Sayah Kaar by Uzma Mujahid NovelR50609 Sayah Kaar (Episode 07)
Rate this Novel
Sayah Kaar (Episode 07)
Sayah Kaar by Uzma Mujahid
خرچ لمحوں میں، تیرے دست کشادہ سے ہوئے
کتنی صدیوں کی مشقت سے کمائے ہوئے ہم..
فلہم ریور سائیڈ، دو بیڈروم مشتمل یہ اپارٹمنٹ اسکیلئے ایک محفوظ پناہگاہ تھی ۔ مغربی لندن میں آخری کچھ سمندری مقامات میں سے ایک ، فلہم ریورسائڈ نے ان حیرت انگیز وستا کو کچھ انتہائی تخیلاتی فن تعمیر کے ساتھ ساتھ ، SW6 میں لایا ہے۔ 10 واٹ فال کی خصوصیت والے خوبصورت مناظر والے باغات میں ، فولم ریورسائڈ ایسے مصروف پیشہ ور افراد کے لئے تیار کیا گیا ہے جو لندن میں دباؤ کے ساتھ طویل سفر سے بچنے کے خواہاں ہوتے ہیں زیر زمین پارکنگ اور 24 گھنٹے دربان خدمت رہائشیوں کے لئے صرف دو خدمات دستیاب ہیں۔ دوسری سہولیات میں ایک نجی جم اور ایک ندیوں کے کنارے کیفے شامل تھے۔
وہ مبہوت سی سامنے کے مناظر میں کھوئی فلحال کے تمام واقعات سے مبرا ہوئی بیٹھی تھی۔
“کریپٹو ” ایلس کی آواز پہ بھی وہ چونکتے ہوئے سیدھی ہوئی۔
“ڈاکٹر جان آچکے ہیں گڈ لک ٹو یو ۔”
اس گڈ لک کے پیچھے چھپے الفاظ سے وہ بخوبی آگاہ تھی جزب کے عالم میں آنکھیں موندے ایک آزاد سانس فضا میں خارج کی کیونکہ وہ اب ایک نئی تخلیقی دنیا کا حصہ بننے جارہی تھی کانوں میں تالیوں کی گونج اور شورش تھا جس نے اسے مسکرانے پہ مجبور کردیا۔
وہ دنیا سے وہ سب کچھ چھین چکی تھی جنہوں نے مل کےا سے لوٹا تھا۔
“نالج،پاور اینڈ منی دیٹس میک یو سکسسفل لیٹس گو آوارم بلوم فار آ کرئیٹر مس لٹل کریپٹو کوئین ۔”
ہال میں گونجتی ایلس کی آواز پہ بھرپور تالیوں سے اسکا استقبال کیا گیا تھاآج وہ اپنی زندگی کا سب سے بڑا داؤ کھیلنے جارہی تھی جسکے بعد اس چین کی ہر لڑی نے بکھرنا تھا ۔
“ون کوائن از آلائف چینجر وی آر گوئنگ ٹو کریٹ آ ہسٹری ان دا ڈکشنری آف دا ورلڈ”
“کریپٹو کرنسی ون کوائن” کی تعریف اور فوائد بیان کرتے وہ طنزیہ نظروں سے سامنے موجود لوگوں کو دیکھ رہی تھی ۔ وہی تیج سامنے موجود نشستوں پہ ہکا بکا اسے سن رہا تھا کیونکہ وہ معروش حیات نہیں تھی آج پہلی بار وہ اسے ہڈی کے بغیر میک اپ سے لبریز ڈارک لپ اسٹک لگائے جدید مغربی لباس میں دیکھ رہا تھا۔
“تو کیا وہ بھٹک گیا تھا؟ اسکو لٹل کریپٹو کے معروش حیات کی مہر دینے والے لوگوں نے ورغلا دیا تھا؟
غصے اور طیش میں ماتھے پہ ابھرتی رگیں اسکے ساتھی کو بھی اوبہام میں ڈال گئی۔
ایک بار پھر سٹیج پہ موجود ادائیں دکھاتی لڑکی کو دیکھا ٹھوڑی پہ موجود بلیک مول کو دیکھنا چاہا مگر اتنی دور سے کوئی بھی اندازہ لگانے سے قاصر رہا تھا۔
