Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sayah Kaar (Episode 20)

Sayah Kaar by Uzma Mujahid

“کیا نام ہے آپکا بیٹا۔” حسیبہ نے کار سے ٹکرانے والے بچے کو بڑے پیار سے سہلاتے ہوئے کہا۔

“ہانی ۔”اس پانچ سالہ معصوم بچے نے اپنے سامنے موجود خوبصورت عورت سے مرعوب ہوتے کہا جسکے ساتھ ایک خوبصورت ڈول سی لڑکی تھی۔

“یہ تو بہت پیارا نام ہے مگر پورا نام تو ہوگا نا۔

انہوں نے اسے پچکارتے ہوئے بالوں میں ہاتھ چلایا ۔

“سب ہانی کہتے ہیں آنٹی۔”اپنی سمجھ کے مطابق جواب دیا ۔

“گھر کہاں ہے تمہارا ہمیں لے چلو وہاں۔” ڈاکٹر حسیبہ نے ہانی کو ایک ہاتھ سے پکڑتے کہا۔

ابھی کچھ دیر پہلے انکی قیمت متاع حیات لٹنے والی تھی جب اس بچے نے اپنی جان پہ کھیلتے انہیں بچایا تھا۔

ہوا یوں تھا کہ ڈاکٹر حسیبہ سلجوق کا ہاتھ بھیڑ میں انکے ساتھ موجود انکی بیٹی سے چھوٹ گیا ۔ تبھی اس نے سڑک کنارے بوڑھی کے بال والا دیکھ اسکی طرف دوڑ لگائی جب ایک تیز رفتار گاڑی اپنے دھیان میں کراس کرنے لگی۔ اس سے پہلے کہ وہ انکی بیٹی کو ہٹ کرتی غبارے بیچتے بچے نے تیزی سے اسکا ہاتھ کھینچتے پیچھے کیا وہی اپنی بیٹی کی چیخ نے ڈاکٹر حسیبہ کو انکی طرف کھینچا تھا۔

اسوقت دونوں بچے اوندھے منہ زمین پہ گرے تھے جب سب لوگ متوجہ ہوئے ۔ڈاکٹر حسیبہ اسطرف آئیں بیٹی کے منہ سے بہتا خون انکی جان نکال گیا پہلے ہی وہ بہت کچھ کھو چکی تھیں ۔بیٹی کو کو کھونا تو ایک قیامت ہی ہوجاتا ابھی ایک الزام کی پاداش میں وہ دربدر تھیں پھر تو ان سے یہ آخری کرن بھی چھینی جاسکتی تھی ۔

“تم سوچ نہیں سکتے تم نے مجھ پہ کتنا بڑا احسان کیا ہے یہ کچھ پیسے ہیں رکھ لو ۔”

انہوں نے اپنے پرس سے نوٹوں کی گڈی نکال کے پکڑائی تو ہانی نے بھی سر اثبات میں ہلائے اس میں سے چند نوٹ نکال لیے اور پھر بھاگتے ہوئے سامنے کی شاپ سے چینج کروائے باقی کے پیسے انکی گڈی میں رکھتے انکی طرف بڑھائے۔

“ارے یہ کیا صرف تین سو روپے ہم نے یہ سب تمہیں دیے ہیں بیٹا۔”پرشفیق سی وہ عورت ہانی کو بہت اچھی لگی تھیں مگر اس نے نفی میں سر ہلاتے مزید پیسے لینے سے انکار کردیا۔

“نہیں آنٹی یہ آپ اپنے پاس رکھیں میں نے اپنے غباروں کا حساب لے لیا ۔”اس نے مسکراتے ہوئے وجہ بیان کی جبکہ اسکی اتنی فہم و فراست کو دیکھتے انہوں نے حیرانی سے اسے دیکھا۔

“تم کہاں رہتے ہو بیٹا۔”اس بچے کی ایمانداری نے انہیں بہت متاثر کیا تھا جبکہ انکی بیٹی جو ہانی کے ہم عمر تھی اپنی ماں کو اس بچے میں مگن دیکھتے بہت بدظن ہوئی تھی۔

“مما لیٹس گو ٹو ہوم ۔” بیٹی کی آواز پہ وہ چونک اٹھی تھیں تبھی اسکی چھلی ہوئی کہنی کو دیکھتے اسکی طرف بڑھیں۔”ہانی” نے حسرت کی نگاہ سے ان ماں بیٹی کو دیکھا اور پھر اپنے آشیانے چل پڑا تھا جو کہ فلائی اوور کے نیچے بہت سے بے گھر افراد کے ساتھ ہی تھا۔

کچھ دن بعد وہ عورت پھر اسے ڈھونڈتی اسی جگہ آئی تھی جہاں پہ وہ غبارے بیچتا تھا مگر اس بار وہ اکیلی تھیں۔

“ادھر آؤ ہانی بیٹا دیکھو میں تمہارے لیے کیا لائی ہوں۔” گاڑی سے ڈھیر سارے گفٹس نکالتے انہوں نے اسے پکڑانے چاہے مگر اس نے دونوں ہاتھ سختی سے اپنے سینے پہ باندھ لیے تھے ۔

“ارے یہ کیا میں اتنے پیار سے یہ سب آپکیلئے لائی ہوں اور آپ لینا نہیں چاہ رہے آپکو آنٹی پسند نہیں آئیں ؟”

