Sayah Kaar by Uzma Mujahid NovelR50609 Sayah Kaar (Episode 11)
Rate this Novel
Sayah Kaar (Episode 11)
Sayah Kaar by Uzma Mujahid
آئینہ ہاتھوں سے کچھ ایسے گرایا اس نے ۔۔۔۔۔
ایک چہرہ کئی ٹکڑوں میں دکھایا اس نے۔۔۔۔
ایک بار پھر سے وہ گردش دوراں سے گزرنے لگی ۔وہ سمجھ سکتی تھی کہ ارتضٰی نے یہ سب کیوں کیا ہوگا۔
مگر وہ اپنی قسمت پہ حیران تھی چونکہ شادی کا فیصلہ اسکا اپنا تھا اسیلئے وہ ارتضٰی کو دوش نہیں دے سکتی تھی ہاں مگر قسمت کے اس جھول نے اسے بری طرح چکرا دیا تھا۔
اگر وہی تیج تھا تو اسے لٹل کریپٹو کی حثیت سے کیسے جانتا تھا ؟وہ اس سے سوال کرنا چاہتی تھی مگر زبان پہ جیسے لکنت آگئی ہو۔اب جب وہ اسکے سہارے یہاں تک آچکی تھی تو اسے آگے بھی بڑھنا تھا۔
ائرپورٹ سے نکلتے ہی ایک گاڑی انکے سامنے آرکی ۔ارتضٰی کا ڈرائیور ان سے سامان لیتے ڈگی میں رکھنے لگا ۔
اس نے ایک نظر اپنے آس پاس کے ماحول کو دیکھا سب لوگ اپنے آپ میں مصروف تھے وہ کچھ دیر پہلے جس فضا میں آزادی کا سانس لینے کا سوچ رہی تھی اس میں ایک دم جیسے مٹی کا طوفان بھر آیا تھا۔
ارتضٰی کی معیت میں قدم ایسے چل رہے تھے جیسے وہ قدموں پہ نہ چل رہی ہو بلکہ انہیں اپنے ساتھ گھسیٹنے پہ مجبور کررکھا ہو۔آنکھوں کے سامنے کئی منظر تھے جو اسے ماضی میں کھینچ رہے تھے ۔
“یو پلے فاؤل گیم میری بکس خراب کیں پھر چینج کرکے نیئو رکھ دیں۔”
میرو نتھنے پھلائے اسکے سر پہ ٹہرا تھا ۔حلانکہ اسکو معروش کی چالاکی سمجھ میں نہیں آئی تھی۔
“یو نو تمہاری مما اگر تمہیں دو لفظ پڑھا دیتیں تو تم بھی دی گریٹ معروش کی طرح ہوتے اٹس ٹونٹی فرسٹ سنچری ،اٹس آ ٹیکنالوجی کمپیٹیٹو ورلڈ ناؤ۔”
معروش نے استہرائیہ انداز میں میر کو دیکھا جو جسکی رگیں غصے سے پھولنے لگی تھیں دو سال ہی سہی پر وہ اس سے چھوٹی تھی اسکا ٹونٹ میرو کو بہت برا لگا تھا۔ جبکہ وہ مزے سے لیز کھاتے سوئمنگ پول پہ بیٹھی تھی جو حیات صاحب نے اسکی فرمائش پہ ہی بنوا رکھا تھا گو کہ وہ اتنا بڑا نہیں تھا مگر گھر میں ایک لگژری لک ضرور دیتا ۔
“اوہ! جواب نہیں مل رہا نہیں ملے گا مائی ڈئیر سٹپ اٹ واز بکوز آف پروجیکٹر تمہیں لگ رہا تھا کہ تمہاری بکس پانی کے ٹب میں ہیں بٹ سٹوپڈ نا تم نے ْگے بڑھ کے انہیں اٹھایا ہی نہیں ۔میں تمہاری جان نکالنا چاہتی تھی کتابی کیڑے بٹ تم نے تو اور آسان راستہ کردیا میری پوائنٹ سکورنگ کرکے یو فول ۔”
ارتضٰی کی صیح معنوں میں ہوائیآں اڑی تھیں اتنی سی لڑکی کا اتنا بڑا پلین وہ اسکی طرف لپکا تھا معروش اسکے ارادے جان پیچھے کو ہٹی تھی اس سے پہلے کہ میرو آگے بڑھتا خود ہی اسکا پاؤں رپٹا اور وہ پھسلتے پول میں جا گری ۔
