Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sayah Kaar (Episode 25)

Sayah Kaar by Uzma Mujahid

“میں چاہتی ہوں کہ بینک میں جمع تمام رقم سے ایک ولفئیر ٹرسٹ کھول لو یا کوئی شلٹر ہاؤس۔” پوری رات اپنے گناہوں کے ازالے کا سوچتے صبح وہ اپنا پلین لیے اسکے سامنے تھی۔

“کیوں ؟آپ کوئی “گبر” تھوڑی ہیں جو امیروں سے لوٹی غریبوں میں بانٹیں۔” وہ اسکا کہا گیا جملہ واپس اسے ہی لُٹا رہا تھا۔

“ہاں بٹ کیا کرونگی اس سب کا؟” اپنی بات سے مکرنے کا لزام وہ کیسے سہتی اسلیئے بات کو ہلکا پھلکا کیا۔

“میں چاہتا ہوں تم آئی۔ایس۔آئی جوائن کر لو باقاعدہ ٹریننگ لو اگرچہ ایس ۔ایس۔جی کمانڈوز میں لڑکیوں کیلئے مشکل ٹاسک کی وجہ سے شمولیت مشکل ہے مگر کسی بھی آپریشن کیلئے ویممنز ٹیکنیکل سپورٹ کافی ضروری ہوتی اور اگر وہ بیوی ہوتو کیا ہی بات ہے۔”

ارتضٰی نے اپنے سٹار کو وردی پہ سجاتے کہا اور ساتھ ہی کیپ پہنی۔

“آئی۔ایس_آئی کا کیا فائدہ ہوگا؟” معروش کولگا اسکا یہ جواب انتہائی نا معقول ہے مگر یہاں ٹہرنا اچھا لگ رہا تھا پر کوئی وجہ بھی چاہیئے تھے سو سوال داغ دیا۔

“ہنمم انتہائی اہم سوال یقیناً جواب بنتا ہے اسکا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ جب چاہیں اپنے ناپسندیدہ بندے کو دنیا سے اڑا سکتے دھرتی کا بوجھ کم اور سب خون معاف۔”انتہائی نان سریس جواب دیتے اس نے آئینے کے سامنے اپنا تنقیدی جائزہ لیا۔

“تمہارا بھی؟” ایک اور سوال ۔

“اوہ نہیں بلکل نہیں ایک محب وطن کا قتل آپکیلئے کریپٹو کرنسی سکیم سے زیادہ مہلک ہوسکتا۔” ارتضٰی نے واپس مڑتے اپنی کیپ اتارتے اسکے سر سجائی اور الماری میں سر گھسیڑے اپنی کوئی فائل ڈھونڈنے لگا ۔معروش نے آئینے میں نظر آتے اپنے عکس پہ نگاہ کی جہاں وہ چمکیلی ٹوپی اسکے سر پہ بھی سج رہی تھی ارتضٰی سے تو زیادہ ہی ۔

“ویل بہت اچھا سوچا ہے آئی۔ایم ود یو۔”الماری سے فائل نکالتے وہ مڑا اور اسکے سر سے کیپ چھپٹتے باہر کی طرف دوڑ لگائی جہاں واسق کی گاڑی کا مسلسل ہارن بج رہا تھا۔

معروش نے اسکے جملوں پہ غور کیا اور سر جھٹکتے آگے کو بڑھ گئی ۔اسے ابھی مکمل اسائمنٹ بنانا تھا ڈی۔جی مختیار کے کہنے پہ جبکہ آئی۔ایس۔آئی جوائن تو وہ کرہی چکی تو بطور ٹیکنالوجسٹ ۔

“کیا کھیل، کھیل رہی ہو آجکل تم۔” ارتضٰی کے کمرے سے نکلتے اسکی مڈ بھیڑ طیبہ بیگم سے ہوئی۔

“وہیں جو آپ ماں بیٹا کھیل رہے۔”انتہائی سکون سے کہتے اس نے آگے کی طرف قدم بڑھائے۔

“کسی بھول میں مت رہنا کے وہ تمہیں اپنائے گا وہ میرا بیٹا ہے جب۔۔”

“جی جب چاہے گا ڈس لے گا ایسا نا۔” طیبہ کی بات اچکتے اس نے انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بات کی۔

“اگر ایسے سمجھ رہی تو ایسے سہی سینپولے کی اولاد ہے ایک نا ایک دن اثر تو دیکھائے گا ہی۔”استہرائیہ انداز میں کہتی رخ سامنے موڑا وہیں پیروں سے زمین سرکی معروش نے انکے بدلتے تاثرات پہ غور کرتے انکی نظروں کا پیچھا کیا۔

انہوں نے چپ سدھاری جبکہ ارتضٰی کے اندر اسکے الفاظ نے چھناکے سے کچھ توڑا تھا۔

وہ جو جلدی میں غلط فائل لے کے گیا تھا اور دوبارہ گھر آیا ماں اور بیوی کی مڈبھیڑ نے بہت گہرا اثر چھوڑا۔

“ارتضٰی بیٹا تم واپس آ ۔۔”

“پلیز مام کیا کررہی ہیں آپ؟ آپکا بیٹا پہلے کبھی آپکے نقش قدم پہ چلا جو آج یہاں آپ اعلان فرما رہیں۔”

ارتضٰی نے آگے بڑھتے ٹوٹے لہجے میں کہا اب دکھ ماں کے دعوے کا تھا یا معروش کو اسکے “سانپ” کہنے کا ۔