انکی آنکھوں میں اتری مایوسی دیکھ وہ شرمندہ شرمندہ سا ٹہرا تھا۔

“میں یہ سب نہیں لے سکتا اتنا سب کچھ میں کہاں رکھوں گا۔” اس نے وجہ بتائی تھی جبھی اس خاتون نے اپنے بازو کے حلقے میں اسے لیا۔

“کیوں آپ اپنے گھر میں اپنے روم میں رکھ لینا جیسے باقی بچے رکھتے۔”انہوں نے ریزولوشن دیا جو شاید اسے پسند نہیں آیا تھا تبھی رخ موڑے کھڑا ہوگیا۔

“ارے ایسا کیا بول دیا ہم نے جو آپ ناراض ہوگئے۔” انہوں نے اسکا رخ اپنا جانب کیا مگر ان کا دل ایک دم دھڑک اٹھا کیونکہ وہ روٹھا سا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔

” یہ کیوں بیٹا؟”انکی سمجھ میں اسکے رونے کی وجہ سمجھ نہیں آرہی تھی۔

“میرا تو کوئی گھر ہی نہیں پھر کہاں رکھوں گا۔” بھرائی آواز میں اس نے وضاحت دی تو انکے رونگٹے کھڑے ہوگئے دل ایک دم بیٹھ سا گیا تھا۔

“کک کیوں گھر نہیں ؟”انہیں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا بھلا اسکا گھر کیوں نہ تھا اتنے چھوٹے سے بچے کا گھر کیوں نہ تھا۔

“کیونکہ مائی بابا نہیں ہیں جنکے مائی بابا ہوتے انکا گھر ہوتا۔”مضبوط لہجے میں دلیل دی ۔جبکہ وہ بھی اپنی عقل کو کوسنے لگیں۔

“پھر کہاں رہتے؟” انہوں نے پھر سے اپنے بازوں کے حلقے میں لیا تو اس نے سامنے موجود فلائی اوور کی طرف اشارہ کیا۔وہ اسکی ہمراہی میں وہاں گئی۔اردگرد کافی تعفن موجود تھا جہاں سےا ٹھتی باس نے انہیں ناک لپیٹنے پہ مجبور کیا ۔

“یہ جو سامنے شاپ والے انکل انکو میں تین سو دیتا ان غباروں کا وہ مجھے سوروپے دے دیتے یہاں پہ سوجاتا اتنا سا میرا گھر ہے وہ سب کہاں رکھتا۔” ہانی نے انتہائی سمجھدار ہونے کا ثبوت پیش کرنے کی کوشش کی جبکہ انکی آنکھوں میں مرچیں سی بھرنے لگیں نجانے اس بچے کا دکھ انہیں رلا رہا تھا یا اور کچھ تبھی ایک فیصلہ لیتے وہ دوزانوں اس گندی زمین پہ بیٹھ گئیں۔

“میرے ساتھ چلو گے میرے گھر میرے بیٹے بن کے۔” انکی آنکھوں میں یاس وآس کے دیپ جلے تھے جبکہ اسکی آفر سنتے ہانی کی آنکھیں سہمی تھیں۔

“نہیں آنٹی میں آپکے گھر کیسے جاؤنگا آپکی ڈول تو مجھے پسند نہیں کرتی اس دن۔۔”اس نے کچھ سوچتے بات ادھوری چھوڑ دی شایدانہیں برا نہ لگ جائے مگر وہ جیسے اسکی بات سمجھتے مسکرائی تھیں۔

“وہ بہت پیاری بچی ہیں اس دن انہیں چوٹ لگی تھی تبھی وہ ایسا ریکٹ کرگئیں۔آپ ان سے دوستی کرلوگے تو وہ کچھ بھی نہیں کہیں گی۔” اور پھر وہ انہیں اس سڑک سے اٹھائے اپنے عالی شان محل میں لے آئیں وہ جو بے نام سڑکوں پہ پھرا کرتا تھا اسکی کایا پلٹ گئی طرز زندگی بدل گیا تھا ۔

کچھ دن تک سب سیٹ رہا مگر پھر اچانک انکی بیٹی کو اسکا وجود گھر میں کھٹکنے لگا اپنی ماں کی بٹی توجہ اسے بری لگنے لگی تھی ۔اور ایک دن اسے سیڑھیوں سے دھکا دے دیا جسکے نتیجے میں ایک ہنگامہ سا ہوا تھا وہ گھر کی مالکن سے لے کے نوکروں تک کا لاڈلہ بچہ تھا مگر مما کی بیٹی کو اسکا وجود برا لگتا تھا حتٰی کہ اپنی ماں کیلئے “مما” پکارنا بھی اسے بہت برا لگتا تھا۔تبھی انہوں نے اسکی خاطر اسکے مستقبل کی خاطر اسے کیڈٹ سکول کی بورڈنگ میں بھیج دیا تھا۔

“بچے کا کیا نام ہے؟” پرنسپل نے فارم انکی طرف بڑھاتے اپنے آفس کے جائزہ لیتے بچے کو دیکھ کو کہا۔وہ بھی انکی بات سنتے انہیں دیکھنے لگا تھا۔

“روحان ،روحان علی۔” انہوں نے اسکے بالوں پہ ہاتھ پھیرتے فارم لیا اور باقی فارمیلٹیز پوری کرنے لگیں۔

“سوری بیٹا میں اچھی مما نہیں بن سکی۔” اس سے ہاتھ چھڑاتے انکے چہرے پہ پھیلا حزن اور ملال روحان کو بھی دکھی کرگیا۔

