Sayah Kaar by Uzma Mujahid NovelR50609 Sayah Kaar (Episode 26)
Rate this Novel
Sayah Kaar (Episode 26)
Sayah Kaar by Uzma Mujahid
وہ ساکت سی ٹہری تھی ۔ہرطرف گہرا سناٹا چھایا ہوا تھا کہیں کہیں آرمی کی بکتر بند گاڑیوں کے گزرنے کی آواز آجاتی جسکے نتیجے میں کوئی آوارہ کتا بھونک دیتا۔ وسام کی سسکی پہ ان دونوں نے بھی اپنا جھکا سر اٹھایا۔جو منہ پہ ہاتھ رکھے اندر کی طرف بڑھ گئی تھی۔
“وس..آؤ” وہ جو وسام کو بلانے لگا تھا حمزہ کے زور سے زخم پہ پریس کرنے پہ بازو کی ہڈی چرچرائی۔
“ٹوٹ چکی ہے باس۔” حمزہ نے ایک بار پھر بازو کا جائزہ لیا۔
“توں یہاں کیا کررہا ہے سالے اور یہ۔۔” واسق نے درد کی اٹھتی لہروں کو اگنور کرتے اٹھنا چاہا مگر لڑکھڑا گیا۔
“اب تک تو سب ٹھیک چل رہا تھا غلط ٹائم انٹری دی تم نے۔”حمزہ کے شوخی سے کہنے پہ وہ مزید چڑ گیا۔
“اے مسافر تم رکو یہاں میں اپنی دی سے مرہم لے کے آتا ہوں۔” اسے زچ کرتا وہ اندر بڑھ گیا جہاں وہ چہکو پہکو رونے میں مصروف تھی۔
“دی” وہ نادم سا بیٹھا تھا۔
“کون ہو تم ؟” آنسو بھری آنکھیں لیے وہ حمزہ کو گھور رہی تھی جبکہ واسق نے بھی چہرے پہ پہنا بلیک کمانڈو ماسک اتارا تھا وہ فریفتہ نگاہوں سے اسے دیکھے جارہا تھا۔وسام کو تو اسکے یہاں ہونے نا ہونے سے فرق نہیں پڑ رہا تھا محبوب پہلے سے زیادہ ظالم بن چکا تھا ۔
“دی میں سمجھاتا ہوں سب مگر یہ سالا اچانک ہی یہاں آیا کوئی پلین نہیں آئی سوئیر۔”حمزہ کو اسکی بے اعتباری بری لگنے لگی وہیں واسق سے درد کی شدت برداشت نہیں ہورہی تھی سلب ہوتے حواسوں سے اس نے وسام کو اپنے اوپر جھکتا دیکھا۔اسے لگ رہا تھا کہ اسکی آخری خواہش ہی پوری ہورہی ہے۔
༻━━━━━⊱༻
کانٹوں پہ رات گزارنا کسے کہتے یہ انہیں اس سیل زدہ ماحول میں رہتے اندازہ ہورہا تھا۔منصور لالہ کی نعش سامنے آتی تو دل میں وبال اٹھتے انہی کی سرزمین پہ اتنا بےرحمی سے شہید کیا گیا ۔ایک ٹھیس سی دل میں اٹھتی نجانے انکو کفن نصیب ہوا کہ نہیں ۔وہ اس بات سے بلکل انجان تھے کہ منصور لالہ کی نعش کو آپریشن میں مصروف افواج کیلئے ایک سبق سکھانے کو بیچ چوراہے میں رکھا گیا تھا جہاں ملٹرین نے اپنی تحویل میں لیتے اسکے آبائی گاؤں بھجوا دیا ۔ انکی اس دلخراش حقیقت کو گھر والوں سے چھپائے تابوت سمیت دفن کیا گیا جہاں بظاہر جنگ کے دوران شہید ہونے والا کمانڈو فوجی دفن تھا اور اپنے ساتھ کیے گیے دشمن کی بربریت اور ظلمات کے راز چھپائے گھر والوں کا سر فخر سے بلند کرگیا وہیں ملٹری کو بھی ان کی شہادت پہ مان تھا۔