“معروش_” ارتضٰی نے اسکا کندھا ہلایا تو وہ چونکی ۔
“ہہنہ کیا ہوا ؟” اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔
“گھر آچکا ہے اترو ۔” اسے گھورتا نیچے اترنے کو کہہ رہا تھا۔ اس نے حیرت سے اپنے ارگرد تعمیر بلند وبالا عمارتوں کو دیکھا ۔
“تو کیا وقت اتنا بدل گیا کہ ان کا گھر ان عمارتوں کی تہہ میں چھپ گیا؟” ارتضٰی نے اسکا الجھا انداز بغور دیکھا۔
“ہم حیات ولا نہیں رہتے آئی۔مین میں وہاں نہیں رہتا فلیٹ لیا ہے کرایے پہ فلحال ادھر رہیں گے جلد ہی کوئی گھر دیکھ لوں گا۔ “
اس کے دماغ میں پکتی کھیچڑی سے انجان وہ اپنی بات سنا رہا تھا جبکہ اسکی ذہنی رو بار بار حیات ولا کی طرف بھٹک رہی تھی۔
ڈرائیور نے سامان لا کے رکھا ۔وہ دو بیڈرومز پہ مشتمل کافی کشادہ اور لگژری فلیٹ تھا ۔امریکن طرز کا کچن اور ساتھ ہی ڈرائینگ روم دو بندوں کیلئے وہ انف سپیس تھی۔
معروش نے بغیر اسے کچھ کہے دونوں رومز کا وذٹ کیا تقریباً دونوں ہی ایک جیسے فرنیچر سے مزین تھے پھر بھی اس نے ارتضٰی والا کمرہ چوز کیا تھا۔
وہ اسکی ادا پہ مسکرا اٹھا انسان جتنا بڑا ہوجائے کہیں نا کہیں بچپن کی عادتیں ضرور ہوتی ہیں ۔بنا کسی لحاظ کے ارتضٰی کے کپڑے الماڑی سے نکالے دوسرے روم میں رکھ آئی ۔وہ خاموشی سے اسکی کاروائی ملاحظہ کررہا تھا اسکی پر اسرار خاموشی ارتضٰی کو بے چین کررہی تھی وہ چاہتا تھا کہ وہ اس سے بولے ۔کوئی بات کچھ ایسا جس سے ظاہر ہو کے اسے ارتضٰی کے ریگارڈ باتیں جان کے دکھ ہوا ہے مگر وہ خاموش جھیل کی طرح تھی جس میں کنکر نے بھی آواز پیدا نہیں کی تھی۔
کھانا انہوں نے پلین میں ہی کھا لیا تھا اسیلئے فلحال سب سوچیں پس پشت ڈالے وہ آرام کرنے لگے تھے ارتضٰی ڈرائینگ روم میں ہی سوچکا تھا۔
༻━━━━━⊱༻
ارتضٰی کی نیند کھٹ پٹ کی آوازوں سے ڈسٹرب ہوئی تھی تبھی وہ سر میں رکھا کشن ہاتھوں میں لیے اٹھ بیٹھا تھا ۔سامنے ہی وہ مختلف کبرڈز کھولتی شاید کچھ کھانے کو ڈھونڈ رہی تھی۔اسے ایک دم شرمندگی سی محسوس ہونے لگی کیا ہی اچھا ہوتا اگر اس نے اسے حیات ولا سے فلائیٹ لانے کا پروگرام بنایا تھا تو کچھ انتظام کر رکھتا۔
معروش کی نظر اس پہ پڑی تو تیوری پہ بل لیے اسکے سامنے آئی۔
“سو مسٹر تیج میر کیا یہ آپکا پہلا پلان ہے مجھے مارنے کا؟”
دونوں ہاتھ کمر پہ رکھے وہ خالص پاکستانی عورتوں جیسی ادا اپنائے ہوئی تھی۔ارتضٰی کے منہ سے اپنے لیے یہ نام سن کے سیٹی کے سے انداز میں “او” نکلا تھا اور چہرے پہ در آنے والی مسکراہٹ کو بھی چھپانے کی زحمت نہیں کی تھی ۔