تیج کو اس بات میں کوئی انٹرسٹ نہیں رہ گیا تھا کہ وہ کون تھی اور کیا بول رہی ہے مگر اسکا دماغ تیزی سے تانے بانے بننے میں مشغول تھا وہ ایک بار پھر اسے چکمہ دے کے جاچکی تھی۔
جسکے بعد 1.4 ملین لوگوں نے جنکا تعلق تقریباً 175 ممالک سے تھا اپنا پیسہ بڑھانے کے لالچ میں اندھا دھند انوسٹمنٹ شروع کردی جسکی مالیت چار بلین ڈالر تھی جلد ہی یہ چیز سکیم ثابت ہوئی جو دنیا کی ہسٹری میں نہیں ہوا تھا وہ مس لٹل کریپٹو کوئین کرچکی تھی اور ایف بی آئی کی طرف سے وانٹڈ لسٹ میں ڈالے جانے کے بعد اس نے اپنے لیے ایک محفوظ مقام ڈھونڈ رکھا تھا۔
جب تک لوگوں کو سمجھ آیا کہ یہ ایک فراڈ تھا اور ایسی کوئی کریپٹو کرنسی تھی ہی نہیں یہ صرف ایک نظروں کا دھوکا ہے اور لوگوں کو جو پرافٹ انکی ویب سائٹس پہ دکھایا گیا تھا وہ کچھ بھی نہ تھا۔
یہ ایک باؤنزی اسکیم تھی جس کے شروع میں لوگوں کو انکے ہی پیسوں سے ہی پرافٹ دیا جاتا رہا ۔ “لٹل کریپٹو کوئین ” کا دور دور تک کریپٹو کرنسی سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا۔
کچھ ہی دیر بعد وہ اپنے اپارٹمنٹ سے نکلتی سامنے سی سائیڈ پہ آچکی تھی کچھ دیر بعد اس نے پولیس اور ایمبولینس کی گاڑیوں کے سائرن سنے جنکا رخ وہ اپارٹمنٹ تھا جہاں سے معروش حیات نے قدم باہر نکالے تھے۔
༻━━━━━⊱༻
زرا یاد کر میرے ہم نفس میرا دل جو تم پہ نثار تھا
وہ ڈراڈراسا جو پیار تھا تیرے شوخ قدموں کی دھول تھی
سامنے پروجیکٹر پہ چلتے مناظر سے نابلد اسکی ذہنی رو کہیں اور تھی جن آنکھوں میں وہ خوف کی پرچھائیاں دیکھنا چاہتا تھا جس لہجے کی دھاڑ کو وہ کمزور دیکھنا چاہتا تھا وہ کرچکا تھا مگر پھر یہ بے چینی کا غلبہ یقیناً اسے کھو دینے کا ڈر تھا وہ معروش اور لٹل کوئین کے مابین کنکشن جوڑنے میں ناکام ٹہرا تھا اسے یقین تھا کہ اب تک وہ معروش حیات سے ہی ملتا رہا ہے تو کیا فرنٹ اور بیک اپ پہ دو لڑکیاں رکھی گئی تھیں ؟
اب کے معاملہ بہت گھمبیر ہوچکا تھا بات چھوٹی موٹی واردتوں سے بڑھ کے ورلڈ وائڈ سکیم کم کرائم زیادہ بن کے ابھری تھی ایسے میں معروش کا اس گروہ سے کوئی بھی کنکشن معروش کے ساتھ اس سے وابسطہ لوگوں کیلئے بھی مسئلہ کھڑا کرسکتا تھا ۔
“سر آر یو اوکے ؟” اسکے اسسٹنٹ نے تھوڑا اسکی طرف جھکتے ہوئے دریافت کیا کیونکہ اسوقت وہ ہوکسٹن میں موجود تھے کریپٹو کوئین کے کیس کو لے کے مشرقی لندن کا یہ سابقہ صنعتی علاقہ کبھی لندن کی سستی لباس کی صنعت کا مرکز تھا ۔
“تو مسٹر تیج چونکہ آپکے کنٹری کے لوگ بھی اس فراڈ کا شکار ہوچکے ہیں اس سلسلے میں آپکی ہیلپ بھی ہمارے لیے اہم رہے گی۔”
ایک آفیسر نے پروفیشنل سمائل پاس کرتے اسے بھی اپنے ساتھ رگیدا ۔
“شیور سر آئی ول ٹیک بیک اپ سپورٹ ۔”
ان میں چند ایک لوگ ہی تیج کے کام کرنے کے اسٹائل سے واقف تھے جو کہ ایک پرائیوٹ ایجنٹ کے طور پہ اکثر اوقات انکے ساتھ کام کرتا دکھائی دیتا تھا۔
“دعا ہے کہ معروش حیات کہ آپ صرف سٹریٹ کرائم تک محدود رہی ہوں۔”
ناچاہتے ہوئے بھی اسے اسکی پرواہ ہوئی تھی یا شاید دل ان خدشات کو ماننے سے انکاری تھا کہ وہ اتنا کچھ کرسکتی ہے۔
آئی۔ایس۔آئی سے لے کے دنیا کی تمام انٹیلی جینس ادارے اس کیس کو لے بہت سنجیدہ نظر آرہے تھے جن میں تیج کو بھی شامل کیا گیا ۔
اسکی پریشانی کا سرا معروش تھی اس سے پہلے کہ وہ بے وقوف لڑکی کسی اور ہاتھ چڑھے اس اس تک پہنچنا تھا تبھی دماغ کے گھوڑے دوڑائے اسکی موجودگی کی پوسبلٹیز سوچنے لگا مسئلہ اسکی سوچ سے بھی زیادہ گھمبیر ہوچکا تھا ۔
༻━━━━━⊱༻
“آج میں نے اسے دیکھا تھا مجھے یقین ہے کہ وہ اسی ٹاؤن میں ہے۔” ارتضٰی پرجوش انداز میں اسکے سامنے بیٹھا تھا حنا کے دل میں جلتی مشعل جیسے ہوا کے تیز جھونکے سے ٹمٹماتی ہوئی بجھی تھی۔
“آپکو یقین ہے ۔۔مم میرا مطلب ہے آپکا وہم۔ہوسکتا ہے وہ بھلا کیسے یہاں ہوسکتی جبکہ ہیری کے قتل کے جرم میں چھپتی پھر رہی ہے۔”
اپنے تاثرات پہ قابو پاتے وہ جلدی سے بولی مبادہ ارتضٰی کی ذہین آنکھیں اسکے اندر ہونے والی کشمکش سے آگاہی حاصل نہ کرلیں۔۔
“ایک سراب کے پیچھے کیوں بھاگ رہے ہو بیٹا ” اندر داخل ہوتی ارتضٰی کی ماں نے ایک طنز کا تیر چھوڑا۔
“کونسا سراب مما وہ میری بیوی ہے اور میں اسے ہر روز ہی ڈھونڈو گا ۔” آواز کی پختگی اور رشتے کا مان اسکے لہجے میں آن سمایا تھا۔
“وہ صرف تمہاری ایک غلط فہمی ہے ارے جو لڑکی اپنی بیسسٹ فرینڈ کومرتے ہوئے چھوڑ کے جاسکتی تم اس سے کونسی وفاؤں کی امید لیے پھرتے ہو نجانے کہاں کہاں منہ کالا۔۔”
“مما پلیز اب آپ حد کررہی ہیں ۔” معروش کے خلاف زہر اگلتی زبان اگر اسکی ماں کی نہ ہوتی تو یقیناً وہ ہر حد سے گزر جاتا۔
ارتضٰی نے اسکی گاڑی کا نمبر نوٹ کررکھا تبھی معلومات لینے کی سردھڑ کوشش میں لگا تھا اور جلد ہی امید کا سرا اسکے ہاتھ آ ٹہرا ۔
اس نے حیرت زدہ ہوتے اپنے سامنے موجود ارتضٰی حیدر کو دیکھا وہ اسکی سوچ سے بھی زیادہ شاطر شخص نکلا جو اس تک پہنچ چکا تھا۔
“تم کیوں آگئے یہاں ۔”پریشانی چھلکاتا انداز ارتضٰی کے چہرے پہ مسکراہٹ بکھیر گیا۔
“مسسز ارتضٰی حیدر یقینی طور پہ آپکو لینے۔” اس نے قدم اسکی جانب بڑھائے معروش نے دروازہ پھر سے بند کرنا چاہا مگر ارتضٰی نے جیسے اسکی سوچ تک رسائی حاصل کی ہوتبھی اپنا بایاں پاؤں دروازے میں پھنساتے اسکی کوشش ناکام بنائی۔