طالبان کی قید میں موجود وہ زخمی شیر بنے بیٹھے تھے مگر بے بس تھے۔ہر رات انہیں ایسا محسوس ہوتا جیسے بند کمرے کو کوئی کیل ٹھونکتا ہے مگر انکا وہم تھا یا شاید ملحقہ کمروں میں کوئی کام ہورہا تھا۔
کتنے دن اس قید میں گزرے کوئی حساب نہ تھا۔
“میں یہ نہیں جانتا کہ یہاں سے ہم زندہ واپس جائیں گے یا نہیں مگر ایک بوجھ سا ہے جسے اپنے سینے سے سرکانا چاہتا ہوں میں۔” اندھیرے میں ایک آواز ابھری تھی روحان بخوبی اندازہ کرسکتا تھا کہ کسکی آواز ہوگی۔
کمرے میں موجود وہ تینوں افراد زنجیر سے بندھے تھے ۔زنجیر اتنی تنگ تھی کے ان کے پاؤں اور ہاتھوں سے خون رسنے لگا تھا مگر وہ بے بسی کی تصویر تھے۔
“روحان۔”اتنے عرصے بعد روحان کو اپنا نام احمد کے منہ سے سننا عجیب لگا تھا۔
“میں جانتا ہوں یہ گھر کی بات ہے مجھے اس موقعے پہ نہیں کرنی چاہیئے مگر بزدل دشمن کا وار بڑا خطرناک ہے اسیلئے چاہتا ہوں کہ کچھ رازوں سے پردہ اٹھ جائے تو بہتر ہے۔”احمد نہیں جانتا تِھا کے روحان اسے سن رہا یا سورہا مگر وہ بولنا چاہتا تھا نجانے کیسی کسک جاگی تھی کہ بولنا ہی ہے۔
اور پھر وہ ہر راز سے پردہ ہٹاتا گیا صرف وسام کو کوئی نقصان نہ پہنچے اس ڈر سے فرشتے کو منظرعام پہ نہیں لایا گیا کیونکہ کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ فرشتے کے دماغ میں کیا چل رہا اس نے وسام کے غائب ہونے کو اپنے سر لینے سے انکار کرتے چپ سادہ لی تھی۔
جس نے کرنل کے گھر رہتے اتنی بڑی گیم کھیلی تھی یقیناً اسکی بیک بہت مضبوط تھی وہیں اسکے غیر ملکی تنظیموں کے ساتھ ابرق کی راہنمائی میں میل ملاپ سب سامنے تھا۔ واسق کے سامنے اسکا انداز انتہائی غیر مہذب تھا اور سب سے بڑھ کے انوشے نہیں چاہتی تھی کہ ضیاء صاحب اپنی بیٹی کے ان مجرمانہ افعال سے آگاہ ہوں ۔مگر اسکا یہ دوراندیشانہ فیصلہ اسی کیلئے وبال جان بن گیا اور جب جب اس نے روحان اود ضیاء صاحب کو کچھ بولنا چاہا وہیں نفرت کے انداز جبکہ ڈاکٹر حسیبہ بھی اسی گناہ کی سزا کاٹ رہی تھیں ۔کرنل ضیاء کی تمام توجہ انکی سیکنڈ وائف اور جڑواں بچے انعم اور التمش تھے ۔
کمرے میں پھر سے چپ تھی ۔
“ایک بار اعتبار کرلیتے تم لوگ۔” روحان کی آواز ہر تاثر سے خالی تھی نہ دکھ ،نہ شکوہ اور نہ ہی پچھتاوا۔
“سب بتا دینا چاہتا تھا مگر انوشے اور فرشتے کی گیم اور پھر پے درپے ہونے والے حالات و واقعات نے سب کچھ بکھیر دیا تھا۔محبت میں فتح یاب تو تم ہی ٹہرے تھے روحان یہ تمہاری بدنصیبی کے شب وصل کی قدر تم سے نہ ہوپائی کہیں نا کہیں شاید مجرم واسق اور میں بھی ہیں مگر وہاں بھی تو کچھ کھودینے کا ڈر تھا۔