“ڈونٹ وری مما آپ بہت اچھی مما ہیں آپ مجھ سے ملنے تو آئیں گی نا۔” اس نے انکی تکان دور کرنی چاہی وہ اس پانچ سال کے بچے کے اتنے کنفیڈنٹ پہ حیران رہ جاتیں۔

“کیوں نہیں بیٹا ہر ویک اینڈ پہ میں اپنے بچے سے ملنے آؤنگی۔”انہوں نے اسے گلے لگائے چٹ پٹ پیار کیا تو وہ بھی مسکرا اٹھا۔اور پھر وہ اکثر ہی اس سے ملنے آتیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے بہت سی باتیں پتا لگنے لگی تھیں اگرچہ اپنے ہیسبنڈ سے انکی ڈائیورس نہیں ہوئی تھی مگر پھر بھی وہ سیپرٹ رہتے تھے جسکی پیچھے کی وجہ جاننے کیلئے وہ اسے ابھی چھوٹا سمجھتی تھیں۔

وقت گزرتا رہا اور کیڈٹ سکول سے کیڈٹ کالج کا سفر شروع اور پھر وہاں سے پی۔ایم۔اے سے ملٹری ۔اگرچہ اسکی مما کو ملٹری پسند نہ تھی مگر روحان کے شوق اور جنون میں رکاوٹ بننا انہوں نے مناسب نہیں سمجھا تھا۔انکے اس اعتراض کے پیچھے کی وجہ بھی وہ جانتا تھا مگر اس وجہ نے روحان کو اور مضبوط کیا تھا۔۔۔

༻━━━━━⊱༻

واسق کمرے میں داخل ہوا تو نظر سیدھی بیڈ پہ پرمژدہ بیٹھی لڑکی پہ پڑی جسکی آنکھوں کی جوت ہمیشہ اسے دیکھتی چمک اٹھتی تھی آج وہاں خاموشی تھی۔

” دو دن سے کھانا کیوں نہیں کھا رہی تم۔” ہمیشہ کی طرح آدم بیزار لہجہ جو اسے پہلے بہت برا لگتا تھا مگر اب تو عادت سی ہوگئی تھی۔

“تمہیں جو نہیں دیکھا تھا۔”لہجے کی مضبوطی واسق کے دماغ کی بائیں رگ پھڑک اٹھی تھی تبھی وہ خونخوار نظروں سے اسے دیکھتا آگے بڑھا۔

“تم جانتی ہو نا شاید ہی کسی نے کسی سے اتنی نفرت کی ہو جتنی مجھے تم سے ہے ۔” واسق نے کھانا اسکے آگے پٹخا تھا۔

“اگر میرے بس میں ہوتا تو تم پہ روٹی ہی بند کردیتا پر صرف یہی سوچ روک لیتی جب وہ رب کائنات ہمارے اتنے گناہوں کے باوجود کبھی رزق تنگ نہیں کرتا تو میں کیوں اسکی مخلوق پہ رزق بند کیے خود کو اس گناہ کی بھٹی میں جلاؤں۔”

تنفر سے کہتے اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اسے زندہ درگور کردے۔

“اتنی محبت کا یہ صلہ واس۔۔۔”

“نام مت لینا میرا اپنی گندی زبان سے اور محبت تم کیا جانو محبت کیا ہوتی ہے۔تم جیسی ہوس کی پجاری لڑکی محبت بھی اپنے مفاد میں کرتی ہے ۔”واسق نے اسکی بات کاٹتے غصے میں کہا ۔

“پلیز واسق ادھر دیکھو کس چیز کی کمی ہے مجھ میں ،میں اس سے لاکھ گناہ خوبصورت ہوں اور۔۔۔” اس کی آنکھوں میں بھرتے پانی نے گلہ تک تر کردیا تھا اور اپنی بات ادھوری چھوڑے وہ بے آواز رونے لگی۔

“تم سب کچھ ہوسکتی مگر میری روح وسام نہیں۔تم میں کیا کمی ہے کیا نہیں یہ میں نہیں جانتا مگر اتنی بات دماغ میں بٹھا لو وہ میری اولین چاہت ہے اور رہے گی ۔تم کیا ہوگند میں لتھڑا وجود جسکی کوئی پہچان نہیں جبکہ وہ میری محرم ہے۔” اسکی آنکھوں سے لپکتی شعلوں کی بھڑک فرشتے کا وجود جلا رہی تھی۔

“مرچکی ہے وہ ہا ہا ہا ماردیا ہے اسے میں نے اگر میں تمہاری نہیں بن سکتی تو اسے بھی کوئی حق نہیں جانتے ہو تم اسکے گراہک نہیں تھے تمہیں کیا پتا اسکے باپ نے اسے کب کہاں کسکے ساتھ کسکا بستر گرم کرنے کو بھیجا۔۔۔”

“بکواس بند کرو اپنی ” واثق کی دھاڑ ساتھ ایک زوردار تھپڑ پڑا تھا اسے وہ بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی تھی۔ وہ جب سے یہاں تھی کبھی واسق نے اس پہ سوائے زبانی کلامی کوئی ہاتھ نہیں اٹھایا تھا مگر آج وہ اسے خود اس حد تک لائی تھی۔

