Sayah Kaar by Uzma Mujahid NovelR50609 Sayah Kaar (Episode 21,22)
Rate this Novel
Sayah Kaar (Episode 21,22)
Sayah Kaar by Uzma Mujahid
احمد کا ان دونوں سے مکمل بائیکاٹ چل رہا تھا۔ ایسے میں ایک دن واسق کو پھر سے وسام کے بارے مخبری ہوئی تھی اس بار وہ کوئی گنجائش نہیں رکھنا چاہتا تبھی اس نے مقامی پولیس اسٹیشن سے انسانی سمگلک کی چارج شیٹ بنوائے انکے ہمراہ اس گھر پہ دھاوا بول دیا مگر گھر پہ کوئی بھی شخص موجود نہ تھا سوائے وسام اور شموئیل کے ساتھ میں ایک لڑکی جسکا نام فرشتے تھا وسام کی ہم عمر وہ لڑکی شموئیل اور وسام کی سوتیلی ماں تھی۔
کچھ دن پولیس کسٹڈی میں رکھنے کے بعد انہیں آرمی شلٹر ہاؤس میں منتقل کردیا۔واسق ہمت مجتمع کیے وہاں تک چلا آیا تھا جہاں شموئل کے قریب بیٹھی وسام کسی گہری سوچ میں گم تھی۔
“اہہمم ۔”واسق نے کھنکارتے اسے اپنی جانب متوجہ کیا اور وہ چونکتے اپنی ریشمی چادر سے چہرہ چھپا گئی۔
“سوری مجھے انفارم کرکے آنا چاہئے تھا مگر رہا ہی نہیں گیا۔”واسق نے شرمندہ سے لہجے میں کہا جبکہ وہ رخ موڑے تھے وہ اسکے چہرے سے کچھ بھی اخذ نہیں کرسکا تھا۔
“کیسی ہیں آپ اور شموئ۔۔”
“کیوں ہاتھ دھو کے آپ ہمارے پیچھے پڑ گئے ہیں آخر کیا بگاڑا ہے ہم نے تمہارا کس بات کا بدلہ لے رہے صاحب۔ ہم غریب لوگ تمہارا کیا مقابلہ کرے گا ہمارا گھر چھڑوا دیا پتا نہیں ہمارے بابا کہاں چلے گئے۔”
واسق کو جھڑکتے اسکی آواز رندھ گئی ۔اسکا دل تڑپ اٹھا تھا اس لڑکی کے آنسوؤں کا سوچتے ہوئے۔
“صاحب اسیلئے ہم لوگ فوجیوں کو پسند نہیں کرتے جہاں جاتا ہمارا گھر بار چھڑوا دیتا۔ہمیں ہمارے بابا پاس جانا ہے ہم نہیں رہنا چاہتا یہاں۔”
وسام کے حتمی رویے اور ساتھ میں فوج کے خلاف اسکی نفرت نے واسق کو توڑ سا دیا تھا ایک دم ہمدردی کا بخار اڑن چھو ہوا ۔
“اوکے جو کہنا ہے جو سمجھنا ہے سمجھو مگر یہاں سے آگے کے بہت راستے ہیں تمہارے لیے مگر واپسی کے راستے بند سمجھو۔” وہ جو اسے نرم لفظوں کے دلاسے دینے آیا تھا اسکی نفرت دیکھ واپس ہولیا وہیں اندر داخل ہوتی فرشتے اس سے ٹکراتے بچی۔
“معاف کرنا سر ہم جلدی میں تھے۔” وہ اسے دیکھتے بری طرح متاثر ہوئی۔واسق نے ایک بار مڑ کے پیچھے دیکھا وہ جو اسی کو دیکھ رہی تھی اسکے یوں پلٹنے کی امید نہیں تھی فوراً رخ پھیرا۔واسق کے چہرے پہ ایک مسکراہٹ نے جھپک دکھائی وہیں فرشتے ان دونوں کے درمیان ہوتے لکا چھپی کے کھیل سے جیسے محظوظ ہوئی تھی ۔
“پسند کرتا ہے تمہیں ویسے ہے کافی خوبصورت۔” فرشتے نے اسکے برابر پسکڑی مار کے بیٹھتے کہا۔
“نہیں ہم نے تو اسکو پہلی بار دیکھا ہے۔” وسام نے فوراً وضاحت دی مبادہ وہ اسے غلط نہ سمجھ لے۔
“کہتی ہوتو مان لیتی ہوں مگر اسکی آنکھیں تو کچھ اور ہی کہہ رہیں۔” فرشتے کی جانچتی نگاہوں نے کافی گہرائی سے اسکا جائزہ لیا جو اسکی فضول کی۔انوسٹیگیشن کو اگنور کرتے شموئیل کی طرف جھکتے اسکا ماتھا چومنے لگی تھی۔
فرشتے نے ایک نظر دروازے پہ ڈالی جہاں سے وہ ابھی گیا تھا۔
“اگر وسام کا اس شخص میں کوئی انٹرسٹ نہیں تھا تو یقیناً اسکا چانس بن سکتا۔”ایک شیطانی سوچ نے اسکی سوچوں کا رخ موڑ دیا وہیں وسام اپنی آنے والی زندگی کو سوچتے ہلکان ہورہی تھی۔
وسل اور ارلام بجنے پہ سب لوگ بوکھلائے سے باہر آئے جہاں سیکیورٹی گارڈ کی کسٹڈی میں سر جھکائے وہ دونوں مجرموں کی طرح ٹہرے تھے ۔ان سب کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی کہ وہ کون لوگ ۔احمد اور روحان جانتے تھے کہ واسق کیلئے یہ سچویشن کتنی امبریسنگ ہوگی تبھی ان دونوں کی قدم پیچھے کو مڑے تو انکی دیکھا دیکھی باقی لوگ بھی اپنے کمروں کا رخ کرنے لگے۔ایک واضع اشارہ تھا جو وہاں موجود تمام افسران سمجھ رہے تھے۔آہستہ آہستہ جگہ خالی ہوئی تو وہ بھی آگے بڑھا تھا۔
“منع کیا تھا نا یہاں سے نکلنے کی کوشش مت کرنا پھر قدم باہر کیوں نکالا۔”اس نے بنا گارڈ کی پرواہ کیے دھاڑنا شروع کردیا سہمی سی وسام نے شموئیل کا ہاتھ پکڑا ۔
“ہمیں یہاں نہیں رہنا ہمیں گھر جانا ہے اپنے بابا ساتھ۔”اسکی آواز میں رونے کا عنصر نمایاں تھا تبھی وہ تھوڑا نرم پڑا تھا۔
“جانتی ہو نا تمہارے بابا کیا حشر کرنے والے تھے یوں برائے فروخت کا اشتہار لگا کے تمہاری قیمت لگا رہے تھے وہ۔”واسق نے اپنی کنپٹی کو مسلتے کہا جبکہ وہ نڈر سی اسکے سامنے ٹہری تھی۔
“جو کرتے ہمارے بابا ہیں وہ ہمارا اچھا برا جانتے ہیں آپ ہمیں جانے دیں بس۔”اسکے گلے میں آنسو اٹکے تھے۔
“جانے دو نا صاحب ہمیں یہاں نیند نہیں آتا ہے۔”شموئیل نے بھی منت بھرا انداز اپنایا ۔واسق کا دل کررہا تھا ان دونوں پاگلوں کو تھپڑ مارے لیکن وہ پہلے ہی کافی آکورڈ سچویشن میں آچکا تھا بنا کوئی جواب دیے وہاں سے ہٹ گیا تو سیکیورٹی گارڈ بھی انہیں واپس کیمپ لے آیا جہاّں فرشتے خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی اور اسکے فرشتوں کو بھی نہیں پتا تھا کہ وہاں کیا واردات گزری ہے۔
“کیپٹن ” کرنل صاحب کی آواز پہ روم کی جانب بڑھتے واسق کے قدم رکے تھے اس نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا وہ ناچاہتے ہوئے بھی اس لڑکی کی وجہ سے انتہائ ذلیل ہوچکا تھا۔اور کرنل کی بات سنتے اسے ایک جھٹکا لگا ایسا نہیں تھا کہ انہوں نے اسے کوئی رونگ مشورہ دیا بلکہ خواہش تو اسکی بھی یہی تھی مگر ایسے نہیں۔
پر اب اسکی بیوقوفیوں کو روکنے کو کوئی چارہ ہی نہ تھا۔اگلے دن کرنل صاحب اس عارضی پناہ گاہ کی طرف بڑھے وہ نہیں جانتا تھا کہ انہوں نے وسام سے کیا کہا تھا مگر وہ بےیقین سا بیٹھا تھا جب اگلے دو گھنٹوس میں وہ وسام ابرق سے مسسز وسام واسق بنی اسکے سامنے بیٹھی تھی۔
یہ سب اتنی آسانی سے ہوجائے گا کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا اور اکثر اللّٰہ اپنے بندوں کو انکی چاہ بہت جلد عطا کرکے بھی کڑی آزمائش میں ڈال دیتا۔واسق نے جو چاہا وہ پا لیا ۔آرمی بیس کیمپ میں اس وقت ایک جشن کا سما تھا کوئی سزا نہیں نہ کوئی ٹارچر نہیں بلکہ آج کھانے میں بھی ان لوگوں کو سانپوں کے بجائے قورمے اور بریانی سے تواضع کی گئی تھی۔
سب خوش تھے سب سے زیادہ روحان اور احمد جبکہ ارتضٰی ان سے دور تھا مگر واسق چاہتا تھا کہ اسے بھی اپنی خوشیوں میں شریک کرے۔اپنی مشکلوں میں پریشان ارتضٰی اسوقت را ایجنٹ بنے معروش کی راہ آسان کرنے پہ لگا تھا۔
