Sayah Kaar by Uzma Mujahid NovelR50609 Sayah Kaar (Episode 01)
Rate this Novel
Sayah Kaar (Episode 01)
Sayah Kaar by Uzma Mujahid
ونڈسر ہاؤس، لندن، وکٹوریہ سٹریٹ، ویسٹ منسٹر۔۔۔۔
معروش میم باہر آپکے وزیٹر آئے ہوئے ہیں آفس بوائے نے اسکے روم اندر داخل ہوتے پیغام دیا ۔
اوکے اوکے فائن آپ انہیں کہیں دس منٹ ویٹ کریں ائی۔ایم کمنگ۔”
اپنی چیزیں سمٹتی وہ جلدی جلدی بول رہی تھی ۔
“پر میم ۔” اس نے پھر سے کچھ کہنا چاہا تھا مگر ہاتھ اٹھاتے اس نے باہر کا اشارہ کیا آفس بوائے مزید کچھ بولے باہر کی طرف بڑھ گیا۔
اس کے ماتھے پہ بل پڑے تھے آفس بوائے کا پیغام سنتے ہی وہ انتظار کروانے والا کب بھلا انتظار کا عادی تھا دس منٹ اسکیلئے دس صدیوں کے برابر تھے۔
“اوہ سو سوری مسٹر ؟ “سوالہ نگاہوں سے اسے دیکھا ابھی تو اسکی دوست نے نام بتایا تھا جوکہ اسکے مائنڈ سے سکپ ہوگیا تھا۔
“آ اچھا جو بھی ہیں انتظار کروانے کیلئے معذرت ۔”
وہ اس نان سٹاپ لڑکی کو دیکھ رہا تھا بھلا کہاں پھنسا دیا تھا بابا نے وہ اسے دیکھتے ہی ریجکٹ کرچکا تھا کیونکہ کام ہمیشہ وہ اپنی مرضی کے لوگوں کے ساتھ کرتا تھا۔
تبھی سامنے والے کے موبائل پہ ہوتی رنگ نے اسے متوجہ کیا تھا ۔
“اوہ گاڈ اتنی دیر ہوگئی چلیں آجائیں ۔”
خود سوال جواب کرتی آگے بڑھ گئی اس نے اس عجیب لڑکی کو دیکھا فلحال بابا کے حکم پہ اسکو فالو ہی کرنا تھا جو یقیناً اسے کسی سائٹ پہ لے کے جارہی تھی ۔
مگر گاڑی کورٹ کے سامنے رکتے دیکھ اسے شدید دھچکا لگا جبکہ اسکی پھرتیاں ویسے ہی جاری تھیں ۔
“اف اک تو آپ بیٹھے بٹھائے پتا نہیں کہاں گم ہوجاتے ہیں مسٹر آپکو کسی نے مار کے تو نہیں بھیجا آپ یہاں اپنی مرضی سے ہی آئے ہیں نا ۔”
اس نے اسکی بات سنتے میکانکی انداز میں سر اثبات میں ہلا دیا ۔
“ایک منٹ کہیں آپکو یہ تو نہیں لگ رہا کہ میں اپنی ڈیل سے پھر جاؤنگی ؟”
اب کے اسکی آنکھوں میں واضع الجھن تھی ۔
“اس نے سر نفی میں ہلانے پہ اکتفا کیا کیونکہ اس لڑکی کے بارے اسے کوئی کنفیوژن نہیں تھی وہ خود ہی اس ڈیل سے انکار کرنے لگا تھا مگر اسکی حرکتیں ۔
تبھی ایک وکیل صاحب بلیک کوٹ پہنے باہر آئے تھے کیونکہ وہ پورا راستہ کسی کو کال۔کرتی آئی تھی یقیناً اسی کو ۔
“پیپرز ؟” ہاتھ سامنے پھیلائے وکیل سے پیپر مانگے تھے ۔
“کس چیز کے پیپر ؟”
اب کے اس نے بولنا ضروری سمجھا تھا معروش نے پہلی بار اسکی جانب ایک تفصیلی نگاہ دوڑائی مگر دوسرے ہی لمحے دل دھک سا رہ گیا۔
“حنا(دوست) نے تو کہا تو ایوں شکل کا اور غریب آدمی ہے مگر اسکی لکس وہ تھوڑا کنفیوژ ہوئی تھی.”