“بیٹا یہ لڑکی۔۔۔” طیبہ نے آگے بڑھتے اسکا بازو تھاما جسے اس نے جھٹکے سے کھینچا۔

“کیا یہ لڑکی؟کیا مما آپ تو حیات انکل سے محبت کی دعویدار تھیں نا تو انکی واحد نشانی سے بھی آپکو محبت نہیں ہوسکی ؟ آپ بھی جانتی ہیں کہ اگر آج یہ لڑکی مجھ سے نفرت کرتی ہے تو اسکی وجہ بھی صرف آپ ہیں آپکے پلاینز اور اس گھر پہ راج کرنے کے خوابوں نے بچپن سے اب تک مجھے اسکے سامنے سر نہیں اٹھانے دیا۔ وہ کیسی مائیں ہوتی ہیں مما جو اپنی اولاد کی سرخروئی چاہتیں جبکہ آپ نے تو ہرقدم اپنی اولاد کے دل پہ رکھتے نفرتوں کی جانب بڑھایا بس کردیں مام تھک گیا ہوں میں بہت زیادہ اسکی نفرت سہتے ،آپکا لالچ دیکھتے ۔مجھے کوئی اسٹیٹس کوئی مقام کچھ نہیں چاہیئے تھا مام۔۔۔” اسکی آواز بھرائی تھی معروش کو ایسے لگا جیسے وہ رو دے گا۔

“آپ جانتی ہیں آپ جیسی مائیں کبھی اپنے بچوں کی گڈ بک میں شامل نہیں ہوتیں۔ایک بروکن فیملی کا حصہ ہونا کسی بددعا سے کم نہیں ہے۔ آپ نے” ارتضٰی” کے ساتھ اپنے “میرو “کے ساتھ ہی صرف ایسا نہیں کیا بلکہ آپ نے اس لڑکی کے ہنستے بستے گھر کو اجاڑا مما یو بکم آ وچ۔آپ نے ڈیڈ کی زندگی اندھیروں کی نظر کردی آپ نے چودہ سال کے میرو کو اپنے سامنے لا کھڑا کیا”آئی وانٹ ٹو میری ود ہر” پیار میں نہیں بولا تھا نفرت میں بولا تھا برباد کردینا چاہتا تھا میں معروش حیات کو کیونکہ وہ مجھے ٹیز کرتی تھی ،اگنور کرتی تھی میری مام کو برا بھلا کہتی تھی ۔برباد کردینا چاہتا تھا میں حیات انکل کو جسکی وجہ سے میری مام کو میرے زندہ ڈیڈ کو مرا ہوا ثابت کرنا پڑا اور یہ بربادی یہ نفرت کس نے بھری مجھ میں آپ نے ۔۔۔۔”

ایک ہی سانس میں بولتے اسکا سانس پھولا تھا جبکہ طیبہ کی جانب اٹھی اسکی شہادت کی انگلی کانپ رہی تھی ۔

“نہیں بیٹا ایسا مت بولو بھلا ایک ماں اپنی اولاد۔۔۔”

طیبہ نے آگے بڑھتے اسکو صفائی دینی چاہی جس نے دونوں ہاتھ اوپر کو اٹھائے معافی کے انداز میں جوڑے۔

“کونسا بھلا مام؟کونسا بھلا ایک چودہ سال کے بچے کو نفرت اور انتقام کے گھپ اندھیروں میں جھونکنے کو آپ بھلا کہتی ہیں آپ ؟نہیں آپ صرف اس بات پہ پردہ ڈال رہی ہیں کہ آپ نفس کی قیدی وہ عورت ہیں جنہوں نے پرآسائش زندگی کیلئے اپنی ذات کیلئے تین زندہ لوگوں کو دہکتی آگ میں ڈال دیا سوری ٹو سے مام ساری زندگی آپکا بیٹا ہونے پہ شرمندہ رہا ہوں اگر آپکا بیٹا نہ ہوتا اس گھر کا نمک نہ کھایا ہوتا تو یقیناً آج سنپولا کہنے والوں کی زبان پہ تالے لگا سکتا تھا مگر میری عزت نفس تو اسی دن معروش حیات کے پیروں تلے روند گئی تھی جب اس گھر میں قدم رکھا تھا ۔”ضبط کا پیمانہ چھلکا تو نینوں کے کٹورے سے بھی ایک غم زدہ آنسو نکلا۔

“آپ جانتی ہیں میرو تو وہ بچہ تھا جسے آپ پیار سے سوکھا نوالہ کھلاتی تھیں بنا منہ بسورے کھالیتا تھا۔”

گلا رندھا تھا معروش کا دل چاہ رہا تھا وہ اس شخص کے لبوں پہ ہاتھ رکھ دے ہمیشہ برا بولتا تھا مگر اتنا برا کون بولتا ہے جو خود بھی رو دو اور دوسروں کو بھی رلا دو۔