ان سالے فوجیوں نے سب کچھ سکھا دیا مگر اپنوں کے لاشے ہاتھوں پہ اٹھانے کی ہمت نہیں بدھائی ہم خودغرض ہوئے میں بھی نہیں چاہتا تھا کہ شموئیل کے بعد واسق وسام کو بھی کھودے۔اگر فرشتے ہماری قید میں تھی تو اسکا بدلہ لیا گیا شموئیل کو مار کے۔
وہ لوگ بہت خطرناک ہیں ۔” احمد کی آواز بھرائی تھی جبکہ ان کے درمیان موجود تیسرا شخص خاموش تھا۔
رات کے اندھیرے چھٹے تھے وہیں کسی اور کی زندگی بھی صبح کا بے رحم سورج دیکھنے سے انکاری ہوئی۔اس عقوبت خانے سے رہائی مل گئی تھی مگر ان درندوں کو کسی کی اتنی آسان موت کہاں گوارہ تھی۔
باقی کے تین قیدیوں کو بھی باہر لایا گیا تھا وہیں وہ دونوں اپنے سامنے ایک اور لاش کی بے حرمتی دیکھ رہے تھے جہاں باقاعدہ “اللّٰہ ہواکبر” کی تکیبر سے سامنےموجود فوجی کو زبح کیا جارہا تھا۔
ایک اور روشن چہرے کو ٹھوکریں مارتے وہ لوگ یزیدی لشکر کو بھی مات دے رہے تھے صرف فوج سے اتنی نفرت کیوں ؟اس بات کا سوال یقیناً انہیں خود بھی نہیں پتا تھا جو دماغی طور پہ بلکل مفلوج جیسے کسی شیطانی طاقت کے حصار میں تھے ۔ باقاعدہ ویڈیو بنا کے فوج کے نام اپنی طاقت دکھانے کو للکار پڑی تھی وہیں ٹاسک فورس نے لبیک کی صدا پکارے بڑی آسانی سے ان پتھروں کی سنگلاخ دیواروں کو توڑ ڈالا ۔اپنوں کو سامنے دیکھتے غائبی قوت غالب ہوئی تھی جہاں احمد ،روحان سمیت باقی سب نے بھی قید کی اس زنجیر کو توڑا ۔
یقیناً ظالم کا وقت ختم ہورہا تھا ۔جہاں وطن کی خاطر اتنے بیٹوں نے واقعی میں گردن کٹوانے سے دریغ نہیں کیا تھا۔
احمد نے زخمی روحان کو دیکھتے اسکی طرف دوڑ لگائی۔
“تم آگے بڑھو یار میری فکر نہ کرو۔” زخموں سے چور روحان نے احمد کو اپنی طرف سے آنے روکا جبکہ اسکی ٹانگ سے خون کی پھوار چھوٹی تھی جہاں گولی اسکی ٹانگ میں لگی تھی ۔احمد فرض اور دوستی کی آزمائش میں پھنسا تھا ۔فرض کی للکار دوستی پہ سبقت لے گئی تھی۔
پورے علاقے میں خون اور بارود کی مہک پھیلی تھی مگر اس بار پاک افواج نے مشن ادھورا نہیں چھوڑا ۔سوات کی نگری کے چپے چپے کا صفایا کیا جہاں کئی لوگ مفرور ہوئے تو کئی لوگ حرام موت مارے گئی وہیں بہت سے بیٹے اپنے وطن پہ نثار ہوئے۔
༻━━━━━⊱༻
“روحان کی کوئی خبر بابا؟” وہ جو موت کی وادیوں سے نکلی تو لبوں پہ زکر ہی اپنے ہرجائی صنم کا تھا۔ اور اتنے دنوں بعد بھی اسکی کوئی خبر نہیں تھی تو وہ ضیاء صاحب کے آفس جاپہنچی۔
“سوات کا آپریشن اتنا نازک ہے کہ کسی ایک پرسن سے متعلق شیورٹی سے بات کرنا ناممکن ہے۔” بجائے سیدھے طریقے سے جواب دینے کے انہوں نے بات ہی بدل دی۔
