Sayah Kaar by Uzma Mujahid NovelR50609 Sayah Kaar (Episode 28)
Rate this Novel
Sayah Kaar (Episode 28)
Sayah Kaar by Uzma Mujahid
“صاحب باہر کرنل صاحب آئے ہیں۔” کرم دین کی آواز نے کمرے میں چھائے سناٹوں کو توڑا جبکہ لائٹ آن کرنے کی جسارت اس نے بھی نہیں کی تھی ۔
روحان چاہ کے بھی ان سے روڈ نہیں ہوسکتا تھا اسیلئے انہیں منع کرنے بجائے ملنے کا فیصلہ کیا یقیناً انوشے کے معمالے میں وہ انکا جواب دہ تھا ۔
ادھ جلی سگریٹ ایش ٹرے میں مسلے چئیر پہ اپنی گرفت مضبوط کی کرم دین نے سائیڈ لیمپ کی مدھم روشنی میں اسکے جسم میں ہونے والی حرکت کو دیکھتے کمرے کی لائٹ جلائی ساتھ ہی اسکی ویل چئیر کی طرف بڑھا جسے روحان نے ہاتھ کا اشارہ کرتے بعض رکھا تو وہ بھی بے بسی سے اسکی شکل دیکھتا رہ گیا۔
جبکہ وہ اسے گھسیٹتے کمرے سے نکل گیا ۔
کرنل ضیاء نے اسے دیکھا جو کہیں سے شوخ کھلنڈرا سا روحان نہیں لگ رہا تھا گزرے ماہ وسال میں اسکی شوخیاں کہیں کھو سی گئ تھیں ۔
“کیسے ہو برخودار آپ تو ہم سے ملنا گوارہ نہیں کرتے سوچا ہم ہی بتا دیں کہ ہمارا بھی کوئی وجود ہے، انوشے نظر نہیں آرہی۔” ٹھنڈے میٹھے مزاح کے انداز میں کہتے ساتھ ایک طائرانہ نگاہ اسکے پیچھے ڈالی شاید انہیں امید نہ تھی کہ وہ اکیلا ہوگا جبکہ روحان کا دل دماغ ایک دم خالی ہوا تھا ۔تو کیا وہ مذاق کررہے تھے؟مگر انداز ایسا نہ تھا۔
“وہ یہاں نہیں ہے۔” اسے خود بھی نہیں پتا تھا کہ یہ بولتے وقت وہ کونسے طوفان کا سامان کررہا تھا۔
“یہاں نہیں ہے؟تو کہاں ہے کیا تم لوگوں کا پھر سے کوئی جھگڑا ہوا ہے؟” ضیاء صاحب کی آواز سے چھلکتا تحیر روحان کو بھی بوکھلا رہا تھا تو وہ ضدی لڑکی انکے گھر نہیں گئی ۔تو پھر کہاں گئی ؟ایک بڑا سوالیہ نشان اسکے دماغ کے اردگرد منڈلانے لگا تھا ۔
“وہ میرا مطلب ہے شاید تین دن سے آپکی طرف ۔۔ آئی مین سوری سر مجھے نہیں پتا وہ کہاں ہے۔”
روحان نے انکی چبھتی نظریں محسوس کرتے سچ بتانا ہی مناسب سمجھا۔
“واٹ ؟یہ تم کہہ رہے ہو روحان کہ وہ کہاں ہے اگر ایک لڑکی اپنے شوہر کے پاس نہیں ہے تواسے کدھر ہونا چاہیئے ماں باپ کے گھر مگر وہ کیوں اپنے باپ کے پاس آئے گی جہاں اسے پہلے ہی مایوس کیا گیا ہو۔”کرنل ضیاء نے خود سے سوال کرتے خود ہی مبہم جواب دیا جبکہ اسکی پریشانی اب بڑھنے لگی تھی اور رات جو کچھ ہوا اسکے بعد تو وہ خود سے پہلے کم شرمندہ تھا کہ اب اسکے غائب ہونے کی خبر کا شاک۔
“سر میں “روحان نے بولنا چاہا مگر کچھ اپنی صفائی میں دینے کو تھا ہی کچھ کہاں۔
“تم ایک لوزر ہو کیپٹن روحان ۔یہاں ہر روز کئی فوجی افسران ،سپاہی تمہارے جیسی ٹریجڈی کو فیس کرتے ہیں مگر انکے جزبے اور اونچی پرواز پکڑتے جبکہ تم یہ۔۔”
کرنل ضیاء نے پھولی نسوں کو سکیڑتے اسکی ٹانگ کی طرف اشارہ کیا۔
“اگر تم چاہتے تو رکورر کرسکتے تھے میں نہیں جانتا تم میں جینے کا آگے بڑھنے کا جزبہ کیوں نہیں ہے مگر مجھے یہ دیکھ کے شرمندگی ہورہی کہ تم میری بٹالین میں کبھی ہونہار کیڈٹ تھے۔” کرنل ضیاء نے اسے صاف شفاف سناتے وہاں سے واک آؤٹ کیا ۔
“صاحب ” کسی کونے سے نکلتے کرم دین انکے سامنے آیا تھا۔اسکی بات سنتے روحان کیلئے رہی سہی ہمدردی بھی کہیں دور جا سوئی۔
༻━━━━━⊱༻
“بٹ کوائن کو ایک طلسماتی چھڑی جیسی شہرت مل گئی ہے جو کھوٹے سکے کو سونا بنا دیتی ہے اور اگر آپ لوگوں کے ہاتھوں میں یہ چھڑی آجائے تو کیا کریں گے آپ لوگ۔”
کمپیوٹر اسکرین پہ ووز کی صورت میں لہراتی پراسرار آواز وہاں ہر ایک پہ ایک سحر طاری کیے ہوئے تھی۔ یہ بظاہر ایک کو سنوکر کلب تھا جہاں ایلٹ کلاس اور مڈل کلاس کے لوگ آتے تھے مگر وہاں پہ کالے دھن سے دولت کمانے کیلئے ہوطرح کی ٹریننگ دی جارہی تھی۔
جہاں پاکستان میں “بٹ کوائن “کو لے کے سوشل میڈیا پہ غلط اور سہی کی ایک لمبی بحث چھڑ چکی تھی وہیں سادہ لوح لوگوں کو جو شارٹ کٹ اپناتے امیر ہونا چاہتے انہیں لوٹنے کو ایک گروہ سرگرم ہوچکا تھا۔ جبکہ اس چیز میں لوگوں کو ماہر بنانے کیلئے کہ کیسے وہ بٹ کوائن اور “پائی کرنسی” کو تشکیل دے سکتے مائنر پلانٹس کے ذریعے ایک باقاعدہ جال بچھایا جارہا تھا جسطرف نوجوان نسل کی ایک بڑی تعداد بڑھ رہی تھی۔