اس نے دوزانو بیٹھتے طیبہ کے ہاتھ پکڑے۔

“جانتی ہیں گھر چھوڑ دیا تھا چلا گیا تھا باہربابا کو کال کی انہوں نے کہا تمہاری ماں تمہیں بہترین زندگی دے سکتی تم اسی کے پاس رہو میں اکلوتا ٹھکانہ بھی بیچ چکا ہوں آج آسائشوں کیلئے ماں چھوڑ گئی کل تم چھوڑ دوگے ۔ بہت رویا تھا بہت زیادہ اور شاید آخری بار میرو رویا تھا معصوم میرو دربدر ہوگیا تھا یہاں ماّں کی نفرت وہاں باپ کی بےرخی نے ماردیا تھا مجھے سب انا ،عزت نفس لتاڑے آگیا تھا حیات ولا، معروش سے معافی مانگنے اسے فرینڈشپ آفر کرنے جانتی ہیں حیات انکل کے سامنے رو رو کے معافی مانگی ،نجانے کس کے گناہوں کی شاید آپکے یا شاید میرے اور انہوں نے مجھے معاف کردیا ایک وعدے پہ کہ میں کبھی اپنی ماں کے نقشے قدم پہ نہیں چلونگا۔مام انکو بھی رئیلاز ہوگیا کہ آپ اس گھر کیلئے زہر ثابت ہونگی مگر اپنی تیسری شادی کی ناکامی انہیں منظور نہیں تھی انہیں لگا جیسے میرو اپنی ماں کے پاس رہ کے اچھا بچہ ہے ایسے معروش کو آپکے سازشی دماغ سے بچاتے اسے اچھی زندگی دے دیں ۔رمشہ آنٹی اپنی بیٹی کو بہترین پرورش دیں گی مگر کیا ہوا؟”

ارتضٰی مسلسل ہی ماں کی جانب دیکھ رہا تھا وہ بھی جانتی تھیں کہ کیا ہوا مگر وہ خاموش آنسو بہاتی رہیں ۔

“ایک اور احساس کمتری کے شکار بچے کا اس معاشرے میں جنم ہوا ۔ایک اور نفس کی ماری ماں نے اپنی اولاد کو معاشرے کی تلخیوں کو ،بے رحم طوفانوں کو سہنے کیلئے چھوڑ دیا ۔کیا مائیں ایسی ہوتی ہیں؟” ارتضٰی نڈھال سا زمین پہ بیٹھا تھا کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح وہیں معروش کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا نجانے وہ شخص اپنا مقدمہ لڑ رہا تھا یا معروش کا مگر جو کہہ رہا تھا ان دونوں کی زندگی کا عکس تھا دو بروکن فیملیز کے بچوں کا عکس جنکے ماں باپ نے اپنی اپنی خواہشوں کی غلامی کیلئے ان دو لوگوں کو بنا کسی قصور بھینٹ چڑھایا تھا۔

جس عمر میں بچوں کو بھائی چارہ اور امن محبت کے پاٹ پڑھائے جاتے اس عمر سے وہ “toxic” لوگ بن گئے تھے۔

وہ اپنا سب کچھ ہارے ،اس لڑکی کے سامنے اپنے جھوٹے بھرم توڑے لٹا مسافر کھڑا ہوا تھا۔

“دروازے سے داخل ہوتے آپکو دیکھا سوچا اہم مشن پہ جانے سے پہلے آپ سے دعا لونگا رنجشیں ختم کرونگا مگر آپ نے آج مجھے بنا جوا کھیلے ہار دیا مام ،دعا کریں ایک میدان میں آپکا بیٹا سرخرو ٹہرے اس ماں کا حق ادا کرسکے جسکی پاک مٹی کے تقدس کیلئے نفرتوں کو مٹانے کا علم تھامے وہ گھر سے نکل رہا ہے ،دعا کریے گا زندگی کا ہر دکھ ایک بہترین موت مٹا دے ۔”

بکھرے لہجے میں کہتا خود کو سمیٹے وہ کمرے کی طرف بڑھا اپنی فائل اٹھائے بنا ادھر ادھر دیکھے وہ باہر کی طرف بڑھ گیا جہاں شدید طوفانی بارش کا امکان نظر آرہا تھا۔

“خدا تمہیں فتح یاب کرے ارتضٰی۔” معروش کے لبوں سے بے ساختہ دعا نکلی تھی۔کمرے میں داخل ہوتے موبائل کی۔چنگھاڑتی آواز نے جنگ کے دفل بجنے کی نوید سنائی جہاں ڈی۔جی مختیار اسے بیک سپورٹ کیلئے انفارم کررہے تھے وہیں ارتضٰی ماں سے الجھ رہا تھا۔موبائل رکھتے وہ ارتضٰی کی طرف بڑھی وہ کتنے خطرناک آپریشن کی طرف بڑھ رہا تھا اس سے پہلے اسے کچھ بتانا تھا ۔وہ اسے امید کا دیا تھمانا چاہتی تھی اسے بتانا چاہتی تھی کہ وہ مایوس نہ جائے کوئی ہے جو اسکا انتظار کرے گا اپنی زندگیوں کی محرومیوں کا ازالہ وہ خود کریں گے ایک دوسرے کا ساتھ مکمل کرکے ۔مگر اسکے آخری الفاظوِں نے جکڑ لیا تھا اور وہ چلا گیا ایک سلامتی کی دعا کے ساتھ جو ایک “toxic enmy” کی طرف سے دی گئی تھی۔اس نے پیچھے سے آواز نہیں دی کیوں نہیں دی شاید چوبیس سال کی غلطیوں کا ازالہ ایک پل میں ممکن نہیں تھا۔

༻━━━━━⊱༻

ستم گر جب کوئی تازہ ستم ایجاد کرتے ہیں

تو بحر امتحاں پہلے ہمیں کو یاد کرتے ہیں۔۔۔

سوات میں جاری آپریشن کی کمانڈ تین سربراہان کے سپرد کردی گئی تھی۔علاقے کا محاصرہ تیزی سے کیا جانے لگا تھا وہیں فرنٹرئیر کمانڈوز جو احمد ،روحان اور منصور لالہ کے ذمے تھی کسی ایک سپہ سالار کے خدانخواستہ شہید ہونے پر دوسرے کمانڈو کے سر مورچہ دیا جاتا جبکہ دوسری کور ارتضٰی کے سپرد تھی اور تیسری کور واسق کے سر جسکا اہم فریضہ علاقے کے لوگوں اور انکے املاک کو ہدف ہونے سے بچانا تھا۔