“وہ کیا ہے نا کہ مجھے دھیان نہیں رہا اس چیز کیلئے سوری اور میرے خیال سے آپ اتنی تازی تگڑی ضرور ہیں کہ چند منٹوں کی بھوک سے کم از کم نہیں مرنے والیں۔”
بے مروتی کی انتہا کی گئی تھی۔
“مجھے لگا تھا کہ شاید آپکو اندازہ ہوگا کہ مہمانوں سے کیسے ٹریٹ کیا جاتا ہے مگر سہی کسی نے مثال دی ہے رسی کو جلا دو تب بھی بل ختم نہیں ہوتےبچپن کے جراثیم اتنی جلدی کیسے مریں گے۔ چابی دو مجھے مارکیٹ جانا ہے۔”
معروش اپنی بھر پور فارم میں واپس آچکی تھی ۔
“اوکے گاڑی کی چابی دے دیتا ہوں سو مائی لوو آپکو تو یہاں کے روٹس ہی نہیں پتا۔”
ارتضٰی نے اسکے قریب آتے کہا جبکہ وہ تو طرز تخاطب پہ حیران ہوئی۔
“آئی تھنک یو آر فارگیٹنگ ہاؤ اولڈ یو آر مائی واریسٹ اینمی۔”
معروش نے بھی اپنی اکتاہٹ چھپانے کی زحمت نہیں کی تھی ۔اس کے برعکس ارتضٰی کا ریکشن بہت فنی تھا جس نے قہقہ لگاتے اسکی بات ہوا میں اڑائی جیسے۔
“اینمی ہمیشہ واریسٹ ہی ہوتا ہے بیسٹ نہیں بٹ اگر یہ رشتہ بنانا چاہتی ہو تو اوکے ہے مائی بیسٹ اینمی۔”
ارتضٰی کی بات اسے صاف اپنا مذاق اڑاتی محسوس ہورہی تھی ۔
“کیوں لائے ہو مجھے یہاں۔” وہ بات جو اسے سب سے پہلے پوچھنی تھی اب جا کے بولی تھی ۔
“ایکچوئلی نا دی گریٹ معروش حیات میں چاہتا ہوں کہ ہمارے ملک کی نسل آپکی اعلٰی صلاحیتوں سے مستفید ہو ۔یو نو واٹ آئی مین آپ بہت بڑی سپورٹر بن سکتی ہیں ہماری یوتھ کی مس لٹل کریپٹو کوئین۔”
معروش کو سمجھنے میں مشکل آرہی تھی کہ وہ اس پہ طنز کررہا ہے یا واقعی اسکا ایسا کوئی مقصد تھا مگر آخر کی بات پہ وہ تلملا کے رہ گئی۔
“کیوں میں آپکو کوئی” گبر سنگھ” نظر آرہی ہوں جو امیروں سے کمائی دولت غریبوں پہ لوٹانے آجائے اور کس ملک کی بات کررہے کن نوجوانوں کی بات کررہے ہو مسٹر تیج میر جس پہچان سے بھاگ کے تم خود بھی اور ملک میں جا بیٹھے۔ تم بن جاؤ نا سپورٹر اپنے ملک کی یوتھ کے ہہہ ۔کسی ایسی غلطی فہمی میں مت رہنا کہ میں تمہارے کسی مقصد میں تمہارا ساتھ دونگی۔”
معروش کو لگ رہا تھا چونکہ وہ اسکے کارنامے سے آگاہ ہوچکا ہے ایسے میں اسے بلیک میل کر کے کچھ غلط نہ کروائے اسیلئے دوٹوک جواب دینا ضروری سمجھا۔
ارتضٰی کو تو اسکی سوچ ہی آگ لگانے کو کافی تھی ۔
“تم ایک محب وطن کے سامنے اس کی توہین کررہی ہو۔”
ارتضٰی نے اسے بازو سے پکڑے اپنے سامنے کیا۔