مسٹر کانٹریکٹ سائن کرنا ہے یا نہیں ایک پیپر اسکی جانب بڑھاتے اسکو گھورا وہ گڑبڑا گیا ایک تو وہ لڑکی ہر چیز کیلئے گھوڑے پہ ہی سوار رہتی تھی۔
“آ وکیل صاحب گواہان کا کیا؟”
پھر سے ایک نیا مسئلہ اسے درپیش ہوا تھا ۔
“جی میم ابھی بلاتا اگر آپ لوگ اندر چل لیتے تو اچھا تھا۔”
وکیل بیچارہ خود اسکی تیزیوں پہ پریشان ٹہرا تھا ۔
“نو نو آئی ہیو ٹو گو ائیرپورٹ ٹو ریسو مائی فادر اینڈ اٹس ارجنٹ ۔” تفکر اسکے چہرے پہ نمایاں تھا ۔
وکیل نے گواہان کو باہر ہی بلا لیا تھا اس کی برداشت کا آخری لیول تھا ۔
وہ اسے بازو سے پکڑے ایک سائیڈ لایا جبکہ وہ اسکی اتنی جرآت پہ ششدر ٹہری تھی ۔
“واٹ نان سینس۔ ” ایک جھٹکے سے اپنا بازو اسکی گرفت سے آزاد کروایا ۔
“کیا آپ مجھے بتانا گوارہ کریں گی کہ یہ سب کیا چل رہا لائر آفس میں ٹہرے کونسی بزنس ڈیل فائنل ہوتی ہے ؟”
ضبط کے باوجود اسکے ماتھے پہ ایک مخصوص رگ ابھری تھی ۔
معروش نے بے یقینی سے اسے دیکھا ۔
“بزنس ڈیل بٹ کونسی؟ ہم یہاں شادی کرنے آئے ہیں اور آئی تھنک آپکو بھی یہ بات پتا ہے ؟”
معروش کا دل دھک دھک کررہا تھا اگر یہ وہ بندہ نہیں ہے تو اسکا بندہ کہاں گیا اور اگر وہ نہ آیا تو مطلب نو نو اسکے دل دماغ میں ایک طوفان برپا ہوچکا تھا۔
ارتضی کے سر پہ کسی نے بم پھوڑا تھا۔
“آر یومیڈ ؟شادی اور وہ بھی ایسے کیوں ؟”
ارتضی غصے میں خود ہی الٹا سیدھا بول گیا۔
تبھی معروش کا سیل پھر سے بج اٹھا ۔
“ہاں کیا مصیبت بھیجی تم نے میرے سر حنا اٹس ٹو مچ ۔” معروش کا لہجہ روہنسا ہورہا تھا۔
سیل اس نے سپیکر پہ ڈال دیا تاکہ وہ بھی سن لے کہ اسکا فالتو کا ڈرامہ اب نہیں چلے گا۔
“آئی۔ای۔سوری مارو جو بندہ میں نے ڈھونڈا تھا اسکی وائف کو پتا چل گیا اینڈ ۔۔ “
حنا ابھی بھی کچھ کہہ رہی تھی مگر معروش کو لگا اب وہ کبھی سر ہی نہیں اٹھا سکے گی مگر ہمت کرتے اس نے سامنے موجود شخص کو دیکھا جو کچھ جتاتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
کچھ پل لگے تھے اسے اپنے حواسوں میں واپس آنے میں اب اسکے پاس سوائے اس شخص کے کوئی آپشن نہیں تھا مگر جتنا کہ وہ کڑوا تھا معروش کو اسکیلئے بہت ہمت کی ضرورت تھی۔
“آئی ایم سوری بٹ کیا پلیز آپ میرے سے ابھی شادی کرسکتے ہیں دیکھیں میں اسوقت بہت پریشان ہوں میرا دلہے کی سیکنڈ وائف کو پتا چل گیا ہے اور میرے لیے یہ شادی بہت ضروری ہے۔ “
ایک کے بعد ایک دھماکہ کرتی وہ لڑکی ارتضٰی کو بلکل پاگل لگ رہی تھی ۔
“واؤ وہہر از کیمرہ اٹس آ گریٹ پرینک مجھے نہیں پتا تھا کہ حیات انڈسٹریز کے ساتھ ہونے والی بزنس میٹنگ ایک مذاق بننے والی ہے۔ “
کلیپ کرتے اسکا چہرہ سختی سے تنا ہوا تھا معروش کا دل پہلے کی سچویشن اور اب کے سامنے موجود شخص کا انداز دیکھ ڈوب مرنے کو کہہ رہا تھا ۔
غصے بھری نگاہ ڈالتے وہ گاڑی کی طرف بڑھ گیا جبکہ معروش کا دل اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبا پر دوسرے لمحے اسکے پیچھے بھاگی تھی درواز کھولتے اسکے ہاتھوں پہ اپنی مخروطی ہاتھ رکھے ملتجائیہ انداز میں بولی۔
“پپ پلیز ایک مسلمان ہی دوسرے مسلمان کے کام آتا ہے نا پلیز ہم سب مسلمان آپس میں بہن بھائی ہیں تو۔ “مگر پھر سے غلط بولنے پہ دانتوں تلے زبان دبائی ۔
“کیا پلیز آپ میری مدد نہیں کرسکتے صرف کچھ دن کیلئے جب میرا بوائے فرینڈ واپس آجائے گا تو ہم یہ شادی ختم کردیں گے اٹس آ کنٹریکٹ میرج ۔”
ملتجی انداز میں کہتے اسکی آنکھوں میں آنسو تھے عورت کا سب سے بڑا ہتھیار۔
“کیا میری شکل پہ آپکو کہیں بیوقوف لکھا نظر آرہا ہے۔ “
ارتضٰی کا لہجہ اب پہلے سے زیادہ سختی لیے ہوئے تھے معروش نے اسکی جانب غور سے دیکھا جیسے واقعی اسکے چہرے پہ کچھ لکھا ہو گندمی رنگت پہ کالی بھنور آنکھیں فرنچ کٹ کے ساتھ عرایبک بئیرڈ دیکھنے میں وہ شخص بہت اٹریکٹو تھا ۔
“واٹ نان سینس ۔”
معروش کے انداز اسے مزید ہائیپر کررہے تھے ۔
“دیکھیں اس پردیس میں اور کس، سے ہیلپ مانگو میں آپ ہی مجھے کوئی بندہ ڈھونڈ دیں۔ “
ارتضی کو اس بیوقوف لڑکی پہ بے تحاشا غصہ آرہا تھا بھلا کون کہہ سکتا تھا کہ یہ ورلڈوائڈ برینڈ ایمبسڈر کی اکلوتی بیٹی ہے ۔
اسکی طرف سے کوئی رسپونس نہ دیکھ معروش بھی اپنی پرانی جون میں واپس لوٹی تھی ۔
“اوکے ڈن میں اس کالے والے آدمی سے شادی کرلیتی ہوں نان مسلم ہے تو کیا ہوا کم ازکم ہیلپ کرہی دے گا۔ “
اونچی بڑبڑاہٹ میں واضع طور پہ اسے سنایا گیا تھا ۔
“جو بھی کرو آئی ڈونٹ کئیر۔ ” شانے اچکاتے وہ پھر سے گاڑی میں بیٹھ گیا معروش کو اسکی اتنی بے مروتی پہ غصہ آرہا تھا مگر وہ کچھ کرنہیں سکتی وہ گاڑی بھگا کے لے جاچکا تھا ۔
معروش کے پاس اب ان لوگوں کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا مرے مرے قدم اٹھاتی وہ پھر سے لائیر کی طرف بڑھی ابھی وہ کچھ فاصلہ طے پائی کرپائی تھی کہ گاڑی کے ٹائر چر چرائے اور اسکے سامنے آرکی تھی۔
اس میں سے نکلتا شخص معروش کو ایک لمحے ساکت کرگیا مگر دوسرے ہی لمحے اسکے چہرے پہ خوشی کی جھلک دکھائی ۔
“تھینک یو تھینک سو مچ تم بہت اچھے ہو۔ “
معروش کا بس نہیں چل رہا تھا اس شخص کے گلے لٹک جائے ۔
“میں آپکی ہیلپ کرنے کو تیار ہوں مگر اپنے طریقے سے؟ “
اسکی بات سنتے معروش کی آنکھوں میں الجھن واضع ہوئی تھی مگر فلحال اسکے پاس اسکی بات ماننے کے کوئی چارہ نہ تھا ۔
“چلیں ؟” ارتضی کی بات پہ وہ سرہلاتی گاڑی میں بیٹھ گئی کچھ دیر بعد وہ ایک مسجد کے سامنے رکے تھے اس نے اندر جاکے مسجد کے امام سے بات کی کچھ دیر بعد اسے بھی بلا لیا گیا تھا اپنے حلیے پہ غور کرتی وہ آگے بڑھی تھی تھری پیس سوٹ میں ملبوس مردانہ حلیہ اپنائے لڑکی کو امام صاحب نے غور سے دیکھا اور مسجد سے ملحقہ گھر کی جانب بھیج دیا جہاں پہ موجود انکی بیوی نے معروش کے سرپہ دوبٹہ اوڑھایا جو اسے بےحد عجیب لگا مگر اسوقت وہ ایک مقناطیسی گڑیا بنی ہوئی تھی مولوی صاحب نے باقاعدہ شریعت کے تقاضوں پہ عمل پیرا ہوتے انکا نکاح پڑھوایا
معروش کو یہ سب عجیب لگ رہا تھا مگر چپ رہی ۔
کچھ لمحوں بعد وہ آمنے سامنے تھے ۔
دونوں کے درمیان گہری خاموشی کا راج تھا ۔
ارتضی کا سیل بجا جہاں بابا کی کال آرہی تھی ۔
آئی ہیو ٹو گو واٹس یور پلین ؟”
ابرو اچکاتے معروش سے پوچھا ۔
“کچھ دیر میں بابا آنے والے ہیں مجھے انہیں لینے ائیرپورٹ جانا ہے میں ٹیکسی لے لیتی ہوں۔ “
اب معروش کا لہجہ معتدل تھا اگرچہ اسکی ٹینشن دور ہوچکی تھی مگر دل ابھی تک انجانے خدشوں میں مبتلا تھا وہ مزید کچھ بولے وہاں سے چلا گیا تھا۔
ائیر پورٹ ایک ہنگامہ برپا تھا وہ الجھتی ہوئی آگے بڑھی سامنے موجود بڑی بڑی اسکرین پہ چلتی نیوز اور اناؤسنمنٹ نے اسکے پیروں تلے سے زمیں کھینچ لی ۔
پاکستان سے لندن آنے والی فلائیٹ ائیر کرش کا شکار ہوچکی تھی جس میں کوئی بھی مسافر نہیں بچ سکا تھا ۔ وہ اپنا اکلوتا سائبان کھو چکی تھی مگر دیوانہ وار ایک ایک کاؤنٹر کی طرف بھاگتے ڈیٹل لیتے اسے اپنی بصارتوں پہ یقین نہیں آرہا تھا ۔
♡♡─━━━━━⊱༻
شاہد کوئی تراش کر قسمت سنوار دے….
اسی سوچ میں ھم عمر بھر پتھر بنے رہے….
لندن، برطانیہ کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ تقریباًً دو ہزار سال پرانی آبادی، جس کے تاریخی مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی بنیاد قدیم رومیوں نے رکھی تھی۔ اس آبادی کے قیام سے آج تک لندن بہت سے تحریکوں اور عالمگیر واقعات کا مظہر رہا ہے، جس میں انگریزی کا ارتقا، صنعتی انقلاب اور قدیم رومیوں کا احیاء بھی شامل ہیں۔
لیسٹر اسکوائر میں ییٹس کلب ؛
کلب میں داخل ہونے کے منتظر درجنوں لڑکے اور لڑکیاں بانہوں میں بانہیں ڈالے دروازے کے باہر قطار بنائے کھڑے تھے۔ سڑک پر نیم دائرے کی صورت میں کھڑے دیگر درجنوں افراد کی طرح، ان لوگوں کی نظریں بھی تھوڑے ہی فاصلے پر موجود تین نوجوانوں پر گڑی تھیں۔
کچھ دیر بعد سیکورٹی گارڈ نے باقی سب کو داخل ہونے دیا مگر ان سیاہ فام لوگوں کو پھر بھی انٹری نہیں ملی تھی۔
ان تینوں کا مسئلہ غریب ممالک سے آنے والے دوسرے سینکڑوں نوجوانوں کی طرح صرف کلب میں کسی لڑکی کے ساتھ ناچنا تھا۔ ناچنا بھی کیا بس جتنی دیر کے لئے بھی ممکن ہو سکے انہیں اپنی بانہوں میں لینا ہے۔
لڑکی کے جسم کو چھونے بلکہ ’لمس چرا لینے‘ کی اپنی اس خواہش کی تکمیل میں یہ لوگ ڈانس فلور پر مطلوبہ لڑکیوں سے التجا کرنے اور ان سے بھیک مانگنے سے لے کر چالاکی تک ہر حربہ آزماتے تھے۔