“کوئی لڑکی اتنی گری ہوئی کیسے ہوسکتی ہے جتنا کہ تم افسوس ہورہا تمہاری گھٹیا سوچ پہ کتنی زندگیوں کو بھاڑ میں جھونکوں گی تم ۔جو کچھ تمہارے ساتھ ہوا تمہارا نصیب تھا ۔تمہیں دوسروں کے نصیب لکھنے کا کوئی حق نہیں ہے بلکہ میرا بس چلے تو تمہیں جینے کا بھی کوئی حق نہیں مگر مجبور ہوں جب تک تم وسام اور شموئیل کا پتا نہیں بتاؤگی میں تمہارا جینا دوبھر کردونگا۔”

اسے وارن کرتے کمرے سے واک آؤٹ کرگیا تھا ۔وہ ہیجانی کیفیت میں جاتے چلانے لگی تھی۔

“نہیں ہے کسی کو خوش رہنے کا حو اگر جو ہماری زندگی میں کوئی خوشی نہیں تو کوئی خوش نہیں رہ پائے گا کوئی بھی نہیں ۔تمہاری بھول ہے واسق کے وہ تمہں ملے گی کبھی نہیں ملے گی۔”

وہ بند دروازے کو دیکھتی چلا رہی تھی ۔وہ ایک آزاد قیدی تھی۔جسکا دایاں ہاتھ اور پاؤں زنجیر سے بندھے تھے اور کمرے میں ایک اٹیچ باتھ اور سوائے اس بیڈ کے اور کچھ نہ تھا ۔ایک سال سے وہاں قید وہ جانتی ہی نہ تھی کہ باہر کون کون اسکے کرموں کی سزا کاٹ رہا تھا۔

༻━━━━━⊱༻

“شام میں تیار رہنا جنرل صاحب کے گھر ڈنر پارٹی ہے۔”

بپ پہ اس نے موبائل اٹھایا سامنے روحان کا پیغام تھا یہ کوئی انہونی نہ تھی کہ باوجود شدید نفرت کے وہ اسے اپنے حلقہ احباب میں اپنے ساتھ لے کے چلتا تھا وجہ بہت سولڈ تھی ضیاء صاحب اور اسکی فیملی کے سامنے لے جانا جسے دیکھتے وہ نفرت سے منہ موڑ لیتے اور پھر ساری رات انوشے کا تڑپنا یہی تو اسکا شغل میلہ تھا۔

انکار کی گنجائش نہ تھی تبھی وہ اٹھ کھڑی ہوئی گھڑی کی سوئی آٹھ کا ہندسہ عبور کررہی تھی محض ایک گھنٹہ تھا اسے اپنے زخموں کو کریدنے کیلئے بن سنور کے جانا تھا۔کمرے میں آتے اس نے بلیک سلک بلاؤز کے ساتھ باریک نگوں سے مزین شفون کی ساڑھی نکالی جسکے بارڈر پہ انتہائی نفاست سے کڑاہی کی گئی تھی جس میں لگے وائٹ بیٹس بہت خوبصورت لک دے رہے تھے۔

روحان جب گھر آیا وہ مکمل تیار ہوچکی تھی بنا اسکی طرف نگاہ ڈالے وہ بھی فریش ہونے چل دیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ سو اختلاف سہی مگر اسکا سجا سنورا روپ ہمیشہ اسے اپنی جانب کھینچتا تھا اور کمبخت محبوب تھا بھی بلا کا حسین اور ایسے موقعوں پہ وہ اپنے کیل کانٹوں میں اضافہ کردیتی تھی۔

بلیک ڈریس پینٹ اور وائٹ شرٹ ساتھ بلیک کوٹے پہنے بلیک ہی شرٹ لگائے وہ بھی مکمل تیار تھا۔جب “رسٹ واچ ” کی گرہ لگاتے وہ اسکی طرف بڑھا۔

چلیں؟”نظروں پہ بھلا کہاں اختیار تھا بے لگام ہوتی نظروں کے تقاضوں کو ڈپٹتے اس نے روکھے لہجے میں کہا تو اس نے بھی باہر کی طرف قدم بڑھا دیے۔ہمیشہ کی طرح پرسکون انداز میں وہ لوگ پارٹی میں شامل ہوئے کتنی نظروں نے انہیں ایک ساتھ رشک بھری نگاہوں سے دیکھا تھا ۔

انوشے کی نگاہ ضیاء صاحب کے ساتھ ٹہرے اپنے بہن بھائیوں پہ پڑی تو آنکھوں کے گوشے نم ہونے لگے تھے۔وہ ان سب کو بتانا چاہتی تھی کہ وہ مجرم نہیں وہ غدار نہیں مگر کون یقین کرتا اسکا اور کرتا بھی کیوں ؟ آخر کو اس نے ایک مجرم سے محبت جو کی تھی جو غدار تھا آستین کا سانپ تھا اور سب سے بڑھ کے اس نے کتنے پیارے رشتوں کی بلی چڑھا دی ۔وہ جانتی تھی کہ اس پہ کیا الزامات ہیں اگر وہ چاہتی تھی تو بتا سکتی تھی اپنی مجرمانہ خاموشی توڑ کے ان سب کے سامنے سچ لاسکتی تھی مگر وہ چپ تھی کسی کی زندگی کیلئے اور جسکی زندگی کیلئے چپ تھی وہیں اسے سب سے بڑا مجرم گردانتا تھا۔

“پاپا۔” ہمت جوڑتی وہ ضیاء صاحب کے سامنے جاکھڑی ہوئی جو مختیار صاحب سے گفت وشنید میں مشغول تھے دونوں کے لب بھینچے تھے ۔مختیار صاحب ان سے ایکسکیوز کرتے آگے بڑھ گئے انکے بیٹے کی بنجر اور ویران زندگی کی وجہ کو برداشت کرنا انکیلئے بھی ناقابل تھا۔

