورو ،اتنے پاؤنڈ اگر انوسٹ کریں کیا پروفٹ ہوگا ؟ یاپھر ہمیں یہ ڈیل منظور ہے” جیسی باتیں سننے والی لٹل کرپیٹو کوئین کو کچھ انہونی کا احساس ہوا تھا مگر وہ سر جھٹکے اس سے دوبارہ متوجہ ہوئی تھی۔
“سر میرے خیال سے آپ کافی خوشقسمت انسان ہیں جنہیں یہ اعزاز مل رہا ہے یقیناً آپ ہماری ویب سائٹ چیک کرچکے ہونگے مگر پھر بھی میں آپکو یہ بتانا چاہونگی کہ۔۔۔ون کوائن والے اس قسم کی معلومات کو منظر عام پر نہیں لانا چاہتے جس کی وجہ یہ ہے کہ اس مقام پر کوئی گڑ بڑ نہ ہو جائے جہاں یہ بلاک چین رکھا ہوا ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ون کوائن کی ایپ کے لیے بلاک چین کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یوں ہماری بلاک چین ٹیکنالوجی دراصل ایک ایس کیو ایل سرور کی شکل میں ہے جس کے اندر ڈیٹا بیس موجود ہے۔”
وہ پھر سے شروع ہوچکی تھی تبھی تیج نے وہی بیٹھے اپنا منی لیپ ٹاپ آن کیے” ٹن تھاؤزنڈ یور” انوسٹ کیے تھے
وہ جانتا تھا کہ سامنے بیٹھی لڑکی صرف ایک ٹریپ ہے اصل جالسازکوئی اور تھا وہ چاہتا تھا تو اس لڑکی کو بیٹھے فاش کردیتا مگر وہ اسکی حدود دیکھنا چاہتا تھا کیونکہ اب اسے بھی اس کھیل میں مزہ آنے لگا تھا ۔
جبکہ وہ اس خبطی انسان کو دیکھ رہی تھی جو پہلی ہی بار میں تقریباً پاکستانی بیس لاکھ ایک اندھی گیم میں انوسٹ کررہا تھا اسکا مشن لوگوں کو بیوقوف بنانا تھا مگر ایک انڈین سے پیسے بٹورتے اسے ہلکا سا دکھ ہوا کیوں اسکی وجہ اسے خود بھی معلوم نہیں تھی۔
“تھینک سر یقیناً ایک ویک میں آپکو آپکی رقم پروفٹ کے ساتھ ملنا شروع ہوجائے گی ۔” وہ اس سے ہاتھ ملاتے کھڑی ہوگئی تھی مگر اسکے ہاتھوں پہ اس شخص کا دباؤ بہت بڑھ گیا تھا۔
سیاہ کار سیہ رو خطا شعار آیا
تری جناب میں تیرا گناہ گار آیا ۔۔۔۔۔
“جلد ہی ملیں گے لٹل۔۔۔مس “تیج نےمعنی خیز جملے میں بات ادھوری چھوڑی تھی جبکہ وہ جانتی تھی کہ اس نے تیج سے دوبارہ کبھی نہیں ملنا ایک کلائنٹ کو ایک بار کنگال کیا اسکے بعد پیچھے مڑ کے دیکھنا “لٹل کریپٹو کوئین” کی سرزشت میں نہ تھا۔
“یہ جال تھا آج کی ڈیجٹل دنیا کا جہاں انوسٹر محض ہندسوں کی تبدیلی پہ خود کو امیر امراء سمجھنے لگتے تھے مگر پہلی بار یہ ہندسوں کا جال ان جالسازوں کے گلے پڑنے والا تھا ۔
بزعمِ عقل یہ کیسا گناہ میں نے کیا
اک آئینہ تھا، اُسی کو سیاہ میں نے کیا
یہ شہرِ کم نظراں، یہ دیارِ بے ہنراں
کسے یہ اپنے ہنر کا گواہ میں نے کیا۔۔۔
♡♡─━━━━━⊱༻
پاکستان سے اسکی سٹپ مام کی کال آئی تھی جو اسے واپس بلا رہی تھیں تاکہ وہ اپنے باپ کی جائیداد کی وارث قرار دی جاسکی دوسری صورت میں وہ سب کچھ ٹرسٹ میں چلا جانا تھا مگر شک اور نفرت کا بیج اتنا گہرا تھا کہ صرف انکی سن کے اس نے کال بند کردی تھی۔
“مارو اس طرح آنکھیں بند کرلینے سے کیا حقیقت چھپ جائے گی کب تک بھاگو گی اپنے اصل سے بہتر ہے کہ ہم لوٹ چلیں اس سے پہلے کہ مزید کوئی نقصان برداشت کرنا پڑے ویسے بھی میں کچھ دنوں تک واپس جارہی ہوں ایسے میں تم اکیلے۔۔۔”
حنا کے لہجے میں اپنی اکلوتی دوست کیلئے فکر نمایاں تھی مگر اسوقت وہ عقل استعمال کو بلکل تیار نہ تھی۔
“تمہیں جانا بھی چاہیئے حنا مگر میرا وہاں کوئی نہیں اسیلئے مجھے یہی زندگی گزارنے کا سوچنا ہے اور میں اتنی آسانی سے اپنے بابا کی فرم نہیں چھوڑ سکتی ۔”
اسکی سوئی وہی پہ اٹکی تھی تبھی ہیری کی انٹر فئیرنس نے اسے بے مزہ کیا تھا۔
“روش چلو میں تمہیں اپنے دوست سے ملواؤ وہ باہر ہمارا انتظار کررہا ہے۔ “
ہیری اسکا ہاتھ پکڑے رہ گیا جبکہ حنا تلملا کہ رہ گئی اسے خدشہ تھا کہ کہیں وہ ہیری کے ہاتھاپنا نقصان نہ کروا لے تبھی اچانک سے دماغ میں کچھ کلک ہوا تھا ایک سوچ کے آتے ہی وہ اسکے روم کی طرف بڑھی جہاں اسے تھوڑی سی محنت کے بعد اپنی مطلوبہ چیز مل گئی تھی ۔
برائڈل نیم، معروش حیات ساتھ میں اسکا کنٹیکٹ نمبر تھا اور گروم کے نام پہ وہ بری طرح چونکی مگر ضروری تو نہیں تھا کہ دنیا میں اس نام کا ایک ہی شخص ہو ۔
وہ سر جھٹکتے اسکا کنٹکیٹ نمبر سیو کرنے لگی مگر اسے نہیں پتا تھا کہ کہ یہ نمبر اسکیلئے اب کسی کام کے نہیں رہنے والا تھا۔
