Sayah Kaar by Uzma Mujahid NovelR50609 Sayah Kaar (Episode 05,06)
Rate this Novel
Sayah Kaar (Episode 05,06)
Sayah Kaar by Uzma Mujahid
ہیری کی مد میں معروش کو اپنے گھر کا ایک اچھا گاہک مل چکا تھا مگر پھر بھی وہ ددن بدن قیمت بڑھاتےشئیرز خریدنے میں ناکام ہوچکی تھی۔
ایسے میں ہیری اسے اپنے کچھ اور دوستوں سے ملوانے لایا جنکے بقول وہ اسکے پیسے کو ڈبل کردیں گے ۔ایک ذہین فطین لڑکی معاشی مسائل میں اتنا پریشان تھی کہ وہ باآسانی ان لوگوں کے باتوں میں آنے لگی اور بغیر سوچے سمجھے کریپٹو کرنسی میں اپنا سارا سرمائیہ لگاتے ایک کیفے میں جاب سٹارٹ کردی جلد ہی اسکے انوسٹ کیے پیسوں سے وہ ایک معقول حد تک رقم حاصل کرلیتی جو اسے اپنی فرم واپس دلا سکتے تھے دن رات کی گردش کا چکر اسے نئی دنیا کی سیر کروانے لگا ۔
حنا ایک وفادار دوست کی حثیت سے اسکے ساتھ ہی تھی وہ ہیری یا اسکے دوستوں کے خلاف کچھ بولتی تو الٹا معروش سے اسے ہی سننی پڑرہی تھیں۔
یہ سب ڈرامہ اس وقت اپنے منطقی انجام کو پہنچا جب اس نے کیسش ڈیلیوری چاہی تھی اور ایک دھچکہ لگا جب پتا چلا کہ ایسی کوئی ویب سائٹ اپنا وجود نہیں رکھتی نہ ہی ایسی کرنسی اسکے فاؤنڈر گم ہوچکے تھے جبکہ ہیری خود بھی اپنی انوسٹمینٹ برباد کرچکا تھا۔
ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح وہ اس سے لڑنے میں مصروف تھی اسوقت وہ ہوش وہواس سے بیگانہ ہوچکی تھی ۔
“ہیری مجھے میرے پیسے واپس چاہیں میں اسوقت اپنی چھت بھی لٹا چکی ہوں۔ “
وہ دہائی دیتی اسکے آگے ہاتھ جوڑ گئی مکمل طور پہ خود کو بند گلی میں محسوس کرتے وہ زارو قطار رو رہی تھی۔
“روش آئی سوئیرمیں نے کچھ نہیں کیا بلکہ میں تو خود تمہاری مدد کرنا چاہتا تھا اور میں بھی سب ختم کربیٹھا ہوں میری دوست۔”
وہ دلاسہ دیتے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھ گیا جسے اس نے جھٹک دیا تھا ۔
“یو آر آ چیٹر لائر تم نے برباد کردیا مجھے ہاؤ کڈ آئی ول سروئیو ۔” اسکا رونا حنا کو بھی تڑپا رہا تھا تبھی وہ باہر آئی تھی۔
“دفع ہوجاؤ ہیری تم اب اگر میری دوست کے پاس بھی بھٹکے تو بہت برا ہوگا تمہارے ساتھ۔” وہ ہمیشہ اوئیڈ کرتی تھی کہ ہیری کے سامنے نہ آئے مگر معروش کی حالت نے اسے مجبور کردیا تھا اسکے سامنے آنے پہ۔
ہیری ان دونوں پہ غصیلی نگاہ ڈالتے واپس ہولیا تھا۔
“منع کرتی رہی تھی اب مل گیا صلہ اب تمہارے پاس کوئی آپشن نہیں سوائے اس چیز کے کہ پاکستان واپس چلو یا پھر ۔۔۔یا پھر ارتضٰی حیدر سے کنٹیکٹ کر کے اسے اپنی سچویشن بتاؤ۔”
حنا ہمیشہ سے اسکی مخلص دوست رہی تھی اور اسکا اچھا چاہا تھا۔
“کیسے میں ایک انجان شخص کے سامنے جا کے اپنی پرابلم رکھ دوں پاگل ہوچکی ہو تم؟”
معروش کو اسکا مشورہ بلکل پسند نہیں آیا تھا۔
“دیکھو مارو اس ملک میں ایک وہی شخص ہے جو تمہاری ہیلپ کر سکتا ہے انجان نہیں ہے شوہر ہے تمہارا ہیری بھی تو انجان تھا اسکے دوستوں کے کہنے پہ بھی تو۔۔۔۔”
“پلیز حنا اگر میرے لیے کچھ کر نہیں سکتی ہو تو برائے مہربانی اتنے بڑَے بھاشن بھی مت جھاڑو۔”
وہ بیزاری سے کہتے کمفرٹ میں منہ گھسیڑ گئی اسکا انداز دیکھ حنا کا دل چاہ رہا تھا کہ ابھی ارتضٰی کے نمبر پہ کال کرے اور اسکا حال بتائے اسکا دل گواہی دے رہا تھا کہ یہ وہی شخص ہے جو انجانے میں اسکی زندگی میں چلا آیا تھا مگر وہ معروش کی ضد سے بھی آگاہ تھی وہ یہ کام کل پہ چھوڑے لیٹ گئی تھی مگر اس بات سے وہ دونوں ہی انجان تھیں کہ کل کا دن ان کی زندگی کا لائف چینجر دن ثابت ہونے والا ہے۔
اسکی آنکھ کسی کے چلانے سے کھلی تھی وہ حواس باختہ سی باہر کی طرف لپکی مگر سامنے کا منظر اسکیلئے ناقابل یقین تھا حنا پھٹی شرٹ ساتھ اسکے سامنے تھی ۔
“ہاؤ ڈیر یو بلڈی مین ۔” وہ دھاڑتی ہوئی ہیری کے سر پہ پہنچی تھی حنا کی حالت بتا رہی تھی کہ وہ کافی دیر سے اسکا مقابلہ کررہی ہے ہیری نے اسکی طرف پسٹل کی مگر معروش نے کک کرتے پسٹل دور پھینکی تھی اسکا گربیان پکڑے وہ ہیری پہ بل پڑی آج اسکی کراٹے کی لی گئی چند دنوں کی مہارت کام آرہی تھی۔
حنا جو بے سدکھڑی تھی ہوش میں آتے اسکی طرف بڑھی “چھوڑو روش مر جائے گا وہ چھوڑ دو اسے ۔”
وہ روتے ہوئے اسے معروش سے الگ کر گئی۔
“کیوں حنا مجھے میری غلطیوں کو سدھارنا ہے میری وجہ سے آج یہ شخص تمہاری عزت داغدار کر دیتا اور پھر کیا باقی رہتا میں بابا کے ساتھ ساتھ تمہاری مجرم بن جاتی ۔”
وہ جتنی مضبوط تھی اتنی بکھر بھی رہی تھی آج کا دن اسکیلئے صدمات ہی لا رہا تھا۔
اس نے آگے بڑھتی کاؤنٹر سے چھری اٹھائی تھی ۔
“آئی ول کل ہم ہنی ہی ڈیزرو ٹو بھی آ ہیلسٹ پرسن۔”
وہ پھر سے اسکی جانب بڑھی تھی مگر حنا درمیان میں آگئی۔
“مارو ہم پولیس کو کال کرتے ہیں تت تم چھوڑو اسے ۔۔۔۔”
وہ معروش کو کندھے سے پکڑے ہوئے تھی جبھی اسکی ہیری کی طرف پشت تھی مگر معروش نے ہیری کو اٹھتے اور پسٹل پھر سے گرفت میں کیے دیکھا ۔
“حنا موو وہ اس پہ چیخی تھی ۔” مگر تب تک ہیری کے پسٹل سے نکلی گولی اپنا کام دکھاگئی تھی حنا لڑھکتی ہوئی سائیڈ پہ گری اور وہیں حنا کا بہتا خون اسے بھی وحشت میں مبتلا کرگیا تھا اس نے ہیری کو موقع دیے بغیر تیز دھار چھری اسکے پیٹ میں گھونپی تھی پہلی ہی بار کے خون کا ایک فوارہ اس کے منہ پہ آیا تھا اس کے ہونٹوں نے ہیری کے خون کا ذائقہ محسوس کیا ۔
اسکے دونوں اطراف میں ہی خون کی ندیاں سی تھیں جہاں ہیری بے یقینی سے باہر ابلتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا وہیں حنا کی بند آنکھیں اسے وحشت زدہ کررہی تھیں ایک نظر ان دونوں کو دیکھتے وہ وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئی ٹوٹی ہوئی کھڑکی اس بات کا پتا دے رہی تھی کہ ہیری یہاں سے داخل ہوا تھا اور وہ وہی سے کودتی شرافت کی دنیا کو بھی خیر باد کہہ گئی کیونکہ اب وہ ایک قاتلہ بن چکی تھی جب ایک انسان اپنے ہاتھوں سے کسی کی جان لیتا ہے تو گویا وہ انسانیت کا لبادہ ہی اتار پھینکتا ہے ایسا ہی اسکے ساتھ ہوا تھا لڑکی ہونے کی نزاکتیں ،بھرم۔سب وہی دہیلز پہ چھوڑے اس ظالم دنیا سے نبٹنے کو تیار تھی۔
اس وقت ڈیجیٹل کرنسیوں میں بلاک چین، بِٹ کوئن اور لبرا بڑے بین الاقوامی نام ہیں۔ اس قسم کی کرنسیوں کی شہرت بتدریج بڑھتی جا رہی ہے۔ انہیں کریپٹو کرنسی بھی کہا جاتا ہے۔
کریپٹو کرنسی سے مراد اشاراتی یا خفیہ کرنسی ہے اور اب یہ ڈیجیٹل کرنسی میں شمار ہوتی ہیں۔ یورپ کے تجزیہ نگار کا ایک کالم پڑھنے میں وہ انتہائی دلجمعی سے مشغول تھی جہاں جدید دنیا کی تباہی اور آسانی کا سبب بن رہی ہے ۔۔۔۔۔۔وہیں معروش کا دماغ تیزی سے تانے بانے سلجھانے لگا یقینی طور پہ وہ اس سب کو سامنے رکھتے اس گیم کا پارٹ بنی تھی مگر ایک فراڈ اور لوکل ویب سائٹ کے ہاتھوں دھوکا کھانے کے بعد وہ اس معاملے کی تہہ میں پہنچنے لگی تھی۔
اس نے سرچنگ کی ان سب لوگوں کی جو اسکے ساتھ اس فراڈ کا شکار ہوئے تھے ہر کوئی اپنی داستان کے ساتھ سوشل سائٹ پہ اسے میسر تھا ایسے میں اس نے ان لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پہ اکھٹا کیا ۔
رقوم کے تبادلے کا ڈیجیٹل یا الیکٹرانک طریقہ موجود ہے لیکن اس میں نقد کیش یا سکوں کا تبادلہ شامل نہیں ہے۔ چند ڈیجیٹل کرنسیوں سے مثلاً بِٹ کوئن سے اشیا خریدنا ممکن ہے۔ سبھی کرنسیاں مارکیٹ میں قبول نہیں کی جاتیں۔
قسمت کے ستائے وہ لوگ حقیقی مجرموں تک تو نہیں پہنچ سکتے تھے مگر اس زمانے سے بدلہ ضرور لینا چاہتے تھے اسکی ٹیم میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے اوائل انہوں نے چھوٹی موٹی وارداتیں کرتے اپنا گزارا کیا اور ان میں کوئی بھی پروفیشنل چور یا کرمینل نہ تھا ایسے میں معروش بھی اپنی زندگی کا سیاہ پہلو چھپا گئی تھی۔
آج پھر وہ ایلس کے مقابل تھی ایک نئے منصوبے کے ساتھ۔
دنیا کے اصولوں سے ٹھوکر کھایا ہوا انسان سنبھل جاتا ہے یا پھر ہمت ہارتے ہمیشہ ٹھوکروں کی ذد میں آجاتا ہے لیکن معروش نے اپنے ساتھ ہوئے دھوکے کا انتقام لینے کا سوچا تھا حالانکہ وہ جن لوگوں کو ٹارگٹ کررہی تھی ان میں کسی کا بھی کوئی قصور نہ تھا اسکی بربادی میں مگر پھر بھی وہ دنیا سے اپنا بدلہ لینے کا سوچ چکی تھی اور اس سب میں ایلس اسکے شانہ بشانہ تھا۔
مگر مسئلہ تب درپیش ہوا جب بلاک چین بنانے اور رجسٹرڈ کیا جانا تھا انکا مقصد کسی کو بھی فائدہ پہنچانا نہیں تھا۔
اس کرنسی کا کنٹرول کسی مرکزی ادارے یا فرد کے پاس نہیں ہے۔ اس کی نگرانی کا نیٹ ورک دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے اور اس کے استعمال کا باقاعدہ ریکارڈ ہوتا ہے، جسے اس کے صارفین اپنے بنائے ہوئے خفیہ حسابی طریقوں سے کمپیوٹر پر رکھتے ہیں۔
ان طریقوں تک رسائی صرف ایک مخصوص کوڈ سے ممکن ہوتی ہے۔ کریپٹو کرنسی کی ترسیل کمپیوٹر کے ذریعے ایک کوڈ کے تحت کی جاتی ہے اور اس طریقے کو صارفین ‘مائننگ‘ (Mining) کہتے ہیں۔ کرنسی کی ترسیل کے بعد اس کا اندراج ایک اکاؤنٹ رجسٹر میں کر دیا جاتا ہے۔ اس رجسٹر تک رسائی ممکن ہے لیکن دیکھنے والے کی تفصیلات ظاہر نہیں ہوتی۔ رقم کی ترسیل کے لیے کوڈ کا کوئی مخصوص نام نہیں ہوتا بلکہ اسے مختلف یونانی اعداد میں ترتیب دیا جاتا ہے۔
اسیلئے بغیر کسی سرٹیفیکشن کے انہوں نے اپنی ڈارک ویب تشکیل دی جسے کسٹمرز کے سامنے بلاک چین کے طور پہ پیش کیا جاتا اور وہ بھی تب جب کہیں بڑی رقم ان کا حصول تھی ابھی بھی اسے اسکی منزل نہ ملی تھی مگر وہ مسٹر اشوک کے ساتھ پھر سے پارٹنر بننے کے قابل ضرور ہوچکی تھی۔
دن کے اجالوں میں معروف و مشہور معروش حیات رات کے سیاہی میں ایک الگ روپ دھارے لوگوں کی جمع پونجی لوٹنے آجاتی ایسے ہی ایک دن وہ لوگ ان پروفیشنل ہونے کی وجہ سے پکڑے گئے جن میں کئی لوگوں نے مفرور راستہ اختیار کر لیا تھا ۔
اسکی گینگ ٹوٹنے لگی تبھی وہ ایک سیاہ فام پروفیشنل ڈارک ویب کے بانی سے جا ملے اور تب معروش نے اپنی اصلیت پہ مکمل پردہ ڈالے اس گینگ میں” لٹل کریپٹو کوئین “کا روپ دھارا تھا آج تک سوائے چند ایک لوگوں کے اسکی شکل بھی کوئی نہیں دیکھ پایا تھا۔
ان سب میں ایک بات مشترکہ تھی کہ” وہ سب بے ایمانی بھی پوری ایمانداری سے کررہے تھے۔”
ایسے میں مسٹر تیج کی انٹری اسکیلئے بہت بڑا اپ سیٹ تھا اسکا انداز لہجہ کچھ جتاتا تھا مگر کیا؟ معروش یہ سمجھنے سے عاری تھی۔
༻━━━━━⊱༻
“کیا بنا ارتضٰی اسکی کوئی خبر مل۔” ارتضٰی کو سامنے دیکھتی وہ بے چینی سے اسکی طرف بڑھی۔
“نہیں حنا کہیں بھی کوئی سراغ نہیں نجانے کیوں وہ ایسے روپوش ہوگئی نمبر تو آن ہے نا آپکا کیا پتا کبھی آپ سے رابطہ کرلے۔”
ایک آس امید تھی اسکے لہجے میں ۔
“نہیں رابطہ کرے گی ارتضٰی بھائی مجھے یقین ہے کہ اس نے مجھے اور ہیری کو مرا ہوا سمجھ کے وہاں سے راہ فرار اختیار کی ہے۔”
حنا کی صاف گوئی ارتضٰی کے اندر ایک بے چینی سی بھر گئی تھی۔
“اس ہیری کی تو میں۔” حنا کے سامنے گالی دینے سے اعتراض برتتے وہ وہاں سے واک آؤٹ کرگیا تھا سامنے ہی اسکی ماں موجود تھی۔
“تو پھر کیا سوچا بیٹا آپ نے؟ کب تک اس گمشدہ لڑکی کا جوگ لیے پھرو گے تین سال کا عرصہ کم نہیں ہوتا اگر اسے ملنا ہوتا تو اب تک مل جاتی بہتر ہے کہ کورٹ سے رجوع کرتے تم ڈائیورس نوٹس رجسٹرڈ کردو۔”
اسکی ماں کی تان پھر سے روز کی بات پہ آ ٹہری۔
“آپ جانتی ہیں نا میں ایسا کچھ نہیں کرونگا پھر کیوں روز آپ میرے سامنے یہ تکلیف دہ بات لیے آجاتی ہیں؟”
ماتھے پہ پھڑکتی رگ کو مسلتے وہ بدمزاج ہوتے بولا ۔
“حنا کے پیرنٹس اسکا رشتہ کرنا چاہتے ہیں کب تک ہم کسی اور کی ذمداری کو اپنے سر لیے رکھیں گے بہتر ہوگا کہ تم کوئی فیصلہ کرو ویسے بھی مجھے وہ لڑکی تمہارے لیے بہت اچھی لگتی ہے۔”
دروازے پہ کھڑی حنا کا دل طیبہ کی بات سنتے دھڑک اٹھا تھا بھلا وہ اتنا شاندار مرد ڈیزرو کرتی تھی جبکہ وہ تھا بھی اسکی دوست کا شوہر۔
شیطان نے اسکے دل میں باغی خیالات پیدا کیے مگر دوسرے ہی لمحے وہ سر جھٹک گئی کیااس سے بڑھ کے کوئی اس شخص کے معروش کیلئے سچے جزبات سے آگاہ تھا۔
༻━━━━━⊱༻
جورڈ کے سامنے ایک فائل کھلی تھی وہ گولڈن سپیرو اور تیج کے تضادی گفتگو سے محتاط ہوگیا تھا اور پھر پہلی ناکامی تب حاصل ہوئی جب اسکی گولڈن سپیرو ایک دم غائب ہوگئی اور تیج سے ہوئی ڈیلنگ میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہا تھا ۔
“ایک کام نہیں ہوسکا وہ چھٹاک بھر کی لڑکی تم لوگ تلاش نہیں کرسکے ۔”
جورڈ مسلسل اپنے ساتھیوں پہ برس رہا تھا۔
“باس ہمیں لگتا مسٹر تیج نے اس تک رسائی حاصل کرلی ہے ورنہ وہ ایک کمزور سی لڑکی اتنی جلدی روپوش نہیں ہوسکتی۔”
برائن نے جان کی خلاصی چاہی تبھی جورڈ اس پہ جھپٹا
” مجھے اس لڑکی کی ایک ایک ڈیٹیل نکلوا کے دو اور اس مسٹر تیج کی بھی وہ دونوں ہی اچانک ہی جورڈ کی لائف میں آئے اور چلے گئے جبکہ اس بچ نے ابھی میرا حساب بھی نہیں کلئیر کیا اور تیج نہیں اتنی بڑی رقم میں ساری زندگی چاہوں نہیں کما سکتا کچھ کرو تم لوگ سارا دن نشے کیں دھت سانڈھ پڑے کسی کام کے نہیں تم لوگ”
غصے کی سیاہی سے اسکا رنگ اور بھی سیاہ ہورہا تھا جبکہ اسکے ساتھی آج پہلی بار اسے اتنے غصے میں دیکھ رہے تھے۔
༻━━━━━⊱༻
“ہائے مس معروش حیات آئی۔ایم۔کم ۔بیک میٹ یو سون ۔”
اسکے موبائل پہ جلی حروف میں لکھا یہ ان ناؤں نمبر سے آیا پیغام معروش کو ایک جھٹکا دے گیا تھا۔
“آئی۔نو۔یو وانٹ ٹو نو دیٹ ہو آئی۔ایم بٹ اٹس آ سرپرائز مائی لٹل کریپٹو کوئین۔”
اسکے پیروں تلے سے زمین سرکانے کو یہ الفاظ کافی تھے کیونکہ اس سیاہ کار لڑکی کو کوئی بھی معروش کے نام۔سے نہیں جانتا تھا اور جو معروش کے نام سے جاننے
والے تھے اس دنیا کو تو وہ برسوں پہلے پیچھے چھوڑ آئی تھی اب وہ کون تھا جو اسکی حقیقتوں سے آگاہ تھا یقیناً وہ اسکے قتل کرنے والے راز سے بھی آشنا ضرور ہوگا۔
مگر وہ بھول بیٹھی تھی کہ لندن شہر اتنا بڑا نہ تھا کہ وہاں پہ اسے ڈھونڈنا مشکل ہوتا جب تک کے قہ ان حدود سے باہر تھی وہ سیف تھی مگر یہاں اپنا شکار ڈھونڈنے کو آئی معروش حیات خود کسی کا شکار بننے والی تھی۔
Episode 06
تم نے میرے سپائیڈر مین کو چوری کیا ہے 14 سالہ بچہ خود سے 2 سالہ چھوٹی بچی پہ چلا رہا تھا جب کہ وہ کسی مجرم کی طرح سر جھکائے کھڑی تھی ۔
“میں نے آپکا سپائیڈر مین چوری نہیں کیا بھیا “
وہ ممناتے ہوئے اس سے بولی ۔
“یور آر آ لئیر لائک یور مدر اٹس یور ہیبٹ ٹو سٹول تھنگز۔”
وہ پھر سے اسے بازو پکڑے جھنجوڑنے لگا تھا جبکہ وہیں پہ اسکے جسم میں کہیں سے پھرتی بھری تھی جس نے اسے پیچھے دھکیلتے آنکھیں دکھائیں۔
“چور آپ اور آپکی مما ہیں بھیا جنہوں نے ہمارے گھر پہ قبضہ کیا میرے ڈیڈ پہ قبضہ کرلیا”
وہ شیرنی بنی اس پہ اپنے پنجوں سے وار کرنے لگی تھی ایک ایسا پوائنٹ جسکی وجہ سے وہ روز سکول سے کمپلینز کے ساتھ واپس آتی وجہ اسکی ماں کا تاریک ماضی تھا جو سب کے سامنے کھلی کتاب کی طرح تھا مگر دس سالہ لڑکی نے اس تلخ حقیقت کو خود پہ حاوی نہیں ہونے دیا تھا جب اسے اپنی ماں کے حوالے سے کوئی طعنہ تشنہ ملتا تب سامنے والا نہیں جانتا ہوتا کہ اسکے جسم کا کونسا حصہ زخمی ہونے والا ہے۔
” بیٹا آج پھر آپ نے بھیا سے لڑائی کی بری بات ہے بیٹا وہ آپکا بھائی ہے۔”
بابا نے اسکے سر پہ ہاتھ رکھتے پرشفیق لہجے میں کہا تھا۔
“بابا وہ مجھ پہ جھوٹا الزام لگا رہا تھا اور فیری مما پہ الزام۔لگا رہا تھا کہ وہ چور ہیں جبکہ چور اسکی مما اور وہ ہیں ۔”
ہمیشہ کی طرح بلاخوف وہ باپ کے سامنے واضع دلائل کے ساتھ حاضر تھی جو انہیں لاجواب کرنے کو کافی تھیں۔
“بیٹا کول ڈاؤں میں انہیں سمجھاؤں گا وہ آپ سے سوری کریں گے لیکن آپ بھی اس سے سوری کریں گی۔”
آنکھوں میں واضع تنبہیہ چھپی ہوئی تھی۔
“بٹ وائے آئی ایم؟”
کیونکہ اسکے نزدیک اس نے کوئی قصور نہیں کیا تھا لیکن شام کو جب وہ دونوں آمنے سامنے تھے وہ جز بز ہوکے رہ گئی تھی اس لڑکے کے ماتھے پہ گول گنبد بنا ہوا تھا جبکہ ایک رخسار بھی زخمی تھا جہاں پہ کوئی پٹی نہیں کی گئی۔
وہ حیران پریشان سی اسے دیکھنے لگی کیونکہ اس نے کچھ ایسا نہیں کیا تھا جس سے وہ اتنا زخمی ہو مگر اسوقت وہ بابا سے کیے وعدے کی پاسداری کرنے کو حاضر ہوئی تھی اسیلئے آگے بڑھتے اسے سوری بولتے ہگ کیا۔
“تمہارا یہ ڈرامہ سچ ہوگا ویٹ کرنا رات کو کسی وچ کے آنے کا ۔”