“نہیں ہوں میں تمہارا کچھ لگتا میرے ساتھ کوئی رشتہ جوڑنے کی ضرورت نہیں ۔ارے تمہاری جیسی ناخلف اولاد پیدا ہوتے مرجاتی تو آج دنیا کے سامنے یوں رسوا نہ ہونا پڑتا مجھے۔” ضیاء صاحب کی آواز نے انوشے کے دل میں چھید کیے تھے۔

“پلیز پاپا آپ تو مجھے۔۔۔” ابھی اسکے الفاظ زبان پہ ہی تھے جب وہ رخ موڑے وہاں سے چلے گئے ۔انوشے کا دل کررہا تھا وہ چیخ چیخ کے روئے مگر وہاں کون تھا جو اسکی سنتا ۔روحان نے دور سے ہی اسکی کشمکش کو جانچا دل میں گویا ایک سکون سا اترا تھا۔ایسا ہی تو تھا وہ ایک اور سکون کی رات اپنے مقدر میں لکھتے وہ اسے شکست سے گھائل کرچکا تھا۔

معروش کی اس پہ نگاہ پڑی تو باوجود اس لڑکی سے خائف ہونے کے پھر بھی معصوم سی انوشے اسے اچھی لگی تھی۔

“ہیلو!را ایجنٹ کیسی ہو۔” گھٹن زدہ ماحول میں معروش کی آواز کسی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے جیسی تھی۔

“فائن!سوری آپ بہت مائنڈ کرگئیں۔”کتنے لوگ اس سے بدگمان ہونگے ؟ایک” ٹھنڈی آہ” بھرتےوہ معروش کی طرف متوجہ ہوئی جبکہ اسکے چہرے پہ پھیلی یاسیت معروش سے بھی چھپی نہیں رہی تھی۔

“از ایوری تھنگ اوکے!مجھے کچھ پریشان سی لگ رہی ہیں آپ کہیں روحان سے آپکا جھگڑا تو نہیں ہوگیا۔”معروش کے نزدیک وہ کافی لووایبل کپل تھا جنکی کیمسٹری کمال کی تھی اور جتنا وہ لوگ اسے ژچ کرچکے تھے اسکے بعد واسق اور روحان کو وہ بلکل عزت کے قابل نہیں سمجھتی تھی اسیلئے بھائی وائی کی پخ لگانے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔

“نہیں تو کچھ بھی تو ایسا نہیں شاید تھکن کی وجہ سے

۔۔۔۔کافی دیر ہوگئی ہے تو۔”بودے بہانے گھڑتی اس نے معروش کو مطمئن کیا تو وہ بھی مطمئن ہوتی پارٹی میں موجود لوگوں کی ڈریسنگ سینس کو ڈسکس کرنے لگی۔انوشے کے مزاج پہ چھائی کثافت کچھ ہی دیر میں دور ہوچکی تھی وہیں اس نے ارتضٰی کے موضوع پہ اسے ایوائڈ کرتا دیکھ خاموشی اختیار کرلی ۔وہ بھلا اسے کیا سمجھاتی جسکا اپنا رشتہ بے یقینی کا شکار تھا۔

ڈنر ختم ہوتے ہی وہ روحان کی طرف بڑھی۔

“گھر چلیں آئی۔ایم ناٹ فیلنگ ویل۔” اسکے برابر ٹہرتے مجرموں کی طرح اپنا مسئلہ بیان کیا روحان نے چونکتے ایک نگاہ اس پہ ڈالی جو واقعی پرمژدہ حال نظر آرہی تھی ۔اسے اس پہ ترس کھانا تو نہیں چاہیئے تھا مگر پھر بھی وہ ہوسٹ سے معذرت کرتا اسے گھر لے آیا۔ گاڑی میں چھائی گھمبیر خاموشی نے انوشے کو نیند کی وادیوں میں دھکیل دیا تھا۔

گاڑی پارک کرتے اس نے انوشے کو دیکھا جو سوتے میں بہت معصوم لگ رہی تھی۔

“کیا ہوتا انوشے اگر یہ قسمت کا ستارہ صرف میرے لیے جگمگاتا صرف میرا ہوتا ۔ایک بار تو جھانکا ہوتا اس دل میں جہاں سوائے محبت کے سمندر کے کچھ نہیں تھا۔”

روحان کی آنکھوں میں نمی سی اتری تو وحشت زدہ ہوتے اس پہ جھکتے آوازیں دینے لگا ۔

“اٹھ جائیں مہارانی صاحبہ باقی کی نیند کمرے میں جاکے پوری کرلیجئے گا۔” روحان کی تیز آواز پہ وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوتے سیدھی ہوئی مگر چہرہ اسکے سینے سے ٹکرایا تھا وہی لزرتی پلکوں اور کپکپاتے ہاتھوں سے اس نے دروازہ کھولا باہر نکلتے وہ اندر کی طرف بڑھ گئی۔

اس اچانک ٹکراؤ نے روحان کی دھڑکنوں کو بھی بری طرح منتشر کیا تھا۔

“کیا ہوتا انوشے اگر تم اس غدار کا ساتھ نہ دیتی میں تمہیں اتنی محبت دیتا کہ تم سب بھول جاتیں۔ مگر کیسے بھول جاؤ کیسے کہ تم نے ہم سب کی زندگیوں سے کھیلا یے۔”