فرشتے بے یقینی سے گیم کو پلٹتا دیکھ رہی تھی وہیں۔وسام کی گہری چپ اسکے لاکھ جتن پہ بھی نہ ٹوٹی تھی اور نہ ہی کبھی وہ کسی کو بتانے والی تھی اسکا باپ ایک “را ایجنٹ” تھا تو” انڈین اور افغان افواج “کیلئے پاکستان میں رہتے انکی جاسوسی کرتا تھا اور اسوقت آئی۔ایس۔آئی کی صعوبتیں برداشت کرتے شخص اور شموئیل کے اچھے مستقبل نے اس نے اپنی ضد،انا کو پیچھے چھوڑے کرنل صاحب کی بات پہ سرجھکا دیا تھا جنکے مطابق انکے خاندان کی بقا اور مستقبل واسق سے جڑا ہے ۔اس سے پہلے کہ وہ یہ جان لے کہ شموئیل اسکا بھائی اور ابرق خان اسکا وعدہ فراموش مجرم ہے وسام کو اس سے ایک محرم رشتہ قائم کرکے مکمل پناہ گاہ حاصل کرلینی چاہئے۔کرنل سر کی انٹیلجنس رپورٹ بہت سے چھپی حقیقتیں سامنے لائے تھی پر وہ مناسب وقت کے انتظار میں واسق سے سب چھپا گئے۔
ساتھ میں کرنل صاحب ایک اور خفیف اشارہ بھی کرگئے کہ ہوسکتا وہ بھی ابرق خان کی سگی اولاد نہیں بلکہ کسی کی گود اجاڑی گئی ہو۔ کسی انتقام کی خاطر ایسے میں اپنے باپ کیلئے پیدا ہوتا سافٹ کارنر بھی کرنل کے دیے گئے حقائق نے ختم کردیے اور ہمیشہ کیلئے لب سیے اس نے خود کو قسمت کے حوالے کردیا جسکا پہلا پڑاؤ واسق کی زندگی میں محرم کی حثیت سے داخل ہونا تھا۔
مختصر سا قیام ہے اور بس،
ہم یادیں چھوڑ کے چلے جائیں گے……
༻━━━━━⊱༻
گاڑی کی ہیڈ لائٹس آن ہوئیں تو ارتضٰی نے نیچے اترتے آنے والے کی جانب قدم بڑھایا۔وہ اسے ناسمجھی سے دیکھ رہی تھی تیز بارش میں بھیگتا وہ اسکی سائیڈ سے آتے دروازہ نوک کرنے لگا۔
“آجائیں واسق ہمیں گھر ڈراپ کردے گا۔” معروش نے سکون کی سانس لی یقیناً واسق اسی کے کہنے پہ ہی یہاں آیا تھا۔
اپنے گرد شال لپیٹے وہ اسکے ساتھ بڑھی دو گز کے فاصلے پہ بھی وہ بھیگ چکی تھی۔
“زیادہ انتظار تو نہیں کرنا پڑا آپ لوگوں کو۔”واسق نے گاڑی سٹارٹ کرتے کہا ۔ہیٹر آن تھا مگر بھی بھیگے کپڑے اسے بہت الرجک کررہے تھے۔معروش نے جواب دینا ضرور نہیں سمجھا تھا ارتضٰی نے کندھے اچکائے۔
“میں کیا کہہ سکتا”والی اسکی ادا دیکھتے واسق نے اسے دھموکا جڑا تھا۔
“بھابھی آپ تو ہم سب لوگوں کو خواہ مخواہ سزا دے رہی ہیں جبکہ اس سارے پلین کا ماسٹر مائینڈ محترم کیپٹن ارتضٰی میر حیدر ہیں۔” واسق چونکہ اسوقت انکا میزبان تھا اسیلئے گاڑی میں پھیلے فرسٹریٹڈ ماحول کو ہلکا پھلکا کرنا چاہا وہیں اسلام آباد کا خراب موسم گاڑی چلانے میں دشواری ڈال رہا تھا۔
“جانتی ہوں مگر جو اٹیٹیوڈ اختیار کیا گیا کسی طرح بھی قابل معافی نہیں۔”معروش بھول رہی تھی کہ وہ خود ایک مجرمہ تھی اور وہ کسی پہ معافی تلافی کے چارج نہیں لگاسکتی ۔
“اوکے مان لیا ہم سب غلط ہیں پھر بھی صلح کی کوئی امید نظر آتی ہے۔”واسق نے ہتھیار ڈالے ۔ارتضٰی جانتا تھا کہ واسق معروش کے دل میں آئی گرہیں کھولنا چاہتا تبھی ان دونوں کو معاملہ سورٹ آؤٹ کرنے دیا۔
“یو نو واٹ کل آپکے محترم ہیسبنڈ صاحب میرے لیے ایک آفر لائے تھے۔”واسق کے شرارتی انداز پہ جہاں ارتضٰی کے پاؤں سے زمین سرکی وہیں معروش کی ساری حسیات جاگیں۔
“کونسی آفر؟”وہ جو دل میں ورد کررہا تھا کہ معروش یا واسق کسی ایک کی زبان کو بریک لگ جائے ان دونوں کو بےبسی سے دیکھنے لگا۔
“آپکی فرینڈ حنا سے شادی کی آفر۔”واسق نے بلاسٹ کیا تو معروش نے استہرائیہ نظروں سے اسے دیکھا جبکہ وہ مجرموں کی طرح سرجھکا گیا۔مجال ہے جو کبھی اسکے دوست کہیں پہ کوئی پردہ رکھ لیں۔
گھر آتے وہ بغیر اسے دیکھے کمرے کی طرف بڑھ گئی جبکہ وہ واسق کو مکے گھونسوں سے نوازے اسکے پیچھے آیا مگر روم لاک تھا۔
بعد میں بات کرنے کا سوچتے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔حنا نے معروش کے تیور بخوبی ملاحظہ کیے تھوڑی دیر بعد وہ بھی ارتضٰی کے روم کی طرف بڑھ گئی۔
چینج کیے وہ مسلسل ہیجانی کیفیت میں کمرے میں چکر لگا رہی تھی ۔آخر ارتضٰی کیلئے حنا اتنی اہمیت کی حامل کیوں تھی جو وہ اسے اپنے دوست سے بھی نتھی کرنا چاہتا تھا؟جبکہ اسکا فیملی بیک گراؤنڈ کافی مضبوط تھا پھر وہ یہاں کیوں تھی؟وہ سوال جو اسے ارتضٰی سے پہلے ہی پوچھنے تھے اب تک اگنور کرتی آئی تھی ۔مگر وہ اس دھوکا باز لڑکی کی پرچھائی بھی اپنے گھر میں نہیں دیکھنا چاہتی تھی یا پھر ارتضٰی پہ..
جب کہیں چین نہیں ملا تو اس سے بات کرنے کو ارتضٰی کے کمرے کی طرف بڑھی۔بے دھیانی میں وہ دروازہ ناک کیے بغیر ہی آگئی تھی۔
“اگر میرا وجود اسے اتنا ہی کھٹکتا ہے تو میں چلی جاتی ہوں یہاں سے۔”سامنے ہی وہ بیڈ پہ بیٹھی آنسو بہا رہی تھی جبکہ اسکے برابر میں بیٹھےارتضٰی نے تسلی کے انداز میں اسکے شانے پہ ہاتھ رکھا ہوا تھا۔
“اوہ تو یہ سب چل رہا ہے گڈ شرم تو نہیں آتی ہوگی تمہیں یوں میرے پیٹھ پیچھے میرے شوہر سے ناجائز روابط بڑھاتے۔” معروش کیلئے ناقابل برداشت منظر تھا جبھی وہ دھاڑتی ہوئی اسے بازو سے پکڑے کھڑا کرگئی۔
“کونسا شوہر جسکو تم ایک کاغذ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی۔”حنا کی آنکھوں کی چمک دیکھتے وہ اسکا منہ نوچ لینا چاہتی تھی جب ارتضٰی درمیان میں آیا۔
“ڈونٹ ڈو دس معروش آئی ول ایکسین یو ۔” ارتضٰی کو معروش کا انداز برا لگا تھا جو حنا کے ساتھ اسکی ذات کو بھی رگید رہی تھی۔
“کیوں یہ میرے بابا کا گھر ہے تمہاری عیاشیوں کا اڈہ نہیں اگر اتنی ہی لگی ہے تو کہیں اور جاکے۔۔۔”
“معروش۔”ارتضٰی کا ہاتھ اٹھا تھا جبکہ وہ چپ سی اسے دیکھنے لگی۔
“کیوں میری نفرت میں تم اتنی اندھی ہورہی کہ ایک معصوم لڑکی پہ الزام لگا رہی میں سوچ نہیں سکتا تھا کہ تمہاری سوچ اس حد تک گر سکتی۔بہت چھوٹی سوچ ہے تمہاری بعض دفعہ آنکھوں دیکھا سچ نہیں ہوتا۔”
وہ گال پہ ہاتھ رکھے ہمیشہ کول رہنے والے ارتضٰی کو دیکھ رہی تھی جسکی زبان سے نکلتے شعلے اسے بھی جلائے جارہی تھی ۔تکلیف تھپڑ کی تھی یا بےاعتباری کی اسکی آنکھوں سے آنسو کی جھڑی نکلی تھی جو ارتضٰی کو ایک دم شرمندہ کرگئی۔
خالی نظروں سے انہیں دیکھتے وہ بھاگتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
“ایم ۔سوری ارتضٰی میری وجہ سے۔۔”
“اٹس اوکے تم جاؤ ڈونٹ بی اورر تھنکڈ ایوری تھنگ از اوکے۔” حنا کو تسلی دیتے وہاں سے جانے کو کہا جبکہ اسکے چہرے پہ کھلتی فاتحانہ مسکراہٹ سے وہ انجان بار بار اپنا ہاتھ مسل رہا تھا۔اسے معروش کو تھپڑ نہیں مارنا چاہیئے تھا ۔اسکی غلطی پہ کی جانے والی غلطی یقیناً معروش کو بدگمان کردے گی اور اس وقت وہ اس مقام
ٹہرا تھا جہاں معروش کو چھوڑنا موت کو گلے لگانے کے مترادف تھا۔کیونکہ وہ لڑکی اپنی خامیوں اور اپنی پوری ہستی سمیت ارتضٰی کی رگ رگ میں بسنے لگی تھی اسیلئے وہ ایک غیر لڑکی کی خاطر معروش کو خود سے بدگمان نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اس سے پہلے کہ حنا اسکے اور معروش کے درمیان مزید اختلافات کی وجہ بنے اسے اسکے اصل ٹھکانے تک پہنچانا ضروری تھا۔ بہت کچھ سوچتے اس نے موبائل اٹھائے کنٹیکٹ ہسٹری سے نمبر نکالا اور کال ملا لی۔
“بعض چیزیں اپنے اصل مقام پہ اچھی لگتیں ۔”