“یقیناً آپ اس چھڑی سے اخروٹ تو نہیں توڑیں گے۔ سونے کا ڈھیر لگا دیں گے لیکن آگر آپ لوگوں کو بتائیں کہ آپ کے پاس ایسی جادوئی چھڑی ہے تو شاید لوگ آپ کو دیوانہ سمجھیں گے۔ آج کل بِٹ کوائن کی دنیا جو ایک کرپٹو کرنسی ہے اس میں بظاہر کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔”
ایک مخصوص جادوئی دنیا کا سحر لوگوں پہ پھونکتے انہیں اپنے ٹرانس میں لانے کی کوشش جاری تھی۔کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ اس آواز کے پار کا انسان کون ہے ؟کوئی ہے بھی یا محظ ووکل فریکونسی کا استعمال کرتے کسی عام انسان کی آواز ڈیجٹل کیا گیا ہے۔
وہاں موجود ہر شخص ان باتوں سے اپنے سامنے ایک سنہری مستقبل دیکھ رہا تھا محظ باتوں کا مستقبل۔
بِٹ کوائن ہو یا دوسری کرپٹو کرنسی ان کی قیمت جہاں تیزی سے اوپر جاتی ہے وہاں تیزی سے نیچے بھی گرتی ہے لیکن اس وقت کون کمبخت اِن خطرات کو دیکھ رہا تھا۔
“بٹ کوائن ایک کرنسی بلکہ اِس جیسی اور بہت سی دوسری کرنسیاں یہ صرف اور صرف آن لائن دنیا میں ہیں اور انھیں کسی ملک کے سٹیٹ بینک نے جاری نہیں کیا بلکہ ٹیکنالوجی کی دنیا سے منسلک اداروں نے اِن کا اجرا کیا ہے۔ ” آواز کی لہروں کو بغور دیکھتے وہاں بیٹھے چند ایک افراد ایسے بھی تھے جنکا مقصد یہ جاننا نہیں تھا کہ یہ سب کیا ہے ؟ کیا فائدہ کیا نقصان ہے۔بلکہ انکا مقصد یہ جاننا تھا کہ اس آواز کے پیچھے ہے کون اور یہ اتنا آسان نہیں تھا۔
“ڈیجیٹل والٹ کا ای میل اکاؤنٹ کی طرح ایڈریس ہوتا ہے جس پر لوگ آپ کو پیسے بھیج سکتے ہیں۔ یہ والٹ موبائل فون ایپ کی صورت میں بھی ملتے ہیں اور کمپیوٹر پر بھی انھیں استعمال کیا جا سکتا ہے۔”
بات اختتام کی طرف بڑھ رہی تھی جبکہ وہاں بیٹھے وہ دونوں لوگ مضطرب سے ہونے لگے تھے تقریبا ایک ہفتے بعد بھی انکو ناکام لوٹنا پڑ رہا تھا۔ جبکہ اب وہ ووکل۔سسٹم پھر سے اب اپنے اگلے مقصد کی طرف آرہا تھا جسکا مقصد “بٹ کوائن” کو مفصل بیان کرتے پاکستان میں دی جانے والی سہولت”پائی کوائن” تھی ۔
“آبشار” وہاں موجود افراد میں سے دو کے کان کے ساتھ اٹیچ ٹرانسپیرنٹ بلوٹوتھ پہ ایک ہلکی سی آواز ابھری تھی ۔اپنی گردن کو ہلکا سا خم دیے وہ وہاں سے کھڑے ہوگئے۔
“یار اگر یہ اتنی ہی میجکل چیز ہے تو ہم یہ جاسوسی والا کام چھوڑ کے ایک بٹ کوائن خرید لیں اور سکون سے انتظار کریں یہ قیمت بڑھی، یہ ہم نے اسے بیچا۔” احمد نے انتہائی پرجوش ہوتے ہوئے کہا جبکہ دوسری جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا تھا ۔
“آبشار کا کیا مطلب ہوسکتا ہے۔”کیپٹن احمد کی ایکسمائٹمنٹ غبارے سے ہوا کی مانند ضائع ہوچکی تھی جب اسکے ساتھی نے اسکی بات پہ کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
“واہ میرے یار دا تاں وکھرا سواگ نی۔” احمد نے بدمزہ ہوتے کہا ۔
“تمہیں پتا ہے یہ کرنسیاں کمپیوٹر پر ریاضی کے پیچیدہ فارمولوں کی مدد سے بنائی جاتی ہے اور اس عمل کو مائننگ کہا جاتا ہے جبکہ اس عمل کے ذریعے بنائی گئی رقم کی نگرانی دنیا بھر میں قائم کمپیوٹر نیٹ ورک کے ذریعے کی جاتی ہے اور اس میں رقم حاصل کرنے والے شخص کو ان کی اصل شناخت کے بجائے کمپیوٹر پر دیے گئے ورچوئل پتے کے ذریعے پہچانا جاتا ہے۔۔۔۔”
اس نے احمد پہ طائرانہ نظر دوڑاتے سامنے لگے بورڈ پہ فوکس کیا کچھ دیر خاموشی کے بعد اس نے اپنی بات کا سلسلہ وہی سے جوڑا۔
“جبکہ یہاں ایسا کچھ نہیں ہورہا اور اگر ہوبھی رہا ہے تو اگینسٹ آف لاء سو ۔”اپنی بات مکمل کرتے سامنے موجود پتھر کو ٹھوکر ماری ۔آج بھی شدید ناکامی کا سامنا تھا جبکہ ابھی ان دونوں کو سیف پلیس پہ جا کے اس آواز کو ڈی کوڈ بھی کرنا تھا ۔
کیپٹن احمد نے ایک نظر اپنے ساتھی پہ ڈالی کچھ دیر بعد اپنے ساتھی کی حرکت دہرائی جبکہ اسکا ساتھی ایک دم رکا تھا۔
“کیا؟” اس نے سوالیہ نظروں سے رکنے کی وجہ دریافت کی تو اسکے ساتھی نے دو قدم واپس لیتے تیسری بار پتھر کو ٹھوکر ماری ۔
“کیس ڈن” فاتحانہ مسکراہٹ لیے خوشی اسکے رو رو سے عیاں تھی ۔
“نا کر یار ،اس بھونڈ(مراسی) کے پاس بہانہ آجائے گا اور اپنی جگ ہنسائی ہوگی کہ۔۔۔”