اس نے چیختے ہوئے سٹئیرنگ پہ زور سے ہاتھ دے مارا۔کتنا قابل رحم تھا وہ شخص جو شدید محبت اور نفرت کے پینڈولم میں جھول رہا تھا ۔اگر وہ چاہتا تو ہاتھ بڑھا کے سب فاصلے ختم کر لیتا مگر اپنے دوستوں جیسے بھائی کی زندگی کی ویرانی دیکھتے وہ اپنی زندگی کو آباد کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔جبکہ وہ اس بات سے انجان تھا کہ واسق کو تو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ وہ انوشے کے ساتھ کیا کرتا ہے کیونکہ اسکا مجرم تو اسکے پاس ہی تھا۔

༻━━━━━⊱༻

“ایسا کوئی کام جو زندگی میں تم نے کبھی ٹھیک سے کیا ہو ارتضٰی حیدر۔”وہ اپنی ٹوٹی ہیل ہاتھ میں پکڑے اس پہ چلائی اوپر سے دسمبر کی پہلی بارش نے بھی آج ہونا تھا ۔

“بلکل کبھی کوئی کام ڈھنگ کا نہیں کیا جس میں اولین غلطی تم سے شادی ہے۔” وہ جو پہلے طیش میں پہلے جنھنجلایا ہوا تھا معروش کی جلی کٹی نے اسے مزید بھڑکایا۔

جنرل صاحب کی پارٹی سے واپسی پہ تیز ہوتی بارش سے بچنے کیلئے اس نے گھر کی طرف شارٹ ٹرن لینا چاہا جب انکی گاڑی ایک کھڈے میں پھنستے آگے بڑھنے سے انکار کرچکی تھی۔انجن نے کام کرنا بند کیا ادھر معروش نے غصے میں سیٹ چھوڑی وہ جو اسے روکنے کے ارادے رکھتا تھا ایک ہنسی کا فوارہ چھوٹا جب نیچے پاؤں رکھتے وہ دھڑام سے گری تھی اور ہیل ٹوٹی سڑک میں اڑسی ۔خود کو سنبھالتے غصے میں جوتا نکالنا چاہا پر ہیل ٹوٹ گئ اور ساتھ میں زور پکڑتی بارش نے اسے پھر سے اندر بیٹھنے پہ مجبور کردیا ۔

“تو غلطی سدھار لو نا حنا سے شادی کرکے۔” کھڑکی کھولے زوردار انداز میں ہیل کو باہر اچھالا ورنہ یقیناً وہ ارتضٰی کے سر میں دے مارتی ۔

“اوہ گڈ آئیڈیا پر کیا ہے نا کہ ڈر لگتا تم شوہر پہ اتنے ظلم کرتی بیچاری سوتن کا کیا کروگی؟” ارتضٰی نے مسکراتے ہوئے اسے چڑایا۔

“بھاڑ میں جاؤ تم اور بھاڑ میں جائے وہ آئ۔ڈونٹ کئیر ٹو ہیل ود بوتھ آف یو۔” انگلیاں نچاتے لڑاکا عورتوں کی طرح ارتضٰی کی غلط فہمی دور کی۔

“تو تمہاری طرف سے کھلی اجازت ہے دوسری شادی کی۔”ارتضٰی کے ہاتھ تو جیسے اسکا ویک پوائنٹ آیا تھا اسکا چڑنا ثابت کررہا تھا کہ اسے بہت فرق پڑتا تھا تبھی ارتضٰی کے دماغ میں شیطانی پلان آنے لگے تھے ۔

“مجھے ایسے کیوں لگتا جو لوگ اس چیز کا بےسرا الاپ لگاتے کہ ہمیں فرق نہیں پڑتا انہی کو سب سے زیادہ فرق پڑرہا ہوتا ہے۔” ارتضٰی نے کہتے ساتھ تائیدی نظروں سے اسے دیکھا جس نے “ہننہ” کرتے رخ موڑ لیا۔

“اگر فضول گوئی ختم ہوگئی ہو تو یہاں سے نکلنے کا راستہ بھی سوچ لوں کیونکہ ساری رات تو میں یہاں بیتانے والی نہیں۔” دوسرے لمحے اسکی جانب رخ کرلیا تھا اور پریشانی بیان کی۔

“اوہوں میں تو چاہتا ہوں یہ حسین پل یہی رک جائیں میں ،تم ،بارش اور یہ سرد رومینٹک موسم ۔موقع بھی ہے دستور بھی ہے اور رشتے کے تقاضے بھی تو کیوں نا اس رات سے کچھ خوبصورت لمحے چرائے جائیں۔”

انتہائی شاعرانہ انداز میں کہتے وہ معروش کی طرف جھکا جو اسکی بےخود کیفیت دیکھتے پیچھے کو کھسکتی دروازے سے جالگی تھی۔

ارتضٰی نے ہاتھ اسکی جانب بڑھایا تو وہ وحشت زدہ ہوتی اسکا ہاتھ جھٹکنے لگی مگر وہ مضبوط حصار باندھے گاڑی کے دروازے تک ہاتھ لایا ساتھ ہی ہلکی سی چٹخ کی آواز آئی۔اپنے اوپر سے گزرتا ارتضٰی کا ہاتھ اسکی سانسیں اتھل پتھل کرگیا ۔

“ہاؤڈیر یو ٹچ می۔”اس نے آواز میں حد درجہ غصہ لاتے اس پہ دھاڑنا چاہا جب ارتضٰی نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچا۔