༻━━━━━⊱༻
بادلوں کی گرج کی آواز پہ وہ چونکتا ہوا باہر نکلا تھا۔وہ کب سے جاچکی تھی اور وہ اکیلا ہی سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔۔۔۔
اپنے کمرے کی طرف بڑھتے اسکی بے ساختہ نظر انوشے کے روم کی جانب گئی ۔وہ اپنے قدموں کو اسکی طرف بڑھنے سے روکنا چاہتا تھا مگر خود پہ اختیار کہاں۔
سامنے ہی وہ خود کو ساڑھی سے آزاد کیے ہلکے پھلکے نائٹ سوٹ میں ڈریسنگ مرر کے سامنے بیٹھی چہرے پہ مساج کرتی نظر آئی۔
اپنی سوچوں میں گم اس نے روحان کو اندر آتا دیکھا ہی نہیں ۔ضیاء صاحب اور اپنی فیملی کے رویے کو سوچتے وہ بری طرح ڈس ہرٹ تھی ۔جبکہ روحان کیلئے اسکا سوگوار حسن امتحان ثابت ہورہا تھا اسکی سوچوں تک رسائی چاہی تو جیسے گلے میں کسی کڑوی چیز کا ذائقہ گھل سا گیا تھا۔
فر کے نائٹ ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس وہ مخملی گڑیا سی لگ رہی تھی سوائے پلکوں کے لرزنے کے ہر عضو خاموش تھا۔روحان نے آگے بڑھتے احتیاط سے اس مومی گڑیا کو چھوا جیسے وہ اسکے ہاتھ لگانے سے پگھل نہ جائے۔
انوشے بھی ہوش میں آئی تو چونکتے ہوئے کھڑی ہوئی سامنے روحان کو دیکھتے اسے گھبراہٹ ہوئی ناجانے آج کونسا الزام اسکے سر لایا تھا۔
اس نے ہاتھ بڑھائے انوشے کو خود سے قریب کیا تو وہ بھی اسکی تابع گڑیا بنی چلی آئی تھی۔
“جانتی ہو تمہارے گناہ کبھی معاف کرنے کے ہمت نہیں پاتا میں خود میں مگر میں یکطرفہ جنگ سے ہار چکا ہوں۔”روحان نے اسکے کھلے بالوں میں سر گھسیڑے اپنے آنے کی وجہ بتائی تھی جبکہ وہ مجسمہ بنی سانسیں روکے ٹہرے تھی ۔اگر سانس لی تو کوئی روحان کی شان میں گستاخ نہ ہو جائے۔
دل لے کے جس نے درد محبت عطا کیا
مانگیں گے اب دوا بھی اسی مہرباں سے ہم۔۔۔۔۔۔۔
“بہت بار چاہا سب بھلا کے آگے بڑھ جاؤں مگر “کم ظرف” ہوں نا اتنا آسان کہاں ہے میرے لیے یہ سب مگر تھک گیا ہوں۔” اسکے گرد اپنے بازو کا حصار باندھے اپنا سارا وزن اسکے ناتواں کندھوں پہ منتقل کیا تو وہ ایک دم جھلا سی گئی تھی مگر اسکی پکڑ اتنی مضبوط تھی کہ وہ اپنی مرضی سے گر بھی نا سکی۔
“مم میں سب بتا دونگی پپ پر کک کوئی یق۔۔۔”وہ ایک دم سے بوکھلاتی اپنی صفائی دینا چاہتی تھی مگر روحان کی انگلی نے اسکے دونوں لبوں کا گھیراؤ کرتے خاموشی کے قفل لگائے تو وہ بےبس ہوئی تھی۔
“وقت تو گزر گیا کچھ بھی کہنے سننے کا ۔تمہاری چاہت نے سب کو ڈوبا دیا روحان علی کا پیار،دوستی،واسق کی زندگی، بھائی،مان اور ۔۔۔۔” اسکی بہکی باتوں سے انوشے کو لگا شاید اس نے ڈرنک کی ہے مگر وہ اسکے ساتھ تھی اور وہ کبھی ڈرنک نہیں کرتا تھا مگر اسکے بہکے انداز۔۔
“جانتی ہو درد اس اسوقت تک قابل برداشت ہوتا ہے جب یقین ہو کہ زخم دینے والا کوئی انجان کوئی غیر ہے مگر جب کوئی اپنا بنا کے زخم دے تو وہ درد روح کھینچنے والا ہوتا۔”روحان کی بات پہ اسکی آنکھوں سے آنسوؤں رواں ہوگئے۔
“میں یہ کبھی نہیں مانوں گی لفٹین صاحب کہ انوشے ضیاء کو آپ سے محبت ہے۔” ایک کھلکلاہٹ ابھری تھی۔
“نا مانو جب یقین ہے آنکھوں میں لکھا نظر آتا پھر کسی سند کی ضرورت ہی نہیں۔” خوشفمہی کا علاج حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا۔”
“کچھ مدہم سرگوشیاں ہیں جو سانس نہیں لینے دیتی کیا تم انہیں سن سکتی ہو؟ ہاں تمہیں بھی انہیں سننا چاہیئے مگر تمہیں فرق نہیں پڑتا نا۔” روحان کی آواز کا درد انوشے کو بھی بے آواز آنسو رولائے جارہا تھا وہ اسے بتانا چاہتی تھی کہ وہ اکیلا ہی ہجر کا درد نہیں سہہ رہا وہ اکیلا ہی بدگمانی کے طوفان میں نہیں ہے۔اتنا درد وہ بھی سہہ رہی مگر وہ روحان علی کی طرح اعلان نہیں کرسکتی پوز نہیں کرسکتی۔
“روحان۔۔”اسکی آواز گلے میں اٹکی تھی جب روحان نے نفی میں سرہلایا۔
“میں خود کو ایک اور درد دینا چاہتا ہوں جانتی ہو تمہارے ہردرد سے لذت سی محسوس ہونے لگی ہے میرے وجود کی تکمیل کبھی ایسے ہوگی سوچانہیں تھا۔ مگر میں تھک گیا ہوں اس نفرت سے لڑتے تم سے لڑتے مجھے سنبھال لو انوشے اس سے پہلے کہ یہ کشتی کسی بڑے طوفان کی نظر ہوجائے۔”اسکے کندھے پہ سر ٹکائے خود کلامی کی تھی ۔
تبھی اسکے جزبات لفظوں کی صورت لبوں پہ آن ٹکے جنکا بھرم رکھنا تھا انوشے کو۔
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو
میں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کر دو
نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہے
اس قدر ٹوٹ کے چاہو مجھے پاگل کر دو
تم ہتھیلی کو مرے پیار کی مہندی سے رنگو
اپنی آنکھوں میں مرے نام کا کاجل کر دو
اس کے سائے میں مرے خواب دہک اٹھیں گے
میرے چہرے پہ چمکتا ہوا آنچل کر دو
دھوپ ہی دھوپ ہوں میں ٹوٹ کے برسو مجھ پر
اس قدر برسو مری روح میں جل تھل کر دو
جیسے صحراؤں میں ہر شام ہوا چلتی ہے
اس طرح مجھ میں چلو اور مجھے جل تھل کر دو
تم چھپا لو مرا دل اوٹ میں اپنے دل کی
اور مجھے میری نگاہوں سے بھی اوجھل کر دو
مسئلہ ہوں تو نگاہیں نہ چراؤ مجھ سے
اپنی چاہت سے توجہ سے مجھے حل کر دو
اپنے غم سے کہو ہر وقت مرے ساتھ رہے
ایک احسان کرو اس کو مسلسل کر دو
مجھ پہ چھا جاؤ کسی آگ کی صورت جاناں
اور مری ذات کو سوکھا ہوا جنگل کر دو ۔۔۔۔(وصی شاہ)
سرگوشیوں میں گنگناتے اس نے انوشے کے کانوں کی لو کو چھوا تو جیسے اسکی جان لبوں پہ اٹکی تھی۔اسکی چاہت کے تقاضے غلط نہ تھے مگر نفرت کی جنگ میں محبت ہارتا یہ شخص گنہگار نا ہوکے بھی یہ سزا کاٹ رہا تھا گنہگار تو انوشے بھی نہ تھی مگر وقت نے اسے ایسے موڑ پہ لایا تھا جہاں آگے کنواں پیچھے کھائی تھی ۔سوائے ایک دوسرے کو الزام دینے کےوہ کچھ نہیں کرسکتے تھے۔
پھر بھی اس نے اس پیارے شخص کو سنبھال لیا تھا وہ جانتی تھی کہ اسوقت جزبات کی رو میں بہکتا روحان کل اپنی نفرت کے حصار میں لوٹ جائے گا مگر پھر بھی اس نے اسکی تھکن خود میں سمیٹی تھی کیونکہ بہرحال وہ شخص اسکی بھی محبت تھا جسے وہ ثابت نہیں کرپائی۔
“وہ بھی تو اسکی محبتوں کی اور نفرتوں کی تن تنہا وارث تھی ۔”
༻━━━━━⊱༻
“کسی بھی سنائپر کا کام شوٹ لیا اور ٹریگر دبانا نہیں بلکہ اسے بہت کچھ دیکھ بھال کے ٹریگر دبانا ہوتا۔”
ٹرینی کمانڈو کی آواز اسوقت کلاس میں گونج رہی تھی جہاں پہ کچھ دن فزیکل ٹریننگ کے ساتھ پریکٹکلز اور پڑھایا بھی جاتا تھا ۔ایک منظم کلاس کا منظر پیںش کرتے تمام کمانڈوز بہت غور سے ایک ایک نقطے کو سن رہے تھی وجہ یہ بھی کہ اچانک اٹھنے والا سوال اور اس پہ کسی بھی کیڈٹ کی عدم توجہ انہیں ایک لمبی سزا کی طرف لے جاسکتی تھی ۔
ہرچیز سے آگاہ ہونے کے باوجود وہ غائب دماغی سے وہاں بیٹھا سب سن رہا تھا ۔