اس بات پہ یہ بھی مصدقہ اطلاعات آرہی تھیں کہ کچھ مقامی لوگوں نے بھی دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی تھی۔

ہیڈکواٹر سمجھے جانے والا پہاڑی علاقہ گٹ پیوچار اسی کی دہائی سے شدت پسندوں اور جرائم پیشہ افراد کا مسکن رہا ۔

صدر مقام مینگورہ کے شمال میں تقریباً پنتیس سے چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ علاقہ خوبصورت وادی شوور کا حصہ جو کئی چھوٹے چھوٹے پہاڑی سلسلوں اور گھنے جنگلات پر مشتمل تھا اور جہاں پہ پاک فوج کے یہ کمانڈو دستے اپنے عظیم مقاصد سے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے اترے تھے اپنے مشن پہ فوکس کیے وہ مسلسل آگے بڑھ رہے تھے۔

تحصیل مٹہ کے حدود سے تقریباً پندرہ بیس کلومیٹر کے دوری پر واقع گٹ اور پیوچار دو الگ الگ علاقے ہیں جو پہاڑوں کے دامن میں تقریباً چھ کلومیٹر کے فاصلے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ یہاں اکثریت گجر اور سید خاندان آباد ہیں جو اس علاقے کے با اثر افراد سمجھے جاتے ہیں۔

اس پہاڑی علاقے میں شدت پسندوں کی آمد اسی کی دہائی میں اس وقت دیکھنے میں آئی جب کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعتی محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد نے مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام کے حصول کےلیے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔طالبان نے گٹ پیوچار میں کئی مراکز بھی قائم کیے ہوئے تھے جہاں وہ نئی بھرتی ہونے والے افراد کو تربیت دیتے ۔

جبکہ دوسری جانب خودکش حملے، ٹارگٹ کلنگ، اغواء، بم دھماکوں اور دھمکیوں کاسلسلہ پھر سےشروع ہوگیا تھا۔مگر یہ کمانڈوز اور انکے اعلٰی افسران ہر طرح کی دھمکیوں کو پیچھے چھوڑے آگے بڑھ رہے تھے۔

واسق کا کہنا تھا اسکے پاس کھونے کو پہلے ہی کچھ نہیں جبکہ ایک آرمی مین کا مقصد حیات ہی جب وطن کے پرچم کی سربلندی سے بڑھ کے کچھ نہیں اور ایسے ہی جزبات باقی سب کے تھے ۔

البتہ رؤحان نے احمد کی کیپٹنسی میں آنے سے انکار کیا مگر وہیں روایتی لیکچر ان دو حریفوں ایک دوسرے کے سامنے لے آئے تھے۔اتنے دنوں بعد احمد کو سامنے دیکھ بہت کچھ یاد آیا مگر احمد کے چہرے پہ چھائے متانت اور سوبر تاثرات اس بات کا اعلان تھا کہ ان سب حالات نے اس پہ گہرا اثر چھوڑا تھا ۔ایک کمان سنبھالے اس وقت وہ کہیں سے فیصل آبادی جگتی نہیں لگ رہا تھا۔

اگر روحان نے اس سے بات کرنے کا انٹرسٹ ظاہر نہیں کیا تو وہیں احمد نے بھی اسے مکمل اگنور کیا تھا۔

سوات کا یہ علاقہ کبھی ان افواج کیلئے بہترین ثابت نہیں ہوا تھا جنرل کیانی کے دور میں کئی لوگوں نے اپنے مال و جان لٹائے تھے وہیں کئی فوجی افسران اور اہلکار شہید ہوچکے تھے۔

دشمن کیلئے جال بچھایا جانے لگا تھا مگر اس گھنے جنگل میں اسوقت قیادت مکمل اس بات لاعلم تھی کہ چند گز کے فاصلے پہ طالبان اپنا مسکن بنائے بیٹھے ہیں۔

اس سے پہلے کہ وہ اس چیز سے سنبھل پاتے سات نوجوانوں پہ مشتمل دستہ ان طالبان کے ہتھے چڑھ گیا تھا کیونکہ ان میں سے کوئی بھی دفاعی پوزیشن میں نہ تھا اس لیے بنا لڑے ہی سرینڈر کردیا گیا کیونکہ دشمن تعداد میں ان سے کئی گنا زیادہ تھے۔

ان کمانڈ میں سے کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ احمد اور اسکی پوری ٹیم ایک سافٹ ٹارگٹ بن چکے جبکہ فوجی اصولوں کے مطابق آگے بڑھنے والوں کیلئے پیچھے مڑ کے دیکھنا ناگریز تھا وہی اسوقت طالبان کی قید میں محصور وہ لوگ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ انکے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔

“سر ان لوگوں کی آنکھوں میں امڈتا غصہ اور لہجے کی نفرت انہیں کہیں سے بھی مسلمان ظاہر نہیں کررہی ۔”

صوبیدار نائیک فتح اللّٰہ کے لہجے میں ڈر نمایاں تھا۔

“ان میں چند ایک کو ہی نماز پڑھتے دیکھا ہے۔” ایک اور سوال اٹھا تھا۔

“یقیناً یہ ہماری رہائی کے بدلے میں اپنا کوئی ساتھی چھڑوانے والے ہیں۔” احمد کی بات پہ سب نے اتفاق کیا تھا۔جبکہ روحان اس کمرے کا جائزہ لے رہا تھا جہاں پہ کچھ بھی ایسا نہ تھا جو انکی رہائی کا سبب بنتا۔