“وہ فوج کا ماتحت ہی نہیں میرا شوہر بھی ہے اور آپکا داماد بھی۔” انوشے نے روتے سے کہا اب وہ اسے کیا بتاتے کہ اسکا شوہر کرنل ضیاء کا داماد ہونی کی کتنی بڑی قیمت چکا رہا ہے۔
“مجھے اس سے بات کرنی ہے۔” انوشے کا لاڈ واپس آنے لگا تھا کیونکہ کرنل ضیاء بھی تو فرشتے سے آگاہ ہوئے تھے۔
“ممکن نہیں ہے آجائے گا کچھ دن تک۔” کرنل ضیاء نے اسے ٹالا یہ فوجی اتنے کٹھور ہوسکتے اس بات کا اندازہ اسے ہورہا تھا۔
“بابا ” صرف ایک لفظ اور کرنل ضیاء کا ضبط ٹوٹا وہ اپنی اس بدنصیب بیٹی کا کیا کرتے جسے اب تک کوئی خوشی نہیں دے پائے تھے۔
“آجائے گا کہہ دیا ہے نا ایک بار کا کہا کیوں سمجھ نہیں آرہا آپکو ہر بات ہرجگہ ضد دکھانے کی نہیں ہوتی انوشے۔”کرنل ضیاء نے انتہائی بے رخی دکھائی۔
“بابا نیوز پہ بار بار دکھا رہے سوات آپریشن سے فوج کا انخلاع ہوچکا ہے سب لوگ واپس اپنی اپنی ڈیوٹیز پہ آرہے تو روحان کہاں ہے؟” وہ بھی انہی کی بیٹی تھی جو اپنے مؤقف پہ ڈٹی تھی۔ تمام ہتھیار ڈالے وہ آفس سے نکلے جبکہ انوشے بھی انکے پیچھے تھی کچھ دیر بعد وہ سی۔ایم۔ایچ کے سامنے ٹہرے تھے۔
ایک کمرے کے سامنے رکتے انہوں نے انوشے کو اندر کی جانب بڑھنے کا اشارہ کیا ۔وہ ناسمجھی سے انہیں دیکھتے دل میں ہزاروں خدشات لیے کمرے میں داخل ہوئی جہاں احمد باؤل پکڑے روحان کو کچھ کھلانے کی کوشش کررہا تھا مگر وہ رخ پھیرے ہوئے تھا۔
یقیناً انوشے کیلئے یہ منظر حیرت زدہ کردینے والا تھا مگر روحان ؟کیا وہ ٹھیک تھا اگر ٹھیک تھا تو اس سے سب کچھ کیوں چھپایا جارہا تھا۔بظاہر سب ٹھیک بھی تو ٹھیک نہیں تھا اسکی نظر روحان سے ہوتی بستر پہ اسکے نڈھال وجود پہ پڑی ۔
“میں نے منع کیا تھا سر۔” ایک شکوہ کناں نظر کرنل ضیاء پہ ڈالی۔
“نہیں رہ سکتی تھی یہ اور کچھ سچائیوں کو ساتھ لے کے جینا پڑتا۔”انکی مبہم گفتگو انوشے کی سمجھ سے باہر تھی ۔احمد نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے سیٹ چھوڑی مگر روحان نے پھر سے رخ پھیر لیا ۔
“ایک اپاہج شخص کے ساتھ زندگی گزار سکے گی آپکی بیٹی جس نے ماضی میں ایک لمحہ خوشی نہ دی ہو اسے۔” روحان کی سپاٹ آواز نے سب کو ساکن کیا۔
༻━━━━━⊱༻
واسق کی آنکھ کھلی تو لکڑی کی بنی چھت کو غور سے دیکھتے کمرے کا جائزہ لیا ۔وہ چھوٹا سا کمرہ تھا جہاں ایک شخص لیٹ سکتا اور اگر بیٹھنے کی کوشش کرتے تو بامشکل دو افراد کی جگہ تھی شاید گھر کی راہداری کو زبردستی کمرہ بنانے کی کوشش کی جارہی تھی۔
“کچھ چاہیئے آپکو؟” ایک چھوٹی سی لڑکی اسکی ڈیوڑھی پہ آئی تو اپنے وجود کو گھسیٹتے اس نے دیوار کی پشت سے ٹیک لگائی۔