“ہوا کی رفتار،ہوا کی ڈائریکشن ،رینج سب سے بڑھ کے ٹارگٹ کی موومنٹ آپشنل پوسبلٹیز کو فوکس میں رکھنا،لائٹ سورس اور فضائی دباؤ کے ساتھ اس چیز کا دھیان کہ ٹارگٹ محض ایک دھوکا تو نہیں ہے، ایک سنائپر کا گول ہوتا اپنی رینج کا تعین ایک انچ دائیں اور بائیں تک رکھیں ہوسکتا عین ممکن ٹائم پہ ٹارگٹ حرکت کرجائے اور آپکا نشانہ خطا ہوجائے جو یقیناً ایک ناقابل تلافی جرم ثابت ہوسکتا۔”
“مینوں عشق دا لگیا روگ میرے بچڑینے دی نئیوں امید۔”روحان کی زبان میں کھجلی ہوئی تھی اتنے اہم۔نقطے پہ جب سب فلی اٹینٹولی لیکچر سن رہے تھے ایسے میں مکمل خاموشی میں احمد کی کھی کھی نے ماحول میں ارتعاش پیدا کیا۔
“احمد کے بازو میں بیٹھے نصراللّٰہ کی بائیں آنکھ پھڑکی اسے پہلے ہی شک تھا اگر وہ احمد کے ساتھ بیٹھے گا کسی کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوگا پر جٹ اتنی جلدی رنگ دکھائے گا اس نے سوچا ہی نہیں تھا۔
“ہو از لفینگ ایم آئی جوکنگ؟” انسٹرکٹر کی کڑیل آواز گونجی تو سب کی گردنیں آگے پیچھے کو اٹھیں۔
“لوگئی بھینس پانی میں۔”منصور کی آنکھوں میں پانی آیا کیونکہ واقعی وہ خود تو ڈوبا تھا باقیوں کو بھی ساتھ لے ڈوبا کھی کھی سے زیادہ ناقابل معافی جرم گردنیں موڑنے کا ٹہرا اور اگلے پندرہ منٹ میں ملک کے بہترین سنائپرز اپنی باقی کی ٹریننگ سخت جاڑے میں بھی برفیلے پانی میں باتھ لیتے دکھائی دے رہے تھے۔
خون جمانے والی سردی میں مائنس پوائنٹ پہ جاتا ٹھنڈا پانی انہیں کالے پانی کی سزا سے کم نہیں لگ رہی تھی ۔
“یہاں رہتے آپ مستیاں کریں ،اٹھکیلاں کریں یا کھی کھی کریں کوئی آپ کو نہیں روکے گا۔” شرٹس اتروائے وہ چاہ کہ بھی جسم کا ٹمپریچر نارمل نہیں کرسکے تھے۔
“یار کیا شعبدہ بازی بھی حرام ہے اور جب سے یہ اچھا خاصہ بندہ مجنوں بنا میرا ہاسہ ہی نہیں رکتا ۔”
روحان کی دہائی پہ واسق نے اسے آنکھیں دکھائیں۔
جب سے وسام اور اسکا نکاح ہوا تھا وہ مسلسل انکے اٹھتے بیٹھتے نشانے پہ تھا۔وسام اور شموئیل سمیت فرشتے کو بھی فوجی اپارٹمنٹ منتقل کردیا تھا ایک لفٹین کمانڈو کی بیوی ہونے کی حثیت سے اسکا پروٹوکول بنتا تھا جبکہ نکاح کے بعد ان دونوں کا ہی سامنا نہیں ہوا تھا ۔
جبکہ اپنی ٹریننگ کے اہم حصے میں اسکا غیر سنجیدہ انداز روحان کو چین نہیں لینے دے رہا تھا۔
سنائپر کا مرکزی کردار میدان جنگ میں صرف ٹریگر دبانا نہیں بلکہ جاسوسی کرنا بھی ہوتا۔زمین ،پہاڑو ں جھاڑیوں،پرندوں سے لے کے درختوں کی چادر اوڑھنے میں ماہر یہ سنائپر چھپنے میں بھی ماہر ہورہے تھے ۔جو مستقبل میں دشمنوں کی صف کے قریب ترین رہتے انکی حرکات و سکنات کی مخبری پیچھے کمانڈ کو بھیجتے انہیں دشمنوں کی تعداد ،انکی طاقت اور ایگزیکٹ لوکیشن کو بھی گہرائی سے ناپتے۔
سنائیرز عام کمانڈ کی طرح ہر چیز کو اہداف میں شامل کرنے کے بجائے صرف مخصوص لوگوں کو اپنے نشانے پہ رکھتے ہیں اور بجائے خود پہ زیادہ برڈن ڈالنے کے چند ایک ویل پلیڈ رائفلز سے صرف ان لوگوں کا نشانہ لیتا جو دشمن کی اول صف میں کمانڈنگ کا کام کررہے ہوتے۔ عام حالات میں بھی انکا ٹارگٹ وہی لوگ رہتے جو فوج کو چلاتے یا انکیلئے اہم ہوتے جن میں آفیسرز اور پائلٹ وغیرہ شامل ہوتے۔
ابھی وہ اس سزا سے سنبھلے نہ تھے کہ انہیں اپنے خوبصورت بالوں کی قربانی دینی پڑی تھی ۔کبھی نیکر پہنے برف پہ لٹائے جاتے کمانڈوز تو کبھی سر کے بل رولنگ کرتے کئی کئی میٹرز تک بھگائے جانے والے ان آرمڈ کمانڈوز میں تقریباً سو سے زیادہ لوگ شامل ہوئے تھے جو کسی ایک مرحلے پہ ہار مان لیتا اسے واپس انکی یونٹ کہ راہ دکھا دی جاتی۔
بظاہر ویل ڈریسڈ ،مینرڈ لوگ ایسے ہی مہذب لوگوِں کی صف اوّل میں نہ تھے بلکہ انکی ساری ڈسپلنری کے پیچھے کتنی مشقت اور محنت تھی اور کتنی ہی جان لیوا مار کھانی پڑی تھی تب جاکے یہ کمانڈوز تیار ہوئے تھے۔
“ایگل نیسٹ” کو خدا حافظ کہتے کتنی یادیں انکے ہمراہ تھیں جہاں سب نے بہت کچھ حاصل کیا ،سیکھا وہیں انکے گروپ میں منصور اور نصراللّٰہ کا اضافہ ہوچکا تھا جو یقیناً انکیلئے بہت خوش آئن تھا ۔
“ڈیتھ اینجل” بنے وہ لوگ اپنی دس ماہ کی سنائپر ٹریننگ بھی مکمل کرچکے تھے ون آرمڈ ون میں پاور شو کیلئے مکمل تیار ان جانبازوں میں کسی بھی مورچے کو فتح کرنے کی صلاحیت پیدا ہوچکی تھی۔ورلڈ بیسٹ سپیشل سروسز ملٹرین بنے وہ ہر جگہ ہر ملک اور پوری دنیا میں سبز ہلالی پرچم کی سرخروئی کو تیار تھے چاہے وہ سیاہ چن کے مائینس بیس گلشئیر پہ کام کرتے یا بحری اور فضائی حدود کو رکھوالی کرتے ان کا عزم انکے حوصلے بہت بلند تھے۔
واسق کیلئے یہ ایگل نیسٹ لائف چینجر ثابت ہوا تھا مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ اپنے ہمراہ خوبصورت زندگی نہیں بلکہ زندگی بھر کے پچھتاووں کا روگ لیے جارہے تھے کسی کی ان دیکھی نفرت اور انتقام کا حصہّ بننے جارہے تھے۔
وسام ،فرشتے اور شموئیل کو اپنے ہمراہ لیے اسلام آباد آگیا تھا جہاں پہ اس کے بابا ڈی۔جی۔ایم۔آئی مختیار صدیقی اسے ایک مکمل فوجی سنائپر سے لے کے مارخور کے اعزازات کے حصولیت پہ گلے سے لگانے کو تیار تھے وہیں یقیناً وسام اور باقی لوگ انکیلئے سرپرائز ثابت ہونے والے تھے۔
آستین کے سانپوں نے کاٹا ہے اس قدر..
کل شب میں ایک رسی سے ڈر گیا..
مجھ میں تو نہ تھی ایسی شخصیت مگر.
کل شب میں، میں اپنے سایہ سے ڈر گیا..
مدت ہوئی تھی تجھ سے ملے مگر..
کل شب میں تیرے سلوک سے ڈر گیا..
سسکیاں دل کی، دردء جدائی،
وہ میری اشک بار آنکھیں..
کل شب میں محبت سے ڈر گیا،
محبت سے ڈر گیا،
محبت سے ڈر گیا.
Episode 22
سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تمہارا نام لکھنے کی اجازت چھن گئی جب سے
کوئی بھی لفظ لکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تری یادوں کی خوشبو کھڑکیوں میں رقص کرتی ہے
ترے غم میں سلگتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
نہ جانے ہو گیا ہوں اس قدر حساس میں کب سے
کسی سے بات کرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
میں سارا دن بہت مصروف رہتا ہوں مگر جوں ہی
قدم چوکھٹ پہ رکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
ہر اک مفلس کے ماتھے پر الم کی داستانیں ہیں
کوئی چہرہ بھی پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
بڑے لوگوں کے اونچے بد نما اور سرد محلوں کو
غریب آنکھوں سے تکتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
ترے کوچے سے اب میرا تعلق واجبی سا ہے
مگر جب بھی گزرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
ہزاروں موسموں کی حکمرانی ہے مرے دل پر
وصیؔ میں جب بھی ہنستا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ………….
واسق نے ہاتھ میں پکڑی تصویر کو سینے سے لگایا کتنے اشک تھے جو آنکھوں سے رواں ہوئے۔ایک ایسا مقام جہاں پہ سب کچھ آپکے اختیارات میں ہو پھر بھی آپ بے بس ہوں کتنا تکلیف دہ ہوتا ۔آنکھوں سے آنسو جاری تھی کوئی مان سکتا تھا بھلا یونٹ میں اتنا سخت گیر نظر آنے والا کیپٹن واسق تنہائی میں بچوں کی طرح رو دیتا تھا۔جہاں سب اسکے متوازن اور سنجیدہ رویے کے شیدائی تھے۔
کبھی یہ زندگی کا یہ رخ تو دوستوں کے سامنے لایا نہیں وہ جانتا تھا اسکے دوست اس پہ جان قربان کرتے ہیں وہ اپنی وجہ سے انہیں دکھی نہیں کرسکتا تھا۔
مسسز مختیار کمرے میں داخل ہوئیں تو ہمیشہ کی طرح وہ بکھرا سا بیٹھا تھا۔بیشک وہ اسکی سگی ماں نہیں تھیں مگر اسکی برباد زندگی انہیں بھی کس کل چین میں نہیں رکھتی تھی۔ اس تصویر میں کیا تھا انہیں معلوم تھا۔ محض چھ مہینوں کی رفاقت میّں ساتھ رہنے والی ہنستی مسکراتی زندگی یا شاید اسکی عمر بھر کی تلاش کا دردناک ملن۔
“واسق۔” ماں کی آواز پہ اس نے بند پلکیں کھولیں۔
“کب تک ایسے رہوگے اس بات کو سال گزر گیا اسکی کوئی خیر خبر کچھ اتا پتا نہیں کیا پتا وہ سب بھول کے آگے بڑھ گئی ہو اور تم۔۔۔”
“نومما وہ کیسے آگے بڑھ سکتی بیوی ہے وہ میری۔”
ماں کی بات سے اختلاف کیے سینے میں اٹھتے درد کو مسلنا چاہا۔
“تمہارے بابا بتا رہے تھے ابرق بھیس بدل کر ترخم بارڈر پہ پکڑا گیا ہے اور وسام کے متعلق وہ بھی انجان ہے تو مطلب وہ اپنی مرضی سے کہیں گئی ہے بیٹا اور کتنا ڈھونڈو گے اور ڈھونڈا انہیں جاتا جو گم ہوئے ہوں۔ جو جان بوجھ کے روپوش رہیں وہ کبھی اپنے قدموں کی دھول کا بھی پتا نہیں چلنے دیتے۔”مسسز مختیار کا انداز نہایت سخت تھا۔
“یہی تو مسئلہ ہے آپ سب کا خودسے بہت کچھ پرسیو کرچکے ہیں آپ لوگ اور سب سے بڑھ کے پارٹی میں بابا اور ضیاء انکل کا” بی ہیور “جو انوشے کے ساتھ تھا آپ لوگ کب تک اسے ان گناہوں کی سزا دیں گے جو اس نے نہیں کیے ۔۔۔کب تک میں آپ لوگوں کو یقین دلاؤں میری وسام مجھے چھوڑ کے نہیں بھاگی۔” برداشت کی حدوں کو چھوتا وہ چیخ پڑا تھا ایک سال کی چپ یقیناً بہت بڑے طوفان کا سندیسہ دے رہی تھی۔
“ڈرائیور نے خود اسے پارلر۔۔”
“یہی یہی پہ آپ سب لوگ بہت بڑی مسٹیک کررہے ہیں بہرحال جب تک حقیقت سامنے نہیں آجاتی آپ لوگ ضیاء انکل کو سمجھائیں وہ انوشے کے ساتھ سہی نہیں کررہے۔”
واسق ایک نظر فریم شدہ تصویر پہ ڈالی جہاں مسسز مختیار اور مختیار صاحب کے قدموں میں ایک طرف وسام اور دوسری طرف واسق کے درمیان کہلکلاتا شموئیل ہیپی فیملی لک دے رہے تھےجبکہ اسوقت وہ انجان تھے کہ یہ انکی آخری فیملی فوٹو تھی کچھ تھا جو ہمیشہ کیلئے ان سے جدا ہونے والا تھا۔
༻━━━━━⊱༻
ہیڈ کواٹر میں آج انکو رپورٹ کرنا تھا تبھی خود کو باقاعدہ یونیفارم ڈریس اپ کیے روحان اور احمد رپورٹ کرنے پہنچے جبکہ واسق وسام اور شموئیل کے ہمراہ ڈی۔جی ہاؤس روانہ ہوچکا تھا۔
مستقبل میں وسام اور فرشتے کے گٹھ جوڑ سے بچنے کیلئے واسق نے کرنل صاحب کے کہنے پہ فرشتے کومیجر ضیاء الرّحمٰن کے گھر بھیج دیا تھا کیونکہ اسوقت کے حالات کا تقاضا یہی تھا۔واسق نہیں چاہتا تھا کہ کسی طرح بھی ابرق کی رسائی وسام یا شموئیل تک ہو جب وہ ان دونوں کے ہمراہ ڈی۔جی ہاؤس پہنچا وسام کے چہرے پہ چھائی گھبراہٹ وہ اسکی چادر میں چھپے چہرے سے بھی محسوس کرسکتا تھا۔
مگر ان دونوں کے درمیان مسلسل اجنبیت کی دیوار حائل تھی ۔وہ نہیں جانتا تھا کے آتے وقت بھی وسام کو کرنل رائے سے کیا کیا انسٹرکشنز ملیں ۔مگر واسق کو پہلے والی وسام سے بدلی نظر آرہی تھی جو بنا چوں چراں اسکے احکامات مانتے اسے قدم قدم پہ حیران کررہی تھی ۔ وسام اور فرشتے کے درمیان یقیناً ایک محترم رشتہ تھا مگر ان دونوں کی بیزاری کا یہ عالم تھا کہ جیسے انہیں ادھر ادھر ہوجانے سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔
مختیار صاحب کو اچانک شاک دینے کے بجائے انہیں مہمان متعارف کروائے انہیں کمروں میں بھیج دیا گیا تھا۔مسسز مختیار اور مختیار صاحب بہت کم گھر پہ ٹکتے تھے واسق کی ایک پریشانی یہ بھی تھی کہ شموئیل اور وسام کے لیے کوئی مستقل حل ہونا چاہیئے مگر فلحال اس نے مستقبل کی پریشانیوں کو پس پشت ڈالے اپنے کام پہ فوکس کرنے کا سوچا۔
ادھر میجر ہاؤس میں فرشتے کی آمد انوشے کو بہت اچھی لگی تھی مگر کسی اجنبی کو اتنی جلدی گھر میں گھسانے کے بجائے مسسز ضیاء کے کہنے پہ انیکسی میں ٹہرایا گیا تھا ۔انہیں وہ سرتاپیر نقاب میں ڈھکی عریبک عبایہ پہنے لڑکی نجانے کیوں کھٹکنے لگی تھی اور انوشے کی ساری ایکسائٹمنٹ دھری رہ گئی۔
“لفٹین روحان علی رپورٹنگ سر،لفٹین احمد جٹ رپورٹنگ سر “کی آواز پہ آفس میں موجود میجر ضیاء نے سر اٹھائے انہیں دیکھا۔پہلے کی نسبت انکی جسامت کی تبدیلی واضع اشارہ تھی کہ کمانڈو پریکٹس نے اپنا اثر دکھایا ہے۔
“سو جنٹلیمین کیسی رہی آپکی لرننگ جرنی۔” میجر ضیاء کی آواز سے چھلکتی حلاوت اور نرمی وہ واضع طور پہ محسوس کرسکتے دونوں کیلئے ہی یہ خوشگوار تھی۔
“بہت اچھی سر آنرڈ ٹو بی آ پارٹ آف اسپیشل سروسز۔”
روحان کی بات پہ احمد نے اثبات میں سر ہلائے ایگری کیا ۔
“جی!وہ تو بلکل رپورٹ ملی ہے کہ ہمارے لفٹین اور کیپٹن صاحب کیا چن چڑھا کے آئے ہیں۔” میجر ضیاء کا گہرا طنز انکے علاوہ کون سمجھ سکتا تھا۔
ان دونوں کے چہرے ایسے ہوئے جیسے کوئی کریلا چبا لیا ہو دل میں واسق کو صلواتیں سنائے اسکی خبر لینے کا سوچتے چہرے پہ مصنوعی مسکراہٹ سجانی چاہی۔
“سوگائز یقیناً ہم دیکھنا چاہیئں گے کہ آپکی ان صلاحیتوں سے ہم کیسے مستفید ہوسکتے جو دوسال کی کڑی محنت لگا کے کی گئی۔” میجر ضیاء نے پینسل اٹھائے انگلیوں کے درمیان گھمائی تین جوان اولادوں کے باپ ہونے کے باوجود وہ آج بھی ینگ مین لگتے تھے۔
“وی آر ریڈی سر۔”احمد کی آواز پہ روحان نے اسے گھورنا چاہا وہ تو اتنی سخت ٹریننگ کے بعد ایک لمبی چھٹی چاہتا تھا اور ساتھ میں اسے مما سے ملنے بھی جانا تھا مگر قسمت کہ انہیں ایک ٹاسک سونپ دیا گیا ۔
واسق نے اپنے باپ کے عہدے کا فائدہ اٹھاتے “گو اپ” کیا ہوا تھا جبکہ پورے مشن کی زمداری احمد اور روحان کے سر تھی۔
“اے بڑی زیادتی آ ہیمشہ انج ہوندا اے بڑے لوگ اپنڑی کرسی تو بڑا فائدہ چُکدے نے۔”احمد کے اندر ایک لاوا سا ابل رہا تھا ۔
“ہم کہتے تو تم ٹھیک بٹ اسکی نئی نئی شادی ہوئی تو اٹس اوکے چلتا ہے ہم دو ہیں نا وہی کافی ہے۔”روحان نے اسے سینٹی ہوتا دیکھ گد گدی کی تو وہ بھی ہنس پڑا اپنے دوستوں کے بارے برا نہیں سوچ سکتا تھا وہ ۔جہاں ارتضٰی دور تھا وہیں اب واسق کی بھی انہیں یاد آنے والی تھی مگر نصراللّٰہ اور منصور جسکو وہ لوگ لالہ کہتے تھے انکا ساتھ بھی شامل تھا۔
پوری ٹریننگ میں ان لوگوں سے اچھی بونڈنگ سی ہوگئی تھی چونکہ یونٹ الگ تھی سامنا نہ ہونے کے برابر تھا تبھی احمد اور روحان کی سجویشن پہ انہیں انکی ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔
“ہائے آئی ایم یور ٹیم ممبر انوشے ضیاء۔” وہ احمد کی طرف ہاتھ بڑھائے کھڑی تھی جب روحان اسکی آواز پہ متوجہ ہوا۔
“ایکسکیوزمی آپ ہماری ٹیم ممبر کیسے ہوسکتیں ہم کسی بھی نان پروفیشنل اور اریلونٹ بندے کو اپنے ٹاسک میں کیوں شامل کریں گے۔” احمد نے انوشے کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا جب روحان نے احمد کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا جبکہ انوشے کا ہاتھ ابھی بھی احمد کی طرف ٹہرا تھا ۔
“مجھے کسی کے آرڈز کی ضرورت نہیں آپ یہ کام میری ہیلپ کے بغیر کرہی نہیں سکتے۔”انوشے کا پرائوڈلی انداز روحان کو بہت عجیب لگا تھا۔اس میں کوئی شک نہ تھا سوائے ایک میجر کی بیٹی ہونے کے انوشے کا فوج کی کسی بھی فیلڈ سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔
“اوکے دین میں میجر سر سے خود بات کرلونگا۔”اسوقت وہ میجرضیاء کے آفس میں موجود محو انتظار تھے جب انکی آواز پہ تینوں چونکے تھے
۔
“کیا بات کرنی ہے لفنیٹنٹ صاحب ۔” روحان کے آخری الفاظ انکے کانوں میں پڑے تھے تبھی نشت سنبھالتے سوال کیا۔
“سر۔” احمد اور روحان ایک دم سیدھے ہوئے اور سلیوٹ جھاڑا جنہیں مخصوص فوجی انداز میں سرہلائے قبول کیا گیا تھا۔ انوشے نے بڑی فرصت سے کرسی سنبھالے ان دونوں کو تنقیدی نگاہ سے دیکھا بہرحال وہ رسٹریکشنز کے حساب سے ان سے بالاتر تھی۔
“سر میم انوشے کسطرح ہماری ٹیم ممبر ہوسکتیں۔”روحان کے سرپہ لگی ہوئی تھی اتنی آسانی سے کیسے بخش دیتا اسے جسکی وجہ سے سزا سہنی پڑی۔
“گڈ کیؤسچین بٹ مسئلہ یہ ہے کہ یہ کلییم بھی انوشے کی طرف سے ہی آیا جس میں اٹنیشن یہ بھی ہے کہ اسے اپنے فرینڈز کے انوولمنٹ پہ شک ہے۔ بھیجنے کو تو ہم کوئی بھی لڑکی بھیج دیں مگر ایڈجسمنٹ اور اعتماد حاصل کرنے میں جتنا ٹائم لگے ۔ایک پراپر جالساز اسٹریکچر تیار کرنے میں تب تک میرے خیال سے ہم اپنا مشن ایچوو کرلیں یا کمپلیٹلی لاس کردیں۔”
میجر ضیاء کے ان ڈیٹیل بتانے پہ وہ چپ رہ گیا۔
“ہننہ تو یہ سارا مشن انکی بیٹی کی فرمائش پہ ہورہا ہے صرف اور صرف بڑے لوگوں کے بچوں کے چونچلے۔”
روحان بہت زیادہ بدظن ہورہا تھا ان سے مگر ڈیوٹی از ڈیوٹی سوچتے وہ باقی سب سوچیں پس پشت ڈالے انوشے اور دیگر کے ساتھ میٹنگ کنڈکٹ کرنے کا اناؤنس کرتے وہاں سے چلا گیا۔
༻━━━━━⊱༻
لوگ وصال کی رات کو ترسیں
ہم نے وصال کا دن دیکھا ہے۔۔۔۔
“ریلکس رہیں وسام یہاں کوئی بھی ایسا نہیں جس سے آپکو پردے کا مسئلہ ہو میں نے تمام ” بٹ مین” ہٹا دیے ہیں۔” کھانے کی ٹیبل پہ موجود وسام کو پھر سے خود کو چادر میں چھپائے دیکھتے کہا جو سر کے آگے گھونگٹ کی طرح چادر کو کیے کھانا کھا رہی تھی۔
اب وہ اسے کیا بتاتی سب سے زیادہ ان کنشئیس تو وہ اسی کے سامنے ہونے کی وجہ سے ہے۔
جبکہ یہاں وہ” حال دل کسکو سنائیں “کی تصویر بنا بیٹھا تھا جس نے نکاح بعد شکل دکھانا دور آواز سنانا بھی گوارہ نہیں کیا تھا۔اسکی نسبت شموئیل بہت جلدی اٹیچ ہوگیا تھا ۔دل میں کہیں کسک تھی اگر اسکا احد زندہ ہوتا تو یقیناًشموئیل کا ہی ہم عمر ہوتا جو اس سے عمر میں چودہ برس چھوٹا تھا اور ہمیشہ اسکے ماں باپ کی لڑائیوں میں مکمل طور پہ اگنور ہوتا رہا۔
“لالہ آج ہمیں نئے کپڑے دلانے کیلئے لے جائیں گے باجی۔”
شموئیل کی ایکسائٹمنٹ سے بھرپور آواز پہ واسق نے مسکراتے ہوئے اسکے بال چھیڑے جبکہ دوسری جانب سے کوئی رسپونس نہیں تھا ۔وہ اسے پرسوچ نظروں سے دیکھتے سوچنے لگا تھا کہ وسام کو اس فیز سے کیسے نکالے۔
“ویسے وسام آپکا نام بہت پیارا ہے اور تھوڑا یونیک بھی مطلب تو پتا ہوگا نا آپکو اسکا۔” وہ اسے بولنے پہ اکسانے لگا تھا مگر دوسری طرف سے جامد چپ تھی ۔
“لالہ میرا ہوگیا ناشتہ میں کھیلنے جاؤں ؟” شموئیل نے جازت طلب نظروں سے اسے دیکھا جسنے اثبات میں سرہلاتے اجازت دے دی تھی ۔
“بہت جلدی اٹیچ ہوگیا ہے شموئیل بلکل محسوس نہیں ہوتا کہ وہ کوئی اجنبی ہے۔” واسق کی نظریں ابھی تک اسکا پیچھا کررہی تھیں جو لاؤنچ کراس کرتے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔
کب سے خاموش بیٹھی وسام کے ہاتھوں میں لرزش ہوئی۔ایک وہی تو اس اجنبی ماحول میں اسکا اپنا تھا پر کیا خون اپنا اثر دکھا رہا تھا؟کیاپتا کرنل نے اس سے جھوٹ بولا ہو؟اگر واسق کا کوئی بھائی تھا تو کوئی اور نام کیوں نہیں لیتا؟
اسکے دماغ پہ ایک ساتھ کئی سوچوں کے وار ہوئے۔۔۔۔
تبھی واسق سامنے سے اٹھتا اسکے برابر والی کرسی پہ آبیٹھا ۔
“پتا ہے آپکومجھے کتنا انسلٹ فیل ہوتا جب مجھے ایسے اگنور کررہی ہوتیں ۔ایک بار اگر میری طرف دیکھ لیں گی تو گناہ نہیں ہوجائے گا آپکی جھجک کہوں یا شرم میرے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے مگر یہ دل ہے نا وسام۔۔۔”
واسق جانتا تھا کہ وہ اب بھی اسے نہیں دیکھ رہی مگر پھر بھی دل پہ ہاتھ رکھتے اسے مسلنے لگا۔کوئی ریکشن نہ دیکھ اپنی بات جاری رکھی۔
“یہ دل کسی بچے کی طرح ضد کرتا ہے کہ آپ بھی مجھے دیکھیں یقین مانیں کافی لڑکیاں میری لک پہ فدا ہیں۔” وہ خود بھی محسوس کررہا تھا کہ اسکی گفتگو کس حد تک عامیانہ پن لیے ہوئے تھی جو یقیناً اسکی پرسنیلٹی کو سوٹ نہیں کرتی مگر اسکے پاس اس لڑکی کی زبان کھلوانے کا کوئی چارہ بھی تو نہ تھا۔
وسام کی برداشت جیسے اختتام پزیر ہوئی وہیں وہ کھڑے ہوتے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
اسکا شدید ریکشن واسق کے اندر بھی ابال لا رہا تھا مگر وہ اسے وقت بھی دینا چاہتا تھا اسیلئے چپ بیٹھا رہا فرشتے کا خیال آیا یقیناً وسام کے ناتے اسکا حق بنتا تھا کہ وہ اسکی بھی دیکھ ریکھ کرے ۔کچھ دیر بعد وہ میجر ہاؤس کی طرف بڑھ گیا ۔
༻━━━━━⊱༻
معروش کمرے میں آتےکتنی دیر بے یقینی سے آئینے کے سامنے ٹہری رہی ہاتھ ابھی تک گال پہ تھا جہاں ارتضٰی نے تھپڑ مارا تھا۔ہاتھ جیسے اسکے گالوں پہ چسپاں تھا اور خون کی گردش تھپڑ کی جلن کو بڑھا رہی تھی۔
خود کو دیکھتے وہ چونکی ۔وہ رو رہی تھی۔معروش حیات رو رہی تھی۔ورلڈ اسکیم گرل رو رہی تھی۔اپنے آنسو انگلی کے پور پہ جنتے انہیں دیکھا جیسے کوئی خون رنگ انگلیوں پہ لگا ہو۔
خود پہ جمی برف کی تہہ پگھلی تھی اور اتنے برسوں سے برداشت کرتی وہ لڑکی روئی تھی ۔پہلی بار اسے اپنی کم مائیگی کا احساس رولا رہا تھا اپنا اکیلا پن تنہائی کیا کچھ نہیں تھا ۔رونے کا بہانہ درکار تھا تو ارتضٰی ،طیبہ ،رمشہ اور حنا کی ہر بات یاد کرتے گھٹ گھٹ کے روئی تھی۔
ادھر ارتضٰی بار بار اپنے ہاتھ کو دیکھتے بے چین ہورہا تھا۔اسے اتنی جلدی ٹمپر لوز نہیں کرنا چاہیئے تھا؟مگر وہ اسکے کردار پہ شک کررہی تھی۔ خود سے الجھتے کئی سوالوں کے جواب خود سے دے رہا تھا۔
“مگر آج تک ارتضٰی حیدر کوئی وجہ بھی تو نہیں پیدا کی جو وہ تم پہ اعتماد کرے۔” خود سے بڑبڑایا تھا۔
دونوں طرف انا کے جھنڈے بلند کیے ہوئے تھے جہاں” محبت” چاہنے کے بھی اپنی جگہ بنانے میں ناکام ہورہی تھی۔بلأخر اتنی دیر کی بے چینی کے جب اپنی حرکت پہ پیشمانی بڑھی تو قدم بے اختیار اسکے کمرے کی طرف بڑھے گھڑی رات کے دو بجا رہی تھی۔
دروازہ ناک کیا مگر دوسری جانب سے گھمبیر خاموشی چھائی تھی۔ اندر جاؤں نا جاؤں کی سوچ میں تھا ناجانے کیا ریکشن ہو معروش حیات سے کسی اچھے کی امید رکھنا عبث تھا مگر پچھتاوں نے رات بھر سونے بھی نہیں دینا تھا۔ارادے مضبوط کیے ،بنا ناک کمرے میں داخل ہوا ہرطرف اندھیرا چھایا تھا ۔ہاتھ بڑھائے بورڈ کے جتنے بٹن ہاتھ میں آئے نیچے گرائے کمرہ ایک دم روشنیوں میں نہایا تھا۔
سامنے ہی وہ بیڈ پہ اوندھے منہ لیٹی تھی۔ روشنی آنکھوں میں پڑی تو سیدھی ہو بیٹھی ارتضٰی کو دیکھ آنکھوں میں ناگواری کے ساتھ ساتھ شدید غصے نے ڈیرا جمایا تھا وہ تیزی سے اسکی طرف لپکی ۔
“کیوں آئے ہو یہاں میری بے بسی کا تماشہ دیکھنے یا پھر یہ کے اتنی تزلیل کے بعد مر تو نہیں گئی بے فکر رہو بہت ڈھیٹ ہوں اتنے سے تھپڑ سے کون مرتا ہے۔”
عجیب بہکا انداز تھا ارتضٰی کو مزید شرمندگی نے آن گھیرا ۔
“آئی۔ایم سوری معروش میری یہ اٹینشن بلکل نہیں تھی۔”ارتضٰی نے وضاحت دینی چاہی۔
“نو نو ارتضٰی حیدر یو کانٹ ایکسکیوز کیونکہ میں جانتی ہوں ساری غلطی میری تھی میں تم دونوں کی پرائیوسی میں مخل ہوئی تھی۔ہاؤ کڈ آئی ڈو دس؟۔اوہ معروش ہاؤ کڈ یو ڈو دِس؟ تمہیں دھیان رکھنا چاہیئے تھا تھپڑ تو بنتا تھا نا ارتضٰی میر بلکہ اور مارو ہاں ۔۔۔”
معروش نے اسکے دونوں ہاتھ پکڑے اپنے چہرے پہ رکھے ارتضٰی کے ہاتھ ایک دم ساکت تھے جبکہ وہ اسکے ہاتھ اپنے دونوں رخساروں پہ رکھے زور زور مارنے لگی۔
ارتضٰی جیسے ہوش میں آیا۔
“کیا کررہی ہو پاگل ہوگئی ہو۔” اپنے ہاتھ ایک جھٹکے سے چھڑوائے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھے جھنجوڑا ۔
“ہاں ہوگئی ہوں میں پاگل کتنی نفرت کرتے ہیں میرو اور اسکی ماں مجھ سے آج بھی اپنے مفادات کیلئے مہرہ بنایا تم نے مجھے اور جب مقصد حاصل ہوگیا تو یہ ۔۔”
معروش کے بال چہرے پہ بکھرے جبکہ چلانے سے آواز گگھیائی اور بات درمیان میں چھوڑے سر جھکا گئی۔
“میرا سب کچھ چھین لینے کے بعد بھی تمہیں سکون نہیں ہے ارتضٰی حیدر۔”ایک دم ٹھنڈی آواز پہ ارتضٰی چونکا وہ اس سے کس حد تک بدگمان تھی وہ یہ اچھے سے دیکھ سکتا تھا وہ جو اسے بہت سی چیزیں جسٹفائے کرنے آیا تھا مکمل خاموشی اختیار کر لی ۔وہ چاہ رہا تھا کہ معروش بولے اپنے دل کی بھڑاس ایک بار نکال لے تاکہ ارتضٰی بھی سکون سے اسے اپنی بات سمجھائے۔
“میں واپس چاہنا چاہتی ہوں ارتضٰی حیدر پلیز مجھے کسی مشن کا حصّہ نہیں بننا کہیں بھی اپنا کوئی نام نہیں بنانا۔ آئی۔ایم۔اے چیٹر ،لائر بٹ آئی وانٹ ٹو موو ان مائی ورلڈ وہئر آئی کانٹ بئیر یو اینڈ ڈیفنٹلی یورز وچ۔”وہ ارتضٰی کو مسلسل ٹارگٹ کررہی تھی حالانکہ وہ اس حقیقت سے آگاہ تھا کہ وہ کبھی اسے قبول نہیں کرے گی مگر اتنی کھلی ریجکشن بھی اسے گوارہ نہیں تھی۔
حنا کیلئے “وچ یعنی کہ چڑیل”” لفظ سن کے ارتضٰی کو ہنسی آنے لگی تھی ۔ہر انداز چیخ چیخ کے بتا رہا تھا کہ وہ “جیلس” فیل کررہی مگر اسکی اونچی ناک کا بھرم۔۔۔
“ہوگیا تمہارا اب بولوں میں کچھ؟”اسے بازو سے کھنیچتے اپنے سامنے لایا جبھی اس نے بولنے کو لب کھولے۔
“چپ ایک دم چپ بہت زیادہ بولتی ہو تم مگر اب ایک لفظ نہیں۔تم کیا سمجھ رہی مجھے شوق ہے تم پہ ہاتھ اٹھانے کا؟آج سے دس سال پیچھ جاؤگی تو یقیناً جہاں میں غلط تھا تو اسکے پیچھے کہیں نا کہیں تم نے ہی مجھے اس اقدام کیلئےاکسایا ۔میں جانتا ہوں کہ مجھے تم پہ ہاتھ نہیں اٹھانا چاہئیے تھا میں شرمندہ بھی ہوں مگر تم بھی تو بنا سوچے سمجھے کچھ بھی بول دیتی۔”
ارتضٰی نے حتٰی المکان لہجہ نرم رکھا تھا ۔
“اور کیا نفرت نفرت کی پخ لگائے پھرتی ہو۔اگر مجھے تمہیں نیچا دکھانا ہوتا یا کوئی بدلے لینے ہوتے تو اسوقت تم سیفلی یہاں نا ہوتی تم بھی اچھے سے جانتی ہوکے کہ کیا کچھ کرچکی ہو بلکہ تمہیں پروٹیکٹ کرنے کے بعد تو میں خود تم سے زیادہ سفل کرسکتا میری نوکری جاسکتی قید ہوسکتی۔”
معروش نے اسکی بات پہ سر اٹھایا جہاں وہ اسکی آنکھوں سے جھانکتی بہت سی کہانیوں نے اسے پھر سے سر جھکانے پہ مجبور کردیا۔
“اس سب کے باوجود اگر تمہیں لگتا میں غلط ہوں،دین اوکے چوائس از یورز تم جو ڈیسائڈ کرو میں تمہارے ساتھ ہوں اور رہ گیا حیات ولا اٹس اوکے میں کل ہی مما اور حنا کو لے کے کیپٹن ہاؤس ارینج کرسکتا آفٹر آل ایک میجر پوسٹ پہ ہوں یقیناً مجھے فسیلٹیٹ کیا جائے گا۔”
وہ جو اسے جواب دینے لگی تھی پھر سے حنا کے زکر پہ سخت کبیدہ ہوتے رخ موڑ لیا۔
“میری ٹکٹ کروا دو۔”باوجود اسکے وہاں اسکیلئے ہر طرف خطرہ تھا کسی ضدی بچے کی مانند اس نے اپنی بات منوانی چاہی اور ارتضٰی جو سمجھ رہا تھا کہ ابھی وہ حنا کے نام پہ اسے کھری کھری سنائے گی تو اسے بھی اپنی بات کلئیر کرنے کا موقع ملے گا اسکی ہٹ دھرمی دیکھتے بدمزہ ہوا ۔
“یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے؟” ارتضٰی نے گنجائش جاننی چاہی جہاں اس نے بغیر ایک سیکنڈ کی تاخیر “ہاں” میں سر ہلایا۔ارتضٰی نے بنا کچھ بولے باہر کی طرف قدم بڑھائے۔
“ایک احسان کردینا یہ گھر بیچ کے پیسے کسی اولڈ ہاؤس کو ڈونیٹ کردینا۔”ایک اور غلط فیصلہ۔
وہ اسے تاسف دیکھتے باہر نکل گیا۔
ایک گھر اور بزنس کو حاصل کرنے کیلئے وہ معروش حیات سے مس لٹل کریپٹو کوئیںن بنی تھی اور آج خود ہی اپنی چھت کو اکھاڑ رہی۔بحث کا نتیجہ وہ دیکھ چکا تھا اسیلئے مزید بات کی گنجائش نہیں تھی۔
اسکے جاتے ہی معروش نے پھر سے رونے کا شغل جاری کیا۔
“کیا میں اتنی اہمیت کی حامل نہیں جو ایک بار کہہ دیتا کہ وہ میرے سے تعلق ختم نہیں کرے گا اور وہ حنا اتنا سب ہونے کے بعد پھر بھی حنا۔”جیسے جیسے وہ سوچ رہی تھی رونے میں اور شدت آنے لگی وہ خود ہی کنفیوژ تھی کہ اسے کیا چاہیئے کیا نہیں۔
༻━━━━━⊱༻
صبح وہ روحان کے جاگنے سے پہلے کمرے سے نکل گئی تھی۔اسکی آنکھ کھلی تو خود کو اسکے بستر پہ دیکھتے پوری رات اپنی جزئیات سمیت سامنے آن ٹہری کس قدر اپنے جزباتیات پہ شرمندگی ہوئی۔کیا سوچتی ہوگی وہ کہ اتنے ہلکے کردار کا شخص ہوں میں۔دل اور دماغ میں ایک جنگ سی چھڑی تھی جب پلکیں موندیں تو سامنے پلکوں کی اٹھتی جھکتی جھالر اور مسمرائز چہرہ سامنے آیا۔
دماغ کے کواڑوں پہ اپنی آواز کسی ہتھوڑے کی طرح برسنے لگی تھی ۔مدہم سرگوشیاں ،تیز سانسوں کا ارتعاش ابھی بھی اپنے سینے پہ محسوس کرسکتا تھا۔
“لیئنگ ان یور لونگ آرمز از ہیون آن ارتھ۔۔۔یومے ناٹ بی پرفیکٹ،یوآر فلاڈ لائک آل ہیومنز۔بٹ یوآر پرفیکٹ ٹو می اینڈ دیٹس آل دیٹ میٹرز۔۔۔۔”انوشے کی لرزتی پلکوں کو چومتے جب پرفیکشن کی بات کی تھی تو اسکی آنکھیں کس قدر حیرت سے پھیلی تھیں۔ کیا تھی وہ لڑکی جو ایک سال سے ٹارچر برداشت کررہی تھی مگر اسکے سامنے وسام اور شموئیل کی کوئی بات نہیں بولی۔
“آئی پرامس ٹو ہینڈل یور ہارٹ ود کئیر اینڈ ٹرژیر اٹ ود لوو۔۔۔نو ون ول ایور نو ہاؤ پرفیکٹ یو آر ٹومی۔۔۔۔یو ول فٹ پرفیکٹلی سنیگ ان مائی آرمز فار آل انٹیٹی مائے لوو۔۔۔۔”اپنے الفاظ کسی اژدھے کی طرح اس سے لپٹ رہے تھے۔
بے چینی سے پہلو بدلا تو اسکے غائب ہونے کا انکشاف ہوا ۔انجانے میں اس پہ اپنے جزبات کا لٹاتے خود کو مکمل۔سرینڈر کرچکا تھا مگر اسکی مردانہ انا کو یہ چیز گوارہ نہیں ہورہی تھی۔ وہ جو ہروقت اسے ٹارچر کرتے نفرت کے بلندوبانگ دعوے کرتا تھا سب کچھ کمزور لمحوں کی گرفت میں جکڑے جاچکے تھے ۔
خود کو اسکا سامنے کرنے کیلئے تیار کیے باہر آیا مگر وہ کہیں نہیں تھی اچھا تھا کہ سامنا نہیں ہوا ۔یونیفارم پہنے باہر آیا تھا خانساماں نے ناشتے کا پوچھا تو انکار کیے باہر کی طرف بڑھا۔گاڑی کی طرف بڑھتے اسکی نگاہ لان میں لگائے جھولے پہ پڑی جہاں وہ اردگرد سے یکسر انجان غیر مرئی نقطے پہ نگاہ جمائے بیٹھی تھی۔روحان نے مکمل اگنور کرتے گاڑی کی طرف بڑھنا چاہا پر ہو نہیں پایا تھا۔
“صبح صبح یہاں کیا کررہی کوئی احساس ہے بھی کہ نہیں کے شوہر بھوکا پیاسا دفتر جارہا ۔” رات کی چاشنی غائب ہوچکی تھی جبکہ اسکی جگہ پہلے سے بھی زیادہ تلخ آواز ابھری تو وہ کسی مجرم کی طرح سر جھکائے کھڑی ہوئی۔وہ ہمیشہ سے ایسی نہیں تھی اور روحان کے سامنے تو بلکل بھی نہ کبھی نظر جھکائی نا سر مگر حالات اسکے بس میں کہاں تھے سبکی بےاعتباری اسے توڑ رہی تھی۔
“سوری میں سمجھی خانساماں نے شاید ۔۔میں بنا دیتی ہوں۔” آواز میں شرمندگی کا عنصر واضع تھا ایسی بھی کیا مدہوشی جو اردگرد کا ہوش نہ رہے۔
“رہنے دو سرکار مجھے لیٹ ڈیوٹیاں کرنے کے پیسے نہیں دیتی اور نہ میں تمہارے چونچلوں کی خاطر اپنی نوکری خطرے میں ڈال سکتا تم جیسے سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہونے والے لوگ کیا جانیں کس محنت سے مقام حاصل ہوتے۔”
وہ اسے ہکا بکا چھوڑے جاچکا تھا جبکہ وہ حیران تھی ایسا بھی کیا جو اتنی سنادیتا ۔وہ گاڑی سمیت جاچکا تھا مگر انوشے ابھی تک تلملائی نظروں سے اس جگہ کو گھور رہی تھی جہاں سے وہ گیا تھا۔
“کتنے روپ ہیں اس شخص کے۔”گزری شب کی عنایت یاد آئی تو جزبز ہوکے رہ گئی۔
༻━━━━━⊱༻
اسکی نگاہ سامنے موجود شخص کی بغل میں بیٹھی عورت سے ہوتی اس لڑکی پہ پڑی جسکے شولڈر کٹ بال وہ دیکھ سکتی تھی۔لان کے ایک حصے میں تیرہ چودہ برس کے لگ بھگ کے دو بچے کھیل رہے تھے۔لڑکا بار بار چیٹنگ کررہا تھا جبکہ لڑکی کھلے دل سے اسے معاف کردیتی ۔بیڈمینٹن کھیلتے وہ دونوں بچے صاف اناڑی دکھائی دے رہے تھے۔
تبھی ایک گاڑی آرکی جس میں سے نکلتے شخص کو دیکھ اسکے لبوں پہ مسکراہٹ کھلی۔شاید وہ خود بھی اپنی خوبصورتی سے انجان تھا رف سے حلیے میں موجود وہ لڑکا ان افراد کے قریب پہنچا تو سب نے مسکراتے اسے ویلکم کیا تبھی وہ شولڈر ۃیر کٹ والی لڑکی کھڑی ہوئی تھی ۔اس نے گاڑی کی۔سمت دیکھا وہی اسکی سانس اٹکی تھی۔وہ جانتی تھی کہ یہ کون لڑکی ہے مگر شاید نظروں کا دھوکا ہوسکتا۔اس نے آہستگی سے خود کو چٹکی کاٹی مگر وہ ایک مجسم حقیقت کی طرح اسکے سامنے تھی۔
“نہیں ایسا نہیں ہوسکتا ۔”خود کلامیکرتے وہ دو قدم پیچھے ہوئی مگر وہ سب لوگ ایک زندہ حقیقت کی طرح ہنستے مسکراتے اندر کی طرف بڑھ گئے۔
جبکہ وہ لٹے پٹے مسافر کی طرح اپنے رستے چل دی آج بھی اس فیملی میں سب کچھ پرفیکٹ تھا نہ آج وہاں اسکی ضرورت تھی اور نہ شاید ہی کبھی نے محسوس کی تھی۔
༻━━━━━⊱༻
واسق گھر میں داخل ہوا مکمل خاموشی کا راج تھا مخیتار صاحب اور انکی مسسز آج کل آؤٹ آف کنٹری تھے ۔واسق کی محبت کی داستان پہ جہاں انہوں نے اسکا مزاق بنایا وہی ابرق کا ذکر انہیں چونکا گیا۔اپنے شک کی تصدیق سے پہلے وہ خفیہ طریقے سے اسکی ڈیٹیل نکلوانا چاہ رہے تھے ۔تبھی ارجنٹ سیمنار پہ انہیں آوٹ آف سٹیشن جانا پڑا تو بات وہی رہ گئی۔تین مہنیے کے ٹور کے بعد فیصلہ ہونا تھا کہ کونسا دن ریسپشن کیلئے رکھا جائے اور ایک طرح سے یہ واسق اور وسام کے درمیان موجود فاصلوں کو پاٹنے کا سنہرا موقع تھا ۔
چونکہ شموئیل اور وسام کے کمرے الگ الگ تھے تبھی بنا جھجکے وہ اسکے کمرے کی طرف بڑھ گیا اور بنا اجازت پورے استحقاق سے وہ کمرے میں داخل ہوا۔
سامنے ہی وہ اسکی طرف پشت کیے نید کی وادی میں گم تھی جیسے کتنے دنوں کی نیند آج پوری کرنی تھی۔
واسق کے لبوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ کھلی کہاں اتنی پردہ داری کے سہج سہج کے قدم رکھنا اور کہاں یہ بےپروائی کی حد کے ہوش وخرد سے بیگانہ کوئی ڈر خوف ہی نہیں۔
دھیمے قدم اٹھائے اسکے سامنے آبیٹھا سوتے میں بھی اپنی چادر کو اچھے سے لپیٹے ہوئے تھی۔جہاں چہرہ کھلا تھا وہیں بالوں نے آدھا چہرہ چھپائے پردہ برقرار رکھنے کی ناکام کوشش کررکھی تھی۔
چھیڑتی ہیں کبھی لب کو کبھی رخساروں کو
تم نے زلفوں کو بہت سر پہ چڑھا رکھا ہے ۔۔۔۔۔
دھیمے سے گنگناتے اس نے اسکے چہرے پہ آئے بال ہٹائے مگر وہ ضدی بنے پھر سے رخساروں پہ آٹہرے۔ واسق نے ایک دوبار پھر کوشش کی مگر ناکام اسے اس کھیل میں مزہ آنے لگا تھا اور پہلی بار وہ اسے جی بھر کے دیکھ سکتا تھا ۔اپنے قریب محسوس کرسکتا تھا جاگتے میں تو یقیناً وہ کبھی اسے اپنے پاس نہ پھٹکنے دے۔
اسکے رویے کو سوچتے واسق کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی تبھی وہ نیند میں کسمسائی اور چہرے پہ آئے بالوں کو ہٹانا چاہا تو ہاتھ واسق سے ہاتھ سے ٹکرایا غیر محسوس انداز میں دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی اور جھٹکا کھائے اٹھ بیٹھی۔واسق جو اسے سوچتے رنگین دنیا میں کھویا تھا ایک دم ہوش میں آیا۔
“آ آپ یہاں کیا کررہے ہمیں سوتا سمجھ کیا کرنے والے تھے آپ ہمارے ساتھ۔” وسام کی بات پہ اسکا دماغ گھوما تبھی بنا اسکے ریکشن کی پرواہ کیے اسکے برابر بیٹھا۔
“دن میں تو نظر آتی نہیں سوچا چاند کا دیدار کیا جائے آخر کو رات ہوتی اسیلئے کہ لوگ چاند رخ کا دیدار کرسکیں۔”
واسق نے انتہائی ڈھٹائی کا ثبوت دیا ۔
“ہم آپ کو اچھا انسان سمجھتے تھے مگر آپ کی نیت اس کمرے میں موجودگی بیان کررہی ۔” شادابی رخساروں پہ روح آب نے تلاطم برپا کیا وہیں واسق کا دل سینے میں اٹکا۔محبوب روتے میں بھی حسین لگتا یہ تو کچھ اور ہی منظر تھا تبھی اسکی بدگمانی اور ساری بکواس کو پس پشت ڈالے ہاتھ بڑھائے اسکے رخساروں سے ان قیمتی موتیوں کو چننا چاہا وہیں “چٹاخ ” کی آواز پہ تحیر بھری نگاہیں وسام پہ ساکت ہوئیں۔