“مت بھولو کہ تمہاری روٹس اسی ملک کی ہیں ۔اگر حیات صاحب نے باہر کے ملک جا کے ایک برینڈ انٹروڈیوس کروا دیا تو بھی اپنے ملک کا نام لے کے کروایا اور تم کیا ہو معروش حیات ایک مفرور مجرم جس نے جس تھالی میں کھایا اسی میں چھید کیا تم سے ہم کوئی امید رکھیں گے کہ تم جیسی کرمینل لڑکی اس ملک کیلئے کیا اچھا کرے گی۔کل جب ایم ۔آئی۔فائیو ،ایم ۔آئی۔ٹی، را ،این۔ایس۔اے، ال۔ایف۔وی (برطانیہ،ترکی،انڈیا،جرمنی) کی خفیہ ایجنسیاں وانٹڈ میں سے ایک پاکستانی پرسن کا نام لا کے آئی۔ایس۔آئی کے سامنے رکھیں گی جانتی ہو کہ دنیا کے اتنے بڑے بلینڈر میں تمہارا نام ہمارے لیے ہمارے ملک کیلئے کتنی شرمندگی کا باعث بنے گا۔”
ارتضٰی کے رویے میں اسکیلئے کوئی بھی رعایت نہ تھی۔
وہ حیرانی سے اسکے پل پل بدلتے رویوں کو دیکھ رہی تھی۔مگر اس نے تو جیسے اسکے تمام اگلے پچھلے گناہوں کی حسابوں کا کھاتہ کھولنے کا فیصلہ کرلیا تھا ۔
“تم جانتی بھی ہو معروش حیات تم نے خود کو کتنی بڑی مصیبت میں ڈال لیا ہے شکر کرو کے حیات صاحب تمہارا انجام دیکھنے سے پہلے اس دنیا سے پہلے چلے گئے ۔جس پہ تم ملک سے بھاگنے کے الزام لگا رہی ہو نا اگر آج وہ ملک کے ساتھ ًغداری کررہا ہے تو وجہ تم ہو یہ ملک نہیں اپنی ذات نہیں تم کیا سمجھ رہی اتنا آسان تھا تمہیں وہاں سے نکالنا ۔شکل بدل لینے سے رنگ روپ انداز بدل لینے کے باوجود بھی تم اس کھیل کی نادان کھلاڑی بنی رہی جو اپنے فنگر پرنٹس ڈاکٹر جون کے آس پاس چھوڑ آئی۔”
ارتضٰی کی بات پہ اس نے نفی میں سر ہلایا اسے اچھے سے یاد تھا کہ اس نے گلوز پہن کے ڈاکٹر جان کو جہنم وصل کیا تھا ۔
“نہیں یقین آرہا نا آئے گا بھی نہیں ۔” ارتضٰی نے کہتے ساتھ اسکے سامنے وہ ٹرانسپیرنٹ گلوز کیے جس پہ وہ چونکی ہڑبڑاہٹ میں وہ اسے ڈاکٹر جون کے گارڈن میں ہی چھوڑ آئی تھی جو فرانزک ٹیم کے ساتھ ثبوت اکھٹے کرتے ارتضٰی کے ہاتھ چڑھے تھے۔
“اس کیس میں پوری دنیا کی ایجنسیز انولوڈ ہیں معروش حیات اور شاید تاریخ میں یہ پہلی بار ہوگا کہ ایک وریسٹ اینمی کہنے والی کو اسکا بیسٹ انیمی پروٹیکٹ کرے گا۔”
اسے شاید معروش کا دیا گیا خطاب پسند نہیں آیا تھا تبھی وہ بار بار اسکے الفاظ لٹا رہا تھا ۔
“اور اتنی مہربانی کیونکر ہوگی ؟وجہ اگر اتنا ہی برا میں پھنس چکی ہوں تو پھنسنے دو نا ویسے بھی تو میں زندگی کا عذاب رہی ہوں تمہاری ماں اور تمہارے لیے۔”
معروش نے صاف گوئی کی انتہا کی تھی۔
“بلکل حقیقت ہی یہی ہے مگر ایک گلٹ ہے کہ بارہ سال کی معروش اگر میر اور اسکی ماں سے تنگ ہوتے وہاں سے باہر نہ نکلتی تو شاید وہ آج ایسی معروش نہ ہوتی جسے دنیا کی ایجنسیاں ڈھونڈ رہی ہیں۔کچھ کفارے ہیں جو ادا کرنے ہیں ۔کچھ حق اور فرض آگئے ہیں جنکو پورا کرنا ہے۔”
حق فرض کی بات وہ چونک اٹھی اپنے اور اسکے درمیان وہ اتنا اہم ایشو تو بھول ہی گئی تھی۔(کیونکہ وہ شادی اب ایشو ہی بن چکی تھی جسے دونوں نبھانا نہیں چاہتے تھے مگر نبھا رہے تھے)۔
“اوکے تو اس ساری تقریر کا مقصد بھی بتا دو ۔یہ جو تم نے خالی پیٹ اتنا زیادہ ہیوی ناشتہ کروایا ہے اس سب کے پیچھے کا کیا مقصد ہے؟کیا چاہتے ہو کیا کروں میں اب؟”
معروش نے بے زاری سے اسکا مدعا جاننا چاہا۔
“سرینڈر کرنا ہوگا خود کو مس معروش حیات۔”
معروش کو لگا جیسے اس نے کچھ غلط سن لیا ہو اگر سرینڈر ہی کروانا تھا تو یہاں لانے کا کیا مقصد تھا ۔
“کیا کہا مسٹر تیج میر ؟کیا کرنا ہوگا مجھے؟”
اس نے دانت پیستے ارتضٰی کی آنکھوں میں ڈالے پوچھا تھا۔
“خود کو سرینڈر کر کے” را “کے حوالے کرنا ہوگا۔”
اسکا اگلا جھٹکا پہلے سے بھی شدید تھا وہ جو اسے آئی۔ایس۔آئی کا ایجنٹ سمجھتے اسکی ملک گیر محبت پہ لیکچر سن رہی تھی یہ شاک کم نہ تھا کہ وہ خود بھی ملک دشمن سب سے بڑی تنظم “را” کا ایجنٹ تھا۔
تو کیا وہ خود بھی تو پیسوں کی خاطر اپنا نام اور اپنا ملک بیچے ہوئے نہیں تھا؟”
اس سوچ کے آتے ہی معروش نے اس پہ چڑھائی کی تھی۔
“واہ مسٹر تیج میر واہ گڈ ہوگیا بھائی ۔پاکستان میں ٹہر کے “را” کو پروموٹ کررہے ہو ۔یو نو واٹ مجھے ایسا لگ رہا ہے میرے سامنے ایک معمولی پاکستانی شاپ کیپر ٹہرا اور اسکے سامنے ایک ایسا گاہک جسے شاید اپنے ملک کی چیز خریدنا پسند نہیں تبھی وہ شاپ کیپر اپنی تھرڈ کلاس چیز اسے “باہر سے امپورٹ ہے جی” کہ کے سیل کرنا چاہ رہا ہے رائٹ مسٹر تیج میر پر کیا ہے کہ نا آپکا گاہک جو ہے وہ شاپ کیپر سے زیادہ فاسٹ ہے اتنی تو محب وطنی ہے مجھ میں۔”
معروش نے اپنے الفاظ اسکے منہ پہ دے مارے تھے مگر وہاں شرمندگی کے کوئی آثار نہ دیکھ وہ آگے بڑھ گئی۔
اسکے پیٹ کی بھوک تیج کو دیکھ کے ہی ختم ہوگئی تھی۔
“بہت اچھا پے کریں گے تمہیں اگر تم کام کرو انکے ساتھ اپنی اپنی غیر یقینی صلاحیتوں کو اگر صیح ڈائریکشن میں بروئے کار لاؤں تو بہت سی مڈیبتوں سے آزاد ہوسکتی ہو۔وہ تمہیں کسی ملک کے حوالے نہیں کریں گے بلکہ پروٹیکٹ کریں گے آئی۔ول۔بی دئیر ٹو گو آ پروٹیکشن جسٹ تمہیں اپنی خداداد صلاحیتوں کا استعمال کرتے سائبرز کا حصہّ بننا ہوگا۔”
معروش کا دل چاہ رہا تھا اسکا منہ نوچ لے مگر پیر پٹخے وہاں سے چلی گئی تھی۔
کچھ دیر میں وہ اسکا دروازہ بجا رہا تھا ۔
“ناشتہ کر لو باہر آکے۔” مگر جواب نہیں ملا تھا اس نے اب کے دروازہ بجانے کے بجائے کلک کیا تھا دروازہ لاک نہیں تھا ۔وہ اندر کی جانب بڑھا مگر معروش وہاں نہیں تھی اور نہ ہی اسکا سامان۔ کیونکہ وہ اپارٹمنٹ لاک کیے بغیر گیا تھا اور اسکے دماغ میں بھی یہ نہ تھا کہ وہ بھاگ سکتی تھی ہے کہیں۔۔۔۔۔۔
༻━━━━━⊱༻
“جی فرمائیں کس سے ملنا ہے آپکو۔” سامنے موجود پینسٹھ سالہ خاتون نے انجان نظروں سے اپنے سامنے موجود تنگ سی جینز شرٹ میں ملبوس لڑکی کو دیکھا تھا۔
“مجھے مختیار انکل سے ملنا ہے کین آئی۔” انگلیاں چٹختی لڑکی انتہائی کنفیوژ نظر آرہی تھی۔
“سوری بیٹا ہم نے آپکو پہچانا نہیں ۔” اپنے ہیسبینڈ کا نام سنتے انکے چہرے پہ پرشفیق مسکراہٹ آئی تھی اور اشارہ کیے ملازمہ کو ان سے بلانے کو کہا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ انکے سامنے تھے۔
“سوری انکل آپ لوگ مجھے نہیں جانتے بٹ میں آپکو جانتی ہوں کین وی ٹاک ان پرائیوٹلی۔”
پھر سے انگلیاں چٹخاتے وہ مختیار صاحب سے مخاطب ہوئی تھی۔تبھی انہوں نے اثبات میں سر ہلایا تو انکی بیوی بھی بنا کچھ بولے وہاں سے کھسک لیں کیونکہ اکثر ہی انکے پاس ایسے مسائل میں گھری لڑکیاں آتی رہتی تھیں۔
“جی بیٹا بولیں کیا مدد کرسکتا ہوں میں آپکی۔”
ّمختیار صاحب نے الجھن آمیز نظروں سے اس لڑکی کو دیکھا تھا۔
“مجھے آپکو اپنے ملک میں موجود دو ورلڈ وانٹڈ اہم کرمینلز کی انفارمیشن دینی ہے۔”
اس لڑکی نے اطمینان سے اپنے سامنے موجود انٹیلیجنس کے ادارے “ایم آئی” کے سربراہ سے مخاطب ہوئے کہا جبکہ وہ بری طرح سے چونکتے سیدھے ہوئے اس لڑکی نے گھر سے باہر سیکورٹی اہلکاران کو انکی رشتہ دار اور عزیزہ ہونے کا جھانسا دیتے ان تک رسائی حاصل کی تھی ۔
ایک مشہور انڈیسٹریلسٹ کی بیٹی کا نام جب ان تک پہنچا تھا وہ یاداشت پہ زور دیتے اس حوالے کو یاد کرنے لگے مگر جس ادارے کے وہ رکن تھے انکیلئے اس لڑکی کو سننا لازم تھا مگر اب کے کیا جانے والا انکشاف لیفٹیننٹ جنرل مختیار کو بغور چونکنا کر گیا تھا۔
“میں یہ کیسے مان لوں کہ آپ جو انفارمیشن لے کے آئی ہیں وہ سچ ہے؟”
لیفٹیننٹ جنرل مختیار کا انداز اب کے سختی لیے ہوے تھا کچھ دیر پہلے کی نرمی انکے چہرے سے غائب تھی۔
“کیونکہ آپکے پاس میری بات سننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں وہ بھی اسوقت جب میرے پاس باقاعدہ ثبوت ہیں۔”
اس لڑکی کے کنفیڈینٹ لیول میں کوئی بھی کمی واقع نہیں ہوئی تھی۔
انکی پرسوچ نظریں اس پہ ٹکی تھیں فلحال وہ کوئی بھی نتیجہ اخذ نہیں کرسکے تھے۔
“تھامسن ایڈسن کے بعد اگر میں نے کسی شخص کو۔آئیڈیلائز کیا ہے تو وہ آپ ہیں سر اسیلئے آپکی راہ میں بہت بڑا مشن لائی ہوں جو یقیناً آپکو ڈی۔جی۔ایم۔آئی سے آئی۔بی اور آئی۔ایس۔آئی کی حلقہ حدود میں داخل کرواسکتا ہے۔”
اسکا انوکھا انداز انکیلئے بہت پریشان کن ثابت ہورہا تھا جس ملک میں اداروں کے نام یاد کرنا مشکل تھا وہاں وہ اتنی آسانی سے انہیں نئی راہ دکھا رہی تھی جبکہ وہ لڑکی خود کیا تھی انکے نزدیک زیرو لیول ۔
“آپکو آگاہ کرنا مناسب سمجھوں گا کہ آپکی یہ آفر میرے لیے کسی کام کی نہیں چند ایک دنوں میں ان اداروں کی سر براہی ویسے ہی میرے ہاتھ میں ہوگی یہ اہم خبر ہے لیک کرنا مناسب نہیں لیکن جب آپ اتنی آفرز لے کے آئی ہیں تو آپکو یقیناً انفارمیشن دینا بنتی ہے۔”
کچھ دیر پہلے والی آواز کی سختی والی رعایت بھی ختم ہوچکی تھی۔
“ناؤ کم ٹو دی پوائنٹ کیا آپ مجھے بتانا پسند کریں گی کہ آپ کونسا جال لیے اس دروازے تک آئی ہیں۔”
لیفٹیننٹ جنرل مختیار کی سرد آواز سے اسکی ریڑھ کی ہڈی سنسنا اٹھی تھی۔
“آئی وانٹ ٹو سرینڈر مائی سیلف ان کیس آف ورلڈ وائڈ سیکم “ون کوائن کریپٹو کرنسی۔”
اسے اپنی آواز خود بھی انجان لگی تھی سامنے موجود آدمی کا چہرہ فق ہوا تھا۔
اور سامنے موجود لڑکی کے کانوں میں اسکے بابا کی آواز گونج رہی تھی۔
“معروش اسکا مطلب کیا ہے ۔چاند کی روشنی وہ چاند جو سب پہ بے لوث اپنی روشنی لوٹاتا ہے اندھیروں کو اجالوں میں بدلتا ہے ۔تم بھی ایک دن دور افق پہ چمکتا وہ چاند بنو گی جو سبکیلئے راہ ہموار کرے گی ۔ تھامس ایدسن نے تو بعد میں دنیا کو بجلی دے کے روشن کیا مگر میری معروش تو کائنات کے ساتھ ہی اپنا وجود لائی تھی۔”
ایک باپ کے اپنی بیٹی کیلئے محبت میں ڈوبے وہ الفاظ اسے اپنے لیے کسی سیاہ کالک سے کم نہیں لگ رہے تھے۔
بابا کی معروش جنہیں وہ دنیا میں روشنی کرنے کا کہتے تھے وہ مجسم سیاہ کار بن کے اپنے باپ کا نام بھی سیاہ کرنے لگی تھی۔
مگر اسے تیج کی “را ” سے پہلے اپنے ملک کو سر خرو کرنا تھا جسکے ایک قابل فخر ادارے نے ورلڈ سکیم کو پکڑ کے ہونا تھا ۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اسکا انجام کیا ہوگا مگر وہ یہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ تیج اسے زیر کرتےاپنے مقاصد کیلئے استعمال کرے اسیلئے وقت سے پہلے ہی خود بے نقاب کرلیا تھا اسکا مقصد آج بھی ہمیشہ کی طرح میرو کو جھکانا تھا۔
اگر وہ صرف ارتضٰی حیدر ہوتا تو اسکیلئے ضرور کوئی گنجائش نکلتی مگر وہ تو میرو تھا پھر “را” کا تیج بھی اسکیلئے گنجائش کہاں جبکہ ہمیشہ ہی اسکی ضد میں معروش نے خسارے لیے تھے۔۔