“ادھر آؤ گڑیا۔” واسق کو وہ بامشکل چھ سات سال کے لگ رہی تھی۔اس نے دور سے ہی نفی میں سر ہلا دیا اسکی حرکت پہ واسق کے لبوں پہ مسکراہٹ کھلی۔
“کوئی اور نہیں ہے یہاں؟” اس نے وسام کی بابت دریافت کرنا چاہا تھا ۔اس نے زور وشور سے نفی میں سر ہلایا تو اب واسق کیلئے پریشانی کا لمحہ تھا اسے سمجھ نہیں آئی وہ وسام کی بابت کیسے دریافت کرے ۔
“کچھ نہیں چاہیئے میں جاؤں؟” اس نے اجازت طلب نگاہوں سے اسے دیکھا تھا جب اس نے بھی اثبات میں سر ہلا دیا ۔ایک نظر اپنے بازو پہ کی جہاں سے گولی نکالی جاچکی تھی اور سبز ملیدہ سا زخمی حصے پہ لگا کے پٹی کی گئی تھی۔
آتی تو ہو گی ذہن میں گزرے دنوں کی سوچ
کرتا تو ہو گا یاد وہ مجھ کو کبھی کبھی۔۔۔۔
نرمی سے اپنے بازو کی پٹی پہ ہاتھ پھیرتے اس نے وسام کے لمس کو محسوس کرنا چاہا نیم بے ہوشی کی حالت میں بھی وہ یہ محسوس کرسکتا تھا کہ وسام اسکے آس پاس رہی تھی۔
“آگیاتوں ہوش میں۔” وہ زیرلب مسکراتے اسکے پاؤں کے قریب بیٹھا ۔
“کیا ڈرامہ چلا رکھا تم نے یہاں جانتا تھا نا کہ پل پل مررہا ہوں اسکے بغیر اور توں اسے دی بنا کے یہاں بیٹھا ۔غدار انسان میں تیرا گلہ دبا دونگا۔”واسق کا دل کررہا تھا اسے جھانپڑ رسید کرے۔
“آہاں لنگڑوں کے شوق تو سنو بازو میں ہمت ہے تو اٹھا کے دکھا مگر بازو دایاں ہونا چاہیئے۔”اس نے چہچہاتے ہوئے اسکی زخمی بازو پہ ہاتھ پھیرا۔
“توں زلیل انسان اچھا ہوتا تیرے ساتھ جو بیوی تجھے منہ نہیں لگاتی۔” واسق نے دل کے چھالے پھوڑتے اس راہداری سے باہر جھانکنا چاہا جہاں اسے کوئی سر پیر سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ لوگ کہاں سے آتے غائب ہوجاتے۔
“اور تیرے ساتھ تو سو آنے بہتر ہوا جو تیری بیوی یہاں آئی بیٹھی کوسوں میل کیونکہ توں اچھی لڑکی ڈیزرو نہیں کرتا۔” وہ کہاں ہارنے والا تھا ۔
“ویسے مبارک ہو سسر صاحب پکڑے گئے ہیں اور سالے انہیں اسوقت نامعلوم مقام پہ لے گئے۔” حمزہ کی بات پہ وہ مزید سیدھا ہوکے بیٹھا۔
“کیسے؟اور وسام کہاں ہے؟” اسکے چہرے پہ پریشانی کے
آثار نمودار ہوئے ۔
“اپنے باپ کے ہمراہ فلحال تو۔” اس نے کھڑے ہوتے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا ۔
“یہ کیسے ممکن ہے یار وہ تو بے قصور ہے اور پھر ۔۔”واسق سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تقدیر ایک بار پھر سے اسے دغا دے جائے گی۔
“چل چل ایموشنل سین یہاں کریٹ نا کر باہر گاڑی انتظار کررہی۔”اتنا آسان لب ولہجہ واسق تو شاکڈ تھا۔