“ڈونٹ وری کیپٹن احمد اسکا سارا کریڈٹ آپکو جائے گا۔”اس نے مسکراتے ہوئے گویا اسکی عزت رکھی کیونکہ ایک لڑکی کا کیس سولو کرنا یقیناً احمد کو برا لگ رہا تھا۔
اور نگاہ بار بار سڑک پہ پڑے ان پتھروں سے ٹکراتی ایسا کیا تھا ان پتھروں میں جو اسے نظر نہیں آیا اور اسکی ساتھی نے دیکھ لیا ۔
“شور اور شعور میں زیادہ فرق نہیں ہے فرق صرف “ع” کا ہے جو “عقل” ہے۔
اس نے تمسخر سے کہتے احمد کو چڑایا جو اب بھی “آبشار “اور “پتھروں” سے کچھ سمجھ نہیں پایا تھا جبکہ اسکی ساتھی پاکستان میں ڈیجٹل کرنسی کے نام پہ ہونے والے بہت بڑے فراڈ کو سامنے لانے والی تھی۔
مگر اسوقت ان دونوں کو ہی نہیں پتا تھا کہ منزل کے قریب پہنچ کے انہیں واپس لوٹادیا جائے گا۔۔
༻━━━━━⊱༻
آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی
یادوں سے کوئی رات جو خالی نہیں جاتی
اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ پلٹے
اس دل کی مگر خام خیالی نہیں جاتی
مانگے تو اگر جان بھی ہنس کے تجھے دے دیں
تیری تو کوئی بات بھی ٹالی نہیں جاتی
آئے کوئی آ کر یہ ترے درد سنبھالے
ہم سے تو یہ جاگیر سنبھالی نہیں جاتی
معلوم ہمیں بھی ہیں بہت سے ترے قصے
پر بات تری ہم سے اچھالی نہیں جاتی
ہم راہ ترے پھول کھلاتی تھی جو دل میں
اب شام وہی درد سے خالی نہیں جاتی
ہم جان سے جائیں گے تبھی بات بنے گی
تم سے تو کوئی راہ نکالی نہیں جاتی ……..
آسمان پہ چھائی گھنگور گھٹا نے ایک عجیب سی پراسرایت جگا رکھی تھی ۔ ایسے جیسے کوئی بہت بڑا طوفان آنے کو ہے۔دن کے بارہ بجے بھی رات کا سماں تھا ایسے میں وہ بے چینی سے بستر پہ پہلو پہ پہلو بدل رہی تھی مگر دل کی بے چینی تھی کہ حد سوا۔
دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز محسوس ہوئی مگر اس پہ توجہ کہاں تھی ذہن کے ہر گوشے میں واسق کے گھر ہوئے ناخوشگوار واقع کی چھاپ تھی۔
کس طرح اس شخص نے ہمیشہ کی طرح اسکی محبت کو پیروں میں روندے ہمدردی کا نام دیا تھا۔
وہ شخص جس نے آگے بڑھتے اسے محبت کی “م” سے صرف میرا رہنا سکھایا تھا وہی شخص “حاصل” ہوتے ہی “بدظن” ہوا مگر انوشے نے محبت کے آخری حرف “تقدیر” پہ بھروسہ رکھے اس شخص کا ہر ظلم ،ہر رویہ سہا اور ملا بھی تو کیا ہمیشہ کی طرح نارسائی کا دکھ۔
کوئی دھیمی چال چلتے اسکے سرہانے آ ٹہرا تھا۔
“انوشے” آنے والے کی آواز پہ حیران ہوتی وہ سیدھی ہو بیٹھی۔
“بابا آپ!” آواز میں تحیر نمایاں تھا۔یقیناً یہ جگہ کرنل ضیاء کے شایان شان نہ تھی مگر انکا یہاں آنا کچھ ایسا بھی انوکھا نہ تھا اگر وہ ایک سرونٹ کواٹر آئے تھے تو صرف اسکیلئے مگر اگر کچھ انوکھا تھا تو اسکی یہاں موجودگی کی خبر ان تک کیسے پہنچی۔
“کیسی ہو۔” ایک دم ہلکا پھلکا انداز انوشے کی آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگے تھے انہوں نے آگے بڑھتے اسے اپنے ساتھ لگایا۔
“مجھے معاف کردو بیٹا ۔تمہارے ان دکھوں کی وجہ کہیں نا کہیں تمہارا باپ بھی ہے ۔”
ایک آنسو انکی آنکھوں سے نکلتے انوشے کے بالوں میں جزب ہوگیا جبکہ اسکی بھی ہچکی بندھی تھی۔
“اپنے باپ کو اس قابل بھی نہیں سمجھا کہ اسکے پاس ہی آجاتی اتنی بدگمانی۔” اسکے ماتھے پہ بوسہ دیتے انہوں نے شکوہ کیا جبکہ اس نے نفی میں سرہلاتے انکے دونوں ہاتھ اپنے لبوں سے لگا لیا۔
“بابا بیٹیاں کہاں ماں باپ سے بدگمان ہوتیں ،ان سے بڑھ کے تو کوئی ٹھنڈی چھاؤِں ہے نہیں مگر کہیں نا کہیں یہ دکھ ضرور رلاتا ہے کہ میرے اپنوں نے مجھ پہ اعتبار نہیں کیا۔”انوشے نے ناچاہتے ہوئے بھی گلہ کیا۔
“میں تو آپکی اچھی بیٹی تھی نا بابا پھر کیوں نہیں بھروسہ کیا اور ایمان۔۔” آنسو نے اسکی بات مکمل ہی نہ ہونے دی ۔
“گھر چلو انوشے کرنل ضیاء کی بیٹی کا یوں سرونٹ کواٹر میں رہنا زیب نہیں دیتا ۔” اسکی باتوں کو حذف کیے انہوں نے اپنے آنے کی وجہ بیان کی۔
“نہیں بابا میں اسے چھوڑ کے نہیں جاسکتی ،میں جانتی ہوں اسے میرے بارے بہت غلط فہمیاں ہیں مگر میں چلی گئی تو وہ بلکل تنہا پڑجائے گا۔” انوشے نے انکی پیش کش مسترد کیا ۔
“وہ اس قابل ہے ہی نہیں کہ ہماری بیٹی اسکیلئے اتنا کچھ سہے وہ خودترسی کاشکار شخص تمہیں کبھی خوش نہیں رکھ سکتا۔” ضیاء صاحب کے تیور روحان کیلئے بدلے دیکھ انوشے کا دل کچھ غلط ہونے کا احساس کرنے لگا تھا۔وہ جو اسکے بابا کا آل ٹائم فیورٹ سٹوڈنٹ رہا تھا اتنے اہم رشتے میں جڑنے کے بعد یقیناً وہ انکیلئے بہت اہم تھا پر اب ایسا کیا ہوا؟ ضیاء صاحب نے اسکی آنکھوں میں تیرتی الجھن کو بغوبی دیکھا۔
“انوشے وہ شخص ایک سراب ہے جسکے پیچھے بھاگنے کا کوئی فائدہ نہیں کیا ہی اچھا ہو اگر ہم اپنی بیٹی کیلئے ایک خوشیوں بھری زندگی کا انتخاب کریں۔”
کرنل ضیاء کی بات نے اسکے جسم میں کرنٹ دوڑایا ۔
یہ تقدیر پھر اس سے کیا جھول کرنے لگی تھی۔اتنے مہینے وہ اس شخص کی خاطر ماں باپ کیلئے اجنبی ہوکے رہ گئی تھی اور اب پھر سے وہ ماں باپ کیلئے اسی شخص سے الگ کی جارہی تھی۔ایسا تو اس نے کبھی سوچا ہی نہ تھا۔
وہ ادھورا شخص اسکی مکمل خواہش تھا جو کبھی پورا اسے میسر ہوا ہی نہیں۔
“یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ بابا ایسا ممکن نہیں ہے ۔اور جہاں تک رہا سوال میرے یہاں رہنے کا میں اس گھر اور روحان کو چھوڑ کے کہیں نہیں جارہی ناراض ہے ،روٹھا ہے غلط فہمی کا شکار ہے کوئی مسئلہ نہیں میرے سامنے تو ہے میں اسے دیکھ تو سکتی ہوں اور۔۔”
“آخر کب تک انوشے؟کب تک تم اس شخص کیلئے اکیلی ہی کھڑی رہو گی ۔یہ ایسا رشتہ ہے میری جان جو ایک شخص کی من مرضی پہ نہیں چل سکتا ،شادی ایک ایسا معاہدہ ہے جو دونوں افراد کی مرضی سے نبھایا جاسکتا جبکہ اس رشتے کو شروع سے اب تک اکیلے نبھانے والی تم واحد ہو انوشے روحان کو یہ رشتہ نہیں چاہیئے بلکہ یہ کہنا مناسب رہے گا کہ اسے تم نہیں چاہیے۔”
ضیاء صاحب کے الفاظ اسکیلئے پگھلا ہوا سیسہ ثابت ہورہے تھے مگر وہ بنا توقف اپنی سنا رہے تھے۔
انوشے کو دکھ ہورہا تھا اگر اس شخص نے اب تک انوشے سے لاپروائی برتی تھی تو محبتوں کے علمبردار تو اسکے گھر والے بھی نہیں رہے تھے ۔
“آئی ایم سوری بابا آپ اپنی بیٹی کو سمجھ ہی نہیں سکے مجھے اب تک دکھ تھا کہ آپ لوگ میرے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے مگر اب صرف یہ خوشی ہے کہ میں اکیلی ہی اپنی جنگ لڑ سکتی ہوں۔میں جانتی ہوں وہ مجھ سے بے پناہ محبت کرتا ہے ،روٹھا ہے حوصلہ شکن حادثوں کی وجہ سے اسے خود بھی نہیں پتا وہ کیا کررہا ہے۔” اپنی آواز سے کو ہر تاثر سے عاری کیے اس نے آہستگی اپنا ہاتھ انکے ہاتھ سے چھڑوا لیا تھا وہ آج بھی اسکی وکالت میں ٹہری تھی۔انکی آنکھوں میں بھی انوشے کے اس فیصلے نے کچھ دیر عجیب سا تاثر رکھا مگر وہ مزید کچھ بولے وہاں سے چلے گئے۔
“محبت اچھائیوں اور برائوں کو ماپنے والے پیمانے سے پاک ہوتی،محبت میں خوش رہنے کی کوئی شرط لازم نہیں اور نا ہی محبت سودزیاں کا حساب دیکھتی بابا میں آپ لوگوں کو کیسے سمجھاؤں “
خالی نظروں سے دروازے کق دیکھتی وہ تصور میں ان دونوں سے ہی مخاطب تھی۔چہرے پہ ایک کرب سا طاری تھا ایک اور نیا دکھ اپنے باپ کو دھتکارنے کا ۔نجانے اس نے ابھی اپنوں کو کتنے زخم دینے تھے اور ابھی سہنے تھے۔
༻━━━━━⊱༻
“واٹ دا ہیل معروش ،کیا ہے یہ ایسے کیسے ریزائن کرسکتی ہو تم۔” ارتضٰی نے اسکے سامنے ریزائن لیٹر رکھا وہ جو انتہائی انہماک سے اپنے کام میں مصروف تھی ۔اسکی اچانک آمد سے سہمی مگر پھر نارمل ہوتے مکمل اگنور کیا۔
“بس میں یوں باؤنڈ ہوکے کام نہیں کرسکتی۔”بے نیازی سے کہتے کندھے اچکائے۔اسکا جواب سنتے ارتضٰی نے تاسف سے اسے دیکھا جیسے اسکے ذہنی خلل کا خدشہ ہوا ہو۔
“آپ بھول رہی ہیں محترمہ کہ جب آپ ایک فورس جوائن کرلیتے آپکے ہرقدم کا حساب لیا جاتا ہے ۔بغیر رول فالو کیے آپ انکےمنہ پہ اپنا استعفٰی دے مارو واٹ ربش یار تم سے مجھے اتنی ایروگینس کی توقع نہیں تھی۔”
لیپٹ ٹاپ سکرین کو فولڈ کرتے اسکی چئیر کے دونوں اطراف اپنے ہاتھ رکھے ۔معروش حیات مکمل طور پہ اسکی سحر کن ہستی کے آگے چھپ سی گئی۔
اسکے کالون کی خوشبو معروش حیات کو ڈسٹرب کرنے لگی تھی۔
“مجھے جو مناسب لگا میں نے کیا ۔” اسکے سینے پہ دونوں ہاتھ رکھے پیچھے پش کیا مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔
“ایسے ہی دور دھکیلنا آسان تھوڑی ہوتا ،ہم بات کرسکتے ہیں اس موضوع پہ۔”ارتضٰی کے سر پھر سے اسے منانے کی ذمداری ٹہری تھی مگر اپنے رشتے اور فرض کے درمیان وہ پنڈولم بن رہا تھا۔اسے بچانے کی خاطر ایک مضبوط پناہ گاہ ڈھونڈی تھی مگر اسے ہی راس نہیں آرہی تھی جبکہ وہ زبردستی اسکے دماغ میں یہ سب کچھ گھسا نہیں سکتا تھا۔
“کیا میں اپنی مرضی سے نہیں جی سکتی میرو۔” معروش کی تیوری پہ بل پڑے ۔اسطرح اسکا میرو بولنا اس بات کی نشاندہی کررہا تھا کہ وہ اسکے مسائل سے دور رہے مگر وہ اسے چھوڑ ہی تو نہیں سکتا تھا۔
“جانتی ہو اسکا نقصان کیا ہوگا۔”
اسے پھر سے قائل کرنا چاہا۔
“کسی ایک آفیسر نے کریپٹو کوئین کا سچ سامنے لارکھا تو ،معروش کوئی شعبہ کوئی فرد واحد اس چیز سے تمہیں نہیں نکال سکے گا پلیز انڈرسٹینڈ اٹ۔”
ارتضٰی کے لہجے میں کئی خدشات بول رہے تھے۔ جن میں اسے کھونے کا احساس حاوی تھا۔
“یہی سب کچھ تو میں چاہتی ہوں ارتضٰی ،میں سانس لینا چاہتی ہوں آزادی سے میں اس عارضی حصار کو توڑنا چاہتی ہوں ۔کھل کے جینا چاہتی ہوں یہ بار بار ان لوگوں کے احسانات میرے اندر ایک خوف کو جنم دینے لگے ہیں”
وہ بات جو اب تک چٹکیوں میں اڑا رہی تھی چہرے کے تاثرات سنجیدگی اختیار کرنے لگے تھے۔
“اسکے بعد کیا ہوگا معروش حیات میں نہیں جانتا مگر بعض دفعہ مصلحت کی راہ اختیار کرتے آپکو حالات سے سمجھوتہ کرنا ہی پڑتا ہے جبکہ مختیار صاحب کا یہ پروجیکٹ انکیلئے بہت اہمیت کا حامل ہے تم اسے یوں بیچ راہ چھوڑ کے بہت سے نئے مسائل کو جنم دے رہی ہو۔”
ارتضٰی جانتا تھا کہ اس لڑکی سے جیتنا اسکے بس کی بات نہیں تھی۔سو اسے آنے والے حالات پہ ہی چھوڑ دیا۔
“اگر تم نے اپنا فیصلہ نہیں بدلہ تو بہت کچھ ایسا ہوسکتا جو تم سوچ بھی نہیں سکتی۔”
اس سے دور ہٹتے آنے والے امتحانات سے روشناس کروانا چاہا۔
༻━━━━━⊱༻
کمرے میں چھایا موت کا سناٹا اور مدھم سسکیاں وہاں پہ موجود افراد پہ کوئی اثر نہیں دکھا رہی تھیں یا تو پھر وہ سب بے حس تھے یا انہیں اس رونے والے سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا ۔
مگر ایک انسان ایسا بھی تھا جس پہ اسکی سسکیاں اثر کررہی تھیں اور وہ تھیں ڈاکٹر حسیبہ جنکا دل فرشتے کی داستان سنتے خون کے آنسوؤں رو رہا تھا جبکہ روحان ضبط سے مٹھیاں بھینچے اسے دیکھ رہا تھا جو آج اسے مکمل نظر انداز کیے بیٹھی تھی۔
جہاں آج سب فرشتے اور انوشے کی حددرجہ مماثلت حتی کہ آواز تک کو دیکھتے خدا کی اس تخلیق پہ حیران تھے وہیں ان سب کی زندگیوں سے جڑا اسکا سیاہ پہلو سب کو اس سے متنفر کررہا تھا۔
وہ اپنی بہن کی خوشیوں کی قاتل ہونے کے ساتھ شموئیل کی بھی قاتل تھی۔وسام کا ہاتھ واسق کے ہاتھ میں دبا تھا جہاں پہ آج بھی کچھ کھوجانے کے سائے منڈلا رہے تھے ۔ کٹہرے میں موجود ابرق کا چہرہ اسے واسق کے پہلو میں دیکھتےسرخ پڑ رہا تھا۔
فوجی عدالت میں اسوقت ایک کرنل کی بیٹی بھی مجرم کی سی حثیت میں موجود تھی مگر انہیں کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا کیونکہ جس فرقے سے انکا تعلق تھا وہاں وطن کی وفاداری کسی بھی رشتے سے افضل تھی۔
“میں اپنا مجرم کسے گردانوں؟ کیا ایک فوجی آفیسر کی بیٹی ہونا جرم تھا جو وطن کی ڈور سنبھالنے کی قسم کھاتے اپنی فیملی کی حفاظت بھول گیا یا پھر انہیں جنہوں نے سانسیں دان کرتے میری زندگی کو کال کوٹھڑی میں لاٹہرایا” فرشتے نے سوالیہ نظریں ضیاء صاحب پہ گاڑیں حسیبہ کی نظر بھی انکی طرف اٹھی تھی۔جبکہ اپنی بات مکمل کرتے اس نے نفرت بھری نگاہ ابرق پہ ڈالی۔
“ان خوشیوں پہ کیا میرا کوئی حق نہیں جو وسام اور انوشے کے حصے میں آئی ہیں ۔میں ہی کیوں ہمیشہ قربانی دوں؟” زاروقطار روتے وہ کٹہرے کے اندر دوزانوں بیٹھی تھی ۔حسیبہ کا دل مرجھایا انکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ آگے بڑھتے اسے اپنی آغوش میں سمیٹ لیتیں۔
ماحول میں چھائی کثافت کو دیکھتے عدالت کی کاروائی کو اگلے دنوں پہ ڈال دیا گیا ۔
وسام سہمے بچے کی طرح واسق سے لپٹی ٹہری تھی انوشے نے اپنے دونوں ہاتھ ماں کے گرد پھیلائے انکی سونی گود کو اپنے ہونے کا احساس دلانا چاہا مگر وہ جو بیٹی کے مرنے پے صبر کرچکی تھیں آج اسے ان حالوں میں دیکھتے تڑپ سی گئی تھیں۔
༻━━━━━⊱༻
“اٹس سیڈ نا جو کچھ بھی انوشے اور فرشتے کے ساتھ ہوا ہے۔” معروش اس تمام کاروائی میں نہیں تھی مگر ارتضٰی سے وہاں کی صورتحال جانتے کچھ افسردہ سی ہوئی۔
“کیا کہہ سکتے ہیں یار یہ دنیا ہے اور یہاں بہت کچھ ہوتا ہے۔”ارتضٰی نے پیشانی مسلتے اپنی رائے پیش کی جبکہ معروش کو اسکے انداز کچھ پریشان سے لگے مگر اسے زیادہ چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا تھا ۔سب کیلئے ہی یہ سچویشن کچھ عجیب سی تھی جبکہ ان لوگوں کا پروفیشن ایسا تھا کہ وہ اپنے مشن اور پلان بھی ایک دوسرے سے کھل کے بیان نہیں کرسکتے تھے اگر وہ اسکا حصّہ نہیں تھے تو۔
“ایک بات کہوں اگر برا نہیں مانو یا یوں سمجھ لو ایک صلاح دوں ہم دونوں کے فائدے میں رہے گی۔” ارتضٰی کی سپاٹ آواز پہ کی بورڈ پہ حرکت کرتی اسکی انگلیاں تھم سی گئیں۔ان دونوں کے درمیان ایسی کوئی اجنبیت کی دیوار حائل نہ تھی کہ وہ ایک دوسرے سے بات کرنے کیلئے اجازت لیتے۔
معروش کو اسکی طبیعت واقع گڑبڑ لگی تبھی اپنا کام پس پشت ڈالے وہ اسکے برابر میں بیٹھی۔
“کیا ہوا ارتضٰی کچھ ہوا ہے کیا!تمہیں کب سے میری اجازت کی ضرورت پڑگئی۔” اسکی پیشانی پہ بکھرے بالوں کو چیھڑتے اپنی مخروطی انگلیاں اسکے بالوں میں پھنسائیں مگر ارتضٰی نے انتہائی نفاست سے اسکا ہاتھ پیچھے کرتے اسکے اور اپنے درمیان فاصلہ پیدا کیا۔
معروش کیلئے یہ احساس کہ ارتضٰی نے اسے دھتکارا ہے کسی شاک سے کم نہ تھا۔مگر وہ چپ رہی۔
“میں جو بات آپ سے کرنے جارہا ہوں پلیز اسے دھیان سے سنیے گا اور سوچیے گا اس میں ہم دونوں کا ہی بھلا ہے۔۔۔” ارتضٰی نے گویا اپنی حرکت کی وضاحت دینا چاہی تھی۔
جبکہ وہ بنا کچھ بولے اسے سن رہی تھی۔
“میں چاہتا ہوں کہ ہم یہ رشتہ ،میرا مطلب ہے کہ ہم دونوں مزید ایک ساتھ نہیں چل سکتے اسیلئے بہتر ہے کہ ہم اسے یہی ختم کردیں لیٹس موو آن معروش حیات۔”
انتہائی میانہ روی سے کہتے اس نے معروش کے سر پہ دھماکہ کیا جہاں اسکی ذات کے کئی پرخچے اڑے تھے۔
“یہ یہ کیا مذاق ہے ارتضٰی کیا تم مجھے روحان سمجھ رہے؟کیا تم بھی احمد اور انوشے کی طرح۔۔”
“نہیں ایسا کچھ نہیں ہے نا ہی تو میں کسی پریشر میں ہوں نا کچھ اور آئی۔جسٹ وانٹ ٹو سے آئی کانٹ ٹیک دس ریلشن فار آ لانگ جرنی۔ ہم یہ نہیں بھول سکتے کہ یہ ایک کنٹریکٹ میرج سے زیادہ کچھ نہیں ہاں جزبات میں آکے کچھ حدود اوور لمٹ ہوئیں جسکیلئے میں آپ سے معذرت کرتا ہوں سوری وی شڈ سٹاپ ہیئر۔”
ماتھے کو مسلتے اس نے اپنی بات مکمل کی اور بنا اسکی طرف دیکھے کمرے سے نکل گیا ۔
کتنی دیر وہ اسکے الفاظ کو سمجھتی رہی اور جب سمجھ آیا تو کچھ بھی نہ تھا ہر طرف دھواں دھواں سا تھا سب کچھ جو وہاں موجود ہر ایک چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا۔معروش اسکے پیچھے جانا چاہتی تھی کیا اتنا آسان تھا ایک جائز رشتے کی حدود قیود کو جزبات کی رو میں بہہ جانا کہہ کے جان چھڑوا لینا ؟ابھی تو اس نے زندگی کی خوبصورتی کو محسوس کرنا شروع کیا تھا اور یہ سب ؟
آنکھیں آنسوؤں سے سیراب ہونے لگی تھیں مگر اس پہ تو اپنے ٹھکرائے جانے کی ہتک کا جنون سوار تھا اور کچھ دیر بعد وہ پھر سے حیات ولا کی حدود سے نکلتی گئی۔
“آئی ۔ہیو ڈن ۔”اسے بیرونی دروازے کی سمت بڑھتے دیکھ ارتضٰی نے بھاری دل سے کہتے الوداعی نگاہ اس پہ ڈالی اور کھڑکی پہ کرٹن گرا دیے۔باہر بادلوں کی گرج چمک شروع ہوچکی اور اسکے دل پہ ایک بھاری سِل آن پڑی تھی۔کانوں میں کچھ آوازوں کا شور تھا۔
“میں نہیں مان سکتا سر آپ لوگوں کو کوئی بہت بڑی غلط فہمی ہوئی ہے۔” ارتضٰی کا بس نہیں چل رہا تھا وہاں موجود افسران کو گولی سے اڑا دے بھلا معروش کی ایمانداری پہ بھی کوئی شک کرسکتا تھا ۔
اٹس ہینڈرڈ پرسینٹ پرووڈ مائی سن۔” یہ وہ آواز تھی جس پہ انہوں نے ہیمشہ لبیک بولا تھا ۔
“معروش نے ہمیشہ اپنے پروجیکٹ کا ایک نا ایک ایسا بیک اپ رکھا ہے جسکی ڈور اس نے اپنے ہاتھ میں رکھی۔جب اس مشن میں ہر چیز کلئیر ہے تو اسے کس بات کا ڈر ہے؟کیا ہم نہیں یہ سوچ سکتے کہ وہ ہمیں ہی دھوکا دے رہی ہے۔”مختیار سر کی بات پہ وہ بھونچکا رہ گیا تھا مگر انکی اگلی بات نے اسکے پیروں تلے سے زمین سرکائی تھی اور وہ تھی محبت کی قربانی اپنے عشق کی داستان کو ادھورا چھوڑنے کی کہانی کیونکہ ایک وفادار کا ایک غدار سے کوئی رشتہ نہیں رہتا انسانیت کا بھی۔
اور اب وہ قدم قدم دور ہوتی اپنی زندگی کو موسم اور دنیا کی سختیاں جھیلنے کیلئے تنہا چھوڑ رہا تھا وہ بزدل نہیں تھا مگر اسکا فرض سامنے تھا اگر کرنل ضیاء جیسا شخص اپنی بیٹی کو تختہ دار پہ لٹکانے کو تیار تھا تو اسے بھی اپنی محبت کی قربانی دینی تھی کیونکہ کچھ کہانیاں ادھوری رہ کے ہی امر ہوتی ہیں۔
وہ جانتی تھی کہ وہ اسکے گھر سے نکلتے قدموں کو باخوبی دیکھ رہا تھا مگر روکا نہیں کیوں؟اس بات کا جواب اسے معلوم کرنا تھا ہارنا اس نے سیکھا ہی نہیں تھا اور اپنی اس ہتک کا بدلہ تو وہ کیپٹن ارتضٰی سے لینے والی تھی۔
میں نے وہ کھویا جو میرا کبھی تھا ہی نہیں
مگر اُس نے وہ کھویا جو صرف اُس کا تھا۔۔۔
༻━━━━━⊱༻
گھر میں ایک طوفان سا برپا تھا نجانے کس بات پہ اسکا مزاج اتنا گرم تھا تبھی وہ دبکی سی ایک کونے میں بیٹھی تھی اور باہر تمام نوکر ایک لائن میں ٹہرے تھے جہاں وہ فرداً فرداً سب کو ہی کچھ نا کچھ سنائے جارہا تھا۔وجہ ملک شیک پینے کے بعد وسام کا وومنٹ کرنا تو جو بقول واسق نوکروں کی لاپرواہی کی وجہ سے تھا جو انہوں نے اسے باسی دودھ کا شیک پلایا تھا۔
“صاحب وسام بیبی نے ہی ضد کی تھی جبکہ ہم نے منع بھی کیا تھا ۔”ایک درمیانی عمر کی خانساماں نے زبان کھولی اور وہیں وسام کے نام کی پکار شروع ہوئی ۔
“وسو میں کہہ رہا ہوں اٹس یور لاسٹ چانس اگر ابھی کے ابھی سامنے نہ آئیں تو بہت برا پیش آنے والا ہوں میں آپکے ساتھ۔”واسق نے کھلے الفاظ میں دھمکی دی ۔وسام کو لگ رہا تھا وہ ابھی بے ہوش ہوجائے گی اگر واسق نے مزید اپنی گوہر فشانی جاری رکھی۔وہ بند آنکھوں سے کلمے کا ورد جاری رکھے ہوئے تھی جب کتنی دیر گزرنے کے باوجود بھی کوئی آواز نہ آئی تو دھیرے سے آنکھیں کھولیں اور منی ہارٹ اٹیک ہوتے ہوتے رہ گیا جہاں وہ سامنے بیٹھا اپنی سرخ آنکھوں سے اسے گھور رہا تھا۔
“منع کیا تھا نا کچھ بھی ایسا نہیں لینا جو ڈاکٹرز نے منع کیا ہے کیا چاہ رہی ہیں آپ۔”انتہائی سختی سے کہتے اسے اپنے برابر میں کھڑا کیا۔ موسم کی تبدیلی نے اس پہ اپنا خوب اثر دکھایا تھا مگر وہ احتیاط علاج دونوں سے الگ چل رہی تھی۔
“سوری صاحب ہمیں اور کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔”منہ بسورتے اس نے نظریں اپنے پیروں پہ جمائیں ۔واسق کا غصہ اسکی اٹھتی جھکتی پلکوں میں ہی کہیں دب گیا تھا۔
ہاتھ بڑھائے اسے اپنے قریب کیا اور اپنا محبوب مشغلہ اپنائے اسکے رخسار کے نشان پہ اپنے لب جمائے۔
وسام نے رکی سانس بحال کی واسق کا یہ عمل بتا رہاتھا کہ وہ اپنا غصہ ہمیشہ کی طرح اسکے سامنے ہارچکا تھا۔
“کیا کوئی اتنا پیارا ہوسکتا وسام جتنی آپ مجھے لگتیں۔”الجھے لہجے میں کہتے اپنے اندر کی الجھن سلجھانی چاہی۔
وسام نے ہلکا سا مسکراتے زورو شور سے اثبات میں سر ہلایا تو واسق متجسس سا اسکا چہرہ تکنے لگا۔
” صاحب آپ ” یک لفظی جواب واسق کو کھلکھلانے پہ مجبور کرگیا جبکہ وہ اپنی اس بے ساختگی پہ شرماتے سرجھکا گئی۔
“میں سوچ رہا ہوں کیوں نا آپکا ایڈمیشن کروادوں تاکہ آپ کا وقت اچھا گزر سکے۔”اسے اپنے بازو کے حلقے میں لیے بستر پہ بٹھایا جبکہ خود اسکے قدموں میں پھکسڑی مارے بیٹھا تھا۔
ایسا لگ رہا تھا وہ اسے باتوں سے بہلاتے کچھ کہنا چاہ رہا تھا۔
“صاحب آپ اوپر بیٹھ جائیں۔”وسام خجل ہوتی کھڑی ہوئی تھی مگر واسق نے اسکے گھٹنوں پہ اپنے ہاتھ سختی سے جمائے وہ اسے بے بس نظروں سے دیکھنے لگی۔
“وسو اب میں جو بات کہنے لگا ہوں یقیناً اسکو سننے کیلئے آپکو حوصلہ بلند رکھنا ہوگا۔”واسق کا انداز ایک دم سے سنجیدہ ہوا ۔وسام کی دھڑکنیں اسکی گھیمبر آواز پہ تیز ہوئیں نجانے اب کیا بولنے لگا تھا وہ۔
“ابرق میرا مطلب ہے تمہارے بابا کو فوجی عدالت نے سزائے موت سنادی ہے جبکہ۔۔”واسق نے بات ادھوری چھوڑے اسکے تاثرات جاننے چاہے جہاں صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کو تھا۔
“سزائے موت۔۔”ایک مدھم سی سرگوشی ہوئی تھی وسام کے لبوں سے۔واسق نے انتہائی نرمی سے اسکے ہاتھ کو اپنی گرفت میں لیا۔
وہ جانتا تھا کہ جتنا ظالم سہی مگر اسکیلئے تو باپ تھا بیشک اسکا نامہ اعمال وسام کیلئے قابل شرمندہ تھا مگر وہ اپنی رگوں میں بہتے اس خون کا قرض نہیں اتار سکتی تھی۔
“وسام”واسق نے اسے اپنے ساتھ ہونے کا بھرپور احساس دلانا چاہا تھا پر وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے رونے لگی تھی۔واسق کی تو جان پہ بنی مگر وہ اسے روکنا بھی نہیں چاہتا تھا شاید اسیلئے کہ وہ رو کے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرلے۔
༻━━━━━⊱༻
اگرچے فرشتے کا کوئی قصور نہ تھا جو کچھ بھی اسکے ساتھ ہوا مگر عدالتیں جزبات اور رشتوں کی مڈبھیڑ سے بالاتر ہوتیں اور اسے ابرق کے ہر گناہ کا برابر کا جرم دار ٹہرایا گیا تھا اور عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔
ڈاکٹر حسیبہ اپنی دونوں بیٹیوں کی زندگی کا سوچتیں تو کڑھ کے رہ جاتیں جنکے نصیب بھی انکی ماں جیسے ہی تھے دونوں کی زندگی لاحاصل انتظار پہ تھی ۔
ایک کو جیل کی تنہائیوں میں زندگی کے دن پورے کرنے تھے تو انوشے کو ہر پل روحان کی طرف سے کسی معجزے کا انتظا تھا۔
مگر انہوں نے انوشے کیلئے روحان کے آگے کوئی بات نہیں کی ۔دن اسی خاموشی سے گزر رہے تھے جب روحان کے لیے گئے اچانک فیصلے نے انہیں بے یقین کیا۔
“کیا تم سچ کہہ رہے ہو بیٹا۔”
فرط جزبات سے انکی آنکھیں چھلکیں۔
“جی میں تھراپی سیکشنز کیلئے تیار ہوں” کہیں روحان نے اپنی اس آدم بیزار زندگی میں ایک نئی امید جگائی تو اسکے فیصلے نے سب کو خوش کردیا تھا۔
پاکستان سے انگلینڈ کی طرف رخصت ہوتے ایک بے چینی سی تھی ایک امید سی کہ وہ اس سے ملنے ضرور آئے گی۔اس نے ہمیشہ انوشے کی اپنے لیے بے تحاشا محبت دیکھی تھی اسکی بے رخی نے کیپٹن روحان کو اسکا صحیح قدردان بنادیا تھا ۔
ڈاکٹر حسیبہ اسکیلئے ایک مضبوط سہارا ثابت ہورہی تھیں مگر اپنے قدموں پہ چلنے کی چاہت نے اسے اس رسک کو لینے کیلئے تیار کیا تھا ڈاکٹروں کے مطابق تھرٹی پرسینٹ چانسسز تھے کہ وہ دوبارہ سے چلنے پھرنے لگے گا۔
“ہمیں اپنا وہ روحان واپس چاۂیے جو اس ٹیٹرا اینگل کی جان تھا ۔ہمت نہیں ہارنی روحان ہم لوگ بہت جلد وہاں پہنچنے کی کوشش کریں گے۔” واسق نے اسے گلے لگایا تھا ۔ارتضٰی اور احمد نے بھی ان دونوں کے گرد اپنے مضبوط بازو سہارے۔
کرنل ضیاء اور ڈی۔جی مختیار نے بھی ایک افسردہ نگاہ ان لوگوں پہ ڈالی ۔
“مائی نے میرے لیے لڑکی ڈھونڈ لی ہے اور تمہارے بغیر میں نے شادی سے کھلم کھلا انکار کردیا ہے۔” احمد کی سرگوشی ان تینوں نے بخوبی سنی تھی۔روحان کی آنکھیں چھلکیں۔دونوں ہاتھ اسکی طرف بڑھائے معافی کے انداز میں جوڑنے چاہے تھے مگر احمد نے اسکا مقصد جاننتے اسکے ہاتھوں کو پکڑتے ان پہ عقیدت بھرے لب رکھ دیے ۔
“توں ہمارا شیرہے ،جنگ کے میدان کا غازی۔”مختیار صاحب نے بھی آگے بڑھتے اسکا شانہ تھپ تھپایا ۔کرنل ضیاء نے گلے لگایا تو حسیبہ اور وہ دونوں ہی اپنے جزبات پہ قابو نہیں پاسکے تھے۔
“آئی۔ایم۔رئیلی سوری سر۔۔”روحان کا مختصر جملہ اپنے اندر کتنے درد چھپائے ہوئے تھا وہاں موجود ہر شخص جانتا تھا۔
“باپ ہوں نا کمزور پڑگیا تھا اینگری ینگ مین ایک ہم ہی نہیں وہ بھی تمہارا انتظار کرے گی۔” ضیاء صاحب کے دلاسے نے روحان کو کوئی ڈہارس نہیں بندھائی تھی۔انکی آخری ملاقات میں وہ دل توڑنے کی حد تک سخت ہوا تھا اگر وہ اسکی شکل نہ بھی دیکھتی تو چل جاتا۔
اناؤسنمٹ جاری تھی آگے کی طرف بڑھتے اس نے ایک امید بھری نظر کوریڈور میں ڈالی مگر نظریں مایوس لوٹ آئیں۔
ایک نئی زندگی کی امید لیے وہ آخری رہداری بھی پار کر گیا تھا۔
پلر کی اوٹ سے نکلتے انوشے نے اسے دیکھتے دعائیہ کلمات پڑھے چلو کسی چیز نے تو روحان کے جمود کو توڑا انوشے کی جدائی سہی۔کتنی دیر وہ برستی آنکھوں سے اسے اپنی نظروں سے اوجھل ہوتا دیکھتی رہی۔
مری تھم تھم جاوے سانس پیا
مری آنکھ کو ساون راس پیا۔۔
تجھے سن سن دل میں ہوک اٹھے
ترا لہجہ بہت اداس پیا ۔۔
ترے پیر کی خاک بنا ڈالوں
مرے تن پر جتنا ماس پیا
تُو ظاہر بھی، تُو باطن بھی
ترا ہر جانب احساس پیا
تری نگری کتنی دور سجن
مری جندڑی بہت اداس پیا
مجھے سارے درد قبول سجن
مجھے تیری ہستی راس پیا ۔۔۔۔۔