اس لڑکے کے چہرے پہ خوف کی لہر سی دوڑی یقیناً وہ جان چکی تھی کہ اسکا ڈرامہ ہے یہ اور اس خبطی لڑکی سے بھی واقف تھا تمام رات خوف کے مارے اسے نیند نہیں آئی مگر کوئی بھی اسکے روم میں نہیں آیا تھا۔
ابھی اس بات کو ہفتہ گزر چکا تھااسکا نارمل انداز اسے بھی چونکانے لگا مگر ایک ہفتے تک جب اسے نارمل ڈگر پہ دیکھا وہ بھی مطمئن ہوتے ہر بات بھلا چکا تھا ۔۔
“Until lions have their own historians, the tale of the hunt will always glorify the hunter”
اسکی آنکھ کھولی تو سامنے موجود ڈریسنگ کے مرر پہ لکھے سرخ حروف سمجھنے کی کوشش کرنے لگا مگر سر جھٹکتے واشروم کی جانب بڑھ گیا ۔
اتنا تو پتا تھا کہ وہیں یہ حرکت کر کے گئی ہے لیکن اصل جھٹکا واشروم میں داخل ہوتے اسے لگا تھا جہاں اسکی بکس، گیمز ،منی ٹیب سامنے باتھ ڈب میں تیر رہے تھے اس نے بے یقینی سے سب دیکھا دوسرے لمحے سارا معاملہ سمجھتے پھر سے بابا کے پاس پہنچا تھا منٹوں میں اسکو کو بلایا گیا مگر اپنے اوپر عائد جرم کی نفی کرتے وہ ثبوت دیکھنے پہ ضد کرنے لگی تب اسکا اتنا کنفیڈنٹ دیکھتے اسکا ماتھا ٹھنکا۔
” toxic people just suck the nice out of you”
وہ سرگوشی کرتے اسکے پاس زرا سی رکی اور بابا کی طرف بڑھی جبکہ دس سالہ اس لڑکی کی زبان کے بےباک تیر اسے گھائل کرنے لگے وہ بھی سرجھکائے انکے پیچھے چلنے لگا کیونکہ اسے انداز ہورہا تھا کہ وہاں ایسا کچھ نہیں جو اسے بابا کے سامنے سرخروع کرسکے ۔
اور سامنے کا منظر واقعی اسکیلئے وحشت زدہ کر دینے والا تھا۔
” OH!DEAD BEWARE OF INSECURE AND TOXIC PEOPLE !
THEY WILL BLAME YOU FOR THEIR STRESSFUL LIFE JUST BECAUSE THEY CAN’T HANDLE THEIR OWN FRUSTRATIONS AND FLAW’S”
استہرائیہ انداز میں کہتی وہ اپنے بابا کا ہاتھ پکڑے وہاں سے لے گئی جبکہ وہ حیران سا اپنے روم اور باتھروم کو دیکھ رہا تھا جہاں پہ ابھی تھوڑی دیر پہلے کی تباہی کا کوئی آثار نہ تھا کیونکہ وہ اسکی سوچ سے بھی بڑھ کے ” toxic” ثابت ہوئی تھی اسکی “ٹاکسک” کی گردان نے بہت شاک دیا تھا اسیلئے ایک نیا نام دیا تھا وہ مٹھی بھینچے اس کاری وار کو سوچنے لگا تھا۔
“I want to merry her Mama”
چودہ سالہ بیٹے کے منہ سے یہ الفاظ سنتے اسکی ماں کو ایک جھٹکا لگا تھا اس عمر کے بچے کو بھلا شادی کا مطلب بھی پتا نہیں ہوگا اور ایسی بات۔
“آئی وانٹ ٹو مری ود ٹاکسک معروش۔”
ابھی اسکی ماں پہلے جھٹکے سے سنبھلی نہ تھا اسکی اگلی بات سنتے تو گویا پورا وجود سن ہوگیا تھا۔
༻━━━━━⊱༻
“تم او واؤ جس لڑکی کو میں ایک دنیا میں ڈھونڈ رہا ہوں وہ یہاں چھپی بیٹھی ہے کیا ہی بات ہوگئی لڑکا بغل میں ڈھونڈورا پیٹا شہر میں۔”
اسکے ماتھے پہ پڑتے بلوں کی پرواہ کیے بغیر ارتضٰی اسکی راہ میں حائل تھا۔
“کیوں ،کیوں ڈھونڈ رہے ہیں آپ مجھے اور یہاں پبلک پلیس پہ میں آپکا مثل نامہ سننے کو نہیں ٹہری راستہ چھوڑیں میرا جناب۔”
معروش کا چہرہ اور آواز کسی بھی تاثر سے خالی تھے جیسے اتنے عرصے بعد اس شخص کو سامنے دیکھ کچھ ہوا بھی نہ ہو۔
“ارے واہ محترمہ بنا رسی کے کھونٹے سے باندھ کے گم ہوگئیں آپ اور کہتی ہیں کہ مثل نامہ نہیں سننا ابھی بہت کچھ سنانا ہے آپکو چلو میرے ساتھ۔”
سارے پیکٹس کاؤنٹر پہ رکھتے جلدی سے اسکا ہاتھ تھاما کہیں وہ پھر سے گم نہ ہوجائے۔
“کیا سنانا ہے آپکو مجھے کہیں نہیں جانا ۔”
اس نے اپنا ہاتھ اسکی آہنی گرفت سے نکلانا چاہا تھا۔
“دل تو چاہ رہا کھری کھری سناؤں مگر محبوب اتنے عرصے بعد حاصل ہے تو بس خیر خیریت دریافت کرنی ہے فکر نہ کریں ہیری کے قتل کے جرم میں اندر نہیں کرواؤنگا اسکے باوجود کے پولیس آج بھی تمہاری تلاش میں ہے۔”
دانت پیستے ہوئے آخر میں رزدارانہ انداز میں اسکی طرف جھکتے سرگوشی کی معروش کو چار سو چالیس والٹ کا جھٹکا لگا تھا “تو کیا اسکا قصہ پورے شہر میں مشہور ہوچکا تھا اور وہ بےخبر موت کی وادیوں میں گھوم رہی تھی۔”
“جی بلکل صیح سوچ رہی ہیں آپ بہتر ہے کسی کونے کھدرے میں جاکے بات کرلیں۔” وہ مبہم سے مسکراتے بولا مگر وہ حواسوں میں بیدار ہوتے اسکی گرفت سے ہاتھ نکالے وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئی تھی ارتضٰی بھی اسکے پیچھے لپکا مگر وہ گاڑی میں بیٹھتے یہ جا وہ جا۔
༻━━━━━⊱༻
آج پھر سے وہ اپنے شکار کی تلاش میں وہاں موجود تھی۔
ہولو مین ایونگ کی اس پارٹی میں تقریباً سب لوگ ہی اپنے چہرے پہ ڈراؤنے ماسک لگائے گھوم رہے تھے ایسے میں مس کریپٹو کوئین کیلئے مشکل ہورہا تھا اپنا ٹارگٹ ڈھونڈنا تبھی اسکے پاس سے ایک سرگوشی ابھری تھی۔
“Beware of toxic sheep in wolf clothing “
بھاری لہجے میں ہوتی سرگوشی ایک دم اسے سٹل کرگئی تھی خوف کی شدید لہر کا سایہ اسکے چہرے پہ آیا تھا مگر دونوں کے چہرے پہ موجود ہارر ماسک نے تاثرات چھپا لیے تھے۔
“کک کون ہوتم۔” وہ چیخی تھی یہ الفاظ اس نے سن رکھے تھے مگر کہاں کب کس سے اسے کچھ یاد بھی نہیں تھا۔
“آپکا تاریک ماضی اور روشن کل معروش حیات۔”
وہ اسے جھٹکا دیتے واک آؤٹ کرگیا تھا جبکہ لندن کے ٹھٹرادینے والی سردی میں بھی اپنے چہرے پہ چھائے ڈر اور خوف کی وجہ سے پسینہ وہ بخوبی جان سکتی تھی لزرتے قدموں سے وہ بامشکل خود کو کلب سے نکالے باہر آئی تھی ماسک کو سختی سے اتار پھینکتے گویا اپنی اصلیت بھی اتار پھینکنی چاہی ۔
“کون تھا وہ جو کبھی اسے ہیری تو کبھی اسکے تاریک ماضی کی یاد دلا رہا تھا ؟” چکراتے سر کو شنبھالنے کی کوشش کرتی وہ نڈھال سی وہی ٹھنڈی سڑک پہ بیٹھ گئی تھی۔