“کیا؟ کیا دیکھ رہا ایسے اچھا تھا مزید بے ہوش رہتا تین چار بندوں کے آسرے لے جاتا ایویں تاڑ تاڑ کے مارے جارہا ہے مجھے۔”وہ بری طرح چڑا تھا جبکہ واسق حیران تھا اسے کیوں مستیاں سوجھ رہیں یہاں اسکا ٹینشن سے برا حال تھا۔
“نہیں میں وسام کے بغیر یہاں سے نہیں جاؤنگا۔” واسق نے بچوں کی طرح ضد کی۔
“لو جی الٹی گنگا بہنا شروع بھائی صاحب ٹریننگ کرنے گئے لڑکی پکڑ لائے ،جنگ کرنے آئے لڑکی چاہئے یہاں آنے کا مقصد یاد رکھو باقی سب بھول جاؤ۔ٹھیک ہے گڈبائے میرے جوان ہمت نہیں ہارنا اور ہاں یہ تمہاری زوجہ محترمہ کا بنایا گیا خفیہ ٹھکانہ ہے یہاں بیٹھ کے اسے یاد کرو ۔” وہ اسے زبان چڑائے باہر نکل گیا۔
واسق کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا اسکا اور وسام کا کنکشن ،واسق کا وسام سے ملنا اور پھر سے بچھڑ جانا۔
“سلیوٹ سر سپاہی نظرحسین حاضر ابھی کچھ دیر میں آپکو اسلام آباد کیلئے ریسکیو کیا جائے گا اپنی کمان باندھ لیں سر۔” سامنے موجود خاکی یونیفارم میں ملبوس بٹالین نے متبسم لہجے میں واسق کے سامنے رٹی رٹائی تقریر دہرائی۔
“واٹ دا ف۔۔” ابھی وہ کچھ بولتا کہ ایک اور سپاہی چلا آیا۔
“سلیوٹ سر مشن کی کامیابی پہ آپکو سوات کی فضائیں سلام کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اب وہ مزید کسی زخمی بندے کو یہاں برداشت نہیں کرسکتیں ۔اس احتجاج پہ آپکو اسلام آباد کیلئے ریسکیو کیا جارہا ہے سر کمانڈوز ان۔” اپنی بات مکمل کرتے اس نے للکار لگائی جہاں فوجی بوٹوں کی چاپ سنائی دی تھی۔
واسق حیرانگی سے انہیں دیکھ رہا تھا جو اپنے کیپٹن کو پیغام کم دے رہے تھے اور حکم زیادہ سنا رہے تھے ۔
“ابھی کچھ اور سننا ہے؟” متبسم شریر انداز پہ واسق کو اندازہ ہوا تھا یہ ساری سکھلائی گئی گیم تھی۔
“سوچ لو کیپٹن ورنہ میرے بندے کندھوں پہ اٹھا کے جائیں گے۔” واسق کو مجبوراً انکا سہارا لیتے اس عارضی پناہ گاہ سے نکلنا پڑا تھا ۔باہر آتے اسے محسوس ہوا کہ یہ وہی حویلی تھی جہاں پہ اس نے زخمی ہوتے دیوار پھلانگی تھی ۔مگر وہاں پہ پھیلے سناٹے کسی بھی اچھے بھلے انسان کو وحشت میں مبتلا کرسکتے تھے گاڑی کی طرف بڑھتے اسکی نگاہ حویلی کے مرکزی دروازے پہ پڑی جہاں وہی چھوٹی گڑیا مسکراتے ہوئے اسے الوادع کررہی تھی ۔اسکے ہاتھ میں چھوٹا سا سبز ہلالی پرچم لہرا رہا تھا اور شرٹ پہ ایک ستارہ لگایا گیا تھا جو فوج سے اسکی محبت کو ظاہر کررہا تھا۔
بالاآخر امن کے پاسداروں نے اپنی محبت کے پھول کھلائے لوگوں کے دلوں سے فوج کا ڈر ختم کردیا تھا مگر خالی دل لیے پھر سے اپنی زندگی کے غیر اہم ہونے کا احساس غالب تھا۔
ابرق خان کی حویلی کے اونچے مسکن پہ بھی پاک فوج کا جھنڈا لہرایا گیا تھا۔
༻━━━━━⊱༻
“احمد کی کال آئی تھی تمہارے لیے پیغام چھوڑا ہے جب ریڈی ہوجاؤ تو وہ لینے آجائیں گے۔” انوشے نے اسے کمرے میں داخل ہوتے دیکھ پیغام دیا۔
“جانتا ہوں اپاہج ہوں بیوی سمیت ہر بندہ یہ رئیلاز کروانے کی کوشش کرتا ہے مجھے۔ بوجھ جو بن چکا ہوں ۔ہر چیز کیلئے محتاج ہونا پڑتا دوسروں کا۔” آپریشن کے بعد اپنی حالت کی بے بسی پہ وہ حددرجہ سینٹی ہوا پھرتا تھا۔
“اتنا غلط کیوں سوچتے ہو روحان تم ہم پہ کوئی بوجھ نہیں اور یہ ڈاکٹرز پرامید ہیں ایک دن تم اپنے پاؤں پہ کھڑے ہوجاؤگے اگر تم ہی حوصلہ ہار دوگے تو کیسے چلے گا سب۔” انوشے نے آگے بڑھتے اسکے شانے پہ ہاتھ رکھنا چاہا جسے اس نے پیچھے کو جھٹک دیا وہ اپنے ہاتھ کو دیکھتی دل مسوس کے رہ گئی۔یہ شخص کبھی ہار ماننے والوں میں سے نہ تھا۔
سو دل جلانے والے فقرے اچھالتے وہ تیار ہونے لگا تھا آخر کو دوست کی خوشی بھی اہم تھی۔
༻━━━━━⊱༻
معروش نے آنے والے کو دیکھا کیا وہ پہلے بھی اتنا ڈیشنگ تھا یا پھر آج ہی لگ رہا تھا ۔ڈنر سوٹ میں ملبوس بزی سا وہ آگے بڑھ رہا تھا جب راستے میں ایستادہ معروش پہ نگاہ پڑی۔
“کچھ کہنا ہے آپکو؟” انتہائی سنجیدہ لہجہ وہ برے طریقے سے کنفیوژ ہوئی ۔جلدی سے نفی میں سرہلایا تھا۔
“تو؟” ارتضٰی نے اسکے اسطرح راستے میں حائل ہونے پہ تنقیدی نگاہوں سے دیکھا۔
“اوہ سس سوری کہیں جارہے ہو تم؟” اس نے ہمت جتاتے پوچھ ہی لیا ۔
“جی آپکو بتانا ضروری ہے یا آپ میری روٹین چیکر ہیں۔” وہ جو پوچھنے لگی تھی کہ “کہاں” اتنے روڈ جواب پہ دل مسوس کے رہ گئی ۔وہ جب سے واپس آیا تھا نا ہی معروش سے بات کررہا تھا نا اسے دیکھ رہا تھا جبکہ ایک دن احمد کو کال کیے وہ بول رہا تھا کہ اسے پچھتاوا ہے وہ زندہ کیوں لوٹ کے آیا۔تب سے معروش اس سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈ رہی تھی مگر ناپید وہ اسکے ہاتھ ہی نہیں آرہا تھا جبکہ اب یوں سج دھج کے نکلنا اسکی چھٹی حس بتا رہی تھی کہ وہ حنا سے ملنے جارہا ہے۔
مگر کچھ بولنے پوچھنے کا حق کہاں۔
༻━━━━━⊱༻
وہ مکمل صحت یاب ہوتے بار بار مختیار صاحب سے گھر جانے کی ضد کررہا تھا مجبوراً اسکی ضد کے سامنے انہوں نے گھٹنے ٹیک دیے ۔انہیں پتا تھا کہ واسق کو ان سے زیادہ اپنے گھر میں رہنا پسند تھا جہاں وسام کے ساتھ جڑی یادیں اسے مدہوش رکھتیں وہیں ان کے سہارا جینا اسے اچھا لگتا تھا اور آج وہ بھی اسکے ہمراہ جارہے تھے۔
گھر میں داخل ہوتے واسق نے بڑی حیرانی سے انٹرس سے ہوتی گھر کے اندر تک جاتی سجاوٹ کو دیکھا۔
“بابا واٹ از دس؟” اس نے خوشگوار احساسات میں گھرے ان لوگوں کو دیکھا۔
“سرپرائز۔” ارتضٰی اور احمد، روحان کے ہمراہ اسکے سر پہ پہنچے۔
“ابے یار یہ کیا ہے؟” اس نے ان تینوں کی ڈریسنگ ملاحظہ کی جو حیرت انگیز طور پہ واسق جیسی تھی جو کہ اس نے مسسز مختیار کی ضد پہ کی تھی ۔
” تیرے آنے کی خوشی میں جشن رکھا ہے۔” احمد نے فرضی کالر جھاڑتے اس سارے اہتمام کا کریڈٹ لینا چاہا۔
“ارے میرے بچے غازی بن کے لوٹے ہیں کچھ تو انوکھا ہونا چاہیئے تھا نا اسپیشل سا۔” مسسز مختیار نے آگے بڑھتے اسکا ماتھا چوما۔
“آئی۔ایم شاکڈ مما تھینکس۔” اسے صیح معنوں میں بہت خوشی ہورہی تھی۔کچھ دیر پارٹی کرنے کے بعد وہ سب اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے جبکہ گھر میں پھیلے سناٹوں نے ایک بار پھر سے اسے وسام اور شموئیل کی یاد دلائی۔منتشر سوچیں لیے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھا ۔اندر داخل ہوتے فریش فلاورز کی مہک اور قدموں میں بچھی پھولوں کی کی پتیوں نے اسے چونکایا دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی ۔بیڈ کے دونوں اطراف میں مہکتے گلابوں کے گلدستے رکھے گئے تھے اور بیڈ کے درمیان میں پھولوں جیسی لڑکی۔ واسق کو لگ رہا تھا کہ وہ اگلی سانس نہیں لے پائے گا اتنا جان لیوا سر پرائز وہ صرف اپنے سر پھرے دوستوں سے توقع رکھ سکتا تھا۔
کسی نے اپنے شوق پورے کرنے کیلئے اسکے چاند کو داغدار کیا تھا مگر اسے تو وسام ہر طرح سے قبول تھی۔دھیمی چال چلتے وہ بیڈ کے قریب پہنچا۔دل انوکھا لاڈلہ بن رہا تھا جسے کھلن کو چاند چاہیئے تھا وہ بھی اسوقت جب اسکی دسترس میں تھا سب کچھ۔
موبائل کے بزر نے اسے چونکایا تھا جہاں ارتضٰی کالنگ جگمگا رہا تھا ۔اگر اس کا پلینڈ اسپیشل مومنٹ ہوتا تو یقیناً اس ڈسٹربنس پہ وہ انہیں کھری کھری سناتا مگر وہ تو اب تک عالم بے خودی میں تھا۔
“بہت ذلیل ہو تم لوگ۔” کال اٹینڈ کرتے ہی اسے تعریفی اسناد بخشیں جہاں دوسری طرف سے پڑنے والے قہقے نے انتہائی ڈھٹائی کا ثبوت دیا۔
“ہم اور بھی بہت کچھ ہیں مائے بوائے بس کہنا یہ تھا جو بیڈ کے سامنے رکھے اسٹول پہ منی لیپ ٹاپ پڑا ہے اسے آف کردو ہم آپکا اسپیشل مومنَٹ سپائل نہیں کرنا چاہتے۔”
احسان جتاتے لہجے میں کہتے ارتضٰی نے اسے وارن کیا تو وہ بھی چونکا سامنے ہی منی لیپ ٹاپ موجود تھا جس سے وہ اسکے کمرے میں انٹری دیکھ چکے تھے۔
“ڈوب مرو تم لوگ۔” چنگھاڑتے ہوئے اس نے لیپ ٹاپ کی سکرین کو بند کیا۔اسکے غصے سے پھولتے نتھنے دیکھ وسام بھی سہمی یقیناً اس ایک سال کا حساب انتہائی کڑا ہونے والا تھا نجانے وہ اسکی بے اعتباری کی کیا سزا سناتا۔