کسی بھی کلب کے اندر ڈانس فلور سے فاصلے پر کھڑے ہو کر اگر دیکھیں تو کسی لڑکی کے بدن کو چھو لینے میں لندن کے ان محروموں کی کامیابی اور ناکامی سے قطع نظر ان بھوکے شیروں پر صرف ترس آتا ہے۔ اور ان کا تعلق اگر آپ کے اپنے ملک سے ہو تو شرم بھی آتی ہے۔
رات بارہ بجنے کی دیر تھی کے دور دور تک مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سامنے سے آتی دو گوریوں کو بھی ایک شخص نے مبارکباد دی اور ان کے ہنسنے پر اس نے ’ون کِس، ون کِس‘ کہتے ہوئے بوسے کی ضد شروع کر دی۔ مرتی کیا نہ کرتی ان میں سے ایک نے منہ آگے کر دیا۔
ان سب جھمیلوں ایک شخص ایسا بھی تھا جو ہر ایک پہ بیزار نگاہ ڈالے بیٹھا تھا ان سب کی عجیب وغریب حرکات اسے وومنٹ کررہی تھیں مگر برداشت کیے کسی کے انتظار میں تھا ۔
“ہائے بیب لٹس ڈانس ووانا بی مائی پارٹنر ۔”باقی سب کی طرح اسے یہاں آنے کیلئے کسی کا عارضی سہارا نہیں لینا پڑا تھا ۔کچھ ہی دیر میں اسکا مطلوبہ شخص سامنے تھا جو ان تین سیاہ فام لوگوں میں سے ایک تھا۔
“اب تک تم مجھ سے کتنے پیسے لے چکے ہو جارڈن اسکے باوجود تم لوگ ایک چھٹانک بھر لڑکی کو نہیں ڈھونڈ سکے” غصے کی زیادتی سے اسکے ماتھے کے کونوں پہ دو رگیں نمودار ہوئیں ۔
“مسٹر تیج ہم اسے ہر جگہ تلاش کرچکے ہیں بٹ آئی تھنک شی مووڈ فرام ہیئر “
سامنے والا جتنا بھی طاقت ور تھا مگر اس سے کمزور ہی لگ رہا تھا آواز کی گرج ہی اسکو ڈرانے کو کافی تھی ۔
” اٹس آ لاسٹ چانس مجھے وہ لڑکی ہر حال میں چاہئیے۔”
اگرچہ اسکے سامنے موجود وہ سیاہ فام ہر طرح سے اس سے طاقت ور نظر آرہا تھا مگر جو پاور اسکے پاس تھی سامنے والا اپنا غصہ دبا گیا تھا۔
“مسٹر تیج کی گرے آنکھیں سامنے کا منظر دیکھ چندھیا سی گئی تھیں جسے وہ ہر جگہ ڈھونڈ چکا تھا وہ سامنے تھی اور جس حالت میں تھی اسکے تن بدن میں آگ لگا گئی تھی۔
وہ بنا کسی کو دیکھے اسکی طرف بڑھا تھا جورڈن نے اسکی جانب رخ کیا تو اسے دھچکا سا لگا تھا ابھی تو انہوں نے مسٹر تیج سے اور پیسے بٹورنے تھے اتنی جلدی انکا گیم اوور نہیں ہونا چاہیئے تھا اپنے ساتھیوں کو ایک نظر دیکھا برائن نے اسکا اشارہ سمجھتے سر ہلایا ۔
پورا کلب ایک دم اندھیرے میں نہا گیا لوگوں کی بھگدڑ مچی تھی تیج نے اندھیرے میں ہاتھ پاؤں چلائے مگر کچھ حاصل نہ ہوا تھا وہ اپنی منزل پہ پہنچنے سے پہلے ہی ناکام ہوچکا تھا ۔
لائٹس روشن ہوئیں ہر منظر واضع ہوا تھا جورڈن ابھی تک اپنے ادھورے ڈرنک کے ہمراہ اسکے انتظار میں تھا۔
“تم نے دیکھا جورڈ وہ ابھی یہی تھی تم کہتے تمہیں نہیں مل رہی وہ ادھر تھی گو اینڈ فائنڈ ہم۔ ” میوزک کی ساز بلند ہورہے تھے جبکہ اسکے سر میں کسی ہتھوڑے کی طرح لگ رہے تھے جورڈن تک اپنی بات سمجھانے کو وہ چیخ رہا تھا۔
ایک مکروہ مسکراہٹ نے اسکے اور اسکے چہرےکا احاطہ کیا تھا اسکی یہ تڑپ پہلی بار اندازہ ہورہا تھا کہ وہ لڑکی اسکیلئے کتنی اہم تھی انکیلئے وہ گولڈن سپئرو ثابت ہوئی تھی۔