“خوشفہمی ہے آپکی محترمہ کہ ایسی کوئی خواہش یا چاہ بھی ہوگی مجھے ۔گاڑی کا آٹو سسٹم خراب ہے دروازہ لاک نہیں کبھی بھی کھل سکتا اور محترمہ معروش صاحبہ دوسری بار یقیناً روڈ پہ سجدہ ریز نہیں ہونا چاہیں گی۔” اس پہ گھڑوں پانی پھیرتے پورا مذاق اڑاتے معروش کو شرمندہ کرنا چاہا پر وہ معروش ہی کیا جو شرمندہ ہوجائے ۔

“تمہاری گاڑی ہے نا ہر چیز ہی خراب ہوگی تمہاری طرح۔”ابھی وہ اسے مزید کچھ کہتی کہ ایک گاڑی انکی گاڑی کے برابر آن ٹہری تھی ۔وہ دونوں چونکے تھے۔

༻━━━━━⊱༻

“Lion heart,

The Fearless,

The Few,

The Proud,

The commondos,

Calm,

Fighting For Control,

Spot On,

No Exception,

Significant Judgement Slow In motion,

BUT…….

Deliberate In Action,

WHO AM I?

I am the Thermometer,

The Barometer,

I am the weapon,

Everything Else Just A Tool,

I want to be the top Sniper,

Pietnce,

Invincible Resolve,

Perseverance,

Marksmanship,

Accuracy,

Consistancy,

To Select The Very Best,

Nonetheless,

Death Angels,

Professionalism Excelling,

Skill Temperament,

Tactical Emplacement,

Credible Scores,

Instituaional Teaching,

Organizing Ability,۔۔۔

سیپشل ٹارگٹ،سیکرٹ مشنز یا آپریشن اور جنگ میں مین ٹارگٹ کوہٹ کرنے کیلئے سنائپر ٹریننگ کا حصہ بننا تھا جبکہ عام کمانڈوں فورسسز اپنا اکیڈمک پریڈ مکمل کیے پاس آؤٹ کو تیار تھے۔

ان کمانڈوز کو ویسے تو تمام اسلحہ جن میں سمال آرمز (پسٹل،سب مشین گنز اور رائفل) پہ مکمل کمان سکھائی گئی تھی اور وہ دوسری کٹیگری سنائپرز شوٹر رائفل کی ہینڈلنگ کی طرف بڑھ رہے تھے۔

جبکہ تیسری کیٹگری ہیوی آرمز (ہیوی مشین گنز،آر۔پی۔جی وغیرہ جو کہ بکتر بند گاڑیوں کے بلاسٹ میں کام آتیں) پہ مشتمل جو کہ یقینی طور پہ ایک اہم مورچے پہ کارآمد ثابت ہونے والی تھی۔

انہیں اسپیشل وائپن ٹریننگ کیلئے مزید وقت درکار تھا روحان اور احمد نے بھی انکی تقلید کی تھی یوں بیچ راہ حائل مقصد کو چھوڑنا بزدلانہ کام تھا ۔جیسے جیسے انہیں اپنے دائرہ اختیار میں چیزوں سے آگاہی حاصل ہورہی تھی انہیں آگے بڑھنے کا نیا عزم مل رہا تھا۔

“ون مین پرفیکشن ” کی چاہ انہیں بہت آگے تک لارہی تھی۔

“ڈیتھ اینجل ” بننے کو تیار وہ ایس۔ایس۔جی کمانڈوز اب ایس۔ایس۔جی سنائپر کیلئے سلیکٹ ہوچکے تھے ۔

“Barrett M82 , Remington MSR,Heckler &koch MSG90,Styer SSG 69,

RPA Rangemaster.5………..

جیسے سنائپرز اسپیشل شوٹر گنز پہ کمانڈ کیلئے انہیں جدید طریقے سے ٹرین کیا جارہا تھا.

“ایس۔ایس۔جی سنائپر کے پاس جو رائفل تھی اسکی ایکورسی اور رینج عام فوجی ویپن سے ہٹ کے ہوتی۔

مارخور اورمن جانبازم کی چاہ مکمل کیے آگے بڑھتے یہ سنائپرز بھی اپنے اندر ایک جامع کہانی لیے ہوئے تھے۔

“سنائپ برڈ۔” کی نقل کرتے شارپ شوٹرز کو سنائپر کا نام دے دیا گیا ہے۔ کیونکہ اسکی پتلی اور لمبی پیک کبھی اپنے دشمن پہ کیے گئے وار کو خالی نہیں جانے دیتی۔ اور ساتھ ہی کیچڑ میں بھی اپنے شکار کو محسوس کرلیتا ہے اور شکار پہ اسطرح کی یلغار کرتا ہے جیسے مشین میں لگی سوئی تیزی سے سوراخ کرتی آگے چُبتی بلکل اسطرح شارپ شوٹرز اپنے شکار پہ نظر رکھے اسے بھون کے رکھ دیتے۔

اور ساتھ ہی اسکی دوسری خاصیت یہ ہوتی کہ وہ کافی دیر خود کو محفوظ انداز میں چھپائے اپنے شکار کا انتظار کرسکتا ہے جیسے شارپ شوٹر مکمل تحمل بھرے انداز میں اپنے شکار کا انتظار کرتاہے۔