تبھی ایک دس سال کا بچہ کھانا لیے آیا تھا ۔آج انکو اس قید میں تیسرا دن تھا اور ایک وقت کا کھانا شاید ازراہ ہمدردی انہیں دیا جارہا تھا۔

احمد کی آنکھیں اس بچے کو دیکھ چندھیاّں گئیں وہیں۔روحان نے ایک کٹیلی نگاہ احمد کی طرف ڈالتے منہ موڑ لیا۔وہ بھی بخوبی اسکے تاثرات ملاحظہ کررہا تھا مگر چپ رہنے میں عافیت جانی۔

“اے تم ادھر آؤ۔” بچے نے ابھی کھانا انکے سامنے رکھا تھا جب باہر سے سیاہ کپڑوں میں ملبوس سر تا پیر سیاہ رنگ کو اوڑھے وہ شخص منصور لالہ سے مخاطب ہوا۔

انکی آنکھیں بے خطر تھیں اور مکمل اعتماد سے وہ آنے والے آدمی کی طرف بڑھے۔

“اوں اچھا تو کمانڈو ہو حیرت در حیرت اس وقت یہاں تین کمانڈو موجودہیں پنجرے میں پھڑ پھڑا رہے۔”

انتہائی نفرت سے کہتے اس نے منصور لالہ کے چہرے پہ تھوکا مگر انکا سکوت برقرار رہا تھا اور جو شاید سامنے والے کےجلال کا سبب بنا تھا آگے بڑھتے اس نے بچے کے ہاتھ پہ رکھی تھالی سے کپڑا ہٹایا ۔ان لوگوں کو یہ سمجھنے میں بلکل وقت نہیں لگا تھا کہ دراصل یہ کھانا کیا تھا۔

تھوڑی دیر میں انکے مزید تین ساتھی اندر داخل ہوئے احمد ،روحان اور ایک سپاہی کے جسم سے وردی نوچی گئی تھی جبکہ انکے ہاتھ پہلے ہی مجرموں کی طرح پشت سے باندھے گئے تھے۔منصور لالہ سمیت اور دیگر تین سپاہیوں کو ایک اور کمرے کی طرف لے جایا گیا تھا۔

” کرنل کے داماد اگر تم اتنا بتا دو کہ یہاں کتنے لوگوں نے لینڈ کیا ہے اور کہاں کہاں خوفیہ مورچے بنے ہیں یقیناً تمہاری قید میں آسانی پیدا ہوسکتی۔”

اس شخص جسکا نام نجیب اللّٰہ تھا اپنے ہاتھ میں چمڑے کا بنا وہ ہنٹر لہرایا ۔روحان کی نسیں پھولنے لگی تھیں۔

“کسی غلط فہمی کا شکار مت رہنا تم لوگ یہاں جان تو جاسکتی مگر غداری کا لیبل لگانا منظور نہیں۔” روحان کا صاف انکار اس شخص کو حد سے زیادہ ہائپر کرگیا تھا۔

“کیپٹن احمد تمہارا کیا خیال ہے شاید تمہارے دوست کو ہماری آفر قبول کرلینی چاہیئے نہیں تو مجبوراً وینٹی لیٹر پہ سانس لیتی تم دونوں کی اکلوتی معشوقہ کے منہ سے آکسیجن ماسک سرک بھی سکتا۔”

انتہائی سفاکیت سے کہتے اس نے دھمکی دی تھی۔

” ذلیل انسان تمہارء جرأت کیسے ہوئی میری بیوی کا نام اپنی ناپاک زبان سے لینے کی میں تمہارا خون پی جاؤنگا۔”

روحان حلق کے بل چلاتے رسی کھولنے کی کوشش کرنے لگا مگر ناپید ۔

“تمہیں کیا لگتا ہمیں اسطرح بلیک میل کرنے سے تم اپنے مقاصد میں کامیاب ہوجاؤگے تو یہ بہت بڑی غلطی ہے تمہاری آخ تھو۔۔” احمد نے بنا کوئی انجام سوچے اسکا بدلہ اتارتے واپس اسی پہ تھوکتے اس شخص کے قہر کو آواز دی تھی جو انسانیت سے عاری ہوتے درندوں کی طرح ان پہ بل پڑے تھے۔

یہ ظلم یہی نہیں رکا تھا بلکہ دو دن کی مسلسل اذیت کے بعد ان تمام افراد کو باہر لایا گیا جہاّں ایک دل دہلانے والا منظر انکا منتظر تھا منصور لالہ جنکے چہرے پہ سجی داڑھی خون آلود تھی اس کا جسم تازہ تھا جیسے اسے

چند گھنٹوں قبل ہی شہید کیا گیا ہو جبکہ انکی نعش انتہائی مسخ شدہ تھی۔ اسے بظاہر اس کی بائیں کن پٹی پر گولیاری ماری گئی تھی۔ اس کا گلہ جزوی کاٹا گیا تھا۔ اس کے جسم پر جگہ جگہ خنجر سے کاٹنے کے نشانات تھے۔ دو کٹ کے نشان اس کے ہاتھوں، ٹخنوں، کمر اور ٹانگوں پر اور نو کٹ کے نشان گردن پر تھے۔“ ان کے سینے پر پشتو میں ایک نوٹ چسپاں تھا جس میں لکھا تھا ”وہ سب جو جاسوسی کر رہے ہیں ان کا یہی حشر ہوگا۔“

اتنا دلسوز منظر اور وہ بھی شریعت محمدی کے دعوایدروں کے ہاتھ انکے امتی ہونے کا دعوٰی کرتے شریعت کا نفاذ کرنے والوں کے ہاتھ ۔وہاں موجود سب گنگ زبان سے یہ سب دیکھ رہے تھے ۔

“سوچ لو تم لوگ اگلا بندہ کون ہوسکتا۔” ایک اور تگڑی دھمکی دی گئی۔واپس عقوبت خانے میں بند کرتے ان پہ ایک رقت طاری ہوئی تھی۔

یہ وادی یہ شہر سوات بہیمانہ دردندگی کا گڑھ تھا ،اِس شہر کے مرکزی چوک میں چلتے پھرتے بے گناہ اور معصوم انسانوں کو دن دھاڑے قتل کردیا جاتا تھا اُن کے مردہ جسموں سے اُن کا سر کاٹ کر اِس چوک میں اُن سرکٹی لاشوں کو ٹانگ دیا جاتا تھا ۔

اللہ کے نام پروردہ یہ جنونی کارندے محلے محلے جھانکتے پھرتے جس گھر میں اُنہیں معلوم ہوجاتا کہ اِس گھر میں کوئی جوان نوعمر لڑکی موجود ہے تو مُلا صاحب کو اطلاع دی جاتی جو اپنے اہم کارندوں کے ہمراہ اُس گھر میں زبردستی گھس جاتا اور اُن کے کمزور اور بے بس والدین کو فی الفور اِس با ت پر مجبور کیا جاتا کہ اِس لڑکی کی عمر شادی کو پہنچ چکی ہے لہذاء اپنے ہی کسی جنونی ہوس کار کارندے سے اُس موقع پر ’نکاح ‘ پڑھا دیا جاتا۔

سوات میں کئی سو سرکاری اور نجی اسکولوں کو بموں سے تباہ کردیا گیا لڑکیوں اور عورتوں کا باہر نکلنا بند کردیا تھا جو بھی اُس کے حکم کی سرتابی کرتا اُسے سوات کے مرکزی چوک میں قتل کردیا جاتا سوات ضلع ما لاکنڈ کا مرکزی شہر ہونے کی بناء پر اِس بد حالی اور بد انتظامی کے ساتھ ساتھ ظالم وسفاک قاتلوں کے نرغہ میں جب مکمل طور پر آگیا تو اِس کے اثرات دیر اور جنوبی وزیر ستان کے قبائلی علاقوں تک جا پہنچے یہ سارا کا سارا پختون علاقہ نامی گرامی مُلا کی ذاتی جاگیر بننے لگا۔

جہاں احمد اپنے ساتھیوں سمیت روز ظلم و بربریت کا نشانہ بنتا وہیں فورسسز نے مقامی لوگوں سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ۔

پاکستانی فوج نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اپنی خصوصی نگرانی میں دو لاکھ ساٹھ ہزار خاندانوں کو ایک منظم حکومتِ عملی کے تحت باحفاظت پہلے سوات شہر سے باہر نکالا ، اِنہیں خیبر پختونخواہ کے پُرامن علاقوں کے عارضی رہائشی کیمپوں میں رکھا گیا، ہر روز اِن کیمپوں میں آنے والے نئے خاندانوں کا باقاعدہ ڈیٹا رکھا جانے لگا تھا ایک معینہ مدت کے لئے یہ عارضی رہائشی کیمپ قائم گئے تھے۔۔۔

ایسے میں ایک گھر ایسا بھی تھا جہاں فوج تو کیا کسی کی بھی رسائی کو روکا گیا تھا جبکہ اس گھر کی خواتین نے کسطرح کی مدد سے بھی انکار کردیا تھا جبکہ اعلٰی حکام کی طرف سے خواتین کو سافٹ ٹارگٹ بنانے سے منع کیا گیا تھا جسکا فائدہ اندر موجود کئی لوگوں کو ہو رہا تھا۔

” تم جانتی ظلم یہ نہیں کہ کوئی آپ پہ ظلم کررہا بلکہ ظلم یہ ہے آپ سہہ کیوں رہے کس لیے سہہ رہے اپنی مظلومیت اور خودترسی سے نکلو جب کسی انسان کو ہمدردی بٹورنے کی لت لگ جاتی ہے ،جب اسے اس چیز کا نشہ ہوجاتا کہ لوگ اسے مظلوم سمجھیں وہ شخص خود کو ہی ہلاک کرلیتا یہ مسکینی کا چولا اتار کیوں نہیں پھینکتی آپ “دی” بس کردیں اب۔” حمزہ نے اسکے کپکاتے ہاتھوں کو جھٹکا جبکہ اسکے زخم سے خون مزید رسنے لگا۔

“تت تم یہ پٹی کروا لو حمزہ خدا کیلئےکچھ نہ بولو۔” اس نے بہت مشکل سے دوبارہ حمزہ کا ہاتھ پکڑتے پٹی کروانی چاہی۔

“کیوں “دی” کس لیے سہتی ہیں آپ اس آدمی کا ظلم ۔” حمزہ کی نگاہیں اسکے چاند چہرے پہ بنائے گئے چاند کے نشان پہ تھیں جسے چاقو سے کٹ کر کے بنایا گیا تھا۔

“ایک فوجی کی بیوی ہوں شاید اسیلئے۔” اس نے حمزہ سے نظریں چرائیں ۔

“بزدل ،بزدل ہیں آپ اور آپکا وہ فوجی بھی میں۔۔۔”

حمزہ کی بات ابھی مکمل ہی نہیں ہوئی تھی کہ دروازہ زور سے بجایا گیا۔اس نے خوفزدہ نظروِں سے حمزہ کو دیکھا جسکی آنکھوں میں ڈر کی ہلکی سی بھی رمز نہیں تھی اور یہی بےباکی اسکا دل سہما گئی۔

آگے بڑھتے نمناک نگاہوں سے اسکا زخمی ہاتھ اپنے سر پہ رکھتے نفی میں سر ہلایا ۔جبکہ دستک پھر سے تیز ہوئی۔

“بلیک میلنگ۔” اس نے غصے سے کہتے وہی ہاتھ دیوار پہ دے مارا جبکہ اس نے اپنا آنچل اسکے ہاتھ پہ باندھے باہر کی طرف دوڑ لگائی۔

“اتنی دیر سے کیوں کھولا دروازہ۔”باہر ایک کریہہ شکل کمانڈو ٹہرا تھا جس نے کئی دنوں سے منہ بھی نہیں دھویا تھا شاید اسکے دو ساتھی دروازے کا جائزہ لے رہے تھے۔

“کک کچھ بھی نہیں سورہی تھی میں تو۔” اس نے ادھر ادھر کی ہانکی ۔

“ابھی ایک لڑکا اس گھر میں گھسا ہے جسکے ہاتھ گولی لگی ہے۔” اس کریہہ شکل والے نے بغور اسے سر تاپیر گھورتے کہا جبکہ اس نے دروازہ وا کیا۔

“آکے دیکھ لو ۔”مکمل اعتماد سے کہتے اس نے اندر کی طرف اشارہ کیا جبکہ ان لوگوں اسکے پراعتماد چہرے کو دیکھتے اپنا پروگرام کینسل کرتے آگے کی طرف بڑھ گئے ۔

وہ مطمئن سی اندر آگئی۔

“اتنا کنفینڈنٹ اس حیوان کے سامنے بھی دکھا دیا کرو۔”

حمزہ اپنے ہاتھ کی ڈریسنگ کررہا تھا۔

“اگر تم یہی حال رکھو گے تو عنقریب ٹوٹا ہوا ہاتھ لیے پھرو گے۔”

نرمی سے اسکا ہاتھ پکڑتے خود ڈریسنگ کرنے لگی۔

“دی آپ کہو تو میں بات کروں اس سے؟” حمزہ جو شاید اسکا سب سے بڑا خیرخواہ تھا اسکی حالت دیکھتے بولا۔

“نہیں حمزہ تم ایسا کچھ نہیں کروگے اگر تم نے ایسا کیا تو میرا مرا ہوا منہ دیکھو گے۔”

پھر سے ایمشونلی بلیک میل کرنے لگی تھی۔

“مجھے اب کوئی فرق نہیں پڑنے والا میں جاؤنگا اس سے بات کرونگا مجھے یقین ہے کہ سچ وہ نہیں جو آپ بتاتی ہیں اب یہ چوہے بلی کا کھیل ختم ہوجائے تو اچھا ہے وہ ابرق جو تمہارا باپ ہونے کا دعویدار ہے دی کوئی باپ ایسا کرتا ہے کبھی۔”

حمزہ نے جذباتی ہوتے اسکے چہرے پہ بنے نشان کی طرف متوجہ کیا۔

“وہ انہیں مار دے گا۔” پھر سے ڈری آواز ۔

“مار دے دی وہ بزدل نہیں ہوگا جتنا آپ نے اسے سمجھا ہے میں کل ہی فوجی چھاؤنی میں جاؤنگا۔” اسے وارن کرتے خود پہ جیکٹ اوڑھی اور گھر کے پچھواڑے سے نکل گیا۔

وہ ایک کشمیری مجاہد تھا جو ایک دہشتگرد کے گھر میں رہ کے اپنے مقاصد انجام دیتا اسوقت اس گھر سے زیادہ کوئی پناہگاہ اہم نہ تھی جہاں کوئی آسانی سے ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا۔

وسام کو ابرق کے حوالے کرتے فرشتے نے اپنی رہائی مانگی تھی ۔ویسے بھی وہ جہاں تک اڑتی ابرق کی پہنچ سے دور نہیں جاسکتی تھی اسیلئے ابرق نے وسام لیتے اسے بظاہر آزادی دی ہوئی تھی۔وہیں فرشتے کی ہر چال الٹی پڑی اور واسق اور احمد کی قید میں ایک پنچھی کی طرح پھڑ پھڑا کے رہ گئی۔

جبکہ وہ اسے لیے سوات آگیا تھا جہاں اسے غداری کی سزا دی گئی۔کئی ایک عورتوں کے سامنے ابرق نے اسکے چہرے پہ چاقو سے ایک چاند کا نشان بنایا تھا ۔اسکی رگوں کو چہرے کے خوبصورت نقش ونگار کو بگاڑے وہ نشان کتنے دن رستا رہا مگر پرواہ کسے تھی۔ایسے ہی اسکی کلائی ،بازؤں پہ بھی چاند بنایا گیا تھا ۔کوئی یقین نہیں کرسکتا تھا کہ ابرق اسکا سگا باپ ہے مگر یہ ایک اٹل حقیقت تھی کہ وہی اسکا باپ ہے جس نے اپنے سے غداری کرنے والوں کو بھیانک انتقام سے دوچار کیا۔

ایسے میں ہر روز سوات کے مختلف علاقوں سے کئی لڑکیاں اور لڑکے لائے جانے لگے جنکو زبردستی اپنی تنظیم میں شامل کیا جانے لگا تھا ۔پاکستان فوج کے خلاف ایک الگ سے ان طالبان کی کمانڈو فورس بنائی جانے لگی تھی۔

اس علاقے میں ابرق کی دھاک تھی کوئی بھی اسکے گھر کی طرف نظر نہیں اٹھا کے دیکھتا تھا ۔ ایک شخص ملسلسل اس علاقے میں ہوتی ایکٹویٹی پہ نظر رکھے ہوے تھا جسے ایک مضبوط سہارے کی ضرورت تھی

ایک رات ابرق کے گہرے کے چکر لگاتے اسے کسی کے درد سے چیخنے کی گھٹی گھٹی آوازیں آرہی تھیں وہیں پہ کچھ جلنے کی بدبو بھی ۔اس نے گھر کے بالکونی سے اندر جھانکا جہاں ایک سفید لباس میں موجود لڑکی درد کی شدت سے چلارہی تھی وہیں گھر میں بھرتا دھواں ۔ایک انسانی جان کو یہ جل کے مرتے دیکھ اکسی بھی انجام کی پرواہ کیے وہ اسے باہر نکال لایا۔

وہ بائیس تئیس سال کی بے انتہا خوبصورت لڑکی تھی مگر چاند کی طرح ایک گرہن تھا اسکے ملائی حیسے ہونٹوں سے شروع ہورہا تھا۔اس مجاہد نے جان بجائی تو انسانیت کا ایک بہترین رشتہ ان اجنبی لوگوں کے درمیان بننے لگا تھا۔

༻━━━━━⊱༻

تم نے بس ترکِ تعلق کو غنیمت جانا _

مانگنے والے میری جان تو مانگی ہوتی….

وہ حیرت زدہ سا اپنے اوپر پسٹل تانے کھڑی لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔

“ایک قدم آگے نہیں ورنہ یہ پوری پسٹل تمہارے سینے پہ خالی کردونگی۔”چاند چہرہ یا پھر چہرے پہ چاند والی اس لڑکی نے واسق کو حیرت زدہ کیا ۔

یہ وہ آنکھیں تھیں جنہیں پہروں آنکھیں بند کیے محسوس کیا۔یہ وہ آواز تھی جسے سننا آخری خواہش تھی اور وہ پوری ہوگئی۔مگر نہیں کہاں پوری ہوئی تھی وہ اسکی وسام نہیں تھی ۔وہ “ایگل نیسٹ” کی شہزادی نہیں تھی۔

واسق نے بنا کوئی مزاحمت اپنا ویپن سائیڈ پہ پھینکا اور دونوں ہاتھ سرینڈر کے سے انداز میں اٹھا دیے۔

وسام کو اس شخص کی۔عجیب نظریں الجھن میں مبتلا کررہی تھیں۔

“کون ہوتم اس دیوار کو پھلانگ کے آنے کا سوچا بھی کیسے تم نے ۔کیا تم نہیں جانتے یہ کسکا گھر ہے۔” واسق نے نفی میں سرہلایا جہاں وہ متحیر سی ہوئی ۔

“مسافر ہو؟” ایک اور سوال واسق نے کبھی جھوٹ نہیں بولا تھا اور اب بھی نہیں بولا۔

“ہاں پانی ملے گا؟” اس نے اندر کی طرف نگاہ بڑھائی ۔

“ٹھیک ہے یہی رکو ۔” اسکا ویپن اٹھائے وہ کمرے کی طرف بڑھی وہ تین کلو کی سنائیپر رائفل تھی جسے اٹھانے میں اسے دقت ضرور ہوئی تھی مگر وہ باہمت لڑکی اندر بڑھ گئی۔

“کون ہے ؟”حمزہ نے باہر جھانکنے کی کوشش کی۔

“مسافر ہے کوئی۔” ایک ترتیب سے رکھے گئے مٹکوں میں سے ایک کو بڑے سے گلاس کی میں انڈیلنے کی کوشش کی۔

حمزہ نے اسکا لایا ویپن دیکھا ۔وہ۔یقین سے کہہ سکتا تھا کہ یہ کسی سنائیپر کا ویپن تھا۔

“دی آپ نے اتنی آسانی سے کسی اجنبی کو کیسے اندر آنے دیا؟” حمزہ کی بات پہ سر جھٹکے وہ باہر کی طرف بڑھی آجکل اس سے مکمل بائیکاٹ چل رہا تھا۔

“زخمی ہے پناہ لینے کو دیوار پھلانگی۔” اسکی منطق سنتے حمزہ کو تپ چڑھی۔یہ نرالی منطق تھی اس لڑکی کی۔

“فوجی لگتا کوئی۔” باہر کی طرف بڑھتی وسام پہ اس نے فقرہ اچھالا مگر وہ اسے خاطر میں لائے بغیر آگے بڑھ گئی۔

“مت بھولو تم بھی زخمی حالت میں آئے تھے یہاں۔” اسے انگوٹھا دکھاتےوہ آگے بڑھی جہاں وہ اپنے بازو کا جائزہ لے رہا تھا۔وہیں تانک جھانک کرتا حمزہ چونکا ۔ وہ ایک نظر میں پہچان سکتا تھا کہ وہ کون ہے۔

خود پہ اختیار کھوئے وہ اسکی طرف دوڑا۔

“واسق۔” اسکی وحشت زدہ آواز پہ وہ چونکا چونکی تو وسام بھی تھی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *