Sayah Kaar by Uzma Mujahid NovelR50609 Sayah Kaar (Episode 08)
Rate this Novel
Sayah Kaar (Episode 08)
Sayah Kaar by Uzma Mujahid
“آئی وانٹ ٹو مری معروش”
اسکے الفاظ نے گویا پوری شخصیت سے انہیں ہلا دیا تھا وہ گھبراتے ہوئے اٹھیں اور اسے بازو پکڑے جھنجوڑا_
“ہوش میں ہو تم کیا کہہ رہے ہو اگر تمہارے بابا نے سن لیا تو قیامت کھڑی کردیں گے۔”
انکے انداز میں واضع تنبہیہ تھی مگر سامنے موجود انکے بیٹے نے پلک جھپکنا مناسب نہیں سمجھا۔
“میں نے آپ سے کبھی کچھ نہیں مانگا مام ایون کے جب آپ نے بابا سے سیپریشن لی تب بھی آپ کی مرضی کے مطابق پاکستان آگیا بٹ آئی نیڈ ہر۔”
اسکے لہجے کی ضد اسکی ماں کو جھنجھلاہٹ میں ڈال گئی۔
“تم یہ سب اتنی آسانی سے کہہ رہے جیسے کوئی کھلونا ہوگئی وہ لڑکی دیکھو نا تو یہ تمہاری عمر ایسی باتوں کی نہ ہی یہ کبھی ممکن ہے اپنے دماغ سے جتنی جلدی ہوسکے یہ خناس نکال دو۔”
اسکے سر کو ہاتھوں سے ہٹ کرتے گویا دماغ سے واقعی اسکی ضد کو نکالنا چاہا تھا مگر وہ بھی انہی کا ہی بیٹا تھا جو ضد میں اپنی ماں پر ہی گیا تھا۔
دروازے کی اوٹ سے جھانکتی معروش بھی اسکے لفظوں سے اچھے سے آگہی حاصل کر گئی تھی تبھی شام کو ڈائننگ ٹیبل پہ ایک ہنگامہ حیات صاحب کا منتظر تھا۔
“یہ اپنے بیٹے کو سکھا رہی تھیں شی وانٹ ٹو ٹریپ می ۔”
روتی ہوئی معروش جب حیات صاحب کے گلے لگی تو گویا کائنات ہی اسکے آنسوؤں میں سمٹ آئی۔
“میر میرو ؟” انکی گرجدار آواز سنتے وہ جو ماں سے بحث کے بعد سر نگوڑے اپنے کمرے میں لیٹا تھا انکے پاس پہنچا مگر دوسرے ہی پل حیات صاحب کے ہاتھ سے پڑنے والا جھانپڑ اسے اپنی حماقت کا احساس کروا گیا تھا۔
“مجھے نہیں پتا تھا کہ میں ایک سنپولے کو اپنے گھر میں پال رہا ہوں سوتیلے ہونے کا خوب رنگ دکھایا ہے تم نے جو میری پھول سی بچی پہ گندی نگاہ کا سوچا بھی کیسے؟”
ان کی زبان سے نکلتا ہر لفظ میر پہ کسی کاری ضرب کی طرح بھاری پڑ رہا تھا۔
“گیٹ آؤٹ آئیندہ شکل نہ دیکھو میں اس گھر میں تمہاری جتنی جلدی ہوسکے اسے دفع کرو یہاں سے ۔”
ہادی پہ کرخت نگاہ ڈالتے انہوں نے بیوی کو انگلی اٹھائے وارن کیا تھا۔
“اکیلے نہیں جاؤنگا میں اپنی مما کو ساتھ لے کے جاؤنگا۔”
لڑکپن کی حدود میں داخل ہوتا وہ لڑکا انکے دوبدو ہوا تھا۔
معروش کے چہرے پہ خوشی کی رمق واضع ہوئی مطلب کہ اتنی آسانی سے ان ماں بیٹے کا پتا کٹ رہا تھا ۔
“مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے جو جانا چاہتا ہے خوشی سے جائے۔”
حد درجہ بے مروتی سے کہتے وہ معروش کو اپنے بازو کے حلقے میں لیے وہاں سے روانہ ہوئے۔
مگر وہ تو جیسے ہوش کی دنیا میں واپس آئی تھیں۔
“نہیں حیات یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ معافی مانگو میرو ان سے میں کہہ رہی ہوں سوری کرو روش اور بابا سے ۔”
اسکی کی مما نے بھاگتے ہوئے حیات اور معروش کا راستہ روکا اور ملتجی نگاہ ہادی پہ ڈالی۔
بھلا جس شخص کی خاطر انہوں نے ساری کشتیاں جلادی تھیں اگر وہ بھی انہیں دھتکار دیتا تو اس عمر میں انکا کوئی سہارا بھی تو نہ تھا ۔
“اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے اگر تمہیں یہاں رہنا ہے تو اس لڑکے سے ہمیشہ کیلئے واسطہ ختم کرنا ہوگا۔”
وہ جو میر کیلئے ہمیشہ نرم سایہ رہے تھے انکا انداز میر کو بھی بہت کھلا تھا۔
ملک حیات کی آواز نے ان پہ کوئی طلسم سا طاری کیا ۔
“بھلا اتنا آسان تھا میر کے بنا رہنا ؟وہ جسکیلئے انہوں نے سابقہ شوہر سے دشمنی مول لے رکھی تھی وہ اتنی آسانی سے اس سے کنارہ کش کیسے ہوسکتی ؟”
مگر حیات صاحب فیصلے کی ڈوری انکے ہاتھ تھمائے آگے بڑھ گئے تھے معروش کو اپنے بابا کا اس عورت کیلئے نرم انداز بلکل پسند نہیں مگر خیر میر کو تو اس گھر سے نکلوا کے اپنی آدھی مشکل تو آسان کر ہی چکی تھی۔
بابا کو اپنے کمرے میں جاتا دیکھ وہ ان دونوں پہ استہرائیہ نگاہ ڈالے فون سٹینڈ کی طرف بڑھ گئی کیونکہ اپنی ماں کو اپنے تازہ کارنامے کی رپورٹ جو دینی تھی۔
کتنا کچھ سوچا تھا میں نے ہادی تمہاری بیوقوفی نے وقت سے پہلے مجھے ٹوٹی ہوئی شاخ ثابت کردیا ہے۔”
انہوں نے دکھ سے اپنے بیٹے کو کہا ۔
“جو ہمارا ہے ہی نہیں مما اسکیلئے خود کیوں ہلکان کررہی ہیں چلیں میرے ساتھ اس گھر میں رہنے کی صورت معروش کی شادی کروائیں گی آپ میری ۔”
انتہائی بچکانہ انداز اور ضد اسکی ماں کو اب صیح معنوں میں اسکے رویے کا اندازہ ہورہا تھا۔
“اس سے پہلے کہ یہاں کوئی مزید گند کرو تم میر میں خود ہی تمہیں اس گھر سے نکال دونگی تمہیں سمجھ کیوں نہیں آرہا میں یہ سب کچھ تمہارے لیے ہی کررہی ہوں۔”
انکے لہجے سے جھلکتی یاسیت نے ایک لمحے میر کے دل کو بھی نرم کیا مگر وہ اپنی ماں کی کمزوری جانتا تھا جنہیں ملک حیات کی دولت کی سامنے اپنی اولاد کو بھی قربان کرنا پڑتا تو وہ اس چیز سے گریز نہیں کرتیں وہ ان پہ تاسف بھری نگاہ ڈالے حیات ولا سے نکل آیا۔
“میں نے ان کا گھر چھوڑ دیا ہے ڈیڈ میں نے مما کو چھوڑ دیا ہے۔”
اپنے ڈیڈ کو کال ملائے رورہا تھا ناچاہتے ہوئے بھی اسکی آواز بھرائی تھی۔
جبکہ دوسری جانب بھی اسکی بات سنتے کچھ خاص خوشی کا اظہار نہیں ہوا تھا تبھی اس نے ایک فیصلہ لیا جھکنے کا اپنے مقصد کی خاطر اپنے ماں کے ہاتھوں مہرہ بننے کا ۔
لیکن اسکا مقصد اپنی ماں کی طرح حیات صاحب کی دولت نہیں بلکہ انکی اکلوتی بیٹی معروش کی بربادی تھی جو کہ ابھی محض بارہ سال کی ہی تھی مگر ہادی کے دل میں اپنے لیے نفرت جگا گئی۔
༻━━━━━⊱༻
معروش ہکا بکا اسکی حرکت ملاحظہ کررہی تھی۔
“تم کسی غلط فہمی میں یہاں آگئے ہو ارتضٰی حیدر “
اسے اب شدت سے احساس ہورہا تھا کہ کسی پاکستانی سے نکاح جیسی حماقت کرکے وہ اپنا نقصان کرچکی تھی کیونکہ اس سے زیادہ بھلا انکی غیرت اور جرآت کا کون گواہ ہوگا۔
“میں کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہوں مائی ڈئیر یو نو واٹ آئی ایم ٹو مچ پوزیسو ہیسبنڈ اپنی بیوی کو ایسے پریشان حال دیکھ نہیں سکتا سو اسییلئے یہاں آگیا۔”
دروازہ بند کرتے وہ دونوں ہاتھوں کو سینے پہ باندھے اس سے مخاطب ہوا حالانکہ لب لہجہ الفاظ کے بلکل موافق نہ تھا۔
“ایکسکیوزمی مسٹر ارتضٰی کیا ہی اچھا ہو اگر آپ یہ ہسبنڈ نامہ سائیڈ پہ رکھیں کیونکہ میں آپکی بیوی نہیں صرف منکوحہ ہوں اور وہ بھی کاغذی میرے نزدیک اس رشتے کی یا آپکی کوئی اہمیت نہیں ہے اسیلئے مجھ پہ اس رشتے کی دھونس جمانے سے ذرا پرہیز ہی کریں۔۔”
وہ اس سے ہونے والی اپنی تیسری حادثاتی ملاقات سے خائف نظر آرہی تھی تبھی بنا کوئی لگی لپٹی رکھے اسے کھری کھری سنانا بہتر سمجھا تھا۔
“اوہ مائینڈ بلوئنگ آرگو مسسز بٹ کیا ہے نا کہ۔۔۔”
اپنی بات ادھوری چھوڑے اس نے اسکی جانب قدم بڑھائے اور ایک قدم کا فاصلہ رکھے رکا تھا جبکہ اسے اتنے قریب دیکھ معروش نے جھر جھری لی۔
“بات فاصلہ رکھ کے بھی ہوسکتی ہے ؟”
شعلہ بار نگاہوں سے دیکھتے وہ دو قدم پیچھے ہوئی مگر صوفے سے ٹکراتے اسے پہ ڈھیر ہوئی تھی جبکہ ارتضٰی کے لبوں پہ وہی ازلی ڈھیٹوں والی مسکراہٹ نے ڈیرہ جمایا ہوا تھا۔
“حفاظتی اقدام اچھا تھا اور جو ہمارے مابین رشتہ ہے ایسے میں حفاظتی بند باندھنے کا حق بھی رکھتی ہیں آپ ۔”
اسکی حالت سے حظ اٹھاتے وہ ایک ہاتھ صوفے کی پشت پہ رکھے دوسرے ہاتھ سے اسکے کانوں کی لو کو ہلکے سے چھوا ۔
معروش پہ تو اسکا لمس کسی کرنٹ کی طرح جسم میں دوڑا تِھا سختی سے اسکے ہاتھ جھٹکتے اٹھنا چاہا مگر سامنے ایستادہ ارتضٰی نے اسکی کوشش ناکام بنا دی ۔
“کیا ہم بات کرسکتے ہیں مسٹر ارتضٰی۔”
خود کو بے بس محسوس کرواتے دیکھ اس نے گویا اسکے سامنے سرینڈر کیا تھا۔
“افکورس بات ہوسکتی ہے مگر آپ کرنا چاہیں تب نا ۔”
ارتضٰی نے ہلکا پھلکا انداز اپنائے اسکے برابر ہی جگہ سنبھالی جسے معروش نے نامحسوس انداز میں فاصلہ بڑھائے خود کو اس سے دور کیا ۔
ارتضٰی نے ایک جتاتی نگاہ اس پہ ڈالی۔
“کیا چاہتے ہوتم اچھی طرف واقف ہو میرے لیے یہ رشتہ کوئی معنی نہیں رکھتا کیا ہی بہتر ہو اگر ہم کورٹ میں جائے بغیر یہ معاملہ یہی سورٹ آؤٹ کرلیں۔”
متوازن لہجہ اپناتے اس نے اپنے موقف سے آگاہ کرتے ارتضٰی کے تاثرات جاننے چاہے ۔
“اوہ واقعی معروش حیات کیسے آپ نے میرے تین سال کے مئسلے کا حل منٹوں میں کیا چٹکیوں میں نکال دیا واؤ آئی ایم سوایمپریسڈ۔”
اسکا کیا گیا طنز ایک لمحے کو تو معروش کو شرمندہ کرگیا مگر دوسرے ہی لمحے اسے خیال آیا کہ وہ اس سے کوئی ڈیمانڈ نہیں کرسکتا۔
“یہ شادی ایک کنٹریکٹ سائن تھا اگر آپ کو یاد ہو تو۔”
اس نے اپنا آخری داؤ کھیلا۔
“آپکیلئے میڈم میرے لیے یہ شادی ایک زندگی بھر کا ساتھ ہے جسے میں نے شریعت کے تقاضے پورے کرتے اپنے خدا اور رسول کو حاضر ناظر جان کے قبول کیا۔”
اس کا مستحکم انداز معروش پہ گویا بجلیاں گرا رہا تھا۔
“تم ایسے کیسے مکر سکتے ہو دیکھو مجھے تمہارے ساتھ نہیں رہنا تم سمجھ کیوں نہیں رہے جب کہہ رہی ہوں میرے لیے اس رشتے کی کوئی اہمیت نہیں ہے پھر۔۔”
اسکے باقی ماندہ الفاظ کو ارتضٰی کے مضبوط ہتھیلی نے اپنے اندر جزب کرلیا تھا۔
“بہت بولتی ہیں آپ معروش میں نے آپ سے پوچھا کہ اس رشتے کو لے کے آپ کیا سوچتی ہیں کیا نہیں ؟میں نے آپ سے پوچھا کہ آپ یہ رشتہ نبھانا چاہتی ہیں یا نہیں؟ “
اس نے براہ راست چیلنجنگ آئیز کو اسکے چہرے پہ فوکس کرتے کہا جبکہ وہ یکسر حیران ہوتے اسکے انداز دیکھ رہی تھی۔
“تو” ایک سرگوشی سی لبوں سے آزاد ہوئی۔
“تو ہنمم سوال اچھا ہے معروش جی تو یہ کہ میں ارتضٰی حیدر اس رشتے کو نبھانا چاہتا ہوں کونکہ میں رب کی طرف سے عطا کیے گئے نظرانے کی ناشکری نہیں کرسکتا مجھے اس چیز سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کیا چاہتی ہیں ؟ہاں مگر آپکو اس چیز سے ضرور فرق پڑنا چاہیئے کہ میں کیا چاہتا ہوں اور کیوں چاہتا ہوں۔”
وہ خالی دماغ سے اسکی الجھی باتوں کا مفہوم سمجھنے میں لگی تھی۔
“کیا چاہتے ہیں آپ؟” اس نے ارتضٰی کی من مرضی کا سوال دہرایا جسے پہلے وہ کئی بار اکتاہٹ سے کہتی آئی تھی۔
“آپکو معروش حیات۔”
اس کا واضع جواب معروش کے پیروں تلے سے زمین سرکا گیا تھا۔
“اسیلئے جو میں چاہتا ہوں اسے اپنی دسترس میں کرکے رہتا ہوں اس بات کو بھول جانا ہی بہتر آپکیلئے کہ آپکو کبھی ارتضٰی حیدر سے، اس رشتے سے نجات ملے گی ۔آپکی سوچ تو یہی تک رہ جائے تو اچھا ہے اور اگر جو کبھی “کوئی” آ بھی جائے تو اسکیلئے یہ اچھا نہیں۔”
پھر سے بامعنی الفاظ معروش کو بری طرح پزل کرگئے۔
اپنی زندگی کے چکروئیو اسکے سامنے گھومے تو اسے اپنی زندگی میں ارتضٰی تو کیا کسی کی بھی گنجائش نظر نہیں آرہی تھی اور پھر “تیج” وہ اسکا مقصد بھی تو ارتضٰی سے الگ نہ تھا جبکہ اسکی زندگی ایک ایسے دلدل میں تھی جہاں سے واپسی کا سرا سوائے موت کی کچھ نہ تھا ۔
اسکا سر بے اختیار نفی میں ہلا تھا مگر دوسرے لمحے اپنے سلب ہوتے حواسوں پہ قابو پایا۔
“مم مجھے سوچنے کیلئے کچھ وقت چاہیئے ۔”
اس نے پرت کا ایک نیا پتا پھینکا۔
“سوچنے کیلئے یا پھر مفرور ہونے کیلئے خیر جو بھی ہے اچھے سے سوچ لیں معروش جی آپ میری پہنچ سے دور نہیں جاسکتیں اور ایسے میں جب پولیس آپکو آپکے دوستوں کے مرڈر کے جرم میں تلاش کرتی پھر رہی ہے آپکے پاس سوائے میری پناہوں میں آنے کے کوئی چارہ نہیں۔”
اسکا لہجہ صاف دھمکی آمیز ہی لگا تھا معروش کو تو۔
“تت تم مجھے دھمکی دے رہے ہو جبکہ میں نے ہیری کا قتل نہیں کیا۔”
“آہاں بھلا میں کیوں دھمکی دونگا ویل تمہارے پاس سوچنے کو پانچ منٹ ہیں فیصلہ کرو اور اپنے گھر چلنے کی تیاری بھی جہاں آپکی ساس سسر کے علاوہ کوئی اور بھی ہے جو شدت سے انتظار کررہا ہے۔”
اس نے معنی خیز انداز میں کہتے اسے آنکھ دبائے اشارہ کیا۔
“سوری میری زندگی میں “ش” سے شروع ہونے والے الفاظ کی گنجائش نہیں ۔”
مطلب واضع تھا شوہر اور شادی۔
بے مروتی سے کہتی اس نے ارتضٰی کو دروازے کی طرف اشارہ کیا تھا۔
“آہاں واٹ آ کنفیڈنس مسسز اگر جو معروش کی روشنی کو چرائے “ع “کی رمز کو” ش” سے ملائے “ق” تک نہ لایا تو نام بدل دیجئے گا؟”
دروازے کی جانب اشارتی انداز میں اٹھا اسکا ہاتھ اپنی گرفت میں لیتے پھر سے چیلنجنگ آئیز نے اسے دیکھا۔
جبکہ ایک لمحے کوتو وہ اسکے لفظوں کے جال میں محسور ہوئی تھی مگر مردانہ ہاتھ میں دبے اپنے ہاتھ کو محسوس کرتے سراسیمہ ہوتے اپنا ہاتھ چھڑایا ۔
“تو پھر نیا نام سوچ لیں آپ ۔”
اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے آزاد کیے بولی تھی۔
“حسن اگر مغرور نہ ہو تو خراج تحسین پیش کرنے کا مزہ نہیں آتا اور جب عقیدت مند کے سامنے محرم ہو تو بھلا کون کافر رہنا چاہے گا۔”
اسکا انداز سے عامیانہ پن جھلک رہا تھا کم از کم معروش کو تو یہی لگ رہا تھا۔
“اگر آپکی ڈائیلاگ بازی کی بکواس کلاس ختم ہوگئی ہو تو جاسکتے ہیں آپ۔”
دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے اب کے نظروں سے دفعان ہونا کا واضع اشارہ تھا ہاتھ سے راستہ دکھانے کی جسارت اب نہیں کی مگر وہ ڈھیٹ پن کے سب ریکارڈ توڑے اسکے سامنے کورنشس بجا لایا ۔
“جو بات تم میں ہے وہ آپ میں آپ میں کہاں۔”
صاف اسے ٹونٹ کیا گیا جو کب سے تم تم لگائے اب آپ جناب کی فارمیلٹیز پہ آگئی تھی۔
“ہنسنا تھا ڈف۔”
دانت پسیچے چہرے کا رخ موڑ لیا گیا ارتضٰی حیدر کیلئے اسکا انداز مسلسل ہی انسلٹنگ تھا مگر وہ بلا کا اناپرست شخص اسکی کسی بات کو دل پہ لیے بنا اپنے مزاج سے ہٹ کے سامنے تھا۔
༻━━━━━⊱༻
یہ منظر تھا لندن کی ایک جیل جسکا نام تھا ایچ ایم پریسن پینٹن ویل (غیر رسمی طور پر “دی ویل”) انگریزی کیٹیگری بی کے مردوں کی ایک جیل ہے ، جو اس کی مجازی جیل خدمات کے ذریعہ چلتی ہے۔ پینٹون ویل جیل پینٹون ویل میں نہیں تھی ، لیکن شمالی لندن کے لندن بورو کے آئلنگٹن کے علاقے برنزبری علاقے میں کیلیڈونین روڈ پر مزید شمال میں واقع تھی ۔
“کیا نام ہے تمہارا ” پسٹل کی ناب اسکی پیشانی پہ ٹکائے تیج اس سرخ وسپید رنگت مائل شخص سے مخاطب تھا۔
مگر وہ بھی گونگے کا گڑ کھائے بیٹھا تھا تبھی نفی میں سرہلاتے بولنے سے انکاری ہوا۔
“آخری بار پوچھ رہا ہوں دوسری صورت تمہارا راستہ یہ سیل اور تمہارے اپنے کنٹری کے ہی لوگ ہونگے ادھر سے پھر بھی ہمدردی کی بھیک مل سکتی مگر ۔۔”
اس نے باتوں سے ہی ڈرائے اسے سامنے موجود اشخاص کی طرف اشارہ کیا ۔
وہ ایک عادی مجرم شخص اکثر وبیشتر یہاں آتا رہتا تھا مگر پہلی بار کسی نرم لہجے والے غیرملکی سول آفیسر سے اسکا واسطہ پڑا تھا اپنے لیے گنجائش نکلتے دیکھ اس نے مثبت میں سرہلایا تھا گویا اسکے سوالوں کے جواب دینے کو راضی تھا۔
“ایلس ڈین ” یک لفظی جواب پہ تیج نے بھی گردن کو ہلکا سا ہلایا ساتھ میں ایک نظر اپنے ساتھیوں پہ ڈالی اسکا اشارہ سمجھتے وہ لوگ باہر چلے گئے تھے اب تیج اور ایلس سامنے موجود تھے جہاں ٹیبل کے ایک طرف ایلس جبکہ دوسری جانب تیج موجود تھا۔
“لٹل کریپٹو کوئین رائٹ ہینڈر ایم۔آئی۔رائٹ؟”
اب کے چہرے پہ کرختگی واضع تھی جبکہ ایلس بری طرح چونکا تھا وہ جو سمجھ رہا تھا اب بھی اسکے کھاتے میں کوئی چوری کا جرم ہوگا “کریپٹو” کا نام۔سنتے وہ بوکھلایا تھا نفی میں ہلتا سر سامنے والے کی آنکھوں کے سرد تاثر دیکھ بے اختیار اثبات میں ہلا تھا۔