Styer SSG 69,Accuracy International Artic warfare,

جوکہ آسٹریلا اور یو۔کےکی جانب سے بنایا گیا اسپشیل شارپ شوٹر رائفل تھی اسوقت پاکستانی ایس۔ایس۔جی۔کمانڈوز کی ٹریننگ میں استعمال ہورہا تھا یہ وہی ویپن تھا جسکا استعمال کرتے پاکستانی ایس۔یس۔جی سنائپر ارشد خان نے چالیس ممالک کے سنائپرز کو پیچھے چھوڑے بیجنگ میں ہوئے مقابلوں میں اول آتے پاکستانی سنائپرز کو دنیا میں شناخت دلائی۔

ان تینوں کیلئے قابل فخر بات تھی کہ وہ ایس۔ایس۔جی کی ضرار یونٹ میں شامل تھے جو کئی بار اپنے دشمنوں کو دھول چٹا چکی تھی اور ارشد خان کا تعلق بھی اسی یونٹ سے تھا۔

“یارا مینوں تے انج لگدے اسی لوگ گھروں فالتو لوگ جہڑے ایتھے پتا نی کنیاں کماں واسطے کٹھے آں۔”

(یار مجھے لگتا ہم لوگ گھر سے فالتو جو یہاں پہ پتا نہیں کونسے کاموں کیلئے اکھٹے ہیں۔”

احمد نے آگ کے شعلوں کو بھڑکاتے کہا۔

“یار جہاں اتنے میدان عبور کیے وہاں یہ آخری سہی ۔”واسق نے ہمیشہ کی طرح ہمت بندھائی۔

“تمہارا یہ آخری پڑاؤ کا لالچ ہمیں لے ڈوبے گا کسی دن۔”

روحان نے اس وائلن کے تار جوڑنے شروع کیے اسکا ٹیکنکی دماغ کب سے ان چکروں میں تھا کہ وہ اس وائلن کو جوڑے ۔

واسق نے فریفتہ نگاہ اس پہ ڈالی۔ روحان نے اسکی نظروں کا مفہوم سمجھتے اپنے شوز کی طرف اشارہ کیا۔

انکی بٹالین کا چوتھا بندہ مس تھا جو اسوقت لندن میں مس لٹل کریپٹو کوئین کے کیس ریزولوشن میں تھا۔

“سچ پوچھو مینوں اتھے کوئی مسئلہ نی ہر چند کے اے واحد یونٹ جتھے اپنڑی عزت بچانڑ لی وی روج بے عزتی کرانی پیندی۔”

(مجھے یہاں پہ کوئی مسئلہ نہیں سوائے اسکے کہ یہ واحد جگہ جہاں پہ عزت بچانے کیلئے بھی روز بے عزتی کروانی پڑتی۔)

احمد ابھی کرنل صاحب سے تازی عزت کروا کے بیٹھا تھا تبھی اسکے دکھ نہیں ختم نہیں ہورہے تھے۔

“سی۔کیو۔بی (CQB) “یعنی “کلوز کمانڈو بیٹل” کیلئے استعمال کی جانے والی “ایس۔ایم۔جی “جو کہ پاکستان کی واہ آرڈینس فیکٹری میں تیار شدہ دو کلو کے وزن پہ مشتمل گن تھی اور ٹارگٹ ہدف نو سو پر میٹر تھا جو احمد کو ایچیو کرنا تھا فل فائر سے مگر اسکی بدقسمتی کہ وہ ہیوی گن کی سب سے ہلکی رائفل کوبھی سنبھال نہیں پایا جسکے بدلے وہ خود جھٹکا کھائے پیچھے کو گرا تھا۔

تِبھی شوٹر کمانڈو نے اسے کھری کھری سنائی تھی اس پہ واسق اور روحان کی دبی دبی ہنسی “جٹ پتر” کو بہت ِکھلی تھی۔اور ساتھ میں دی جانے والی سزا کسی عام انسان کیلئے رونگٹے کھڑی کردینے والی تھی ۔

اوپری شرٹ اتروائے آنکھوں کو بلیک پٹی سے باندھے اور دونوں ہاتھ چھت سے باندھی رسی سے لٹکائے اسے الیکٹرک وائر شاک دے گئے تھے اس پہ مژداد ایک وائر واسق کے ہاتھ تھی جبکہ دوسری روحان کے ناچاہتے ہوئے بھی تھوڑی تھوڑی دیر بعد اسے وائر سے ٹچ کروایا جاتا ۔بغیر شرٹ کمر اور پیٹ پہ پڑتے ننگے وائر نے احمد کو چیخنے پہ مجبور کیا تھا مگر وہاں اپنے ساتھی کی آہ بکا سننے کیلئے بھی کوئی گنجائش نہ تھی۔

کمانڈو ٹریننگ کی یہ سزا ایک طرح سے ان میں مظالم کی برداشت کا پیمانہ لانے کو تھی ۔یہی وجہ ہے کہ آج بھی پاکستانی سپائے اور جانباز کی مثال نہیں انہی مراحل سے گزرتا وہ ایک منظم سپاہی بن سکتا جسکی مثال سپاہی مقبول حسین جیسے کئی لوگ ہیں جنہوں نے انڈین آرمی کا ہر ٹارچر سہا تھا حتٰی کہ زبان تک کٹوا لی مگر اپنے ملک کی بقا کیلئے دشمن کے آگے زبان تک نہ کھولی تھی ۔

روحان اور واسق احمد کی نسبت ہلکی سزا میں رہے تھے ٹریگر پہ غلط انگلی کی جنبش نے ان دونوں کا لنچ میں فراگ(مینڈک) کھلائے تھے جو یقیناً انکیلئے پہلی غلطی سدھارنے کی چھوٹی سی سزا تھی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *