Sayah Kaar by Uzma Mujahid NovelR50609 Sayah Kaar (Episode 23)
Rate this Novel
Sayah Kaar (Episode 23)
Sayah Kaar by Uzma Mujahid
واسق کو اس سے یہ امید نہیں تھی ۔وسام بھی ہوش میں آئی ۔وہ واسق پہ ہاتھ اٹھاتے شدید غلطی کرچکی جو بھی تھا وہ اسکا شوہر تھا ۔
“سنا ہے محبوب جفا کار ہوتا ہے پر یہ بھی سچ ہے کہ وہ “عشق” کبھی کامل نہیں ہوتا جہاں” عاشق” پر ظلم وستم کرنے والا اسکا” جان عزیز” نہ ہو ۔ہمارے لیئے یہ ظلم وستم اور “جفا محبوب “کی طرف سے کی جانے والی ایک عنایت سہی اف تک لبوں سے نہ سنیں گی آپ۔”
اسکے اتنے سخت رویے کے باوجود واسق کی دھیمی سروں میں گنگناتی آواز اسے سر تاپیر شرمندہ کرگئی تھی۔
“ہم معافی۔۔”وسام نے آنسو ضبط کرتے جھکا سر اٹھاتے بولنا چاہا تھا جب واسق نے اپنے لبوں پہ انگلی رکھتے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا ۔۔۔۔۔
واسق کے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ آٹہری جبکہ اسکے زبان سے نکلنے والے الفاظ نے وسام کا رہا سہا حوصلہ بھی توڑ دیا۔
کافی دیر سسکنے کے بعد اس نے خاموشی کو توڑا۔
“ہم آپ سے نفرت نہیں کرنا چاہتے پر ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ آپ ہم سے محبت کریں ۔کل کو جب آپکو ہماری اصلیت پتا چلے گی آپکو ہم سے نفرت ہوجائے گی۔”
وسام نے بنا اسکی طرف دیکھے آنسوؤں اور ہچکیوِں میں اپنی بات مکمل کرتے سر اٹھایا جب دل دھک سا رہ گیا۔
وہ تو کہیں تھا ہی نہیں نجانے کب وہ اسے ایسے روتا چھوڑے جاچکا تھا۔اس نے وسام کو سننا بھی پسند نہیں کیا اسکے رونے میں مزید روانی پیدا ہوئی تھی۔
کتنے دن وہ اسکا سامنا کرنے سے کتراتی رہی واسق بھی اسکے انداز سے چھلکتی شرمندگی دیکھ چکا تھا۔
آج پھر ایک ہفتے بعد وہ ٹیبل پہ آمنے سامنے بیٹھے تھے ۔
“ہمیں آپ سے بات کرنی ہے۔” وسام نے ہمت مجتمع کیے لب کشائی کی ۔جبکہ اس نے مکمل اگنور کیا تھا۔پہلے کی نسبت اب وہ اتنا لمبا گھونگٹ نہیں نکالتی جبکہ چادر ہروقت ہی اسکے گرد لپٹی رہتی تھی۔
اسے مکمل اگنور کرتے اس نے ان سنا کردیا۔
ناشتہ کرتے ہی وہ کھڑا ہوگیا ۔شموئیل کا ایڈمیشن اس نے اسکول میں کروادیا تھا تبھی اسے جاتے وقت اپنے ہمراہ لے کے جاتا ۔
جبکہ وہ پورا دن پاگلوں کی طرح پورے گھر میں چکراتی رہتی۔اب تک تو اسے گھر کا کونہ کونہ ازبر ہوچکا تھا۔سکول سے واپس آتے شموئیل کے ٹیوشن ٹیچر آجاتے۔
بنا یہ جانے بھی کہ اسکا شموئیل سے کتنا گہرا رشتہ تھا وہ پھر بھی اسے وسام کی معرفت سے عزیز رکھتا جبکہ وسام کو اسے تھپڑ مارنے کا گلٹ سکون نہیں لینے دے رہا تھا۔
اور پھر اسکا اتنا سرد انداز وہ تو اسکی توجہ کی عادی ہوگئی تھی۔جب تک کوئی انسان کو اپنی اہمیت جتانے کیلئے دن رات آپکے پیچھے رہے تب اسکی کوئی قدر نہیں ہوتی اور جو وہ زرا سا پہلو گردانی کرے تو ایک دم اسکے ہجر کا گمان ہونے لگتا۔وسام کو بھی واسق کا نیا روپ انگاروں پہ لٹا رہا تھا ۔
“شموئیل تمہاری باجی دو دن سے نظر نہیں آرہیں۔” آج وہ آفس سے جلدی آیا تھا ۔وسام کی آنکھوں میں تحریر شرمندگی نے اسکی خود ساختہ سزا ختم کرنے کا سوچتے وہ جلدی گھر آیا تھا جبکہ آج بھی وہ اسکے سامنے نہیں آئی تھی۔
“بھیا وہ تو اپنے کمرے سے باہر ہی نہیں آتیں میرے ساتھ کھیلتی بھی نہیں ہر وقت کہتیں میری طبیعت ٹھیک نہیں تم جاؤ کھیلو۔” شموئیل نے گیم کھیلتے منہ بسورا ساتھ میں اسکی شکایت بھی لگائی جبکہ اسکی طبیعت کا سنتے وہ بے چین ہوا۔
“تف ہے تم پہ واسق صدیقی اب ایسا بھی کچھ نہیں ہوا تھا جو اتنی لاپرواہی۔” خود کو لعن طعن کیے وہ اسکے کمرے کی طرف بڑھا۔سامنے ہی وہ گلابی آنکھیں لیے ونڈو پاس ٹہری تھی جہاں ہلکی ہلکی بوندا باندی ہورہی تھی۔
گلا کھنکارتے اندر آنے کی اجازت طلب کی گئی۔
اس نے پیچھے مڑ کے دیکھا جہاں ایزی سا شلوار قمیز پہنے اپنی فوج لک میں قاتلانہ مسکراہٹ کے وار برساتا وہ اسکی طرف بڑھ رہا تھا۔
“شموئیل بتا رہا تھا کہ آپکی طبیعت ٹھیک نہیں۔” اپنے آنے کا مدعا بیان کیا گیا تھا واسق کی جانب سے۔
“جی بہتر ہوں اب شکریہ۔” اتنا اجنبی انداز وسام کے دل کو جیسے کچھ ہوا تھا تِبھی اسی کے انداز میں جواب دیا۔
“اوکے گڈ کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتا سکتی ہیں۔” یک بستہ ٹھنڈا لہجہ پھر سے اجنبیت کی دیوار آسمائی۔
“نہیں کچھ ضرورت نہیں شکریہ۔” اس نے آنکھیں بند کیے باہر کے منظر پہ نگاہ جما دی۔واسق کے لبوں پہ مبہم سی مسکراہٹ چھائی تھی۔
لطف آنے لگا ہے جفاؤں میں۔۔
وہ کہیں مہرباں نہ ہوجائے۔۔۔۔
اپنے قریب سے سرسراتی آواز اور آفٹر شیو لوشن کی مہک کو اپنے قریب محسوس کرتے سانسوں کی روانی اتھل پتھل ہوئی تھی۔
“سوچا تو یہی تھا کہ اب کے بات نہیں کرونگا مگر ہائے اس دشمن جان کا پیشمان ہونا۔” بھگو بھگو کے مارنا ہی تو انکی ٹریننگ میں سکھایا گیا تھا جسکے سارے حربے وہ وسام پہ آزمانے لگا تھا۔
“معافی مانگی تھی ہم نے آپ سے۔” کسی احسان کو جتاتے وسام نے کہا جبکہ اسکے بے ساختہ انداز پہ وہ ہنسا تھا۔
“ہمیں صرف معافی نہیں چاہئے اور بھی بہت سے قرض ہیں آپکی طرف جو سود سمیت اتارنے ہیں آپکو۔” ہاتھ بڑھائے اسکی پلکوں سے شبنمی قطرے چنتے اس نے کہا تھا جبکہ وہ مسمرائز سی ٹہری تھی جیسے اگلے پل کو سانس لی تو یہ خواب ٹوٹ جائے گا۔
“پوچھوں گی نہیں کیا قرض؟”واسق کے ہاتھ نے اسکے سر سے چادر ڈھلکائی تھی جبکہ اسکا مبہم سوال اسکے اندر ہلچل پیدا کرگیا۔
“نن نہیں ہمیں نہیں جاننا۔” اسکے ہاتھ کو جھٹکنے کی جسارت وسام میں نہیں تھی مگر زبان نے بھی ساتھ چھوڑا تھا۔
“جان لیں گی تو ہم دونوں ہی فائدے میں رہ جائیں گے۔”
اسے شانوں سے پکڑتے اپنے سامنے کرتے آفر کی تھی۔وسام کو آج پتا لگا تھا کہ وہ اس سے ہائیٹ میں کافی چھوٹی تھی۔ ایک کمپلیکس سا پیدا ہوا اپنی ہائیٹ کو لیے۔ دوسرے لمحے وہ ساکت ہوئی جب اس نے اسکی طرف جھکتے اسکے ماتھے پہ حق سے اپنے پیار کا لمس چھوڑا۔
“میں آپ پہ کوئی زور زبردستی نہیں کرونگا وسام اور خود کو آپ پہ مسلط بھی نہیں کرونگا اس رشتے کو لے کے جتنا وقت آپ لینا چاہیں لے سکتی ہیں مگر اتنا یاد رکھیں کہ آپکی سوچوں سے لے کے آپکو قدموں تک کے تمام رستے میری جانب ہی آتے ہیں۔” اسے مژگان رہائی سنائے اپنی محبت کی قید کا مژدہ بھی سنایا تھا۔
وسام نے جان بخشی شکر ادا کیا ۔
“آپکی آزادی کے دن صرف بابا جان اور مما جانی کے آنے تک کے ہیں اسکے بعد آپکی آزادی سلب کرلی جائے گی ہاں اگر آپ اب بھی آپشن رکھیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔” اسکی جان نکالتے مکمل لطف حاصل کیا تھا جبکہ وسام جانتی کہ اسکے ناچاہتے بھی پیچھے جانے کی کشتیاں جل چکی ہیں ایسے میں اس شخص کے سچے جزبوں کی پزیرائی نہ کرنا کفران نعمت ہی ہوگا۔
“فرینڈز؟” اسے سوچوں کی نگری میں گم ہوتے دیکھ واسق نے جان بوجھ کے اپنا ہاتھ اسکی جانب بڑھائے اسکے ہاتھ سے ٹکرایا وہ نہیں چاہتا تھا کہ وسام کسی طرح کی بھی غلط سوچوں کو اپنے دماغ میں جگہ دے۔
اس نے بھی مسکراتے ہوئے نفی میں سرہلائے واسق کا ہاتھ اگنور کیا تھا جبکہ پورے کمرے میں واسق کا جناتی قہقہ بنلد ہوا تھا ۔
یقیناً آنے والے دنوں میں وسام اور واسق کیلئے کئی بہترین دنوں کی یادوں اکھٹا کرنے کا موقع آرہا تھا۔
༻━━━━━⊱༻
وہ بے یقینی سے سامنے موجود” نکاح نامے” کو دیکھ رہی تھی ایسے ہی دستخط اسکے نکاح نامے پر بھی موجود تھے۔ کتنی دیر وہ بے یقینی سے دونوں نکاح نامے ہاتھ میں لیے انکا موازنہ کرتی رہی سب کچھ تو ایک جیسا تھا ۔
” ارتضٰی میر حیدر برائڈل نیم معروش حیات،ارتضٰی میر حیدر برائیڈل نیم حنا ابراھیم ۔”اور نکاح کی جگہ بھی سنٹرل لندن کی مقامی مسجد ۔
یہ مذاق تھا ؟نہیں یہ مزاق نہیں تھا ایک تلخ عیاں حقیقت تھی اسکے سوالوں کا مستند جواب تھا کہ حنا یہاں کیوں؟
ارتضٰی کے اتنے مس بے ہیو کے بعد اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ یہ کاغذی رشتہ ختم کردے گی۔ اپنی طرف کے سارے ثبوت اس کے پاس نہیں تھے اسیلئے کورٹ میں نوٹس دائر کرنے کو اس نے ارتضٰی کے ڈاکیومنٹس سے نکاح نامہ اٹھانے کا سوچا۔ اگرچہ مشکل کام لگ رہا تھا مگر اسے موقع مل گیا تھا پر حنا اور ارتضٰی کے نکاح نے اسکے پاؤں تلے سے زمین سرکائی۔ وہ تو اس سے علیحدگی چاہتی تھی مگر کسی اور کا اس پہ حق بھی برداشت نہیں ہوپارہا تھا۔
کھٹکے کی آواز پہ وہ چونکی ۔ارتضٰی جو ابھی شاور لے کے آیا تھا اپنے کمرے میں اسکی موجودگی پہ ٹھٹکا تھا ساتھ اسکی نظر معروش کے ہاتھوں میں موجود کاغزات پہ پڑی تھی ۔ٹاول سے سر کھجاتا اسکا ہاتھ بھی ساکت ہوا اور معروش بھی جیسے سٹیچو والی کنڈیشن سے باہر آئی ۔
“گڈ مجھے نہیں پتا تھا میری ناک کے نیچے یہ کھیل کھیلا جارہا ہے ہاؤ مین بوتھ آف یو۔” معروش کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹپکا تھا جبکہ وہ بے چین سا آگے بڑھا۔
“معروش جو تم دیکھ رہی یہ سب حقیقت نہیں ہے مجھے بتانے کا موقع دو گی کبھی تو ہر بات کی وضاحت دونگا ۔” تولیہ صوفے کی طرف اچھالے اسکی جانب بڑھا جس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنی جانب بڑھنے سے روک دیا۔
“ایک قدم نہیں ارتضٰی حیدر پہلے تو شاید کچھ گنجائش نکل آتی مگر اتنا بڑا دھوکا ،نہیں میں ہی پاگل ہوں کیوں نہ سمجھی کہ وہ اپنا گھر چھوڑے یہاں کیوں پڑی اور تھپڑ ،تھپڑ مارا تھا نہ مجھے کیا حقیقت نہیں تھی کیا وہ تمہاری” رکھیل” نہیں ہے۔” معروش ایک بار پھر سے ساری حدود کو پھیلانگے ارتضٰی پہ الزام لگایا مگر اس بار ضبط کا دامن چھوڑنے کے بجائے اس نے ہاتھ پکڑے اسے اپنی جانب کھینچا تھا ۔
اس کی حرکت کیلئے وہ بلکل تیار نہیں تھی جبھی اسکے سینے سے آلگی ۔اسکے گرد دونوں بازو کا حصار بنائے معروش کے فرار کی راہیں مستدود کر دی تھیں۔
“کیا بدتمیزی ہے یہ چھوڑو مجھے۔”اسکے سینے پہ ہاتھ رکھے خود سے دور دھکیلنا چاہا مگر ارتضٰی کے تو کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا ۔معروش کی ساری تیزی طراری کی جگہ ایک فطری جھجک اور شرم سی غالب ہوئی کتنی دیر سے ارتضٰی اسکے سامنے ٹہرا تھا اب اسے احساس ہوا تو نظریں جھکا گئی ۔
“بنا ہاتھ پیر چلائے شرافت سے بھی تو بات ہوسکتی ہے نا مگر نہیں معروش صاحبہ کے تو اپنے رنگ ڈھنگ ہیں۔”
اسے ٹھوڑی سے پکڑے سر اونچا کیا۔ مگر اس نے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔ارتضٰی کو اسکی معصوم ادا پہ بے اختیار پیار آیا کب یہ جھگڑالو اور بدتمیز لڑکی اسکے دل کے میناروں کی اونچے مسند پہ آبیٹھی پتا ہی نہیں چلا تھا ۔وہ جو چاہ رہا تھا کہ اسے تھوڑی سپیس دے کے اچھے وقت کا انتظار کرے گا اسکی بڑھتی ہوئی غلط فہمیاں انکے رشتے کے درمیان مزید کنکریٹ کی دیوار بنا رہی تھیں جسے آنے والے وقت میں پاٹنا مشکل ہوسکتا تھا ۔
ابھی تو وہ اس رشتے کی خوبصورتی کو محسوس ہی نہیں کرپائے تھے ایک اور دیوار آن ٹہری مگر ارتضٰی اس چوہے بلی کے کھیل سے اکتانے لگا تھا تبھی اسے اپنے حصار میں لیے صوفے پہ بٹھاتے خود الماری کی طرف بڑھ گیا ۔جو شرٹ ہاتھ لگی اسے پہنے پھر سے اسکے برابر بیٹھا جہاں وہ بے آواز رونے میں مشغول تھی ۔
“جس رات ہیری اور حنا کو مرا ہوا سمجھے تم نے فرار حاصل کیا اور میں حنا کے کہنے پہ وہاں پہنچا تھا ۔معمالہ کافی گھمبیر اسوقت بنا جب زخمی حنا اور ہیری کے حوالے سے سوالات اٹھے اور ساتھ میں تمہاری گمشدگی ۔کافی ریسورسز لگاتے میں یہ پولیس کو یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوگیا کہ اس حادثے سے دو دن پہلے تم پاکستان کیلئے فلائی کرچکی ہو اور اس تمام واقعات سے لے کے اب تک وہاں کی ڈاکومینٹیشن میں تمہارا” ایگزٹ” ہی شو ہورہا ۔اگر لٹل کریپٹو کوئین کے حوالے سے بھی کچھ پیش رفت ہوتی تو تمہاری موجودگی کا وہاں کوئی پروف رہا نہیں۔ اگرچہ یہ سب اس وقت صرف ہیری اور حنا کے کیس میں سے تمہیں سیف رکھنے کیلئے تھا مگر اگلے آنے والے دنوں نے یہ ثابت کیا کہ میرا ایک مائینر کیس کو لے کے تمہیں سیف کرنا کتنے بڑے میجر بلینڈر سے بچا گیا ہے ۔”
ارتضٰی نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لینا چاہا جسے اس نے سختی سے رد کردیا۔
“میں اسوقت یہ نہیں سننا چاہتی کہ تم میری ذات پہ کتنے احسان کرچکے ہو مجھے یہ سب جاننا ہے۔” ہاتھوں میں پکڑے کاغذات کو اسکے سامنے لہراتے اس نے دونوں نکاح نامے زمین پہ پھینکے۔
“تمہیں فرق نہیں پڑنا چاہئے کہ یہ کیا ہے ؟کیوں ہے؟ کیونکہ آپ محترمہ تو ہمارے رشتے کو نہیں مانتیں۔”
ارتضٰی کو اپنا ہاتھ جھٹکا جانا پسند نہیں آیا تھا۔
“اگر تم نے اگلے منٹ میں مجھے وجہ نہیں بتائی میں اسے جا کے قتل کردونگی۔” بجائے ارتضٰی کے شکر گزار ہونے کے اس نے کھلی دھمکی تو وہ عش عش کر اٹھا ۔یقیناً اگر وہ معروش حیات کے علاوہ کسی بھی لڑکی کو پروٹیکٹ کرنے کیلئے اتنی جدوجہد کرتا تو وہ اسے سر پہ بیٹھا کے رکھتی مگر یہاں تو معروش حیات تھیں جسکی خاطر وہ زندگی بھی تیاگ دیتا تو اسے فرق نہیں پڑنا تھا۔
“پیار کرتے ہو نا تم دونوں؟” اسکی طرف خاموشی دیکھ معروش نے کڑوا گھونٹ نگلتے سوال کیا۔
ارتضٰی کا دل کررہا تھا یا تو وہ اسکا سر پھاڑ لے یا پھر اپنا مگر مجبوری تھی کہ اسکا دل دغا دے چکا تھا اسیلئے اسے معروش کو اعتماد میں لینا تھا جس معمالے کی بھنک طیبہ بیگم کو بھی نہیں پڑنے دی گئی تھی وہ اسے معروش سے شئیر کرنا پڑا تھا۔
جتنے دن ہیری کے کیس کی ہیئرنگ تھی حنا شہر سے باہر نہیں جاسکتی تھی اور اسکا ویزہ ایکسپائر ہورہا تھا ایسے میں ارتضٰی کو گرین کارڈ ہولڈر ہونے کے وجہ سے اسے سپورٹ کرنے کیلئے پیپر میرج کرنی پڑی تھی چونکہ حیدر صاحب کو بھی مشکل حالات سے نبرد آزما ہوتی حنا سے ہمدردی تھی اسیلئے ارتضٰی کو یہ پیپر میرج کرنی پڑی جبکہ معروش تو یہ بات سنتے پھر ہتھے سے اکھڑی تھی ۔
“صاف کیوں نہیں کہتے دل آگیا تھا تمہارا اس پہ۔اور اگر واقعی میں ایسا ہے تو اب تک وہ یہاں کیوں ہے گئی کیوں نہیں تم اسے ابھی ڈائیورس دوگے۔”وہ پھر سے چیخی۔
ارتضٰی کا دل چاہ رہا تھا کہ اس لڑکی کو دو لگا دے جو مکمل بات سننے کے بجائے ہتھے سے اکھڑ جاتی تھی۔
“اوکے میں اسے ڈائیورس دے دیتا ہوں بٹ ایک شرط پہ ۔”ارتضٰی نے اسکے ذہنی خلفشار سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا سوچا تھا۔
“کونسی شرط ارتضٰی حیدر ابھی اور کتنی شرط شرائط اور کنٹریکٹ نامے سائن کروانے ہیں۔” معروش نے بات کے آخر میں طنز کیا مگر دوسرے لمحے خود ہی شرمندہ ہونا پڑا۔
“عادتیں تو آپ نے ڈالیں معروش حیات کنٹریکٹ میرج پہ سائن کروانے والیں۔”اسکے چہرے کے بدلتے رنگوں نے ارتضٰی کو کافی محظوظ کیا تھا۔
“تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے۔” دل پہ بوجھ بڑھنے لگا تو وہاں سے کھسکنا چاہا۔
“ایک آخری کنٹریکٹ میں آج ہی حنا کو ڈائیورس دے دونگا اسکے بدلے میں تمہیں اگلے ایک سال تک کا کنٹریکٹ کرنا ہوگا کہ نہ تم پاکستان چھوڑو گی اور نہ ہی ڈائیورس لینے کی بات کروگی۔”ارتضٰی نے اسی کے انداز میں کہتے ہاتھ بڑھایا تھا جو معروش نے کچھ دیر سوچتے تھام لیا۔ارتضٰی کے لبوں پہ مسکراہٹ کھلی تھی وہ جانتا تھا کہ اسے حنا سے اس حد تک چڑ پڑ چکی وہ اس کی ضد میں کچھ بھی مان لے گی۔
“سو ایک ہفتے بعد ہمارا ریسپشن ہوگا سوات آپریشن سے پہلے۔” ارتضٰی کی اگلی بات پہ وہ انکار کرنا چاہتی تھی مگر کچھ سوچتے چپ اختیار کرگئی۔
“تم تب تک حنا کو ڈائیورس نہیں دوگے۔” اسکی شرط سنتے وہ گڑبڑایا تھا ۔صرف حنا کو نیچا دکھانے کیلئےوہ ریسپشن کو بھی تیار ہوچکی تھی ۔
اب وہ اسے کیا بتاتا کہ اس دن اسکے کمرے سے واپس آتے ہی اس نے اپنے وکیل کو کال کرتے پیپرز ریڈی کروائے تھے اور اگلے دن حنا کو ڈائیورس پیپر تھمائے اسے یہاں سے چلتا کیا تھا۔ جبکہ وہ اپنی ضد اور جلن میں اس حد تک اپنے اردگرد سے غافل تھی کہ دو دن سے حنا کا غائب ہونا بھی اسے محسوس نہیں ہوا۔
༻━━━━━⊱༻
اسلام آباد کے مشہور مال کے اوپری حصے میں بنے کلب میں اسوقت رنگ برنگی روشنیوں کے سیلاب کے ساتھ تمام حدود کراس کرتے رئیسوں کی اولادوں کو دیکھتے اسکے ماتھے پہ کئی بل پڑے مگر یہ اسکی ڈیوٹی کا حصہ تھا جو اسے انجام دینا تھا۔
“کم آن انوشے لیٹس ڈو پارٹی۔” تبھی ایک دراز قدو قامت کے خوبصورت سے لڑکے نے انوشے کا بازو اپنی جانب کھینچا تھا ۔
“وی آر کپلڈ۔” احمد نے بڑی فہرست سے اسکا ہاتھ آزاد کرواتے اپنے ہاتھ میں لیا ۔
“اوہ نئو ممبر لگتے ہو ورنہ اتنا آسان نہیں اورنگزیب کے ہاتھوں سے کسی کا ہاتھ چھڑانا۔”
احمد کو گھورتے اس نے انوشے کو دیکھا جو ان دونوں پہ اچٹتی نگاہ ڈالتے آگے کی طرف بڑھ گئی تھی۔
“تم کس خوشی میں اس” باگڑ بلی” کی حمایت میں کودے کرنے دو جو کرتی آج تو اسکے باپ کے غلام اسکے ساتھ ہیں تبھی وہ شرافت کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے ورنہ وہ بھی ان جیسی ہے۔” روحان کا دبہ دبہ غصہ احمد پہ نکلنے لگا تھا۔
“مینوں تے اے سمجھ نی لگدی کس وجہ توں کرکے اس نال ویر لایا اے ۔”
(مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی تم نے کس وجہ سے اسکے ساتھ بیر پالا ہوا۔)
احمد جھنجھلایا سا بولا۔
“بس مجھے نہیں پسند نہ یہ اور نہ ہی مجھےا سکے ساتھ کام کرنا۔” روحان نے اپنا مدعا بیان کرتے ناگواری سے اپنے اردگرد موجود لوگوں کو دیکھا تھا ۔
“یہ تو کچھ بھی نہیں میرے دوست بہت بڑے بڑے کیس سولو کرنے کیلئے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔آئی۔ایس آئی ایجنٹ کیپٹن قدیر شہید نے تو گلیوں میں فقیر کا روپ دھارا کتنے کتنے دن گندگی کے ڈھیر پہ گزارے ،بنا کسی عہدے رنگ روپ کی پرواہ کیلئے صرف اپنے ملک سے وفاداری اور محبت کی خاطر اسکے دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے اگر ذلت اور اعلٰی زندگی کے معیار کو دیکھتے مشن لینے ہوتے تو کلبھوشن یادیو جیسے را ایجنٹ پکڑنا ناممکن ہوجاتا۔”
منصور کو بھی روحان کا انداز پسند نہیں آیا وہ سب بھی تو اپنی طبیعت اور مزاج کے برعکس ایسی جگہ پہ آئے تھے جہاں پہ یقیناً شریف لوگوں کا کام نہیں تھا ۔
روحان کے چہرے پہ چھائے شرمندگی کے تاثرات دیکھتے ان سب نے چپ سادہ لی چونکہ کام کا پہلا دن تھا تبھی انہیں ہر چیز ہر شخص کوآبزرو کرنا تھا ۔کیجوئل ڈریسز میں ملبوس وہ تنیوں اس وقت ایک اہم ٹارگٹ کو ایچیو کرنے آئے تھے جن میں سر فہرست یہ بھی تھا کہ کلب میں کچھ افراد کے ڈرگز اور دوسری مشکوک ایکٹوٹی کو نوٹ کرنا تھا۔
مزید انکا ایک ساتھ رہنا انہیں ہی مشکوک کرسکتا تھا اسیلئے سب ایک طرف ہوگئے منصور لالہ کی بات اسکے دل پہ لگی تھی یقیناً ایک فوجی کو یہ زیب نہیں دیتا جو وہ کررہا تھا مگر انوشے پہ آتے اسکی سوچ کے تانے بانے الجھ جاتے۔ابھی بھی اسکی نظریں اپنی دوستوں کے جھرمٹ میں ٹہری انوشے پہ تھی جو ہلکے ہلکے ڈانس سٹیپ لیتی نجانے کتنے لوگوں کی حریص نگاہوں کے سامنے تھی مگر اسے پرواہ کہاں تھی ۔
روحان کو لگ رہا تھا کہ صرف میجر ضیاء کی بیٹی ہونے کی حثیت سے اسے اس کلب میں کچھ چیزیں بری لگی ہونگی تبھی ان لوگوں کو وہ ٹارگٹ کررہی۔انوشے سے ہوتی نظر اس لڑکے کی طرف گئی جو مسلسل انوشے پہ نگاہے جمائے کچھ بڑبڑا رہا تھا اور پھر اس نے سافٹ ڈرنک میں الکوحل شامل کرتے انوشے کی طرف بڑھایا۔
روحان نے اب اسے مکمل اگنور کرتے کچھ لڑکوں کے گروپ کی طرف نگاہ کی مگر پھر سے نگاہ کا ارتکاز وہیں آجما تھا۔انوشے کی طرف بڑھتا ڈرنک اور اسکا مسکرا کے تھامنا روحان کو عجیب کشمکش میں مبتلا کررہا تھا ابھی جو احمد کو اتنا سنا رہا تھا کہ ابھی خود آگے بڑھتے جان بوجھ کے اس سے ٹکرایا جسکے نتیجے میں وہ ڈرنک سیدھا انوشے کے کپڑوں پہ تھا ۔
“اوہ سٹوپڈ دیکھ کے نہیں چل سکتے۔” اس نے غصے سے سامنے دیکھا مگر روحان پہ نگاہ پڑتے چپ ہوگئی۔
“نہیں اگر تم ایسے اندھوں کی طرح کسی سے بھی ڈرنک لوگی مجھے بھی اندھا بڑنا پڑے گا مس انوشے ضیاء۔”
لفظوں کو چباتے اس نے ڈائریکٹ انوشے کی آنکھوں میں دیکھا۔وہ حددرجہ بولڈ لڑکی اسکی آنکھوں سے لپکتے شعلوں کو دیکھتے پیچھے کو سرکی تھی۔
“تم کیوں خدائی فوجدار بنے میرے سر پہ مسلط ہورہے جس کام سے آئے وہیں کرو۔” انوشے کو محسوس ہوا جیسے وہ اس پہ رعب جھاڑ رہا ۔
“یقیناً محیجر صاحب کو یہ سنکے بہت برا لگے کا کہ انکی بیٹی یہاں الکوحل استعمال کرتی ہیں اسیلئے نمک حلالی کررہا۔”روحان تو واقعی کسی وفادار ملازم کی طرح ریکٹ کررہا تھا ۔وہ اس گھورتے سائیڈ پہ ہوئی مزید اسکے منہ لگتے اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔
اور یہ روز کا معمول بن گیا تھا کہ وہ تینوں ہی انوشے کی معرفت سے اس کلب کی ممبر شپ حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکے تھے۔روحان کی انوشے سے چڑ آہستہ آہستہ حاکمیت میں بدلنے لگی تھی۔ اسکا احمد اور منصور سے بات کرنا اسے بہت ناگوار گزرنے لگا تھا مگر خود کو حددرجہ لاپرواہ ظاہر کرنے کوشش بھی کام نہیں آرہی تھی۔
کلب میں موجود کئی ایک ممبران ایک سلیپر سیل کے طور پہ کام کررہے تھے جو لڑکیوں کے اغوا سے لے کے ٹارگٹ کلنگ میں بھی ملوث تھے۔انکا ٹارگٹ بڑے بڑے افسران کی اولادیں تھیں کبھی اغوا برائے تاوان تو کئی بار اپنے ساتھیوں کو چھڑوانے کیلئے شرائط رکھی جاتیں۔
اسوقت احمد اور منصور بھی اس محفل کا حصّہ بنے محفل کے مزے لوٹنے میں مصروف تھے۔
“سہیل خان کی یونیورسٹی میں کیا ریپوٹیشن ہے ۔” انوشے اپنے قریب سے ابھرتی آواز پہ ہلکا سا چونکی جہاں روحان چند انچ کے فاصلے پہ موجود تھا ۔
“کچھ خاص نہیں ایک سیاسی تنظیم کا ممبر ہے کافی ڈرپوک اور دبو سا لڑکا ہے۔” روحان کے گلے میں لٹکتی چین پہ نظریں ٹکائے اس نے جواب دیا تھا ۔اکثر ایسا ہونے لگا تھا کہ وہ روحان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بات کرنے سے گریز برتنے لگی تھی۔
“اوکے بی وئیر فرام ہم۔” روحان کا تنہبی انداز اسے تھوڑا ناگوار گزرا تھا مگر ضبط کرتی آگے بڑھ گئی۔
اسے سہیل خان سے دور رہنے کی تنبہی کیے وہ خود اس سے دوستی بڑھانے لگا تھا ۔اکثر کلب سے باہر بھی انکی ملاقاتیں ہونے لگی تھیں ۔سہیل خان کا روحان پہ بڑھتا ٹرسٹ انکے مشن کیلئے بہت اچھا ثابت ہونے لگا ۔مگر اچانک ہی انکی سوچوں کے برعکس واردات ہوئی تھی۔
༻━━━━━⊱༻
ٹی۔پنک فل ایمبرائیڈڈ میکسی پہنے وہ کتنی دیر مبہوت سی خود کو دیکھتی رہی آج انکا ریسپشن رکھا گیا تھا جہاں پہ ملٹری اسٹاف کے علاوہ ارتضٰی نے حیات صاحب کے اقارب کو بھی مدعو کیا تھا۔
ہنستے مسکراتے چہروں کو دیکھتے وہ پزل سی ہورہی تھی جب انوشے اسکے پہلو میں آٹکی۔
“بہت اچھا فیصلہ کیا ہے معروش اپنی زندگی کو ایک نقطے سے ہٹاتے پریکٹیکل لائف میں قدم جمانے کا۔” انوشے کی آنکھوں میں چھائی اداسی اس سے پوشیدہ نہیں رہی تھی۔
“میں نہیں جانتی کیا ہے صیح ہے کیا غلط مگر معروش حیات کبھی ہارنا نہیں چاہتی۔”اسکی آنکھوں میں چھائی بغاوت انوشے کو اداس کرگئی ۔نجانے وہ لڑکی اسے کیوں پیاری لگتی تھی۔
روحان کی نسبت باقی سب دوستوں کا رویہ انوشے سے بہتر تھا ۔اسکی نگاہ لوگوں سے ہوتی روحان پہ پڑی جو کسی بات پہ قہقے لگا رہا تھا۔تھوڑی دیر میں پھر سے فوٹو سیشن سٹارٹ ہوا طیبہ کے تیوری کے بل اسے سکون دے رہے وہی اسے حنا کی غیر موجودگی اور ارتضٰی کی وعدہ خلافی بہت غصہ دلا رہی تھی ۔ارتضٰی آیا تو انوشے روحان کے ساتھ جا ٹہری واسق کا خالی پہلو یقیناً اسکے پیاروِں کو بھی دکھی کررہا تھا۔
“حنا کہاں ہے؟”بنا اپنے روپ سروپ کا لحاظ کیے اس نے ارتضٰی کو گھورا ۔اس نے سر کھجاتے کیمرے کی طرف دیکھا۔
“وہ کیسے برداشت کرسکتی تھی اپنے شوہر کو کسی اور کا ہوتا دیکھنا۔” ارتضٰی بھلا موقع کیسے ہاتھ سے جانے دیتا۔
“تم دیکھنا میں اسکا کیا حشر کرتی۔”آنکھیں دکھاتے اس نے واضع دھمکی دی تھی۔
“اب تو آفیشلی اناؤنسمنٹ ہوچکی ہمارے شادی کی کیا ہی۔اچھا ہو اگر تھوڑی سی عزت ہوجائے تم سے آپ۔”ارتضٰی کے لبوں سے مسکراہٹ جدا ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی وہی وہ تاؤ بیج کھا رہی تھی۔
سرمنی سے فراغت پاتے ہی سب اپنے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوئے۔ انوشے نے جاتے وقت اسے نصیحت کی ۔”معروش زندگی دوسرا موقع کبھی نہیں دیتی ایسا نہ ہو کہ کوئی تیسرا تم دونوں کے درمیان چلا آئے ایک دوسرے کو سنبھال لو۔”انوشے کے کنسرن پہ توجہ دیے بغیر وہ ارتضٰی کیلئے نیا معرکہ تیار کیے بیٹھی تھی ۔
گھر میں ابھی بھی کچھ رشتہ دار موجود تھے اسے ارتضٰی کے کمرے لایا گیا جو فریش “روزز “سے سجایا گیا تھا ۔کمرے کی سجاوٹ پہ تو وہ توصیفی نگاہ ڈالے بنا نہیں رہی تھی ۔
“یہ سب عارضی ہے معروش بیبی تمہیں کیا لگ رہا تم اتنی آسانی سے میرے بیٹے کو مجھ سے الگ کرلوگی تو یہ تمہاری بہت بڑی خوشفہمی ہے تم دیکھنا میں کیسے تمہیں ایک بار پھر سے اس گھر سے چلتا کرتی ہوں۔” طیبہ زہر میں ڈوبی آواز معروش کے رونگٹے کھڑے کرنے لگی تھی مگر جلد ہی اپنی ڈگر پہ لوٹی۔
“خوشفہمی میں تو آپ مبتلا ہیں میں نے آپ لوگوں کی زندگی میں زہر نہ گھولا تو میرا نام معروش حیات نہیں ایسا نہ ہو کہ دوسروں کو دفعان کرنے والوں کو خود یہاں سے جانا پڑے۔”وہ انہیں چڑاتی ڈریسنگ مرر کی طرف بڑھی تھی اور ارتضٰی کمرے میں داخل ہوا۔
“مما آپ یہاں!”ارتضٰی کا انہیں دیکھتے ماتھا ٹھنکا سامنے ہی معروش مرر کے سامنے بیٹھی زیور اتارنے میں مشغول تھی ۔اس سے اچھی توقعات تو پہلے بھی نہیں تھیں مگر ماں کے سامنے شرمندگی نے آن گھیرا۔وہ تو یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ “ابھی میں نے تمہیں ٹھیک سے دیکھا نہیں اور تم چینج کررہی ۔”یقینی طور پہ اسکا نتیجہ اسکی سلامتی نہ ہوتی۔
“میں یہاں معروش کو دیکھنے آئی تھی اسے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ؟میں اسکی بھی تو ماں ہوں چاہے وہ سوتیلی ہی سمجھتی۔”طیبہ نے جلدی سے پینترا بدلہ معروش کے جھمکے اتارتے ہاتھ انکی بات پہ رکے تھے ۔
“ہاں مما یہاں اپنے پچھلے کیے گئے سب اعمالوِں کی معافی مانگنے آئی تھیں ۔ہننہ اور مجھے دیکھو میں نے انہیں معاف بھی کردیا۔”اپنا کام ادھورا چھوڑتے وہ ارتضٰی کے ساتھ آٹہری ۔اسکی واسکٹ سے نادیدہ ڈسٹ جھاڑی ۔ارتضٰی اسکی خود سے پاس آنے اولی حرکت پہ بھونچکا رہ گیا جبکہ طیبہ کی آنکھوں میں جیسے اس قربت نے مرچی سی بھر دی۔
“تم لوگ آرام کرو میں زرا مہمانوں کو دیکھ لوں۔”کٹیلی نگاہ معروش پہ ڈالتے انہوں نے ارتضٰی کے چہرے کو دونوں ہاتھوں کا پیالہ بناتے لیا اور ماتھے پہ پیار کرتیں کمرے سے چلی گئیں۔انکے جاتے ہی معروش ارتضٰی سے دور ہوتی مرر کے سامنے جابیٹھی۔
“بہت خوبصورت لگ رہی ہو انسانی روپ دھارے۔”ارتضٰی جو اسکی تعریف کرنا چاہ رہا تھا ایک دم زبان پھسلی جبکہ نیکلس اتارنے کیلئے بڑھتا اسکا ہاتھ رک گیا وہ جو پہلے حنا کی گمشدگی پہ اسکیلئے غصے سے بھری بیٹھی تھی اسکی بات تو سر پہ لگی تھی ۔
“کیا کہا انسانی روپ ؟ارے ارتضٰی حیدر تم کیا ہو جھوٹے فریبی مکار میں نے کیا کہا تھا ؟تم ایسے کیسے مجھے چیٹ کرسکتے۔” اس نے کھڑے ہوتے ہی ارتضٰی کو گھورا جبکہ اسکی آنکھوں سے چھلکتی الوہی جزبوں کی لو اسے کنفیوژ کرگئی ۔پر خود پہ قابو پاتے اس نے اپنے آپ کو کمزور پڑنے سے بچایا۔
“ایک سال والا کنٹیریکٹ ختم۔” پژل ہوتے اس نے جو منہ میں آیا بولا ۔ارتضٰی کا ہاتھ اسکے نیکلس کی طرف بڑھا جسکی ڈوری وہ پہلے ہی ڈھیلی کرچکی تھی۔وہ اسکی ضد میں اتنی بیوقوفی کررہی تھی کہ یہ بھی نہیں پتا چلا کہ سر پہ تو ابھی بھی پنوں کی بھرمار لیے زرتا آنچل موجود ہے ایسے میں نیکلس کیسے نکلے گا۔
ارتضٰی نے اسکی مشکل آسان کرنی چاہی تھی۔
“میں کچھ بول رہی ہوں۔” اسکی اٹینشن ڈائیورٹ دیکھتے وہ چیخی۔
“وہ تو تم ہمیشہ بولتی آج کیا نوکھا ہوا۔”ارتضٰی نے اگنور کرتے اسے بازوں کے حلقے میں لیا ۔
“حنا کہاں ہے؟” اتنے حسین پلوں میں اسکی یاد ارتضٰی کا حلق کڑوا کرگئی۔
“تمہارے کمرے میں۔”پہلی پن اتری تھی جو کہ سیدھی معروش کے دل میں چبھی۔
“حددرجہ گھٹیا لڑکی ہے میرے گھر ،شوہر کے بعد میرے کمرے پہ قبضہ کرلیا۔”معروش کے دل پہ لگی تھی ۔خود کو اسکی گرفت سے آزاد کروانا چاہا۔انداز میں درشتگی تھی جیسے ابھی جاتے اسکا گلہ دبا دے گی۔
“ہوں واقعی بڑھیا۔” کئی پنیں ایک ساتھ اتریں تو آنچل سر سے ڈھلکا معروش نے گرتا بھاری دوبٹہ سنبھالنا چاہا مگر ارتضٰی نے بڑی سہولت میں اسکے ہاتھ اپنی گرفت میں کیے۔وہ جو ہر چیز سے لاپرواہ ٹہری تھی ارتضٰی کا ہاتھ پکڑنا اسے ماحول میں واپس لایا۔
“چھوڑو میرا ہاتھ فضول آدمی کوئی اتنی سختی سے پکڑتا کیا۔” نجانے رونا کس بات پہ آرہا تھا تبھی ہاتھ چھڑاتے بہانہ ڈھونڈا۔
“معروش کیا ہم سب کچھ بھلائے آگے نہیں بڑھ سکتے۔”لمحوں کی گزارش ہوئی۔
“ہم دونوں الگ ہیں۔”معروش نےآئینہ دکھاناچاہا۔
“Toxic people are craziest person to love Maroosh Hayat.”
ارتضٰی نے بارہ سالہ معروش کی”toxic person” والی تان کو چیلنج کیا۔
“میری زندگی میں ان چیزوں کی گنجائش نہیں۔” کھرا جواب۔
“شکریہ ادا کرتا ہوں کہ یہ نہیں کہا کہ میری گنجائش نہیں۔”بنا کسی تردد کے اچانک ہی اسکے لبوں پہ وار ہوا سانس کی روانی رکی تو اس نے بھی ہاتھ پیر چلائے اسے خود سے دور کیا۔
“ڈو ان یور لمٹس۔” پھولی سانسوں سے اس نے بات مکمل کی۔
“سوری یہ تو اب ہوگا آپ چاہیں یا نا چاہیں معروش حیات ۔” اسکی بات اگنور کیے وہ ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گیا تھا۔اس نے آئینے میں اپنے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا اسکی حرکت یاد آئی تو چہرے پہ سرخی پھیلی تھی مگر خود پہ قابو پائے اس نے نیکلس اتارا۔
اسوقت حنا مکمل طور پہ اسکے دماغ سے غائب ہوچکی تھی اگر کچھ یاد تھا تو ارتضٰی کی طرف سے کی گئی پہلی حرکت ۔وہ پاگل لڑکی خود بھی اپنے جذبوں سے انجان تھی ارتضٰی پہ کسی اور کا سایہ بھی برداشت نہیں اور خود بھی اس تعلق کو نبھانے سے گریز۔
معروش حیات کبھی نارمل نہ تھی نہ ہی اتنی جلدی وہ ارتضٰی کی زندگی کو رنگوں کو مزین کرنے والی تھی یقیناً ارتضٰی کیلئے یہ ایک صبر آزما کام ہونے والا تھا اگر جو اپنے جزبوں کی پزیرائی چاہیئے تھی۔
༻━━━━━⊱༻
ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھی
مجبور تھے ہم اس سے محبت بھی بہت تھی
اس بت کے ستم سہہ کے دِکھا ہی دیا ہم نے
گو اپنی طبیعت میں بغاوت بھی … بہت تھی
یوں ہی نہیں …. مشہورِ زمانہ …. مرا قاتل
اس شخص کو اس فن میں مہارت بھی بہت تھی
واقف ہی نہ تھا … رمزِ محبت سے وہ .. ورنہ
دل کے لئے تھوڑی سی عنایت بھی بہت تھی
کیا دورِ غزل تھا کہ …… لہو دل میں بہت تھا
اور دل کو لہو کرنے کی فرصت بھی بہت تھی
ہر شام سناتے تھے .. حسینوں کو غزل ہم
جب مال بہت تھا تو سخاوت بھی بہت تھی
بُلوا کے ہم عاجزؔ…. کو پشیمان بہت ہیں
کیا کیجئے کم بخت کی شہرت بھی بہت تھی۔۔۔
روحان گھر میں داخل ہوا تو مکمل خاموشی کا راج تھا ۔تقریباً ایک مہینے آؤٹ آف اسٹیشن رہنے کے بعد وہ گھر آیا تھا۔ایسے میں ایک دن بھی انوشے سے رابطہ نہیں کیا تھا۔نصیبو سے اسکا پوچھتے وہ کمرے میں داخل ہوا جہاں وہ فوٹو البم کھولے بیٹھی تھی۔
روحان کی نظر پڑی جہاں انوشے اسکے کندھے پہ سر ٹکائے بیٹھی تھی اور اسکے ہاتھ میں بال تھی ۔ایک دکھ کی لہر تھی جو پورے وجود میں دوڑی کیا کچھ نہیں سہا تھا ان سب نے اس دوغلی لڑکی کی وجہ سے ۔
“کسے ڈھونڈ رہی ہو یہاں اگر یاد نہ ہو تو بتا دوں کہ شادی کی رات میں نے ساری تصویریں جلا دی تھیں اوہ تمہاری محبت کی یادیں بھی۔” روحان نے اسکے ہاتھوں سے البم چھینتے دور پھینکا جس میں سے مزید کچھ تصویریں پھسلتی فرش پہ گری تھیں۔ جو سوائے انہیں اذیت دینے کے کچھ نہیں کررہی تھیں۔
“کیوں کیا تم نے ایسا انوشے کیوں ؟تم تو مجھ سے محبت کرتی تھی نا تمہیں پتا تھا کہ میں کس حد تک محبت کرتا ہوں تم سے اسکے باوجود بھی تم نے کھیلا میرے جزبات سے کیوں۔” وہ چلاتے ہوئے اسکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا۔ انوشے کو اسکی حالت مزید دکھی کرنے لگی تھی۔
صرف ایک رات چند الفاظ نے اسکی محبت کو بے مول کردیا اسے اعتبار سے بے اعتباری،وفادار سے دغاباز کی سند بخش دی تھی وہ اپنے ماں باپ سمیت دنیا کے ہر شخص کے سامنے معتوب ٹہرائی گئی غلطی کہاں تھی ؟کسکی تھی کوئی نہیں جاننا چاہتا تھا مگر جس نے جو دیکھا اسی پہ یقین کیا جسکا چشم دید گواہ وہ بھی تھا۔انوشے نہیں جانتی تھی کہ غلطی کہاں ہوئی کیسے وہ پکڑ میں آئی مگر روحان جانتا تھا کہ غلطی کب کہاں ہوئی اور کب اسکی جنون کی حد تک محبت جنونی نفرت میں بدلی۔
“روحان ایک بار میرا یقین کروگے میں تمہیں سب بتا دونگی کہ اس رات کیا ہوا تھا خدا کیلئے میرا یقین کرلو مجھے اتنا مت ۔۔۔۔”انوشے کی برداشت کی حد ختم ہوئی تھی جب وہ اپنی بات مکمل ہی نہ کرسکی اور نیچے گری تھی۔
روحان کسی خواب سے جاگتے اسکی طرف لپکا جہاں اسکی مدھم ہوتی سانسیں اسے بھ خاکستر کرنے لگی تھیں۔
ہم جان سے جائیں گے تبھی بات بنے گی
تم سے تو کوئی راہ نکالی نہیں جاتی ……..
